Beparwah Season 1 By Ayesha Noor Readelle50280 (Beparwah) Episode 21
Rate this Novel
(Beparwah) Episode 21
گھر آج بے رونق سا لگ رہا تھا زویا کے بغیر سبھی اداس سے ہھر رہے تھے۔۔
پھر زویا کی خیریت سے پہنچنے کی اطلاع ملنے پر سبھی نے شکر کیا ۔۔
دوپہر کے وقت زرتاج اور روحا دونوں ٹیوی لاؤنج میں بیٹھی تھی آج کا دن ہی نہیں گزر رہا تھا انکا جیسے۔۔
“آج گھر خالی خالی سا لگ رہا ہے” روحا بولی ۔۔
“ہاں زویا سے بات بھی نہیں ہوئی ابھی تک” زرتاج بولی۔۔
تو روحان بھائی کو کال کرو زویا سے بات کروا دیں۔” ۔زرتاج نے روحا سے کہا۔۔
“کی تھی کال آفس ہوگے ریسو ہی نہیں کی۔۔”
🥀🥀🥀🥀🥀
روحان آفس پہنچا ہی تھا کہ عالم صاحب کی کال آئی ۔۔
“ییس ڈیڈ۔ ؟
“لے آۓ بیٹا زویا کو ” عالم صاحب نے نرم لہجہ میں پوچھا۔۔
“ہاں میں لے آیا ہوں گھر چھوڑ دیا ہے۔۔” روحان بے دلی سے بولا۔۔
“کیا مطلب گھر چھوڑ دیا تم کہا ہو” عالم صاحب ک لہجہ پھر سخت ہوا۔۔
“ڈیڈ میں ابھی آفس آیا ہوں آپکی چہیتی کو گھر چھوڑ کے آفس میں بھی کام بہت ہے” روحان تفصیل سے بات بتائی۔۔
اچھا عالم صاحب کو تصلی ہوئی ۔۔
“بیٹا مجھے غلط مت سمجھنا میں نے جو کیا تمہارے بھلے کے لیۓ کیا ہے۔۔ زویا کو کچھ مت کہنا” عالم صاحب پھر سے نرم ہوتے بولے۔۔
“ہہم ۔۔جانتا ہوں آپ نےکس کا بھلا کیا ” طنز کرتا بولا
“زویا بہت اچھی بچی ہے تم دونوں ساتھ رہو گے ایک دوسرے کو سمجھو گے تب ہی کوئی بات بنے گی ایسے تو میں تمہاری بے جا ضد نہیں مان سکتا۔۔”
“اور اگر ایسا نا ہوا ڈیڈ تو۔۔”
“تمہاری سوئی ابھی بھی وہیں اٹکی ہوئی ہے” عالم صاحب بولے۔۔
“ڈیڈ میں آزادی چاہتا تھا اور آپ نے میرے پیر کی بیڑی اور مضبوط کردی۔۔” روحان نے احتجاج کیا تھا۔۔
“نہیں روحان میں تمہیں سیدھا راہ دکھانا چاہتا ہوں بتانا چاہتا یہ تمہاری بے جاہ ضد ہے کہیں کل کو تمہیں اپنے فیصلہ پہ پچھتانا نا پڑے” عالم صاحب نے اتنا کہتے ہی کال کٹ کردی ۔۔
روحان کے زہن میں وکی کی باتیں آئی تھی ہہم اب اس عذاب کو دو مہینے برداشت کرنا پڑے گا تم سے تو اب میں ہر حال میں جان چھڑا کے رہوں گا
🥀🥀🥀🥀🥀
نو بج چکے تھے دونوں ایک ساتھ آفس سے نکلے تھے ۔۔
“اب کھانا میرے ساتھ کھاۓ گا یا بھابھی کیساتھ۔ ” ۔وکی ہنستا ہوا بولا تھ۔۔
کھانے کے نام سے روحان سوچ میں پڑ گیا تھا۔۔ اسے یاد آیا گھر میں کھانے کو کچھ خاص تھا ہی نہیں ۔۔
“کیا ہوا اس بیچاری کو کھانے کو کچھ دے کے بھی آیا تھا یا ابھی تک بھوکی ہی ہے۔۔” وکی اسے سوچ میں پڑتا دیکھ بولا..
