Beparwah Season 1 By Ayesha Noor Readelle50280 (Beparwah) Episode 24
Rate this Novel
(Beparwah) Episode 24
زرتاج یونیورسٹی سے گھر آئی تو بہت تھکی ہوئی تھی آہستہ آہستہ چل رہی تھی کاندھے پہ بیگ لٹکاۓ دو کتابیں ہاتھ میں پکڑی تھیں ۔۔ابھی سیڑیاں چڑھنے لگی تھی کہ اسے پیچھے سے سفینہ کی آواز دینے پہ رکی مگر مڑی نہیں۔۔
“زری ۔۔ زری بیٹا میری بات تو سنو۔۔”
“جی بولیں اب”۔۔ انکی طرف پلٹ کر بولی جبکہ چہرے پہ بیزاریت تھی۔۔
“ناراض ہو اپنی ماں سے ” وہ بے حد نرمی سے بولی تھیں۔۔
“نہیں ۔۔” وہ پھر سیڑھی چڑھنے لگی۔۔مگر سفینہ کے ہاتھ پکڑ لینے سے رکی تھی۔۔
“زویا کے مستقبل کا تو پتا نہیں کیا بنے گا مگر میں تمہارے مستقبل سے مطمئن ہو کر مرنا چاہتی ہوں “۔۔
“ماما پلیز ایسا تو نا کہیں اب۔۔” زرتاج کے دل کو کچھ ہوا تھا سفینہ کی بات پہ سے اسے گلے لگا گئی۔۔
“اللہ پاک آپ کو ہماری بھی عمر لگا دے آپکا غم ہم سے برداشت نہیں ہوگا اب یہ بات میں آپکے منہ سے دوبارہ نا سنو”۔۔
” میں آپ کو چھوڑ کر نہیں جانا چاہتی میں نہیں رہ سکتی آپکے بغیر آپ سب کچھ ہے میرے لیے مجھے اسلے نہیں کرنی شادی” ۔۔ زرتاج کی آنکھیں نم ہوئی تھی۔۔
“بیٹا میری خواہش ہے کہ میں تمہارا گھر بستا ہوا دیکھوں۔۔” سفینہ نے پیار سے اسکی ٹھوڑی پکڑ کر کہا۔۔
“آپکی خواہش سر آنکھوں پہ ” زرتاج انکا ہاتھ پکڑتی بولی۔۔
“جیتی رہو.. چلو تم فریش ہوجاؤ میں کھانا لگاتی ہوں صبح ناشتہ بھی نہیں کیا”۔۔وہ خوش ہوئیں
“نہیں ماما میں نے برگر کھا لیا تھا اب بھوک نہیں ہے مجھے کچھ دیر بعد کھاؤں گی زویا سے بات بھی کرنی ہے کل بھی بات نہیں کی روحی ہر وقت لگی رہتی ہے”۔۔وہ تیزی سے سیڑھیاں چڑھتی بولی۔۔
کمرے میں آئی تو روحا پہلے سے کمرے میں موجود تھی۔۔اور زویا کیساتھ ویڈیوں کال پہ لگی تھی۔۔
“ویلوں کو اور کوئی کام نہیں”۔۔ زرتاج ٹیبل پہ اپنی بکس اور بیگ رکھتی بولی۔۔
“ہاں تم تو بہت کامی ہو نا” روحا فٹ سے جواب دیتی بولی تھی۔۔
“تم بھی آجاؤ کیوں جل رہی ہو”.۔زویا بولی تھی۔۔
“ہاں ہاں بھئی ایک میں ہی رہ گئی ہوں تم نند بھابھی سے جلنے کیلے” زرتاج روحا کے پاس جگہ بناتی بولی تھی۔۔
