Beparwah Season 1 By Ayesha Noor Readelle50280 (Beparwah) Episode 16
Rate this Novel
(Beparwah) Episode 16
آج شہانا پھپو اور عمار اپنے گھر واپس جا رہے تھے شام
.. کو انہوں نے نکلنا تھا
صبح کے ناشتہ کے بعد سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے زارون آفس چلا گیا تھا اور عالم صاحب آج گھر پہ تھے طبیعت کچھ ناساز تھی زرتاج یونی گئی تھی اسکے فائینل ائیر کے ایکسزام دو دن بعد اسٹارٹ ہونے والے تھے۔۔
روحا گھر پہ ہی تھی اور ابھی تک سو رہی تھی وہ پیپرز سے فری ہو چکی تھی اسلئے خواب خرگوش کے مزےلوٹن رہی تھی۔۔
زویا نے گھریلو ملازمہ زینب اور فاطمہ کے ساتھ مل کر گھر کے کاموں کو سر انجام دے رہی تھی۔۔
زویا ۔۔” سیما اس سر پہ آن کھڑی ہوئی جب وہ ڈرائینگ روم میں فاطمہ کیساتھ وہاں کی صفائی کروا رہی تھی۔۔
جی تائی” فٹ سے بولی تھی۔۔
ٹائم دیکھو زرا گیارہ بجنے کو آۓ ہیں اور روحی ابھی تک نہیں اٹھی جاؤ زرا اس کے کان کھینچو” سیما ابھی زویا کو بول رہی تھی کہ روحا پیچھے سے سیما کے گلے میں بانہیں ڈالی تھی۔۔
اٹھ گئی میری نکمی اولاد جاؤ زویا میری بیٹی کیلۓ ناشتہ بناؤ۔۔” سیما نے پیار سے اپنی بیٹی کو ساتھ لگایا اور زویا کو آرڈر دیا۔۔زویا جی کہتی کچن میں چلی گئی ۔۔جاؤ ناشتہ کرو روحا کو وہاں سے بھیج کر اور خود وہیں صوفہ پہ بیٹھ کر فاطمہ سے وہاں کی صفائی کروانے لگی۔۔
زویا نے روحا کے آگے ناشتہ رکھا آملیٹ کیساتھ ٹوسٹ اور چاۓکا مگ۔۔اس سے پہلے کے وہ مگ اٹھاتی عمار نے چاۓ کا مگ اٹھا لیا
“عمار بھائی میری چاۓ واپس کریں۔۔” میں نے ابھی ایک گھونٹ بھی نہیں لی عمار جانتا تھا وہ کسی کا جھوٹھا نہیں کھاتی اور نا پیتی۔۔
ایک چمچی تمہاری خوراک ہے اور کیا یہ تم ڈرم لے کر بیٹھ گئی ہو” عمار اس کے برابر والی چئیر پہ بیٹھ کر سڑک کر کے چاۓ کے دو تین سیپ لیے تھے۔
عمار کیوں تنگ کر رہے ہو بچی کو” زویا بولی تھی۔۔”
یہ لو بھئی بچی اپنی چاۓ میٹھی کی ہے تھوڑی سی بس پرنسز” اسکے گال کھینچی۔۔ زویا کو ایک آنکھ ونک کی اور وہاں سے چلا گیا۔۔زویا کا منہ ہی کھل گیا تھا اسکی اس آخری حرکت پر ۔۔ جبکہ روحی تو بلش کر گئی تھی اسکی بات پہ۔۔
جبکہ زویا تو حیران ہوئی تھی روحی کی حرکت پر جب مسکراتی چاۓ کا مگ منہ سے لگا گئی۔۔ جبکہ وہ اسکی چیز کوئی جھوٹھی کر جاۓ وہ وہیں چھوڑ دیتی۔
ہہمم دال میں کچھ کالا لگ رہا ہے ” زویا روحی کے برابر بیٹھتی بولی تو روحا دھیرے سے مسکرا گئی ۔۔
ماں او میری ماں آج مامو سے کرلیں بات جاتے جاتے” ۔۔”
