94.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Beparwah) Episode 13

عالم صاحب روحان پہ زور ڈال رہے تھے پاکستان آنے کیلۓ تاکہ ۔ وہ زویا کو اسکے ساتھ رخصت کر سکے مگر وہ بزنز کا بہانہ بنا کر انہیں ٹال رہا تھا۔۔
روحان آفس پریشان سا بیٹھا تھا۔۔جب وکی آیا تھا۔۔
“کی ہویا یار۔۔ اب کیا ٹینشن ہے ۔۔”
“ٹینشن وہی پرانی ہے یار” روحان بےزار سا بولا تھا۔۔
“ڈیڈ بلا رہے ہیں پاک تین سال ہوگۓ ہیں واپس آجاؤ رخصتی کرنی ہے۔۔”
“ہاں تو کرلے اس میں ٹینشن کی کیا بات ہے” ویاہ دا لڈو کھالے۔۔”تنگ کرتے بولا..
“فضول بکواس مت کرو میں ماریہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں ۔۔”
اسکی بات پہ وکی ک دل کیا کہ اسکے سر پہ کچھ دے مارے کے اسے عقل آۓ۔۔”اور یار ہوش کر کجھ ۔۔ماریہ جیسی کڑیاں گھر بسانے لائق نہیں ہوتی ۔۔او پاکستانی کڑیاں ان سے ہزار درجے بہتر ہے۔”
“مجھے وہ دبو سی ڈرپوک لڑکیاں بلکل بھی نہیں پسند۔۔ “جو میچور ہو اٹیٹیوڈ ہو ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل سکے جسے لوگوں سے بھی انٹریڈیوس کرواتے شرمندگی نا ہو”۔۔روحان وکی کو اپنی بات سمجھاتے بولا۔۔
“یار وہ ڈرپوک نہیں معصوم ہوتیں ہیں۔۔ اور یہ جو دنیا کو دکھانے والی ہوتی ہیں نا وہ دکھاوا ہی ہوتی ہیں”۔۔وکی اسکی باتوں میں پھر بھی نا آیا۔۔
“میری ماریہ سے کمٹمنٹ ہو چکی “۔۔روحان اپنی بات کہتا اب لیپ میں مصروف ہوگیا جسکا مطلب تھا کہ وہ جا سکتا ہے۔۔
“ایک ادھر رکھ لے لوگوں کو دکھانے کیلۓ ایک اُدھر رکھ لے ماں باپ کی خدمت کیلۓ کیوںکہ یہ والی رہی انکی خدمت کرنے سے” وکی اپنی بات مکمل کرتا وہاں سے چلا گیا۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
آج روحان اور ماریہ ساتھ ڈنر کر رہے تھے اب وہ ویکنڈ پہ ایک دوسرے ساتھ ٹائم اسپینڈ کر تے تھے۔۔
روحان پوری کوشش کر رہا تھا ماریہ کے ساتھ اڈجسٹ کرنے کی اسے کوئی دلی لگاؤ نہیں تھا ماریہ سے جیسے وہ خود کے ساتھ زبردستی کررہا ہو۔۔
اورادھر ماریہ خوش فہمی میں تھی کہ روحان کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔۔
روحان ماریہ سے اس لئے دل لگانے کی کوشش کر رہا تھا کہ زویا کا خیال بھی اس کے دماغ سے نکل جاۓ۔۔
ڈنر کے بعد وہ ہمیشہ کی طرح ساحل پہ آۓ تھے پھر کچھ دیر وہاں رکنے کے بعد وہ گھر کیلۓ نکلے۔۔
روحان نے گاڑی ماریہ کے گھر کے آگے روکی۔۔مگر ماریہ نہیں اتری۔۔
“کیا بات ہے تم نے گھر نہیں جانا” ۔۔اسے اٹھتا نا دیکھ روحان نے پوچھا۔۔
ہہم جانا ہے مگر تمہارے ساتھ۔۔ مار یہ روحان کا بازو پکڑ کر بولی۔۔
“ابھی نہیں پھر کبھی “۔۔روحان اس کے ہاتھوں سے اپنا بازو چھڑاتے بولا تھا۔
