94.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Beparwah) Episode 8

قسط نمبر 8

صبح دس بجے ڈاکٹر نے زویا کی ماما سفینہ کو ڈسچارج کردیا تھا زویا اور زارون سفینہ کو لیۓ گھر پہنچے تھے ۔۔
زارون سفینہ چاچی کو انکے کمرے میں پہنچا کر خود کمرے میں آیا تھا کافی تھک گیا تھا رات سے اب تک جاگ رہا تھا ۔۔ اور اب فریش ہو کر سونے کیلۓ لیٹ گیا تھا۔۔
سفینہ کے کہنے پہ زویا بھی آرام کیلۓ سو گئی تھی زرتاج اپنی ماں سے کچھ باتیں کی .. پھر کچن میں آگئی انکیلۓ سوپ بنانے کچھ کھایا بھی نہیں کل سے اور اب بھوک ستا رہی تھی پہلے خود ناشتہ کیا تھا اور پھر سوپ بنانے لگی تھی۔۔ زویا بھی سو رہی تھی ورنہ وہ کچن میں کم ہی پائی جاتی۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
روحان آفس سے چھ بجے فری ہوا تھا وہ گھر پہ تیار ہو رہا تھا اسے ڈنر پہ جانا تھا ماریہ کے ساتھ دس بار کالز کرکے وہ اسے ڈنر کا بتا چکی تھی ۔۔۔
‏اسے ابھی بھی زارون کی ٹینشن تھی وہ فون نہیں اٹھا رہا تھا کتنی کی کالز کی تھیں اسنے ایک بھی کال ریسیو نہیں کی۔۔
‏ اب سات بجنے والےتھے ماریہ کی پھر سے کال آرہی تھی۔۔
‏اسنے کال کاٹ کر اسے مسیج بھیجا آ رہا ہوں کا تبھی اسکی کال آنا بند ہوئی تھی۔۔
‏تقریبا آدھے گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد وہ ہوٹل پہ پہنچا تھا ۔۔
‏گاڑی پارک کر کے اندر آیا تو سامنے ہی ٹیبل پہ ماریہ نظر آئی ۔۔
‏ڈیپ ریڈ کلر کا سلیولیس ٹاپ جو گھٹنوں سے تھوڑا نیچے تھا جس سے سفید پنڈلیاں صاف نمایا نظر آ رہی تھیں گلے کی آگے پہچھے کی گہرائی اسکے جسم کے حصہ نمایا کررہی تھی۔۔ ہاتھ میں پہنا ڈائمنڈ کا بریسلیٹ اسکی سفید کلائی میں خوب جچ رہا تھا۔۔ گولڈن بالوں کو کرل کیا ہوا تھا ۔۔ ہلکا سا میکپ کۓ وہ پوری تیاری کے ساتھ بیٹھی تھی۔۔
روحان اسکے سامنے آکے بیٹھا تھا اسے دیکھتے ہی غصہ سے منہ دوسری طرف کر گئی ناراضگی کا صاف اظہار تھا۔۔
” ‏ہہۓ ماریہ وٹ ہیپنڈ”۔۔
” ‏تمہیں نہیں پتا نا”۔۔
” ‏ییس بےبی آئی رئیلی ڈونٹ نو۔”۔
” ‏پورا آدھا گھنٹا لیٹ ہو میں کب سے بیٹھی ہوئی تمہارا انتظار کر رہی ہوں بلکہ ” انتظار ہی تو کررہی ہوں” کب سے انتظار کی سولی پہ لٹکایا ہوا تم نے مجھے۔۔ تین سال ہوگئےہیں ہم کب سے ریلیشن شپ میں مگر تم شادی کا نام بھی نہیں لیتے۔۔جب بھی بات کرو تو ٹال جاتے ہو ” گلہ پہ آئی تو کئی شکوہ لیکے بیٹھ گئی۔۔
‏
” ‏یار میں کب منع کررہا ہوں تمہیں میری کمٹمنٹ ہوئی ہے تمہارے ساتھ میں کروں گا تم سے شادی میں پوری کوشش کرہا ہوں اپنے پیرنٹس کو منانے کی۔”۔
‏
” ‏نہ وہ مانے نا ہم ایک ہوں گے۔” وہ منہ بناتی بولی..
