94.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(beparwah) Episode 37

“دراصل ہم اپنی بہو زرتاج کو اپنے ساتھ شاپنگ پہ لے جانا چاہ رہے”
چاہتے شادی کا جوڑا خریدنا ہے تو ہم نے سوچا کیوں نا زرتاج کی پسند کا لیا جائے” ارحم اور اسکی والدہ دونوں آۓ تھے.. سفینہ اور سیما دونوں بیٹھی تھی.. دونوں نے انکی بات سنتے ایک دوسرے کی طرف دیکھا..
“مگر”.. سفینہ بول ے لگی
“اسلام وعلیکم” زویا چائے لئے آئی..
وعلیکم السلام” صائمہ نے بڑے غور سے زویا کو دیکھا..
“یہ میری بڑی بیٹی ہے زویا.. “سفینہ نے تعرف کروایا..
ماشاللہ کیسی ہو بیٹا”.. صائمہ نے مسکراتے ہوۓ پوچھا
جی آنٹی ٹھیک ہوں”..
زویا نے ارحم کی جانب دیکھا”.. اور آپ کیسے ہیں”..
“میں آپکے سامنے ہی ہوں ہینڈسم” .. ارحم نے مزاحیہ انداز میں کہا تو سب مسکرا دیے..
“تو پھر ہمیں آپ اجازت دیں اگر ہم زرتاج کو ساتھ لے جائے شادی کا جوڑا خریدنے”..
زویا سوچ میں پڑ گئی پہلے تو زری جاۓ گی نہیں اگر چلی گئی تو پھر کچھ الٹا نا کرے کے سب بگڑ جائے”..
“زویا جاؤ زری کو کہو کے تیار ہوجائے”.. سیما نے کہا تو سفینہ اسکی جانب دیکھا مگر بولی کچھ نہیں
جی”..پہلے تو زویا شاک ہوئی..
جی میں بلاتی ہوں”.. پھر آٹھ کر چلی گئی..
زرتاج اور روحا آپنے کمرے میں تھی..
چلو زری تیار ہوجاؤ تمہارے سسرال والے آۓ ہیں تمہیں ساتھ لے جانا چاہتا ہیں شادی کا جوڑا خریدنے کیلے”..
زویا نے کمرے میں آتے بڑے آرام سے کہا..
تمہارا دماغ تو خراب ٹھیک ہے میں وے نہیں جانے والی اس ٹھرکی کیساتھ کہیں بھی اگر جوڑا لینا ہے تو اپنی مرضی کا لے لیں مجھے کوئی اعتراض نہیں جیسا بھی ہوگا پہن لوں گی”.. صاف انکار تھا..
اٹھو جلدی سے تیار ہو وہ نیچے انتظار کررہے ہیں ” اب کے زویا نے ہاتھ سے کھینچ کر اٹھایا..
اور الماری سے مناسب سا جوڑا نکال کر سامنے رکھا..
زویا میری بات”..
شٹ اپ جاؤ یہ پہن کر آؤ”.. زویا نے اسکی ایک نا سنی اور اسے واشروم میں دھکیل دیا..
نیوی بلو کا سوٹ پہنے وہ باہر آئی جو اسکی گوری رنگت پہ کافی جچ رہا تھا زویا نے اسکے بال سیدھے کئے.. ہلکا سا میک اپ کئے بہت پیاری لگ رہی تھی..
واؤ زری ” روحا نے ہاتھوں لائک کا سائن بنایا.. تو وہ منہ بناتی نیچے چل دی..
اب پتا نہیں یہ سسرال والوں کا کیا حشر کرنے والی ہے بیچارے لینے تو آگۓ اب اپنی خیز منائے”.. روحا نے مزاق اڑانے والے انداز میں کہا..
“روحی سدھر جاؤ ” زویا نے اسے ٹوکا اور زرتاج کے پیچھے گئی..
زرتاج انکے سامنے کھڑی ہوئی..
اسلام وعلیکم” مرواتاً سلام کیا جبکہ چہرے کے تاثرات سنجیدہ تھے..
وعلیکم السلام”.. دونوں کھڑے ہوئے اسے دیکھتے ارحم اپنا کورٹ درست کرتا اٹھا ..وہ اسے ہر رنگ میں ہی بہت اچھی لگتی تھی..
جیتی رہو ماشاللہ بہت پیاری لگ رہی ہو”.. اسکے سر پہ ہاتھ پھیرتے صائمہ نے کہا..
