94.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Beparwah) Episode 48 (pt.1)

قسط نمبر 48

( سیکنڈ لاسٹ ایپیسوڈ پارٹ 1 )
صبح دس بجے زرتاج کی آنکھ کھلی اپنے عقب میں سوۓ ہوئے زارون پہ نظر ڈالی جو سوتے ہوئے بے حد معصوم لگا.. رات کا سارا منظر فلم کی طرح آنکھوں کے سامنے گھوما تو شرما گئی.. پھر اپنے اوپر سے زارون کا ہاتھ آہستگی سے نکالا اور واشروم میں بند ہوگئی..
گیلے بالوں پہ برش پھیر کر زارون کو اٹھانے کیلئے اس کے پاس آئی جو اب تک گھوڑے بیچ کر سویا ہوا تھا..
زارون” …
زارون.. اٹھو کتنا ٹائم ہوگیا ہے.. “
کیا ہے سونے دو تنگ مت کرو.. ” وہ نیند سے بوجھل ہوتی آنکھیں کھولتے کہا تو واپس آنکھیں بند کرلیں..
زارون اٹھ جاؤ ٹائم دیکھو کتنا ہوگیا ہے.. ” وہ پھر سے اسے ہلاتے ہوئے بولی..
زری یار تنگ مت کرو رات کو بھی نہیں سونے دیا تم نے.. ” وہ آنکھیں بند کئے ہی بولا..
“کیا میں نے ” وہ اسکے بازو پہ چت لگاتی بولی..
اور نہیں تو کیا مجھ معصوم بیچارے کی عزت لوٹ لی.. اب میں سب کو کیا منہ دکھائوں گا..وہ ایک آنکھ کھول کر شرارتی انداز میں بولا..
زرتاج کی تو حیرت سے آنکھیں باہر آئیں تھیں..
بکواس نہیں کرو.. اٹھو جلدی سے..” وہ دونوں ہاتھ کمر پہ رکھے کڑے انداز میں بولی..
افف”کیا مصیبت ہے” وہ زور سے جمائیاں لیتا اٹھ بیٹھا..
زرتاج پہ نظر ڈالی تو دل پھر سے بےایمان ہونے لگا فیروزی رنگ کا سوٹ پہنے کھلے گیلے بال نکھرا نکھرا سا وجود..
وہ شرٹ لیس تھا.. آٹھ کر اسکے قریب آیا..
ہاۓ بیوی” شوخ سا اسکی تھوڑی پہ دو انگلیاں رکھی تو اس نے ہاتھ مارتے جھٹکا..
شاور لو جاکر جلدی.. ” وہ جھنجھلا کر بولی..
جا رہا ہوں اپنی عزت تمہارے حوالے کردی مغرور ہی بن گئی.. وہ خاموشی اسکی بے فضول سی منطق سنتی رہی
آجاؤ تم بھی” واشروم کے دروازے تک جاتا اسے بھی دعوت دی..
جی نہیں مجھے اور بھی بہت سے کام ہیں.. ” وہ اسے گھور کے بولی تو وہ واشروم میں بند ہوگیا..
زرتاج نے اسکے کپڑے نکالے اور اب وہ ڈریسنگ کے سامنے آئی بالوں کو کیچر میں قید کیا اور پیچھے بال کھلے چھوڑ دیے.. ایک نظر خود کو آئنہ میں دیکھا ..دوپٹہ اٹھا کر گلے میں ڈالا اور آگے اچھے سے پھیلا لیا اور باہر نکل آئی..
کل کے سب تھکے تھے تو صبح بھی سب لیٹ ہی اٹھے تھے..
کچن میں آئی تو زویا وہاں پہلے سے موجود تھی..
اسلام علیکم.. گڈ مارننگ.. زویا اسے دیکھتے فٹ سے بولی پرجوش انداز میں..
وعلیکم السلام.. تو زرتاج نے مسکراتے جواب دیا..
زویا کو اسکا روپ پہلے سے زیادہ نکھرا لگا..
“ہہمم تو لگتا ہے ہمارے جیجا جی نے آخر کار میلہ لوٹ ہی لیا.. ” زویا نے مسکراتے ہوئے معنی خیزی سے کہا تو.
زرتاج شرما گئی..
اوۓ ہوئے.. تو میری بہن شرماتی بھی ہے.. زویا اسے مزید تنگ کرتے بولی..
زوئی پلیز.. تنگ نہیں کرو” وہ روہانسی ہوئی..
اچھا اچھا جی نہیں کرتی تنگ.. وہ اسکا چہرہ بغور دیکھتے بولی جہاں حیا کی لالی آئی.