عمار مجھ سے نہیں ہوگی بات” شہانہ پریشان ہوتی بولیں۔۔ ماما ایسے تو نا کہیں کیوں بچے کی جان نکال رہیں ہیں ۔۔”
ایسے نہیں کہتے عمار تم میرے اکلوتے بیٹے ہو۔۔” شہانا کا تو عمار کی ایسی باتوں پہ دل ڈوبنے لگتا تھا۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
سیما ابھی بھی ڈرائینگ میں فاطمہ کے سر پہ بیٹھی تھی۔۔ سہی سہی ہاتھ چلاؤ کانچ کا واس ہے آرام سے صاف کرو۔۔
عالم صاحب بھی وہیں آگۓ تھے۔۔
چاۓ بنواؤں آپ کیلۓ ۔۔
ہاں بنوا دو۔۔” عالم صاحب بولے تھے۔۔
شہانا بھی وہیں آئی تھیں ۔۔
فاطمہ جاؤ زویا سے کہو اپنے تایا کیلۓ چاۓ بنا کر لاۓ شہانا تم چاۓ پیو گی” سیما تکلفانہ پوچھ بیٹھی۔۔
جی بھابھی ضرور چاۓ کو انکار نہیں ہوتا” ۔۔۔
ہاہا ہاں یہ تو ہے ایسا کرو زویا کو کہو تین کپ چاۓ کے لاۓ” سیما فاطمہ کو بولی جی باجی۔۔
تین نہیں چار کپ کا بولنا ایسا کرو پہلے تم سفینہ کے پاس جاؤ اسے کہو شہانا نے بلایا ہے پھر کچن میں جانا ” شہانا مالازمہ کو روکتی بولی تھی اور وہ جی کہتی سفینہ کو بلانے چلی گئی۔۔
عالم صاحب اخبار کھول کر بیٹھ گئے۔۔
بھائی صاحب میں نے بہت ضروری بات کرنی ہے آپ سے” وہ جھجھکتی بولی تھی۔۔ہاں کہو” عالم صاحب اخبار نیچے کرتے اسکی طرف مخاطب ہوتے بولے ۔۔
پہلے سفینہ آجاۓ پھر بات شروع کروں گی۔۔
اچھا وہ بھی متجسس ہوۓ تھے اور سیما۔۔
فاطمہ پہلے سفینہ کے پاس گئی اسے شہانا کا پیغام دیا اور پھر زویا کے پاس آئی روحا بیٹھی ناشتہ کررہی تھی۔۔
زویا باجی وہ سیما باجی کہہ رہیں ہیں کہ چار کپ چاۓ کے بنا کے لے آئیں” فاطمہ نے سیما کا حکم دیا تھا۔۔
چار کپ ۔۔۔” زویا نے نا سمجھی میں اسے دیکھا۔۔
جی وہ آپکے تایا تائی اور پھپو اور آپکی ماما۔۔
“
اچھا اچھا سمجھ گئی تم جاؤ اور دوسرے کام دیکھو ۔۔” زویا بات سمجھتی بولی وہ امجھی شاید کوئی آیا ہو۔۔
زوئی بھابھی چاۓ بنائیں ساتھ چلیں گے۔۔” روحا ناشتہ ختم کرتی بولی تھی۔۔ ٹھیک ہے۔۔زویا نے چاۓ کا پانی چڑھایا چولہے پہ۔۔
کچھ دیر بعدسفینہ بھی وہیں آئی تھیں اور شہانا کے برابر والی کرسی پہ بیٹھی تھی۔۔
بھائی صاحب ،سفینہ مجھے آپ لوگوں سے بہت ضروری بات کرنی ہے ” وہ ابھی بھی جھجھک رہیں تھی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ بات کہاں سے شروع کریں۔۔
شہانا بلا جھجھک بولو کیا بات ہے” عالم صاحب انکی جھجھک نوٹ کرتے بولے تھے۔۔
وہ بھائی صاحب مجھے میں آپ سے بہت ضروری چیز مانگنے لگی ہوں” ۔۔ سب کی نظریں شہانا پر تھیں۔۔
شہانا بھی گھبرا رہیں رہی تھی پتا نہیں کیا ری ایکشن ہوگا انکا۔۔