روحان بس چپ رہا تھا۔۔
“چل پھر پہلے خود کچھ کھالے پھر اسکے لیۓ کھانے کو لیجانا ۔۔”
دونوں ریسٹورنٹ میں بیٹھے تھے کھانا کھا رہے تھے جب وکی بولا
” بھابھی کا کوئی من پسند کھانا لیجا ۔۔”
“مجھے نہیں پتا” وہ لاپرواہی سے کھانا کھاتے بولا۔۔
“یار وہ تمہاری کزن بھی ہے اتنا عرصہ ساتھ رہے ہو کچھ تو بندے کو معلوم ہوتا ہی ہے” وکی کو اسکی بے حسی پہ افسوس ہوا۔۔
آگے سے کوئی جواب نہیں۔۔
“اچھا پھر ہمم وکی اچھا کو کھینچتے سوچنے کے انداز میں بولا۔”۔ چل پھر لڑکیاں چکن کی شوکین ہوتی ہیں وہ پیک کروا لے ۔۔
“نہیں چکن نہیں کھاتی وہ کوئی سبزی وغیرہ” روحان چکن کے نام پہ کھانا کھاتے فوراً بولا۔۔
وکی نے تکا لگایا تھا چکن کا جو زویا کو ناپسند تھا۔۔ اور ایک اور تکا لگیا ساتھ۔۔
” دال اور ساتھ میکرونی “۔۔
“نہیں دال کے ساتھ چاول اور رائتہ ” وہ اپنا کھانا فنش کرتا ہوا بولا۔۔
“ٹھیک ہے تیری بیوی تجھے پتا ہے اسے کیا کھانا ہے میری تو کوئی بیوی ہے نہیں جو مجھے پتا ہوتا بیویوں کی پسند ناپسند کا ” وہ اپنا رونا لیکر بیٹھ گیا۔۔روحان نے نفی میں سر ہلایا تھا۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
دروازہ چابی سے کھول کر وہ اندر داخل ہوا ہمیشہ کی طرح خالی گھر اسکا منہ چڑھا رہا تھا مگر آج گھر خالی نا تھا گھر والی بھی موجود تھی ۔۔
روحان نے کچن میں کھانے کے پیکٹ رکھے اور کمروں کی طرف آیا تھا پتا نہیں کونسے کمرے میں ہوگی سوچتا اپنے کمرے کے سامنے والے کمرے کا ہی ہینڈل گھمایا تو وہ لوک تھا۔۔”ہہم تو محترمہ یہاں ہے۔۔”
ٹک ٹک۔۔ اسنے دروازے پہ دستک دی مگر اندر سے کوئی آواز نا آئی۔۔
پھر ایک دوبار دستک سی مگر بے سود رہا۔۔” زویا زویا تمہارا کھانا کچن میں رکھا ہے” ۔۔ وہ کہہ کر اپنے کمرے کی جانب بڑبڑاتا “مڑا نخرے ہی نہی ختم ہو رہے میڈم کے” دھاڑ سے درواہ بند کیا اپنے کمرے کا۔۔
وہ جو دروازے کی دستک سے سہم گئی تھی اس لئے بول بھی نا سکی پھر روحان کی آواز آئی کھانے کا کہہ رہا تھا “شکر ہے اسے بھی خیال آیا میرا بس چاۓ پہ ہی گزارا کر رہی تھی اب تک۔۔”
کچھ دیر گزر جانے کے بعد ہمت کر کے دروازہ کھولا ۔۔
پہلے سر باہر نکال جائزہ لیا باہر کا کہیں روحان تو نہیں تصلی کرنے کے بعد وہ باہر آئی سیدھا کچن میں گئی کھانے کے پیکٹ کھولے دال چاول اسکا فیورٹ تھی شکر ہے میری پسند تو یاد اسنےدل میں سوچا ۔۔
کھانا اون میں گرم کرکے ٹیبل پہ بیٹھ کر جلدی جلدی کھانے لگی کہیں روحان ہی نا آجاۓ۔۔۔
