Beparwah Season 1 By Ayesha Noor Readelle50280 (Beparwah) Episode 15
Rate this Novel
(Beparwah) Episode 15
روحا اور زرتاج چینج کرکے اپنے بیڈ پہ لیٹی تھی۔۔
روحا اپنے فون پہ پکس دیکھ رہی تھی جو اسنے بنائی تھی۔۔ ڈھیروں تصویریں تھی جو اسنے بنائی تھی ۔۔
“روحا سو جاؤ فون کہیں بھاگا نہیں جارہا” زرتاج نیند سےبھری آواز میں بولی تھی۔۔
“اچھا نا تم سوجاؤ” روحا اپنے فون میں اچھی اچھی پکس دیکھ کر روحان کو وٹس ایپ پہ سینڈ کررہی تھی ۔۔اور پھر فون سائیڈ پہ رکھ کر لیٹ گئی۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
روحان صبح آفس جانے کیلۓ تیار ہو رہا تھا جب اس کے موبائیل کی ٹیون بجی تھی اٹھایا تو وٹس ایپ پہ روحا نے ڈھیر ساری پکس بھیجی ہوئی تھی۔۔ ابھی اسکے پاس پکس دیکھنےکا ٹائم نہیں تھا اس لۓ فون پاکٹ میں رکھ کر لیپ ٹاپ والا بیگ اٹھایا اور آفس جانےکیلۓ گھر سے نکل گیا۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
زارون آفس کیلۓ تیار ہو کر آیا ڈائینگ ٹیبل پہ بیٹھا آج وہ صرف اکیلا ہی تھا۔۔۔
تھوڑی دیر بعد زویا کچن سے نکلی اور اسکے آگے ناشتہ رکھ دیا۔۔
“تم جلدی اٹھ گئی ہو۔۔” زارون اسے دیکھ کر مسکرا کر بولا ۔۔
“ہہم تم بھی تو اٹھ گۓ ہو جبکہ تمہیں آرام کرنا چاہئے تھا تھک گۓ تھے رات کو۔۔” زویا اسکے سامنے والی کرسی پہ بیٹھتی بولی۔۔
زارون نے چاۓ کا کپ منہ کو لگایا۔۔
“ویسے تم نے شائنہ سے کوئی بات نہیں کی کل ۔۔” زویا اسکی طرف دیکھتی بولیِ۔۔
ساری زندگی باتیں ہی کرنی ہیں زارون بریڈ کے بائیٹ لیتا بولا۔۔
“زارون ایٹ لیسٹ تمہیں اسکی تعریف تو کرنی تھی۔۔”
“ساری دنیا اسکی تعریف ہی کرنی ہیں۔۔اور تم کیا مجھ پہ نظریں جمائیں بیٹھی تھی تعریف کرنی تھی تو پہلے بتا دیتی مجھے۔۔ “
“زارون ۔۔۔” زویا کچھ بولتی کہ زارون کھڑا ہوا تھا۔۔
“بس زوئی تمہارے کہنے پہ مین نے انگیجمنٹ کرلی ہے اب مجھےکیا کرنا ہے یہ مجھے اچھی طرح پتا ہے۔۔” وہ سنجیدگی سے کہتا چلا گیا تھا۔۔
,زویا بس اسے دیکھتی رہ گئی۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀
شہانہ اپنے کمرے میں ظہر کی نماز پڑھ کر صوفہ پہ بیٹھی تصبیح کررہی تھیں جب عمار صوفہ پہ اپنی ماں کی گود میں سر رکھے لیٹ گیا ۔۔
“ماما آپکو نہیں لگتا آپکا بیٹا اب بڑا ہوگیا اب” وہ دونوں ہاتھ باندھے اپنی ماں کو دیکھتا بولا۔۔
“ہاں لگ تو مجھے بھی رہا ہے ابھی کل ہی تو فیڈر چھوڑا ہے”۔۔ شہانا بھی اسی کہ انداز میں بولی۔۔
“واؤ ماما راک عمار شاک”۔۔عمار ایک ہاتھ ہوا میں اٹھا کر جہاز بناتا بولا۔۔
“کام کی بات بولو۔۔” شہانہ بولی تھی۔۔
“ماما ایک نیکی کا کام ہی کردیں رشتہ پکا کردیں میرا “۔۔ عمار معصوم سی شکل بنا کر بولا۔۔
“ہہم تو یہ بات ہے انڈے سے تو باہر آجاؤ پہلے پڑھائی کرو چپ چاپ اپنی۔۔” شہانہ نے ہری جھنڈی دکھائی تھی۔۔
“ماما اب زارون کی طرح ستائیس سال کی عمر میں منگنی کرنے سے رہا ۔۔” سیدھا شادی کرونگا۔۔
