Beparwah Season 1 By Ayesha Noor Readelle50280 (Beparwah) Episode 11
Rate this Novel
(Beparwah) Episode 11
“سچی سچی بتاؤں حان بھائی”۔۔
“ہاں بہنا سچی سچی” ۔۔روحان ہنستہ ہوا بولا۔۔
“مجھے وہ شائنہ بلکل بھی نہیں پسند سڑیل ہہم۔۔” روحا منہ بنا کر بولی۔۔
“اچھا بھی اس وجہ سے تمہیں نہیں پسند۔۔۔تو پھر کیسی پسند ہے”۔۔روحان ایک بائیٹ منہ لیتا ہوا بولا اور ماریہ کو بھی کھاتے کا اشارہ کیا جو پوری دھیان اسکی باتوں پہ لگائی بیٹھی تھی۔۔
“نہیں پسند مجھے وہ بلکل بھی ۔۔زوئی بھابی بہت اچھی ہیں۔۔ “اور زارون بھائی کو بھی وہ خاص نہیں پسند انہیں بھی زوئی بھابھی پسند ہیں “۔۔روحا بنا بریک لگاۓ بولتی چلی ۔۔ روحان اسکی آخری بات پہ کھانا کھاتے ہاتھ رکے اس نے چمچ پلیٹ میں دے مارا تھا اور خود کو کنٹرول کرنے لگا اسے پتہ نہیں طیش آنے لگا تھا۔۔
اور فون کاٹ دیا۔۔
ہیلو ہیلو ۔۔فون کٹ گیا ۔۔روحا فون کو دیکھتے کہا تھا۔۔
“روحان کیا ہوا ہے”۔۔ماریہ اسکا بیہیو عجیب سا لگا تھا۔۔
“نتھنگ چلو تمہیں گھر چھوڑ آؤ “وہ کھڑا ہو گیا اور بغیر اسے دیکھے باہر آگیا۔۔
“انہیں بھی زوئی بھابھی پسند ہے “روحا کا بولا گیا جملہ اسکے سماعتوں میں گونج رہا تھا۔۔
ماریہ اپنا پرس اٹھا کر اسکے پیچھے چل دی تھی۔
روحان خاموشی سے گاڑی چلاتا رہا ۔۔ماریہ کے گھر کے آگے گاڑی روکی تھی۔۔
“روحان کیا پروبلم کیا ہوا “۔۔
“کچھ نہیں گڈ نائیٹ روحان ایک نظر اس پہ ڈالتا “بولا ہاتھ اسٹیڑنگ پہ رکھے ہوۓ تھے۔۔
“روحان تم ۔”۔ماریہ نے اسکے بازو پہ ہاتھ رکھ کر بولنے لگی تھی کہ روحان دھاڑا تھا۔۔
“شٹ اپ زویا میں” ۔۔ روحان کی زبان کو بریک لگی تھی۔۔
“ہو از زویا” ۔۔تم نے مجھے زویا کیوں کہا” ۔۔ ماریہ کو شاک سا لگا تھا اس کہ منہ سے کسی اور کانام سن کر ۔۔
“ماریہ پہلے ہی ٹینشن میں ہوں گھر والوں کو لیکر مزید مجھے ٹینس مت کرو اب ” روحان نے زرا نرمی سے کہا تھا۔۔
“روحان مجھے جاننا ہے کے یہ زویا کون ہے” ۔۔ ماریہ دانت پیستے کہا تھا۔۔
“اوکے وہ میری کزن ہے بس”۔۔
“جسٹ کزن یا کچھ اور کہیں تمہارے پیرنٹس تمہاری اور اسکی ۔۔”
“انف ماریہ شی از جسٹ کزن نتھنگ ایلز۔۔۔”
“وہ میرے چاچو کی بیٹی ہے اور وہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں اور چاچی اور اسکی دونوں بیٹیاں ہمارے ساتھ رہتی ہیں ہم جوائنٹ فیملی ہیں بلکل ایک فیملی کی طرح ہیں جسٹ”۔۔ روحان نے غصہ میں ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہا تھا۔۔
ماریہ گاڑی سے اتر گئی تھی او روحان ایک سیکنڈ بھی ضائع کیۓ بغیر گاڑی بھگا لے گیا۔۔
ماریہ سر ہلاتی گھر کے اندر چلی گئی ۔۔
….
