Beparwah Season 1 By Ayesha Noor Readelle50280 (Beparwah) Last Episode (Last)
Rate this Novel
(Beparwah) Last Episode (Last)
سات ماہ بعد…
زویا کے آخری دن چل رہے تھے روحان بھی اب پاکستان شفٹ ہوچکا تھا.. اور اسکا بے حد خیال بھی کررہا تھا..
زویا کچن سے پانی کا جگ لئے باہر نکلی..
اب کہاں چل دی.. ” روحان سامنے سے آتا بولا…
روحان نیند آ رہی ہے.. سونا ہے.. ” وہ اتنا سا منہ بناتی بولی..
اچھا جاؤ وہ ” وہ اسکے رخسار پہ بوسہ دیتے بولا تو وہ مسکرائی..
اور وہ اپنا بھاری وجود سنبھالتے کچن سے نکلی اور سفینہ کے کمرے کی طرف بڑھی..
ان دنوں اب وہ سفینہ کے کمرے میں شفٹ ہوگئی تھی سیڑھیاں چڑھنا اس کے لئے اب مشکل تھا اسلیے اب وہ سیما کے کہنے پہ اپنی ماما کے کمرے میں آگئی تھی اور روحان راضی تو نہیں تھا مگر کچھ بول بھی نا سکا تھا…
🥀🥀🥀
آدھی رات نیند سے بوجھل ہوتی آواز سے زرتاج نے زارون کو پکارا..
زارون.. “
کیا ہے وہ دوسری طرف منہ کئے لیٹا تھا..
کیاہوا ” وہ اسی پوزیشن میں لیٹا بولا..
زارون مجھے بھوک لگی ہے. ” وہ بچپنے والے انداز سے بولی..
تو نیچے جاؤ فرج میں پڑا ہوگا کچھ نا کچھ ٹھوس لو تمہارا کھانا میں پورا نہیں کر سکتا میرے بس سے باہر ہے.. ” وہ پھر بھی دوسری طرف منہ کئے ہی ویسے بولا..
زارون مجھے برگر کھانا ہے.. بھوک لگی ہے ..وہ پھر ضدی لہجہ سے بولی..
کیا برگر تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے آدھی رات میں کہاں برگر والے کو ڈھونڈتا پھروں گا.. ” وہ اسکی طرف کروٹ لئے شاک سا بولا..
تو اب میرا دل کررہا ہے کھانے کو تمہاری وجہ سے میں اس حال میں ہوں آج تو اب پورا کرو میرا کھانا.. وہ اسی کی طرف منہ کئے لیٹی تھی اور انتہائی معصومانہ انداز سے بولی..
غلطی ہوگئی مجھ سے اب .. اور تم کونسا دنیا کی کوئی انوکھی ماں بننے والی ہو زویا کو تو میں نے کبھی یہ آؤٹ پٹانگ چیزیں کھاتے دیکھا.. زرتاج کا پانچواں مہینہ چل رہا تھا اور اسے بھوک بھی بہت لگتی تھی بس ہر وقت اسکا منہ چلتا رہتا تھا ایک رات تھی جو بہت مشکل سے گزارتی تھی اور روز زارون کو ایسے ہی آدھی رات جگا دیتی..
زارون.. “
چپ بلکل چپ سو جاؤ چپ کرکے ..” وہ کچھ بولتی کے زارون نے اسے ڈانٹ دیا اور دوسری سائیڈ منہ کرکے لیٹ گئا.. دن بھر کام اور رات کو سکون کی نیند بھی نصیب نہیں ہوتا..
زرتاج کی آنکھوں سے ہانی ٹپ ٹپ گرنے لگا اور وہ بھی دوسری سائیڈ منہ کرکے لیٹ گئی..
زارون نے اپنے سر کھجایا تھا کچھ زیادہ بول گیا.. اور اسکی سائیڈ کروٹ لے کر اسے کھینچ کر اسکی پشت اپنے ساتھ لگائی.. اور اسکے کاندھے پہ بوسہ دیا تھا..
پرے ہٹو.. ” وہ غصہ ہوتے بولی..
ہاں تو تم بھی تو تنگ کرتی ہو نا آدھی رات کو سوجاؤکل برگر کھلاؤں گا.. ابھی تم مینج کرلو.. وہ اب نرم لہجہ اختیار کر گیا تھا..
🥀🥀🥀
صبح زارون آفس کیلئے تیار ہورہا تھا زرتاج نے اسکی چیزیں ریڈی کر کے اسکے سامنے کی اسے گھڑی پکڑائی جو اسنے جلدی سے پہنی پھر اسکے پالش کئے ہوئے شوز اسکے سامنے رکھے پھر اسے کوٹ پہنایا..
تھینکس بیوی.. ” زارون نے اسکی گال کھینچی..
پہلے ہی رات والی بات سے منہ بنا ہوا تھا اور چڑ کھا گئی.. “ہاتھ نہیں لگاؤ مجھے ” تڑخ کے بولی تھی..
ہاۓ اتنا غصہ ” شریر سا مسکراتا اسکے رخسار پہ بوسہ دے دیا..
تو اسنے اور تیوری چڑھائی.. تو دوسری رخسار پہ بھی لب رکھ گیا.. اور کوٹ درست کرتا کمرے سے باہر نکلا..
تو وہ بھی اسکے پیچھے باہر نکلی..
ابھی سیڑھیاں اترنے کیلئے زارون نے قدم رکھا تھا..
آہ.. زرتاج کے کراہنے کی آواز کا سنتے جلدی سے پیچھے مڑا.. تو زرتاج پیٹ پہ ہاتھ رکھے کھڑی تھی..
کیا ہوا زری.. ” وہ فکر مندی سے بولا..
کک ماری اسنے.. ” وہ پیٹ ہاتھ رکھے بولی.. یہ پہلی موومنٹ تھی بے بی کی..
ہاہاہا” زارون کی ہنسی..
شاباش ماۓ بےبی ایسے ہی زور زور سے کک مار کر ماں کو تنگ کرنا جیسے مجھے کیا ہوا ہے.. “
زارون یہ مذاق ہے تمہارے لئے.. ” تو وہ کہتی غصہ سے سیڑھیوں کی طرف بڑھی..
ناشتہ کی میز پہ سب ہی موجود تھے سوائے زویا کے..
زارون نے زرتاج کے آگے ناشتہ رکھا تھا.. جو اسے گھور کے دیکھنے لگی..
بعد میں دیکھ لینا ناشتہ کرو پھر جوس کا گلاس اسکے سامنے رکھا.. تو وہ منہ بناتی پراٹھے کے ساتھ انصاف کرنے لگی..
زارون ناشتہ کرکے اٹھ گیا گاڑی تک آیا تو جیب چیک کرنے.. والٹ کمرے میں تو نہیں بھول گیا”..
