Beparwah Season 1 By Ayesha Noor Readelle50280 (Beparwah) Episode 32
Rate this Novel
(Beparwah) Episode 32
زویا سارا دن روحان کے سامنے نہیں آئی تھی وہ ٹوٹ چکی تھی روحان کا ماریہ کے ساتھ تعلق کے انکشاف نے اسے توڑ کے رکھ دیا تھا اسکے پاکستان نا آنے کی وجہ ماریہ تھی آج اسکا دل بہت دکھا تھا..
” تو روحان اسلیے مجھ سے دور تھے مجھے اپنانا نہیں چاہتے تھے.. بس اب میں نہیں رکو گی یہاں چلی جاؤں گی رہیں وہ یہاں ماریہ کے ساتھ رہیں خوش”.. وہ آنسوؤں بہاتی خود سے بولتی جا رہی تھی..
روحان کب سے زویا کا انتظار کرتا رہا مگر وہ دشمن جان نا آئی..
“زویا.. زویا.. زویا ” روحان کتنی ہی بار اسے پکارا مگر بے سود رہا..
وہ اپنے کمرے میں رونے میں مصروف تھی وکی کے جانے کے بعد بھی وہ ایک بار بھی روحان کو دیکھنے نا گئی تھی اسکی ہمت ہی کہاں تھی اب بےپروا شخص کے سامنے کی اسکی ساری امیدیں اب دم توڑچکی تھی..
جب زویا نا آئی تو روحان خود سے ہمت کی اٹھنے کی ایک بازو پٹیوں میں جکڑے تھا اور جبکہ دوسرے ہاتھ کی مدد سے وہ کھڑا ہوا تو دوسری ٹانگ کو بھی وہ حرکت نہیں دے پارہا تھا بڑی مشکل سے وہ دیواروں کا سہارا لیتے کمرے سے باہر نکلا اور سامنے دروازہ بھی بند تھا بمشکل دو قدم لڑکھڑاتا دوسرے دروازے تک پہنچا..
وہ اپنی ہی دنیا میں گم رونے کا شغل پورا کررہی تھی جب دروازہ کی دستک سے وہ چونک گئی..
“زو.. زویا.. ” بہت مشکل سے نام پکارا تھا درد واضح تھا آواز میں
“روحان”.. زویا بھاگ کر دروازے تک پہنچی
“روحان” زویا نے جلدی سے اسے سنبھالا اس سے پہلے کہ وہ وہ زمین بوس ہوتا..
وہ نازک سی جان بڑی مشکل سے اسے سنبھالتی بیڈ تک لائی.. پیچھے تکیہ سیٹ کرکے اسے ٹیگ لگا کر بٹھایا..
“آپ کیوں آئے میں بس آرہی تھی”..
:ہاں آرہی تھی تب جب میں مر جاتا” اس کی بات درمیان میں کاٹتا غصہ اور بے بسی سے بولا..
,”روحان”.. زویا نے اسکے منہ پہ ہاتھ رکھ دیا.. اللہ نا کرے آپ کو کچھ ہو..
روحان نے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور بغور اسکا چہرہ دیکھا سرخ ہوتی آنکھیں جو رونے کی داستان سنا رہی تھیں مرجھائے ستا ہوا چہرہ..
“زویا “..تم پہلے میری بات تو سن لیتی..”
“اب سننے رہ ہی کیا گیا ہے ” تمسخر اڑایا
“سن تو لو بہت کچھ ہے”.. نرمی سے کہتے اپنے لب اسکے ہاتھ پہ رکھ تھے..
زویا کا ننھا سا دل پھڑپڑایا تھا.. ہاتھ اسکی سخت گرفت میں تھا چھڑا نا پائی..
“آپ چاہتے ہیں نا میں چلی جاؤں آپکی زندگی سے تو میں چلی جاؤں گی اب آپ رہیں جس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گی..”
