94.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Beparwah) Episode 35

روحان کا فون رنگ ہو رہا تھا دیکھا تو ماریہ تھی..
“ہیلو.. “
“ہنی کہاں ہو کب سے کال کر رہی ہوں “
“ہاں وہ میٹنگ میں تھا.. “
وٹ”.. تم نے کام پہ بھی جانا شروع کردیا.. کچھ دن اور ریسٹ کرلیتے” وہ فکر مندی کا مظاہرہ دکھاتے ہوئے بولی..
” یار مہینہ تو ہونے والا ہے.. کر تو لیا ہے اور کتنا ریسٹ کروں آئ ایم فائن رائٹ ناؤ”..
“اچھا تو پھر کیا سوچا ہے تم نے..”
“
کس بارے میں” روحان کو اسکی بات سمجھ نا آئی..
“ہماری شادی کے بارے میں ہنی اور کتنا ٹائم لوگے.. “
“یار تمہارے سامنے ہے ابھی تو ٹھیک ہوا ہوں”.. اور آفس کا کام بھی بہت جمع ہو پڑا ہے پہلے یہ سب ٹھیک کروں گا پھر سوچوں گا.”..وہ پھر سے ٹال گیا..
“روحان تم پچھلے دو مہینوں سے عجیب ری ایکٹ کررہے ہو.. تم نے خود ہی وعدہ کیا تھا کہ تم مجھ سے شادی کرو گے اور اب کیوں ٹال مٹول کررہے ہو ” وہ غصہ ہوئی تھی..
روحان نے سر تھام لیا تھا “یار ٹراۓ ٹو انڈراسٹینڈ میں ابھی تک اپنا نیا ملا ہوا پراجیکٹ شروع نہیں کرپایا اور تمہیں شادی کی پڑی ہے”..
“اٹس اوکے روحان میرا مقصد تمہیں تنگ کرنا نہیں تھا.. “اسے سمجھ آ رہا تھا کچھ تو گڑ بڑ ہے جو وہ بہانے بنا رہا ہے..
ماریہ نے کال کٹ کردی..
روحان پریشان سا ریوالونگ چیئر پہ جھولنے لگا تھا..
اسے گلٹ فیل ہوا تھا ماریہ کو لیکر وہ کیسے اسے سچائی بتاۓ گا اپنی کے وہ اب شادی شدہ ہے.. زویا ہی اسکی بیوی ہے.. تین سال سے اس سے جھوٹ بولتا ہوا آیا پیار کا جھوٹا دعویٰ کرتا رہا..
..
🌹🌹🌹🌹
کیا ہوا بے بی” ..ولیم ماریہ کے پاس بیٹھتا ہوا بولا جو کافی پریشان دکھائی دے رہی تھی..
روحان سے بات کرنے کے بعد وہ پریشان ہوگئی تھی.. اس لیے اس نے ولیم سے ملنے کا سوچا اور اسے کیفے پہ ملنے بلایا تھا..
بس یونہی پریشان تھی”..
اچھا.. “وہ اسکے بالوں پہ ہاتھ پھیرتا بولا..
تم کافی خوش لگ رہے ہو.. ولیم کا موڈ اچھا دیکھ پوچھ بیٹھی..
ہاں میں خوش ہوں میری نیکسٹ منتھ شادی ہے.. تم کب کررہی ہو شادی”.. ولیم نے خوشی سے چہکتے کہا اسے پوچھا
کونگریٹس”.. وہ پھیکا سا مسکرائی
تھینکس”.. ولیم نے جواباً کہا
میں اپنی شادی کو لیکر ہی پریشان ہوں پہلے تو میں اگنور کررہی تھی مگر”..
مگر کیا”.. ولیم نے استفسار
“مگر مجھے لگ رہا ہے کہ روحان چینج ہو رہا ہے جب بھی شادی کی بات کرتی ہوں تو بہانے بنانے لگتا ہے”.. وہ بے چینی سے بولی..
“وہ کہیں اور انوالو تو نہیں ہوگیا”.. ولیم کچھ سوچتے کہا
“کہاں انوالو ہوسکتا ہے”..وہ اسی سے سوال کر بیٹھی..
“تم دیکھو اس کے کہیں آس پاس آفس گھر”.. ولیم نے کہا
“آفس میں تو ایسا کچھ نہیں لگتا.. ” ماریہ سوچتے ہوئے بولی
“پھر کہیں گھر کے پاس” کوئی ولیم نے اپنے تئیں اندازہ لگایا..