والٹ” زرتاج اس کے پیچھے آئی تھی..
او تھینک یو.. پھر سے اسکی گال کھینچتا بولا..
زارون.. ” وہ گال پہ ہاتھ رکھتے بولی..
جی جان جی اب یہ میرا پیار کرنے والا انداز ہے.. ” کہتے ہی گاڑی میں بیٹھ گیا..
🥀🥀🥀
زویا کمرے میں چیخ رہی تھی اسے پین یو رہا تھا..
سب بھاگ کر آئے کمرے میں..
گھر سب عورتیں ہی موجود تھی بس مرد حضرات کام پہ گئے تھی..
زویا بیٹا کیا ہوا.. سفینہ نے اسے سنبھالا
ماما درد ہو رہا ہے..”وہ روتے ہوئے بولی.. روحا اور زری بھی پریشان ہوئیں..
سیما نے زرتاج سے کہا.. “زری ڈرائیور کو بولو گاڑی نکالے جلدی..
زرتاج بھی باہر بھاگی..
کچھ ہی دیر میں وہ ہسپتال میں تھے زویا کو لیبر روم میں لے جایا چکا تھا..
روحان بھی بھاگتا ہوا آیا تھا ان کے پاس.. وہ سب اس وقت لیبر روم کے باہر کھڑے تھے..
تھوڑی ہی دیر میں نرس باہر کمبل میں لپٹے ہوئے ننھے سے بچے کو انکے پاس لائی..
مبارک ہو بیٹا ہوا ہے.. سیما کی گود میں اسے ڈال دیا وہ بیٹھی ہوئی تھی.. سفینہ بھی سیما کے ساتھ ہی بیٹھی تھی..
ماشاللہ.. سفینہ بولی..
ماشاللہ یہ تو میرا دوسرا روحان ہے.. انہوں اس ننھے سے مہمان کو بوسہ دیتے ہوئے کہا..
سب کے چہرے پہ مسکراہٹ تھی.. روحان تو مسکراتا اپنے وجود کو دیکھ رہا تھا.. زرتاج اور روحا بھی سیما کے پاس کھڑی اسکی ننھے منے کا جائزہ لے رہی تھی..
روحان آہستگی سے چلتے ہوئے ان کے پاس آیا اور اپنے جگر گوشہ کو اپنے ہاتھوں میں لیا..
اسکی خوشی کا تو کوئی ٹھکانا نہیں تھا..
زویا کیسی ہے نرس..
جی وہ اب بہتر ہے.. تھوڑی دیر بعد ہم انہیں شفٹ کردیں گے پھر آپ مل سکتے ہیں نرس کہتی چل دی..
کچھ دیر میں زویا کو الگ کمرے میں شفٹ کردیا گیا تھا.. اب ننھا منا روحا کے ہاتھ میں تھا زویا کیساتھ سفینہ کھڑی تھی.. اور دوسری سائیڈ روحان اور سیما تھے..
روحا اور زویا تو اس منے کے لاڈ پیار میں لگی تھی جو انہیں بس سیریس انداز میں ہی دیکھ رہا تھا..
.. تو پھر کچھ دیر وہ سب باہر چلی گئی.. سیما تو گھر چل دی تھی..
روحان اپنے سپوت کو بانہوں میں بھرے کھڑا تھا..
زویا میں کیسے تمہارا شکریہ ادا کروں تم نے آج مجھے بہت بڑی خوشی سے نوازا ہے..
تو وہ مسکرائی..
آپ نام کیا رکھیں گے انکا.. ” وہ ان دونوں باپ بیٹے کو دیکھتے بولی..
“میں اسکا نام بہت بڑی ہستی کے نام سے رکھنے ولا ہوں.. وہ ہنستا ہوا بولا..
“یوسف” زویا نے فٹ کہا..
ہاں بھئ دادا جی کے نام ہی آخر یہ کریڈٹ بھی تو انہی کو جاتا ہے.. ” وہ ہنس کر بولا.. تو دونوں مسکرا دیے اور یوں انکی زندگی بھی خوشیوں کے نام ہوئی..
🥀🥀🥀
وکی سڑکوں پر آوارہ گردی کرتا پھر رہا تھا ماریہ کو لیکر اسکا جنون بڑھتا ہی چلا گیا.. مگر وہ تھی کہ ایسی گم ہوئی نشان تک نا مل سکا اسکا..
وہ دونوں ہاتھ پینٹ کی پاکٹ میں ڈالے نظریں جھکائے چلتا جا رہا تھا.. اپنا کئے پہ سخت پشیمان تھا..
ہلکی ہلکی سی پھوار جھڑ رہی تھی سرد سی رات میں سنسان سڑک پہ چلتا جا رہا تھا..
اسے ڈر تھا کہ کہیں ماریہ نے اپنے ساتھ کچھ کر نا لیا ہو.. مگر کہیں آس بھی تھی اس کے جینے کی اس کے ملنے کی..
آنسوں رواں تھے اسکے بالوں میں.. بارش آہستہ آہستہ تیز ہو رہی تھی اور سکے آنسوں بارش کے پانی میں مل رہے تھے..
وہ مرد تھا رو رہا تھا .. نہیں وہ مرد تو نہیں تھا جو کمزور پہ مردانگی دکھا کر مرد تو نہیں رہا تھا وہ درندہ صفت انسان تھا..
اسنے سامنے دیکھا ایسے لگا جیسے ماریہ چلتی ہوئی اسکے سامنے آ رہی ہو کالا لانگ کوٹ پہنے گولڈن بال پانی میں بھیگ رہے تھے اور اسکے سامنے رو برو آئی اور زور دار قہقہہ لگا رہی تھی.. اس نے اسے چھونا چاہا تو وہ غائب ہوگئی.. بارش اب زور پکڑ چکی تھی.. بجلی زور و سے گرج رہی تھی..
ماریہ…
ماریہ..
وہ دیوانہ وار زور زور سے اسکا نام پکار رہا تھا..
کہاں چلی گئی ہو مجھے اس اذیت میں چھوڑ کر کیوں نہیں آتی میرے سامنے.. کیوں.. وہ زور زور سے چلا رہا تھا.. سردی سے اسکے ہونٹ نیلے پڑ چکے تھے.. وجود بے جان سا ہورہا تھا اور آنکھیں بند کرگیا..
جب اسکی آنکھ کھلی تو خود کو ہسپتال کے بستر پہ پایا..
پولیس کی گاڑی وہاں سے گزر رہی جب انہوں نے سڑک پہ اسے بے ہوش پایا تھا..
وہ بستر سے اٹھا ہاتھ پہ لگی ڈرپ کو کھینچ کر نکال دیا..
