94.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Beparwah) Episode 47

آج ولیمہ کا دن تھا اور زرتاج اداس سی بیڈ پہ ایک گھنٹہ اوپر کئے اس پہ منہ رکھے اور دوسری ٹانگ نیچے جھول رہی تھی.. پنک کلر کا سادہ سا سوٹ پہنے بالوں کو کیچر میں مقید کئے.. گم سم سی بیٹھی تھی..
زارون کمرے میں آیا تھا.. ایک نظر اسے دیکھا اور پھر واشروم چلا گیا.. جب باہر آیا تو وہ ابھی تک اسی پوزیشن میں بیٹھی تھی..
آخر کا زارون نے ہی چپ کا روزہ توڑ لیا..
“کیا ہوا تمہیں منہ کیوں لٹکا ہوا ہوا تمہارا.. ” وہ اسکے سامنے کھڑا بولا..
زرتاج نے سر اٹھا اسے دیکھا.. آنکھیں سرخی مائل ہو رہی تھی..
“تمہیں کیا.. ” بس اتنا ہی بولا.. اور پھر سے سر گھٹنے پہ رکھ لیا..
“آج ولیمہ ہے اور تم یہ منہ لٹکائے بیٹھی ہو.. “زارون اسے گہری نظروں سے دیکھتا ہوا بولا..
“کیسا ولیمہ” کس کا ولیمہ” وہ منہ پھلا کر بولی..
زارون اسکے سامنے بیڈ پہ بیٹھا..
اسکا چہرہ ہاتھ سے سیدھا اپنے سامنے کرتا بولا..
” ہمارا ولیمہ” بڑے پیار سے کہا زارون نے..
ہیں ہمارا ولیمہ ” زرتاج نے اسکا ہاتھ جھٹک دیا..
“ایک تو غلطی بھی خود کرو اور نخرے بھی دکھاؤ واہ” زارون مزید اسکے قریب ہوا..
” ہاں تو ماں بھی تو رہی تھی نا غلطی تم ہی پہاڑ پہ چڑھ گئے بات ہی نہیں کرتے ” اب کیا پیر پکڑ لوں تمہارے” غصہ سے بولی..
ہاں تو پکڑ لیتی میرے پیر یہ لو ابھی پکڑو ” زارون بھی بے شرارت سے آپنے پیر اٹھا اسکے سامنے کیا تو زرتاج نے اسکے ٹانگ زور سے نیچے کی طرف پٹخی..
یار کیوں مجھ غریب پہ ستم کرتی ہو سب کو پتہ چل گیا کہ میں اپنی بیوی سے مار کھا کر ولیمہ پہ آیا ہوں تو کیا عزت رہ جائے گی میری.. “زارون مسکین سا منہ بناتے اسکے چہرے کے مزید قریب ہوتا بولا..
میں.. ” وہ ابھی کچھ بولتی کہ زارون نے اس کے چہرے کو تھامتے اسکے ہونٹوں قفل لگایا تھا..
اور تھوڑی دیر بعد پیچھے ہوا حیا کے کئی رنگ بکھرے تھے اسکے چہرے پہ.. جسے بڑی فرصت سے دیکھا زارون نے..
“بس ” ہوگیا.. اتنی سی مہربانی اگر تم مجھے پہ کردیتی تو شاید تمہیں معافی جلدی مل جاتی.. وہ اسکے کان کے قریب سرگوشی کرتا بولا..
” پیچھے ہٹو.. ” اسکی گستاخیاں مزید بڑھنے لگی تو زرتاج نے اسے شرماتے پیچھے دھکیلا..
تو زارون بیڈ پہ ہی ڈھیر ہوگیا.. مسکرا زرتاج کی طرف دیکھا.. اور ایک بازو پھیلا لیا اشارہ تھا بازو پہ سر رکھنے کا.. زرتاج شرمائی سی اسے ہی دیکھ رہی تھی.. کچھ ہی دیر کے توقف کے بعد وہ اسکے بازو پہ سر رکھ گئی تھی.. زارون نے اسے خود میں بھینچ لیا تھا.. دونوں ہی آنکھیں بند کیے ایک دوسرے کو محسوس کرنے لگے.. اب زارون مدہوشی میں اسکے کان کے قریب سرگوشی کی..