چلیں اب ہمیں اجازت دیں ہم جلد ہی واپس آجائیں گے”..
جلدی کا مطلب جلدی ہی ہے بیٹی کا معاملہ ہے آپ پہ بھروسہ کر رہے ہیں”.. سیما نے تنبیہی انداز میں کہا..
جی میں سمجھتی ہوں زرتاج میری بیٹی کی طرح ہی ہے”.. صائمہ نے بڑے نرم مزاجی سے کہا..
چلیں ” ارحم کہتا آگے بڑھ گیا..
زرتاج سب پہ ایک نظر ڈالتی پرس سنبھالتی چلی گئ..
ارحم نے گاڑی کا فرنٹ ڈور کھولا تو زرتاج بیک ڈور کھول کر بیٹھ گئی..
کوئی بات نہیں بچی شرما رہی ہے”.. صائمہ کہتی بیٹھ گئی اور ارحم ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی.. بیک ویو مرر سیٹ کیا جس میں زرتاج کا عکس نظر آرہا تھا..
ساری راستہ وہ اسے مرر سے تکتا آیا..
زرتاج اسکی نظریں بخوبی خود پہ محسوس کررہی تھی مگر نظر انداز کرتی رہی.. صائمہ کی باتوں کا جواب بس ہوں ہاں میں ہی دے رہی تھی..
🌹🌹🌹
بھابھی یہ کیا آپ نے کیسے زری کو انکے ساتھ بھیج دیا”.. انکے جاتے ہی سفینہ اب سیما سے مخاطب ہوئی..
اب وہ لوگ اگر آگۓ تو کیا کہہ کر انکار کرتے انہیں”..
مگر بھائی صاحب سے اجازت ہی لےلیتے پہلے”..
سفینہ تم بھی نا بس کردو اب.. لڑکے والے ہیں انہیں انکار پسند نہیں آئے گا کچھ نہیں ہوتا زیادہ مت سوچا کرو ورنہ پریشان ہی روہو گی”.. سیما کہتی چلی گئی..
“ماما آپ پریشان نا ہو کچھ نہیں ہوتا”.. زویا انہیں تسلی دینے لگی جب کہ اندر ہی اندر خود بھی پریشان تھی..
🌹🌹🌹
وہ شاپنگ مال کی بہت بڑی بوتیک میں برائیڈل ڈریس دیکھ رہےتھے..
زرتاج نے ایک دو ڈریس دیکھنے کے بعد جلد ہی ایک ڈریس فائنل کردیا..
بیٹا اور دیکھ لیتی”.. صائمہ اسکی اتنی جلدی پہ حیران ہوئی
“نہیں آنٹی یہ ٹھیک ہے بس مجھے ریڈ کلر اور بہت زیادہ ہیوی ڈریس نہیں پسند”.. زرتاج نے یہی کہتے جان چھڑائی..
ڈریس شاکنگ پنک کلر کا تھا جس پہ گولڈن ہاتھ کا کام تھا..
اور ساتھ جیولری شاپ پہ بھی پھرتی دکھاتے جیولری سلیکٹ کی..
اور ایسے ڈریس کے ساتھ کی سی سینڈل بھی..
“بھئی واہ بہت جلد کام نمٹ گیا..بارا بجے نکلے تھے اور تین بجے ہی فری ہوگئے مجھے تو لگا تھا شاید سارا دن لگ جائے لڑکیاں تو کئی دن لگا دیتی ہیں” صائمہ نے ہنستے ہوۓ..
بھئی ماننا پڑے گا زرتاج ٹائم بھی ضائع نہیں کرتی اور چوائس بھی اچھی ہے”.. ارحم نے زرتاج کو اپنی نظروں کے حصار میں لیتے کہا.. زرتاج نے اسکی طرف دیکھنے سے مکمل گریز کیا..
چلو اب کچھ کھلاؤ گے بھی یا باتوں سے ہی پیٹ بھرو گے.. “
آنٹی مجھے گھر جانا ہے”.. زرتاج جلدی سے بولی..
ہاں ہاں بس کچھ کھا پی لےتے ہیں پھر تمہیں گھر چھوڑتے ہوئے چلے جائیں گے”.. صائمہ بولی..
