94.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Beparwah) Episode 40

ارحم کی ماں صائمہ اپنا سر پکڑے بیٹھی تھی..
میرے بیٹے کی خوشیوں کو تو نظر ہی لگ گئ کتنا خوش تھا میرا بچہ کچھ نا رہے اس زرتاج کا کبھی خوش نہیں رہے گی وہ”.. صائمہ روتی جا رہی تھی اور دہائیاں دی جا رہی تھی
…
کیا چلا جاتا اگر چھوٹی کا نکاح دے دیتے انکی بھی عزت رہ جاتی اور ہماری بھی”.. عقیلہ پھپھو بولی..
مجھے تو شروع سے ہی وہ لڑکی چتر لگی تھی””..
ارحم آتے ساتھ ہی کمرے میں بند ہوگیا تھا..
پھولوں سے مہکتے کمرے کو پل میں تہس نہس کردیا تھا..” تم نے ٹھیک نہیں کیا میرے ساتھ کتنا چاہا تھا تمہیں میں نے لہو رنگ آنکھیں ہورہی تھی پل سے سارے خواب ٹوٹ کر چکنا چور ہوگا اسکے
” ..
ارحم کا کزن اور اسکی بیوی نکاح کے بعد سیدھا یہاں ارحم کے گھر پہنچے تھے
..
خالہ ارحم کہاں ہے” آتے ساتھ ہی ارحم کا پوچھا
.. ..
تم لوگ کہاں تھے اب تک انہیں دیکھتی ” عقیلہ بولی..
ارحم کمرے میں بند ہے بچارہ کتنا پسند کرتا تھا اس دھوکہ باز لڑکی کو
“..
کامران نے ارحم کو آواز لگانی شروع کردی..
ارحم.. ارحم.. باہر آؤ.. وہ چلا رہا تھا
..
اسکی آواز ارحم کے کانوں میں پڑی جو زمین پہ سوگوار بیٹھا تھا.. مرے مرے قدموں سے کمرے سے
باہر نکل کر آیا
واہ ارحم واہ یہ پیار ہے تمہارا”.. وہ تالی بجاتا بولا..
پیار کرتے تھے تو اعتبار بھی کرنا چاہیے تھا اب اسکی بیوی بولی
..
کیا کہنا چاہ رہے ہو تم لوگ”.. صائمہ بولی
زرتاج کہیں نہیں بھاگی تھی اپنے کزن کے ساتھ..
ہم ابھی میرج لان سے ہی آ رہے ہیں
..
کہیں نا کہیں مجھے وہ لوگ سچے لگ رہے تھے اس لئے اصل حقائق جاننے کیلے ہم وہیں رہے.. تم لوگوں کے نکلنے کے ٹھیک دس پندرہ منٹ بعد وہ دونوں آۓ تھے..
ان کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا انکے زخم بتا رہے تھے وہ سچے تھے.. اسکا کزن بولتا جا رہا تھا اور سب چپ سادھے کھڑے تھے
اور آپ لوگ بنا سچ جانے بنا تحقیق کئے تہمت لگائے گئے الزامات لگائے نا اسکی ماں کا لحاظ کیا وہ بچاری کس اذیت میں تھی.. اسکی بیوی نے انہیں آئنہ دکھایا”.. تو صائمہ سر جھکا گئی شرمندگی سے وہ عقیلہ کی باتوں میں آگئی
..
ارحم کے سر پہ تو جیسے پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا اسنے اپنے ہی ہاتھوں سے سب تباہ کردیا
..
ماما ہم ابھی جاتے ہیں انکے گھر ان سے زرتاج سے سب سے معافی مانگتے ہیں اور زرتاج کو گھر لے آتے ہیں” ایک آس جاگی تھی ارحم کے دل میں مگر کامران کی اگلی بات نے جیسے اسے آسمان سے لاکر زمین پہ پٹخ دیا ہو..
ا”اسکا کوئی فائدہ نہیں ارحم معافی تو شاید تمہیں مل جاۓ” مگر زرتاج نہیں”
..