“میں تمہیں اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہوں تمہاری روح تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہوں.. تو کیا تمہیں میرا ساتھ قبول ہے..” وہ اسکے جواب کا منتظر اسکے چہرے کو تکنے لگا..
زرتاج کا دل زوروں سے دھڑکا تھا.. محض سر ہی ہلا پائی..
زارون نے اپنے دھکتے لب اسکی پیشانی پہ رکھے..
دروازہ پہ زور سے دستک پہ انکا سحر ٹوٹا تھا..
تو زرتاج جلدی سے اپنے کپڑے درست کرتے بیٹھی..
زارون اچھا خاصا بد مزہ ہوا.. اٹھ کر دروازہ کھولا..
کیا ہے.. “زویا اور ارم دروازے پہ کھڑی تھی..
“کیا دن دھاڑے رومانس چل رہا ہے.. ” زویا اندر آتی اسے چھیڑتے ہوئے بولی..
“ہاں تو سارا مزا کرکرا کردیا” زارون بھی بے شرمی سے کہتا باہر چلا گیا..
زرتاج تو گلنار ہوئی بیٹھی تھی..
“ہاۓ میری بیسٹی بھی شرماتی ہے.. ” ارم زرتاج کے پاس بیٹھتی اسے تنگ کرتے بولی..
“تم کب آئی.. ” زرتاج بات بدلتے بولی..
ابھی ہی آئی ہوں تمہیں تیار کرنا ہے بیوٹیشن بھی ساتھ لائی ہوں.. گھر پہ ہی تیار ہوں گے.. زویا نے کہا تھا.. “
” چار تو بج گۓ ہیں میں ڈریس لاتی ہوں تم زری کو نیچے کے جاؤ “زویا نے کہا تو وہ دونوں چل دیں..
🌹🌹🌹🌹
زارون وائٹ شرٹ کے ساتھ نیوی بلو کلر کا پینٹ کوٹ پہنے سلیقہ سے بال سیٹ کئے ہوئے سفید رنگت کلین شیو.. اپنی تمام تر مرادنہ وجاہت لئے وہ حال میں زرتاج کا انتظار کررہا تھا.. تقریباً تمام ہی لوگ تیار تھے حال جانے کیلئے..
ماشاللہ میرا بیٹا بہت پیارا لگ رہا ہے.. سیما اپنے بیٹے کی بلائیں لیتی واری جانے لگی..
تھینکس مام آپ بھی بہت اچھی لگ رہی ہیں..
روحان بھی تیار ہوکر سیڑھیاں نیچے اترتا آ رہا تھا..
گرے کلر کا تھری پیس پہنے.. وہ بہت ہی ہینڈسم لگ رہا تھا..
زارون کے برابر آ کھڑا. دونوں بھائیوں نے ایک دوسرے کو مسکرا کر دیکھا..
“ماشاللہ ” بہت ہی پیارے لگ رہے ہیں میرے بچے.. سیما نے دونوں کی بلائیں لی.. ارے چلو بیگم دیر ہو رہی ہے.. ہمیں ٹائم سے پہنچنا ہے.. سفینہ اور شاہانہ چلی گئی ہیں. .
عالم صاحب بھی وہاں آئے.. “
“جی اچھا چلیں.. ” دونوں باہر کی طرف بڑھ گئے..
ارے آجاؤ بھئ ” زارون نے وہیں کھڑے ہانک لگائی جو باہر نکلنے کو تیار نہیں تھیں…
تھوڑی دیر بعد زرتاج کو لئے سب باہر آئیں..
زرتاج نے کل زارون کا دلایا ڈریس پہنا تھا.. لانگ آف وائٹ فراک پہنے سائٹ کا میک اپ کئے.. وہ سہج کر چلتی زارون کا ساتھ جا کھڑی ہوئی زارون کی ایک پل کیلئے بھی نظر اس سے ہٹ نا سکی..
بعد میں تاڑ لینا پہلے میرج حال پہنچو سب کو لیکر.. ارم اور روحا بھی انکے پاس کھڑی ہوئی..
ا ن سب ٹولے کو میں لیکر جاؤں گا زارون نے سب کو دیکھتے کہا..
یہ ٹولہ کسے کہا.. ارم فٹ سے بولی جبکہ روحا نے بھی منہ بسور..