“گھر”…. وہ گھر کو وہ لمبا کھینچنے سوچتے ہوۓ بولی..
“زویا “ایک دم اسکے زہن میں زویا کا خیال آیا..
“وہ کون ہے”.. ولیم کو سمجھ نا آئی
“زویا اسکی کزن ہے اور اسکے ساتھ اسکے گھر رہ رہی تھی.. وہ تو شادی شدہ ہوا”.. اپنے معلومات کے مطابق بتایا.
“اگر شادی شدہ ہے تو وہ روحان کے گھر کیوں رہ رہی ہے اور کب سے” ولیم سوچ میں پڑ گیا..
“وہ چلی گئی ہے میں نے روحان سے پوچھا تھا اسکے بارے اسنے کہا کے اسکا ہسبنڈ آؤٹ اوف سیٹی ہے اس لئے وہ یہاں رہنے آئی ہے”.. زویا کے بارے میں جو اسکے پاس معلومات تھیں وہ سب اسنے ولیم کو بتائی..
“بےبی ہوسکتا روحان نے تم سے جھوٹ کہا ہو ہوسکتا ہے اسکا شوہر کوئی اور نہیں بلکہ روحان ہی ہو..” ولیم نے اسکی باتوں سے اندازہ لگاتے ہوئے کہا..
“ولیم پلیز مجھے ڈراؤ مت ایسا کچھ نہیں ہے”.. ماریہ کے ذہن میں سو خدشات جنم لینے لگے تھے..
“کیا تم نے چیک کیا اسکا گھر کے وہ چلی گئی ہے”..
“نہیں میں نے صرف روحان کی بات پہ بھروسہ کیا.. “
“تمہیں اس پہ بھروسہ نہیں کرنا چاہیے تھا یہ پاکستانی مرد ہوتے ہی ایسے ہیں یہاں کی لڑکیوں سے یہ بس ٹائم پاس کرتے ہیں شادی یہ پاکستانی لڑکیوں سے ہی کرتے ہیں کتنی بیوقوف ہو تم.. ” ولیم نے اسکا مذاق اڑایا جیسے..
“ولیم ہنی کے بارے میں ایسا مت کہو ہو سکتا ہے ہمارا اندازہ غلط ہو.. “
“ایز یور وش تم اس پہ بھروسہ کرتی ہو تو کرو”..
“آؤ پھر اسکے گھر چل کے دیکھتے ہیں وہ لڑکی وہاں ہے یا نہیں اگر ہوئی تو اس سے سچ اگل واۓ گے”..
کچھ ہی دیر میں وہ روحان کے فلیٹ کے سامنے کھڑے تھے… ولیم زرا ہیچھے کھڑا تھا دروازے کے سامنے صرف ماریہ تھی..
وہ کافی دیر ڈور ٹیل بجاتی رہی مگر دروازہ نا کھلا اور ناہی کوئی آواز آئی..
ماریہ نے اسے دیکھتے سر ہلایا “نو ریسپونس.. “
اور وہ چلے گئے..
جب ڈور ٹیل بجی تو زویا سوچ میں پڑ گئی کہ کون ہو سکتا ہے دروازے کے ہول سے باہر جھانک کر دیکھا تو ماریہ نظر آئی تو اس نے دروازہ نا کھولنے کا فیصلہ کیا..
“دیکھا تم نے وہاں کوئی نہیں تھا.. ایسے ہی تم نے مجھے شک میں ڈال دیا تھا..” ماریہ اسکے ساتھ گاڑی میں بیٹھتے ہی بولی..
“اگر روحان تم سے اس بارے میں کچھ پوچھے تو سمجھنا کچھ گڑ بڑ ہے”.. ولیم کچھ سوچتے ہوئے بولا
“کیا مطلب تمہارا..”ماریہ نے پوچھا..
“اگر روحان نے تم سے آج کے بارے میں پوچھا کے آج تم کیا کرنے آئی تھی گھر تو سمجھ جانا کوئی ہے جس نے تمہیں دیکھ لیا ہو.. “وکی نے شاطر انداز میں کہا..