روحان فریش فریش سا کمرے سے باہر آیا بلیک ٹی شرٹ اور ساتھ بلیک ہی ٹراؤزر پہنے ہوۓ تھا ۔۔
کچن کی طرف آیا تو زویا کو دیکھ وہیں رک گیا جو جلدی جلدی کھانے میں مصروف تھی۔۔ “ہہم صحت تو پھر بھی چڑی جتنی ہے اتنا کھانا جاتا کہاں ہے” اسے دیکھ کر دل میں کہا۔۔
کچن میں کافی کاسامان نکالا اور کافی میکر میں پانی اور کافی ڈال کر اون کیا اور شیلف کے ساتھ لگ کر کھڑا ہوگیا سینے میں دونوں ہاتھ باندھے زویا کا سر تا پیر جائزہ لینے لگا۔۔ زویا کے تو ہاتھ کانپنے لگےکھاتے ہوۓ جب اسے پتا لگا روحان بھی کچن میں ہے۔۔آف وائٹ سادی نیٹ کی فراک کی پہنے آدھے بالوں کو کیچر میں مقید باقی پیچھے کھلے چھوڑے تھے سیاہ بال پوری کمر پہ بکھرے تھے دوپٹہ بس ایک کاندھے تھا روحان کو دیکھتے جو پورااسی کی جانب متوجہ تھا جلدی سسے سارا دوپٹہ آگے کرلیا اپنی نشست سے ایک انچ بھی نہیں ہلی تھی روحان نے کافی میکر بند کیا کپ میں کافی انڈیلی اور چپ چاپ کمرے میں چلا گیا۔۔ زویا کی رکی ہوئی سانس بحال ہوئی تھی جلدی سے برتن سمیٹے اور اپنے لیۓ چاۓ بنائی اور وہ بھی کمرے میں بند ہوئی تھی گیٹ کو اچھے سے لاک کرنا نا بھولی۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
“کیا کسی نے بھی مجھے بتانا ضروری نہیں سمجھا زویا کے بارے ۔۔ مجھے اس بارے میں کیوں لا علم رکھا گیا”
اس وقت گھر کے سب افراد ڈائنگ ٹیبل پہ بیٹھے تھے ڈنر کرنے ۔۔زارون بول کم اور چلا زیادہ رہا تھا۔۔ سب خاموش بیٹھے تھے کوئی بھی نہیں بول رہا تھا۔۔
“زارون اتنا غصہ کیوں کر رہے ہو” سیما بولی تھی۔۔
“مام آپ بھی مجھے ہی کہہ رہی ہیں آپ نے بھی مجھے بے خبر رکھا”۔۔
“بیٹا مجھے کیا کہہ رہے ہو مجھے بھی دو دن پہلے بتایا تھا تمہارے ڈیڈ نے ” سیما نے جواب دیا۔۔
“زارون تم نے پہلے بھی یہی سب شور کرنا تھا اس لیۓ نہیں بتایا تھا ۔آخر تمہیں کیوں مسئلہ ہو رہا ہے زویا کو روحان کے پاس بھیجنے سے “۔۔عالم صاحب کے ہوچھنے پہ زارون چپ رہا کیسے بتاتا روحان کے کند سوچ کے بارے میں ۔۔
“بولو اب چپ کیوں ہو”۔۔عالم صاجب پھر بولے اس بار انکی آواز اونچی تھی۔۔
“ڈیڈ روحان زویا کو نہیں رکھے گا اسے جلدی پھر واپس بھیج دے گا اسکا دل ٹوٹ جاۓ گا۔۔ ٹراۓ ٹو انڈرسٹینڈ ڈیڈ ” وہ اپنی بات سمجھاتا بولا۔۔
“دیکھا جاۓ گا ” عالم صاحب اپنی پلیٹ میں کھانا ڈالتے بڑے آرام سے بولے۔۔
زرتاج اور روحا بھی پریشان سی تھی زویا سے بھی کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔۔
سفینہ کو الگ فکر تھی زارون کی بات میں بھی دم تھا۔۔