روحان اپنے فلیٹ میں آیا غصہ سے اسکی رگیں تنی ہوئی تھی گاڑی چابی ٹیبل پٹخی اور اپنا کورٹ اتار کر صوفہ پہ پھینکا شرٹ کے بٹن کھولنے لگا الماری سے اپنا آرام دہ سوٹ نکالا اور شاور لینے چلا گیا۔ کافی دیر ٹھنڈے پانی سے شاور لینے بعد وہ باہر نکلا تھا بال رگڑتا آئنہ کے سامنے کھڑا تھا۔۔
روحان تمہیں کیوں غصہ آرہا ہے تم پھر سے اپنے بھائی پہ شک کر رہے ہو۔۔
نہیں مجھے زارون پہ پورا بھروسہ ہے وہ ہی ایسی ہوگی جادوگرنی ہے وہ اس نے سب کو اپنے قابو میں کیا ہوا ڈیڈ کو روحا کو زارون کو۔۔
ابھی وہ سوچ ہی رہا تھا کہ فون رنگ ہوا تھا ۔۔زارون کالنگ۔۔اسنے کال ییس کی تھی ہیلو
“ہیلو برادر اسلام علیکم کیا حال ہے” ۔۔ زارون فورن سے بولا تھا۔۔
“وعلیکم سلام ٹھیک ہوں کیسے ہو بھائی۔۔”وہ اپنے آپ کو کمپوز کرتا بولا تھا ۔۔وہ اپنے بھائی پر کیسے شک کر سکتا تھا۔۔
“ایوری تھنگ از آل رائٹ” زارون کو روحان کی آواز سے کچھ محسوس سا ہوا تھا کھویا کھویا سا لگا۔۔
“ہاں یا ایوری تھنگ از فائن۔۔” روحا ناراض ہو رہی تھی تمہاری انگیجمنٹ سے خوش نہیں ہے”۔۔روحان نے اس پہ کچھ ظاہر نہیں ہونے دیا اور اپنا موڈ بحال کیا۔۔
“ہاں وہ ایکسزام ہیں اس کے تو وہ اس لیۓ اور نیا شوشا چھوڑا ہوا موبائیل فون کا “۔۔اور شائنہ میں بھی ایک سو ایک کیڑے نکال رہی ہے”۔۔ زارون ہنستے ہوۓ بولا۔۔
“تو کیا تم کسی اور کو پسند کرتے ہو۔۔”روحان نے ٹھہرے سے انداز میں کہا دھیرے سے۔۔
“کیا ہو گیا ہے آپ کو”۔۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے”۔۔زارون بولا تھا۔۔
کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد فون رکھ دیا روحان اب وہ کچھ ریلکس فیل کر رہا تھا۔۔ اور لائیٹ اوف کرکے سونے کیلۓ لیٹ گیا۔۔ نیند کہاں آتی تھی تنہا اپنوں سے دور۔۔ ماضی کی یادیں آئیں کتنے سال ہوگۓ یوں اپنوں سے دور بیٹھے۔۔
ماضی ک یادیں جیسے تازہ ہوگئی..