“زویا پلیز”.. روحان قرب سے بولا تھا.. “میں صرف اور صرف تمہارا ساتھ چاہتا ہوں”.. وہ تو بس دھوکا ہے جو میں آج تک اپنے آپ کو دیتا آیا ہوں..پانچ سال اپنوں سے فراق کا غم جھیلا آج تک بے سکون رہا ہوں میں مگر جب سے تم آئی ہو تو مجھے پتا چلا کہ میرا سکون تو بس تم ہو صرف تم.. “
کیا تم مجھے معاف نہیں کرسکتی” بڑی آس سے کہا..
زویا کی آنکھوں سے آنسو لڑھک کر گرے تھے..
“مگر وہ”.. وہ سسک کر بولی اشارہ ماریہ کی طرف تھا روحان سمجھ چکا تھا.
“وہ کچھ بھی نہیں میں نے کہا بس دھوکہ ہے”.. اگر وہ اتنی اہم ہوتی تو میں کبھی تمہیں اپنی زندگی میں شامل نا کرتا زویا.. “
یہاں آؤ پاس بیٹھو “..
وہ چپ کرکے اس کے پاس بیٹھ گئی ہاتھ ابھی روحان کے ہاتھ میں تھا جسے اسنے دوبارہ چھڑایا نہیں..
روحان نے سیدھا ہوکر بیٹھا ہاتھ اسکے ہاتھ نکال کر اب کے اسکے بالوں میں پھنسایا تھا.. چہرہ اسکے چہرہ کے قریب تر کرکے اسکے ماتھے اپنی محبت مہر ثبت کی..
آپ پلیز لیٹ جائیں اسکا آرام کا خیال کرتے وہ آٹھ کھڑی ہوئی تھی.. اور پیچھے اسکا تکیہ سیٹ کرنے لگی..
اسے دوائیں دی اور لیٹنے میں مدد کی
“لیٹ جاتا ہوں تم بھی آرام کرو ” اس کی مدد سے لیٹتے دوسری طرف ہاتھ پھیلایا..
وہ بنا کچھ بولے دوسری جا کر اسکے برابر میں لیٹ گئی..
روحان نے مسکراتے آنکھیں بند کرلیں تھی ..دوائیوں کے زیر اثرر وہ جلد ہی نیند کی آغوش می. چلا گیا..
زویا کےدل میں اب بھی کئی سوال تھے وہ پوری طرح مطمئن نا ہوئی تھی.. بس خاموشی اختیار کرلی تھی..
…
🌹🌹🌹
وہ لوگ اس وقت ارحم کے گھر میں موجود تھے
وہ لوگ تھوڑی دیر پہلے ہی ارحم کے گھر پہنچے تھے سفینہ سیما اور اور عالم یوسف ملک اور زارون عالم ہی آۓ تھے جبکہ زرتاج نے آنا نہیں تھا اور روحا کو زرتاج کے ساتھ رہنا تھا..
“آپا آپ بچیوں کو بھی لے آتی “ارحم کی والدہ سیما سے مخاطب ہوئی..
“جی ضرور مگر روحا کے ٹیسٹ ہو رہے ہیں تو اس لئے وہ نہیں آسکتی زری تو پھر شادی کے بعد ہی اس گھر میں قدم رکھے گی” سیما نے تحمل سے جواب دیا تو وہ دونوں(ارحم کی پھپو اور ماں) مسکرا دی تھی..
جبکہ ارحم اور زارون اپنی کاروباری باتوں پہ مشغول تھے عالم بھی انکی باتوں میں حصہ لے رہے تھے تھے..
پھر کھانے کا دور شروع ہوا..
ٹیبل پہ طرح طرح کے لوازمات سے سجا تھا..
“ارے بہن اتنا تکلف اسکی کیا ضرورت تھی’.. سیما بولی..
“ارے بھئی تکلف کیسا آپ لوگ پہلی بار آۓ ہیں”.. ارحم . کی ماں نے جواب دیا..