زارون بھی فریش فریش سا کمرے سے باہر آیا..
روحان صوفہ پہ بیٹھا موبائل یوز کررہا تھا .
روحان کو دیکھ اسکے برابر میں بیٹھا…
ہیلو برادر.. ” اسکے برابر بیٹھتا بولا..
ہہم رات کو تیری چیخیں نکل گئیں لگتا ہے… روحان نے پہلا قصہ ہی یہی چھیڑا..
ہاں بس بھاری بہت تھی.. آپکی سالی.. ” مجھ غریب کا پھر کیا بنتا.. زارون بھی اسی انداز میں جواب دیا.. دونوں ہنس پڑے..
یہ دیکھیں کیا کیا ہے آپکی سالی نے اپنا ہاتھ سامنے کیا زارون نے.. جہاں زرتاج نے دانت گاڑھے تھے..
ہاہا.. روحان کا زور دار قہقہہ بلند ہوا تھا.. زارون اتنا سا منہ کرکے رہ گیا..
یہ ہوتی ٹکر .. ایک سیر تو دوسرا سوا سیر..
زارون تو اپنا ہی مذاق بنوابیٹھا روحان کے ہاتھوں..
چلو.. میں نے بھی پھر اپنا حساب برابر کر ہی لیا.. وہ انگڑائی لیتا کھڑا ہوا..
کونسا حساب.. سامنے عالم صاحب اور سیما کھڑے تھے..
روحان کو ہنسی کنٹرول کرنا مشکل ہوگیا.. زارون سٹپٹا گیا..
ک.. کچھ نہیں ڈیڈ.. آئیں ناشتہ کرتے ہے.. سامنے زری اور زویا ناشتہ لگا رہی تھیں..
تو سیدھا وہیں چلا گیا.. تو سب اسکے پیچھے چل دیے..
شاہانہ پھپھو اور سفینہ بھی وہیں آئی..
سب موجود تھے وہاں سواۓ عمار اور روحا کے کیونکہ وہ ابھی تک اپنی نیند پوری کررہے تھے..
خوشگوار ماحول میں ناشتہ کیا پھر چاۓ کا دور شروع ہوا..
سب حال میں بیٹھے تھے.. زرتاج چاۓ دے رہی تھی سب کو.. زارون اور روحان ایک ساتھ بیٹھے تھے..
بھائی صاحب میں نے آج آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے.. شاہانہ بولی..
ہاں کہو.. عالم صاحب اسکی طرف متوجہ ہوئے زرتاج اور زویا بھی بیٹھ گئی..
بھائی صاحب میں نے آپ سے عمار کے لئے روحا کا ہاتھ چاہتی ہوں.. وہ مختصر سی بات کہہ کر چپ ہوئی.. زارون اور روحان بھی سیدھے ہو کر بیٹھے.. زویا اور زرتاج نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا.. اور مسکرا دی..
شہانا میری روح تمہاری ہوئی جب مرضی تم لے جاؤ.. عالم صاحب مسکراتے بولے.. تو سب مسکرا دیے.
سیما بھی مسکرا دی تھی..
بھابھی آپ.. شاہانہ سیما کو دیکھ بولی..
ارے شاہانہ.. میں مطمئن ہوں عمار سے گھر کا ہی بچہ ہے.. زری والے حادثہ سے میں بھی روحا کے لئے ڈر گئی ہوں.. اپنا آخر اپنا ہی ہوتا.. سیما شاہانہ کے ہاتھ پہ رکھ کر بولی..
ارے واہ سیما بیگم اتنی عقلمندی کی توقع نہیں تھی آپ سے.. عالم صاحب بولے تو سب ہنسے..
زرتاج اور زویا ہنستے ہوئے کچن میں آئی وہاں روحا کو پایا جو گلنار ہوئی بیٹھی تھی مطلب کے وہ سن چکی تھی سب باتیں..
مجھے ساجن کے گھر جاناہے.. زرتاج اسے چھیڑتے ہوئے گنگنائی..
تو وہ اور شرمادی.. کہیں نہیں جا رہی.. وہ وہاں سے اٹھ گئی.. بھاگنے والے انداز سے کچن سے نکلی.. سامنے آتا عمار انگڑائی لے رہا تھا جب اسکے پاس سے گزرتی ہوئی آگے نکلی تو عمار کے ہاتھ اسکی کلائی آئی..
“تم کدھر چاۓ بناؤ میرے لئے “
روحا اسکی طرف مڑی نہیں تھی وہ شرم سے مزید پانی ہوئی تھی جب کہ ہاتھ ابھی بھی اسکی گرفت میں تھا..
