94.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Beparwah) Episode 1

وہ بڑی عجلت میں اپنا آپ سنبھالتی کلاس میں جا رہی تھی ایک ہاتھ میں نوٹ بکس دوسرے ہاتھ سے کاندھے پہ بیگ ڈالے اسے سنبھالتے تیزی سے کلاس کی طرف بڑھ رہی تھی پہلے ہی اسے بہت دیر ہو رہی تھی جب کلاس میں پہنچی تو کلاس اسٹارٹ ہو چکی تھی سر وقار کلاس لے رہے تھے دروازے پہ زرتاج معصوم سی نہیں مسکینوں والی شکل بناۓ کھڑی تھی شاید کلاس میں اینٹری مل جاۓ۔۔۔۔
خوش قسمتی سے سر نے اسے بغیر کسی روک ٹوک کے ہاتھکے اشارے سے کلاس میں اینٹری دیدی تھی
وہ بھاگنے کے انداز میں اپنی سیٹ کی طرف بڑھی تھی اور سیٹ پہ بیٹھ کر ایک گہری سانس لی زری آج پھر لیٹ ہوگٸی تم اسکی بیسٹی ارم نے کہا۔۔۔۔
🌹🌹🌹🌹🌹
کلاس ختم کرنے کے بعد وہ اپنا بدلہ لینے کے ارادے سے باہر نکلی تھی آج وہ اسے مزہ چکھا کر رہے گی اپنا بیگ اٹھایأ اور کینٹین کی طرف بڑھی تھی ..اسکا شکار اسے وہیں ہی ملے گا کلاس سے نکل کر وہ باہر یونیورسٹی کے گراٶنڈ میں آٸی تھی اب اسکا رخ کینٹین کی طرف تھا اس جگہ بھیڑ تھی آگے کینٹین تھی اسٹوڈنٹس وہاں سے آجا رہےتھے اسے دور سے ارم نے دیکھا زر اسے بنا بتاۓ کلاس سے نکلی تھی ارم جانتی تھی وہ کیا کرنے والی ہے..
اس راستے دو تین سیڑیا ں تھیں وہ آگے تیزی سے بڑھتے ایک سے دوسری سیڑھی پہ پاٶں رکھا تھا کہ کسی نے سیڑھی پہ بیٹھے آگے اپنی ٹانگ کی وہ اس سے ٹکراتی اپنا بیلنس برکرار نا رکھ سکی تھی اور زمین بوس ہو جاتی اگر وہ زر کا برقت ہاتھ نا تھام لیتا اسنے زر کا ہاتھ کھینچ کر اسے سیدھا کیا تھا.. زرتاج اسکے چوڑے سینے سے ٹکراتے ٹکراتے بچی تھی
ایک پل کیلۓ وہ اس اچانک حملے سے ہڑبڑا گٸی تھی پھر سمجھ آنے پہ سامنے والے کو کھا جانے والے انداز میں گھوراتھا مقابل نے بھی جلادینے مسکراہٹ اسکی طرف اچھالی تھی ہاۓ کزن کہہ کر پھر ہاتھ ہوا میں لہرایا تھا وہ بھی زارون تھا زرتاج کا کزن ایک سیر تو دوسرا سوا سیر
“یو ایڈیٹ میرے راستے میں مت آیا کرو جان سے مار دوں گی ایک دن میں وہ انگلی اٹھاتی اسے وارن کر رہی تھی”
لاٸیٹ پنک سادا سا سوٹ پہنے اور اسکا ہم رنگ دوپٹہ گلے میں ڈالے بالوں کی اونچی پونی ٹیل میک اپ کے نام پہ بس پنک لپگلوز لگاۓ ہوۓ ساف شفاف رنگ دیکھنے والے کواپنی سادگی سے گھاٸل کر دینے والی زرتاج..
سامنے والا بھی زارون تھا “زارون عالم ملک”اسکی ہر ادا سے بے نیاز ہمیشہ کی طرح مغرور شہزادوں جیسی چال نیوی بلیو ٹی شرٹ پہنے بلو جینز واٸیٹ جوگرزپہنے ہڈی والی بلیک سلیولیس جیکٹ پہنے سفید رنگ تیکھے نین نقوش ینیورسٹی کی ہرلڑکی کا کرش ..
“میڈم میں تمارے راستے میں نہی تم میرے پاس آ رہی تھی اف یونو “وہ اسکی انگلی اپنی انگلی سے پکڑ اسکی طرف جھک کر بولا تھا
وہ اس سے چڑکھاتی منہ پھیر گٸی تھی سچ ہی توکہہ رہا تھا وہ اسی کے پاس ہی تو آرہی تھی مگر وہ کہا ماننے والی تھی..