“ارے سفینہ بہن آپ بہت کم لیا ہے یہ لے میٹھا بھی چکھے” ارحم کی پھپو نے ٹرائفل کا باؤل انکی طرف بڑھایا جسے سفینہ نے مسکراتے تھام لیا..
کھانا خوشگوار ماحول میں کھایا گیا..
اور اب سب لاؤنج میں بیٹھے تھے..
“سفینہ بہن اور بھائی صاحب آپ لوگوں مجھے بہت ضروری بات کرنی تھی”.. ارحم کی والدہ بولی
“جی کہیے” عالم صاحب بولے..
“میرا دل چاہتا ہے اب زرتاج جلد از جلد اس گھر میں بہو بن کر آباد بہت جلدی ہے مجھے اپنے بیٹے کے سر سہرا سجانے کی”..
سب ہی مسکرا دیے تھے جبکہ ارحم اپنی ماں کی بات پہ سر نیچے کر کے مسکرا دیا..
“ہاں ہاں ضرور”.. سیما نے اپنا حصہ ڈالا..
“ہم شادی جلد ہی کرنا چاہ رہے ہیں.. “
“جلدی مطلب” عالم صاحب کو انکی بات سمجھ آگئی تھی اس لئے وضاحت مانگی..
“مطلب کے بس اس ہی دو ماہ میں.. “
“دو ماہ میں” زارون کے منہ سے اچانک نکلا..
“دو ماہ میں اتنی جلدی”.. سیما جلدی بولی.
“جی ہاں.. بس اب جبکہ سب کچھ کلئیر ہے تو پھر نیک کام میں دیر کیسی””.. پھپو نے کہا..
“مگر اتنی جلدی تیاری بھی تو کرنی ہے اور میری بیٹی بھی نہیں ہے یہاں” سفینہ پریشان سی ہوئی.
“ارے بھئی اتنی جلدی کہا یہ مہینہ پورا ہے اور اگلے مہینے کے آخر تک شادی ہے”.. تو پھر ہم تو آپ لوگوں سے مطمئن ہیں مگر شاید آپ لوگ مطمئن نہیں ہوۓ ہم سے.. “
“ایسی بات نہیں ہے ہم نے ابھی جلدی شادی کا نہیں سوچا بچی ابھی پڑھ رہی اگلے چار ماہ اسکے پیپر ہیں تو اسکے بعد کا سوچا تھا “
“عالم یوسف ملک نہایت تحمل مزاج میں بولے..
ہمیں اسکی پڑھائی سے کوئی مسئلہ نہیں ہے وہ آگے جتنا چاہے پڑھ سکتی ہے.. صائمہ نے مسکراتے کہا.
“ہمم ٹھیک ہے عالم صاحب نے ہامی بھردی شادی کیلئے تو وہ سب خوش ہوۓ” ارحم کا تو جیسے پر لگ گئے ہوں..
“بہت مہربانی آپکی”.. مگر ایک بات اور ہم چاہ رہے ہیں کے اگلے ہفتے منگنی کی رسم بھی ادا کردی جاۓ تاکہ خاندان والوں اطلاع ہوجائے اور ہمارا رشتہ مزید مضبوط ہوسکے”.. صائمہ نے پھر کہا تو وہ پہلے چونکہ..
“ٹھیک ہے سفینہ آپ بولیں ” عالم صاحب نے سفینہ کو مخاطب کر کے راۓجاننی چاہی..
“جیسا آپکو ٹھیک لگے”.. سفینہ نے بھی ہاں میں ہاں. ملادی
سفینہ خاموش رہیں اور اسی میں بہتری لگی جبکہ زارون کو اپنے باپ کا فیصلہ پسند نا آیا وہ اعتراض کرنا چاہتا تھا مگر سفینہ کو خاموش دیکھ چپ رہا..
اسی ٹائم ملازمہ چاۓ لے آئی..
چاۓ پیتے انہوں اجازت لی اور گھر کی راہ لی..
..گھر پہچتے ہی زاروں نے انکی خبر لی..
“یہ کیا کیا ڈیڈ آپ لوگوں” سب کو لائن میں لگا کر استاد بن کر پوچھنے لگا..