سر سر.. وہ تیزی سے نکل گیا وہاں سے نرس اسے پیچھے سے آوازیں دیتی رہ گئی.. اسے تیز بخار تھا رات سے..
🥀🥀🥀
زویا کو آج گھر لایا گیا اور بہت ہی اچھا استقبال ہوا تھا گھر والوں کی جانب سے..
زارون نے اپنے بھتیجے کو گود لیا..
بھئی یہ تو بڑا معصوم سا ہے.. زارون نے اسکی گال سہلاتے کہا جو انتہائی معصومانہ انداز سے اپنے چاچا کو دیکھ رہا تھا..
اب تو دیکھ کونسا پیس نکالتا ہے.. وہ زرتاج کو دیکھتا بولا.. جو زویا سے کچھ راز و نیاز کرنے میں مصروف تھی
اس سے اچھا تھا کوئی بھینس پال لیتا ہر وقت کا کھانا کھانا.. زارون بھی اسے دیکھتا بولا..
ہاہا.. روحان ہنسا تھا..
ایسے مت کہو آس نے ان لیا نا تو یہیں درگت بنا دے گی تمہاری.. روحان شرارتی انداز سے بولا..
اب مجھ غریب کا رہ ہی کیا گیا ہے.. وہ مسکین سا منہ بناتے بولا..
چلو زویا کو کمرے میں چھوڑ آؤ سیما بولی..
ماما میرے کمرے میں.. “روحان فٹ سے بولا..
نہیں ابھی اسے اپنی ماں کے ہی کمرے میں رہنے دو ابھی زویا سیڑھیاں نہیں چڑھ سکتی.. سیما نے کہا تو روحان بیچارہ سا منہ بناتے رہ گیا.
تو روحا اور زرتاج اسے اپنے ساتھ لئے چل دی
🥀🥀🥀
وکی چلتا پھرتا کبھی کسی بس میں بیٹھ جاتا تو ٹرین میں.. آج وہ ٹرین میں جا بیٹھا تھا..
جس سیٹ پہ وہ سامنے دو نقاب پوش لڑکیاں بیٹھی تھی.. وہ دونوں سر سے پیر تک کالے برقعہ سے ڈھکی تھی کالا ہی حجاب تھا اور ساتھ نقاب بھی ڈالا تھا بس آنکھیں ہی نظر آ رہی تھی..
ایک لڑکی کھڑکی کے اس پار کب سے دیکھے جا رہی تھی ایک بار بھی منہ نہیں موڑا تھا..
وکی دونوں ہاتھ باندھے اسکے سامنے والی دوسری سیٹ پہ بیٹھا تھا دو دو سیٹس آمنے سامنے تھی ٹرین میں.. ٹرین میں زیادہ رش نہیں تھا..
وکی کی سرسری سی نگاہ اس لڑکی پہ گئی جو کب سے باہر دیکھنے میں مگن تھی..
پھر سے اسکی نظر اس لڑکی پہ گئی جو پریگننٹ تھی اپنے بھاری وجود گرد ہاتھ رکھے ہوئے تھی..
جو ساتھ والی کے کچھ کہنے منہ موڑ کر اسے دیکھا..
مگر سامنے بیٹھے شخص کو دیکھ گھبرائی..
وکی کی اس پہ نظر دوبارہ نہیں گئی وہ سامنے دیکھ رہا تھا.. اچانک جب اسکی طرف دیکھا تو وہ پھر چہرہ موڑ گئی..
وہ عجیب سی لگی وکی کو.. مگر پھر دھیان کہیں اور لگالیا..
اب وہ شیشہ کے اس پار دیکھ رہا تھا شیشہ کے پاس والی سیٹ خالی تھی.. اور اس خالی سیٹ کے سامنے وہ نقاب پوش لڑکی بیٹھی تھی.. جس نے پھر سے وکی کو گھبرائی نظروں سے دیکھ عین اسی وقت وکی کی نظریں اسکی نظروں سے ٹکرائی.. تو اس نے جلدی سے نگاہیں پھیری.. وکی کو کچھ دیکھی سی آنکھیں لگی.. شہد رنگی آنکھیں.. وہ پھر سے سر جھٹکتے دوسری طرف دیکھنے لگا ایک دم سے ٹرین رکی اور سب اترنے لگے وکی بیٹھا تھا.. وہ بھی اپنا بھاری وجود سنبھالتے اٹھی اور بیگ اٹھایا اور اپنی ساتھی لڑکی کی تائید میں چل دی.. بیگ اٹھاتے سمے اسکا والٹ بیگ سے گرگیا..
جس پہ وکی کی نظر گئی.. جو اسنے فٹ اٹھایا اور اسکے پیچھے ٹرین سے اتر گیا وہ دونوں باہر کھڑی تھی.. ایک فون پہ کال سن رہی تھی دوسری ساتھ کھڑی گھبرائی سی ادھر ادھر دیکھ رہی تھی وکی کو اپنی طرف آتا دیکھ وہ تیز تیز قدم اٹھاتی آگے بڑھ رہی تھی..
وکی بھی اسکے پیچھے آ رہا تھا.. وہ اور گھبرا گئی..
“رکیے بات سنیں میری..” ایکس کیوز می.. وہ آوازے دیتا اسے روک رہا تھا مگر وہ بجاۓ رکنے اپنے قدم تیزی بڑھا رہی تھی وکی تقریباً اس تک پہنچ چکا تھا..
مگر وہ لڑ کھڑا گئی.. وہ زمین بوس ہوتی کہ وکی اسکا ہاتھ پکڑ چکا تھا اور اسے گرنے سے بچا لیا..
آپکا والٹ ٹرین میں گرگیا تھا.. آپ ڈر کیوں رہی تھی مجھ سے.. وہ اسکی طرف ایک چھوٹا سا پرس نما والٹ کرتے بولا..
وہ بس جلدی سے پرس اسکے ہاتھوں سے کھینچنے آگے بڑھ گئی تو وکی بھی مڑ گیا..
ماریہ تم ٹھیک ہو کہاں غائب ہوگئی تھی.. اسکے ساتھ والی عورت اسکے سامنے آتی بولی..
وکی کا ماریہ کے نام پہ چلتے قدم رکے تھے..
ماریہ وہ بھی زیر لب بڑبڑایا..
مگر جب وہ مڑا تو وہاں کوئی نہیں تھا.. تو وہ جلدی سے بھاگتا باہر کو نکلا تو تو وہ نقاب پوش لڑکیاں ٹیکسی میں بیٹھ رہی تھی..
وکی نے بھی جلدی سے دوسری ٹیکسی لیتے انکا پیچھا کیا..
اور وہ دونوں ایک گھر کے آگے رکی تھی.. اور دروازہ کھلتے ہی اس گھر میں بند ہوئی..