شہانہ میں سمجھ نہیں رہا ” زرا کھل کر بولو۔۔
بھائی صاحب میں آپ سے عمار کے رشتہ کے حوالے سے بات کرنے آئی ہوں ۔”۔
شہانہ میری روحا ابھی بہت چھوٹی ہے اور تمہارا بیٹا مجھے خوشی ہے تم۔”۔۔
نہیں بھائی صاحب روحا نہیں” عالم صاحب ابھی بول رہے تھے کہ شہانا نے ٹوکا۔۔
بھائی صاحب میں عمار کیلۓ زویا کا رشتہ مانگنے آئی ہوں۔۔میں جانتی ہوں زویا روحان کے نکاح میں ہے مگر یہ حقیقت ہم سب کو پتا ہے یہ رشتہ زیادہ دیر تک قائم رہنے والا نہیں ہے اور زویا میرے مرحوم بھائی کی نشانی ہے میں اسے یوں دربدر ہونے نہیں دےسکتی گھر کی بات گھر میں رہ جاۓ گی” ۔۔شہانا نے ایک ہی سانس میں بات مکمل کی تھی۔۔
کمرے میں گھری خاموشی تھی تمام نفوس دم سادھے بیٹھے۔۔
دروازے چاۓ کی ٹرے لیۓ کھڑی زویا اور روحا نے بھی پوری بات سنی تھی زویا نے روحا کی طرف دیکھا جس کی آنکھیں بھر آئیں تھیں اور وہاں سے دوڑ لگا دی تھی۔۔ زویا بے حس وحرکت کھڑی تھی وہاں پھر کچن کی طرف چلی گئی وہاں کی ملازمہ کے ہاتھ چاۓ بھجوا کر روحا کے پاس گئی۔۔
شہانا یہ تم کیا کہہ رہی ہو۔”۔ عالم صاحب بے یقینی سے بولے تھے۔۔
بھائی سوچ کر جواب دیجۓ گا میری بات کا غور ضرور کیجئے گا” شہانا آس سے کہا تھا ۔۔سفینہ کے آنکھوں کے کنارے بھیگے تھے۔۔
سفینہ تم بھی سوچنا ضرور شہانا نے اسکا ہاتھ پکڑ کر کہا تھا۔۔ ” اور وہاں سے اٹھ کر چلی گئی۔۔
سفینہ نے شکوہ کناہ نظروں سے انکی طرف دیکھا تو وہ نظریں چرا گۓ۔۔ ان سب میں سیما بس خاموش تماشائی بنی بیٹھی تھی۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
ماما کیا کہا ماموں نے” عمار روم میں بیٹھا اپنی مں کا ہی بے چینی سے انتظار کررہا تھا۔۔شہانا جیسے ہی کمرے آئی اس سے رہا نہیں گیا پوچھے بنا۔۔
کچھ نہیں بولے میں اپنی بات کہہ آئی ہوں اور انہیں کہا ہے سوچ لین اچھی طرح سے”۔۔شہا نا نے بیٹے محبت میں مجبور ہو کر یہ رشتہ پوچھ بیٹھی مگر انہیں زرا بھی اس وقت اچھا نہیں لگ رہا تھا ایسا لگ رہا تھ جیسے کچھ غلط بات کہہ آئی ہوں۔۔ عمار بھی خاماش ہوگیا تھا۔۔مزید کوئی بت نہیں کی
🥀🥀🥀🥀🥀
روحا وہاں سے دوڑ لگا اپنے کمرے آئی تھی وہ زویا کے سامنے کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی۔۔وہ رونا نہیں چاہتی تھی نا ہی زویا سے بد گمان ہونا چاہتی تھی آنسوں پھر بھی بہنے لگے تھے۔۔پتا نہیں کب وہ عمار کو پسند کرنے لگی تھی یہ بات اسنے اپنے دل میں ہی دبا کر رکھی تھی۔۔ وہ کسی اور کا ہوجاتا تو شاید اتنا دکھ نا ہوتا مگر زویا کے ساتھ وہ اسے نہیں دیکھ سکے گی۔۔