“بس تمہارے دن کم رہ گئے ہیں اب ہنسے کھیلنے کے اس لیے”۔۔ روحا زری کو چھیڑتے بولی تھی تو زری نے اسے آنکھیں دکھائی
“کیا مطلب ہے بھئی تمہارا” زویا نے کہا۔۔۔
مطلب یہ کے اب یہ بھی کہہ رہی ہے ” مجھے ساجن کے گھر جانا ہے” روحا گاتی ہوئی زری کو آنکھ ماری
تو زری نے اسکی کمر پہ دھموکا جڑا۔۔
” آؤچ زری کتنا ہاتھ بھاری ہے تمہارا” ۔۔وہ کراہتی بولی۔
“ہاں تو بکواس کیوں کر رہی ہو۔”۔زری نے بھی غصہ سے کہا۔۔
“کیا ہوگیا ہے لڑکیوں لڑائی کس بات کی ہے انہیں سنجیدہ ہوتے” دیکھ زویا فٹ سے بولی تھی۔۔
“ارے کچھ نہیں بھابھی اسکے رشتہ کیا آنے لگ گۓ ہیں ایسے ہی ہوگئ ہے بہت جلدی ہے اسے اس گھر سے جانے کی”۔۔روحا پھر بھی اسے چھیڑنے سے باز نہیں آئی
“تم فکر نہیں کرو تمہاری باری بھی آنی ہے پھر میں دیکھوں گی”۔۔زری نے کہا۔۔
“یار کوئی مجھے سہی سہی بتاۓ گا بات کیا ہے” آخر انہیں پھر سے بھڑتا دیکھ زویا بولی۔۔
“زوئی ماما میری شادی کی باتیں کرنے لگی ہیں اب کہہ رہی ہیں اب میرا گھر بستا دیکھنا چاہتی ہیں ایموشنل بلیک میلنگ کر رہی ہیں ” زرتاج نے مسکین سی شکل بناتے کہا تو زویا کو ہنسی آئی تھی۔۔
“ہاں ہاں ہنس لو اب تم لوگ “زرتاج مصنوعی ناراضگی سے بولی۔۔
“یار کیا ہوگیا ہے اب یہ تو ایک نا ایک دن ہونا ہی ہے ماما بھی ٹھیک کہہ رہی میرا ووٹ ماما کی طرف ہے “۔۔ زویا نے کہا تو اسنے منہ بسورا۔۔ ایسے کٹر پٹر کرتے کافی وقت گزر گیا۔۔
🥀🥀🥀🥀
روحان رات دس بجے آفس سے گھر آیا تھا۔۔ اپنے کمرے کا دروازہ کھولتے ہوۓ اسنے زویا کے کمرے کے دروازے کو گھورا تھا ایسا وہ ہر روز آتے جاتے کرتا تھا اس دن کے بعد سے دونوں کا سامنا ہی نہیں ہوا تھا ۔۔ اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر ایک پاؤں ابھی کمرے میں رکھا تھا کہ زویا کے زور زور سے کھلکھلا کر ہنسنے کی آواز آئی تھی۔۔
اس کے کان کھڑے ہوۓ تھے زویا کے ہنسنے پہ۔۔اور تجسس کے مارے اسکے کمرے کا دروازہ کھول اندر داخل ہوا۔۔
زویا ویڈیو کال پہ روحا اور زرتاج کیساتھ لگی تھی بیڈ پہ پیٹ کے بل لیٹی تھی اور موبائیل بیڈ کراؤن کیساتھ سیدھا لگایا تھا اور سامنے کا منظر آسانی سے نظر آسکتا تھا۔۔
روحا اور زرتاج کی ہنسی کو بریک لگی تھی جب انہیں زویا کے پیچھے روحان کھڑا نظر آیا ۔۔