تو وہیں پاس ہی ریسٹورنٹ میں انہوں نے لنچ کیا اور گھر کی راہ لی زرتاج پہلے کی طرح پیچھے ہی بیٹھی تھی.. تھکن کے باعث آنکھیں موند لی تھی..
ارحم نے اسے محبت پاش نظروں سے دیکھا تھا جی چاہ رہا تھا بس ایک بار ان بند آنکھوں کو چھولے.. پھر گاڑی کا رخ اپنے گھر کی جانب موڑ دیا تھا.. جھٹکے سے گاڑی رکنے پہ زرتاج کی آنکھ کھلی جو آنکھیں بند کرنے سے لگ گئی تھی..
وہ بغیر دھیان دیے اتر گئی مگر اسے احساس ہوا کہ وہ اسکے گھر کا پورچ نہیں ہے..
کیا ہوا اتنا حیران کیوں ہوگئی یہ بھی تمہارا ہی گھر ہے”.. ارحم نے گاڑی سے اترتے اسے دیکھا جو حیران نظروں سے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی..
“مجھے میرے گھر جانا ہے یہ آپ لوگ کہاں لے آئے مجھے”.. زرتاج کی شکل رونے والی ہوئی تھی..
“ارے بیٹا ڈرو نہیں یہ ہمارا گھر ہے.. آؤ میں تمہیں چاۓ پلاؤ اپنے ہاتھوں سے بنی ہوئی.”
گھبراؤ نہیں راستہ میں پہلے ہمارا گھر آتا ہے اسلیے ارحم پہلے مجھے چھوڑنے کیلے گھر آیا ابھی تمہیں چھوڑ کر آتا ہے گھر.. تم آؤ اندر اب تم آگئی ہو تو گھر دیکھ لو پہلے ہماری چاۓ پیو اور چلی جانا”.. صائمہ اسے پیار سے پھسلا اندر کی جانب لے کر بڑھی جو ابھی بھی گھبراہٹ کا شکار تھی..
“بیٹھو یہاں.. “
“عشرت (گھر کی ملازمہ) پانی لاؤ جلدی ..”
اب کے صائمہ نے غصہ سے بیٹے کو گھورا جس کے منع کرنے باوجود بھی گھر لے آیا..
تھوڑی دیر میں ملازمہ پانی لے آئی..
“زرتاج آپ گھبرائے مت یہ آپکا ہی گھر آئیں میں آپکے گھر دکھاؤں.. “ارحم نے اسے پریشان ہوتا دیکھ کہا..
اچھا میں تمہارے لئے چاۓ بناتی ہوں تب تک تم زرا ارحم کے ساتھ گھر دیکھو.. ” ارحم کی ماں کہتی کچن میں چلی گئی..
“یہ دیکھو ہمارا چھوٹا سا گھر تمہارے گھر کے مقابلہ میں چھوٹا ہے مگر یہ ماما نے بڑے پیار سے سجایا ہے”.. وہ گھر دکھاتا اب اسے اپنے کمرے تک لے آیا..
“یہ ہمارا کمرہ ہے” ارحم یہ بات کہتا زری کے پیچھے آیا وہ کمرے کے بیچوں بیچ کھڑی تھی ادھر ادھر نظریں گھما کر غیردلچسپی سے ادھر پڑے سامان کو دیکھ رہی تھی..
ارحم زری کے پیچھے کھڑا اسکی پشت کیساتھ لگا اسکے ہاف آسیتنیں پہنی بازوؤں پہ نرمی سے ہاتھ پھیرتا اس کے بالوں میں منہ دیا اسکے وجود سے اٹھتی بھینی سی مہک اسے مدھوش کر رہی تھی اسکی گردن پہ جھکا ہی تھا کے زرتاج فٹ سے اسکی حصار توڑ کر نکلی تھی.. اپنے زور سے دھڑکتے دل کو قابو پاتی بولی..
“یہ کیا کررہے ہو.. “
“وٹ تم مجھ سے پوچھ رہی ہو شوہر ہوں تمہارا ہونے والا.. “
“ہونے والے ہو ابھی ہوۓ نہیں” سخت لہجے میں بولی تھی..
جبکہ ارحم کو اسکے اس لہجے کی توقع قطعی نا تھی..
“ریلیکس بےبی نہیں کرتا کچھ”..
“ابھی تمہاری مرضی چلے گی مگر آفٹر میرج صرف میری مرضی چلے گی صرف میری”.. معنی خیزی سے کہتا ایک شریر سی سمائل پاس کی.. زرتاج بنا دیر کئے اسکے پاس سے نکل گئ باہر..