“پہلے اس لائق بن تو جاؤ ابھی عمر ہی کیا ہوئی تمہاری ایسے کون تمہیں لڑکی کا ہاتھ دے دے گا۔۔” شہانہ نے اسکے کان کھینچے۔۔
“ماما میں آپکو بڑا نہیں لگ رہا کیا بائیس سال کا تو ہوگیا ہوں اور کتنا انڈے سے باہر آنا ہیں کونسا شادی کا مطالبہ کررہا ہوں ” عمار کھڑا ہو کر دونوں ہاتھ کمر پہ رکھ کر بولا تھا۔۔
“پلیز اپنے اکلوتے پیٹے کی خواہش نہیں پوری کریں گی ماما۔۔” وہ مسکین سا منہ بنا کر بولا تھا۔۔
“اچھا بتاؤ پھر کون ہے لڑکی” شہانہ نے ہوچھا تھا۔۔
“واہ ماما یہ ہوئی نا بات” عمار شہانہ کے برابر آبیٹھا۔۔
“یہ مکھن بعد میں لگانا پہلے بتاؤ لڑکی کے بارے اگر مجھے لڑکی پسند نہیں آئی نا تو رشتہ سے انکار ۔۔۔” شہانہ سنجیدگی سے بولی تھی۔۔
“ماما لڑکی آپکو ہنڈریڈ پرسینٹ پسند آۓ گی۔۔” عمار پراعتماد ہوتا بولا۔۔
“ماما مامو جان سے میرا ہاتھ مانگ لیں آئی مین رشتہ۔۔ ” عمار نے ایک سانس میں بات ختم کی۔۔۔
“عمار روحہ ابھی چھوٹی ہے تھوڑی دیر صبر کرجاؤ پھر۔۔”
“اوہو ماما اس چھپکلی کی بات نہیں کررہا میں اتنی باریک ہے دور بین لگا کر دیکھنا پڑتا ہے ۔۔”
“تو پھر زرتاج کیساتھ ماشااللہ یہ تو ٹھیک ہے میں۔۔”
“ماما پلیز میں اس ڈمپر کی بات بھی نہیں کررہا وہ میرے اوپر بھی بیٹھ گئی تو میرا کچومبر نکال دے گی۔۔”عمار نے ماتھا پیٹا تھا
“عمار زری اتنی بھی موٹی نہیں بس تھوڑی ہیلتھی ہے۔۔”
“اور تم صاف صاف بات کرو شہانہ کو تپ چھڑھی تھی اب۔۔”
“ماما نا روحا اور زری میں زویا کی بات کررہا ہوں” عمار نے جیسے بم پھوڑا تھا شہانہ کے سر پہ۔۔
“عمار تمہارا دماغ ٹھیک ہے۔۔ ” بھائی صاحب کو میں غلطی سے بھی یہ بات کہہ دی تو چھتر پھیریں گے ہم دونوں کو اور گھر سے نکال دیں گے۔۔۔” چپ کرکے چلے جاؤ ورنہ ابھی مجھ سے پھینٹی لگوا لو گے۔۔”
عمار شہانہ سے بےعزتی کرواتا رونی صورت بناتا اٹھا تھا۔۔ “ماما ایک بار سوچ کہ تو دیکھیں آپ اپنے اکلوتے بیٹے کا دل توڑ رہی ہیں زویا کو ہر صورت ڈیوورس ہی ہونی ہے ۔۔ نیکی کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہئے جلدی ماموں سے بات کرلیں” عمار ابھی بول رہا تھا کہ شہانہ نے جوتی اٹھائی تھی۔۔ اور دو سو کی اسپیڈ سے بھاگا تھا۔۔
شہانہ کو وہ سوچ میں ڈال گیا تھا۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
رات نو بجے روحان گھر آیا تھا۔۔ آج دن بھر آفس میں مصروف رہا تھا دو سال سے وہ اپنا بزنس چلا رہا تھا اب جا کر وہ اسٹیبل ہوا تھا نئے نئے پراجیکٹس مل رہے تھے ۔۔
آج بھی ایک نیا پراجیکٹس ملا تھا اس پر کام کر رہا تھا۔۔
کپڑے چینج کر کے اپنے لیے کافی بنائی تھی کھانا وہ زیادہ تر وکی کے ساتھ کھاتا تھا آج کلائینٹ کیساتھ ڈنر تھا۔۔۔
کافی بیڈ کے سائیڈ ٹیبل پہ رکھی اور اپنا لیپ ٹاپ لیکر بیڈ پہ بیڈ بیٹھ گیا اور ایک ہاتھ مں کافی کے سیپ لے رہا تھا۔۔اپنے نئے ملنے والے پراجیکٹس پہ کام کرنے لگا جب اسکا موبائیل رنگ ہوا۔۔
زارون کالنگ ۔۔
افف ۔۔وہ بھول گیا زوران کو اسکی انگیجمنٹ کی مبارک باد تو دی نہیں تھی اسنے۔۔