زویا کی بھی نظر ویڈیو کال پہ اپنے پیچھے کھڑے روحان پہ پڑی اور فورن سے اٹھ بیٹھی تھی۔۔
روحان نے موبائل پکڑا اور زویا کیساتھ چپک کے بیٹھ گیا ۔۔ “کیوں چھپکلیوں اب بریک کیوں لگ گئی تم لوگوں کی لگتا ہے میری مسز برائیاں کرہی ہو گی میری”۔۔ روحان نے شرارت بھرے انداز میں کہا تھا۔۔
زویا اپنے حلیہ پہ شرمسار سی بیٹھی تھی لائٹ پنک سادہ سیا سوٹ پہنے جبکہ ڈپٹہ صوفہ پہ جھول رہا تھا ایسے ہی اسکے ساتھ لگ کر بیٹھی تھی۔۔ روحان اتنا اچانک آیا کہ اسے موقع ہی نہیں ملا .. دوپٹہ اٹھانے کا ارادہ کرتے اٹھنے لگی تو روحان نے اسکے کندھے پہ بازو رکھ دیا روحا اور زویا کے سامنے وہ مزید شرم سے پانی ہوئی۔۔
“حان بھائی ویسے تو زویا آپ کی جھوٹی تعریفوں کے پل باندھ رہی تھی مگر اب لگ رہا ہے سچ ہی تھی”۔۔ زرتاج نے آنکھ دباتے کہا تھا
“اچھا جی۔۔ اس لیے ہماری مسز کو خبر نہیں ہوئی کہ اسکا شوہر گھر آچکا ہے”۔۔ وہ اسکے جھکے چہرے کو گہری نظروں سے دیکھتا بولا جہاں قوس وقزح کے کئی رنگ بکھرے تھے۔۔
“حان بھائی آپکی مسز تو بلش کررہی کرہی ہے” روحا نے زویا کو چھیڑتے کہا۔۔
“اچھا بھئی تنگ مت میری مسز کو بھاگو اب” ۔۔ روحان نے کہا۔۔
“اوکے بھئیا بھابھی آج تو جی خوش ہوگیا”۔ روحا نے فلائنگ کس کی ویڈیو میں۔۔
“ہہم تمہاری جان تو اس میں ہے” ۔۔ زویا کی طرف دیکھتا بولا اور پھر جھک کر اسکے گال پہ کس کردی۔۔ جبکہ بازو ابھی بھی اسکے کاندھے پہ تھا اسکے اٹھنے کے راستہ روکنے کیلے۔۔
روحا اور زرتاج نے منہ پہ ہاتھ رکھ لی تھا۔۔ “اووووو
لو برڈز ہم یہیں ہیں” زرتاج شرارتی انداز میں بولی۔۔
“تو چڑیلوں کال بند کردو یا نیکسٹ سین انجواۓ کرنا ہے”۔۔روحان نے بھی بےباکی سے جواب دیا۔۔
“اوہ سوری سوری کیری اون ” زرتاج نے آنکھوں پہ ہاتھ رکھتے کال کٹ کی ۔۔اوردونوں پھر سے ہنسی تھی ” چلو کچن میں اب “۔۔
“ہاں ماما بھی آوازیں دے رہیں ہے اب۔۔”
کال کٹ ہوئی تو روحان موبائل آف کر کے سائیڈ پہ رکھا۔۔
روحان کاہاتھ اسکے کاندھے سے سرکتا اسکی کمر تک آیا تھا ۔۔
وہ اسکی طرف جھکتا کہ کہ زویا اسکا ہاتھ جھٹکتی کھڑی ہوئی تھی۔۔
“کیوں آۓ ہیں آپ میرے کمرے میں ہاں”۔۔ اس دن کی گئی باتیں یاد آئی تھیں..