“کیا کیا ہے” عالم صاحب نے ناسمجھی سے پوچھ..
“آپ نے انکی سب باتیں مان لی شادی کی پھر منگنی ..”
“تم اپنے کا.م سے کام رکھو اپنی ٹچے نا اڑاؤ بیچ میں ہمیں پتا ہے کیا کرنا ہے کیا نہیں” سیما نے اسکی کلاس لی..
“ٹھیک ہے کرے پھر جو مرضی کرنا ہے بعد میں مجھ سے ناکچھ کہنا بتایا نہیں”..
“ہاں ہاں نہیں کہیں گے تم سے کچھ بھی”. عالم یوسف ملک نے بھی اس سے جاں چھڑائی..
وہ بھی منہ بسورتا سیڑھیوں کی طرف بڑھا سیڑھیوں پہ زرتاج کھڑی تھی ہولے ہولے اس تک پہنچتا رکا..
“چلو اب تم اپنا سامان باندھ لو دو مہینہ میں یہ لوگ تمہیں یہاں سے نا ہُش ہُش کرنے والے ہیں”.. میں بولا تمہارے لئے جھک کر اسکے نزدیک ہوا.. “مگر ان لوگوں نے مجھے ہی ٹُھش ٹُھش کردیا”.. اب سیدھا ہوگیا..
“تم یاد رکھنا مجھے بلکہ یاد رکھو ” ایک سیڑھی چلتا ہوا بولتا گیا.. “تم کھڑے تھے تم کھڑے”..ڈائیلاگ مارتا اور منظر سے غائب ہوگیا.. زرتاج وہیں بت بنی کھڑی رہی.. آنسو کو پینے لگی سفینہ اسے ان دیکھا کئے اپنے کمرے میں چلی گئی.. اسکے سوالوں سے ڈرتی اس سے کچھ کہا نہیں..
اگلے دن زویا کو فون پہ زرتاج کی منگنی کا سنا تو وہ خوش تو ہوئی مگر اداس بھی کیونکہ روحا نے بتایا تھا کہ وہ دل سے راضی نہیں ہے اور بجھی بجھی سی رہنے لگی ہے..
زویا کو بہن ہونے ناتے اسے سمجھایا مگر وہ کہاں ماننے والی بس جلدی شادی ہونے پہ اسے اعتراض ہے..
“
کیا ہوا تم کیوں چپ چپ پھر رہی ہو”.
اسے کب سے خاموش دیکھ روحان سے پوچھے بنا رہا نا گیا..
“کچھ نہیں وہ بس زری کی فکر ہے.. “
زری کو کیا ہوا.. “
وہ زری کا رشتہ تہہ ہوگیا ہے نا.. “
ہاں تو تم نے بتایا تھا پہلے بھی اب کیا بات ہوئی”..
وہ زری کی منگنی ہے اس ہفتہ”..
اچھا..” روحان مسکرا کر بولا..
پھر پرابلم کیا ہے.. “
وہ لڑکے والے جلدی شادی کا بول رہے ہیں.. اور ماما نے بھی انہیں ہاں کہہ دیا.. “زویا نے کہا
کب کہہ رہے ہیں شادی کا”.. روحان نے پوچھا
اگلے مہینے کے اینڈ تک”.. زویا نے کہا تو روحان حیران ہوا
اتنی جلدی.. ابھی تو بس دیکھا کچھ وقت تو لگے گا نا انہیں جاننے میں کے کیسے لوگ ہیں ایسے کیسے اتنی جلدی اپنی بیٹی انکے حوالے کردیں ..میں کرتا ہوں بات زارون سے اس نے کیسے یہ سب ہونے دیا وہ وہاں کیا کرہا ہے آخر.. “
ہاں کریں کچھ شاید کوئی راستہ نکل آۓ مجھے بہت ٹینشن ہے زری کی”.. زویا نے پریشانی سے کہا..