زر زری کو بول دیں. چھوڑیں میرا ہاتھ ” بڑی مشکل سے بولی..
عمار نے اسکی عجیب حرکتیں دیکھ ہاتھ چھوڑ دیا.. تو وہ منٹوں میں غائب ہوئی..
سامنے زرتاج اور زویا کی ہنسی کے فوارے چھوٹے تھے..
عمار سر ہلاتا آگے بڑھا..
تم دونوں کی بتیسی کیوں باہر آئی ہوئی ہے..
انہیں ہنستا ہوا دیکھ عمار بولا..
ہمارے پاس خبر ہی ایسی ہے.. ” زرتاج بولی..
“کیسی خبر.. “
تم بھی اب سنگل سے ڈبل ہونے والے ہو.. شاہانہ پھپھو نے تمہارا رشتہ پکا کردیا ہے.. ” زرتاج نے پرجوش ہوتے کہا..
واہ یہ ہوئی نا بات اب میرے ہاتھ بھی پیلے ہوں گے.. چلو اسی خوشی میں اب اچھی سی چاۓ پلا دو.. عمار کرسی پہ بیٹھتا پرجوش ہوتا بولا..
اچھا لڑکی بتاؤ کون ہے وہ خوش قسمت.. “
لڑکی تو تمہیں پھپھو ہی بتائیں گی.. ویسے لڑکی تو بہت خوبصورت اور پیاری ہے.. زویا بولی..
تو عمار کی پوری بتیسی باہر آئی..
🥀🥀🥀
ماں او ماں ” ناشتہ کرنے کے بعد عمار سیدھا اپنی ماں کے پاس آیا..”سننے میں آیا ہے کہ آپ نے میرا رشتہ کردیا ہے.. “
ہاں کردیا آج ہی” شہانہ مسکرائی..
لڑکی کا تو سنائیں کون ہے کس خاندان کی ہے کس نام رنگ نسل کی ہے”.. ایک ساتھ کئی سوال پوچھ ڈالے عمار نے..
میں نے روحا کا ہاتھ مانگا ہے تمہارے ماموں سے.. اور انہوں نے ہاں کردی.. وہ مسکرا کر بولی..
واٹ: عمار تو اچھل پڑا..
آپ کو پوری دنیا اور پورے خاندان میں بس وہی چھپکلی ملی تھی..
“کیا کہا” شاہانہ نے جوتا اٹھایا اسکی بکواس سن کر..
ماں میری پیاری ماں” عمار نے پیار سے پچکارتے انکا جوتا پکڑ کر نیچے رکھا.. “میں تو بس یہ کہہ رہا تھا کہ وہ پہلے ہی سنگل پسلی ہو اور آپ نے اسکا ہاتھ مانگ لیا کم از کم پوری لڑکی تو مانگ لیتی میں ہاتھ کا کیا کروں گا.. “
پوری ہی لڑکی مانگی ہے.. ” انہوں نے عمار کا کان کھینچ کر کہا..
آہ ماما ” کان تو چھوڑیں میرا..
میں تو کہتا ہوں اب جب آۓ ہیں تو بس نکاح کرکے لڑکی ہی ساتھ لے جاتے ہیں خرچہ بچ جائے گا ہمارا.. وہ پھر سے شرارتی انداز میں بولا..
میں کرواتی ہوں شادی تمہاری پہلے پڑھائی پوری کرو اپنی دو سال تک کوئی نام نہیں لینا شادی کا.. ” شاہانہ نے تو ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا..
🥀🥀🥀
زویا روحان کا بیگ پیک کر رہی تھی اور ساتھ میں آنسو بھی بہاۓ جا رہی تھی..
زویا کیا ہوا تمہیں دو مہینہ کی تو بات ہے بس” اب ایسے تو نا کرو میں نہیں جا پاؤں گا اگر تم ایسے رو گی.. ” وہ اسے کاندھے سے تھام کر بولا..
ہاں تو نا جاۓ نا ” وہ اسکے سینہ پہ سر رکھی بولی..
جانا ضروری ہے زویا “وہ اسکے بالوں پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا..
وہ روتے اسکی شرٹ بھگونے لگی..
نرمی سے خود سے الگ کیا تھا.. اور اسکے پہ محبت بھری مہر ثبت کی.. میں اس لئے جا رہا ہوں تاکہ تمہارے پاس ہمیشہ کیلئے لوٹ سکوں اپنا سارا بزنس یہاں شفٹ کرلوں.. ” وہ اسے اپنے ساتھ لگاۓ پیار سے بہلانے لگا..