ان لوگوں نے گھر کی عزت بچانے کی خاطر زرتاج اور زارون کا نکاح کا پڑھا دیا ہے”‘..
ارحم سر پکڑ کر زمین پہ بیٹھتا چلا گیا
..
کامران اور اسکی بیوی چلے گئے
..
بیٹے صبر رکھو اب کچھ نہیں ہو سکتا صائمہ نے اسکے کاندھے پہ ہاتھ رکھتے کہا”..
تو وہ انکا ہاتھ جھٹکتا وہاں سے چلا گیا
..
صائمہ ادھر ادھر دیکھا تو عقیلہ اور اسکی بہو غائب تھی”.. انہیں شدید شرمندگی محسوس ہو رہی تھی کیسے آگئی وہ عقیلہ کی باتوں میں
امی آپکو پھپھو کی باتوں میں نہیں آنا چاہئے تھا.. اسکی بیٹی پاس کھڑی افسردگی سے کہہ رہی تھی..
🥀🥀🥀🥀….
وہ لوگ گھر پہنچے تھے
..
گھر پہنچتے ہی عالم صاحب نے ایک اور نیا حکم نامہ جاری کردیا تھا.. جو زارون اور زرتاج پہ قہر بن کہ ٹوٹا
..
یہ ایک اور صدمہ تھا انکے لئے
..
آج زویا کے ساتھ زرتاج کی بھی رخصتی تھی لہذا
زرتاج کو زارون کے کمرے میں پہنچا دو”
“..
زارون یہ بات سنتے ہی وہاں سے نکل گیا.. آپ سب لوگ بھی جا کر آرام کریں اور روحان تم میری بات سن کر جانا
“..
روحا ارم اور زویا زرتاج کو لئے سیڑھیاں چڑھ گئی..
بھائی صاحب آج ہی رخصتی کچھ دن رک جاتے بچے شاک میں ہیں اس وقت.”. شاہانہ نے کہا
..
سیما چل دی کمرے میں سخت ناراض تھی وہ آج..
بچے ساتھ رہیں گے تو ایک دوسرے کے قریب آئیں گے.. جانیں گے..دوریاں مزید دوریاں پیدا کردیں گی اس لئے میں نے اسی میں مصلحت سمجھی”.. وہ اپنی بات مکمل کر کے خاموش ہوۓ
..
تو وہ دونوں زرتاج کے پاس چل دیں اسے کچھ مت دے سکیں
..
روحان سارے حالات تمہارے سامنے ہیں کس مجبوری کے تحت میں نے یہ قدم اٹھایا ہے”.. عالم صاحب روحان سے بولے
..
ڈیڈ آپکو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا دونوں کے ساتھ زیادتی ہے”.. روحان کو زارون کیلئے برا لگ رہا تھا
روحان جو ہونا تھا سو وہ ہوچکا ہے لہٰذا تم زارون کو سمجھاؤ کے وہ زرتاج کو اپنا لے.. جتنا آج اسنے میرے فیصلہ تسلیم کرکے میری بات کا مان رکھا ہے ٹھیک ویسے ہی زری کے معاملے میں بھی ثابت قدم رہے”.. زارون سمجھدار ہے پیار سے سمجھاؤ گے تو سمجھ جاۓ گا”.. وہ اپنی بات کہہ کر چل دیے..
اور روحان زارون کی تلاش میں چل دیا..
🥀🥀🥀…
زرتاج مردہ قدموں سے چلتی چپ چاپ زارون کے کمرے میں داخل ہوئی تھی
وہ تو اس کمرے کے قریب سے بھی نہیں گزرتی اور اس کمرے میں رہنے والے سے سخت چڑ تھی.. دل چاہ رہا تھا الٹے پاؤں نکل جائے یہاں سے..
زرتاج کو بیڈ پہ صحیح سے بٹھایا.. ارم اور روحا اسکے پاس کھڑی تھیں زویا اپنا لہنگا سنبھالی اسکے سامنے بیٹھی
..
ہر جذبات سے آری سنجیدہ چہرہ مٹا مٹا سا میک ماتھے پہ چوٹ کے نشان
..