“بہت بڑی خوش فہمی ہے کہ تمہاری کے تمہارے پاس آٶں گی “
آنا تو پڑے گا تمہیں ابھی۔۔۔ وہ کہ کر سن گلادسس پہن باہر کی طرف بڑھ گیا ..
زری یار کہاں غاٸب ہو گٸی تھی ارم اسے زارون سے بھڑتا دیکھ چکی تھی اب اسکے پاس آکر اسے پوچھ رہی تھی اور وہ غصہ سے لال ٹماٹر ہو رہی تھی ۔۔۔۔
اس کمینہ کو مزا چکھانے آٸی تھی مگر ۔۔ میں مار دوں گی اسے ایک دن وہ ہاتھ کا مکا بناتی ارم کو بتا رہی تھی۔۔۔
یار مجھے مت مار دینا ارم اسکا مکا بنا ہاتھ پکڑ کرنیچے کرتی بولی۔۔۔ یار تم کنٹرول کیا کرو خود پہ پتا تو ہے تمہیں اسکا تم نہی جیت سکتی اس سے۔۔ یہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانا چھوڑ دو ۔۔
میں اسے کچھ نہی کہتی وہ ہی باز نہی آتا ۔۔ تایا ابو کی وجہ سے لحاظ کر جاتی ہوں میں اسکا جس وجہ سے وہ سر چڑھا ہوا ہے۔۔
چلو اچھا اب گھر جانے کا ٹاٸم ہو گیا ہے باۓ میرا بھاٸی آگیا ہوگا مجھے لینے اب وہ دونوں چلتی باہر مین گیٹ کی طرف آٸی تھی ۔۔۔
زارون اپنی گاڑی میں بیٹھا ہوا تھا ایک ہاتھ اسٹیرنگ پر رکھا ہوا اور منہ ہی منہ میں کچھ گنگنا رہا تھا
چارو ناچار وہ بیگ کی ڈور مضبوطی سے تھامے اسکی طرف بڑھ رہی تھی چہرا ابھی بھی لال تھا غصہ صاف عیاں تھا اسکے چہرے پہ
فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر اسکے ساتھ بیٹھ گٸی تھی اور زارون پھر طنزیہ ہنسی ہنسا اور گاڑی آگے بڑھادی وہ بس باہر دیکھنے میں مصروف تھی اس سے بے نیاز ہو کر مگر وہ کہا ں باز آنے والا تھا اسکا خون جلانے سے..
لگتا ہے یونی لیٹ پہنچی ہو کہییں۔۔ ڈانٹ پڑ گیٸ سر کی جو منہ یوں سوجھا ہوا ہے تمہارا..
“تمہیں اس سے مطلب نہیں ہے چپ چاپ گاڑی چلاٶ “وہ پھٹ پڑی تھی صبح بھی اسکی وجہ سے لیٹ ہوٸی تھی
میں ڈراٸیور نہیں ہوں تمہارا جو یوں حکم چلا رہی ہو اسے طیش آیا تھا۔۔۔۔ پھر رک بولا تھا۔۔
“یہ جو تم اچھا کھاتی پیتی ۔۔پہنتی ہو نہ اور اچھی یونیورسٹی میں پڑھتی ہو سب میرے باپ کے پیسوں سے ہیں”۔۔ سٹیٸرنگ پہ ہاتھوں کی گرفت مضبوط کٸے وہ سخت الفاظ بول گیا تھا۔۔
“گاڑی روکو ۔ وہ چلاٸی تھی اپنی توہیں کہاں برداشت تھی اسے۔۔۔ آٸی سیڈ اسٹاپ دا کار” ۔۔۔ اب کے وہ غراٸی تھی
زارون نے ایک جھٹکے سے گاڑی روکی تھی ۔۔۔اور وہ ایک لمحہ بھی زاٸع کیۓ بغیر گاڑی سے اتری تھی ۔۔ اور زور سے گاڑی کا دروازہ بند کیاتھا ۔۔ صبح بھی اسکی انہی جلی کٹی باتوں سے تنگ آکر وہ راستے میں اتر گٸی تھی اور یونی سے لیٹ ہوٸی تھی ۔۔ یہ تقریباً روز کا ہی معمول تھا ماں کو دکھانے کیلۓ وہ اسکے ساتھ گاڑی میں بیٹھ جاتی تھی اور راستے میں لڑ کر اتر جاتی۔۔
” کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ “۔ زارون نے گاڑی کی کھڑکی سے سر باہر نکال کر اس سے پوچھا تھا۔۔ “مجھے نہیں جانا تمہارے ساتھ” منہ موڑکر غصے سے جواب دیا تھا زرتاج نے ۔۔