“ہوتے کون ہیں آپ مجھ پہ اسطرح حق جتانے والے”۔۔
کڑے تیور لیےکہا .. نازک سا وجود لیے کھڑی تھی اسکے سامنے جو اسے بہکانے پہ اکسا رہا تھا۔
“یہ گھر میرا یہ کمرا میرا یہاں رہنے والی “۔۔ایک ہی جھٹکے میں اسکا ہاتھ کھینچ کر اسے اپنی تھائی بٹھایا تھا۔۔ “گھر والی بھی میری جو حق میرا ہے اسے جتانا کیا “۔۔ آخری بات اسکے کان میں سرغوشی کرتے کہی تھی۔۔اسکی باتوں پہ کان کی لوتک سرخ پڑی تھی
“چھوڑیں مجھے “۔۔ زویا کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوئی تھیں اسکے بے حد قریب ہونے سے ۔۔روحان کا ایک ہاتھ زویا کی کمر میں تھا ۔۔
زویا کا ایک ہاتھ اسکے سینے پہ تھا اور دوسرا اسکی گردن میں ۔۔
“ارادہ تو چھوڑنے کا ہی تھا مگر”۔۔روحان نے دل میں کہاتھا۔۔
دونوں کے چہرے آمنے سامنے تھے۔۔زویا نے زور سے اپنی آنکھیں میچیں تھیں۔۔
روحان نے بغور اسکے ایک ایک نقش کو دیکھا تھا۔۔بند آنکھیں لرزتی گھنی پلکیں جو پل میں بھیگنے لگی تھی۔۔ لرزتے گلابی ہونٹ ساف شفاف شرم و حیا سے لال چہرہ۔۔
اسکی پیشانی پہ محبت کی پہلی مہر ثبت کی تھی پھر باری باری اسکی بند آنکھوں پہ ہونٹ رکھے تھے۔۔
صاف شفاف صراحی دار گردن میں گولڈ کی نازک سی چین پہنے۔۔ پھر اسکی گردن پہ جھکا تھا۔۔ اسکی گھنی موچھوں کی چبھن سے وہ سمٹی تھی اپنے آپ میں۔۔اسے روکنا بس میں نہیں رہا تھا۔۔
اب اسکا فوکس زویا کے کانپتے ہونٹوں پہ تھا۔۔ گردن میں ہاتھ ڈالے وہ مزید آگےہوتا کے اسی وقت اسکا فون رنگ ہوا تھا۔۔
زویا فٹ سے اسکی گود سے اتری تھی بھاگ کر صوفہ اپنا دوپٹہ اٹھایا اور اچھے سے اپنے ارد گرد لپیٹا۔۔
فون دیکھا تو ماریہ کالنگ آرہا تھا ۔۔اسی وقت کال کٹ کی اور پھر سے زویا کی جانب قدم بڑھاۓ۔۔ زویا سر جھکاۓ کھڑی تھی ہمت نہیں ہورہی تھی سر اٹھانے کی۔۔
پھر سے کال آنے لگی تھی۔۔وہ سخت جھنجلایا تھا اور پھر وہاں سے نکل کر اپنے کمرے میں آیا۔۔
اسکے جانے کی دیر تھی کہ بھاگ کر دروازے کی طرف لپکی اور لاک لگایا مبادا کہیں دوبارہ نا آجاۓ۔۔
وہ کمرے میں آیا تھا کال مسلسل آۓ جا رہی تھی۔۔
“ہیلو “۔۔
“ہیلو روحان کہاں ہو کال کیوں نہیں اٹھا رہے ہو تم سارا دن کال کرتی رہی کوئی ریسپونس نہیں آخر ہو کیا گیا تمہیں”۔ کال ریسیو ہوتے ہی وہ پھٹ پڑی۔۔
“میں فارغ نہیں ہوتا ہوں کام میں بزی تھا”۔۔وہ آپ کو نارمل رکھتا بولا۔۔
“کام تو ہر کوئی کرتا ہے تمہاری طرح کوئی اتنا مصروف نہیں ہوتا” ۔۔
“کیا بات کرنی تھی بولو”۔۔
“ریلیکس یار تم سے باتیں کرنی تھیں اوراتنی جلدی کیا ہے کال کٹ کرنے کی”۔۔ وہ مٹھاس بھرے لہجہ میں