سیما نے بیٹے کو تصلی رکھنے کا اشارہ کیا اور کھانا شروع کرنے کا کہا۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
روحان صبح صبح تیار ہوکر آفس بیگ ہاتھ میں پکڑے زویا کے کمرے کا دروازہ بجا رہا تھا۔۔
زویا صبح کی نماز پڑھ کر پھر سے بستر میں لیٹ گئی تھی رات بھر صحیح سے سو نا پائی اور پھر آنکھ لگ گئی تھیِ۔۔ دروازہ بجا تو جلدی سے اٹھ بیٹھی۔۔
“زویا”۔۔ اب کے روحان زور سے بولا تو فٹ سے اٹھ کر دروازہ کھولا۔۔
“گھوڑے بیچ کر سو رہی تھی۔”۔دروازہ کھلتے ہی پھٹ پڑا۔۔
پھر سر تا پیر اسے گھورا جو ویسے بنا دوپٹہ کے اٹھ کر آگئی تھی۔۔ابھی بھی رات والے کپڑوں میں ہی تھی بال بھی کھلے اور بکھرے تھے۔۔ نیند سے سرخ ہوتی خمار آلود آنکھیں.. چہرے پہ بے پناہ معصومیت لئے اسکے سامنے تھی ایک پل کیلئے روحان اس میں کھو سا گیا..
روحان کو خود کی طرف تکتا پاکر اپنے حلیہ کا خیال آیا تو جلدی دروازہ کی اوٹ میں چھپنے کی کوشش کی تھی آدھی دروازے کے پیچھے اور آدھی باہر۔۔
“میں آفس جا رہا ہوں نو بجے جینی آۓ گی گھر کی صفائی کرنے یہ کچھ پیسے ہیں اس سے کہ منگوا لینا کھانے پینے کو کچھ بھی ایک ہفتہ کی گروسری کا سامان آجاۓ گا” پیسے اسکی طرف بڑھاۓ مگر اس نے ابھی تک نہیں لیۓ تھے کبھی اسے دیکھتی تو کبھی پیسوں پھر کچھ دیر بعد پیسے پکڑنے کیلۓ ہاتھ بڑھا پیسے پکڑتے وقت تھوڑا سا ہاتھ اس کے ہاتھ کے ساتھ مس ہوا تو فٹ سے ہاتھ پیچھے کرلیا۔۔
“بیہیو تو ایسے کر رہی ہے جیسے کہ کوئی ویمپائر ہوں “۔۔وہ دل میں سوچتا سر ہلاتا چلاگیا۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
نو بجے جینی آئی تھی اس کے پاس بھی گھر ایک ایکسٹرا کیی تھی وہ روز نو بجے آتی اور گھر صاف کرکے چلی جاتی تھی جب سے روحان نے اپارٹمنٹ لیا تھا تب سے وہ یہاں کام کر کر رہی تھی وہ ایک درمیانی عمر کی خاتون تھی اور دو بچوں کی کفالت خود کررہی تھی شوہر کب کا چھوڑ کر جا چکا تھا ۔۔
روحان نے اسے فون پہ بتا دیا تھا کہ پاک سے اسکی مہمان آئی ہوئی ہے ۔۔
زویا ابھی بھی بستر پہ ہی لیٹی سوچوں میں گم تھی جب دروازہ ناک ہوا تو فٹ سے اٹھ بیٹھی اور انجان عورت کو دیکھ کر ڈر گئی ۔۔
“ہیلو مادام کیسا ہے میں جینی ہے۔۔”
جب اس عورت نے اپنا تعارف کروایا تو اسے یاد آیا صبح روحان اسی کا بتا کہ گیا تھا۔۔
“اسلام علیکم” وہ بستر سے اٹھ کر کھڑی ہوئی اور احترام سے سلام کیا۔۔
“سسٹر آپ کا نام” ۔۔ روحان نے بتایا تھا مگر وہ بھول اور سوچ میں پڑھ گئی۔۔