“نو کم” ماریہ بولتی گاڑی سے باہر نکلی تھی۔۔اور روحان کی سائیڈ آکر دروازہ کھول کر کہا۔۔” چلو نکلو جلدی”اسکا بازو پکڑ کر اسے باہر نکالا۔۔
روحان گاڑی لاک کرتا اسکے پیچھے آیا۔۔
ماریہ نے پرس سے چابی نکال کر گھر کا دروازہ کھولا۔۔ اور وہ اسکا بازو پکڑ کر اندر آئی تھی۔۔اور اسے اپنے کمرے میں لے آئی۔۔
اس وقت ماریہ نے پینٹ کوٹ پہنا ہوا تھا تم میرا ویٹ کرو میں آئی ۔۔ماریہ کہتے ہی واشروم چلی گئی۔۔
روحان کمرے میں رکھے صوفہ پہ بیٹھ گیا تھا ادھر اُدھر چیزوں کو دیکھ رہا تھا ۔۔کچھ دیر بعد ماریہ باہر آئی تھی اپنے تمام حسن کے ہتھیاروں سے لیس تھی۔۔ بلیک کلر کی نائیٹی پہنے جو کاندھوں سے بس ڈوری سے باندھی تھی اور گھٹنوں سے کافی اوپر تھی بلیک کلر میں اسکا سفید جسم نمایا نظر آرہا تھا۔۔
روحان اسے دیکھتا کھڑا ہوا تھا ۔۔وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی اسکے پاس آئی تھی اور اسکے کوٹ کو گریبان سے پکڑتی بولی۔۔” کیا ہوا ایسے کیا دیکھ رہے ہو” وہ سر غوشی کرتے اسکی آنکھوں میں دیکھتی بولی تھی۔۔
روحان تو حیران ہو رہا تھا اسکی اس بےباکی پہ۔۔اور پھر ماریہ نے روحان کا کوٹ اتار دیا ۔۔اور اسے بیڈ پہ دھکا دیا ۔۔روحان ابھی بھی شاک سا اسکی حرکتیں دیکھ رہا تھا۔۔
روحان بیڈ پہ سیدھا ہوکہ بیٹھتا کہ ماریہ بھی بلکل ساتھ اسکے اوپر ہی جھکی اور اسے اٹھے سے روک دیا اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دھیما مسکرائی۔۔
اسکی مسکراہٹ میں روحان کو کسی اور کا عکس نظر آیا اور اسے پرے ہٹاتا اٹھ بیٹھا اور جلدی سے اپنا کوٹ اٹھایا اوکے گڈ نائیٹ بغیر اسے دیکھے جلدی سے کہتا باہر نکل گیا ۔۔
ماریہ کو بے حد غصہ آیا نو روحان” یو ڈونٹ ڈو دز” وہ چلائی تھی۔۔ غصہ اسنے کشن اٹھا کر نیچے دے مارے ساری بیڈ شیٹ کھینچ کر نیچے پھینکی
🥀🥀🥀🥀🥀
روحان تیز گاڑی دوڑاتا اپنے فلیٹ پہ آیا تھا آیا تھا۔۔
وہ اپنے آپ کو بے بس سا محسوس کرنے لگا تھا۔۔ وہ جب ماریہ کے قریب آیا اس میں اسے “زویا ” کا عکس نظر آتا تھا۔۔
اپنے روم میں آکر اسنے دراز سے لائیٹر اور سیگریٹ نکالی تھی ۔۔اور پھر سے دھواں آڑانے لگا آج اسکی رات پھر اس دھواں اڑاتے کٹنی تھی۔۔
جب سے وہ یہاں آیا تھا اپنوں سے دور رہنا اسکے لئے بے حد مشکل تھا۔۔ پردیس میں رہنا کتنا مشکل ہے وہ یہاں ضد لگا کر آ تو گیا مگر اسکا وقت جیسے ٹھہر سا گیا۔۔
دل کرتا بھاگ کر پاک چلا جاۓ مگر ایک ضد جو اسے لئے بیٹھی تھی۔۔ زویا سے جڑے رشتہ کی رہائی وہ سمجھتا تھا کے گھر والوں کو ایموشنل کر کے ڈائیورس کر والے گا مگر اب یہ نا ممکن ہوتا نظر آرہا تھا اسکے ڈیڈ اسکی یہ شرط بلکل بھی ماننے کو تیار نہیں تھے۔۔
اور کوئی راستہ نظر نہیں آیا تو اسے ماریہ والا آپشن دکھائی دیا۔۔