“ہہم رائٹ ” ماریہ کچھ سوچتے ہوئے بولی..” اگر روحان چیٹر نکلا تو میں اسے چھوڑوں گی نہیں.”.
“ویسے کمال کی بات ہے ہر کوئی دوسروں کے عیب ڈھونڈنے میں لگا ہوا ہے اپنا عیب تو دیکھنا ہی نہیں “
…🌹🌹🌹
رات کو روحان گھر آیا تو دس بجے تھے.. گاڑی کی چابی کے ساتھ گھر کی چابی بھی اسکے پاس موجود ہوتی تھی لاک کھول کر وہ اندر آیا تو سامنے ہی زویا جو خود کے انتظار کرتے ہوئے پایا دروازے کھلنے کی آواز پہ وہ چونکی پھر روحان کو اندر آتا دیکھ اسکی طرف لپکی..
“حان”.. اس لپٹ گئی
کیا ہوا میری جان.. اتنی اداس ہوگئی”.. وہ اسکی کمر میں ہاتھ ڈالتے ہوے بولا
جی تو اور کیا..” جی چاہا کے ماریہ کا بتاۓ مگر خاموش رہی
“افف گھر آتےہی اتنا اچھا استقبال آفس میں تو دل ہی نہیں لگتا تمہارے بغیر تمہارا لمس ملتے ہی پرسکون ہوجاتا ہوں” وہ اسے اپنے ساتھ یونہی لگائے کمرے تک آیا تھا..
“اچھا اب جلدی فریش ہوں میں کھانا لگاتی ہوں بہت بھوک لگی ہے”..
“ہاں بھوک تو لگی ہے مگر پہلے کچھ میٹھا ہوجائے”.. وہ اسکو ہونٹوں پہ فوکس کئے بولا..
اسکا ارادہ بھانپتے ہی وہ اس دور ہوئی..
گھر آتے ہی آپکا بس یہی کام ہے ہوتا ہے آجائیں باہر جلدی میں کھانا لگاتی ہوں بہت بھوک لگی ہے”..
ہاۓ ظالم”.. وہ دل پہ ہاتھ رکھ کر مسکراتے ہوئے بولا
ہہم آپ سے تھوڑی کم”.. وہ ادا سے کہتی کمرے سے باہر چلی گئی ..
“بس اب یہ طعنہ ساری زندگی میرا پیچھا کرے گا.”. کہتے وہ کوٹ اتار کر شرٹ کے بٹن کھولنے لگا.. اسکا موبائل بج اٹھا..
“افف یہ الگ بلا پیچھے پڑ گئی ہے” موبائل ماریہ کالنگ دیکھ وہ بڑبڑایا..
“ییس..”
“ہیلو ہنی کیا کر رہے ہو.. “
وہ بڑے فریش انداز سے بولی
“کچھ نہیں ابھی آفس سے آیا ہوں تھکا ہوا ہوں.. “
“اچھا بہانہ ہے تمہارے پاس مجھ سے جاں چھڑوانے کا”.. لہجہ میں خفگی لئے بولی
“وقت ملنے دو کسی دن تمہارے ساری شکایتیں ختم کردوں گا”. وہ کچھ سوچتے بولا..
“کیا سچ میں .. تم میرے لئے وقت نکالو گے.. “
” ہاں نکالنا تو پڑے گا.. بہت محنت کررہا ہوں دن رات ..نیند بھی ٹھیک سے پوری نہیں کرپارہا دن بھر آفس میں بھی محنت سے کام کرتا ہوں .. “رات کو گھر بھی پوری محنت کرتا ہوں”.. آخری بات پہ اسنے زویا کو دیکھ ایک آنکھ دبائی جو اسے بلانے آئی تھی کھانے کیلئے ..
” اوہ ہنی یو آر سو سویٹ پلیز ابھی ٹھیک ہوئے ہو سو اتنی ہارڈ ورکنگ مت کرو”.. ماریہ نے جان بوجھ کے کال کی شاید روحان آج دن کے بارے میں بات کرے مگر اس نے کچھ نہیں کہا..
” اوکے گڈ نائٹ بےبی”..کہتے ہی کال کٹ کردی..
” روحان یہ کیا آپ ابھی تک یہیں کھڑے ہیں چینج بھی نہیں کیا”.. اسکی شرٹس کے کھلے بٹن دیکھ وہ بولی..