زری پلیز سنبھالو خود کو”.. زویا نے اسکے ہاتھ پہ ہاتھ رکھتے کہا جو اس نے کھینچ لیا
..
تبھی شہانا پھپھو اور اسکی ماں سفینہ کمرے میں آئی..
“زری بیٹا یہ سب قسمت کا لکھا تھا جو ہونا تھا وہ تو ہوگیا”.. اب تمہاری قسمت میں زارون کا ساتھ ہی لکھا تھا اسلیے کہانی گھوم پھر کر زارون پہ آ رکی”.. تم اب ہمیشہ اس گھر میں رہو گی اپنی ماں کے سامنے.. کتنی خوش قسمت ہو دونوں بہنیں کے وہی میکہ وہی سسرال’.. شہانا پھپھو نے اپنی طرف سے اسے سمجھانے کی بہترین کوشش کی.. جو بے سود تھا.. اسکا تو دل اپنی خوش قسمتی پہ ماتم کرنے کا چاہ رہا تھا
..
زری یہ جڑے میرے ہاتھ معاف کردو اپنی ماں کو”.. وہ روپڑی تھی
..
ماما اب اور کیا چاہتی ہیں آپ.. مان تو لی آپکی بات آگے بھی وہی کروں گی جو آپ بولیں گی”.. وہ اذیت سے بولی ..
مجھے یقین ہے تم ہمارے حالات اور باتوں کو سمجھ رہی ہو اپنی مجبور ماں کو مزید مجبور نہیں ہونے دو گی”.. الفاظ تھے یا کوڑے جو پھپھو برساتے سفینہ کو لئے چلی گئی
..
🥀🥀🥀🥀…
زارون ٹیرس پہ کھلی فزا میں بیٹھا سیگریٹ کا دھواں اڑا رہا تھا جب روحان اسکے برابر میں بیٹھا
..
ہہم لگتا ہے تمہاری بددعا لگ گئی مجھے”.. آہ دھواں اڑاتا ہوا بولا
..
ایسا نہیں ہے زارون.. میں سمجھ سکتا ہوں برسوں جو مجھ پہ گزری وہ آج تم پہ گزر رہی ہے..مگر اب میں خوش ہوں مجھے پچھتاوا ہے اپنے پچھلے پانچ سالہ رویہ کا.. تم وہ غلطی نہیں کرو گے جو میں نے کی ہے.. تم وہ زری کے ساتھ نہیں کرو گے جو میں نے زویا کے ساتھ کیا” اپنی جانب سے اسے سمجھانے کی کوشش کررہا تھا..
..
زویا اور زرتاج میں فرق ہے روحان مگر زویا نے سمجھوتا کیا زرتاج سمجھوتا کرنے والوں میں سے نہیں ہے”..
اور تم تو حالات سے بھاگ گئے تھے مگر مجھے یہیں رہ کر اس توپ کا سامنا کرنا ہے
لہجہ میں حد درجہ سنجیدگی تھی”..
زارون تم اگر اس سے پیار سے پیش آؤ گے تو یقیناً اسکا دل بھی نرم پڑے گا تمہارےلئے”
..
اسے سب سے زیادہ تنگ بھی میں نے کیا ہے.. اور آج ہی میں نے اس سے اپنے پچھلے تمام رویہ کی معافی مانگی تھی اور وہ میرے ہی گلے پڑ گئی”.. وہ طنزیہ مسکرایا
..
زارون بھائی پہلے تو میں آپکا تھینکس کرنا چاہتا ہوں” عمار بھی انکی برابر میں آکر بیٹھا
..
اگر آپ آج انکار کردیتے نا تو یقیناً عالم مامو کی نیکسٹ چوائس میں تھا اور یہ ڈھول میرے گلے پڑجاتا”..عمار بولتا چلا گیا.. اور وہ دونوں اسے دیکھتے رہ گئے
..
سوری میں نے آپکی وائف کو ڈھول بول دیا” وہ دانتوں کی نمائش کرتا بولا
..