وہ بھی ٹیکسی سے اتر چکا تھا اور سمجھ نہیں رہا تھا کہ کیسے پتا کرے وہ لڑکی ماریہ تھی یا کوئی اور ماریہ ہوگی..
وہ یہیں سوچتے واپسی کے لئے قدم موڑ لئے..
🥀🥀🥀
وہ اس وقت اپنے کمرے بیٹھا گہری سوچوں میں گم تھا..
سگریٹ کا دھواں ہوا میں اڑا رہا تھا..
کیا وہ ماریہ تھی.. نہیں..
ہاں شاید.. مگر..
مگر وہ تو.. ایک دم سے اسکے بھاری ہوتے وجود پہ دھیان دیا..
“
میں تم جیسی گھٹیا لڑکی کو نوکر بھی نا رکھو نجانے کہاں کہاں منہ مارا ہوگا تم نے میرے علاوہ.. وہ نقاہت سے بولا..
وکی ولیم نے کب کا مجھ سے رابطہ ختم کردیا تھا تمہارے علاوہ کسی سے بھی کوئی تعلق نہیں بنایا.. وہ روتے ہوئے بولی.. “..
نہیں.. وہ.. تو نہیں. ہو.. سکتی.. اگر ہوئ تو کیا وہ پریگننٹ.. کیسے.. میری وجہ سے.. نہیں.. ہاں. شاید.. مگر.. وہ تو ایک ماڈرن سی لڑکی تھی.. اور یہ تو..
مگر وہ بھی تو مسلم تھی.. مگر مسلم تو بس نام کی تھی.. تو ایک دم ایسے کیسے..
نہیں..
خود سے سوال جواب کرتے ساری رات گزر گئی..
مگر اس نے اب یہی فیصلہ کیا کہ اس لڑکی سے مل کر ہی پتہ چلے گا وہ کون تھی. اور اس نے تہیہ کر لیا تھا.. کہ وہ اب اس سے مل کر رہے گا..
اور صبح ہوتے ہی اسکے گھر کی طرف اپنی کار میں نکل پڑا..
🥀🥀🥀
کب سے ڈور بیل بجے جا رہی تھی گھر کوئی نہیں تھا اور اکیلی تھی.. دروازہ کے باہر وہ کبھی نہیں گئی.. مگر بیل بجانے والا بھی کوئی بہت ہی جلدی میں تھا جو رکنے کا نام نہیں لے رہا.. بل آخر وہ دروازے تک گئی..
جب دروازہ کھولا تو کوئی نہیں تھا سامنے..
ایک دم سے سامنے وکی آیا.. اس نے ڈر کے مارے دروازہ کرنا چاہا تھا جو وکی نے پکڑ لیا تھا.. وہ نازک تھی کہاں مقابلہ کرسکی.. اور وہ گھر کے اندر چلا آیا.. وہ ایک قدم پیچھے لے رہی تھی.. اور وہ آہستہ اسکے قریب آ رہا تھا ..
کیوں آئے ہو میرے سامنے اب کیا باقی رہ گیا تھا برباد تو کرچکے..وہ روتے ہوئے بولی..
وکی کو یقین ہی نہیں آ رہا تھا وہ اس کے سامنے سہی سلامت کھڑی تھی.. اسکے بولنے سے اسکا سکتا ٹوٹا..
ماریہ کہاں تھی تم.. کتنا ڈھونڈا میں نے تمہیں ..
وہ گھٹنوں کے بل اسکے سامنے بیٹھ گیا تھا.
میں محرم ہوں تمہارا پلیز مجھے معاف کردو..
سر جھکائے اس کے پیر پکڑ لیے..
تو وہ دو قدم پیچھے ہٹی تھی..
پلیز نکال لو مجھے اس اذیت سے.. ” وہ اس کے سامنے رو رہا تھا گڑ گڑا رہا تھا.. وہ مرد.. اسکے سامنے ڈھیر ہوا تھا جو اسکے سامنے اپنی مردانگی کا مظاہرہ کر کے اسے دو کوڑی کا کر گیا تھا.. وہ ویسے ہی منتیں کر رہا تھا اسکی جو پہلے کبھی اس نے کی تھی اسکے سامنے اور اس نے اسے دروازے سے باہر نکال کر اسکے منہ پہ دروازہ بند کردیا تھا..
جو وہ اس پہ رحم نا کرسکا تو وہ کیسے کرے..
وکی ابھی بھی اسی پوزیشن میں بیٹھا تھا.. اور نظریں اٹھا کر بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھا جسکا چہرہ بھی آنسوؤں سے تر تھا..
وہ گھٹنوں کے بل بیٹھے اسکے آگے ہاتھ جوڑ گیا…
میں تمہارے سامنے ہوں جو چاہے سزا دے لو مجھے.. آنسوں اسکے گال سے پھسل رہے تھے..
کیا سزا دوں تمہیں وکی میں اپنی حالت کی ذمہ دار خود ہوں.. “وہ کہتی پاس پڑے صوفہ کا سہارا لیتی بیٹھ گئی.. وکی اسکے پاس چل کر اسے قدموں میں ہی صوفہ کیساتھ ٹیگ لگائے بیٹھ گیا.. کالے رنگ کی قمیض شلوار پہنے کالا ہی دوپٹہ سر پہ اوڑھے اسکی آڑ میں اپنے وجود کو چھپائےبیٹھی تھی..
ماریہ تم میرا وجود اپنی آغوش میں لئے ہوئے ہو مجھے بتا تو دیتی.. تمہیں اپنے گھر سے نکالنے کے بعد میں کتنا پچھتایا ہوں.. تمہارے گھر گیا مگر تم گھر چھوڑ کر جا چکی تھی..
تو ماریہ بھیگی آنکھوں سے اسکی طرف دیکھا..
وکی نے اسے گھر سے جب نکالا تھا تو بارش میں بھیگتی بے ہوش ہوگئی تھی اسکا پیچھا کرتے اسکی گرینی اسکے پاس آئی.. دیکھا تو وہ سڑک پہ بے ہوش پڑی تھی جلدی سے اسے ٹیکسی والے کی مدد سے اٹھاتے ہوئے ہاسپٹل پہنچی تھی..
ڈاکٹر نے فورن اسکا ٹریٹمنٹ شروع کردیا تھا.. وہ بخار میں تپ رہی تھی.. اسکے بلڈ سیمپل ٹیسٹ کے لیے تھے..
اگلے دن وہ ہوش میں آئی تھی.. اداس سی بیٹھی تھی. جب ڈاکٹر نے اسکے پاس آتے ایک اور اسکے سر پہ بم پھوڑا تھا..