لیپ ٹاپ بند کیا۔۔اور کال ییس کی کرکے فون کان سے لگایا “اسلام علیکم ۔۔”
“وعلیکم اسلام سوچا خود ہی کال کرلوں تم سے امید نہیں کی جاسکتی” زارون نے طنزاً کہا ۔۔
سوری زی میں ابھی گھر آیا تھا تمہیں میں کال کرنے ہی والا تھا” روحان نے بہانا بنایا تھا جبکہ وہ بھول گیا تھا۔۔
“روحا نے پکس بھی بھیجی تھی فون تک یوز کرنے کا ٹائم نہیں ملا مجھے۔۔”
“اچھا بس بس زیادہ بہانے بنانے ضرورت نہیں پتا ہے کتنے بزی ہو”۔۔ایک اور طنز۔۔
“یار اب ایسے تو نا کہو۔۔” روحان نے بیچارگی سے کہا ۔۔
“تو۔۔ کیا کہوں میں تمہیں وقت نہیں ہمارے لئے گھوڑے بیچ کر سوتے رہے اتنا نہیں کے ہمیں اونلائن جوائن کرسکو۔۔ آ تم سکتے نہیں یہاں ایسے جیسے ملک بدر کردیۓگئے ہو۔۔” زارون نے بھی خوب بھڑاس نکالی اپنی۔۔
“بس بس زارون اب تم بھی میری لائن پہ آگۓ ہو کیسا لگ رہا ہے اپنی مرضی کے خلاف جیون ساتھی ملنے پہ۔۔” روحان نے بھی حساب برابر کیا تھا۔۔
“جیسا بھی لگے مگر تمہاری طرح بھگوڑا نہیں ہوں میں۔۔”زارون کو پسند نہیں آئی تھی روحان کی بات۔۔
“جب اپنی نا سنی جاۓ تو راہ فرار اختیار کرنی پڑتی ہے۔۔” روحان نے اپنی صفائی پیش کی۔۔
“ٹھیک ہے پھر میں تمہارے ساتھ ہوں تمہاری بات میں منواؤں گا اب بولو۔۔۔ دو طلاق زویا کو کوئی کچھ نہیں کہے گا تمہیں.. پھر تو آؤ گے واپس ۔۔” زارون نے دو ٹوک سنجیدگی سے اپنی بات پوری کی تھی۔۔
روحان اسکی بات سن کے شاک سا ہوا تھا پہلے کان سے ہٹا کر فون کو دیکھا پھر دوبارہ کان کے ساتھ لگایا۔۔
“یہ۔۔ یہ تم کہہ رہے ہو۔۔” اسے یقین نہیں آرہا تھا زارون پہ۔۔
“ہاں میں کہہ رہا ہوں میں پیپرز بنواؤں گا ڈیوورس کے ” زارون نے ایک اور شاک دیا روحان کو۔۔
“تم تم ہوش میں ہو نا زارون اگر ڈیڈ کو پتا چلا تو وہ مجھے کھڑے کھڑے عاق کردیں گے ۔۔” روحان کو اب بھی یقین نہیں ہو رہا تھا۔۔
“ڈونٹ وری روحان تم سوچ کر مجھے بتا دینا جس رشتہ میں جان ہی نہیں اسے بلا وجہ گھسیٹنا ہماقت ہے نا تو تم اپنی لائف میں آگے بڑھ ہا رہے اور نا ہی زویا۔۔ تم دونوں کا بھلا اسی میں ہے کہ سب ختم کرکے آگے بڑھ جاؤ۔۔۔ “
اپنی بات پوری کرتے زارون نے فون کاٹ دیا۔۔
فون کٹنے کے بعد اسنے واٹس ایپ کھولی تھی روحا کے کافی سارے وائس میسیجیز آۓ ہوۓ تھے۔۔روحا کی بھیجی ہوئی انگیجمنٹ کی پکس ابھی اس نے نہیں دیکھی
پکس اوپن کی تھی پہلی پکس روحا کی تھی اس کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی تھی دوسری تیسری بھی روحا کی تھی۔۔پھر اگلی پک میں زرتاج اور روحا.. زرتاج کو وہ پہلی بار دیکھ رہا تھا اورمسکرایا وہ کافی بدلی بدلی سی لگی اور ابھی بھی گولو مولو ہی تھی۔۔ فیروزی کلر اس پہ جچ رہا تھا ایک دو اور دونوں کی پکس تھی۔۔ پھر زارون اور شائنہ کی پک تھی دونوں ساتھ کھڑے تھے۔۔ اور سکرول کی نیکسٹ پک میں زارون اور اس بلیک کلر پہنے اس دشمن جاں پہ گئی جو اس سے رنگ لے رہا تھا دونوں مسکرا رہے تھے۔۔