تو دونوں ہنس دیے تھے ماحول تھوڑا خوشگوار ہوا..
چلو بہت ہوگیا”.. روحان کھڑا ہوتا بولا.. چلو زارون اب کمرے میں چلتے ہیں
” ..
روحان اسے لئے کمرے کی طرف آرہا تھا
..
وہ بھی زرتاج کو سمجھا بجھا کر کمرے سے باہر آئیں.. سامنے روحان اور زارون آ تے ہوئے نظر آئے ارم نے روحا کے کان میں کچھ کہا.. وہ تینوں دروازے کر سامنے کھڑی تھیں
..
کیا ہوا تم لوگوں نے دروازے پہ کیوں ڈیرہ لگا لیا”.. زارون نے انہیں جما ہوا کھڑا دیکھ بولا
..
نیگ دیں پہلے پھر کمرے میں انٹری ملے گی”.. روحا ہاتھ آگے بڑھاتی بولی.. عمار ہولے سے دوسری طرف کھسک گیا
..
کیسا نیگ”.. زارون بول رہ تھا جب روحان نے اسکے کان کے پاس ہوتا اسے مزید بولنے سے روکا
..
زارون دے دو روحا کی خوشی کیلئے اسکے لئے یہ وقت دوبارہ نہیں آۓ گا
“..
ٹھیک یہ دو ہزار رکھو “.. زارون دو ہزار کے کڑک نوٹ نکال کر انکے آگے کردیے
اتنے زیادہ پیسے تو میں نے آج تک نہیں دیکھے” عمار نے دل پہ ہاتھ رکھتے کہا
..
دو ہزار نہیں دو لاکھ”.. روحا نے کہا
..
کیا دو لاکھ “اسکے لئے تو دو روپے نا دوں” وہ بس دل میں سوچ سکا
..
یار کچھ رعایت دے دو” روحان بولا
..
اچھا ٹھیک ہے ڈیڑھ لاکھ..
چلو بیس ہزار لو اور بات ختم” زارون نے بات ختم کی.. ..
نہیں ہم تین ہیں دس ہزار اور بڑھائیں
..
اچھا چلو
“..
نہیں میں بھی تو ہوں یار تم لوگوں کے ساتھ”.. عمار مسکین سی صورت بناتا بولا
..
اچھا ٹھیک یہ چالیس ہزار زارون جیب سے پانچ پانچ ہزار” والے نوٹ نکال کر گن کر انکے حوالے کردیا
..
عمار کے پکڑنے پہلے ہی روحا نے جھپٹ لئے تھے.. یو آر دا بیسٹ زی بھائی”..کہتی آگے بڑھی
..
آل ڈا بیسٹ زارون “..روحان بھی اسکے کاندھے پہ تھپکی دیتا اپنے کمرے کی طرف بڑھا
..
یہ کیا وہ اب زویا کو کمرے میں دھکیل کر دروازہ روکے کھڑے تھے روحان کا ..
آل دا بیسٹ روحان”.. زارون نے مسکر آکر کہا انگوٹھا دکھایا اور اپنے کمرے میں انٹر ہوا
..
کمرے میں بیٹھی زرتاج سوچوں میں گم تھی جب دروازہ کھلنے پہ چونکی اور زارون کو اندر آتا دیکھ سیدھی ہوئی.. وہ چلتا ہوا اسکے سامنے جا رکا.. اور بغور اسکا جائزہ لینے لگا
..
پھر کچھ دیر اسکا معائنہ کرنے کے بعد اسکے سامنے بیڈ پہ بیٹھا.. وہ بدستور خاموش رہی اور اسکی طرف دیکھنے سے گریز کیا
..
دیکھو جو کچھ بھی ہوا اس میں کسی کا بھی قصور نہیں تھا”
..
مگر تمہارا قصور تھا.. وہ غصہ سے بھری بولی.. تم انکار بھی کرسکتے تھے مگر تم نے تو بڑا مہان کام کیا ہے نا”.. بنا رکے وہ بولتی چلی گئی اور وہ ہکا بکا اسے دیکھتا رہ گیا
..
