Beparwah Season 1 By Ayesha Noor Readelle50280 (Beparwah) Episode 18
Rate this Novel
(Beparwah) Episode 18
اس وقت رات کے دس بج رہے سب اپنے کمروں میں تھے۔۔اور تین لوگ اس وقت اسٹڈی میں تھے ۔۔عالم صاحب سفینہ اور زویا عالم صاحب کافی دن سوچ بچار کے فیصلہ کیا اور اب وہ ان دونوں کو بھی آگاہ کرچکے تھے۔۔
زویا کو جب عالم صاحب نے اپنے سٹڈی روم بلایا تو وہ بہت گھبرا گئی تھی جب وہ وہاں آئی تو سفینہ پہلے سے وہاں موجود تھی اور سامنے ٹیبل پہ کاغذ پڑے نظر آۓ تو اسکا دل گھبراہٹ میں مزید اضافہ ہوا تھا حوصلہ کرتی وہ انکے سامنے آ کر کھڑی ہوئی تھی۔۔
زویا بچے میرے پاس آکر بیٹھو ” صوفہ پہ بیٹھی سفینہ اسے اپنے قریب بیٹھنے کا اشارہ کیا وہ چھوٹے چھوٹے قدم بڑھاتی اسکے پاس آکر بیٹھ گئی۔۔
پھر عالم صاحب بولنا شروع ہوۓ ۔۔
زویا کی تو ہوائیاں اڑی تھی “مم میں کیسے یہ کرسکتی ہوں ۔”۔
تم ہی کرسکتی ہو زویا بیٹا اس کے کان کھینچ کر یہاں لا سکتی ہو اب سب کچھ تمہارے ہاتھ میں ہے۔۔” عالم صاحب بولے تھے۔۔
مگر تایا ابو میں اکیلی کیسے جاؤں گی۔۔” زویا کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا جواب دے۔۔
بیٹا اب دو ہی راستہ ہیں تمہارے پاس یا تو روحان سے طلاق لیلو اور عمار سے شادی کرلو یا پھر روحان کے پاس خود ہی آسٹریلیا چلی جاؤ۔۔” سفینہ اسکا ہاتھ پکڑ پیار سے بولی تھی۔۔
زویا کا تو طلاق کے نام پہ جان نکلی تھی۔۔”کیا روحان مان جائیں گے میرے وہاں جانے سے”۔۔
اس الو کے پٹھے کو کون بتاۓ گا ابھی یہ بات صرف ہم تینوں کے درمیاں میں ہے۔۔”جب تم وہاں پہنچنے والی ہوگی تبھی میں اس کو بتاؤں گا۔۔” سمجھو اب تمہاری رخصتی آسٹریلیا بھیج کر ہوگئی۔۔
سفینہ تیاریاں کرو زویا کی رخصتی کی ایسے نہیں تو ایسے ہی سہی”۔۔عالم صاحب مسکراتے بولے تھے۔۔
زویا اب بھی پریشان سی تھی۔۔کہ اسکا کیا بنے گا اب روحان کے پاس اکیلے جانا کیسا بہیو کریں گے وہ مجھے دیکھ کر یہ سوچ ہی اسکی روح فنا ہو رہی تھی۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀
یہ بات صرف روحا کو بتائی تھی زویا نے اسکی خوشی دیدنی تھی “واؤ زوئی واٹ آ سرپرازڈ ایم سو ہیپی” خوشی سے گلے لگایا تھا روحا نے زویا کو۔۔
چلیں پھر شوپنگ کرتے ہیں اچھی اچھی ڈریسز لیتے ہیں ویسے بھی وہاں سردی ہوگی ۔۔
اچھا میں زارون بھائی سے کہوں گی ہمیں شوپنگ کے لیۓ لے جائیں۔۔” وہ ایکسائیٹڈ ہوتی بولی تھی اور زویا پھیکا سا مسکرائی تھی سچ تو یہ تھا کہ اندر سے بہت ڈر رہی تھی۔۔