“میں تو بس اپنی مسس کو لیکر جاؤں گا.. ” وہ زرتاج کا ہاتھ پکڑتے شوخیا بولا..
جی نہیں تمہارا کوئی بھروسہ نہیں لڑ کر اسے گاڑی سے اتار دو ” ارم نے بھی دو ٹوک جواب دیا..
“وہ پرانی باتیں ہیں اب ہم دشمن نہیں رہے.. ” زارون نے زرتاج کو گہری نظروں سے دیکھتا کہا.. جو پلکوں کی جھالریں گراۓ ہلکا سا مسکرا رہی تھی..
چلو نکلو اب گھر کو تالا بھی لگانا روحان ادھر ادھر دیکھتے بولا.. زویا اسے نظر نہیں آ رہی تھی..
زویا اپنی ساڑھی کا پلو سنبھالتی کمرے سے نکلی.. روحان کی نگاہیں ٹھہر سی گئی اس پہ..
چلو زویا آجاؤ تم بھی”.. زارون باہر نکلتا زویا کو آواز لگائی..
“نہیں زویا میرے ساتھ جائے گی “روحان فٹ بولا…
“آج ولیمہ میرا ہے” آپکا نہیں..ہمیں نکال کر خود منانے کے چکروں میں ہیں” زارون نے معنی خیزی سے کہتا مسکرایا..
“پہلے تم تو نکلو, پھر ہی کوئی موقع ملے گا. روحان نے بھی اسی انداز میں جواب دیا.. زویا بیچاری تو ماری شرم کی مزید گردن جھک گئی..
زی بھائی آ بھی جاؤ میک اپ خراب ہو رہا ہے.. روحا کی آواز آئی..
تو زارون انہیں آنکھ مارتا نکل دیا..
زویا نے سلک کی سرمئی رنگ کی ساڑھی پہن رکھی تھی بالوں کا جوڑا بنائے کچھ آوارہ لٹیں چہرے پہ جھول رہی تھی پتلی صراحی دار گردن میں ڈائمنڈ کا نازک سا نیکلس پہنے وہ اسے بہکانے کا سبب بن رہی تھی..
روحان نے اسے کمر سے تھام کر خود کےساتھ لگا لیا..
روحان پلیز ” وہ اسکے سینے پہ ہاتھ رکھے منمنائی..
بہت پیاری لگ رہی ہو.. ” وہ خمار آلود لہجے میں گویا ہوا..
چلیں دیر یو رہی ہے.. ” وہ اسکی گرفت سے نکلتے ہوئے بولی..
چلتے ہیں ایک کام ہے بس وہ کرلیں ” وہ اسکا ہاتھ پکڑے سیڑھیاں چڑھنے لگا..
اوپر کہا لے جا رہے مجھے” اسکے پیچھے ساڑھی سمنبھالتی ہوئی سیڑھیاں چڑھتی بولی..
وہ اسے زارون کے کمرے میں لے آیا..
“ہم یہاں کیوں آئے ہیں ” وہ ناسمجھی میں ارد گرد نگاہ ڈالتی ہوئی بولی..
بتاتا ہوں کچھ خود بھی عقل سے کام لے لیا کرو” روحان اسکے پاس آتا بولا..
کیا” وہ روہانسی ہوئی..
وہ اسکے لال سرخ ہونٹوں پہ فوکس کرتا بولا.. “سمجھاتا ہوں کہ کیا کرنا ہے ” اسکے ارادہ بھانپتے وہ مچلی اسکی گرفت میں.. جسے وہ قید کرگیا..
🥀🥀🥀
زارون اور زرتاج کی بڑی شاندار سی انٹری ہوئی تھی حال میں وہ سب کی توجہ کا مرکز بنے تھے..
دونوں ایک دوسرے کے بازو میں ہاتھ ڈالے اسٹیج کی طرف بڑ ھ رہے تھے..
دونوں ایک ساتھ چلتے مسکرا رہے تھے.. آف وائٹ لانگ فراق پہنے ..نیٹ کا دوپٹہ تھوڑا سا سر پہ لئے باقی سارا پیچھے کو کئے ہوئے جو زمین تک پھیلا تھا.. زارون کے ہمراہ چلتی شرمیلی سی مسکان چہرے پر سجائے اونچی ہیل پہنے قد میں زارون کے برابر آ رہی تھی ..زارون بھی کسی ریاست کا شہزادہ ہی لگ رہا تھا.. دونوں ہب سب کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے..