🥀🥀🥀
رات کے کھانے کی ٹیبل پہ سب موجود تھے.. روحا اور عمار بھی آمنے سامنے بیٹھے تھے..
زرتاج کھانا لگانے کے بعد اب بیٹھی تھی.. اپنا کھانا ڈالنے لگی تو زارون نے اسکی طرف جھک کر سرگوشی کی…
“اب اپنا مطلب نکل گیا تمہارا تو بلانا چھوڑ دیا..”
کیا مطلب ” زرتاج نے اسکی طرف دیکھتے کہا..
“مطلب تمہیں اچھے سے سمجھاؤں گا کمرے میں تو آؤ.. ” کڑے تیوروں سے کہا زارون نے..
“اب میں نے کیا کیا” وہ چاول منہ میں ڈالتے بولی.
صبح سے شوہر کی کیا خدمت کی پاس تک آکر نہیں بیٹھی.. ” شکایتی لہجہ میں کہا
ہاں تو میرے پاس اتنا ٹائم نہیں تھا.. وہ بڑے آرام سے بولی.. صبح کے بعد زارون کے قریب تک نہیں بھٹکی تھی… ایک دو بار اس نے بلایا بھی تو بھی نہیں گئی..
روحا بیچاری کی الگ سے جان جا رہی تھی عمار جو سامنے بیٹھا تھا.. جب سے رشتہ کی بات سنی تب سے عمار کے سامنے سے گھبرا رہی تھی..
جب بھی عمار اسکی طرف دیکھتا سر جھکا جا جاتی..
عمار کو اسکا انداز عجیب سا لگ رہا تھا..
🥀🥀🥀🥀
زویا کمرے میں آئی تو روحان اسی کا انتظار کررہا تھا..
“کہاں تھی یار کب سے انتظار کررہا تھا.. ” وہ پاس آئی تو اسکا ہاتھ پکڑتا ہوا بولا..
زویا ابھی بھی اداس تھی..
زوئی.. پلیز ایسے ری ایکٹ مت کرو.. چلو سمائل کر کے دکھاؤ.. ” اسکا چہرہ تھام کر اپنے مقابل کیا..
زویا چاہ کر مسکرا نا پائی اور آنسو بہہ نکلے تھے.. روحان نے اپنے لبوں سے ان آنسوؤں کو چن لیا تھا.. اور اسے خود بھینچ لیا تھا..
🥀🥀🥀
زرتاج گیارہ بجے آئی کمرے میں.. زارون کا پارا مزید چڑھا اسے دیکھ.. مگر کہا کچھ نہیں بس اسے گھورنے لگ گیا..
زرتاج نے اپنی جیولری اتاری پھر واشروم میں آرام دہ سوٹ نکال کر گھس گئی..
جب باہر آئی تو ..
ایک منٹ چینج کرو ” اسے باہر آتا دیکھ جھٹ سے بولا..
“ابھی تو چینج کیا”
“نہیں وہی نائٹ ڈریس پہن کر آؤ جو اس دن پہنا تھا.. “
تو وہ اپنی جگہ ساکت ہوئ اسکی فرمائش سن کر ..وہ نائٹی زرتاج نے زارون کو منانے کیلئے پہنی تھی جب وہ اس سے ناراض ہوا تھا..
“وہ پتہ نہیں کہاں پڑی ” فٹ سے بہانہ گڑھا..
“ادھر آؤ ” ہاتھ ہلایا تھا..
تو وہ دھیما سا چلتی اس کے پاس آئی..
اسکا ہاتھ تھام کر پاس بٹھایا..
چلو اب کس کرو مجھے.. ” زارون نے اسے دیکھتے بڑے مزے سے کہا..
کیا ” زرتاج کے منہ سے اچانک نکلا..
کیا مطلب کیا شوہر ہوں تمہارا اب اتنا حق تو بنتا ہے نا.. ” زارون اسکا ہاتھ کھینچ خود پہ گرایا..
مجھے سونا ہے بہت نیند آ رہی ہے.. ” اسکی گرفت مچلی تھی..
نو سویٹ ہارٹ.. ” کوئی بہانا نہیں چلے گا ..” کہتے ہی اسکے ہونٹوں کو قید کرگیا..
ایک اور خوبصورت رات کا اختتام ہوا تھا..
🥀🥀🥀
آج روحان نے جانا تھا..
سب ہی اداس ہوئے تھے روحان کے آنے سے رونق بحال ہوئی تھی گھر کی.. اور اب پھر وہ گھر کو اداس چھوڑ کر جا رہا ہے..
