Beparwah Season 1 By Ayesha Noor Readelle50280 (Beparwah) Episode 34
Rate this Novel
(Beparwah) Episode 34
“کمال ہے اب شکل دکھا رہی ہو منگنی کے بعد حد ہے ویسے”.. ارم نے زری کیساتھ بیٹھتے بولی جو پورے ایک ہفتہ بعد اسے نظر آئی..
” تو میرے بغیر کونسا یونیورسٹی رک گئی تھی”.. وہ تپ کے بولی..
” کیا ہوگیا ہے لڑکی منگنی ہوگئی ہے تو آنکھیں ہی ماتھے پہ رکھ لی “..ارم اسے مزید تپاتے بولی..
کلاسز لینے کے بعد لنچ کرنے کیلے کینٹین آئی تو زرتاج کا فون رنگ ہو نے لگا جسے اسنے دیکھتے منہ بنا کر واپس پرس میں رکھ لیا..
” کون ہے..” ارم نے پوچھا
” کوئی نہیں برگر منگوا لو”.. زرتاج نے بات ٹالنا چاہی..
فون پھر رنگ ہوا..
” یار اٹھا لو کوئی کام ہوگا ” اب کے ارم بولی..
” اسے کوئی کام نہیں بس ویلا دماغ کھاتا رہتا اینی ٹائم مسیحز کال”.. افف میں تنگ آگئی ہوں اس بندے”.. وہ چڑ کر بولی تھی..
” اوہ تو مطلب جیجو ہیں” ارم نے مزے سے کہا..
” ہہم جیجو کی کچھ لگتی”.. وہ آنکھیں دکھاتی بولی..
پورا دن ارحم کالز اور میسجز کرتا رہا مگر زرتاج نے نا کال اٹھائی اور نا ہی اسکے کسی ٹیکسٹ کا جواب دیا اگلا بھی ڈھیٹ ہی ثابت ہوا جو باز نا آیا..
🌹🌹🌹🌹
رات کو بھی کالز آنے لگی مگر زرتاج نے فون سائلنٹ کردیا..
” حد ہے زری تم سن تو لو اسکی بات آخر بیچارہ سارا دن سے تمہیں کال کررہا ہے وہ بھی ڈھیٹ ہے اور تم اس سے بڑی ڈھیٹ.. ” روحا بولی
چپ کرو تم.. زیادہ میری اماں نا بنو ہر وقت لیکچر دیتی رہتی ہو بس.. “وہ اسے ڈپٹتے بولی..
حد ہے بھئی مجھے ہی چپ کرواتی رہنا اپنی حرکتیں نا دیکھنا ” روحا تنک کر بولی..
شٹ اپ” ..زرتاج نے بکس بند کر کے سائیڈ ٹیبل پہ رکھی سونے کیلے کمبل تان کے لیٹ گئی..
پتا نہیں کیا بنے گاانکا رب نے بنادی جوڑی” روحا بس سر ہلاتی رہ گئی..
صبح زرتاج اٹھی تو ٹائم دیکھنے کیلئے موبائل اٹھایا تو حیران رہ گئی اتنی ساری مس کالز اور میسجز ایسے جیسے رات بھر کا لگا ہو..
” افف مجھے تو بندہ مینٹل لگتا ہے اگر کوئی تمہیں اگنور کررہا ہے تو مطلب وہ تم سے بات نہیں کرنا چاہتا” ..
🌹🌹🌹🌹
زرتاج اس وقت یونی میں ارم کو ساری روداد سنا رہی تھی تو ارم ہنسنے لگ گئی..
“مطلب تم ہنس رہی ہو اسنے میرے ناک میں دم کیا ہوا ہے اور تم بتیسی نکال رہی ہو.. “
“ارے بھئی وہ تمہارا عاشق ہوگیا ہے مطلب اسے تم سے دن رات باتیں کرنی ہیں اور تم ہو کہ اس بیچارے پہ ظلم ڈھائے جا رہی ہو”..ارم نے ہنستی بولی
“مجھے نہیں کرنی اس سے کوئی باتیں”.. وہ بیزار سی بولی..