” اور کس سے بات کررہے تھے اسی چڑیل سے نا” وہ دونوں ہاتھ باندھے اسکے سامنے کھڑے غصہ سے گھور رہی تھی..
ہاہاہا.. روحان کی ہنسی چھوٹی اس چھوئی موئی کو دیکھ..
” آپ ہنس رہے ہیں”.. وہ مزید ناک چڑھاتی بولی
” ادھر آؤ میری جان “..اس نے اپنی شرٹ اتار دی
اسکو بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تو اسکی کمر اسکے سینے سے جا لگی ..
تھوڑی اسکے کاندھے پہ ٹکاۓ دونوں ہاتھ اسکے ہاتھ اسکے پیٹ پہ لپیٹے وہ شرارتاً بولا تھا..
” وہ تو کہہ رہی ہے شادی کرلو “..
” ہاں تو کرلیں نا شادی پھر اس سے.. مجھے کیوں پکڑا ہوا ہے” وہ لہجہ میں تلخی لئے بولی آنکھوں کے کنارے بھیک چکے تھے..
اب اسکا رخ اپنی طر ف موڑا تھا تھوڑی سے پکڑ کر اسکا چہرہ اپنی طرف اونچا کیا جو آنسوؤں سے بھیگ چکا تھا..
” اگر میں نے شادی کرنی ہوتی تو بہت پہلے کرچکا ہوتا مائے لو”.. تم نے میرا پیچھا ہی نہیں چھوڑا بھوتنی بن کر ہر پل میرے ساتھ رہی ہو.. “
آنسوں گالوں پہ بہہ گئے تھے..
” تو اب چھوڑ دیتی ہوں آپ کرلیں اپنی مرضی”.. بڑے ضبط سے کہا..
” ایک تو تمہارے یہ آنسوں اچھا چلو پھر تمہاری ہی مان لیتا ہوں”.. اسے اپنی بہانوں میں بھرے بیڈ تک آیا تھا..
“چھوڑیں مجھے” اس کی گرفت میں مچلنے لگی تھی ..
“کیا ہوا ابھی تو کہہ رہی تھی کرلیں اپنی مرضی اور اب کرنے بھی نہیں دے رہی.. “شرارتی انداز میں بولا..
“میرا یہ مطلب نہیں تھا میں نے کہا اگر آپ اس سے شادی کرنا چاہتے ہیں تو پھر کرلیں.. “
“ایک تو سنبھالی نہیں جا رہی.. تو دوسری کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا.. “
“اور یہ تم اپنا ننھا سا دماغ استعمال کرنا چھوڑ دو جو پہلے ہی کام نہیں کرتا.. سب مجھ پہ چھوڑ دو.. اب یہاں صرف اپنی باتیں کرو میں اور صرف تم” .. دونوں انگلیاں اسکی کنپٹی پہ رکھ کر بولا..
“
آپ جلدی سے اسے اپنے اور میرے رشتہ کے بارے میں بتا دیں”.. وہ اسکے گرد دونوں بازو لپیٹ کر معصومیت سے بولی تھی..
“ہاں بتا دوں گا جلدی پہلے کھانا تو کھلا دو پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہیں ایک تو چھوڑتی نہیں ہو ہر وقت اوپر چڑھی رہتی ہو”.. کوئی موقع نہیں چھوڑ تی تم”.. وہ شرارتی انداز میں بولا اسکا موڈ ٹھیک کرنے کیلئے..
“حان”.. زویا کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا تھا..
کیا!!
وہ کپڑے لئے واشروم گھس گیا..
…
🌹🌹🌹🌹
“بھابھی آپ میرے ساتھ مارکیٹ چلیں گی خریداری کرنی ہے کچھ سمجھ نہیں ایک مہینہ گزر گیا پتا ہی نہیں چلا.. اب آگے تو بس دن ہی ہیں شادی میں وقت کم ہے تیاریاں بھی کرنی ہے کچھ سمجھ نہیں آرہا..” سفینہ سیما سے بولی تھی .
“ارے سفینہ مجھ سے کہاں یہ مارکیٹوں وغیرہ کے چکر لگتے گھٹنوں میں درد ہے چلا تو جاتا نہیں”..
“جی یہ تو مجھ سے تو خود نہیں چلا جاتا زرتاج کسی کام میں دلچسپی نہیں لیتی..”# زرتاج کی طرف سے کافی پریشان تھی جو زرا بھی شادی کی تیاریوں میں دلچسپی نہیں دکھا رہی تھی..