افف بہت ٹیڑھی کھیر”.. ارحم ایک شیطانی ہنسی ہنسا..
زرتاج کمرے سے باہر آتی ایک کونے میں گئی اور پرس سے جلدی سے موبائل نکالا.. اور کال لگائی..
اسکے سامنے کلائینٹ بیٹھے تھےاور وہ انکے ساتھ ڈیل کررہا تھا جب اسکا موبائل بجا.. موبائل اٹھایا..
“زرتاج کیوں کال کررہی ہے” ..
“ہیلو.. “
“ہیلو.. زارون تم پلیز مجھے جلدی لینے آجاؤ”..زرتاج نے ادھر ادھر دیکھتے جلدی سے کہا..
“لینے آجاؤں؟ مگر تم ہو کہاں.. “
ارحم کے گھر”.. فٹافٹ کہا..
واٹ”.. دماغ ٹھیک ہے تمہارا کر کیا رہی ہو وہاں”.. اسکا میٹر گھوما..
وہ تائی ماما اور زویا نے مجھے انکے ساتھ شاپنگ پہ بھیج دیا اور یہ مجھے شاپنگ کے بعد اپنے گھر لے آۓ پلیز تم جلدی آؤ مجھے لینے ” کہتے ہی کال کٹ کردی اور جلدی سے موبائل پرس میں ڈال دیا ارحم کو کمرے سے نکلتا دیکھ وہ جلدی سے حال میں گئی..
آجاؤ بیٹا چاۓ پیو”.. صائمہ نے کہا تو..
وہ جلدی سے صوفہ پہ بیٹھ گئی اور چاۓ کا کپ اٹھا لیا.. وہ گھبرائی سی لگی صائمہ کو.. پیچھے ارحم بھی آگیا..
زارون ریش ڈرائیونگ کرتا ارحم کے گھر پہنچا تھا..
وہ تینوں چاۓ کا کپ لئے بیٹھے تھے..
زارون کو گھر کے اندر آتا دیکھ وہ دونوں حیرانی سے کھڑے ہوئے
جبکہ زرتاج نے سکون کا سانس لیا تھا اور چاۓ کا کپ میز پہ پٹخا.
اسلام علیکم ” زارون نے ارحم کے پاس آتے اس سے ہاتھ ملایا اور صائمہ سے پیار لیا..
تم یہاں”.. ارحم نے حیرت سے پوچھا..
ہاں وہ میں فرنیچر سیٹ کروانا تھا تو تمہارے کمرے کا جائزہ لینا تھا اس حساب سے سامان رکھوانا تھا.. مگر زرتاج تم یہاں کیسے آئی مطلب کس کے ساتھ آئی ہو”..
زارون اپنے غصہ کو کنٹرول کرتے خود کو نارمل رکھتے کہا اصل بات چھپاتے ہوئے کہ اسے زرتاج نے بلایا ہے..
بیٹا ہم نے شادی کا جوڑا لینا تھا تو اسلیے زرتاج بیٹی کو ساتھ لیکر گئے تھے پھر سوچا اسے اپنا گھر دکھا دیں”.. تم آؤ نا چاۓ پیو ہمارے ساتھ..! صائمہ پہلے تو گھبرا گئی تھی پھر بات سنبھالے کہا..
نہیں آنٹی ٹائم نہیں ہے بس مجھے روم دیکھنا ہے”..
زارون ارحم کیساتھ اسکے کمرے کی طرف بڑھا سرسری سا کمرے کا جائزہ لیا..
ٹھیک ہے”.. چلیں زری مجھے گھر کچھ کام تھا.. ” اسنے نارمل انداز میں کہا مگر چہرے پہ غصہ عیاں تھا..
دونوں وہاں سے چلے گئے..
“ارحم میں نے تمہیں گاڑی میں بھی منع کیا تھا مگر تم نہیں مانے اور اچانک زارون آگیا کیا سوچ رہا ہوگا وہ ہمارے بارے میں.. “
ہر جگہ ٹپک پڑتا ہے ایک تو یہ”.. ارحم اپنی ماں کی بات پہ کان دھرنے کے بجائے اپنی ہانکنے لگا..
اماں کچھ نہیں ہوتانا”..