“اچھا یار بھوک لگی ہے کیا اورڈر کیا ہے” ۔۔روحان اسکا موڈ چینج کرنے کیلے بات بدلی..
“کچھ بھی نہیں۔۔”وہ منہ بسور کے بولی۔۔
“وٹ ۔۔کب سے بیٹھی اور ابھی تک ۔۔ اچھے چلو میں ابھی اورڈر کرتا ہوں”۔۔ اسکے خراب موڈ کو دیکھ کر وہ اور کچھ نہیں بولا۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀
زارون کی آنکھ کھلی تو فون اٹھا کر ٹائم دیکھا ایک بج رہا تھا اور ساتھ ہی روحان کی ڈھیر ساری مسڈ کالز بھی لگی ہوئی تھی۔۔
اسکے دماغ میں پھر سے وہی روحان کی باتیں گونجی تھیں تو موبائل پٹخا تھا ایک سائیڈ پہ اور اٹھ کر بیٹھ گیا تھا۔۔
زرتاج ابھی کچن میں ہہ تھی ماما کو وہ سوپ بنا کر پلا بھی آئی تھی۔۔اب دوپہر کے کھانے کی تیاری کررہی تھی۔۔
تبھی سیما بھی کچن میں آئی تھی۔۔
“واہ بھی آج تو کچن میں خوب رونق لگی ہے” ۔۔وہ طنزیہ بولی..
” ‏تائی آپکو کچھ چاہۓ تھا”۔زرتاج نے انکی باتوں کو اگنور کرتے ہوۓ پوچھا تھا۔۔
” ‏کچھ نہیں بس دوپہر کے کھانے کا ہی انتظام کرنے آئی تھی”۔۔ زویا بی بی تو ریسٹ پہ ہوں گی آج تو”۔۔
“تائی امی میں نے سب انتظام کردیا بس کچھ دیر اور لگے “۔۔
تب ہی زارون سیڑیوں سے اترتا سیدھا کچن میں آیا تھا۔۔
اسنے اپنی ماں کے پیچھ سے ہگ کی تھی۔۔ ہۓ موم۔۔ اور پھر کچن میں رکھی کرسی پہ بیٹھا تھا۔۔
“یہ زویا کہاں ہے مجھے بھوک لگی ہے”۔۔
زرتاج بس خاموش ہی رہی تھی۔۔
“زرتاج کل سے بھوکا ہے میرا بیٹا ناشتہ بناؤ میرے بیٹے کیلۓ “سیما زارون کے بالوں میں پیار سے ہاتھ پھیرتے بولی تھی۔۔
“جی بنا تی ہوں۔۔” وہ بس اتنا ہی بولی..
