94.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Beparwah) Episode 2

اب کے وہ لڑکا اس پہ جھکنے لگا تھے کے کسی نے پیچھے سے اسکا کالر کھنیچا اور اس کا سر زمین کے ساتھ ٹکرآیا تھا۔۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
زارون اسی راستہ پہ آیا جہاں اس نے زر کو اتارا تھا مگر اسے زرتاج وہاں دکھائ نہی دی وہ گاڑی سے نیچے اتر کر آگے آیا تھا سڑک پہ ادھر ادھر نگاہ دوڑائی مگر اسے وہ نظر نہی آئی۔۔
شاید آ ٹو سے چلی گئی ہوگی یہ مس یہی سوچتے وہ گاڑی کی طرف بڑھا تھا ابھی وہ گاڑی کا گیٹ کھول اس میں بیٹھنے ہی والا تھا کہ اسے کسی لڑکی کے چیخنے کی آوازیں اسکے کانوں میں پڑی تھی کسی انہونی کا گمان ہوا تھا اسے۔۔ آواز کے تعقب میں وہ آگے آیا ۔۔۔
” زری یہ تو یہ تو زری لگ رہی ہے” اب کے وہ بھاگا تھا آگے جا کر رستہ میں اسے زرتاج کا گرا ہوا بیگ نظر آیا تھا پھر کچھ اور آگے جھاڑیوں کے قریب اسے زر کا ایک جوتا نظر آیا اب کے اسے صاف آوازیں سنائی دی تھی وہ اور تیزی سے آگے بڑھا تھا سامنے کا منظر اس کیلۓ ناقابل برداشت تھا ۔۔ زری گنڈوں کی زد میں تھی اور ایک اس پہ جھک رہا تھا زارون تیزی سے اسکی طرف لپکا تھا اور اس لڑکے پیچھے سے شرٹ کا کالر کھینچ کر زمین پہ پٹخا تھا ۔۔
زرتاج نے سختی سے آنکھیں میچی ہوئی تھی مگر لڑکے کی چلانے کی آواز پہ اسنے آنکھیں کھولی تو۔۔ سامنے زارون تھا وہ اسے اس وقت فرشتہ سے کم نہی لگا تھا جو ابھی اس لڑکے کو جو زمین پہ پڑا کراہ رہا تھا اسے ٹانگوں سے مارا رہا تھا اب اسکی طرف بڑھ تھا ۔۔
زارون نے جب زر کو اس حلیہ میں دیکھا تو اسےخود پہ بے انتہا غصہ آیا تھا۔۔ کھلے بکھرے بال گال پہ تھپڑ کے نشان ہونٹ کنارے سے پھٹا ہوا جہاں خون بہ رہا تھا کاندھے سے ایک طرف ڈھلکی شرٹ جو آستینیں پھٹنے کی وجہ سے ایک طرف سرک گئی تھی ۔۔ اسے احساس ہو ا تھا آج اگر وہ وقت پہ نہ آتا تو کیا سے کیا ہوجاتا اسکے گھر کی عزت آج تار تار ہوجاتی ۔۔
“اے لڑکے تم کہاں سے چلے آۓ جا اپنا کام کر ورنہ اچھا نہی ہوگا تیرے ساتھ ” زمین پہ گرے اپنے ساتھی کو دیکھ کر وہ گھبرا گۓ تھے مگر پھر بھی زارون کو دھمکاتے آگے بڑھے تھے ۔۔
زارون بھی آگے بڑھا تھا زارون کے سر پر تو جیسے خون سوار تھا ایک کے پیٹ پہ مکا مارا اور دوسرے کے پیٹ میں ایک ساتھ لات ماری تھی وہ لڑکھڑا پیچھے ہٹے تھے ان دونوں کو مار مار کر اسنے درگت بنا ڈالی تھی۔ ۔ وہ دونوں اپنا آپ زارون سے چھڑاتے اپنے ساتھی کو چھوڑ کر بھاگ گۓ تھے۔۔
زاورون اب زرتاج کی کی طرف بڑھا جو کھڑی ہاتھوں میں منہ چھپاۓ ہچکیوں سے رو رہی تھی اپنی جیکٹ اتار کر اس کے کاندھوں پہ رکھی ۔۔ اس نے نظریں اٹھا کر زارون کی طرف دیکھا تھا پھر اگلے ہی پل اس کے گلے لگی تھی سر اسکے سینے پہ رکھے پیچھے سے اسکی شرٹ کو زور سے مٹھیوں سے جھکڑا تھا اور زور شور سے رو نے لگی ۔۔
وہی زارون اسکی کمر سہلاتا اسے چپ کر وارہا تھا ۔۔وہ اسکے سینے سے لگی آنسوں سے اسکی شرٹ بھگو رہی تھی ۔۔