“میرا قصور کیسے ہوا بھلا.. اور میں اپنے ڈیڈ کا سر جھکا ہوا نہیں دیکھ سکتا اسلیے میں انکار نہیں کرسکا.. ویسے غلطی تو کی ہے مینے نا فاسٹ ڈرائیونگ کرتا نا ایکسیڈنٹ ہوتا”.. اب وہ کھڑا ہوا اور پھر بولا.. “اب گلے پڑا ڈھول بجانا تو پڑے گا
“..
تم نے مجھے ڈھول کہا.. وہ غصہ سے تیز آواز میں بولی..
میں نے مثال دی ہے وہ کہتا الماری سے اپنے کپڑے نکالتا واش روم میں جا گھسا
..
وہ اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی.. پھر اٹھی ڈریسنگ کے سامنے جا کھڑی ہوئی.. بے زار سی اپنے دوپٹہ کی پنے نکالنے لگی.. دوپٹہ سر سے ڈھلک کر دونوں کاندھوں پہ آگیا جس سے اسکی بیک ڈھکی ہوئی تھی.. پھر ہاتھوں سے آدھی چوڑیاں ٹوٹ گئ کچھ بچی ہوئی چوڑیاں اتارنے لگی.. کانوں کے بھاری جھمکے اتارنے لگی.. اب وہ نیکلیس گلے سے نکال رہی تھی
..
تبھی زارون چینج کر کے باہر نکلا.. اسے ڈریسنگ کے سامنے کھڑا پایا..
نیکلیس اتارتے سمے اسکا بھاری دوپٹہ کاندھوں سے سرک کر اسکے پیروں کی زینت بن چکا تھا.. زارون کی نظریں اسکے وجود پہ اٹھی..
بیک گلا ڈیپ تھا..جس سے اسکی کمر کے کچھ حصہ عیاں ہو رہا تھا..
وہ بنا اسکی پرواہ کئے اپنا بالوں کا بنا جوڑے کی پنے کھولنے لگی..
وہ چلتا ہوا کچھ فاصلہ پہ اسکے پیچھے جا کھڑا ہوا.. شیشہ میں اسکا عکس دیکھنے لگا جو پن کھولنے کے جتن کررہی تھی.. ایسے میں اسکا فرنٹ گلا بھی ڈیپ تھا جس سے اسکی خوبصورتی مزید عیاں ہونے لگی.. بھری بھری جسامت میں اسکے وجود کی دلکش رعنائیاں وہ آئنہ سے اسے گہری نظروں سے دیکھ رہا اسکی نظریں آئنہ سے ہی اسکے وجود سے آر پار ہو رہی تھی.. زرتاج زچ ہوئی تھی اسکی نظروں سے اور گھور کر اسے دیکھنے لگی
“کیا ہے”..
کہیں تمہیں ارحم تو نہیں یاد آرہا ..وہ طنز کے تیر برساتا گویا ہوا
..
زرتاج کا تو دماغ گھوما تھا..
تم سے اسی گھٹیا بات کی توقع کی جا سکتی.. مجھے نفرت ہے اس گھٹیا شخص سے اگر اب تم نے دوبارہ اسکا ذکر کیا تو اچھا نہیں ہوگا.. اور تم خود تو منگیتر کے ساتھ ڈیٹیں مارتے رہے ہو اور بات کر رہے ہو مجھ سے”.. اس نے الٹا اسے ہی لتاڑا
اور صوفہ پہ اپنا آرام دہ سوٹ اٹھایا جو روحا پہلے ہی رکھ گئی تھی.. باتھروم میں گھس گئی
..
غلط وقت پہ غلط بات کرگیا تھا.. شرمندگی سی ہوئی اسے ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا پتا نہیں کیوں اسکی سوچ ارحم پہ گئی اور وہ بول بیٹھا..
🥀🥀🥀…
روحان بڑی مشکل سے ان سے مک مکا کرا کے کمرے داخل ہوا بڑا سر کھپایا انہوں زارون کی جان چھوڑ دی تھی مگر روحان سے اپنی منوا کے رہے تھے اور ایک لاکھ لے اڑے..