🌹🌹🌹🌹
گھر میں منگنی کی تیاریاں زور شور سے جاری تھی.. زرتاج کسی بھی چیز میں دلچسپی نا لے رہ رہی تھی اسکی وجہ سے روحا بھی ٹھیک سے نا تیاری کر پا رہی تھی سفینہ کو الگ ٹینشن تھی زری کی آخر کیا ہوگا اس لڑکی کا..
🌹🌹🌹
روحان نے وکی سے کہہ اپنا نیا موبائل منگوایا ایکسیڈنٹ کی وجہ سے اسکا موبائل کریش ہوگیا تھا..
سب سے پہلے اس نے زارون کو کال کی جو آفس میں کام میں مصروف تھا..
“ہیلو.. واہ جی بڑے دنوں بعد یاد آئی اس ناچیز کی”.. فون اٹھاتے زارون اپنی ہانکنے لگ..
تو تم نے کو نسا پوچھ لیا ” روحان نے بھی اسکا سوال اسے ہی لوٹایا..
اب جب جناب فون ہی بند کر کے بیٹھے ہوں گے تو کیسے پوچھ سکتا ہوں جناب کا.. “
اچھا یہ سب چھوڑو گھر میں کیا چل رہا ہے یہ بتاؤ”.. روحان اصل بات پہ آیا..
آپ کی بیوی نے بتایا تو ہوگا نا آپ کو گھر کے بارے میں بھلا ان عورتوں سے زیادہ کون اچھا جان سکتا ہے گھر کا.. “
زارون بولتا چلا گیا…
یہ زرتاج کی شادی اتنی جلدی کیوں تہہ کردی ہے.. اور تم کر کیا رہے ہو وہاں جب سب سنبھال نہیں سکتے”.. روحان نے اسے آڑے ہاتھوں لیا..
ہاہاہاہا.. زارون اپنی ہنسی دبا نا سکا
زارون شیم اوم یو”.. روحان کو غصہ آیا اس پہ..
بھائی جان خود تو سب چھوڑ چھاڑ کر بیوی کو باہر لیکر بیٹھے ہیں اور مجھ غریب سے پوچھ رہے ہیں میں کیا کررہا ہوں.. جھگ مار رہا ہوں اب بتائیں.. کچھ زیادہ ہی سالی کی طرفداری کررہے ہیں بھائی کا کوئی حال نا چال”.. آخر میں شکوہ بھی کردیا..
زرتاج کو رہنے دیتے پہلے تمہاری شادی کردیتے ہیں تاکہ تمہیں بیوی نامی بلا کا پتہ چلے کہ وہ ہوتی کیا چیز ہے”.. روحان نے بھی ٹکا سا جواب دیا….
یار آپکو کیا لگ رہا ہے میں کیا منہ میں چنگم رکھ کے بیٹھا ہوا ہوں مجھے کوئی کسی خاطر میں ہی نہیں لا رہا ڈیڈ نے بھی مجھے چپ کروا دیا اب جو ہوتا ہے ہونے دیں بس” ..
کیسے ہونے دیں”.. روحان نے جواب مانگا
اب آپ یہ ڈیڈ سے بولیں.. میری تو بولتی بند کردی ہے انہوں نے میں کچھ نہیں کرسکتے ایم سوری”..
اچھا ٹھیک ہے ناکرو کچھ کرتا ہوں ڈیڈ سے بات” ٹھک کرکے کال بند کردی..
کرلو اب جو کرنا ہے” ..زارون نے خود کلامی کی..
اسلاعلیکم “ڈیڈ روحان نے اب عالم یوسف ملک کو کال لگائ
وعلیکم السلا”م کیسا ہے میرا بیٹا..
الحمدللہ آپکی دعاؤں سے صحت یاب ہوں.. “
ماشاللہ تم صحت یاب ہی رہو”.. عالم صاحب نے کہا
ڈیڈ آپ زری کی شادی کچھ زیادہ ہی جلدی نہیں کررہے”..