“کیا زری۔۔ ناشتہ۔۔ میرے لئے ۔۔ کیا میں کہیں خواب تو نہیں دیکھ رہا۔۔ یہ آج کا سورج کہاں سے نکلا ہے۔۔ کہیں میں خواب تو نہیں دیکھ رہا۔۔”
وہ رک رک کر اسے چھیڑنے کیلۓ بول رہا تھا مگر زری کو تپ چڑھی تھی اسکے اس انداز سے۔۔
“تم نے چپ چاپ ناشتہ کرنا ہے تو کرو ورنہ بھاڑ میں جاؤ”۔۔بس جو منہ میں آیا بول گئی یہ سوچے بغیر کے سیما بھی پاس کھڑی تھی۔۔
“اے لڑکی تمہیں زرا تمیز نہیں ہے بات کرنے کی کتنی منہ پھٹ ہو۔۔ تم احسان نہیں کررہی ہم پر پرے ہٹو میں خود بنا لیتی ہوں اپنے بیٹے کا ناشتہ” سیما غصہ سے چلائی تھی۔۔اور زری کی طرف بڑھی تھی
اس سے پہلے کے سیما زرتاج تک پہنچتی زارون نے اپنی ماں کو پکڑا تھا “موم کیا ہوا آپکو پلیز” ۔۔
“تم اس چھوکری کی زبان نہیں دیکھ رہے گز بھر لمبی زبان ہے اسکی نکالو اسے اسی وقت یہاں سے”۔۔
“موم کیا کر رہی ہیں رک جاۓ”۔۔کیسی جاہلوں والی حرکت کی ہے آپنے”۔۔ مجھے کچھ نہیں کھانا وہ کہتا رکا نہیں تھا پھر تیزی سے نکلا تھا وہاں سے۔۔
زرتاج چولہے کے پاس کھڑی تھی حیرت اور ڈر سے وہ اپنی جگہ سے ہل بھی نہ سکی۔۔
سیما نے قہر برساتی نظر اس پہ ڈالی تھی اور” ہہنہ یہ ماں بیٹیاں ہی لیکر بیٹھ گئی ہمیں تو” زہر اگلتی وہ وہاں سے چلی گئی۔۔
پھر کچھ دیر بعد زویا آئی تھی۔۔
زرتاج ابھی بھی وہاں سکتے میں کھڑی تھی۔۔زویا نے اسے ہلایا تھا۔۔” زرییی ۔۔ کیا ہوا ایسے کیوں کھڑی ہو”۔۔
“کک کچھ نہیں وہ۔ وہ زارون کیلۓ ناشتہ بنا بنانا تھا وہی سوچ رہی تھی ۔۔”
“اس میں سوچنے کی کیا بات پیچھے ہٹو میں بنا دیتی ہوں”۔۔۔
زویا نے اسے سائیڈ پہ کیا اور چولہے پہ چاۓ کا پانی چڑھایا تھا اور ساتھ بریڈ رکھے اور انڈہ فرائی کیا تب تک چاۓ بن گئی تھی اسے کپ میں ڈالا تھا۔۔ لو ناشتہ تیار جاؤ اسے دے آؤ ٹرے اسکے سامنے کی تھی۔۔
وہ نا چاہتے ہوۓ بھی ٹرے تھام گئی تھی اور مرے مرے قدموں سے سیڑیاں چڑھنےلگی۔۔
زارون کے کمرے کا درازہ ناک کیا اور اندر آئی تھی سامنے ہی وہ صوفے پہ بیٹھا موبائل چلا رہا تھا ایک نظر زرتاج پہ ڈالی پھر سے موبائل میں بزی ہوگیا۔۔
” ناشتہ”۔۔ زرتاج ٹرے لۓ سامنے اسکے کھڑی بولی ۔۔
” ‏دفع ہوجاؤ مجھے نہیں کرنا”۔۔
ایک نظر اسے دیکھا پھر سے موبائل میں مصروف ہوگیا ۔۔۔
جی تو چاہا کہ ٹرے اس کے سر پہ دے مارے۔۔
“‏زویا نے ناشتہ بنایا اسلۓ کرلو”۔۔دانت پیستے ہوۓ اسنے کہا تھا پھر ٹرے کو ٹیبل پہ رکھا ۔۔
‏