بیٹا جلدی آنا دل نہیں لگے گا اب تمہارے بغیر سیما آبدیدہ ہوئی تھی اپنے بیٹے کے گلے لگ کر..
مام بس کچھ ہی دنوں کی بات ہے پلیز ایسے مت کریں.. ” روحان اپنی ماں کو سمجھاتے ہوئے بولا..
پھر وہ سب کے گلے لگا.. سب ہی کی آنکھیں نم تھی.. زویا کی جانب دیکھا جو مسلسل آنسوؤں بہائے جا رہی تھی..
کتنا سمجھایا تھا روحان نے مگر پھر بھی اس سے جدا نہیں ہونا چاہتی تھی چاہے کچھ وقت کے لئے سہی..
اور وہ سب سے الوداعی کلمات کہتا الوداع ہوا..
زارون نے ہی روحان کو ایئرپورٹ چھوڑنے گیا..
زویا کمرے میں چلی گئی وہاں جا کر اپنی بھڑاس نکالے گی..
روحا اور زرتاج وہیں بیٹھ گئی..
روحا بھی اداس ہوئی بیٹھی تھی.. زرتاج کچھ وقت بیٹھ کر تسلی دیتی رہی پھر زویا کے پاس چلی گئی.. کہیں طبیعت نا خراب کرلے..
روحا منہ نیچے کیے بیٹھی تھی جب عمار اسکے پاس آکر بیٹھا..
روحا اپنے آنسوں بچا لو تھوڑے سے ابھی میں نے بھی آج رخصت ہونا ہے.. وہ تنگ کرتا شرارتی انداز میں بولا..
روحا کو پھر سے شرم نے آن گھیرا..
جہاں مرضی جائیں.. میں کیوں آنسوں بہاؤں آپ کے لئے..
وہ کلس کر بولی..
آ ہاں.. لٹل گرل.. لگتا ہے تم ہمارے رشتہ پہ راضی نہیں.. میں ماما سے بات کرتا ہوں.. وہ اٹھنے لگا جب روحا فٹ بولی..
نن.. نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں.. ” تو عمار بیٹھ گیا..
پھر کیا بات ہے”.. ہلکا سا اسکی طرف جھک کر سرگوشی کی..
کچھ نہیں ” اور بھاگ گئی وہاں سے..
ایک تو بھاگتی بہت ہے” وہ پیچھے سے بڑبڑاتا رہ گیا..
🥀🥀🥀🥀
رات کو روحان آسٹریلیا پہنچا تھا.. صبح ہوتے ہی دس بجے آفس پہنچ گیا..
اس کو آفس میں آتا دیکھ سارا اسٹاف کھڑا ہوا.. سب کو معلوم تھا آج روحان نے آنا ہے..
ویلکم.. ویلکم..” باس .. سامنے آتا وکی اسکے گلے لگا تھا.. سب نے اسے ویلکم کہا..
علینا یہ آپ کے لئے مٹھائی اور چاکلیٹس روحان نے اسکی طرف ایک شاپر بیگ پکڑایا… اور یہ چاکلیٹس آپ سب اسٹاف کو بھی دے دیں..
اتنا میٹھا کس خوشی میں ہے سر.. ” علینا اسے اتنا خوش ہوتا دیکھ پوچھ بیٹھی..
یہ میری شادی کی خوشی میں ” روحان مسکرا کر بولا..
یہ تو ہمیں پتا ہے خوشخبری سناؤ جلدی کوئی.. وکی اسے کندھا مارتا بولا..
ہاں یار تو تایا بننے والا ہے.. ” روحان اسکے کاندھے پہ ہاتھ رکھتا مسکراتا بولا..
کونگریس سر ” علینا تو بہت خوش ہوئی..
یار تایا کہہ کر موڈ تو خراب نا کر ابھی میری شادی بھی نہیں ہوئی” وہ برا سا منہ بنا کر بولا..
تو وہ ہنستے آفس میں چلے گئے..
پیچھے علینا مسکراتی رہ گئی..
ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ ماریہ آئی.. کاؤنٹر پہ علینا کے پاس آکر رکی.
یہ اتنا خوش کس خوشی میں ہے سب.. سارا اسٹاف خوش ہوتا چاکلیٹس کھا رہا تھا جو علینا نے تھوڑی دیر پہلے سب کو دی تھی اور ساتھ روحان کی شادی کی خبر بھی سنائی تھی..
میم سر روحان آۓ ہیں.. علینا بولی تو ماریہ کے بے رونق چیرے پہ خوشی کی لہر دوڑی مگر اگلے ہی پل علینا نے جیسے اسکے سر پہ بم گرا دیا ہو..