تھوڑے ددنوں کی بات ہے صبر نئی ہوتا تم سے”.. ارحم انکی سنی ان سنی کئے چلا گیا اور وہ سر پکڑ کر بیٹھ کے اب کیا جواب دے گی انہیں.. بیٹے کے اسرار پہ ہی زرتاج کو بازار ساتھ لے کے گئی تھی..
🌹🌹🌹
زارون کیساتھ گاڑی میں فرنٹ سیٹ پہ بیٹھی تھی اور خود کو کافی محفوظ اور کمفرٹ فیل کررہی تھی..
کچھ غلط حرکت تو نہیں کی اسنے تمہارے ساتھ” سنجیدگی سے سامنے نظریں مرکوز کئے پوچھا زارون نے..
امم نہیں ایسی.. تو کوئی بات نہیں .. بس اس گھر میں وحشت ہو رہی تھی.. مجھے بلکل بھی اچھا نہیں فیل ہو رہا تھا”.. اصل بات چھپاتے زرتاج نے کہا..
“ہہم.. مجھے اسکی حرکتیں ٹھیک نہیں لگی.. “
زرتاج کیساتھ زارون کو اندر آتا دیکھ وہ اپنے جگہ سے کھڑی ہوئی تھی.. سیما اور سفینہ اس وقت حال میں بیٹھی تھی..
زویا اور روحا بھی وہاں آئی..
“آپ لوگوں نے کیا سوچ کر زری کو انکے ساتھ بھیجا ” زارون نے سخت لہجہ میں سوال کیا..
“وہ لوگ خود آۓ تھے بیٹا اسے لینے اور یہ تمہارے ساتھ کیسے”..سیما نے زارون کو غصہ میں دیکھ کر کہا..
اسے میں انکے گھر سے لا رہا ہوں”.. زارون نے چلاتے ہوۓ کہا..
کیا”.. سفینہ کو منہ نکلا اور سیما کا بھی حیرت سے منہ کھلا زویا اور روحا نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا..
گہری خاموشی چھائی تھی..
“ابھی نکاح نہیں ہوا انکا جو ایسے لے گئے اور نا ہی ہمارے کوئی قریبی رشتہ دار ہیں اس لئے آپ لوگوں کو دھیان کرنا چاہیے تھا..” وہ سب پہ کڑی نگاہ ڈالتا وہاں سے نکل گیا..
اسکو باہر جاتا دیکھ سیما نے زرتاج کو آڑے ہاتھوں لیا..
کیا ضرورت تھی تمہیں زارون کو بلانے کی ہمیں بتا دیا ہوتا ڈرائیور بھیج دیتے تمہیں لینے”..
میں نے.. نہیں بلایا زارون کو وہ تو وہاں فرنیچر سیٹ کروانا تھا.. اسلیے روم دیکھنے آیا تھا اور مجھے وہاں دیکھ لیا”.. زرتاج نےکہتے ہی کمرے کی راہ لی..
اب یہ جا کر عالم کو ہی نا بتادے ” سب سیما صوفہ پہ ڈھیر ہوتی بولی.. پریشانی سفینہ کو بھی ہوئی..
..
🌹🌹🌹🌹
زرتاج کو اپنی گردن پہ ابھی ارحم کا لمس محسوس ہورہا تھا.. بے ساختہ اسکا ہاتھ گردن پہ گیا.. زہر لگا تھا وہ شخص اسے.. پہلی بار دل سے زارون اچھا لگا کتنا فرق تھا زارون اور ارحم میں.. اس نے سوچا
اسی وقت زویا اور روحا آئی تھی کمرے میں انہیں دیکھتے وہ منہ پھیر گئی.. “دفع ہو جاؤ تم دونوں”..
“سوری زری” دونوں نے ایک ساتھ کہا.. اور اس سے لپٹ گئی..
تو وہ بھی ہنس دی اور انہیں گلے لگا دیا..
…
🌹🌹🌹
سیما نے اپنی بہو زویا کو بہت ساری شاپنگ کرائی شادی والے دن کا بہت کامدار ڈریس لیا جس پہ زویا نے اعتراض کیا کہ وہ کیسے پہنے گی دلہن کی طرح لگے گی.. مگر سیما نے ایک نا چلنے دی اور بھی بہت سے کامدار سوٹ لئے کے وہ اسکی بہو ہے یہ اسکا حق بنتا ہے..
..