اب وہ اس میں بھی ناکام ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
اگلے کئی دن تک ماریہ روحان کو نہیں ملی نا اسنے کوئی کال یا میسیج کیا ۔۔
روحان نے سوچا اسے ماریہ سے بات کرنی چاہیے۔۔
وہ آفس سے سیدھا ماریہ کے گھر گیا تھا۔۔ ایک دو بیل دینے کے بعد گھر ایک بوڑھی عورت نے کھولا تھا۔۔
‏کون ہے گرینی ماریہ بھی پیچھے ہی آئی تھی کہ روحان کو دیکھ سرپرائزڈ ہوئی تھی اور خوش بھی کہ روحان اسکے پہچھے دوڑا چلا آیا۔۔
” ‏روحان تم “وہ بلکل سیریس ہوتی بولی۔۔
” ‏یہ کون ہے” گرینی نے پوچھا۔۔
” او روحان کم ان۔۔” ماریہ نے اسے اندر آنے کا کہا ۔۔ وہ اندر آکر بیٹھ گیا۔۔
” ‏گرینی یہ میرا دوست ہے “۔۔
“اچھا اچھا۔۔ تم بیٹھو میں تمہارے لہؐئے کچھ کھانے کو لاتی ہوں ۔۔۔”
” ‏نہیں گرینی میں دے دوں گی” آپ جائیں آرام کریں۔۔
‏وہ اسکا بازو پکڑ کر اپنے کمرے لے گئی۔۔
” ‏کیوں آۓ ہو یہاں۔۔ ” وہ منہ بسورتی بولی
” ‏میں تم سے ملنے آیا ہوں”۔۔ وہ اسکے سامنے کھڑا ہوتا سنجیدگی سے بولا۔۔
” ‏کیوں “۔۔ وہ اسے دیکھتے سیریس ہوتی بولی۔
“کیوں کا کیا مطلب ہے۔”۔وہ صوفہ پہ بیٹھتا بولا۔۔
” ‏دیکھو ماریہ میں نے تم سےشادی کی کمیٹمنٹ کی ہے اور یہ سب جو تم کر رہی تھی یہ سب شادی کے بعد ہو تو بہتر ہے۔۔”
” ‏روحان کب کرو گے شادی۔۔” وہ سنجیدگی سے بولی تھی اور اسکے بلکل قریب آکر کھڑی ہوئی تھی۔۔
” ‏بہت جلد” روحان نے اسے دونوں کاندھوں سے تھام کر کہا تھا اور مسکرانے کی کوشش کی۔۔
وہ اسکے گلے لگی تھی تھوڑی دیر بعد روحان نے اسے کاندھوں سے تھام کر پیچھے کیا تھا۔۔
“بہت جلد میں اپنے پیرنٹس سے بات کروں گا”۔۔ اسکی تھپتھپاتا باہر نکل گیا۔۔
‏🥀🥀🥀🥀
‏
‏روحان کا بزنس اپنی ترقی کی راہوں پہ تھا اسے بڑے بڑے پراجیکٹس ملنے لگے تھے مارکیٹ میں اسکا نام ابھر رہا تھا۔۔
‏عالم صاحب نے روحان کوبہت فورس کررہے تھے پاکستان آنے کیلۓ۔۔
‏آج بھی ان دونوں باپ بیٹےکی بحث جاری تھی۔۔
” ‏روحان بس بہت انتظار کرلیا تمہارا اور کتنا انتظار کرواؤ گے تمہاری ماں تمہارے انتظار میں ادھ موئی ہوئی جا رہی ہے۔۔ زویا بچی کی کچھ فکر لو۔۔”
‏زویا کے نام پہ اسے تپ چڑھی تھی۔”ڈیڈ جب تک آپ اس زویا کو میری زندگی سےنکال باہر کریں گے میں تب آجاؤ گا ۔۔جلدج ڈائیورس کروائیں میری رہائی دلادیں اب مجھے اس بےجوڑ رشتہ سے”
” ‏روحان” ۔۔ عالم صاحب چلاۓ تھے۔۔
“‏بس ڈیڈ آپ نے اپنی من مانی کرنی تھی کرلی اب میں وہی کروں گا جو میری مرضی ہے۔۔۔ میں اس سے شادی کرونگا جو مجھے پسند ہے میں ماریہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں “۔۔روحان نے عالم یوسف ملک کو صاف صاف کہہ دیا۔۔
” ‏روحان۔۔” عالم صاحب غصہ سے غراۓ تھے۔۔”ٹھیک ہے میرے جیتے جی تو زویا ہی میری بہو رہے گی بس تم نے جو کرنا ہے کرلو” ۔۔ اور انہوں نے فون بند کردیا۔۔