پھر زارون نے اسے خود سے نرمی سے اسکے کاندھوں سے پکڑ کرالگ کیا اور جھاڑیوں سے اسکا پھسا دوپٹہ نکالا تھا اس پہ اچھی طرح سے اسکے سر پہ اوڑھا کے اسکے گرد لپیٹا تھا ۔۔اور اسے کاندھوں سے پکڑ کر گاڑی کی طرف بڑھا تھا وہ بھی مرے مرے قدموں سے ننگے پاؤں اسکے ساتھ چل رہی تھی پاؤں بھی پتھر چبھنے سے زخمی ہو چکے تھےاسے گاڑی میں لاکر بٹھایا تھا ۔۔اسے حوش ہی کہا تھا اپنا ۔۔
زارون نے زرتاج کو گاڑی میں بٹھا کر پھر سڑک پہ اسکا گرا بیگ اٹھایا تھا اور اسکے جوتے بھی اٹھاے تھے وہ لاکر گاڑی کے پچھلی سیٹ پر رکھے اور خود آگے آکر ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی تھی ۔۔
“سوری”
پتا نہی کیوں وہ یہ لفظ استعمال کر گیا تھا جو
اسکے لۓ توہین سے کم نہی تھا وہ بھی زرتاج کے سامنے۔۔
زرتاج نے کوئی جواب نہی دیا نہ ہی اسکی طرف دیکھا تھا ۔۔وہ اس سے پہلے کبھی یوں اسکے سامنے نہی روئی تھی۔۔
گاڑی یوسف مینشن کے پورچ میں آکر رکی تھی ۔۔ “تم یہاں رکو میں اندر دیکھ کر آتا ہوں کوئی ہے تو نہی تم کسی کے سامنے ایسے نہی جاؤ گی”۔۔وہ گاڑی سے اتر اندر آیا تھا ۔۔سامنے حال خالی دیکھ کر اسے اطمینان ہوا اس سے پہلے کوئی آجاۓ اسے زر کو اس کے کمرے تک پہچانا تھا ۔۔
آؤ زری جلدی کوئی نہی ہے زارون نے اسکا بازو پکڑ اسے گاڑی سے اتارا تھا اور جلدی سے لئے گھر میں داخل ہوا تھا کہیں کوئی دیکھ نہ لے ۔۔
حال میں اسے سیڑھیوں کے پاس لا کر چھوڑا تھا اور وہ جلدی سے سیڑھیاں چڑھتی اپنے کمرے میں بند ہو گئی تھی۔۔
یہاں بھی اس کا اپنا ہی مفاد تھا کہی کوئی زر کو دیکھ نہ لےایسی حالت میں ورنہ سوال تو اس سے ہی ہونا تھا زر کی اس حالت کا ذمہ دار بھی وہ خود ہی تھا ۔۔وہ بھی سیڑھیاں چڑھتا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
یوسف ولا میں اس وقت دو فیملیز آباد تھیں عالم یوسف ملک اور انکی بیگم اور تین بچے اور انکے مرحوم بھائی اکرم یوسف ملک کی بیوہ اور دو بیٹیاں ۔۔
….
یوسف ملک نے اپنی محنت سے یہ گھر بنایا تھا انکی اہلیہ بہار بیگم اورانکے دو بیٹے عالم اور اکرم اور چھوٹی بیٹی شاہانہ۔۔
عالم کی شادی سیما سے ہوئی تھی جن سے انکے دو بیٹے روحان اور زارون اور چھوٹی بیٹی روحا ۔۔
اکرم کی شادی عالم کی شادی کے چھہ سال بعد ہوئی تھی شہانا کی شادی بھی اکرم کے ساتھ ہی ہوئی تھی ۔۔
سیما اپنے دیور اکرم کی شادی اپنی چھوٹی بہن شینا سے کروانا چاہتی تھی مگر اکرم کو اپنی ماموں زاد پسند آگئی تھی اور وہ اسی کے ساتھ شادی کیلۓ بضد تھا ۔۔
اکرم کی شادی اسکی ماموں کی بیٹی سفینہ سے ہوگئ تھی جو اپنے ماں باپ کی لاڈلی اور اکلوتی بیٹی تھی۔
اور ساتھ ہی انکی بہن شاہانہ کی بھی شادی شاہد سے ہوگئی تھی ۔۔اور اسکا ایک بیٹا ہوا “عمار شاہد “تھا۔۔