ڈاکٹر نے بتایا کہ وہ پریگننٹ ہے دو ہفتہ کی پریگنینسی تھی اسکی.. اور اسے اپنا خیال رکھنے کا کہتی چلتی بنی..
اسکی گرینی بھی پاس تھی یہ سنتے ہی اس نے ماریہ کو شکوہ سے دیکھا.. کہ کہاں کمی رہ گئی تھی اسکی تربیت میں.. اسے ڈسچارج کردیا تھا.. وہ گھر آئی تو اسکی گرینی اس سے بات نہیں کر رہی تھی..
گرینی پلیز.. آپ مجھ سے بات کیوں نہیں کرتی.. وہ روتی ہوئی اسکے پاس بیٹھی..
آخر دکھا دی نا تو نے اپنی اوقات تیری ماں نے بھی تجھے ایسے ہی جنا تھا.. تیرے باپ نے انکار کردیا تھا تجھے اپنانے سے مگر میں نے پھر بھی تجھ پہ رحم کھایا.. آج انکے لہجہ میں نفرت تھی..
گرینی یہ کیا کہہ رہی ہو آپ.. وہ نم آنکھوں سے بولی اسے تو یہ پتا تھا کہ وہ اسکی دادی ہے اور اسکے ماں باپ بچپن میں چل بسے تھے..
تمہاری ماں ایک انگریز عورت تھی گرل فرینڈ تھی میرے بیٹے تیرے باپ کی.. وہ ایسے ہی تعلق میں تھے ایک دوسرے کے.. پھر ان دونوں کے جھگڑے بڑھنے لگے مگر اس دوران تو پیدا ہوگئی.. اور تیرے باپ نے تجھے اپنانے سے انکار کردیا.. کہ تو اسکی بیٹی ہی نہیں اور تیری ماں تجھے میرے دروازے کے آگے ڈال کے چلی گئی.. میں نے تجھ پہ رحم کھا لیا مگر میرا بیٹا مجھ سے ناراض ہوکر چلا گیا.. کہتا تھا کہ تجھے کسی یتیم خانے میں پھینک آؤں مگر میرا دل نا مانا..
تو کہاں ہے میرے ڈیڈ..
پتا نہیں ” کہاں گیا ” میں نے گھر بدل لیا.. اور پھر کبھی نہیں ملا.. وہ آنسوں بہاتی بولی..
اور میری ماں.. “
وہ بھی کبھی نہیں ملی” پتانہیں دونوں زندہ ہے یا ..
مگر تونے ثابت کردیا تو اسکی بیٹی ہے اسی کا ہی خون ہے.. میری تربیت کا بھی تجھ پہ کوئی اثر نا ہوا.. یہ کسی انگریز کا ہی ہوگا یا معلوم ہی نہیں..
گرینی پلیز .. اس سے اچھا تھا آپ مجھے اسی سڑک پہ مر جانے دیتی نا اٹھاتی.. بلکہ تب ہی میرا گلہ دبا دیتی جب وہ عورت مجھے آپ کے پاس چھوڑ گئی تھی..
وہ روتی ہوئی بولی..
مجھ سے نہیں جیا جاتا اس اذیت میں..
میں مر جانا چاہتی ہوں..
میں برباد ہوگئی ہوں..
میں نے تمہیں دین سکھایا تھا ماریہ بھولی تو نہیں ہوگی تم.. اٹھو اور جا کر اللہ سے معافی مانگو.. تم نے اسکے بناۓ ہوئے قانون توڑے ہیں..
روح کا سکون عبادت ہے..
تم اللہ کی طرف قدم بڑھا لو وہ تمہیں تھام لے گا..
اپنے گناہوں سے توبہ کرو ماریہ..
ماریہ کے آنسو بہہ رہے تھے.. وہ کتنی غافل تھی اللہ کی یاد سے.. مغرب کی دنیا میں اتنا کھو گئی کہ خدا کو بھول بیٹھی ..آج اسی دنیا سے گھٹن محسوس ہو رہی تھی..
آٹھ کر ٹوٹی پھوٹی نماز ادا کی اور اللہ کے آگے ہاتھ پھیلاتے بولنا تو کچھ آ نہیں رہا تھا مگر بس روۓ گئی..
پھر انہوں فیصلہ کیا کہ وہ شہر چھوڑ جائیں گے..
اور پھر دوسر شہر میں آتے وہاں کراۓ پہ رہنے لگی انکے گھر کے ساتھ کچھ اور گھریلو عورتیں بھی رہتی تھی.. جو کہ کافی دی دیندار تھی.. ماریہ کو انکے ساتھ رہتے ہوئے اور دین کو سمجھنے میں مدد ملی.. اب وہ باہر کبھی بنا حجاب کے کہیں نہیں نکلی تھی.. سچے دل سے توبہ کی تھی اس نے اپنے رب کے حضور
اسکی گرینی اس پہ ابارشن کا زور ڈال رہی تھی مگر وہ نا مانی وہ یہ گناہ نہیں کر سکتی.. اس نے اپنی گرینی کو سب سچ بتایا تھا کہ کیا ہوا تھا اسکے ساتھ..
اب چار ماہ ہوگئے تھے.. اسکا وجود بھاری ہو رہا تھا.. آس پاس کی عورتیں پوچھنے لگی تو اسکی گرینی یہی بتایا کہ اسکا شوہر اس سے ناراض ہو کر چھوڑ کر چلا گیا.. وہ ہر وقت اداس اور پریشان رہتی تھی.. اپنے رہنے کا سب رنگ ڈھنگ بدل چکی تھی..
اب وہ کبھی گھر سے باہر نہیں نکلی.. سات ماہ اس نے اس گھر میں ہی گزارے تھے..کئی عرصہ بعد اس دن ٹرین میں بیٹھی تھی.. جب سامنے بیٹھے وکی پہ نظر گئی.. تو گھبرا گئی..
مگر شاید قدرت نے انہیں ملانا تھا جو وہ پھر سے ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے..
ماریہ آنسوں بہاتی ان سات ماہ میں بیتی داستان سنا گئی اسے..
وکی کھڑا ہوا تھا.. اور ماریہ کا ہاتھ تھام لیا تھا.. ” چلو میرے ساتھ..
میں کہیں نہیں جا رہی تمہارے ساتھ.. ” وہ بھرائی آآواز میں بولی..
تمہیں میرے ساتھ چلنا ہوگا.. “ہم ابھی اور اسی وقت نکاح کریں گے.. “
ماریہ نے بے یقینی سے وکی کی طرف دیکھا تھا..
ہاں ماریہ میں اپنے کئے پہ شرمندہ ہوں.. مجھے سکون تب ہی ملے گا جب تم میرے ساتھ نکاح کرو گی.. چلو”
مگر گرینی گھر نہیں میں کیسے انکی مرضی کے بغیر.. “
ماریہ نیک کام میں دیر نہیں کرنی چاہئے جاؤ شاباش.. “گرینی نے انکی سب باتیں سن لی تھی.. تو وہ بول پڑی..