روحان کو اچھا نہیں لگا تھا اپنے ڈیڈ سے یوں بات کرنا انکا دل دکھانا۔۔
پھر دوبارہ روحان کا عالم صاحب سے رابطہ نہیں ہوا تھا۔۔وہ کال کرتا تو عالم صاحب کال نہیں اٹھاتےتھے اب۔۔
وہ بھی فیصلہ کر چکا تھا اپنی بات منوا کے ہی رہے گا ۔۔
اپنی ماں سے اسکی بات ہوتی رہتی وہ بھی اپنے بیٹے کے حق میں تھی۔۔
چار سال کا عرصہ بیت گیا روحان اپنے بستر پہ لیٹا ماضی کی یادیں دہرا رہا تھا کیسے اسنے اتنا عرصہ اپنوں کے بغیر گزار دیا اس زویا کی وجہ سے اب شاید وہ اپنے بھائی کی منگنی میں بھی نا جاۓ ورنہ اس زویا کو زبردستی اسکے پلے باندھ دے ۔۔
زارون بھی اسے کئی بار آنے کا بول چکا ہے ۔۔
دو مہینے گزرے اور منگنی کا دن بھی آن پہنچا روحہ کی بات بھی مان لی گئی اسکے سیکنڈ ائیر کے پیپر بھی ہوگۓ تھے۔۔ اور اسکے پاس موبائیل فون بھی آگیا تھا جو زارون نے اسے روحان کے کہنے پہ دلا یا تھا۔۔
دو دن بعد منگنی تھی اور گھر میں مہمان بھی اچکے تھے انکی شاہانہ پھپو اور انکا بیٹا عمارشاہد جو زویا کا ہم عمر تھا۔۔
عمار زرتاج اور روحا نے گھر کو مچھلی مارکیٹ بنایا ہوا تھا۔۔ہر وقت مزاق چھیڑ چھاڑ ایک دوسرے کیساتھ زارون کو تو تینوں نےآڑے ہاتھوں لیا ہوا تھا۔۔۔
عمار اور زویا بچپن کے دوست تھے جب زویا کا نکاح ہوا تو عمار نہیں شامل ہوا تھا کیونکہ اسے اچھا نہیں لگا تھا۔۔
وہ کافی عرصہ بعد یوسف ولا میں آیا تھا۔۔
زویا کچن میں تھی۔۔زیادہ وقت وہ یہیں پائی جاتی تھی۔۔
“ارے لڑکی کبھی اس موہے کچن کی جان بھی چھوڑ دیا کرو”۔۔ عمار جو باہر سے سیدھا کچن میں آیا تھا زویا کوکچن میں کھڑا دیکھ بول پڑا۔۔
“ہہم تو آپ شام کو کھایں گے کیا اگر کچن کی جان چھوڑ دی تو ” زویا کچن میں شام کے کھانے کی تیاری کررہی تھی۔۔
“تو کونسا بھوکے مر جائیں گے سب زویا ابھی تم اس گھر کی بہو بنی نہیں ہو جو یوں انکی اتنی سیوا کرنے پہ جٹی ہو”۔۔عمار کچن میں رکھی کرسی پہ بیٹھتا بولا
“یہ سب میرے اپنے ہیں “زویا نےکہا۔۔
“ہہم اپنے۔۔۔ یہی اپنے تمہارے ویران اور اداس زندگی کی وجہ ہے۔۔ باہر کی دنیا دیکھو اور خود کو دیکھو۔۔ چھوڑ دو اس روحان کا انتظار کرنا اسٹینڈ لو اپنے لئے۔۔”
“عمار تم یہاں منگنی پہ آۓ ہو ناکہ میرے مسئلہ الجھانے آۓ ہو” ۔۔زویا کو اسکا یوں اہنے لئے بولنا اچھا نہیں لگاتھا۔۔”چپ چاہ منگنی دیکھو انجواۓ کرو اور جاؤ۔۔”
عمار اسی وقت کچن سے باہر چلا گیا مطلب صاف تھا کہ اسے زویا کی بات اچھی نہیں لگی۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
“بھائی صاحب اب اور کتنا انتظار کرواۓ گے آپ روحان کو آپ باہر سے بلا لیجۓ اور زویا کو رخصت کرواۓ لوگ اب طرح طرح کی باتیں کرنے لگیں ہیں” شاہانہ عالم صاحب کے کمرے میں بیٹھی تھی ۔۔۔