زویا سے نکاح کے بعد روحان سوچ چکا تھا وہ زیادہ دیر تک یہ نکاح قائم نہیں رکھے گا اور جلد ہی یہ کہانی ختم ہوجاۓ یہی سوچ کر وہ آسٹریلیا چلا گیا تھا اپنا مستقبل بنانے۔۔ اپنوں کیلۓ اس کے دل میں بد گمانی پیدا ہو گئی خاص طور پہ اپنے ڈیڈ عالم یوسف ملک کیسے انہوں داجی کا ساتھ دیا اور اسے پرایا کردیا زویا کو لیکر اسنے کبھی اسطرح سے نہیں سوچا تھا۔اسکا بچپن زویا کے ساتھ بہت اچھا گزرا تھا۔۔بہت کئیر کیا کرتا تھا وہ زویا اور زرتاج کی ۔۔ زویا کے ہاتھ کی اسے کافی بہت پسند تھی۔۔
وہ اس کے لۓ ایک اچھی کزن تھی۔۔ مگر جیسے رشتہ بدلا تو جیسے سب بدل گیا۔۔زویا کیلۓ اب اسکے دل صرف جوتھا وہ نفرت تھی۔۔
ہیلو برادر۔۔ وہ بینچ پہ بیٹھا بیتے دنوں کو میں کھویا ہوا تھا۔۔ جب اسے عقب سے آواز آئی
وہ اس اجنبی انسان کو دیکھ رہا تھا جو وہ بھی پاکستانی لگ رہا تھا لگ بھگ تیس سال کا تھا۔۔ وہ اسے دیکھ کر کھڑا ہوا اور غور سے دیکھ رہا شاید پہنچاننے کی کوشش کر رہا ہو۔۔
او برادر تو وی پاکستانی تے میں وی پاکستانی یعنی اپاں(ہم) ہوے پرا(بھائی)اس نے اس لڑکے کو گلے سے لگا لیا۔۔
مائی سیلف وقار حسن تم مجھے وکی بھی بلا سکتےہو .. تسی میرا مطلب یور انٹروڈکشن۔۔۔
میرا نام روحان ہے اور میں آج ہی آیا ہوں پاکستان سے اپنے لیۓ رہنے کی مناسب قیمت کی جگہ ڈھونڈ رہا ہوں بٹ سارا دن بس ایسے ہی گزرگیا۔۔
وکی نے اسے سر سے لیکر پیر تک دیکھا چوبیس سالہ خوبرو لڑکا روحان…
وکی روحان کو لۓ اپنے فلیٹ پہ آیا وہ ایک چھوٹا سا کمرے نما فلیٹ تھا کچن بھی واشروم بھی سب اسکے ایک کمرے کے فلیٹ میں ہی تھا ۔۔۔
زمین پہ میٹریس بچھا ہوا تھا ایک صوفہ تھا اور ایک الماری اس کمرے میں ایک ونڈو تھی جہاں سے باہر کا سارا منظر صاف نظر آتا تھا۔۔
یہ میرا چھوٹا سا غریب خانہ ہے تم چاہو تو کچھ دن رہ سکتے ہو یہاں جب تمہیں اپنا ٹھکانا نہیں مل جاتا ۔۔
روحان اندر ہی اندر ڈر بھی رہا تھا کہ کہیں کوئی فراڈ نا ہوجاۓ۔۔۔ مگر اب اسے اطمینان ہوگیا تھا۔۔