“یار تھک گیا ہوں “وہ کنپٹیاں سہلاتا بولا۔۔
“افف اب تم تھک گئے ہو” ۔۔وہ یوںہی ادھر ادھر کی باتیں کرتی رہی اور وہ بس ہوں ہاں میں ہی جواب دیتا رہا۔۔
کال بند ہوئی تو فریش ہو کر سونے کیلے بستر پہ لیٹا دھیان پھر بھٹک کر زویا کی طرف چلا گیا تھا “افف کیا ہوجاتا ہے مجھے اسے دیکھ کر کب جان چھوٹے گی اس سے جادو گرنی ہے” ۔۔ مگر پھر آنکھیں میچ کر سونے کی کوشش کرنے لگا۔۔
🥀🥀🥀🥀
“کچھ دنوں میں رشتہ والے آئیں گے زری کو دیکھنے” ۔۔
عالم صاحب نے رات کے کھانے کے بعد سفینہ کو بتایا تھا۔۔
“جی بھائی صاحب آپ نے بتایا نہیں کون ہیں وہ”۔۔سفینہ بولی تھی۔۔
اس وقت گھر کے حال سب موجود تھے علاوہ زرتاج اور روحا کے وہ کچن میں تھیں مگر باتیں سن رہی تھی ۔۔ زرتاج چاۓ کپوں میں ڈال رہی تھی اسکے ہاتھ رکے تھے مگر خود کو سنبھالتی اپنے کام میں لگ گئی۔۔
روحا نے اسکے کاندھے پہ ہاتھ رکھا تھا جو اسنے جھٹک دیا۔۔
اور چاۓ لیے حال میں داخل ہوئی۔۔
“تم فکر مت کرو زارون نے لڑکے کے بارے میں سب پتا کروایا ہے ۔وہ مطمئن ہے”
جب عالم صاحب بولے تو زرتاج نے کاٹ کھانے والی نظروں سے زارون کو دیکھا ۔۔ زارون نے بھی اسے دیکھتے ایک آنکھ دبائی۔۔
” لڑکے کا بزنس بھی اچھا ہے اور گھر بار بھی سب ٹھیک ٹھاک ہے فیملی کے نام پہ بس ماں ہے اور بہن بیاہی ہے لڑکا اکلوتا ہے”۔۔
“میرے دوست کے عزیز رشتہ دار ہیں اور میں ا پنے طور پہ بھی معلومات لی تھی۔۔ میں تو مطمئن ہوں باقی تم لڑکا اور اسکی فیملی دیکھ کر کرلینا”۔۔
“جب آپ اتنا کچھ کر ہی چکے ہیں تو سفینہ کو بھلا کیا اعتراض ہوگا”۔۔ سیما بولی تھی عالم صاحب کی زرتاج کیلے اتنی فکر مندی دیکھ سیما کو نا بھایا تھا۔۔
“بھائی صاحب بھابھی ٹھیک کہہ رہی ہیں” سفینہ تائید ہی کی سیما کی ۔۔
“سفینہ میں چاہتا تم بھی دل سے تسلی کرلو ” عالم صاحب اپنائیت سے بولے۔۔
زرتاج نے سب کو چاۓ پکڑائی جب زارون کی باری آئی تو غصہ ابھی بھی ناک پہ دھرا جی تو چاہا کے چاۓ اسکے سر پہ دے مارے۔۔
زارون نے چاۓ پکڑتے ہوۓ جلا دینے والی مسکراہٹ اسکی طرف اچھالی تھی۔۔
“زیادہ بتیسی مت نکالو ورنہ یہی چاۓ تمہارے سر پہ دے ماروں گی” زرتاج نے آہستہ آواز میں کہا جو صرف زارون نے سنا تھا۔۔
“اسلے تمہاری شادی کررہے ہیں تاکہ تم اپنے شوق اس بیچارے پہ پورے کرو” اور پھر اسکی چاۓ کا بڑا سیپ لیا۔۔
“فکر نہیں کرو تمہاری بیوی بھی کم نہیں ہوگی” اسے چڑانے کی کوشش کی مگر اسے کہاں اثر تھا ویسے بتیسی نکالتا رہا اور وہ وہاں سے چلی گئی۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