“تو کب کرنی ہے باتیں یہی تو ٹائم ہے انڈرسٹینڈنگ ہوگی کچھ تمہارا دل صاف ہوگا اسکی طرف سے”.. ارم اسے سمجھاتی بولی..
“چلو کلاس میں..” وہ کلاس کی طرف بڑھ گئی
چھٹی کے ٹائم وہ دونوں کسی بات پہ ہنستی باہر آئیں..
سامنے کھڑے نفوس کو دیکھ کر چونک گئی
“لو جی تمہارا عاشق تو یہاں تک آگیا اور نا اٹھاؤ کال ویسے بڑا بن سنور کے آیا ہے تمہارے لئے”.. ارم اسے تنگ کرتی بولی.. جواباً اسنے بس گھورا ہی تھا..
ارحم آہستہ آہستہ چلتا انکے پاس آکر رکا تھا..
وائٹ کلر کی ہاف بازو والی ٹی شرٹ ساتھ بلو جینس پہنے بال سلیقہ سے سیٹ کئے آنکھوں پہ گاگلز لگاۓ اچھی قدوقامت گندمی رنگت میں ہینڈ سم لگا رہا تھا..
“اسلام علیکم”.. آتے ہی سلام کیا
“وعلیکم السلام ” مدھم سی آواز میں جواب دیا گیا گو کہ ابھی اسکی غیر متوقع آمد پہ حیران بھی اور ساتھ پریشان بھی..
“مجھے آپکے قیمتی کچھ پل چاہیے اگر اجازت ہو”.. بڑے مودبانہ انداز میں کہا گیا..
“امم جی.. ” وہ پریشان سی ہوئی کیسے ٹالے..
“لنچ ٹائم ہے تو کائنڈلی ہم کہیں اچھے سے ریسٹورنٹ میں چلتے ہیں”..پہلے اسنے گھڑی دیکھی پھر پاکٹ میں ہاتھ ڈالے بڑے آرام سے بولا..
” وہ میری گاڑی آنے والی ہی سوری میں ٹائم پہ گھر جاتی ہوں ورنہ ماما پریشان ہوجائیں گی”.. گھوما پھرا کر صاف انکار تھا…
ارحم نے آنکھوں سے عینک اتار کر اس دشمن جان کو دیکھا..
جو ارد گرد گزرتے لوگوں کو دیکھ رہی تھی.. دھوپ سے سرخ ہوتی سفید رنگت.. چہرے پہ جھولتی چند آوارہ لٹیں..
“مس اب آپ ہی سمجھائیں اپنی دوست کو جب کوئی آپکے پاس چل کر آئے تو اسے نا امید نہیں لوٹاتے”.. اب کے وہ ارم کی جانب متوجہ تھا..
“چلی جاؤ زری اب وہ آئے ہیں تو اچھا نہیں لگے گا انہیں گر تم نا گئی ساتھ تو”..
“ارم سمجھنے کی کوشش کرو اگر ڈرائیور آگیا اور میں نا ہوئی یہاں تو پتا نہیں اسنے کیا کہنا ہے گھر تو پتا نہیں کیا کیا ہو سکتا ہے اور میں نہیں چاہتی کہ میرے لئے کو مسائل کھڑے ہوں”.. وہ ارم سے سختی مخاطب ہوئی ..
“اوکے سس جیسے آپکی دوست کی مرضی میں زبردستی کا قائل نہیں ہوں” دوبارہ آنکھوں پہ چشمہ لگاتے وہ گاڑی کی جانب بڑھا.. الفاظ میں سنجیدگی تھی اور چہرہ کے تاثرات سخت ہوئے تھے..
“ایڈیٹ وہ برا مان گیا پلیز اسے روک لو.. مسائل تو اب شروع ہوگئے تمہارے لئے اسکی بات مان لو”.. ارم جلدی سے بولی..
وہ دونوں ہاتھ باندھی بس سامنے دیکھ رہی تھی جیسے کچھ سنا ہی نا ہو. . ارم نے ماتھا پیٹا تھا..
اسکا بازو کھینچتی ہوئی اسکے پاس چلی گئی جو گاڑی میں بیٹھنے لگا تھا..
“سنئے.. وہ زری جائے گی آپکے ساتھ بس زرا ہچکچاہٹ ہے اسے ساتھ جانے میں..