کمرے میں تو زویا کو اسی کے انتظار میں کھڑا پایا تھا..
روحان نے اسے زور سے ہگ کیا تھا..
زویا کو تو اپنی پسلیاں اندر دھنستی محسوس ہوئی..
روحان اتنا زور سے”
“”..
ہاں تو اتنے دن بعد موقع ملا ہے.. تم نے ملنا گوارہ نہیں” کیا شوہر سے تین دن سے ترستا رہا ہوں تمہارے لئے”..
وہ اسے لئے بیڈ پہ آیا تھا اور زویا سوچ میں پڑی تھی.. کیا ہوا تم کہاں گم ہو فکر نا کرو تمہاری رونمائی کا گفٹ” لیکر ہی آیا ہوں
“..
نہیں میں یہ نہیں سوچ رہی زری کا خیال آگیا تھا لڑ رہی” ہوگی یقیناً”
..
ہاہاہا ..میری جان اس وقت بس تم اپنے اور میرے بارے میں سوچو تمہاری بہن کو میرا بھائی ہینڈل کرلے گا وزن تھوڑا زیادہ ہے مگر وہ مینیج کرلے گا”.. روحان اسکی بات مزاق میں اڑاتا بولا
..
روحان کوئی وزن زیادہ نہیں ہے صحیح ہے وہ”.. برا سا منہ بناتی بولی
..
اچھا نا مزاق تھا”..
یہ دیکھو تمہارا گفٹ
“..
ایک خوبصورت سا پینڈت اسکے سامنے کیا
..
بہت اچھا ہے” زویا کو پسند آیا
…
روحان نے اسے اسکے گلے کی زینت بنایا تھا.. اور اسکے سر پہ بھاری دوپٹہ جو پنوں کی زد میں تھا آزاد کرایا
..
کیسے لگے پھر میرے سر پرائز مہندی اور بارات کا ایونٹ..
بہت اچھے میں واقعی سپراپئز ہوگئی.. مگر میرے پاس” بھی آپکے لئے سرپرائز ہے.. وہ ایکسائٹڈ ہوئی..
اچھا کہاں ہے میرا سرپرائز. اسنے آئبرو اچکا کر کہا..
زویا نے اسکا ہاتھ تھاما اور اپنی پیٹ پہ رکھا..
“یہاں ہے آپکا سر پرائز
“”..
ایک پل کیلے وہ سوچ میں پڑا اگلے ہی پل سمجھ آتے وہ اچھل پڑا
..
کیا.. یو مین .. میں.. خوشی اور حیرت کے ملے جلے تاثرات تھے
..
جی.. آپ.. اور میں.. بہت جلدہی.. پیرنٹس بننے والے ہیں.. زویا نے شرماتے ہوا اپنی بات پوری کی..
روحان نے اسے زور سے گلے لگایا
..
کب ہوا یہ.. روحان نے پوچھا
..
ایک ہفتہ پہلے آئی جب پتا چلا
..
اور تم مجھے اب بتا رہی ہو زویا.. ناٹ گڈ”.. وہ خفگی سے بولا
..
تو آپ کونسا بات کررہے تھے ٹھیک سے کیسے بتاتی میں”.. وہ الٹا اس سے ہی خفا ہوئی
..
اتنی جلدی ہوجائے گا یہ سب ابھی بےبی کے بارے میں سوچا نہیں تھا”.. وہ ابھی پرجوش تھا اور اسے باہوں میں بھر لیا..
آپ نے جب زبردستی کی ہو”. زویا نے درد بھرے لہجے کہا
..
ایم سوری زویا.. مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا میں شرمندہ ہوں اپنی اس حرکت کیلے.. تمہیں بہت تکلیف پہنچائی ہے میں نے.. وہ اپنے اس عمل سے بہت شرمندہ تھا اور کئی بار اس سے معافی بھی مانگ چکا تھا
.. “
زویا کو وہ رات ک ھم نہیں بھول سکتی تھی مگر پھر بھی اس نے روحان کو معاف کردیا تھا..