اگلی صبح زارون آفس کیلۓ نکل رہا تھا تو روحا اسکے پیچھے آواز لگاتی بھاگتی آئی ابھی پورچ میں ہی پہنچا تھا۔۔”کیا روحی کیا ہوگیا ” وہ اسکے پیچھے سے آواز لگانے سے گھبرایا تھا۔۔
بھائی ہمیں آج شاپنگ پہ جانا ہے”۔۔روحا بڑے مزے سے کہا۔۔
تو اسکیلۓ اتنا بھاگنے کی کیا ضرورت تھی”۔۔”
ضرورت تھی”۔۔ پاس سے گزرتی زویا کو اشارہ کرکے پاس بلایا تھا۔۔”ہم دونوں نے شاپنگ کرنی ہے۔۔موسم چینج ہو رہا ہے گرم کپڑے لینے”۔۔وہ زویا کے کندھے پہ ہاتھ ڈالتی بولی۔۔
اللہ کی بندیوں میں آفس جا رہا ہوں چھولے بیچنے نہیں” زارون کہتے گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔۔
زویا کی ہنسی نکلی تھی۔۔
بھائی پلیییج مان جائیں نا ” وہ اسکا گاڑی کا دروازہ پکڑ کر بولی تھی۔۔
روحی میرے پاس ٹائم نہیں ” دھاڑ سے درواہ بند کرکے گاڑی اسٹارٹ کردی روحا دو قدم پیچھے ہٹی تھی تو وہ گاڑی بھگا لی گیا۔۔
روحا پیر پٹختی رہ گئی تھی۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
آج سیما اپنی بہن کے گھر آئیں ہوئیں تھیں اس وقت بارہ بج رہے تھے وہ دونوں لیونگ روم میں بیٹھی تھیں۔۔
باجی آج آرہیں ہیں آپ دو ہفتے ہوگۓ منگنی کو مجھے تو لگا آپ بھول ہی گئیں”۔۔شینا نے میٹھا سا شکوہ کیا تھا۔۔
سیما مسکرا دی تھی تھیں ۔۔”بھئی اب میں تم سے نہیں اپنی بہو سے ملنے کیلۓ آئی ہوں۔۔” دونوں ہنسی تھی۔۔
کہاں ہے میری بہو” سیما نے ادھر ادھر دیکھتے ہوۓ پوچھا تھا۔۔
جی باجی وہ آرہی ہے” بس تھوڑی دیر انتظار کریں ۔۔ شائنہ سو رہی تھی جب سیما آئی تھی تو شینا نے جلدی سے اسے جگا کر آئیں تھیں اسلئے انتظار کرنے کو کہا۔۔
انتظار کس بات کا بھئی اتنا تیار ہونے کی کیا ضرورت ہے اسکا منگیتر نہیں ساس آئی ہے”۔۔ سیما نے مسکراتے کہا۔۔
ارے نہیں وہ سو رہی تھی ابھی اٹھا کر آئیں ہوں۔” شینا نے بتایا تو سیما کو حیرت ہوئی تھی۔۔
اف میری روحا بھی چھٹی کے دن گیارا بجا دیتی ہے
اٹھتے اٹھتے زویا کھینچ کر اٹھاتی ہے بستر سے اسے”۔۔
اب تم اپنی بیٹی کو زرا زمیدار بناؤ کل کو سارا گھر اسی نے تو سنبھالنا ہے” سیما مسکراتی بولی تھی۔۔
ہاں جی ضرور آپکا گھر سنبھالے گی مگر ہماری اکلوتی بیٹی اس لئے لاڈلی رکھا ہوا سر پہ پڑے گی تو خود ہی کرے گی۔۔” شینا نے بھی جواب دیا تھا
اب آپکی روحا بھی تو اکلوتی ہے کتنا اس پہ بوجھ ڈالتی ہوںگی آپ “۔۔ شینا نے الٹا سوال کردیا۔۔
ویسے تو وہ ابھی چھوٹی ہے لیکن زویا کی چمچی بنی رہتی ہے اس کیساتھ کچن میں پورا ہاتھ بٹاتی ہے اس کیساتھ رہتی وہ سیکھ ہی جاۓ گی گھرداری” سیما کو شینا کا روحا پہ سوال اچھا نہیں لگا تھا اس لئے دو ٹوک انداز میں جواب دیا۔۔