“تو پھر ایسا کیوں نہیں کرتی تم زویا کو بلوا لو اب شادی میں آنا تو ہے نا اس نے اس بہانے میرا بیٹا بھی آجاۓ گا..” سیما بیٹے کے نام درد سے بولی..
“یہ ٹھیک کہا آپ نے میں آج ہی بھائی صاحب سے بات کرتی ہوں.. “
“زرتاج بیٹا مارکیٹ جانا ہے تم بھی چلو ساتھ اپنی پسند کی چیزیں لینا.. “
“امی میرا موڈ نہیں ہے.. وہ عدم دلچسپی دکھاتے بولی..
زرتاج آخر مسئلہ کیا ہے تمہارا.. کیوں تم نے سوچ لیا ہے تمہیں ہر صورت بس مجھے تنگ ہی کرنا ہے”.. وہ بےبسی سے بولیں..
“ماما پلیز ایموشنل بلیک میل مت کریں جب سب کام آپ نے اپنی مرضی سے کئے ہیں تو یہ سب بھی اپنی مرضی سے کرلیں”.. اور مجھے باتیں نا سنایا کریں.. “
وہ کہتی رکی نہیں تھی آٹھ کر کمرے سے باہر چلی گئی..
“زری.. زری”.. سفینہ پیچھے بس آوازیں دیتی رہ گئی..
پتا نہیں کیا بنے گا اسکا وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی..
🌹🌹🌹
..شام کے کھانے کے بعد سفینہ عالم صاحب کے پاس گئی انکے پاس زارون بھی بیٹھا تھا…” آؤ سفینہ بہن
بھائی صاحب. مجھے آپ سے کام تھا.. “
“تیاریاں شروع کی آپ نے بچی کی شادی کی پیسے اور چاہیے تو میں..”
” نہیں بھائی صاحب پیسے ابھی کچھ پہلے ہی آپ نے اتنی بڑی رقم دی جس میں سے ابھی ایک روپیہ بھی نہیں خرچ کیا میں نے ابھی”.. سفینہ نے انکی درمیان میں کاٹی
“مگرکیوں؟؟ اس مہینہ کے آخر میں شادی ہے دن کم ہیں
اور آپ ابھی مارکیٹ نہیں گئی کوئی بات ہے تو بتائیں”..
“میں اکیلی کیسے جاؤں بھابھی بھی اور میں بھی ایک جیسے ہی ہیں تھک جاتی ہیں میں سوچ رہی تھی کیوں نا زویا کو اب بلوا لیں دو مہینہ ہوگئے اسے گئے ہوۓ آجاۓ گی تو میرے لئے آسانی ہوجائے گی”..
“چاچی ٹھیک کہہ رہی ہیں ڈیڈ”.. زارون نے سفینہ کی تائید کی..
“ٹھیک ہے پھر میں کل ہی روحان سے بات کرتا ہوں”..
“بہت شکریہ میرا تو جیسا مسئلہ حل ہوگیا”.. وہ مسکراتی بولیں..
“یہ بات آپ مجھے پہلے بتا دیتی تو میں کب کا اسے بلوا لیتا.. “
…
🌹🌹🌹🌹
“زری تم نے چاچی کی بات کیوں نہیں مانی”.. روحا زرتاج نے سر پہ کھڑی بولی..
“کونسی بات نہیں مانی میں نے ساری ہی تو مانیں ہیں”..
“وہ تمہیں مارکیٹ چلنے کا کہہ رہی تھیں اور تم نے سنی ان سنی کردی وہ کتنا پریشان ہوگئی تھیں.. “
“یار روحی تم نا ہر وقت میری اماں نا بنا کرو جب دیکھو بس لیکچر دیتی رہتی ہو.. “
ہمیشہ کہی بات پھر سے دہرائی..
“دفع ہوجاؤ” وہ بس اتنا ہی کہہ کر اپنی کتاب لیکر بیٹھ گئی..
زرتاج نے اپنا موبائل اٹھایا جہاں ڈھیر سارے میسجز آۓ ہوۓ تھے..
“ایک تو اس بندے نے ٹھان رکھی ہے کہ میرا جینا حرام کرنا ہی کرنا ہے”..