اکرم کو اللہ نے ایک سال بعد ایک بیٹی سے نوازا تھا جس کا نام انہوں نے “زویا ” رکھا تھا۔۔ جو روحان اور زارون کو بے حد پسند تھی ۔۔ زویا روحان سے سات سال چھوٹی تھی اور زارون سے چار سال چھوٹی تھی ۔ ۔ پھر دو سال بعد اکرم کے ہاں ایک اور بیٹی نے جنم لیا تھا اسکا نام انہوں نے “زرتاج” رکھا تھا جو گول مول سی زویا کے مقابلے میں زیادہ صحتمند تھی ۔۔ اکرم کی خوشی کی انتہا نہی تھی سفینہ کا ساتھ اور دو بیٹیوں نے اسکی زندگی مکمل کردی تھی ۔۔
اور عالم کو بھی اللہ نے بیٹی سے نوازہ تھا ۔۔جسکا نام انہوں نے” روحا” رکھا تھا روحا زرتاج سے تین سال چھوٹئ تھی ۔۔روحان اور زارون کی خوش کی انتہا نا تھی اللہ نے انہیں بھی بہن سے نواز دیا تھا ۔۔
سیما انہیں زویا اور زرتاج سے زیادہ کھیلنے نہی دیتی اسلۓ وہ اداس بھی ہوجاتے تھے تو پھر انکی بھی بہن ہوگئی تھی اب وہ ہی انکی زیادہ تر توجہ کا مرکز تھی۔
پھر ایک دن وہ ہوا جس کا کسی کو گمان بھی نہی تھا زویا سات سال کی تھی اور زرتاج پانچ سال کی جب انکے والد اکرم یوسف ملک ایک کار ایکسیڈنٹ سے اس دنیا سے کوچ کر گۓ تھے ۔۔ سفینہ پہ تو جیسے پہاڑ ہی ٹوٹ گیا تھا بھری جوانی میں بیوہ اور دو بچیوں کا ساتھ تھا ۔۔ یوسف ملک جوان بیٹے کے صدمے کی وجہ سے دل کے مریض بن گۓ تھے جبکہ انکی اہلیہ بہار بیگم اکرم کا صدمہ برداشت نہ کر سکی تھی اور جلد ہی وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئی تھی۔۔ یوسف صاحب تنہا ہوگئے تھے انہوں نے اپنی پوتیوں کی ذمہ داری اپنے سر لے لی تھی ۔۔اور سفینہ سے بھی کہا کہ وہ چاہےتو دوسری شادی کر سکتی ہے۔۔ مگر سفینہ نے صاف انکار کردیا تھا ان کیلۓ انکی بیٹیوں کا ساتھ ہی کافی ہے۔۔
وقت سب سے بڑا مرہم ہے وقت کا کام تھا گزرنا سو وہ گزرتا رہا یوفس صاحب اور عالم نے بچیوں پہ شفقت بھرا ہاتھ رکھا تھا انہیں باپ کی کمی محسوس نہ ہو مگر باپ کی کمی شاید کوئی پوری نہی کر سکتا۔
روحان نے ایم بے کی ڈگری لے لی تھی اور اب وہ باہر ملک جا کر جاب کرنا چاہتا تھا مگر یوسف صاحب اسکے باہر جانے کے خلاف تھے وہ چاہتے تھے جب خود کا بزنز ہے تو باہر جانے کی کیا ضرورت ہےاور روحان بھی بضد تھا اسے باہر جانا ہے۔۔
عالم صاحب تو دادا پوتا کے درمیان پس کے رہ گۓ تھےکس کے سنے کس کی نہ سنے
۔۔
زویا سیکنڈ ائیرمیں تھی اور زرتاج نائین کلاس میں تھی اور روحا ابھی سیون کلاس میں تھی ۔ان تینوں کی آپس میں خوب بنتی تھی۔۔
زارون بی.کام کر رہا تھا اسے اپنے ڈیڈ کا ہی بزنس سنبھالنا تھا۔ ۔
عالم یوسف ملک بیٹے کے آگے ہار مانتے پھر سے یوسف صاحب کے پاس آۓ تھے ۔۔
“بابا آپ ہی ضد چھوڑ دیں وہ بچہ ہے اگر اسے باہر جانے کا شوق ہے تو اسے جانے دے دھکے کھاۓ گا تو خود واپس آۓ گا “۔
“بلاؤ پھر اپنے بیٹے کو اس کے سامنے بات کرتے ہیں” اور یوسف صاحب نے حکم سنایا تھا ۔۔ کچھ دیر بعد روحان حاضر تھا۔۔ وہ تینوں اس وقت کمرے میں اکیلے تھے ۔۔
“اگر تم میری ایک شرط مانوں گے تو ہی تمہاری بات مانی جاۓ گی” روحان سر جھکاے کھڑا تھا جبکہ عالم انکے بابا صوفے پہ بیٹھے تھے۔۔ کیا بات ہے بابا عالم نے پوچھا تھا۔۔۔