ہاۓ آنٹی” شائنہ بھی اسی وقت وہیں آئیں تھیں سیما اسکی طرف متوجہ ہوئیں تھی سر تا پیر اسکا جائزہ لیا تھا۔۔ چست پاجامہ اوپر شارٹ سلیو لیس قمیض پہنے وہ سامنے کھڑی مسکرا رہی تھی۔۔
اسلام علیکم ” سیما کو اس کا حلیہ عجیب سا لگا اور اسکا ہاۓ بولنا بھی نا بھایا تو اسے سلام کہا۔۔
وعلیکم السلام بولتے بنا شرمندہ ہوۓ انکے پاس بیٹھ گئی۔۔
یہ لیجئے آگئی آپکی بہو” شینا بولی تھی۔۔
کیسی ہو بیٹا ” سیما اسکے سر پہ ہاتھ پھیرتی بولی تھی۔۔
بس اب تمہیں بہت جلد ہی بیاہ کر لے جاؤں گی”۔۔
پھر کب لے جا رہی ہیں آپ ہمارے گھر کی رونق کو اپنے گھر” شینا نے ہنستے پوچھا تھا۔۔
بس زرا گھر میں کچھ مسئلہ چل رہے ہیں جیسے وہ ختم ہوںگے بس پھر شادی کی تیاریاں شروع۔۔”
باجی آپ کہہ رہیں تھی کہ زویا کی طلاق کروا رہے بھائی صاحب” شینا نے دل کی بات پوچھ ہی لی۔۔
پتا نہیں عالم چپ سے بیٹھے ہیں پتا نہیں کیا فیصلہ کرتے ہیں اب ۔۔”
اچھا ہے جلدی طلاق ہوجاۓ اس زویا سے تو جان چھوٹے گی جو اتنی اچھی بنی پھرتی ہے شائنہ نے بس دل میں سوچا۔۔
اسی وقت گھر کی مالازمہ چاۓ لیکر آۓ اور انکو چاۓ پکڑا نے لگی پہلے شینا کو چاۓ پکڑائی پھر سیما کو اور پھر شائنہ کو چاۓ پکڑا رہی تھی کہ چاۓ کا کپ اسکے ہاتھ سے چھوٹ گیا اور چاۓ مالازمہ کے ہاتھوں اور پیروں پر گری اور کچھ چھینٹے شائنہ کے کپڑوں پہ پڑے تھے شائنہ آپے سے باہر ہوتی۔۔
چٹاخ ۔۔ایک زور دار تھپڑ شائنہ نے مالازمہ کے منہ پہ جڑا تھا۔۔
اندھی ہو دھیان سے کام نہیں کر سکتی کیا میرے سارے کپڑے خراب کردیئے” وہ چلاتی اٹھی تھی۔۔
شائنہ کنٹرول یورسیلف” شینا نے اسے ٹھنڈا کرنے کی کوشش۔۔
اور شائنہ وہاں سے چلی گئی تھی۔۔
تمہارے ہاتھ جلے ہیں پہلے جا کر کچھ لگا لو” سیما نے کو جو جلے ہاتھوں سے کپ کی کرچیاں اٹھا رہے تھی۔۔
جاؤ تم کچن سے کوئی آئنٹمنٹ لگالو” شینا بھی فٹ بولی تھیں ۔۔
باجی بس زرا جزباتی ہوجاتی شانو بھی” شینا نے شائنہ کج طرف سگ صفائی پیش کرنا چاہی۔۔
سیما بس خاموش رہی تھیں ۔۔اسے زویا یاد آئی تھی وہ کتنی حساس تھی نوکروں کے معاملے ان سے کوئی بھی غلطی ہوجاتی تو وہ انکا کیا اپنے سر لے لیتی تھی کہیں انہیں ڈانٹ نا پڑ جاۓ۔۔روحا اور زرتاج نے بھی کبھی یوں ملازموں سے بد تمیزی کی تھی۔۔
باجی کیا سوچ رہیں ہیں۔۔” شینا کی آواز پہ سوچ سے باہر آئیں۔۔
جزباتی تو اس عمر میں ہر کوئی ہوتا ہے بہتر یہی ہے کہ اسے تمیز سکھاؤ”۔۔”
جی باجی سیما کی بات پہ شینا بس اتنا کہہ سکی۔۔
وہ پھر وہ کچھ دیر اور ٹھری وہاں سے چلی گئیں۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀
تمہیں کچھ عقل بھی ہے کہ نہیں یہ کیسا بہیو کر رہی تھی تم اپنی ساس کے سامنے” شینا غصہ سے بولی تھی شائنہ سے۔۔
وٹ ماما ایسا بھی کیا کردیا میں نے ساری غلطی اس نوکرانی کی میرے کپڑے خراب کردیئے تھے ” شائنہ لاپرواہی سے بولی تھی۔۔
تھوڑا بہت سگھڑ پن بھی دکھا دیا کرو اپنی ساس کو کیسے زویا کی تعریف کر رہی تھی کے سارا گھر سنبھالتی ہے وہ تمہاری عمر کی ہے وہ”۔
ماما اب میرے سامنے اس زویا کا زکر نا کیا کریں زہر لگتی ہے مجھے وہ دونوں بہنیں۔۔” شینا نے نفرت سے کہا تھا۔۔
شینا بس سر ہلاتی رہ گئی تھی اور وہاں سے چلی گئی
🥀🥀🥀🥀🥀🥀
زوئی بھابھی تین دن تو ایسے ہی گزر گۓ ہیں اور ہم نے کوئی شاپنگ بھی نہیں کی ہے ابھی زارون بھائی بھی نہیں مان رہیں لے جانے کے لیے منتیں کر وا رہیں” روحا کو فکر ہو رہی تھی زویا کی تیاری کو لیکر۔۔
روحی میرے پاس سب ڈریسس ہیں بہت اچھے اچھے ہیں تم کیوں ٹینس ہو رہی ہو”۔۔ زویا نے پیار سے کہا تھا۔۔
جتنے بھی اچھے اچھے ڈریس ہو آپکے پاس مگر آپنے لیکر نئے ڈریس جانے ہیں ہاں بس ” وہ ضدی لہجہ میں بولی تھی۔۔میں ڈیڈ کو کال کرتی ہوں زارون بھائی تو مانیں گے نہیں”۔۔
زویا نے نفی میں سر ہلایا تھا کہ وہ نہیں ماننے والی۔۔
ہیلو ڈیڈ” ۔۔روحا نے اپنی ساری پریشانی سنائی تھی عالم صاحب کو۔۔
اوکے ڈیڈ لو یو باۓ”۔۔ روحا ایکسائیٹڈ ہوتی بولی تھی۔۔
زوئی بھابھی اب تو تیاری کریں ہم شاپنگ پہ جا رہیں ہیں۔۔لنچ ٹائم پہ زارون بھائی آآاجائیں گےے” آخری لفظ روحا نے کھینچ کر کہا تھا۔۔ اور اچھل کود کرتی کمرے سے باہر نکل گئی۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
زارون آفس میں بیٹھا لیپ ٹاپ پہ تیزی سے انگلیاں چل رہیں تھیں جب اسکا فون بجا تھا۔۔
افف یہ روحی بھی نا سر کھا گئی ہے کہا بھی ہے کہ ٹائم نہیں اس کو سنانے کا ارادہ رکھتے بغیر نمبر دیکھے فون اٹھا کر کان سے لگایا۔۔ “کیوں فون کر کر کے سر کھایا ہوا ہے تم نے “۔۔۔ وہ تیز آواز میں بوا تھا کہ۔۔
کیا۔۔ میں نے”۔۔
“
افف زاورون فورن کان سے ہٹا کر موبائل پہ نمبر دیکھا۔۔
سوری سوری میں سمجھا روحی ہے”۔۔زارون بالوں میں انگلیاں پھیرتا بولا۔۔
اٹس اوکے”۔۔۔شائنہ بولی۔۔
“
جی خیریت اس وقت کال کی ” زارون نے پوچھا۔۔اسنے اپنا لہجہ نارمل کرتے ہوچھا۔۔
ہمم کیا ہم کہیں مل سکتے” ۔۔۔
“
بس زرا آفس کے کاموں سے فری ہوجاؤں تو ضرور ملیں گے مگر فلحال تو مشکل ہے” ۔۔۔زارون نے بہانا بنایا تھا۔۔
اوکے جیسے آپکی مرضی اور وہ فون بند کر گئی۔۔” زارون کا انکار اسے برا لگا تھا۔۔
زارون نے فون کو گھورا تھا” ۔۔اور فون سائلنٹ پہ لگادیا۔۔