اسنے اپنا سامان ایک سائیڈ پہ رکھا زمین پہ پڑے ہی میٹریس پہ بیٹھ کر اپنے شوز اتارے اور ریلیکس ہو کر لیٹ گیا۔۔جب سے آیا تھا اب جا کر کچھ سکون ملا ہے۔۔
کچھ دیر بعد وکی کھانا لے آیا تھا۔
کاکے اٹھ کے کچھ کھالے سویر کا پوکھا (بھوکا ) ہوگا۔۔
کھانےکو دیکھ کر روحان کی بھوک جاگ اٹھی۔۔
کھانا کھانے کے بعد وہ سوگیا تھا سفر کی تھکان تھی اور کچھ دن بھر خوار ہونے کی۔۔
صبح جب وہ سو کر اٹھا تو وکی تیار ہو رہا تھا کام پہ جانے کیلۓ ۔۔۔
اوکے مین میں کام پہ جا رہا ہوں تمہارا ناشتہ میں نے بنا دیا تھا کر لینا اب شام میں ملاقات ہوگی باۓ وہ لیپ ٹاپ والا بیگ اٹھا تا باہر نکل گیا۔۔
روحان نے سوچاکہ کیسے وہ شخص ایک انجان آدمی کے اعتبار پہ اپنا گھر چھوڑگیا ۔۔
دو دن بعد اسکی جاب شروع ہونی تھی اس لۓ یہ اسنے سوچا کے وہ آسٹریلیا کا مشہور شہر سڈنی گھوم پھر لے ۔۔
شام کو وہ جب آیا تو دیر ہو چکی تھی وکی گھر آچکا تھا۔۔
او یار کہاں تھا میں کب کا آیا ہوا ہوں آ جا کھانا کھالے۔۔
ایم سوری یار میں باہر سے کھا آیا ہوں روحان نے معزرت کی تھی۔۔
کوئی گل نئی سیر کرنے گیاتھا”۔۔وکی اپنا کھانا صوفے پہ رکھتے بولا تھا
“ہاں دو دن ہیں میرے پاس تو سوچا گھوم پھر لوں انجواۓ کرلوں”۔ وہ میٹریس پہ بیٹھ کر اپنے شوز اتارنے لگا۔۔
وکی گرم گرم بھاپ اڑاتی کافی لیکر اسکے سامنے بیٹھ گیا۔۔روحان صوفہ پہ بیٹھا اپنا فون یوز کررہا تھا ۔۔
کافی”۔۔
” تھینکس۔۔”
“کل اتنا ٹائم نہیں تھا ایک دوسرے کو جان سکیں آج سنا اپنی ہسٹری گھر والوں کے بارے میں”۔۔وکی اسکے سامنے صوفے پی بیٹھتا بولا
“ہم تین بہن بھائی ہیں میں بڑا ہوں مجھ سے دو سال چھوٹا میرا بھائی اور دس سال چھوٹی بہن ہے میں نے ایم بی اے کیا ہے یہاں میں اپنے روشن مسقبل کا خواب پورا کرنے آیا ہوں ۔۔”
“فنائنشل ایشو ہیں تیرے بھی۔۔” وکی نے پوچھا
نہیں” وہ مسکراتا بولا ۔۔
“پھر کیا مجبوری کھیچ لائی تجھے یہاں۔۔۔”
“میرا شوق مجھے کھیچ لایا” ۔۔۔تلخ سی مسکراہٹ بھی تھی اسکے چہرے پہ..