روحا”۔۔ زویا جو اسکے پیچھے آن کھڑی تھی ۔۔فٹا فٹ اپبے آنسوں صاف کئے تھے۔۔
روحا میری جان ادھر دیکھو میری طرف روحا صوفے پہ دوسری طرف منہ کیۓ بیٹھی تھی زویا اسکے ساتھ بیٹھ کر اسکا رخ اپنی جانب موڑا تھا لال سرخ آنکھیں سرخ ہوتا چھوٹا سا ناک اسکی رونے کی گواہی تھی۔۔
روحا میں ایسا کسی صورت نہیں ہونے دوں گی میں چپ نہیں رہ سکتی روحا اب ۔۔” روحان بھلے ہی مجھے نا اپنائیں مگر میں خود کو انکی امانت ہی سمجھتی ہوں اور آج تک میں نے اس امانت میں خیانت نہیں کی۔۔اور نا ہی کروں گی۔۔ کیوںکہ وہ میری پہلی اور آخری محبت ہیں۔۔ نا ان سے پہلے کوئی تھا اور نا ہی بعد میں کوئی ہوگا۔۔میں دل سے جڑی ہوں اس رشتہ سے شاید اس لئے اب تک یہ رشتہ قائم ورنہ کب کا ختم ہوچکا ہوتا۔۔” بولتے بولتے آنسوں بہہ نکلے تھے آنکھوں سے۔۔
پھر تم نے کیسے سوچ لیا روحی میں تم سے تمہاری محبت چھین لوں گی” روحا کا چہرہ ہاتھوں کےپیالے میں بھر کر پیار سے کہا تھا زویا نے۔۔ روحا اسکے گلے لگ کر رودی تھی زویا اسکی پیٹھ سہلاتی اپنے آنکھیں بھی صاف کئے تھے۔۔
یو آر دا بیسٹ بھابھی زوئی تم ہی میری بھابھی ہو بس” ۔۔روحا اس سے الگ ہوتی بولی تھی اور دونوں آنکھوں میں آنسوں لیۓ مسکرا دی تھی۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
شام کو سب سے الوداعی کلمات لیتے وہ دونوں ماں بیٹا وہاں سے رخصت ہوۓ تھے زویا نے نا ہی عمار کی طرف دیکھا تھا نا اس سے کوئی بات کی روحا بھی بس خاموش سی تھی زرتاج ہی تھی بس جو چہک رہی تھی۔۔
رات کے کھانے کے بعد وہ تینوں ٹی وی پہ ہمیشہ کی طرح اپنا کامیڈی پرگرام دیکھ رہیں تھی۔۔ مگر زویا اور روحا کو خاموش پاکر زرتاج بولی جو جب سے یونی سے آئی تھی انکا بیہیو نوٹ کررہی تھی۔۔
کیا ہوگیا ہے گرلز ایوری تھنگ از اوکے” چاۓ کا مگ پکڑے وہ ان سے بولی تھی جو گم سم تھی۔۔
زوئی بھابھی کا پرپوزل آیا ہے” روحا بجھے سے انداز میں بولی تھی۔۔
واٹ کون کس نے کیا سہی سہی بات بتاؤ” وہ جو صوفہ پہ اوپر ٹانگیں اوپر کۓ بیٹھی فورن سے سیدھی ہوئی عین اسی وقت زارون بھی انکے سر پہ آن کھڑ ہوا تھا وہ روحا کی بات سن چکا تھا۔۔
روحا اسے دیکھ کر خاموش ہوئی تھی۔۔
روحی صاف صاف بتاؤ۔۔” مجھے کسی نے بتایا ہی نہیں اس بارے” زارون دانت پیستے بولا تھا اسے سخت برا لگا تھا۔۔
شہانا پھپو نے عمار بھائی کیلۓ زوئی بھابھی کا ہاتھ مانگا ہے” روحا نے ایک ہی سانس میں بتایا تھا