🌹🌹🌹🌹
عالم صاحب آپکا بیٹا آخر کب تشریف لا رہا ہے.. کل مہندی ہے اور اسے کوئی پرواہ نہیں”.. وہ لوگ اس شام کی چاۓ پی رہے تھے جب سیما بولی..
میری بات ہوئی ہے اس سے کل تک آ جاۓ گا عالم صاحب زویا کے ہاتھ سے چاۓ پکڑتے بولےجبکہ زویا کا دل دھڑکا تھا روحان کے نام پہ..
زویا ٹرے پکڑے کچن میں چلی گئی..
زرتاج سیڑھیاں اترتی باہر کی جانب بڑھی..
“ایک تو تمہاری بیٹی کو بھی چین نہیں ہے منہ اٹھا کر سارے گھر میں گھوم رہی ہے”.. سیما نے زرتاج کو باہر کی طرف جاتا دیکھ سیما سے بولی..
اسکا لان میں جانے کا دل کررہا تھا موسم بھی خوشگوار تھا.جیسے ہی دروازہ سے باہر قدم رکھا سامنے کھڑے نفوس کو دیکھ چونک گئی.. اپنی آنکھوں پہ یقین ہی نا ہورہا ہوجیسے..
حااان بھائی”.. روحان کو دیکھ وہ حیران ہوئی اور اس سے بچوں کی طرح لپٹ گئی..
“زری بیٹا ابھی بھی بچی ہی ہو اونٹ جتنی ہوگئی ہو” اس سے خود سے نرمی سے الگ کر کر اسکی گال کھینچی تھی..
واٹ سرپرائز کل آنے والے تھے آپ.. “وہ پرجوش انداز میں بولی..
ہاں ہاں چلو اندر بھی سرپرائز دیتے ہیں”.. روحان اپنا بیگ وہیں چھوڑ کر اندر بڑھا..
سرپرائز” زرتاج نے زوردار آواز میں کہا تو سب نے اسکی طرف دیکھا.. زرتاج کے پیچھے روحان جھک کر چھپنے کی ناکام کوشش کررہا تھا..
بھئی کون ہے تمہارے پیچھے”.. عالم پیچھے کھڑے شخص کو دیکھنے کی کوشش کرتے بولے.
تو زرتاج نے پیچھے ہٹتے روحان کو آگے کیا.. تو سب خوشی سے اچھل پڑے تھے..” روحان “
روحان پہلے اپنی ماں کے گلے لگا.. جن کی ممتا پانچ سال سے تڑپ رہی تھی اپنے بیٹے کو گلے لگانے کیلئے..
بیٹے سے گلے لگتے ہی سیما آبدیدہ ہوگئی تھی.. پھر سب سے ملا یہاں ایک جذباتی ماحول بن چکا تھا ہر ایک کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے.. “ارے بھئی لگتا ہے میرا آنا کسی کو اچھا نہیں لگا میں جا رہا ہوں”.. روحان نے کہتے ہی ایک قدم آگے بڑھانا چاہا تو سیما نے اسکا کان پکڑ لیا..
کہاں جانا ہے تم نے ہاں.. آۓ بڑے دھمکی دینے”..
آہ مام پلیز میری بیوی کے سامنے تو کان نا کھینچے ” زویا کو دیکھتے آنکھ دبائی ..تو زویا سٹپٹا گئی ادھر اُدھر دیکھنے لگی وہ جو دور کھڑی بس اسے نم آنکھوں سے دیکھ رہی تھی پاس آکر ملی تک نہیں تھی..
تو سب ہنس دیے تھے..
“سیما بیگم چھوڑیں میرے بیٹے کو عرصہ بعد آیا..”
” عالم صاحب اب نہیں چھوڑنا میں نے اسے.. “
“ارے بچیوں جاؤ روحان کیلے کوئی چاۓ پانی کا بندوبست کرو” سفینہ نے کہا تو وہ تینوں کچن کی طرف چل دی..
ماشاللہ میرا بیٹا پہلے سے زیادہ پیارا لگ رہا ہے”.. سیما روحان کے ساتھ صوفہ پہ بیٹھتی بولی..
واؤ واٹ آ سرپراز” زارون جو باہر سے ابھی گھر آیا تھا سامنے بیٹھے روحان کو دیکھ حیران ہوا..
تو روحان کھڑا ہوا دونوں گرم جوشی سے گلے لگے تھے.. عالم صاحب اور اپنے بچوں کو ایک ساتھ دیکھ خوشی سے نہال ہوۓ..