“او یار ہمیں یہاں دھکے کھانے کیلۓ مجبوری کھینچ لائی اور تو شوق سے دھکے کھانے آگیا”۔۔مگر کچھ تو ہے جو تجھے بیچین کر رہا ہے”۔۔ وکی کو اسکے چہرے کے تاثرات کھوۓ سے لگے۔۔
“پانچ دن پہلے میرا نکاح ہوا ہے”۔۔ سنجیدگی سے اسنے کہا تھا۔۔
“ایتھے رکھ یار تو ویاہ (شادی) کرا کے آیا ہے”۔۔۔اس لیۓ اداس ہو رہا ہے”۔۔ہہم وکی پرجوش ہوتا بولا۔۔
“صرف نکاح کاغذی رشتہ”۔۔ روحان اسکی تردید کی۔۔
“اوہ تو رخصتی نہیں ہوئی جبھی بسس کر(گھر) والوں نے لارا ای لایا ہے”۔۔ وکی نے پھر اپنے تئیں تکا لگایا۔۔
روحان کو اس کی اس بے تکی بات غصہ آیا او وہ کافی کا مگ میز پٹختا کھڑا ہو ا تھا اور ونڈو کے پار دیکھنے لگا “مجھے نفرت ہے اس سے صرف نفرت اور کچھ بھی نہیں۔۔بسس””
وکی کو شاک لگا اسکی بات سن کر” پھر تمنے نکاح کیوں کیا تھا۔۔”
“ضد داجی او ڈیڈ کی ۔”۔۔وہ ونڈو کے پار دیکھتا ہوا بولا ۔۔
وکی اسکے پیچھے کھڑا ہوا او” ایسے نہیں کہتے بڑے کبھی بچوں کیلۓ برا نہیں سوچتے۔۔”
“تو پھر میرے ساتھ ایسا کیوں کیا کیوں مجھے میری مرضی سے ہمسفر چننے کا حق نہیں دیا۔۔” وہ اپنے آپ کو بےبس سا محسوس کرنے لگا۔۔
“چل چھوڑ آجاۓ گی تجھے بھی انکی سمجھ۔۔”
“مجھے دیکھ گاؤں کے غریب گھر کا رہنے والا ہوں ماں پیوکا اکو اک پتر اور چار بہنو ں کا کلا پرا(اکیلا بھائی)
اور چھوٹی عمر میں ہی گھر کی زمیداریوں کا بوجھ ڈال دیا گیا لے دے کے پڑھائی کی پھر یہاں چلا آیا محنت مزدوری کی ساتھ پڑھائی بھی کی اب جا کر ایک اچھی جاب ملی ہے سکون والی”۔۔ اس کمرے میں نے چھہ سال گزارے ہیں ابھی دو بہنیں بیاہی ہیں دو رہتی ہیں یہاں سے بوریاں بھر بھر کے پیسے بھیجے ہیں ۔۔گھر والوں کا اچھا گزارا ہو سکے” ۔۔۔وکی نے اسے اپنی باتوں میں الجھا لیا تھا ۔۔
روحان کو اسکی باتوں سے اندازا ہوا کہ مجبور صرف وہ نہیں ہے۔۔مجبوریوں کا بوجھ تو بہت لوگ اٹھاۓ پھرتے ہیں۔۔
دو دن گزر گئے آج روحان کی جاب کا پہلا دن تھا وہ بڑی تیاری سے وہاں گیا تھا ۔۔
وہاں ایک اور اتفاق روحان کے ساتھ جس کمپنی می۔ اسے جاب ملی وکی بھی وہیں پہ جاب کررہا تھا ۔۔ دونوں نے ایک دوسرے کو نہیں بتایا تھا کہ وہ کہاں جاب کررہیں ہیں۔۔
اب وہ دونوں ایک ساتھ جاتے جاب پہ اور ایک ساتھ ہی واپس آتے وکی نے اسے پوری آفس کے اسٹاف کے بارے میں جانکاری دی کون کیا ہے کیا کرتا ہے۔۔۔
روحان اپنے کیبن میں بیٹھا لیپ ٹاپ پہ اپنے کام بزی تھا جب اسے ایک لیڈیز کی آواز آئی ۔۔
ہاۓ مسٹر ہینسم۔۔ روحان نے سر اٹھا کر سامنے دیکھا تو ایک خوبصورت لڑکی سامنے کھڑی مسکرا رہی تھی سمارٹ سی وائٹ ٹاپ سلیولیس اور گھٹنوں سے تھوڑی نیچے آتی بلیک سکرٹ گولڈن ڈآئی بال کرل کیۓ ہوۓ گورے سفید کلائی میں پہنا ڈائمنڈ بریسلیٹ۔۔
ییس مام ۔۔۔
It’s lunch time, let,s have a lunch
لنچ کا وقت ہوگیا ہے آئیں لنچ کریں
No thank you I will do it later
جی نہیں شکریہ میں کرلوں گا۔۔
اسے اسکا انکار کرنا اچھا نہیں لگا تھا مگر پھر اٹز اوکے کہیتی چلی گئی ۔۔ماریہ کسی نا کسی بہانے اسکے کیبن آتی جاتی رہتی۔۔
ایک مہینہ گزرگیا تھا۔۔ روحان کو وہاں کام کرتے اب سب کیساتھ اسکی ہاۓ ہیلو تھی۔۔
پھر ایک دن روحان اور وکی مارکیٹس میں شاپنگ کررہا تھا روحان اپنگ شڑٹس دیکھ رہا تھا جب اسے ہیچھے سے آواز آئی وہ آواز جانی پہچانی تھی ۔۔وکی بھی روحان کے پاس کھڑا تھا۔۔
وہ کسی لڑکے کے ساتھ تھی اسکی پیٹھ تھی روحان کی طرف
Hey William this shirt is really nice ..ہے ولیم یہ شرٹ بہت اچھی ہے
No maria this one is good this not leave it..