“کل سے تمہیں نکلنا ہے میٹنگ کے سلسلے کیلئے دوسرے شہر۔۔ یاد ہے نا یا سب بھول بھال کے بیٹھے ہو”۔۔
وکی روحان کو یاد دہانی کروا رہا تھا۔۔
ہاں !!۔۔وہ کہیں کھویا بیٹھا تھا اسکے بولنے پہ اچانک تھابولا۔۔
“او بھائی کدھر بیٹھا ہے یہ آفس ہے یہاں کام کی بات ہو رہی ہے”۔۔
“ہاں میں سن رہا ہوں بولو”۔۔
“کل ہم نے یہاں سے دوسرے شہر ٹریول کرنا ہے بہت بڑی ڈیل ہے”۔۔ مگر تم تو ہوش مں نہیں ڈیل کیا خاک ملے گی”۔۔
“ہاں مجھے یاد ہے کل صبح نکلیں گے۔”۔روحان بولا۔۔
“ایک یا دو دن بھی لگ سکتے ہیں۔۔” وکی نے کہا۔۔
روحان سوچ میں پڑگیا۔۔
“کیاہوا بھابھی کی فکر لاحق گئی”۔۔ وکی بولا
وہ خاموش رہا مگر سچ تو یہی تھا۔۔
“یار ایک مہینہ ہوگیا بھابھی کو آۓ ہوۓ ۔۔تونے ابھی تک خبر نہیں دی” ۔۔ وکی نے شرارت سے کہا
“کیا مطلب تمہارا” روحان نے کے پلے نہیں پڑی اسکی بات۔۔
“یہی کے میں چاچا بننے والا۔”۔وکی نے بتیسی دکھائی
“واٹ”۔۔ روحان شاک ہوا اسکی بات سن کر۔۔ “ویسے تو تو چاچا بننے والی عمر سے آگے نکل گیا۔۔ تو شادی کر اور مجھے چاچا بننے کا شرف دے” ۔۔روحان نے بھی اسی کے اندز میں جواب دیا۔۔
“کیا مطلب ہے تم سے تو چھوٹا دکھتا ہوں ابھی تک وہ الگ بات ہے شادی پہلے تیری ہوئی”۔۔ تو خوشخبری بھی پہلے تجھے سنانی پڑے گی”۔۔
“میرا ایسا کوئی سین نہیں بنا ابھی تک” ۔۔
کیا!! مطلب کنواں تیرے پاس ہے اور تو ابھی تک پیاسا بیٹھا ہے ۔۔حد ہے ویسے تیری بھی۔۔ اب اتنی بھی بے پرواہی کیوں ہے بیوی ہے تیری پورا پورا اختیار ہے تیرے پاس اسکا۔۔ وکی اسے سناتا چلا گیا
ہہم حق” ۔۔ پاس تو آنے دیتی نہیں” ۔۔کل رات کا منظر اسکی آنکھوں کے سامنے گھوما تھا۔۔اسنے آہستہ آواز میں کہا مگر وکی نے پھر بھی سن لیا تھا۔۔
ہاہا۔۔”مطلب کے ٹرائیاں ماری ہے”۔۔ وکی کی ہنسی نکلی تھی بڑی مشکل سے اپنی ہنسی دبائی تھی۔۔
شٹ اپ” ۔۔ کام کرو پریزینٹیشن بنانی ہے کل کیلے تیری باتیں ہی ختم نہیں ہو کے دے رہی”۔۔روحان نے اسے ڈپٹا تھا
سوری سوری کر رہا ہوں وکی نے اپنی ہنسی پہ قابو پاتے کہا جو اب بھی نکل رہی تھی۔۔ روحان نے اسے گھورا تو سیریس ہوکر فائل میں لگ گیا۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
رات کو روحان گھر آیا تو کافی دیر ہوچکی ۔۔کل بزنس کے سلسلے کیلے دوسرے شہر بھی جانا تھا جہاں کافی بڑے بڑے بزنس مین بھی آنے تھے۔۔روحان کو ابھی بزنس ٹائیکون بننے کا جنون سوار تھا اسلئے وہ بہت محنت کررہا تھا ۔۔کل کی میٹنگ اسکے لے بہت امپورٹنٹ تھی ۔۔
فریش ہوکر باتھ روم سے باہر نکلا تو اپنے آپ کو کافی ہلکا محسوس کر رہا تھا کافی بنانے کیلے کمرے سے باہر نکلا تو اسکی نظر زویا کے کمرے کی طرف گئی ۔۔