لنچ ٹائم ہوا تو زارون عالم صاحب کے کہنے پہ انکے آفس آیا۔۔ ییس ڈیڈ آپ نے بلایا تھا
ہاں تم گھر جاؤ” ۔۔ زارون گھبرایا تھا انکے اس طرح کہنے پہ۔۔
کیا ہوا ڈیڈ مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی ہے جو آپ مجھے کام سے نکال رہے ہیں “۔۔
افف” عالم صاحب نے سر پہ ہاتھ مارا تھا۔۔
گھر جاؤ مطلب بچیوں نے شاپنگ پہ جانا ہے انکے ساتھ جاؤ”۔۔اسلئے بول رہا ہوں گھر جاؤ۔۔
افف ایک تو یہ آپکی بچیاں مجھےلیکر بیٹھ گئی ہیں میں نہیں جا رہا ” وہ ڈھیٹ بن کر بیٹھ گیا۔۔
زارون جا رہے ہو یا سچ میں تمہیں کام سے نکالوں”۔۔عالم دانت پیستے بولے تھے۔۔
جا رہاں ہوں” منہ بناتا وہاں سے اٹھ کر کمپنی سے باہر نکل گیا۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
شائنہ نے فون بیڈ پہ پھینکا تھا اسے زارون کا انکار کرنا اچھا نہیں لگا تھا۔۔
وہ ہر بار خود ہی اسکی جانب قدم بڑھاتی تھی کتنی بار اسے خود سے کالز کی مگر اسکا روکھا پھیکا سا لہجہ اسے ناگوار گزرتا تھا۔۔
شائنہ۔۔بیٹا تمہاری فرنڈ پنکی آئی ہے کہہ رہی تھی اسے شاپنگ پہ جانا ہے تمیں ساتھ لیکر جاۓ گی۔”۔ شینا کمرے داخل ہوتی بولی تھی۔۔
مجھے کہیں نہیں جانا” ماما اسکا موڈ اوف تھا۔۔
کیا ہوا ہے شائنہ”۔۔ شینا کو اسکا موڈ اوف لگا۔۔
نتھنگ ماما میرا موڈ نہیں ہے۔۔” شائنہ نے کوفت سے کہا۔۔
ٹھیک ہے خود ہی بول دو اسے” شینا غصہ سے بولتی چلی گئی ۔۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀
زرتاج یونیورسٹی سے گھر آئی تو زویا زرتاج کو دیکھا ۔۔
ہائی گرلز کہیں جا رہی ہو کیا ۔” وہ انہیں سرتا پیر دیکھتی بولی تھی۔۔
کہیں نہیں جا رہے ہم تم روم میں جاؤ چینج کرلو”۔۔ روحا بولی۔۔
اچھا مجھےلگا شاید کہیں جا رہی ہو” انکے ہاتھوں میں پکڑے ہینڈ بیگ کو زرتاج غور سے دیکھتی بولی۔۔
اب یوں کیا گھور رہی جاؤ بھی”۔۔روحا اسے شاپنگ کا بتانا نہیں چاہتی تھی کہیں وہ بھی نا ساتھ تیار ہوجاۓ جانے کیلۓ۔۔
ہم شاپنگ پہ جارہی ہیں ” زویا بولی۔ ۔جبکہ روحا نے زویا کو آنکھیں دکھائیں کے کیوں بتایا۔۔
اوہ اچھا میں بھی چلوں ساتھ مجھے بھی کچھ لینا تھا” زرتاج مسکراتی بولی تھی۔۔
اچھا جلدی تیار ہوجاؤ زارون بھائی آنے والے ہیں ورنہ تمہیں نہیں لے کر جائیں گے”۔۔ روحا بولی۔۔
افف اس چمگادڑ نے تو ٹھیک سے شاپنگ بھی نہیں کرنے دینی”۔۔وہ منہ میں بڑبڑاتی جلدی جلدی سیڑھیاں چڑھنے لگی۔۔
زوئی بھابھی کیوں بتایا زری کو ہم شاپنگ پہ جارہے ہیں۔۔” روحا منہ بناتی بولی تھی۔۔
تو کیا ہوگیا اگر وہ بھی ہمارے ساتھ چلے گی ” زویا نے اسے پیار سے کہا تو بس سر ہلاتی رہ گئی۔۔