“داجی آپکی ہر شرط قبول ہے مجھے”روحان ایکسائٹمنٹ میں بولا تھا۔۔۔ برخودار پہلے بات مکمل تو سن لو۔۔روحان خاموش ہوا تھا۔۔
“میں چاہتا ہوں کے روحان اور زویا کا نکاح کردیا جاۓ” ۔۔
داجی نے اپنا فیصلہ سنایا تھا ۔۔ روحان کے سرپہ جیسے داجی نے بم پھوڑا تھا۔۔ حیران نظروں سے انہیں دیکھ رہا تھا۔۔ جبکہ عالم خوشی اور حیرت سے مسکرا رہے تھے انہیں داجی کا یہ فیصلہ پسند آیا ۔۔
“یہ کیا کہہ رہے آپ میں اب شادی کی پوزیشن میں نہیں ہوں میں اپنا کیریئر بنانا چاہتا ہوں” ۔۔
“روحان میں بات کر رہا ہوں تم خاموش رہو” عالم صاحب نے اسے چپ کر وایا تھا۔۔
“میں ابھی شادی کا نہی کہہ رہا بچے صرف نکاح کی بات کی جب تم واپس آؤ گے تب شادی بھی کر دیں گے” داجی مسکرا کر سمجھاتے ہوۓ اسے بولے تھے۔۔
“لیکن ڈیڈ ابھی میں ایسا کچھ نہیں چایتا “۔۔
“روحان تم جاؤ میں تم سے بعد میں بات کرتا ہوں” عالم صاحب نے اسے بیچ میں ہی ٹوک دیا تھا۔۔
اور وہی غصہ میں پیر ہٹختا وہاں سے چلا گیا۔۔
“بابا آپ کی بات تو ٹھیک ہےمگر ابھی نکاح ۔۔ کوئی رسم کر لیتے ہیں بات پکی کرلیتیں ہیں رشتہ کی پھر جب وہ واپس آۓ گا تو ہم دھوم دھام سے شادی کرلیں گے” عالم ٹھر ٹھر کر سمجھانے کے انداز میں بولے تھے۔۔
“بس کرو عالم میں تمہارا باپ ہوں تم میرے باپ نہی مجھے پتا ہے تم مجھے بہلا رہے ہو” ۔۔
“بسس میں نے جو فیصلہ کرلیا وہ بتا دیا”۔۔ اگر تمہیں نہی منظور تو بتا دو ۔۔
“پتا نہی میرے پاس اور کتنا وقت ہے ان بچیوں کے فرض سے سبکدوش ہوجاؤں ” ۔۔آخری بات پہ وہ آبدیدہ ہوگۓ تھے۔۔
“بابا آپ جیسا چاہتے کی ہیں ٹھیک ویسا ہی ہوگا روحان کی آپ فکر نہ کریں میں بات کروں گا مان جاۓ گا” ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
روحان غصے سے داجی کے کمرے سے باہر نکلا تھا اسکا دل چاہ رہا تھا وہ سب کچھ تہس نہس کردے۔۔
سامنے سے آتی زویا پہ اسکی نظر نہیں گئی دونوں ہی اپنے دھیان میں جا رہے تھے زویا کالج سے گھر آئی تھی وائٹ یونیفارم پہنے وہ گھر میں داخل ہو رہی تھی روحان غصے میں گھر سے باہر نکل رہا تھا ۔۔
دونوں کا زور دار تصادم ہوا تھا زویا اسکے چوڑے سینے سے ٹکرائی ایسا لگا جیسے کسی پتھر سے ٹکرا گئی ہو۔
“افف میرا سر” وہ اپنا سر پکڑے کھڑی تھی۔۔
اور وہ غصہ سے اسے ہی گھور رہا تھا جو دبلی پتلی سی وائٹ کالج ینیفارم میں بچی ہی لگ رہی تھی۔۔
“دیکھ کر نہی چل سکتی کیا اندھی ہو “۔۔ غصہ سے اس پر دھاڑا تھا۔۔
“میں نہیں آپ کو آنکھوں کے علاج کی ضرورت ہے” ۔۔ وہ سر پکڑے الٹا اسے ہی مشورہ دے رہی تھی ۔۔اور اسکے غصے کومزید بڑھاوا دے گئی ۔
“ہٹو میرے راستہ سے” ۔۔روحان نے اسے بازو سے پکڑ کے سائیڈ پہ دھکیلا تھا اسکا جی چاہا اسے منظر سے ہی غائب کردے مگر خود پہ کنٹرول کرتا وہاں سے نکل گیا۔۔ِ
“اسے کیا ہوا ہے ہٹو میرے راستہ سے” اسکی نکل اتارتی وہ آگے بڑھ گئی۔۔۔