روحان سر فادر بننے والے ہیں اس خوشی میں سب خوش ہے.. علینا نے بھی بڑی لگا کر بات کی..
“کیا بکواس کررہی ہو.. اس نے شادی کب کی جو فادر بن گیا.. ” وہ آگ بگولا ہوئی..
آپ خود بات کرلیں مجھے تو یہی بتایا.. ” وہ آرام سے کہتی اپنے کام پہ لگ گئی
ماریہ کا رخ اب آفس کی طرف تھا..
وہ تن فن کرتی آفس میں داخل ہوئی..
وکی اور روحان خوش گپیوں میں مصروف تھے.. جب ماریہ کو دیکھا تو دونوں کھڑے ہوئے..
بلیک شرٹ کیساتھ بلیک ہی پینٹ پہنے گولڈن کھلے بال.. ماریہ غصہ سے لال ہوتی ان کے پاس آئی..
ماریہ تم.. “روحان بول رہا تھا جب ماریہ بول پڑی..
یہ باہر سب کیا بکواس کررہے ہیں کب کی تم نے شادی.. اور جو فادر بننے والے ہو.. “لال انگارہ آنکھیں ہورہی تھی تیز آواز میں بولی..
ماریہ میری بات سنو”روحان کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کیسے بتاۓ..
زویا میری بیوی ہے.. ” ماریہ کی آنکھیں پھٹی رہ گئی..
تم نے جب زویا کی فون پہ باتیں سنی تھیں.. میں تب ہی تمہیں بتا دینا چاہتا تھا مگر تم نے سنی ہی نہیں بات.. ” ماریہ کی آنکھوں میں بے یقینی تھی وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی روحان اسے دھوکہ دیگا..
وہ دو مہینے سے تھی میری ساتھ.. ” پانچ سال پہلے یہاں آنے سے پہلے میرا نکاح ہوا تھا زویا کیساتھ.. پہلے نہیں پسند تھی وہ مجھے.. مگر جب ڈیڈ کے اسے زبردستی میرے پاس بھیج دیا.. تو میں اسے جاننے لگا اور وہ میرے دل اترتی گئ.. ” تمہارے قریب اس لئے ہوا کہ شاید زویا کا خیال میرے دل سے نکل جائے.
” سچ تو یہ ہے ماریہ میں نے تم سے محبت کی ہی نہیں دھوکہ تھا جو میں نے خود کو دیا تمہیں دیا”
ماریہ کو اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا.. وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی اسکے ساتھ کیا کچھ ہو جاۓ گا..
ماریہ نے طیش میں آتے اسے کوٹ کالر کو دونوں مٹھیوں میں جکڑا تھا..
“چیٹر.. لائیر.. تمہیں کیا سمجھتی رہی تم کیا نکلے..تم بھی گھٹیا ہو اور تمہارا دوست بھی گھٹیا.. ” وہ چلا رہی تھی
خود پہ بات آتی دیکھ وکی جلدی سے ماریہ کی طرف اسکا بازو سے کھینچ کر روحان سے الگ کیا.
چیٹر روحان نہیں تم بھی ہو.. ” ولیم کیساتھ بریک اپ تم نے روحان کی وجہ سے کیا.. “
اور روحان کیساتھ ریلیشن کے آنے کے باوجود تم پھر سے ولیم کیساتھ ریلیشن شپ میں آئی.. “اب وکی روحان کی طرف مڑا جو وکی کی باتوں کو حیرانی سے سن رہا تھا..
روحان یہ لڑکی گھٹیا ہے تمہارے جانے کے بعد اس نے مجھے بھی اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی اور میں اسکی باتوں میں آگیا سوری یار میں میں بہک گیا..
بکواس کررہا ہے یہ روحان.. اس نے میرا فائدہ اٹھایا ہے میں.. ” وہ روتے ہوئے بول رہی تھی..
روحان یہ اب مجھے تیری نظروں میں گرانا چاہتی ہے اس لئے میں مان رہا ہوں میں بہک گیا تھا اسکی باتوں میں آگیا.. ” وکی نے اسکی بات کاٹتے فٹ سے کہا..
نہیں روحان پلیز میری بات کا یقین کرو.. ” روتے اسکی آواز بھاری ہوئی..
روحان کبھی ماریہ کو دیکھتا تو کبھی وکی کو.. وکی کو کہیں نا کہیں ڈر بھی لگا روحان ماریہ کا یقین نا کرلے..