روحا اور ارم انکے پیچھے چل رہی تھی..
دونوں اسٹیج پہ بیٹھے تھے.. زارون کی کسی بات پہ زرتاج اپنی ہنسی کنٹرول نہیں کرپائی.. تو کھلکھلا کر ہنس دی.. کل تک جو اس سے نفرت کرتی تھی آج اسکی محبت میں رنگ گئی تھی..
شائنہ کی انٹری ہوئی تھی حال میں اپنی ماں کے ساتھ.. سامنے دونوں پہ نگاہ گئی تو ایک ٹیس سی اٹھی تھی اسکے دل میں .. وہ جو اسے کبھی سیدھے منہ بات بھی نہیں کرتا تھا.. زرتاج کیساتھ کتنا خوش لگ رہا تھا..
چپ چاپ ماں کیساتھ چلتی ہوئی جا رہی تھی جو اپنی بہن سیما کی طرف بڑھ رہی تھی.. آنے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی مگر سیما نے کی خاص تلقین پر اسکی ماں اسے مجبور کر کے لائی..
سامنے شائنہ کو دیکھ دونوں کی مسکراہٹ پل میں تھمی تھی.. زارون کو ایک پل کیلئے افسوس ہوا تھا اسکا افسردہ چہرہ دیکھ کر.. شائنہ نے انکی نظریں خود پہ دیکھ اپنے چہرے کا زاویہ بدل لیا.. بلیک کلر کا سادہ سی فراک پہنے سمپل سے حلیہ میں تھی کالے بالوں کو کھلے چھوڑے ہوئے.. چہرے پہ افسردگی ہی تھی جیسے زندگی ہی اختتام ہوگئی ہو.. ہر سو ویرانی ہی تھی..
کیسی ہو شائنہ سیما نے اسے اداس پایا..
.کیسی ہوسکتی ہوں.. ” بس اتنا ہی جواب دیا اور سیما خاموش ہوئی..
میں تم سے شرمندہ ہوں شینا” وہ شرمندگی سے بولی..
باجی ایسا نا کہیں جو قسمت میں لکھا تھا وہ ہوگیا.. “
شائنہ کا نکاح ہے اگلے ہفتہ.. اور اس سے کچھ دن بعد کینیڈا چلی جائے گی.. لڑکا بھی بہت اچھا ہے ” ہم خوش ہیں.. شینا نے خوش ہوتے کہا تو سیما کو کچھ تسلی ہوئی..
زارون کے دوست بھی آئے تھے کچھ یونیورسٹی کے تھے جو زرتاج کو جانتے تھے اور انکے آپس کے بیر کو بھی جانتے تھے.. مگر انہیں ساتھ خوش دیکھ وہ حیران ہوئے..
زرتاج کی بھی کلاس فیلوز موجود تھیں وہاں..
“ارے ارم یہ تو خوب جچ رہے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ اور خوش بھی” ارم کیساتھ کھڑی اسکی کلاس فیلو بولی..
اللہ کرے خوش رہیں ” ارم نے کہا..
روحان بھی زویا کا ہاتھ پکڑے حال میں آیا تھا..
اپنی ساڑھی کا پلو سنبھالتی روحان کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے نازک سی گڑیا لگ رہی تھی.. ہائی ہیل پہنے اسکے کاندھوں سے کچھ اونچی لگی..
گرے کلر کے تھری پیس سوٹ پہنے روحان اونچا لمبا قد گھنی مونچھوں تلے مسکراتے ہوئے عنابی لب ہلکی بڑھی ہوئی شیو سلیقہ سے بال سیٹ کئے ہوئے اپنی مغرورانا چال چلتے ہوئے وہ اسٹیج تک پہنچے..
اتنی دیر لگا دی”.. زارون کے بغل میں بیٹھا تو زارون باز نا آیا پوچھنے سے..
جو کام تم نہیں کر سکے وہ کر کے آیا ہوں.. ” روحان نے آنکھ دباتے ہی کہا اسکے قریب ہوکر..
شرم تو نہیں آتی” زارون بھی اسکے پاس ہوتے آہستگی سے کہا..