نہیں ماریہ یہ نہیں اسے چھوڑو یہ اچھی ہے
William if my choice is bad then why ..
ولیم اگر تمہیں پسند بری ہے تو پھر کیوں۔۔۔
وہ بولتے بولتے مڑی تو اس کے پیچھے روحان اور وکی کھڑے اسے ہی دیکھ رہے تھے۔۔
Oh you men here..
ماریہ کے منہ کا زاویہ بگڑا تھا انہیں وہاں دیکھ کر ۔۔
کیوں جب تم ادھر شاپنگیں کرنے اپنے بواۓ فرنڈ کے ساتھ آ سکتی ہو تو ہم یار کیوں نہیں وکی بولا تھا ۔۔
What hy saying..
ولیم بولا۔۔
ویسے ماریہ تم تھکتی نہیں اس گورے سے انگریزی بولتے بولتے”۔۔
منہ دیکھ کیسے ٹیڈے ونگے بنا رہا ہے یہ گورے کی اولاد۔”۔
“وکی کیا ہے تمہیں کیا جیسا بھی۔”۔
“ہاۓ روحان”۔۔ماریہ بولی تھی۔۔
“ہاۓ “۔۔اب روحان وکی کی طرف مڑا چل وکی دیر ہو رہی
“ہاں ہاں اینوی ٹیم ویسٹ ہو رہا تھا” وکی بھی اسکے پیچھے چل پڑا۔۔
“تجھے کیسے پتا یہ لڑکا اس لڑکی کا بواۓ فرنڈ ہے۔”۔ روحان نے وکی سے پوچھا۔۔۔
“او آہو پتا ہے مینو کی پورے آفس کو پتا ہے پہلے وہ وہی اسی آفس میں جاب کرتا تھا اب اور کمپنی میں چلا گیا ہے”۔۔ وکی نے بتایا۔۔
اگلے دن روحان آفس کے کینٹین میں بیٹھا لنچ کررہا تھا۔۔ جب اسکے سامنے ماریہ آکر بیٹھی۔۔۔”ہۓ روحان بہت کم بولتے ہو” ۔۔
“جی تو آپکو کوئی پرابلم ہے” روحان دو ٹوک جواب دیا تھا۔۔
“ہاں ہے پرابلم مجھے”۔۔ماریہ نے کہا۔
“تو پھر بتائیں کیا پرابلم ہے “وہ کرسی پہ سیدھا ہو کر بولا تھا۔۔
“کیا ہم دوست بن سکتے ہیں ۔۔” ماریہ نے ہاتھ آگے بڑھاتے کہا ۔۔وہ اسکی پرسنیلٹی سے کافی متاثر ہوئی تھی لمبا قد تیکھے نین نقوش کلین شیو چھوٹی آنکھیں کھڑی ناک مغروری تو اس پہ جچتی تھی۔۔
“سوری” کہتا وہ کھڑا ہوا اور وہ وہاں سے چلا گیا۔۔