“آپ نے اتنی جلدی ہتھیار ڈال دیے کچھ اور انسسٹ کرنا چاہیے تھا نا.. بیٹھو زری”.. فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھلا اور اسے بیٹھا دیا وہ بس گھورتی رہ گئی ارم جس نے اسے بولنے کا موقع ہی نہیں دیا
” افف ارم کی بچی دیکھ لوں گی تمہیں” آہستہ آواز میں کہا جو صرف ارم نے سنا..
“تھینک یو.. میں اسکی ساری ہچکچاہٹ دور کردوں گا” وہ ارم سے مسکرا کر کہتا گاڑی میں بیٹھ گیا آنکھوں میں چمک در آئی تھیں..
“اللہ حافظ.”. اللہ ہی حافظ “
گاڑی جاتی دیکھ ارم ہاتھ ہلاتی بولی
…
🌹🌹🌹
“ہاۓ زارون”
زارون آفس میں بیٹھا لیپ ٹاپ پہ انگلیاں تیزی سے چل رہی تھیں اپنے کام میں مگن تھا جب آواز پہ چونک کر سامنے دیکھا..
تم”..
“ہاں میں لنچ بریک ہونے والا ہے تو کیوں ساتھ میں لنچ کرلیا جائے” شائنہ ادا سے چلتی اسکے سامنے آرکی..
زارون نے لیپ ٹاپ بند کرلیا اب کے اسے انکار مناسب نا لگا..” اوکے لیٹس گو”
“ییس ” خوشی سے کہا شائنہ نے.. لائٹ پنک کلر کا سوٹ پہنے جس کے بازو فل تھے اور دوپٹہ گلے میں تھا پہلی بار زارون کو وہ ڈھنگ کی لگی ورنہ ہمیشہ بولڈ انداز میں ہی رہتی ..
..
🌹🌹🌹
وہ ریسٹورنٹ میں آمنے سامنے بیٹھے تھے ارحم ٹانگ پہ ٹانگ چڑھاۓ اسے دیکھ رہا تھا
مگر وہ تھی جو بغیر اسکی گھوریوں کو خاطر میں لائے ریسٹورنٹ کی ہر چیز کا جائزہ لے رہی تھی سوائے اس کے..
“میں تمہارا منگیتر تمہارے سامنے بیٹھا ہوا ہوں کچھ شرما ہی لو لڑکیاں تو شرماتے شرماتے آدھا دوپٹہ کھاجاتی ہیں یہاں پرواہ ہی نہیں منگنی پہ بھی تمہارا اس بلا(شرم) سے کوئی واسطہ نہیں تھا.. “وہ اسکی حرکتیں نوٹ کرتا بولا
“تو آپ مجھے یہاں اس لیے لاۓ ہیں کے میں آپ کے سامنے بیٹھ کر شرماؤں”.. وہ سیریس انداز میں بولی
” ارے نہیں ! میرا یہ مطلب نہیں تھا یہ تو بس ویسے ہی کہا تھا کہ بات یہ نہیں تھی بات اور تھی” وہ خجل سا ہوا تھا اور ہنستے ہوئے بولا “گڈ اٹیٹیوڈ آئی لائک اڈ.”.
وہ بس اسے سنجیدگی گھور رہی تھی..
“جی بات دراصل یہ تھی.. میں یعنی کے میں جو یہ بندہ ناچیز پچھلے ایک ہفتہ سے اپنی منگیتر کے پیچھے کھپ رہا ہے اور دن رات ایک کئے ہوئے ہیں مگر مقابل پہ اثر ہی نہیں اگر کوئی شخص آپ سے بات کرنے کی کوشش کررہا ہے تو مطلب اسے بات کرنے ہیں تو کیوں آپ اسکے دل کو تقویت نہیں بخشتی”.. اتنا لمبا چوڑا بھوشان دیا مگر سامنے والا بے تاثر تھا..
“اگر اگلے کو کوئی بات ہی نا کرنی ہوتو اگلے بندے کو بھی ڈھیٹ نہیں بننا چاہیے”.. ٹکا سا جواب آیا سامنے سے وہ بس گنگ ہوا تھا اس لڑکی کے دو ٹوک انداز سے..