پکس کو زوم کیا ” زویا ” اسکے منہ سے بے ساختہ نام نکلا تھا۔۔
پھر اسے اگنور کر کے اسکرول کیا اگلی پک میں زارون شائنہ کو رنگ پہنا رہا تھا ۔۔ نظریں پھر اس دشمن جاں پہ جا ٹھریں جو تالیاں بجا رہی تھی اور ساتھ کسی کو گھور رہی تھی آگے کرنے کا ارادہ تھا پھر اسکی پک کو زووم کیا اور ساتھ والے کو زوم کرکے دیکھا تو وہ عمار تھا جو اسے دیکھ کر ہنس رہا تھا۔۔ کافی سال پہلے دیکھا تھا عمار کو تب وہ چھوٹا تھا اب تو وہ ایک نوجوان لڑکا لگ رہا تھا۔۔ پھر کچھ یادیں زہن میں تازہ ہوئی تھیں ۔۔ بچپن میں عمار اور زویا کی کافی دوستی ہوا کرتی تھی دونوں ہم عمر تھے عمار زیادہ تر زویا کیساتھ کھیلتا تھا۔۔
پھر اپنی سوچوں کو جھٹکتا مزید تصویریں دیکھنےلگا اسکے مام بہت خوش نظر آرہیں تھیں۔۔ پھر اس دشمن جاں کی تصویر سامنے آئی تھی جو روحا نے زبردستی اسکی اکیلے کی ایک پک بنائی تھی۔۔
بلیک کلر اس پہ جچ رہا تھا ہاف نیٹ کی آستین سے نظر آتی اسکی سفید بانہیں دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں ملاۓ چہرے پہ معصومیت لیۓ سامنے دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔۔
پک کو زوم کرکے اسکے معصوم چہرے کے ایک ایک نقش کو بغور دیکھنے لگا جھیل سی آنکھوں سے ہوتا نیچے اسکے گلابی ہونٹوں تک آیا تھا ۔۔ دل کی دھڑکنوں نے شور برپا کیا تھا۔۔
پھر جلدی سے اگلی پکس دیکھنے لگاایک کرکے آگے کرتا رہا وہ کسی بھی تصویر میں نظر آتی تو عمار اس کے آس پاس ہی دکھا تھا۔۔اپنی زہن میں آتی سوچوں کے خود سے معنی اخذ کرتا۔۔لاسٹ پک گروپ فوٹو تھی روحا اور زرتاج اور عمار صوفہ کے پیچھے کھڑے تھے زارون اور شائنہ کے صوفہ پہ بیٹھے تھے اور باقی بزرگ بھی۔۔ ایک طرف عالم صاحب بیٹھے اور زویا ان کے کرسی کے ہینڈل پہ بیٹھی تھی انکے گلے میں ایک ہاتھ ڈالے اور عالم صاحب نے اسکا ایک ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا ہوا تھا باپ بیٹی کی تصویر مکمل لگ رہی تھی۔۔
تو موبائیل بند کر کے بیڈ پہ پھینکا تھا۔۔
یہی معصومیت دکھا کر مجھ سے میرے ڈیڈ کو چھین لیا مام ٹھیک کہتی ہیں تم لوگوں کے بارے میں جادو گرنیاں ہو تم لوگ۔۔ کیسے ڈیڈ اور زارون کو اپنے بس میں کیا ہوا ہے۔۔ آنکھوں میں جلن سی ہو رہی تھی ضبط سے اسکی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی۔۔
زارون طلاق کیوں کروانا چاہ رہا ہے ایک اور منفی سوچ آئی تھی دماغ میں ۔۔ اوہ تو زویا زارون کو بھی قابو کر چکی ہے ہہم یہ منگنی بس تماشہ ہے ۔۔ “انہیں تو زویا بھابھی پسند ہے” روحا کے الفاظ اسکے کان میں گونجے تھے۔۔
نہیں میں اپنے بھائی پہ شک نہیں کرسکتا اپنی سوچوں پہ مالامت کی۔۔
“بس ایک بار اس مصیبت سے جان چھوٹ جاۓ پھر میں آزاد ہوجاؤں گا اسکی سوچوں سے میری طرف سے بھاڑ میں جاۓ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔ پھر میں ماریہ شادی کرکے پاک میں ہی شفٹ ہو جاؤ گا اب مجھ سے دور نہیں رہا جاتا اور اپنوں سے ۔۔”