ہہم کر تو رہے ہیں کیا کرے لڑکوں والوں کی ڈیمانڈ ہے.. اور رشتہ بھی اچھا ہے اور نیک کام میں دیر کیسی پھر بیٹی کا معاملہ ہے اپنی من مرضی اچھی نہیں لگتی”..بڑے اطمینان سے عالم صاحب نے اسے سمجھایا..
ڈیڈ اگر آپ ان لوگوں سے کچھ وقت اور مانگ لیتے تو”..
تو بھی تو وقت گزر ہی جانا تھا مجھے فکر ہے بچی کی مگر سمجھدار بھی ہے.. میرے لئے دونوں بچیاں اتنی اہم ہے جتنا کے تم دونوں.. “
ہم سے کچھ زیادہ ہی اہم آپ نے ہم سے پہلے ہمیشہ انکے بارے میں پہلے سوچا ہے” شکوہ کیا
بیٹے وہ یتیم بچیاں ہیں باپ کاسایہ ایک گھنے درخت کی چھاؤں جیسا ہوتا ہے جس سے وہ محروم ہوچکی تھیں.. میں انہیں باپ کی کمی محسوس نہیں کروانا چاہتا تھا اس لئے ہمیشہ انکے بارے میں پہلے سوچا.. زویا معصوم ہے باہر کے ماحول میں ایڈجسٹ نہیں کرسکے گی اس لئے اسے تم سے منصوب کیا اپنا چھاؤں کی طرح ہوتا ہے اگر وہ مارتا بھی ہے تو چھاؤں میں پھینکتا ہے مگر تم نے مجھے بہت مایوس کیا.. اسے تپتی دھوپ میں پھینک دیا”.. مقابل بھی شکوہ آیا تھا..
روحان شرمندہ سا ہوا تھا..
ڈیڈ پلیز ہوگئی نا غلطی اب سنا سنا کر ماریں گے کیا.. “
سنا نہیں رہا بلکہ سمجھا رہا ہوں.. اور مریں تمہارے دشمن..” اچھا ابھی ایک میٹنگ ہے پھر بات کرتا ہوں زرتاج کیلے میں ہوں مجھ پہ بھروسہ رکھو.. “
اوکے ڈیڈ روحان کہتے کال بند کی..
کیا کہا انہوں نے زویا کمرے آتے ہی پوچھنے لگی..
زرتاج کو سمجھاؤ خوامخواہ میں نا ٹینشن لے اور دے ڈیڈ خود دیکھ رہیں اور جو فیصلہ انہوں نے اسکے لئے لیا وہ بھلے کے لئے ہی کیا ہے”.. روحان نے زویا کو قائل کیا..
ہاں میرا بھی یہی خیال ہے مگر زری”.. زری کا نام لیتے ہی زویا پریشان سی ہوئی..
تم ٹینشن نا بس اسے کنوینس کرنے کی کوشش کرو”..
خود سر نا بنے بڑوں کی بھی بات مان لینی چاہیے..”
جی اچھا میں سمجھاؤ گی”..
اب وہیں کھڑی رہو گی ادھر پاس آکر بیٹھو میرے”..
وہ مجھے کچن میں کام ہے میں بس وہ نمٹا کر آئی” اسے پٹری سے اترتا دیکھ جلدی بہانا بناتی وہاں سے کھسک گئی..
ہہم بہانے باز تم آؤ تو سہی بتاتا ہوں صبح سے تماشے کررہی ہے ایک بار یہ پٹی اترے پھر بتاتا ہوں”.. اپنی بازو پہ لگی پٹی کو غصہ گھورتا دیکھ خود کلامی کی صبح سے جب بھی پاس ک کہتا تو بہانا بنا کربھاگ جاتی..
..
یوسف ہاؤس ولا میں منگنی کی تیاریاں عروج پہ تھی منگنی کا دن قریب آتا جا رہا تھا مہمانوں کی فہرست چھوٹی رکھی گئی تھی بس خاص خاص لوگوں کو ہی مدعو کیا گیا تھا..