تمہارا ہی بھائی ہوں “.. شرارتی انداز میں بولا..
زویا زرتاج کے پاس بیٹھی خوش گپیوں میں مصروف تھی..
روحا خوش خوش سی اپنی دوستوں کے ساتھ پھررہی تھی.. سلور کلر کی میکسی پہنے سوفٹ سا میک اپ کئے.. سب کو اپنی جانب متوجہ کئے ہوئے تھی..
شاہانہ پھپھو کی نظروں میں تھی آج وہ.. عمار بیچارے ہتور آج حال کی ذمہ داری تھی. اس لئے وہ مصروف سا پھر رہا تھا..
روحان زویا کیساتھ سیما کے ٹیبل پہ آیا.. ساتھ ہی شینا اور شائنہ بھی بیٹھی تھی..
اسلام علیکم.. زویا اور روحان نے شینا سے پیار لیا..
کیسی ہو شانو.. روحان شینا کی طرف متوجہ ہوا جو اداس سی تھی..
شائنہ نے نگاہیں اٹھا کر روحان کو دیکھا اور پاس کھڑی زویا پہ ایک نظر ڈالی..
“کیسی ہو سکتی ہوں بھلا ” آپ کی طرح خوش تو نہیں مگر ٹھیک ہوں.. ” طنزیہ جواب دیا..
اسکا طنز بنتا تھا.. روحان کو لگا شاید زیادتی ہوگئی ہے شائنہ کیساتھ انکی وجہ سے..
شائنہ آٹھ کر کہیں اور چلی گئی..
بیٹا رہنے دو اسے ناراض ہے بس سنبھل جاۓ گی کچھ دن کا بھوت ہے اتر جائے گا.. “روحان کی توجہ شائنہ پہ ہی تھی شینا بولی.. تو وہ مسکرا دیا..
اور آگے بڑھ گیا..
شائنہ کا وہاں رکنا دو بھر ہو رہا تھا دم گھٹ رہا تھا اس محفل میں اسکا..
🌹🌹🌹
ایک بجے تک اختتام ہوا تھا ولیمہ کا سب اپنے اپنے گھروں کو لوٹنا شروع ہوۓ..
تھکے تھکے سے گھر داخل ہوئے..
سب بڑے اپنے کمروں کو ہولیے..
“آؤ تمہیں ہم اپنے کمرے تک چھوڑ دیں.. ” روحان زارون کے پاس کھڑا بولا..
شکریہ آپکا ” زارون نے زرتاج کا ہاتھ پکڑا اور سیڑھیاں چڑھنے لگا..
روحان اور زویا بھی پیچھے تھے..
آل ڈا بیسٹ” وہ اپنے کمرے میں جانے لگے تو روحان بولا.. زویا کو لئے اپنے کمرے میں گھس گیا..
زرتاج کا ہاتھ ابھی بھی اسکی گرفت میں تھا..
زارون کمرے میں زرتاج کو لئے داخل ہوا.. تو کمرے کو دیکھ دونوں حیران ہوئے سارا کمرا پھولوں سے سجا ہوا تھا.. بیڈ پہ بھی خوبصورت سیج سجائی ہوئی تھی..
زارون نے گیٹ لاک کیا..
اور کمرے کے بیچوں بیچ آیا.. “واہ واٹ آ سراپرئز”
انکے جانے کے بعد روحان نے زویا کیساتھ مل کر زارون کا کمرہ سجایا تھا.. اب زارون کو روحان کی باتوں کا مطلب سجھائی دیا..
واہ آج کی رات تو یاد گار بنا دی.. ” زارون نے زرتاج کو کھینچ کر اپنے ساتھ لگایا تھا..
زرتاج کی تو مارے شرم کے پلکیں ہی نہیں اٹھ رہی تھیں.. باری باری اسکی آنکھوں پہ دھکتے لب رکھے تھے اسکے لمس سے جان پہ بنی تھی زرتاج کے اسکے سینے پہ ہاتھ رکھے پیچھے ہونا چاہا تھا مگر زارون نے اسکا ارادہ بھانپتے کمر پہ گرفت کو مضبوط کیا تھا..
“جان من” آج نہیں رک سکتا.. گھمبیر آواز میں سرگوشی کی..