روحا نے بس آنکھیں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا اور پھر سر ہلاتی کتاب میں نظریں گاڑھ لیں..
کچھ دیر بعد ارحم کی کال آگئی جسے اب کے بار زرتاج نے اٹھا لی..
“جی فرمائے ..”
“محترمہ کیوں ظلم ڈھاتی ہو.. اٹھا لیا کرو فون.. “
“میرے پاس آپ کے جتنا فضول وقت نہیں ہے.. “وہ تنک کر بولی..
“دیکھیے میرا وقت بھی اتنا ہی قیمتی ہے جتنا کہ آپ کا.. “مگر میں بھی آپ کیلئے وقت نکال لیتا ہوں اور آپ میرے لئے پانچ منٹ نہیں وقت دیں سکتی.. “وہ بے چارگی سے بولا..
“پانچ منٹ ہوگئے ہیں باۓ ..” کہتے کال کاٹ دی..
“زری تم اس بیچارے کوبھی نا.. “
“چپ..بلکل چپ منہ پہ انگلی رکھو ” تیز آواز میں روحی بیچاری کو ڈانٹا اسکی رونے والی شکل ہوگئی ..
..
🌹🌹🌹
ارحم اس کے فون کٹ کرنے کے بعد وہ موبائل میں اسکی تصویر دیکھے بول رہا تھا..
“کرلو جتنے نخرے کرنے ہیں زرتاج میڈم جب زرتاج بیگم بنو گی تب بتاؤں گا تمہیں.. پھر دیکھنا دن رات میرا دم بھرو گی”.. پچھلے ایک مہینہ سے وہ اسے ایسے ہی نخرے دکھا رہی تھی..


🌹🌹🌹🌹
روحان آفس میں بیٹھا کچھ ضروری فائل کا مطالعہ کررہا تھا جب اسکا موبائل بجا..
“ڈیڈ کالنگ.. دیکھتے ہی کال اٹھائی
“السلام علیکم ڈیڈ کیسے ہیں آپ.. “
“الحمدللہ میں ٹھیک ہوں بیٹا تم سناؤ کیسے ہو..”
“فائن ڈیڈ مام کیسی ہیں.. “
“ہاں ٹھیک ہے سب.. “
“تم سے کام تھا.. زویا بیٹی کو اب تم واپس بھیج دو پاکستان”..انہوں سیدھا آڈر دیا..
واٹ.. آئی مین کیوں سب خیریت.”. اچانک سے یہ بات سنتے ہی اس کے منہ سے نکلا
ہاہاہا.. عالم صاحب اپنی ہنسی پر قابو نہ رکھرسکے..
وہ خجل سا ہوا سر کھجانے لگا..
” بیٹا جی پہلے پوری بات تو سن لیں..”
میں یہ کہہ رہا تھا کہ زری کی شادی آنے والی ہیں اور تمہاری چاچی سے تیاری نہیں ہو پا رہی ہے زویا تمہاری چاچی کی ہیلپ کروائے گئے شادی کی تیاریاں کرنے میں.. “
“جی ڈیڈ ” اب وہ سمجھا تھا..
“چلو جلدی سے اب تو زویا کی پاکستان کی ٹکٹ کنفرم کرو اور جلدی پاکستان بھیج دو..”
” آپ پوچھ رہے ہیں یا آرڈر دے رہے ہیں مجھے.”
” کیونکہ کیا تمہارا زویا کو بھیجنے کا دل نہیں چاہ رہا ہے اب”..وہ مسکراتے ہوئے بولے ..
“نہیں ایسی بات نہیں ہے میں دیکھتا ہوں..”روحان سر کھجاتے بولا.
” اچھا ٹھیک ہے پھر بتا دینا.. “
“جی بتا دوں گا ” اداس لہجے سے کہا گیا..
جو عالم صاحب نے بھانپ لیا تھا مگر خاموش رہے اور دل میں خوشی بھی ہوئی.. “اب تم بھی خود آؤ گے یا پھر منتیں کروانی ہے پاکستان آنے کیلئے.. “
“ایک شرط پہ آؤں گا” روحان کچھ سوچتے ہوئے بولا..
“چلو پھر بتاؤ شرط.. “
ہاہا.. بھئی یہ شرط تو ماننے والی ہے”.. شرط سنتے ہی عالم صاحب خوشی سے اچھل پڑے تھے..