‏زارون سیدھا ہو کر بیٹھا موبائل کو سائیڈ پہ رکھا اور چاۓ کا کپ اٹھا کر سیپ لیا تھا ۔۔
” ‏ہہم شکر ہے زویا اس گھر میں رہے گی مجھے اسکے ہاتھوں بنا ناشتہ تو ملتا رہے گا تمہارا بسس چلے تو زہر ہی کھلا دو مجھے” وہ بریڈ کا بائیٹ لیتا بولا۔۔
” ‏ہہم شکر ہی کرو بسس تم کسی دن میں یہ کارنامہ سرانجام دے ہی نہ دوں “۔۔کمر پہ ہاتھ رکھے دانت پیستے بولی۔۔
” ‏پھر تو تمہاری جلدی سے شادی کرا کے اس گھر سے چلتا کرنا پڑے گا۔۔تم بہت خطرناک ارادے لیۓ بیٹھی ہو۔۔”
“
جی نہیں۔۔ مجھے کہیں نہیں جانا۔۔” اسنے ناک پڑھا کر
کہا۔۔
“کیوں ساری عمر یہیں پہ ڈیرے ڈالنے کا ارادہ ہے کیا زویا کی طرح”۔۔
“کیا مطلب ہے تمہارا زویا کی طرح”۔۔وہ ابھی بھی ویسے کھڑی اسکی بنا بات سمجھے بازپرس کرنے لگی۔۔
“زویا کی طرح مطلب اس گھر کی بہو بن کر روحان کا صرف ایک بھائی ہے “۔۔بریڈ کا سلائس چاۓ میں ڈبو کر وہ بڑے آرام سےبولا تھا ۔۔۔
زرتاج کا منہ کھلا کا کھلا ہی رہ گیا اسکی بات سن کر ۔۔
زارون کو اسکے ایکسپریشن دیکھ کر بہت مزا آرہا تھا۔۔
وہ پیچھے ہو کرصوفے کے ساتھ ٹیگ لگاۓ ٹانگ پہ چھڑھا کر بیٹھا تھا اور پھر بولا ۔۔
“اس وقت اس گھر میں تو صرف میں ہی available ہوں۔۔”
اسکی بات سمجھتی وہ بھڑک اٹھی۔۔”ہہم تم جاؤ بھاڑ میں یہ میرے بھی باپ کا گھر ہے جب تک چاہوں رہ سکتی ہوں اپنی گھٹیا سوچ اپنے پاس رکھو”۔۔
زارون ابھی بھی مسکرا رہا تھا۔۔اسکی بات سنتے ہی چھت پھاڑ قہقہ لگایا تھا ۔۔
زرتاج وہاں ایک سیکنڈ بھی نہیں رکی اسکے کمرے سے نکلتے ہی اپنی کمرے میں آئی تھی جو اسی فلور پہ ہی تھا۔۔
“ہہم جاہل گھٹیا انسان سمجھتا کیا ہے اپنے آپ کو۔۔ بجلی کے کھمبے کو گلے لگا لوں مگر اسے کبھی بھی نہی”۔۔۔
ہمم وہ اپنے آپ میں ہی بڑبڑا رہی تھی۔۔اور ادھر ادھر چکر کاٹ رہی تھی روحہ کالج سے آچکی اور وہ چینج کر کے واشروم سے باہر نکلی تو زرتاج غصے سے لال ٹماٹر چہرہ لیۓ خود سے بڑبڑا رہی تھی۔۔
“کیا ہوا ہے زری” ۔۔روحا اسکا کاندھا پہ ہاتھ رکھ کر اسے ہلا کر ہوش کی دنیا میں واپس لائی۔۔
“سمجھتا کیا ہے اپنے آپ کو میں دانت توڑ دوں گی اسکے اسے”۔۔
“زری پلیز بتاؤ یہ بتاؤ کس سے جھگڑا ہوا ہے کہیں زارون بھا”۔۔
“نام بھی مت لینا اسکا میرے سامنے ورنہ اسکا غصہ تم پہ نکل جاۓ گا”۔۔وہ بھڑک اٹھی تھی
“ہہم تو یہ بات ہے کیا کہہ دیا آخر ایساجو یو۔ تپی ہوئی ہو آج لگتا ہے کچھ زیادہ ہی ہوگیا۔۔”وہ دونوں ہاتھ باندھتی مسکراتی بولی..