روحان. ” ماریہ نے روحان کا بازو تھامنا چاہا تو روحان نے جھٹک دیا جیسے کوئی اچھوت ہو..
شٹ اپ ماریہ گیٹ لاس.. دفع ہوجاؤ میری نظروں سے میں تو تم سے شرمندہ ہو رہا تھا.. کہ میں نے تمہارے ساتھ غلط کیا ہے.. مگر شاید میں غلط ہوں جو دھوکا میں تمہیں دے رہا تھا وہی دھوکا تم بھی مجھے دے رہی تھی..
نہیں ” روحان کے الفاظ تھا یا تیر کے نشتر .. جو اسکے جسم کو چھلنی کررہے تھے..
وکی اسے دیکھ مکرو ہنسی ہنسا اور ساتھ آنکھ بھی دبائی.. آج تو وہ خوش ہو رہا تھا کہ وہ کامیاب ہوگیا ہے ماریہ کو روحان کی نظروں میں گرا کر مگر شاید اسکے بھی رونے والے دن شروع ہونے والے تھے..
تو ماریہ وہاں سے بھاگنے کے انداز سے نکلی تھی..
روحان کی آنکھیں لال انگارہ ہورہی تھی میز پہ دونوں ہاتھ رکھے گردن جھکائی تھی..
روحان” وکی نے اسکے کاندھے پہ ہاتھ رکھ کر اسے پکارا تو اس نے سر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا..
ایم سوری یار.. ” وکی بولا
“تم مجھے روکتے رہے مگر میں نا مانا.. اور ماریہ کی طرف مائل ہوتا گیا اسکی باتوں میں آگیا.. ” تو پھر ایسا ہی ہونا تھا میرے ساتھ.. اگر زویا میری زندگی میں نا آتی شاید تو میرے لئے تمام دروازے بند ہوجاتے.. شاید میں ٹوٹ جاتا.. اور کہیں کا نا رہتا.. “
چل چھوڑ یار ” اب کیا ارادہ ہے آگے کا پاک شفٹ کب کرنا ہے بزنس اپنا.. وہ روحان کو اور ہی باتوں میں لگا گیا..
🥀🥀🥀
ماریہ روحان کے آفس سے نکلتی سڑکوں پہ چل رہی تھی.. روحان کے ساتھ بیتے لمحات یاد کررہی پھر کہی گئی اسکی باتیں یاد آ رہی تھی وہ روتی جا رہی تھی چلتی جا رہی تھی..
اسکے دھوکہ کی سزا اسے اتنی بد تر ملے گی یہ سوچا ہی نہیں تھا اس نے کبھی.. بہت بری طرح ٹوٹ گئی تھی.. وہ تو یہ سمجھ رہی تھی کہ روحان اسکا یقین کرے گا اور وکی کو سزا دے گا.. مگر اس نے تو الٹا اسکی طرف داری کی..
جب آپ کسی کو دھوکہ دیتے ہیں تو ایک دن وہ دھوکہ بھی آپکی طرف لوٹ کر ضرور آتا ہے..
یونہی چلتے چلتے شام ہوئی اور شام سے رات مگر اسکے رونے میں کوئی کمی نہ آئی تھی..
اسی طرح بھٹکتے پھرتے گھر پہنچی.. گرینی نے دروازہ کھولا.. اسکی سوجھی ہوئی سرخ آنکھیں لٹکا ہوا چہرہ دیکھ وہ بولیں..
بچے کیا ہوا “
کچھ نہیں گرینی وہ سیدھا کمرے میں بند ہوئی..
وہ پیچھے سے فکر مند ہوئی..
وہ کمرے میں آتی بیڈ پہ ڈھیر ہوئی.. اور پھر سے آنسوؤں کا سیلاب جارہی ہوا..
کافی دیر گزر جانے کے بعد پھر کچھ سوچتی اٹھ بیٹھی اور اپنا الماری سے اپنا لانگ کورٹ نکالا جو بلیک کلر کہا تھا.. اس وقت باہر بہت سردی تھی.. رات بھی بہت ہو چکی تھی..
🥀🥀🥀
وکی ابھی بستر پہ لیٹا سونے کی تیاریوں میں تھا.. موبائل سائیڈ پہ رکھ کر آنکھیں بند کی تھی اسکی ڈور بیل بجی..
ٹائم دیکھا تو بارا بج رہے تھے.. اس وقت کون آگیا جمائی لیتا دروازے تک آیا..
تم” دروازے پہ ماریہ کو کھڑا پایا.. بلیک کوٹ میں دونوں ہاتھ پاکٹ میں ڈالے..ویران چہرہ آنکھوں کے پپوٹے سوجھے ہوے..