اسے بھی بتادوں اب کل مجھے جانا ہے دو دن لگ جائیں میں گھر نا آسکوں “۔۔
وہ ناک کرنے لگا مگر پھر ہینڈل گھما کر دروازہ کھول لیا تھا۔۔
تو سامنے وہ دشمن جان شیشہ کے سامنے کھڑی تھی ڈھیلا سا بالوں کا جوڑا بناۓ بلیک کلر سوٹ پہنے جس کے ہاف بازو تھے ہاتھوں سے بازوؤں پہ لوشن مل رہی تھی دوپٹہ سے بے نیاز۔
اسکے اچانک کمرے میں آنے سے چونک کر مڑی تھی۔۔
سوری تمہیں ڈسٹرب کیا بات کرنی تھی تم سے”۔۔ وہ چلتا اس کے روبرو آکر کھڑا ہوا تھا۔۔۔
کیا بات” ۔۔وہ بس اتنا ہی بولی اور انگلیاں مروڑنے لگی۔۔
روحان نے پہلے اسکے چہرہ کو غور سے دیکھا پھر اسکے وجود سے ہوتے اسکی انگلیوں کو دیکھا۔۔
مجھے کل ضروری کام سے جانا ہے دوشرے شہر “۔۔وہ اتنا کہہ کر رکا تھا۔۔
وہ اسے دیکھ رہی تھی اسکی بات مکمل ہونے کا انتظار کررہی تھی۔۔دل زور سے دھڑک رہا تھا وہ پھر سے اسکے اتنے قریب کھڑا تھا۔۔ابھی بھی اپنی انگلیاں چٹخا رہی تھی۔۔
شاید دو دن لگ جائیں گے مجھے گھر نا آسکو”۔۔وہ اتنا کہہ چپ ہوا اسکے جواب کا منتظر تھا۔۔
جی اچھا۔۔ وہ بس اتنا کہہ پائی تھی کہنا تو چاہتی تھی وہ دو دن کیسے گزارے گی۔۔خاص طور پہ رات کو اکیلی کیسے رہے گی۔۔ اتنا آسرا تو تھا وہ رات کو گھر ہوتا تھا اس سے دور ہی سہی۔۔
تم اکیلی رہ لو گی؟۔۔وہ اسے دیکھتا بولا تھا اسے لگاشاید وہ اس سے کہے گی کہ وہ کیسے رہے گی اکیلی اسے حیرانی سی ہوئی تھی اس بات پہ ۔۔
ہہم اکیلی ہی تو رہ رہی ہوں پہلے کب آپ پاس ہوتے ہیں”۔۔ طنز کیا تھا مقابل نے بھے
وہ ہلکا سا مسکرایا اور اسکے ہاتھوں کی انگلیوں کو آزاد کیا جنہیں وہ کب سے مروڑنے میں مصروف تھی اور کھینچ کر اسے اپنے ساتھ لگایا تھا دونوں ہاتھ اسکی کمر کے گرد حائل کیے۔۔
اس اچانک افتاد پہ وہ گھبرائی تھی۔۔
تو پاس آنے کا تمہارا شوق پورا کردوں ابھی”۔۔گھنمبیر لہجہ اسکے چہرے کا طواف کرتا معنی خیز بولا۔۔
زویا کے جسم میں سنسنی لہر دوڑی تھی ۔۔زویا نے دونوں ہاتھ اس کے سینے پہ رکھے اسے پرے دھکیل کر ڈریسنگ کے ساتھ لگ گئی۔۔مقابل کی گرفت ڈھیلی تھی اسلے جلد آزاد ہوگئی۔۔
میرا ایسا کوئی شوق نہیں” ۔۔اپنی گھبراہٹ پہ قابو پاتے بولی تھی حیا سے چہرہ لال پڑگیا تھا۔۔
دونوں ہاتھ ڈریسنگ پہ اسکے ارد گرد رکھ کر اسکی طرف جھکتا بولا ۔۔۔
میں آکر تمہارے سارے شوق پورا کروں گا”۔۔کوشش کرونگا کہ ایک دن میں ہی آجاؤں”۔۔اسکے دائیں رخسار پہ بوسہ دیتا پیچھے ہوا تھا۔۔اور چلا گیا وہاں سے
کیسا شخص تھا دھوپ چھاؤں جیسا ۔۔ اپنے رخسار پہ ہاتھ رکھتی وہیں دیکھ کر سوچ رہی تھی جہاں سے وہ گیا تھا۔۔