“”مجھے کہتا ہے میری جلدی شادی کرنے پڑے گی۔میں نے کہا جی نہیں میں کہیں نہیں جاؤ گی۔۔
تو کہتا ساری زندگی یہیں رہنا ہے کیا زویا کی طرح ۔۔اس گھر کی بہو بن کر اور اس وقت تو میں ہی available ہوں” زرتاج بنا بریک لگاۓ بولتی چلی گئی۔
ہاہاہا روحا کا ہنسی کا فوارا چھونٹا تھا جیسے اور ساتھ دو تین تالیاں بجائی۔۔
زرتاج نے کشن اٹھاکر اسے دو تین مارے روحی کی بچی تم میرا مزاق اڑا رہی ہو۔۔ روحا نے اس سے کشن پکڑا تھا اور اپنی ہنسی کو بریک لگانے کی کوشش کی تھی۔۔
‏
” ‏ویسےیار اچھا ہے نا تم ہمیشہ کیلۓ ہی اس گھر میں”۔۔ “ہاہاہا ۔۔گڈ گڈ آئیڈیا۔۔ ہاہاہا۔۔”زری پھر اسکے پیچھے بھاگی۔۔
روحا نے وہاں سے بھاگنے میں ہی آفیت سمجھی دروازے پہ رک کر پھر بولی” ویسے اتنا بھی برا نہیں ہے میرا بھائی “اور فٹ سے بھاگی زری بھی اسکے پیچھے کمرے سے باہر نکلی اسے پکڑنے کیلۓ ۔۔
روحا نے بھی شرارت سے زارون کے کمرے کا رخ کیا اور زویا کو انگوٹھا دکھاتے زارون کے کمرے میں گھس گئی۔۔
‏زرتاج نے ہاتھ کا مکابنا کر اپنی دوسری ہتھیلی پہ مارا روحی کی بچی تم بچو مجھ سے اب ..وہ سیڑھیوں سے اترتی کچن میں چلی گئی۔۔
“ہیلو بھیا جی” زارون ابھی بھی صوفے پہ بیٹھا موبائل چلا رہا اسے دیکھتا اپنا بازو پھیلایا تھا ارے میرا بچا آؤ۔۔
“بھائی۔۔” وہ بھی اسکے ساتھ جا لگی تھی
“جی میرا بچہ” ۔۔
“بھئی کیا بچہ بچہ کرتے رہتے ہو”۔۔ وہ بھی بڑے لاڈو سے انداز بولی تھی۔۔
“ہاہا جتنی بھی بڑی ہو جاؤ ہمارے لئے تو بچہ ہی رہو گی۔۔”
“اچھا تو پھر میرا موبائل کب ملے گا مجھے”۔۔ان دنو نئی خواہش کا اظہار کیا تھا جس کے حق میں زارون نہیں تھا۔۔
“پڑھائی کے میدان میں پہلے ہی بہت تیر مارے ہوۓ ہیں ناں جو نیا شوشا چھوڑا ہوا ہے”۔۔
“کیا بھائی پڑھتی تو ہوں میں بس ٹیچروں کو خاص بیر ہے مجھ سے نمبر دینے میں ہاتھ دکھتے ہیں” ۔۔وہ اب کھڑی ہوئی باہر جانے لگی تھی زارون کی بات پر واپس مڑی۔۔
“تم .. اور پڑھ لو میں نے تو نہیں دیکھا تمہیں پڑھتے ..
اس موٹو کے ساتھ تو چپکی رہتی ہو ہر وقت”۔۔
“آپ زری کو موٹو کہہ رہے ہیں۔۔ تو میرے خیال سے اسے ہمیشہ کیلۓ اس گھر میں رکھ لیتے ہیں ۔۔ اس گھر کی بہو بنا کر فلحال تو آپ ہی available ہیں اس وقت۔۔۔ہاہاہا” وہ اسے چھیڑتی بولی
“تو موٹو کے پیٹ میں بات بچی نہیں۔۔ زارون ہنستا بولا تھا۔۔”
“ویسے بھائی آئیڈیا برا نہیں خوب رونق لگے گی”۔۔ٹیوی دیکھنے کی ضرورت ہی گھر میں اچھی خاصی انٹرٹینمنٹ ہوگی”۔۔روحہ کہتی بھاگ گئی۔۔
زارون نے سر ہلایا تھا” بس اب بات پکڑ لی ہے جلدی چھوڑے گی نہیں”۔۔