“ہاں مگر ابھی سیکرٹ رکھنی ہے یہ بات بسس ماما اور چاچی کو بتا دیجئے گا زویا کو تو سرپرائز کرنا ہے” ..
“تم فکر نا جیسا تم چاہ رہے ہو ویسا ہی ہوگا انشا اللہ “
اور کچھ ادھر ادھر کی باتیں کر کے فون بند کر دیا
اور وہ موبائل کو دیکھتے رہ گیا کہ ” اب یہ کیا نیا ظلم ڈھا دیا گیا تھامجھ غریب پہ.. “
..
🌹🌹🌹
زویا سارا کچن کا کام ختم کرکے کمرے آئی تو روحان لیپ ٹاپ پہ آفس کا کام کررہا تھا جب وہ پاس آکر بیٹھی تو لیپ بند کرکے بیگ میں ڈالا اور اس میں سے ایک لفافہ نکال کر اسے تھمایا..
“یہ کیا” نا سمجھی سے اسکی جانب دیکھا..
“تمہاری ٹکٹ پاکستان کی”.. چار دن بعد کی..
“کیا.. سچی..” وہ تو خوشی اچھل پڑی..
اسکی دیدنی خوشی دیکھ وہ تو حیران ہوگیا..
عالم صاحب کے حکم کے مطابق اس نے زویا کی پاکستان کی ٹکٹ کروائی تھی آفس سے آنے کے بعد اسنے سوچا کھانا کھانے کے بعد آرام سے اسے بتاۓ گا مقابل کے ایسے ری ایکشن سے مایوسی ہوئی..
آپ نے بڑی جلدی ٹکٹ کروادی”.. وہ خوش ہوتی بولی
“ہاں تم مجھ سے تنگ جو آئی ہوئی تھی اسلیے وہ “سنجیدگی سے اسکے چمکتے چہرے کو دیکھتے ہوئے بولا..
”ایسی بات نہیں ہے” مسکراتے ہونٹ سکڑے تھے…
“خوش تو تم ایسے ہی ہورہی ہو”.. اسکے چہرے سنجیدگی سے بغور تکتے کہا..
“نہیں میں اس لئے خوش ہوں ماما سے ملوں گی سب سے اور سب بہت یاد آتے ہیں” ..خوشی کی وضاحت دی
“ہہم.. تم آنا کب چاہتی تھی زبردستی بھیجی گئی ہو.. تایا ابو نے بھیجا ہے”.. تلخ لہجہ اختیار کرگیا..
“ایسی بات نہیں ہے حان..” آئی لو یو سو مچ”.. کہتے اس کے چوڑے سینے سر رکھ کر رونے لگی..
اسکے اظہار پہ روحان مسکرا گیا تھا..
زویا نے سر اٹھا کر اسے دیکھا تو وہ مسکرا رہا تھا..
“آپ مجھے تنگ کررہے ہیں”.. وہ اٹھنے تو روحان اس پہ گرفت مضبوط کرتی..
“تو کیا کہہ رہی تھی تم زرا دوبارہ کہنا میں نے ٹھیک سے سنا نہیں.. “
میں نے کچھ بھی نہیں کہا”.. شرمائی سر جھکا گئی.. اب روحان نے اسے بیڈ کیساتھ لگایا اور خود اسکے اوپر آیا تھا..
“تمہارا یہ اظہار مجھے سر شار کرگیا..”
میں مانتا ہوں میں نے ماضی میں بہت غلطیاں کی ہیں اب ان غلطیوں کو سدھارنے کا وقت ہے.. مگر تم نے ان سب کے باوجود بھی مجھ سے محبت کی ہے ورنہ تم میری دسترس میں نا آتی ..”
“تمہاری اسی محبت نے مجھے تم سے باندھے رکھا تھا”.. اور مجھے کہیں اور نکلنے کا راستہ ہی نہیں ملا میں گھوم پھر کر تمہاری بانہوں کے حصار میں ہی آگیا”..
مجھ بےپرواہ انسان کو اپنانے کا شکریہ”..
اس ماتھے پہ دھکتے لب رکھے تھے.. وہ دو جسم ایک جان ہوگۓ تھے..
” نفرتیں جتنی بھی طاقتور ہوجائیں محبت کا ایک لمحہ ہی کافی ہے اسے ہرانے میں”..