واہ بھئی کیا بات ہے یہاں تو ابھی ایک ویک نہیں گزرا اور ڈیٹ چل رہی ہیں اور ادھر دیکھو دو مہینہ بعد وہ بھی منتیں ترلے سے بات بنی ہے”.. ریسٹورنٹ میں داخل ہوتے زارون اور شائنہ کی نظر سامنے بیٹھے زرتاج اور ارحم پہ گئی… اور شائنہ بولے بنا رہ نا سکی..
زارون ان دونوں کی طرف بڑھا..
زارون چھوڑو انہیں ہم اپنی باتیں کرتے ہیں شائنہ نے روکنا چاہا مگر وہ ان تک پہنچ گیا اور زرتاج کے سر پہ جا کھڑا ہوا..
زارون”.. زرتاج اسے دیکھتے ہی کھڑی ہوئی
“میرے خیال سے کہ تمہیں اس وقت یونیورسٹی میں ہونا چاہیے ” زارون سنجیدہ انداز میں زرتاج سے بولا..
“ہاں وہ.. “وہ کوئی جواب دیتی ارحم بول پڑا..
“یہ میرے ساتھ ہیں شاید آپ نے مجھے دیکھا نہیں ” ارحم اپنی کرسی سے کھڑا ہوا اور اسکے آگے ہاتھ بڑھایا ملانے کیلے زارون نے اپنے تاثرات کو نارمل رکھتے ہوئے ہاتھ ملا لیا..
“ارے آپ بھی اپنی منگیتر کے ساتھ آئے ہیں”.. شائنہ کودیکھتے ارحم نے کہا جسکا منگنی پہ تعارف ہوا تھا ..
“آۓ بیٹھیں جوائن از پلیز.. “
“تھینک یو!! ارحم کی کہنے کی دیر تھی زارون کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا ..
ہ”مم بیٹھ گیا”.. شائنہ منہ بناتی چار وناچار بیٹھ گئی..
“میں نے برگر آرڈر کئے تھے آپ لوگوں کیلے بھی آرڈر کردوں یا پھر اپنی مرضی سے لے گے”..
“ہہم میں کررہا ہوں آرڈر اور تم سناؤ.”. زارون بولا..
🌹🌹🌹
..لنچ فینش کرنے کے بعد زارون اٹھ کھڑا ہوا اچھا اب ہمیں چلنا چاہیے..
سب کھڑے ہوۓ تھے ارحم دل میں خوش ہوا اسے زرتاج کیساتھ تھوڑا اور ٹائم ملے گا زارون کے جانے کے بعد..
“چلو زری تم ..”زارون زرتاج سے بولا..
زرتاج نے بکس اٹھائیں اپنی..
“امم وہ زرتاج کو میں گھر ڈراپ کردیتا ہوں آپ شائنہ جی کو ڈراپ کردیں”
.زرتاج کو زارون کیساتھ جاتا دیکھ ارحم فٹ سے بولا..
“میں گھر ہی جارہا ہوں”.. زراون نے جواب دیا اور چل دیا..
زرتاج بھی چل دی اور شائنہ کا تو موڈ ہی خراب ہوگیا تھا..
گاڑی میں مکمل خاموشی تھی.. زارون کیساتھ فرنٹ سیٹ پہ شائنہ بیٹھی تھی جبکہ زرتاج پیچھے بیٹھی..
گاڑی ایک دم سے رکی تھی شائنہ جو کھوئی بیٹھی چونک کر آس پاس دیکھنے لگی..
“تمہارا گھر آگیا ہے”.. زارون نے کہا..
“امم آؤ اندر ماما سے مل لو ” شائنہ نے اترتے ہوئے کہا..
“نہیں بلکل بھی ٹائم نہیں آفس بھی جا نا ہے ڈیڈ کو بھی نہیں بتایا تھا”..
“مگر تم نے تو گھر جانا تھا نا.. “شائنہ نے کہا..
“ہاں مگر زرتاج کو گھر چھوڑ کر آفس جانا ہے تو ٹائم لگ جائے گا”.. زارون نے نارمل انداز میں کہا تو شائنہ بولنا تو بہت چاہ رہی تھی مگر خاموشی سے گھر چلی گئی..