“زویا” ۔۔زویا نے کہا۔۔
“اوکے زویا سسٹر تو پھر آپ کیلۓ ناشتہ بناؤں۔۔” جینی نے احترام سے کہا۔۔
“نہیں میں خود بنا لوں گی۔۔” زویا بولی۔۔
“نہیں سسٹر آپ مہمان ہیں آپ فریش ہوں میں بنا دیتی ہوں ” وہ بڑی عزت سے بولی تھی پھر زویا نے کچھ نا کہا۔۔
جینی نے زویا کے لیے بہت اچھا ناشتہ بنایا تھا۔۔
پھر جینی نے گھر کی صفائی کی پھر زویا نے اسے لسٹ بنا کے دی راشن کی جو جینی نے لاکر دی اور بارہ بجے وہ چلی گئی۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
“ہیلو اسلام علیکم کیسی ہو زویا بیٹا ” عالم صاحب نے زویا کو کال کی تھی۔۔
” میں ٹھیک تایا ابو آپ سنائیں کیسے ہیں سب مجھے بہت یاد آرہی ہے سب کی۔۔” زویا اداس ہوتی بولی۔۔
“بیٹا ہمیں بھی بہت یاد آرہی ہے تمہاری۔۔
لو بھی بات کرو ماں سے”۔۔عالم صاحب نے سفینہ کو فون دیا۔۔
“کیسی ہو میری بچی ” ماں سے احوال کرنے کے بعد زویا نے زرتاج اور روحا سے بھی ڈھیروں باتیں کی۔۔
زویا نے آج موبائل اون کیا تھا عالم صاحب نے اسے پاک میں ہی آسٹریلیا کی سم لیکر دی تھی کہ وہ وہاں جا کر یوز کر سکے کل اسنے فورن موبائل اون نہیں کیا کیونکہ کل روحان کی باتوں سے وہ ٹوٹ گئی تھی ہمت نہیں ہوئی گھر بات کرنے کی ۔۔زویا نے زورتاج اور روحا کے ساتھ نمبر شئیر کیا اور پھر باتوں کا نا رکنے والا سلسلہ چل نکلا ۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
“بھائی صاحب ۔۔” عالم صاحب رات کے کھانے کے بعد سٹڈی میں بیٹھے کتاب کا مطالعہ کررہے تھے جب سفینہ ان کے پاس آئی۔۔
عالم صاحب نے کتاب بند کی اور عینک اتار کر میز پہ رکھی اور سفینہ کی طرف متوجہ ہوۓ۔۔ “بولو سفینہ کیا بات ہے۔۔”
“بھائی صاحب زورتاج کا گریجویشن مکمل ہونے والا ہے تو میں اسکی شادی کا سوچ رہی ہوں زویا کے مستقبل کا معلوم نہیں مگر میں جلد از جلد زرتاج کا گھر بسا دینا چاہتی ہوں”۔۔
“تمہاری بات ٹھیک ہے مگر زویا کے لیے میں شرمندہ ہوں” ۔۔
“بھائی ایسا مت کہیں جو اسکی قسمت میں ہوگا وہ دیکھا جاۓ اب زرتاج کا فیصلہ آپکے ہاتھ میں ہے”۔۔ سفینہ اپنی بات کہہ چپ ہوئی۔۔
“ہہم بیٹیاں کب بڑی ہوجاتی ہیں پتہ ہی نہیں چلتا۔۔ خیر ٹھیک ہے میں دیکھتا یوں میرے جاننے والوں میں ہیں کچھ رشتہ میں کچھ دنوں ایک اچھآ سا رشتہ دیکھ کر بتاؤں گا”۔۔عالم صاحب نے کہا۔۔
“اچھا بھائی صاجب اب زرتاج بھی جلد از جلد اپنے گھر کی ہوجاۓ ۔”۔اللہ اسکے نصیب اچھے کرے آمین ” سفینہ نے دل سے دعا کی اپنی بیٹی کیلے ۔۔
“آمین “
۔۔عالم صاحب نے بھی دل سے کہا