واٹ ” زارون اور زرتاج کے منہ سے ایک ساتھ نکلا تھا زارون رکا نہیں تھا وہاں پہ فورن عالم صاحب کے پاس گیا وہ اس وقت اسٹڈی میں ہوتے تھے۔۔
زویا وہاں سے اٹھ گئی تھی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئی تھیں۔۔
روحا بھی اسکے پیچھے اٹھ گئی تھی۔۔ جبکہ زرتاج اپنی جگہ پہ جمی بیٹھی اسے یہ پرپوزل برا نہیں لگا تھا۔۔اور سوچتی چاۓ کے گھونٹ بھرنے لگی تھی۔۔
ڈیڈ یہ پھپو کیا کہہ کر گئی ہیں۔۔ انہیں کچھ تو سوچنا چاہیے تھا ۔۔”
زراون ڈائیورس پیپر بنواؤ۔۔”عالم صاحب کی آواز پہ زارون ٹھٹکا تھا اسے یقین ہی نہیں آرہا تھا اپنے ڈیڈ پہ۔۔
ڈیڈ یہ آپ کیا کہہ رہے۔۔” وہ صدمہ سے بولا۔۔
تو اور کیا کروں زارون اپنا ہی سکہ کھوٹا نکلا ۔۔۔میں شرمندہ ہوں اپنی اولاد کی وجہ سے۔۔”
🥀🥀🥀🥀
روحان اپنے آفس میں بیٹھا فائیلوں میں منہ دئے بیٹھا تھا کام کا بوجھ کافی بڑھ چکا تھا ۔
ہاۓ “۔۔ ماریہ اس کے آفس میں بنا ناک کئے اس کے سامنے آتی ہاتھ لہراتی بولی تھی۔۔
ہاۓ تم اس وقت یہاں “۔۔ روحان نے سر اٹھا کر سامنے کھڑی ماریہ کو دیکھتے پوچھا ۔
ہاں میں کتنے دن ہوگۓ ہیں تم مجھے اگنور کر رہے ہو ہر وقت بس کام کا بہانا بناتے رہتے ہو۔۔” وہ اسکے سامنے بیٹھتے منہ بناتی شکوہ کرتی بولی تھی۔۔
سوری یار سریسلی میرے پاس ٹائم نہیں ہے۔۔ تم بتاؤ کچھ کام تھا” وہ فائیل بند کر کے اسے دیکھتا بولا۔۔
ہاں کام ہے آج میں تم سے فائنل بات کرنے آئی ہوں تین سال ہوگۓ اور کتنا انتظار کرواؤ گے روحان تم۔۔
روحان خاموش تھا۔۔
تم نے اپنے پیرنٹس سے بات نہیں کرنی نا کرو تم یہاں ہی مجھ سے شادی کرلو۔۔ جب وہ لوگ مان جائیں تم بتا دینا” وہ اپنی طرف سے مشورہ دیتی بولی تھی۔۔
یار کوشش کررہا ہوں بس آجکل ان سے ان بن چل رہی ہے بٹ میں منا لوں گا” وہ اپنی طرف جواز بناتا بولا۔۔
اور کتنا ٹائم لو گے روحان کبھی کبھی تو لگتا ہے جیسے کہیں تم مجھے چیٹ تو نہیں کررہے کہیں مجھے چھوڑ نا دو ” وہ مگر مچھ کے آنسو بہاتی بولی تھی۔۔
چھہ مہینے کا ٹائم دے دو اس کے بعد میں تمہیں اپنا لوں گا ماریہ چاہے میرے پیرنٹس مانے یا مانے” لفظ چیٹ پہ روحان کے طوطے اڑے تھے اسنے سنبھل کر دو ٹوک جواب دیا ۔۔
ٹھیک ہے روحان تم کہتے ہو تو مان لیتی ہوں وہ ” اپنے آنسوں پونچھتی بولی تھی۔۔ اچھا کہیں چلیں باہر تھوڑا موڈ اچھا ہو جاۓ گا۔۔اب مسکرا کر بولی۔۔
نہیں میری ابھی آدھے گھنٹے بعد میٹنگ ہے ۔۔سو نو ٹائم
ٹھیک ہے جب فری ہو تو پلین بنائیں گے ” وہ اٹھ کر کھڑی ہوئی تھی اسکے پاس آئی اور جھک کر اسکے گال پہ کس کی اور باہر چلی گئی
اور وہ بس سر ہلاتا رہ گیا۔۔