“اور تم میڈم آگے آکر بیٹھو ڈرائیور نہیں ہوں تمہارا”.. آرڈر دینے والے انداز میں کہا..
“میں صحیح ہوں تم گاڑی چلاؤ”.. زرتاج نے ٹکا سا جواب دیا..
“مجھے غصہ مت دلاؤ آگے آؤ” اب کہ وہ تیز آواز میں دھاڑتے بولا تو وہ مجبوراً فرنٹ سیٹ پہ آکے بیٹھے گاڑی کا دروازہ دھاڑ سے بند کیا…
تو زارون نے گاڑی گھر کے رستہ پہ ڈالی..
“کیا بات ہے ابھی منگنی ہوۓ آٹھ دن بھی نہیں ہوئے اور ڈیٹ چل رہی تھی”.. کاٹ دار حملہ تھا..
“تم بکواس نہیں کرو تم بھی اپنی منگیتر کے ساتھ ہی آپ تھے”..
“شٹ اپ اپنی غلطی ماننے کے بجائے تم مجھ سے الزام تراشیوں پہ اتر آئی ہو” زارون کو ناجانے کیوں غصہ آنے لگا تھا.. زرتاج کو ارحم کے ساتھ دیکھ وہ برداشت نہیں کرپا رہا تھا کتنی مشکل سے وہ ضبط کئے ہوئے تھا خود پہ.. ایک جھٹکے سے گاڑی روکی تھی گھر کے سامنے بنا دیر کئے وہ اتر کر اندر کی طرف دوڑی تھی..
دوپہر کے چار بجنے کو آۓ تھے سفینہ اور سیما حال میں بیٹھی تھی اور روحا کچن میں چائے بنا رہی تھی..
“زری”.. اسے تیزی سے جاتا دیکھ سفینہ نے آواز دی تھی
جس پہ وہ رکی تھی ..
“کہاں تھی تم اتنی دیر کردی آنے میں اور اکیلی آئی ہو”..
“وہ میں زارون کیساتھ آئی ہوں.. ” اسے غصہ آ رہا تھا ضبط کرتے ہوئے بولی..
“زارون کو تم نے آفس سے بلایا ڈرائیور کیساتھ آجاتی اسے واپس کیوں بھیج دیا”.. اب کے سیما بولی
“وہ میں دوست کیساتھ تھی.. “وہ بول ہی رہی تھی جب زارون بولا
“کس دوست کیساتھ تھی زرا یہ بھی بتاؤ” زارون اسکے برابر آن کھڑا ہوا تھا..
“زرتاج کی سانس رکی تھی ایک پل کیلے.. “
“بولو بھی اب بڑی قینچی کی طرح لمبی زبان چلتی ہے اب کیوں نہیں بول رہی “
زرتاج کی آنکھوں میں تو جیسے خون اتر آیا تھا..
آوازیں سن کر روحا بھی کچن سے باہر آئی تھی..
“یہ محترمہ ریسٹورنٹ میں دوست نہیں بلکہ ارحم کیساتھ تھی”.. وہاں سے لے کر آرہا ہوں میں اسے..
“آۓ ہاۓ سفینہ ابھی تمہاری بیٹی کی منگنی کو آٹھ دن نہیں گزرے اور چلی گئی اسکے ساتھ گھومنے” ..
یہیں زرتاج کی بس ہوئی تھی..
“بس تائی جان بس کریں پہلے پوری بات بھی جان لیں..
آپ پہلے اپنے بیٹے سے بھی پوچھے نا کہ وہ ریسٹورنٹ کیا کرنے آیا تھا.. “
وہ بھی شائنہ کیساتھ گھومنے آیا تھا.. ” وہ زارون کوگھورتے کڑے تیور ساتھ بولی..
“زبان تو دیکھو کیسے چل رہی ہے اسکی شادی کی تاریخ لو بس ان سے جلد از جلد ..” سیما کا بھی پارا چڑھا..
“زری چپ کرجاؤ تم بتا کر بھی تو جا سکتی تھی”.. اب کے سفینہ بولی
“ماما میں نہیں جانا چاہتی تھی اسکے ساتھ وہ یونیورسٹی آیا تھا مجھے فورس کرکے لے کر گیا تھا.. مجھے کوئی شوق نہیں اسکے گھومنے کا اور نا شادی کرنے کا” وہ کہتی رکی نہیں تھی سیڑھیوں کی طرف بھاگی تھی..