” تم چاہتی ہو میں تمہاری منتیں کروں تو میں ایسا ہرگز نہیں کروں گا” ۔۔
“بھاڑ میں جاؤ میری طرف سے”۔
واہ نخرے تو دیکھو ماہرانی کے۔۔ زارون نےمنہ بڑبڑاتے گاڑی اسٹارٹ کردی تھی
اسکے جاتی ہی زرتاج نے پیدل چلنا شروع کردیا ۔۔آج تو اسنے حد ہی کر دی تھی ہر بار وہ اسکی عزت نفس مجروح کر دیتا تھا پتہ نہیں کیا بیر ہے ان دونوں بھاٸیوں کا ہم دونوں بہنوں سے۔۔۔ ایک نے اسکی بہن سے نکاح کر کے غاٸب ہوگیا اور دوسرا زلیل و خوار کرنے پہ تلا ہوا ہے وہ روتے ہوۓ سوچتے آگے بڑھ رہی۔۔ راستہ سنسان ہی تھا اکا دکا گاڑی آجا رہی تھی دھوپ سے اسکی سفید رنگت سرخ ہو رہی تھی سردی کا موسم تھا اسلۓ دھوپ بھی بھلی لگ رہی تھی راستہ کافی لمبہ تھا اسے رکشہ کی تلاش تھی ۔۔۔اچانک وہ آوارہ اور اوباش لڑکوں کے گھیرے میں آگٸی تھی تین لڑکے اسکا راستہ روک کر کھڑے تھے ۔۔ کون ہو تم لوگ ہٹو میرے راستے سے وہ بے خوف ہوتی بولی تھی ۔۔
ایک لفنگا سا لڑکا اسکے قریب آیا تھا ہم بہت کچھ ہوتے ہیں سمجھو تو سہی ۔۔تینوں لڑکوں سیٹیاں بجاٸی تھی اور ساتھ قہقہے بھی لگاۓ تھے۔۔ زرتاج نے دوڑ لگا دی تھی خود کو ان سے بچانے کیلۓ ۔۔۔
🌹🌹🌹🌹🌹🌹
وہ گاڑی آگے لے تو آیا تھا اسے اتار مگر پتا نہی اسے کیوں آج ایسے لگ رہاتھا اس نے ٹھیک نہی کیا اسے ایسے بیچ راستے میں اتار دینا ٹھیک نہی تھا چاچی کیا سوچیں گی اگر آج پھر وہ اکیلی گھر آٸی تو ۔۔ اور ڈیڈ انہیں ہمیشہ سے میں ہی غلط لگتا ہوں ۔۔
بس اسی سوچ کشمکش میں اسنے گاڑی ریورس کی تھی پیچھے جانے کیلۓ۔۔
🌹🌹🌹🌹🌹
وہ زیادہ تیز نہ بھاگ سکی تھی اسلۓ انکی پکڑ میں آگٸی تھی اب اسے احساس ہوا تھا زارون کی باتیں سن لیتی یوں گاڑی سے نہ اترتی ۔۔۔ نانا بلبل یہ غلطی مت کرنا تم اب ہم سے نہی بچ سکتی تو یہ ناکام کوششیں مت کرو ہم سے فرار ہونے کی۔۔ تینوں لڑکوں کے قہقہے لگاۓ تھے۔۔ دو لڑکوں نے بازو سے پکڑ رکھا تھا اور اس کے سامنے کھڑا اس پہ جھک کر بول رہا تھا ۔۔۔ اسنے گندے پیلے دانتوں کی نماٸش کی تھی جس سے اسے کرہت آٸی تھی سختی سے آنکھیں بند کی تھی اور اللہ سے مدد مانگی تھی پھر اونچا اونچا چلانا شروع کیا تھا ۔۔۔بچاٶ بچاٶ کوٸی ہے وہ زور سے چلا رہی تھی شاید کوٸی سن لے اور وہ لڑکے اسے جھاڑیوں کی طرف گسیٹتے ہوۓ لے جا رہے اسکے چلانے پہ ایک لڑکے نے اس کے منہ زوردار تھپڑ مارا تھا جس سے وہ چپ ہوٸی تھی۔۔ اب انکی منتیں کر رہی تھی ۔۔ پلیز مجھے چھوچھوڑ دو پلیز تمہیں اللہ کا واستہ ہے پلیز وہ گڑ گڑا رہی تھی۔۔۔ وہ دو لڑکے اب بھی اسے بازوٶں سے دبوچے کھڑے تیسرے نے اسکےگلے دوپٹہ کھینچ کر نکالا تھا زرتاج نے ایک زور دار چیخ ماری تھی ۔۔۔منہ پہ ایک اور تھپڑ مارا اور آستینے بھی پھاڑ دی ۔۔
اب کے وہ لڑکا اس پہ جھکنے لگا تھے کے کسی نے پیچھے سے اسکا کالر کھنیچا اور اس کا سر سیدھا زمین کے ساتھ جا ٹکرآیا تھا۔۔۔