مام آپ کو نہیں لگتا کہ اب زارون کی شادی کردینی چاہیے”.. زارون کو دیکھتے روحان نے اپنی ماں سے کہا..
او یار میں ایسے ہی خوش اچھا نہیں لگ رہا تمہیں”.. زارون نے کہا سب ہنس دیے..
اچھا لگ رہا ہے تو کہا ہے نا تاکہ تیری خوشیوں میں مزید اضافہ ہوسکے”.. روحان نے اسے مزید مسکا لگایا..
بس بس میں اتنی سی خوشی میں ہی اتنا خوش ہوں”..
اچھا بس”.. روحان بیٹا جاؤ تم فریش ہو جاؤ” ..سیما نے انہیں ٹوکا..
جی مام؟ کہتا وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا..
روحان کمرے میں آیا ایک نگاہ سارے کمرے کی طرف دوڑائیں. بلکل ویسے کا ویسا ہی تھا اسکا کمرہ جیسے وہ چھوڑ کر گیا تھا صاف ستھرا ..کل ہی سیما نے صاف کروایا تھا.. کبرڈ کھولی اسکے کپڑے وہاں پہلے سے تھے ان میں شلوار بلیک قمیض شلوار نکال کر وہ باتھ روم گھس گیا..
وہ سیڑھیاں اترتا نیچے آ رہا تھا بلیک شلوار قمیض پہنے وہ بہت ہینڈسم لگ رہا تھا اسکی سفید رنگت پہ کالا رنگ بہت اٹھ رہا تھا سیما نے بلائیں لی اپنے بیٹے کی..
چاۓ کے ساتھ سموسے اور پکوڑے بھی رکھے گئے تھے.. روحان سامنے صوفہ پہ بیٹھا..
” زویا چائے دو روحان کو” سیما کہ کہنے پہ وہ آگے بڑھی اور کپ اٹھا کر روحان کی طرف بڑھایا.. روحان نے اسے اپنی نظروں کے حصار میں لیا ہوا تھا جس سے وہ کنفیوز ہو رہی تھی..
روحان نے کچھ دیر اسے دیکھنے کے بعد کپ کی طرف ہاتھ بڑھایا کپ سمیت اسکا ہاتھ پکڑ لیا اور وہ ہاتھ چھڑانے جوگی بھی نہیں رہی تھی اور آہستہ اسکا ہاتھ چھوڑ کر کپ تھام لیا..
سیما اپنے بیٹے کی اس حرکت پہ مسکرا دی جبکہ زویا کا تو وہاں کھڑا ہونا ہی محال ہوگیا تھا روحان نے بڑے ڈھیٹ پن کا مظاہرہ کیا جیسے وہاں کو ہو ہی نا..
اور زویا چلی گئی.. جبکہ زارون ساتھ بیٹھا بولا..” تیری ہی ہے سب کی سامنے تاڑ رہا ہے”..
ہاں تو میری ہے سب کی کیوں پرواہ”.. روحان نے بھی ڈھٹائی سے جواب دیا..
زویا اسکی اس حرکت کے بعد دوبارہ سامنے نا آئی اسکے پھر کھانے کے وقت اسکا سامنا ہوا.. کھانے کی ٹیبل پہ
سب بیٹھے تھے زویا اور روحا کھانا لگا رہی تھی ہلکی پھلکی آپس میں بات چیت جاری تھی.. سارا کھانا روحان کی پسند کا بنایا گیا.. زرتاج بیٹھی تھی..
جبکہ ایک دو چیزیں زویا رکھ رہی تھی.. “زویا بیٹھ جاؤ اب زری تم بھی کچھ ہاتھ ہلا لو پرسوں ہے تمہاری شادی ہے.. زویا کی کنڈیشن بھی ٹھیک نہیں ہے”.. زارون نے زرتاج کو آڑے ہاتھوں لیا..
یہ کہاں گھسنے دیتی ہے مجھے کچن میں”.. زرتاج نے اپنا دفاع کرنا چاہا..
کیا ہوا زویا کو” ..روحان نے ناسمجھی سے زارون کو کہا..
روحان بیٹا تم”.. سیما بول ہی رہی تھی کے عالم صاحب نے اسکی بات ٹوک دی..