اٹس اوکے حان”اسکے گلے بانہیں ڈالتی بولی” ..
روحان نے اسکے ماتھے پہ اپنی محبت کی مہرثبت کی اور جا بجا اسکے اپنا لمس چھوڑنے لگا.. اور اس پر اپنی محبت لٹانے لگا اور ایک دوسرے میں سمانے لگے.. آج وہ دونوں مکمل ہوۓ..
🥀🥀🥀🥀…
زرتاج منہ ہاتھ دھو کر چینج کر کے باہر آئی تو کمرے میں نیم اندھیرا تھا.. زیرو بلب کی روشنی پھیلی ہوئی تھی روم میں.. بیڈ پہ زارون ایک سائیڈ پہ لیٹا تھا اور دوسری اسکے لئے خالی چھوڑی تھی..
میں اور اسکے ساتھ بیڈ شئیر کروں.. کبھی بھی نہیں..
وہ بھی صوفہ پہ کشن سیدھا رکھے دراز ہوئی.. صوفہ اسکے لیے آرام دہ نہیں تھا وہ بے سکون ہونے لگی درد کی ٹیسیں اٹھنے لگی تھی.. نیند بھی بہت آ رہی تھی.. مگر صوفہ اسکے آرام کے لئے ناکافی تھا.. کبھی کروٹ بدلتی تو کبھی اس سائیڈ تو کبھی اس سائیڈ.. زارون اسکی یہ ساری کاروائی ملاحظہ فرما رہا تھا..
اخیر ہی وہ اٹھ بیٹھی سیدھا چلتی وہ دروازے تک پہنچی.. اس سے پہلے کے وہ باہر نکلتی..
زارون پھرتی سے اٹھا اس تک پہنچا تھا..
بازو سے پکڑ کر کھینچ کر اسے اندر کرتے دروازہ بند کرکے اسے دروازہ کے ساتھ لگایا تھا
..
کہاں جا رہی ہو”.. دونوں اطراف سے بازو رکھ پوچھا تھا..
مجھے اپنے کمرے میں جانا ہے.. سونا ہے”
..
کونسا تمہارا کمرا “.. اگر تم یہاں سے باہر گئی نا سب نے مجھے چھوڑنا نہیں ہے”.. مجھے ہی کہیں گے کہ میں نے تمہیں کمرے سے نکال دیا”
..
مگر مجھے نہیں سونا مجھے اپنے کمرے میں جانا ہے”
اسے ایک ہی ضد پہ اڑا دیکھ زارون کا تو دماغ گھوما تھا..
ایک لگاؤں گا رکھ کے اگر یہاں سے نکلنے کا بھی نام لیا
“..
اسنے کاندھے تک ہی ہاتھ اٹھایا تھا جو بس ڈرانے کی حد تک تھا.. جبکہ زرتاج کو تو صدمہ لگا تھا
..
تم اپنی پہلی رات کی دلہن پہ ہاتھ اٹھاؤ گے” انتہائی معصومانہ انداز سے کہا گیا
..
زارون کا غصہ بھک سے اڑا تھا.. اور اسکی معصومیت پہ بے انتہا پیار آیا.. اور اسے کاندھے سے پکڑے بیڈ تک لایا اور بٹھایا ..
“ویسے تو پہلی رات کی دلہن کو پیار کیا جاتا ہے مگر اس وقت ہم دونوں ہی اس زخمی ہیں تو یہ ارادہ کل تک ملتوی کردیتے ہیں فلحال تو آرام کی ضرورت ہے سکون سوجاؤ اور مجھے بھی سونے دو”.. آرام سے اسے لٹاتے اس پہ کمبل اڑھایا اور خود دوسری طرف آکر لیٹ گیا..
زرتاج تو اپنی کہی ہوئی بات پہ شرمسار سی ہوئی..پھر اسکی کسی بھی بات کا جواب دیا بنا لیٹ گئی سارا دن کے تھکے ہارے دونوں لیٹتے ہی سوگۓ…
🥀🥀🥀🥀