مجھے بات کرنی ہے تم سے.. “
سائیڈ سے وہ اندر آئی
میری شاید یہی سزا بنتی تھی.. جو روحان نے میرے ساتھ کیا.. بلکہ دھوکہ تو ہم دونوں ہی ایک دوسرے کو دے رہے تھے..
میں نے ولیم کو دھوکہ دیا روحان کیلے ولیم کوچھوڑ دیا.. اور روحان زویا کیلئے مجھے چھوڑ دیا..
مگر وہ دونوں تو اپنی بیویوں کے ساتھ خوش ہیں.. روحان زویا کیساتھ اپنی زندگی کا آغاز کرچکا. اور ولیم اپنی نئی بیوی کے ساتھ.. اور میں تنہا رہ گئی اور آنسو یہ میرے مقدر بنے.. “
وکی خاموشی سے اسے سن رہا تھا..
“تم نے جو کچھ میرے ساتھ کیا ہے میں اسے بھولنے کیلئے ریڈی ہوں اگر تم مجھے اپنا لو.. پلیز وکی مجھ سے نکاح کرلو.. لے لو مجھے اپنی دسترس میں.. رحم کھا لو مجھ پہ.. میرے حال پہ.. وہ روتے ہوئے اسکے آگے ہاتھ جوڑ گئی جیسے بھیک مانگ رہی زندگی کی..
شٹ اپ میں تم جیسی لوز کریکٹر لڑکی سے ہرگز شادی نہیں کروں گا اوقات ہی کیا ہے تمہاری.. وکی ماریہ کا بازو دبوچتے ہوئے کڑے لہجہ میں بولا..
وکی پلیز میری بات مان لو پلیز مجھے بچا لو.. وکی.. وکی مت کرو.. وہ بلکتے ہوئے روۓ جا رہی تھی مگر وہ بے رحم اسکا بازو دبوچے اسے دروازے کے باہر دھکا دیا..
اور دروازہ بند کرنے لگا جب ماریہ نے دروازہ پکڑ لیا..
وکی مت کرو میرا ساتھ ایسا میری آخری امید تم ہو بس.. میں تمہاری غلام بننے کیلئے بھی تیار ہوں جیسے جس حال میں رکھو گے تم میں رہ لوں گی.. “وہ اسکی منتیں کرتی بولی..
میں تم جیسی گھٹیا لڑکی کو نوکر بھی نا رکھو نجانے کہاں کہاں منہ مارا ہوگا تم نے میرے علاوہ.. وہ نقاہت سے بولا..
وکی ولیم نے کب کا مجھ سے رابطہ ختم کردیا تھا تمہارے علاوہ کسی سے بھی کوئی تعلق نہیں بنایا.. وہ روتے ہوئے بولی..
وکی… وکی نے اسکے منہ پہ دروازہ بند کردیا تھا.. اور دروازہ بجا نے لگی..
وکی.. وہ چلا رہی تھی.. وکی.. وکی.. پلیز ایسا مت کرو میرے ساتھ.. پلیز رکھ لو مجھے.. وہ بیٹھتی چلی گئی.. اور زور زور سے رو رہی تھی..
وکی نے اسکی آواز کو کم کرنے کیلئے اپنے کان پہ ہاتھ رکھ لئے. جو اسکے کان میں گونج رہی تھی..
کچھ ہی دیر میں برسات شروع ہوگئ وہ مکمل بارش میں بھیگ گئی تھی.. سردی کی رات اور تیز بارش گرجتے بادل.. ماریہ کو اپنے وجود سے جان نکلتی محسوس ہو رہی تھی..
جب ماریہ کی آواز
بند ہوئی تو اس نے کان سے ہاتھ ہٹا لئے.. بارش بھی زوروں پر تھی.. اور ساتھ زور و شور سے بادل گرج رہے تھے..
وکی نے دروازہ کھولتے باہر چاروں جانب نگاہ دوڑائی دور دور تک سڑک خالی تھی..
ہہم.. بڑی آئی اپنا لو تم ہوتی اس قابل تو روحان کی زندگی سے نا نکالتا.. بڑبڑاتے بستر پہ گرا..
🥀🥀🥀
پارٹ 2 بھی کل ہی پوسٹ کردوں گی ایپی کافی لمبی ہوگئی تھی اس لئے دو پارٹ میں دے رہی ہوں ..
خاموش ریڈرز سے گزارش ہے کہ پڑھ تو لیتے ہیں پلیز لائک بھی کردیا کریں