زارون نے بھی باہر کی راہ لی تھی..
روحا زرتاج نے پیچھے گئی تھی..
” زبان تو دیکھو لڑکی کی اگلے گھر یہ ہماری ناک کٹواۓ گی”.. سیما نے اپنا زہر اگلا مگر سفینہ خاموش رہی..
وہ کمرے میں آتے ہی پھوٹ کر رودی تھی..
“اگر زندگی میں کسی ایک شخص کی جان لے سکتے تو میں تمہاری جان لیتی زارون زہر لگتے ہو تم مجھے اگر زندگی میں مجھے کسی سے نفرت ہے تو وہ تم سے ہے”
..
🌹🌹🌹
وہ آفس میں بیٹھا سوچ رہا تھا..” لگتا ہے کچھ زیادہ ہی ری ایکٹ کردیا میں نے.. “
مجھے سب کے سامنے اسے یوں.. “
“شٹ بہت غلط ہوگیا ہے مجھ سے پہلے ہی بہت چالو ہے مجھ سے.. “
…
🌹🌹🌹
زری دروازہ کھولو پلیز” روحا کب سے کھڑی دروازہ بجا رہی تھی..
وہ رو دھو واشروم گئی شاور لیا کپڑے چینج کرکے پھر دروازہ کھولا..
“زری کب سے دروازہ بجا رہی ہوں”..
“ہاں تو میں کون سا مرنے لگی تھی”.. آواز بھاری ہورہی تھی رونے کی وجہ سے..
“اللہ نا کرے زری تمہیں کچھ ہو” وہ اسکے گلے میں باہیں ڈالتی بولی ..
“مگر تمہارا بھائی تو چاہتا ہے نا..”
“پلیز زری بھائی کو غصہ آگیا ہوگا.. “
“ہاں تم تو اپنے بھائی کی ہی سائیڈ لو گی نا… “
“اچھا اب موڈ صحیح کرو بھائی کی طرف سے میں سوری بولتی ہوں”.. وہ کان پکڑتی بولی..
,”جب وہ سوری بولے گا تو مجھ سے بات کرنا ” وہ پرے کرتی بیڈ پہ جا بیٹھی
” یہ تو ایمپوسیبل سے مگر بھائی جو سوری کرنا چاہیے”..
“سوری اور وہ اسکی شان میں نا فرق آجائے”.. وہ طنزیہ مسکرائی..
…
🌹🌹🌹
شام کو کھانے پہ زری نظر نہیں آئی تھی زارون اب شرمندگی سی محسوس کررہا تھا..
کھانے کے بعد زارون ٹیوی لاؤنج پہ بیٹھا سپورٹس چینل دیکھ رہا تھا جب روحا اسکے پاس کافی لیکر آئی..
“تھینکس.. “
“بھائی.. “رونا نے اسے پکارا
ہمم” وہ ٹی وی مصروف سا بولا..
“آپ نے غلط کیا.. “
“کیا.. “انجان بنتا بولا..
“زری کیساتھ آج.. “
“ہاں تو اسے بتا کر جانا چاہیے تھا ابھی وہ اتنی آزاد نہیں ہوئی جہاں مرضی منہ اٹھا کر چلی جائے.. “وہ کہاں غلطی تسلیم کرنے والا تھا..
“بھائ وہ خود سے نہیں گئی ارحم بھائی کے فورس کرنے پہ گئی ہے اور آپ بھی تو شائنہ کیساتھ”.. جب زارون نے اسے سر اٹھا کر دیکھا تو وہ چپ کر گئی..
“شائنہ کو اسکے ساتھ کمپیئر مت کرو وہ ہمارے ساتھ رہتی ہے شائنہ نہیں زیادہ چمچی مت بنو اسکی”.. زارون نے اسے چپ کروا دیا..
“بھائی آپکو زری سے سوری بولنا چاہیے”…
“کیوں..”آبرو اچکاتے کہا..