وہ مم.. مجھے چینج کرنا ہے.. ” اسکی سرگوشی سے بے ساختہ دھڑکنیں تیز ہوئی تھی..
زارون نے بغور اسکا جھکا ہوا چہرہ دیکھا..
آج وہ کچھ الگ ہی لگ رہی تھی سیدھا دل میں اتر رہی تھی..
مم مجھے نیند آرہی ہے پلیز..” ایک اور بہانا تراشا.
پہلے چینج کرنا ہے یا سونا ہے.. ” زارون نے شرارتی انداز میں کہتے اسکی دوپٹہ کی پنز نکالنے لگا..
دوپٹہ سے آزاد کرتے اسے بیڈ تک لے آیا..
اب اسکی جیولری اتارنے لگا.. گلے سے ڈائمنڈ کا نیکلیس اتارا ..زرتاج کی نظریں ہنوز جھکی ہوئی تھی.. گھبراہٹ اسکے چہرے سے عیاں تھی..
ایک باکس اسکے سامنے کیا.. زرتاج نے نا سمجھی اسکی طرف دیکھا..
تمہاری رونمائی کا گفٹ ہے.. دیکھو”
زرتاج نے باکس کھولا تو اس میں خوبصورت سا پینڈت تھا.. ” یہ تو بہت پیارا ہے” زرتاج کو پسند آیا.. یہ وہی پینڈت تھا جو اسنے جیولری شاپ پہ دیکھا تھا
“مے آئی ” زارون نے اجازت چاہی پہنانے کی تو زرتاج نے ہاں میں سر ہلایا..
تو زارون اسکے مزید قریب ہوکر وہ پینڈت اسکی صاف شفاف صراحی دار گردن کی زینت بنایا.. چہرہ اسکے چہرے سے مزید قریب تر ہوا پینڈت پہناتے ہوئے.. دونوں کی ناک مس ہورہی تھی.. انچ کا فاصلہ تھا ہونٹوں کے درمیان جو زارون نے وہ فاصلہ بھی مٹاتے نرمی سے اسکے ہونٹوں کو قید کیا.. ایک ہاتھ اسکے بالوں میں پھنسایا تھا اور دوسرا اسکی کمر پہ گردش کرتا اسکی بیک گلے کی ڈوری پہ جا پہنچا تھا جسے اسنے کھینچ دیاگلےڈوری کھلتے گلہ مزید گہرا ہوگیا آگے سے .. اسکے حسن کی رعنائیاں مزید عریاں ہوگئی..
زارون اسکے لبوں کو آزاد کرتا پیچھے ہوا تو اسکے وجود میں کھو سا گیا.. زرتاج کو تو ڈھیروں شرم نے آن گھیرا تھا.. وہ بہت نروس ہو چکی تھی.. زارون اسکے ایکسپریشن انجوائے کرنے لگا.. اور اسے مزید تنگ کرنے کا موڈ بنا..
“یہ کیا تم ڈر کیوں رہی ہو.. تم مجھے اجازت دے چکی ہو.. پہلے سے تو..اب.. تمہیں میرا ساتھ دینا ہوگا.. وہ اسکا چہرہ غور سے دیکھتا شرارتی انداز میں کہہ رہا تھا.. جس کے رنگ بدل رہے تھے..
وہ اسکی باتوں پہ حواس باختہ ہوئی..
“کم بے بی ” وہ اسکے برابر میں لیٹ چکا تھا اور ہاتھ سے اشارہ کرتے اپنے پاس بلا رہا تھا..
وہ اپنی جگہ پہ ساکت بیٹھی تھی کہ کیا کرے..
“ہاۓ کتنی اچھی لگ رہی ہو نا شرماتے ہوۓ ” اسنے منہ موڑ کر زارون کو دیکھا تو زارون کی ہنسی چھوٹی..
“ہاہا” زری تم اتنی ڈرپوک بھی ہو..
زارون تم مجھے تنگ کررہے ہو ہو.. ” ایک دم سے زرتاج کے تیور بدلے اسے اسکا مذاق اڑاتا دیکھ..
تو زارون نے زرتاج کا ہاتھ جھٹکا.. اسکی طرف لپکتے زرتاج کی چیخ نکلی..