روحان تم پریشان نا ہو شادی کی تھکاوٹ ہے ویکنیس ہوگئی تھی” زویا بچے بیٹھو کھانا کھاؤ.. “
روحان نے زویا کو غور سے دیکھا وہ اسے واقعی کمزور لگی اور رنگ بھی پیلا ہو رہا تھا..
روحان کیساتھ کی ہی کرسی خالی تھی زرتاج کیساتھ والی کرسی پہ روحا بیٹھ چکی تھی..
مرتا کیا نہ کرتا چارو ناچار اسے روحان کیساتھ بیٹھنا پڑا.. روحان نے اسکے سامنے پلیٹ رکھی اور چاول ڈالنا شروع کردیئے..
کھاؤ اب میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو بعد میں فہرست سے دیکھ لینا” روحان نے اسے خود کو دیکھتا پاکر کہا تو وہ تو وہ شرم سار ہوئی ہوئی تھی اور جلدی سے چمچ اٹھایا..
جبکہ ساتھ بیٹھی روحا اور زری کی ہنسی نکلی تھی..
” تم لوگوں کے کس بات پہ دانت نکل رہے ہیں” روحان نے انہیں ٹوکا تو وہ سیریس ہوکر کھانے لگی..
روحان کی نظر زرتاج کی پلیٹ پہ گئی جہاں چاول کی ٹیسی لگی ہوئی تھی اوپر تک اور وہ بڑے مزے سے اوپر رائتہ ڈال ڈال کر کھا رہی تھی.. اور پھر اسکی صحت کی طرف نگاہ دوڑائیں.. اور پھر زویا کی طرف دیکھا جہاں وہ بس پلیٹ میں چمچ پہ احسان کررہی تھی تھوڑے سے جو اسنے چاول ڈالے تھے بس وہی پورے کرنے کی کوشش کررہی تھی..
“زویا کا سارا کھانا تو تم ہی کھا جاتی ہو اسے دیکھو اور خود کو دیکھو”.. روحان نے زرتاج کو ٹوکا جس نے چمچ بھر کے منہ ڈالا تھا روحان کی بات سے جلدی اسے نگلا..
زارون اور روحا کی ہنسی چھوٹی تھی..
“حان بھائی میں اپنے حصہ کا ہی کھاتی ہوں اب آپکی بیوی نہیں کھاتی تو میرا کیا قصور”.. زرتاج بھی کہاں چپ رہنے والی..
” ہہم.. کھانا کھاؤ”.. عالم صاحب نے انہیں ٹوکا..
بس اسی نوک جھوک میں کھانا کھایا گیا زرتاج نے پھر بھی پیٹ بھر کر کھایا کھانا تو اسکی کمزوری تھی غصہ اور ٹینشن میں تو ڈبل کھاتی تھی..
رات گیارا بجے تک روحان کی سب کے ساتھ گپ شپ رہی سب بزرگ کمرے میں چلے گئے..
پھر سب چلے گئے..
زویا کچن میں تھی جب اسے روحان کا میسج آیا..
روم میں آؤ”.. اب اسی کشمکش میں تھی کے کیا کرے جاۓ نا جاۓ..
“ماما کے پاس گئی تو وہ کیا سوچیں گی میں روحان کے پاس نہیں گئی.. اور مجھے روحان کے روم میں نہیں جانا کتنا برا ڈانٹا تھا اور پھر بات بھی نہیں کی.. اور حان ناراض ہوگئے تو.. “
پانی کا جگ لئے وہ اپنی ماما کے کمرے میں آئی پانی رکھ کر وہ باہر کی جانب قدم بڑھائے کے پیچھے سے سفینہ نے آواز دی..
“زویا بیٹا سو جاؤ کل بہت کام کرنے ہیں” ..
جی ماما میں جا ہی رہی تھی سونے”..
کہاں سونے”.. سفینہ نے جلدی سے پوچھا..
وہ ماما میں”.. زویا سے جواب ہی بن نہیں ہورہا تھا ..
یہاں سوجاؤ بیٹا روحان کے کمرے میں تم دو دن تک نہیں جاؤ گی گھر میں شادی ہے بہن کی اس پہ توجہ دو”..
جی ماما”.. اور سفینہ کے ساتھ لیٹتے ہی اسے نیند آگئی..
روحان کتنی دیر تک جاگتا رہا مگر وہ نا آئی اور روحان انتظار کرتے کرتے سو چکا تھا..