“آپ نے انسلٹ کی ہے اسکی کتنا برا لگا ہے اسے وہ تو پہلے ہی وہ اس رشتہ سے خوش نہیں تھی” ..
وہ کہہ کر چلی..
“ہہہم میں اور سوری اب اتنے بھی میرے برے دن نہیں آۓ میرے کے میں اسے سوری بولوں ٹھیک کیا میں نے”.. وہ دوبارہ سے اپنی ہٹ دھرمی پہ اتر آیا..
…
🌹🌹🌹
ہیلو ارحم کے اتنے فون پہ آخر اس نے فون اٹھا ہی لیا..
“ہیلو ..”
“تھینکس آپ نے کال تو اٹھائی.. “
“ہاں بولیں کیا بات ہے” بیزار سی بولی
“دیکھیں کبھی کبھی بات کر لینی چاہئے.. “
“اتنی مشکل سے آپ سے بات کرنے کا چانس ملا تو وہ آپکا کزن آگیا..”
“دیکھیے پلیز آپ مجھے بار بار یوں تنگ نا کریں” ..وہ اکتائی سی بولی..
“میں تنگ نہیں کررہا..”
لگتا ہے آپ مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتی”.. وہ اصلی مدعے پہ آیا..
“جی بالکل صحیح لگتا ہے آپکو میں آپ سے کیا کسی سے بھی شادی نہیں کرنا چاہتی..”وہ سنجیدگی سے بولی..
“کیوں اب ایسی بھی کیا وجہ ہے کہ آپ شادی ہی نہیں کرنا چاہتی.. “
“کیوں کہ میں ماما کا خیال رکھنا چاہتی ہوں انہیں اکیلا نہیں چھوڑ سکتی”.. بڑے ضبط سے کہا تھا..
اور پلیز آپ مجھے بات کرنے کیلے زیادہ فورس نا کیا کریں.. “
کہتے ہی کال کٹ کردی..
“کیا کروں تم میرے دل میں گھر کر چکی ہو اب تو ہر صورت میں تمہیں یہاں دیکھنا چاہتا اپنے پاس محسوس کرنا چاہتا ہوں”.. وہ بیڈ پہ لیٹا ہوا اور ہی سوچوں زرتاج کیساتھ گم ہوگیا..
🌹🌹🌹 …
” روحان آپ آفس جا رہے ہیں.. “
روحان کو تھری پیس سوٹ پہنے تیار ہوتا دیکھ زویا بولی
” ہاں تو” وہ گھڑی پہنتا بولا..
” مگر کیوں ” وآئبرو اچکا کر بولا..
” وہ ابھی ٹھیک نہیں ہوۓ نا آپ.. “
” میں تمہیں کہاں سے ٹھیک نہیں لگ رہا ” وہ اسکے سامنے کھڑا بولا..
“کچھ بھی ہو مگر آپ کو ابھی اور ریسٹ کرنا چاہیے” وہ اسکے پاس آکر اسکا کوٹ کالر سے درست کرتی بولی
” اب کام بھی تو کرنا ہے” وہ اسکی کمر کے گرد ہاتھ پھیلاتا بولا..
“آپ گاڑی چلائیں گے”.. وہ معصومیت سے بولی..
“ارے نہیں چلاتا” گاڑی وکی لینے آئے گا..
” ویسے بھی اب میں خود گاڑی چلا سکتا ہوں.. “
مگر پھر بھی احتیاطی طور پہ نہیں چلا رہا.. “
“اچھا اب میرا موڈ چینج مت کرو” وہ اس الگ ہوکر بولا..
موبائل رنگ ہوا تو کال کٹ کرکے باہر کی جانب بڑھا..
“اچھا آپ خیال رکھیے گا اپنا” وہ اس کے پیچھے دروازے تک آئی…
“ہاں یار رکھوں گا مگر تم بھی اپنا خیال رکھنا اچھا..” وہ کہتا لفٹ کی جانب بڑھا اور زویا نے گیٹ بند کردیا..
وہ آفس آیا تو پورے اسٹاف نے اسکا بہت اچھا ویلکم کیا سب نے اسے آفس آنے کی خوشی میں پھول پیش کئے تھے سب کو تھینکس بولتا وہ اپنے آفس میں آیا تھا..