ماریہ اٹھ کر انکے پاس آئی.. اور انہیں گلے لیا..
اور وکی بھی انکے پاس جا کھڑا ہوا.. وہ شرمندہ سا کھڑا تھا سر جھکائے
تمہیں اپنے گناہ پہ ندامت ہے اور تم ماریہ کو قبول کرنے چلے آئے.. جاؤ ماریہ..
تو وکی اسکا ہاتھ پکڑے باہر نکلا..
پاس ہی مسجد میں جا کر انہوں نے نکاح پڑھا لیا.. اور پھر دونوں نے ایک ساتھ دو نفل بھی ادا کئے..
اور وکی ماریہ کو لیے اپنے گھر کی طرف چل پڑا..
شام ڈھل چکی تھی انہیں گھر پہنچتے..
ماریہ نے اذیت سے دیکھا تھا اس گھر کو..
وہ پل پھر سے یاد آنے لگے تھے..
وکی کچن سے کھانا لیکر آیا.. اور سامنے میز پہ رکھا وہ گہری سوچوں میں گم تھی..
ماریہ.. کھانا.. ” وکی نے اسے پکار..
مجھے بھوک نہیں ہے” وہ بے دلی سے بولی..
پلیز تھوڑا سا کھالو.. وہ منت والے انداز میں بولا..
تو اسنے کھانا شروع کردیا..
اچھا چلو ریسٹ کرو.. تھک گئی ہوگی.. وہ اسے لئے اپنے کمرے میں آیا..
وہ خاموش سی تھی..
ماریہ” وکی نے اسے پکارا..
ماریہ.. ہم آج سے ایک نئی زندگی کی شروعات کرتے ہیں جہاں ہمارآ کل دوبارہ سامنے نہ آنے..
وہ کہتا اسکی کمر میں ہاتھ ڈالتے اسے اپنے ساتھ لگا لیا.. ماریہ کی نظر جھکی ہوئی تھی چہرے پہ کوئی جذبہ نہیں تھا.. وکی نے آہستگی سے اسکے ہونٹوں کو قید کیا تھا.. اسکے انداز میں انتہائی نرمی تھی ..
اسکے آنکھ سے آنسوؤں کی جھڑیاں نکلی تھی.. اس لمس میں تکلیف تھی.. وہی منظر تازہ ہوگئے..
ماریہ میں چاہ کر بھی وہ دن تمہاری اور اپنی زندگی سے نہیں نکال سکتا مگر کوشش ضرور کروں گا تمہیں اور خود کو اس اذیت سے نکال سکوں آرام کرو اور پھر کچھ دنوں میں ہم یہ ملک چھوڑ دیں گے اپنے دیس واپس چلے جائیں گے وہاں تم کو ایک نیا اور خوشگوار احساس ملے گا.. میری ماں اور بہنوں کا پیار بھی.. جو تمہیں کبھی ملا نہیں..
تو وہ بس ہاں میں سر ہلا پائی…
وکی اسکا ہاتھ پکڑے اسے بیڈ تک لایا.. اسے لٹا کر اوپر اچھے سے کمبل اڑھایا تو وہ آنکھیں موند گئی اور بھی دوسری سائیڈ آ کر لیٹ گیا.. آج کتنے عرصہ بعد وہ سکون محسوس کررہا تھا ماریہ اسکی آغوش میں تھی.. جسے در در بھٹکتے ڈھونڈا تھا..
زندگی کا سفر اسے کہاں سے کہاں لے آیا جس وجود سے نفرت کرتا آیا.. آج وہ وہی ہمسفر بن کر ساتھ ہے..
یہ شکریہ تو علینا کا بنتا تھا.. جس کی وجہ سے اسے احساس ہوا تھا..
🥀🥀🥀
ڈیڑھ ماہ بعد آج زویا اسکے کمرے میں تھی..
کتنا طویل انتظار کے بعد تم آئی ہو.. اور سونے کی بات کر رہی ہو..
بےبی کو سلاتے زویا کو بھی نیند آ گھیرا تھا.. اسے بےبی کاٹ میں ڈال کر خود آرام سے کمبل اوڑھے لیٹ گئی..
روحان کمرے آتا غصہ ہونے لگا..
روحان پلیز سونے دے نا.. وہ ملتجی نظروں سے اسے دیکھتے بولی.. جہاں وہ اسے کھڑے غصہ سے گھور رہا تھا..
ہاں میں خود سلاتا ہوں تمہیں.
ہاں میں خود دلاتا ہوں تمہیں ” وہ اسکے ساتھ لیٹتا اسے اپنے حصار میں لے لیا.. اور اسکے تشنہ لبوں کو قید کیا تھا..
ابھی وہ مزید آگے بڑھتا کہ.. کہ ننھا سپوت زور و شور سے رونے لگا.. اور وہ سخت بد مزہ ہوا..
زویا کو ہنسی آئی تھی..
پہلے آپ اپنے لاڈلے کو سلائیں پھر مجھے سلائے گا.. “
اور گلا پھاڑ کر روۓجا رہا تھا.. روحان کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیسے چپ کرواۓ..
“تم ہی سنبھال لو اسے مجھ سے قابو نہیں آ رہا. .” زویا نے جیسے ہی اپنے ہاتھوں میں لیا تو خاموش ہوگیا. .
روحان غصہ سے منہ موڑے لیٹ گیا..
ساتھ والے کمرے میں زارون بیٹھا لیپ ٹاپ پہ کچھ کام کررہا تھا اسکے ساتھ بیٹھی زرتاج چپڑ چیڑ پاپڑ کھاۓ جا رہی تھی.. جو اسے بہت پسند تھے زارون روز خاص اسی کیلئے لاتا..
کیا بچوں کی طرح لگی ہوئی ہو منہ بند کر کے نہیں کھا سکتی.. ” اسکی کرچ کرچ اسکے کانوں میں چبھ رہی تھی..
منہ کیسے بند کر کھاتے ہیں پاپڑ..”
آج روحان بیچارے کی نیند سہی والی پوری ہوگی.. یوسف کی کب سے رونے کی آواز سنتے زارون بولا..
فکر نا کرو تمہاری بھی کچھ مہینوں بعد سہی والی نیند پوری ہونے والی ہے.. زرتاج نے مسکراتے کہا..
میں تم دونوں کو کمرے سے نکال دوں گا.. بھئی مجھے تو سکون کی نیند چاہیے..وہ بڑے آرام سے کہتا اسے تپا گیا..
تم نکالو کمرے سے مجھے یہیں رہ کر تمہارا جلوس نکالوں گی.. “وہ اسے تکیہ مارتے بولی..