“شاہانہ میں خود یہی چاہتا ہوں میری اولاد ہی مجھے نیچا دکھانے میں تلی ہوئی ہے۔۔مجھے بھی سمجھ نہیں آرہا کچھ ۔۔”
“زارون کی منگنی کے بعد آپ فیصلہ کر لیجئے آر یا پار”۔۔
سفینہ روم داخل ہوتی بولی تھی۔۔
” سفینہ یہ تم کیا کہہ رہی ہو مطلب کیا ہے تمہاری بات کا”۔۔ شہانہ نے کہا۔۔ عالم صاحب بھی اسے دیکھ رہے ہیں
” میں ٹھیک کہہ رہی ہیں اور اگر روحان نہیں مان رہا۔۔ تو اس کے ساتھ ضد لگانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔۔ فیصلہ مشکل ہے۔۔ مگر مجھے اپنی بچی کے لئے کرنا ہے۔۔ “میں مزید اپنی بچی کو انتظار کی سولی پر نہیں لٹکا سکتی”
۔۔۔ “مجھے کوئی اعتراض نہیں اب جو چاہے فیصلہ کر سکتے ہیں” سفینہ فیصلہ کن بات کی تھی جیسے وہ سوچ چکی ہوں ۔۔۔
“زویا میری بہو ہے رہے گی بسس اگر یہ ضد ہے تو ضد ہی سہی”۔۔ عالم صاحب نے بھی دو ٹوک جواب دیا تھا۔۔
شہانہ اٹھ کر سفینہ کے پاس آئی اور اسکا ہاتھ پکڑ کر بولی” سفینہ تمہیں عالم بھائی کی بات ماننی چاہئے ایسا کوئی بھی فیصلہ تمہاری بیٹی کی زندگی مزید خراب نا کردے۔۔”
“بھائی صاحب ہمیں اب سوچ لینا چاہئے یہ فیصلہ کن گھڑی ہے چار سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہے۔۔”
عالم صاحب نے بس سر ہلانے پہ اکتفا کیا۔۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀
کل منگنی ہے روحا اب تک تیاری نہیں پوری ہو رہی۔۔
سیما روحا کے کمرے میں کھڑی اسے ڈانٹ رہی تھی۔۔
ماما بس جیولری رہ گئی ہے اور میچینگ کی سینڈلز بس ۔۔
“عمار سے کہتی ہوں تمہیں لے جاۓ پتا نہیں کیا بنے گا تمہارا۔۔”
“ماما زارون بھائی کیساتھ جانا۔۔۔”
“زارون آفس کی جان چھوڑے تب نا آج بھی آفس کی جان نہیں چھوڑی اسنے “سیما غصہ سے بھری پڑی تھی۔۔
“ماما ۔”۔۔
“چپ جو تمہارے پاس ہے اسی سے کام چلاؤ”۔۔ سیما اسگ جھاڑ پلاتی چلی گئی۔۔
“روحا فون اٹھا یا اور روحان کو کال کی” ۔۔۔جو اسنے نہیں اٹھائی
پھر وٹس ایپ پہ سٹیٹس لگایا رونے والی ایموجی کے ساتھ لکھا۔۔”دل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گۓ۔۔”
زرتاج روم میں آئی تھی۔۔”اب تمہارے ارمانوں کو کیا ہو گیا۔۔”
روحا بیڈ پہ اوندھے منہ لیٹی ہوئی تھی۔۔ وہ سیدھی ہوکر بیٹھی منہ لٹکا ہوا تھا۔۔
“کیا ہوا روحی اب یہ منہ کیوں لٹکا ہوا ہے۔۔”
“مجھے جیولری اور میچنگ کی سینڈلز لینی ہیں “۔۔وہ منہ بسورتی بولی۔۔
“روحی تم نے لے لیا تھا سب کچھ۔۔” زرتاج اسکے سر پہ کھڑی بولی تھی۔۔
“ہاں مگر اب وہ مجھے اچھی نہیں لگ رہی مجھے اور لینی ہے۔۔”
“یہ سب تمہارے بہانے بس ہوجانے دو زارون کی منگنی کچھ نہیں ہونے والا یہ الٹے سیدھے ڈرامہ کر کے تم کامیاب نہیں ہونے والی۔۔”