آآاہ..” کیوں کہ اسکا ہاتھ بھی مڑ چکا تھا…
فٹ سے اسکے منہ پہ ہاتھ رکھتے زارون نے اسکی چیخ کا گلہ دبایا..
زری.. یہ زری کی آواز ہے.. زویا روحان کے سینے پہ سر رکھے لیٹی تھی جبھی اسکی کانوں میں مدھم سی آواز پڑی..زویا بیڈ سے اترتی کے روحان نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا اور خود پہ واپس گرایا..
“پاگل ہو کہاں جا رہی ہو یہ انکا آپس کا معاملہ کا.. انکا فرسٹ ایکسپیرینس ہے”آفٹر آل میرا ہی بھائی ہے.. ” روحان نے شرارت سے کہتے آنکھ دبائی..
تو زویا کی ہنسی نکلی.. اسنے دوبارا اسکے سینے پہ سر رکھے آنکھیں موندیں..
زارون نے فٹ سے اسکے منہ پہ ہاتھ رکھا تھا.. “پاگل ہو چیخیں کیوں مارتی ہو.. ” زارون نے اسکے منہ پہ ہاتھ رکھا ہوا.. زرتاج نے اسکا ہاتھ پہ زور سے کاٹا..
آاہ.. اب کے زارون کی چیخ برآمد ہوئی.. جنگلی کہیں کی.اپنے ہاتھ کو جھٹکتا بولا !
ابھی زویا نے آنکھیں بند ہی کی تھی کہ زارون کی مدھم سی آواز کان میں پڑی..
ہاہاہاا”” تمہاری بہن بھی کم نہیں ہے.. ” روحان کی ہنسا تھا..
آپ کال کریں کیوں رولا ڈالا ہوا.. “
تو روحان نے لیٹے ہوئے موبائل سے نمبر ڈائل کیا زارون کا.. زویا اسکے سینے سر رکھے ہوے تھی..
جنگلی کہیں کی عقل نام کی کوئی چیز ہے تم میں.. وہ اپنا ہاتھ دیکھتا بولا جہاں اسکے دانتوں کے نشان پڑ چکے تھے.. تب ہی اسکا موبائل بج اٹھا..
روحان.. نمبر دیکھتے کال اٹھائی..
کیا مسئلہ ہے.. جو کرنا خاموشی سے کرو آوازیں اپنے کمرے تک محدود رکھو.. ہمیں تو نا ڈسٹرب کرو.. حد ہے ویسے تمہاری چیخیں نکل رہی ہیں. ..”
ہاں تو آپکی سالی کہاں قابو میں آنی والی ہے اچھا اب تم تو نا ڈسٹرب کرو.. زارون نے اسے بیڈ سے دیکھ فٹ سے اسکا بیک سے شرٹ پکڑی.. اور کال کاٹ دی..
“تم کہاں”..
وہ.. مم.مجھے چینج کرنا کرنا ہے.
اسکو بیڈ پہ گراتے اسکے اوپر آیا”ابھی جو کاروائی کی ہے نا میرے ساتھ سود سمیت بدلہ لوں گا.. “کہتے اسکے اوپر آیا کاندھے سے شرٹ کھسکتے اپنے تشنہ لب رکھے تھے.. زرتاج کی تو جان لبوں پہ آئی اسکا لمس سہتے..
زار.. زارون پلیز .. مجھے سونا ہے.. ” وہ ملتجی نظروں سے اسے دیکھتے بولی..
مگر زارون کہاں آج سننے والا تھا.. اسکے ہلتے لبوں کو قید کردیا تھا.. اسکے مزاحمت کرتے ہاتھوں کو قابو کرکے تکیے کے ساتھ پن کئے تھے.. جا بجا شدت بھرا لمس چھوڑتا اسے بے حال کردیا.. اسکی روح تک رسائی حاصل کرچکا تھا..
ساری رات اس پہ اپنا پیار لوٹاتا رہا..
کبھی سوچا بھی نہیں تھا دونوں نے کے وہ ایک دوسرے میں سمو کر یکجان ہو جائیں.. یہ قدرت کے فیصلہ تھے جس کے آگے وہ سر خم کر جائیں گے
🥀🥀🥀🥀🥀
اگلی قسط سینڈ لاسٹ ہوگی اسکیلے زرا انتظار زیادہ کرنا پڑے گا