پاگل ہو کیا کام خراب کردیا میرا.. اچانک سر پہ تکیہ لگنے سے لیپ ٹاپ پہ ہاتھ لگا تھا ..اب اسکی طرف لیپ ٹاپ بند کر کے مڑا تھا.. چہرہ پہ غصہ کے تاثرات تھے.. ایک پل کیلئے تو زرتاج گھبرائی اسکے تیور دیکھ..
تو زارون نے اسکی کلائی کھینچ کر چہرہ اسکے چہرہ کے قریب تر کرتا مسکرا دیا..
زرتاج نے آنکھیں سکیڑ کر اسکی طرف دیکھا..
وہ کچھ بولنے کیلئے لب کھولنے لگی تو اسے قید کرگیا..
🥀🥀🥀
اگلے دن روحان آفس سے آیا..
..کھانے کے بعد وہ کمرے آیا تو بولا..
وکی کا فون آیا تھا آج.. “
جی کیسے ہیں وہ.. “اور کیا کرتے ہیں آجکل” زویا بے بی کو سلا رہی تھی تو بولی..
وہ پاکستان آ چکا ہے.. اور ولیمہ کی دعوت دی ہے ” روحان اسکے پاس بیٹھتا بولا..
جی.. انکی شادی ہے! یہ تو بہت اچھی بات ہے.. وہ خوش ہوتی بولی..
شادی آسٹریلیا میں ہی کر لی تھی ایک ماہ پہلے.. لڑکی یہاں لے آیا ہے جناب.. “
کیا کون ہے وہ.. ” زویا نے حیرانی سے کہا..
بتایا تو نہیں ہاں اتنا بس بتایا ہے کہ اسے میں جانتا ہوں.. “اب یہ تو وہاں جا کر ہی پتا چلے گا.. تم تیاری کرلینا دو دن ہے.. ” جی وہ بے بی کاٹ میں ننھے یوسف کو ڈالتی بولی..
اب کہاں جا رہی ہو.. ” اسے باہر جاتا دیکھ بولا.. آپ کے لئے کافی لینے.. “وہ فٹ سے بولی..
کافی چھوڑو تم ادھر آؤ.. تمہارا لاڈلہ سویا ہوا ہے.. کل بھی سارا موڈ کا ستیا ناس کردیا تھا.. “
اب تو ایسے ہی چلے گا” وہ کہتی ہی باہر نکل گئی..
بہانے باز کہیں کی ہاتھ لگو تم میرے” وہ پیچھے بڑبڑاتا رہ گیا..
🥀🥀🥀
ولیمہ وکی کے گاؤں میں ہی تھا..
ماریہ نے پنک کلر کی لانگ کامدار اور ڈھیلی سی فراک پہن رکھی اسکارف حجاب اسٹائل میں لیا تھا ساتھ نقاب بھی کیا تھا.. اور سر پہ کامدر بھاری دوپٹہ رکھا تھا..
گاؤں کی عورتیں تو دیکھ حیران تھی اسے.. جب وکی اسے اپنے گاؤں لایا تھا تب ہی عورتیں دیکھ اسے حیران تھی وہ ایک گوری چٹی گولڈن بالوں والی انگریز ہی لگتی تھی.. ماریہ کو انکی سمجھ ہی نہیں آتی تھی اسکی ماں اور بہنیں پنجابی بولتی تھی.. اسے بس اردو ہی سمجھ آتی تھی مگر وہ انگلش میں بولتی تھی تو وکی ہی ٹرانسلیٹر تھا انکا..
اور کچھ دن بعد جا کر اسے کچھ کچھ پلے پڑنے لگا تھا..
وکی نے گھر یہی بتایا کہ اس نے ایک سال پہلے شادی کی تھی.. انکے ڈر سے اسنے نکاح چھپایا.. ماریہ کا آٹھواں ماہ شروع تھا.. اسے سب غلط نا سمجھیں اس لئے اس نے سچ چھپایا مگر اسکی ماں کی ضد تھی کہ ولیمہ رکھنا چاہتی ہے انکا آخر ایک ہی بیٹا ہے..
سب مہمان آ رہے تھے.. ماریہ بس اپنا وجود چھپاۓ بیٹھی تھی..
روحان اور زویا بھی آگئے.. وکی انہیں دیکھتے ہی انکی طرف لپکا ..ماریہ نے روحان کو دیکھا تو دل میں ٹیس سی اٹھی تھی روحان کے کہے گئے آخری الفاظ یاد آئے تھے اسے..
پھر آنسوؤں کو اپنے اندر اتارا تھا کہ وہ بھی روحان کو دھوکہ دے رہی تھی..
زویا ماریہ کے پاس آئی.. اس سے حال چال بھی کیا نقاب کی وجہ سے زویا پہچان نا سکی..
ولیمہ اپنے اختتام کو پہنچا.. اب حال میں اکا دکا لوگ ہی تھے.. ولیمہ دوپہر کا تھا اب شام ہورہی تھی..
اب تم لوگ میرے مہمان ہو کچھ دن تو رہنا میرے گھر.. وکی روحان سے بولا.. زویا ماریہ کیساتھ کچھ فاصلہ پہ اسٹیج پہ ہی بیٹھی تھی اپنے بیٹے کو لیے جو روتا روتا سو گیا.. روحان اور وکی اسٹیج کے نیچے کچھ فاصلہ پہ کھڑے تھے..
یار آفس کا مسئلہ میں تو بس تیرا دل رکھنے کیلئے آیا تھا..
میں بہت خوش ہوں تمہیں خوش دیکھ کر.. ورنہ تو مجنوں بن گیا تھا..
تجھے میں نے کہا تھا وقت آنے پہ سچ بتاؤں گا تو آج وقت آگیا ہے.. وکی روحان کو لئے اسٹیج پہ آیا..
ماریہ کے آگے ہاتھ کیا جو اس نے تھام لیا اور اپنے بھاری وجود کو سنبھالتے اٹھی..
زویا اور روحان نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا زویا روحان کیساتھ کھڑی تھی.. پھر وکی نے اسکا نقاب کھسکا دیا..
ماریہ” روحان زیر لب بڑ بڑایا..
یہ ماریہ ہے نا زویا روحان سے بولی..
ہاں میں ماریہ ہی ہوں”.. ماریہ بولی..
روحان مجھے غم علینا کا اتنا نہیں تھا جتنا غم مجھے ماریہ کیساتھ زیادتی کرنے کا تھا.. “
روحان نے ناسمجھی سے اسکی طرف دیکھا.. “کیا مطلب ہے تمہارا.. “
جب ماریہ آخری دفعہ ہمارے آفس میں آئی تھی.. ماریہ کیساتھ میں نے زیادتی کی تھی اور تمہیں اسکے خلاف کردیا.. اسنے مجھے بہکایا.. “
یہ جھوٹ بول رہا ہے اس نے میرا فائدہ اٹھایا ہے” ماریہ کے کہے گئے الفاظ اس کے کان میں گونجے.. مگر وہ اسے دھتکار گیا اور اپنے دوست کا ساتھ دیا بنا سچ جانے..
اور پھر تم نے کہا تھا “یہ قدرت کا انصاف ہے. اور قدرت نے بھی میرے ساتھ انصاف کردیا تھا.. میں نے کسی کا نقصان کیا تو نقصان میرے حصہ میں بھی آیا.. اور تب مجھے احساس ہوا.. میں سنبھل نا پایا اندر سے میرا جسم جیسے چھلنی ہوگیا میں. مداوا کرنا چاہتا تھا اپنے کئے کا.. دن رات ایک کردیا. ماریہ کو ڈھونڈنے میں.. اور آخر کار یہ مجھے مل ہی گئی اور جس حال میں ملی خود سے ہی نفرت ہونے لگی اور میں نے ایک منٹ بھی ضائع کئے بغیر نکاح کرلیا..اور اسے یہاں لے آیا.. اور اب لگا کے تجھے اس بتا دوں..
روحان تو سکتہ میں کھڑا تھا.. زویا کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا مگر اسکی آخری الفاظ سے اندازہ لگا چکی تھی کہ کیا ہوا..
روحان کہیں نا کہیں تمہاری گناہ گار میں بھی ہوں تمہیں جھوٹ بولتی رہی سچ تو یہ بھی تھا کہ مجھے تم سے محبت ہوئی نہیں.. تمہیں چیٹ کرتی رہی. تمہیں زویا سے دور کرنے کی کوشش کرتی رہی. اسکی سزا تو مجھے بھی ملی.. مگر میں راہ راست یہ آگئی اس کے لئے تمہارا شکریہ..
چلو زویا.. روحان کو شدید غصہ تھا وکی پہ یہ موقع غصہ نکالنے کا نہیں تھا.. اسلیے وہ وہاں سے چلا گیا..
روحان ناراض ہوگیا.. ” ماریہ اسے دیکھ بولی..
ہاں مگر میں منا لوں گا.. چلو گھر چلتے ہیں.. ” وکی بھی اندر سے دکھی ہوا..
اس پورے مہینے میں وکی نے ماریہ کا بہت خیال رکھا تھا اور ماریہ بھی کوشش کررہی تھی کہ وکی کے لئے دل میں جگہ بنا سکے..
اگلے ماہ ہی وکی کو اللہ نے بہت خوبصورت بیٹی سے نوازا تھا.. اپنی بیٹی جو دیکھتے وکی کی آنکھ میں آنسو آۓ تھے.. جسکا اسنے دعا نام رکھا
🥀🥀🥀
زرتاج کی اچانک طبیعت بگڑی تھی ابھی پیدائش میں کچھ دن باقی تھے..
زارون پریشانی سے آپریشن تھیٹر کے دروازے کے باہر چکر کاٹ رہا تھا..
تب ڈاکٹر باہر آئی.. ” مبارک ہو بیٹی ہوئی..
ڈاکٹر زرتاج کیسی ہے.. جی وہ ٹھیک ہے کچھ ہی دیر میں اسے دوسرے روم میں شفٹ کردیا جائے گا..
وہ گول مول سی صحت مند بچی تھی جس کے پھولے پھولے سے گال تھے..
زارون اسے اپنے گود میں بھرے کھڑا تھا.. جسکے اسنے پیار سے گال کھینچے تو وہ گلہ پھاڑ کر رونے لگ گئی زارون کو ہنسی آئی کہ ماں کی طرح اسے بھی گال کھینچنا پسند نہیں آیا..
زرتاج آنکھیں بند کئے لیٹی تھی جب زارون آیا کمرے میں..
زارون نے اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھے تھے.. تو اس نے آنکھیں کھولی..
“تمہارا بہت بہت شکریہ زری ” تم نے مجھے زندگی کا سب سے پیار تحفہ دیا.. “تو وہ مسکرائی.. پھر بولی
تم تو ہمیں کمرے سے نکال دو گے اگر روئی تو.. “
ہاہا.. ہاں تم تو جیسے آرام سے نکل جاؤ گی.. اتنی آسانی سے نہیں چھوڑنے والی مجھے تم.. ” وہ اسکے پھولے گال کھینچتے بولا..
جو برا سا منہ بناتی رہ گئی..
عروش نام رکھا عالم صاحب نے زارون کی بیٹی کا..
🥀🥀🥀
دو سال بعد..
آج روحا اور عمار کی شادی تھی دونوں ہی اسٹیج پہ سج کے بیٹھے تھے.. روحا دلہن بنے عمار کے عقب میں شرمائی سی بیٹھی..
زرتاج بیچاری تو چلنے سے رہی وہ پھر سے امید سے تھی.. عروش ابھی سال کی ہی ہوئی تھی.. کہ وہ پھر سے امید سے ہوگئی.. زارون تو بہت خوش ہوا مگر وہ تو اسے کاٹ کھانے کو دوڑی اسکے لئے بہت مشکل تھا بچہ سنبھالنا عروج تو اس سے بہت تنگ کرتی تھی..
زویا تو دوڑتی پھر رہی تھی ساری ذمہ داری اسکے سر تھی..
یوسف اور عروش کی آپس میں بہت بنتی تھی.. وہ بس چلنے لگے تھے اور تتلی زبان آپس میں ہی بولتے رہتے تھے جو کسی کو سمجھ نہیں آتی تھی..
زرتاج.. یار عروش کو پکڑ لو بار بار باہر بھاگ رہی ہے.. زارون عروش کو اٹھاۓ اسکے پاس آیا جو گول مول سی صحت مند سی بچی تھی بلکل زرتاج کی طرح..
تو اب میں اسکے پیچھے نہیں بھاگ سکتی.وہ منہ بناتی بولی..
تو غصہ کس بات کا ہے.. زارون بولا..
زویا کو دیکھو کیسے بھاگتی پھر رہی ہے.. اور مجھے پھر مصیبت میں ڈال دیا.. “وہ عروش کو اپنے ہاتھوں میں لیتی بولی..
بس ابھی سے ہی تھک گئی.. ابھی تو مجھے چار پانچ اور چاہیے.. وہ اسکے پاس بیٹھتا شرارت سے بولا
میں بلی ہوں کیا.. “
وہ ہنسنے لگا ” تمہاری صحت پہ کیا اثر بھلا.. ” مذاق اڑاتے اٹھ گیا..
زارون.. وہ غصہ سے بولی..
ختم شد…
