Beparwah Season 1 By Ayesha Noor Readelle50280 (Beparwah) Episode 29
Rate this Novel
(Beparwah) Episode 29
وکی آپریشن تھیٹر کے باہر ادھر ادھر ٹہل رہا تھا ابھی تک کوئی ڈاکٹر باہر نہیں آیا تھا ۔۔پریشانی میں مزید اضافہ ہو رہا تھا رہ رہ کر زویا کا بھی خیال آرہا تھا۔۔
ابھی تو زندگی میں خوشیاں آنی شروع ہوئی تھی ابھی انہوں نے زندگی کو جینا سیکھا تھا ۔۔انکی خوشیوں کو کس کی نظر کھا گئی۔۔
دل میں روحان کی سلامتی کی دعائیں بھی جاری تھیں ۔۔
کافی دیر گزر جانے کے بعد ڈاکٹر باہر آۓ تو وکی انکی طرف لپکا تھا۔۔
سر پہ گہری چوٹ لگی ہے۔۔ایک بازو اور ٹانگ میں بھی فریکچر ہوا تھا۔۔
ڈاکٹر نےروحان کی زندگی کیلئے اگلے چوبیس گھنٹے اہم بتاۓ ہیں کچھ بھی ہوسکتا روحان کا حوش میں آنا ضروری ہے ورنہ یا تو وہ قومہ میں چلا جاۓ گا پھر یاداشت کھونے کا ڈر ہے۔۔
وکی مزید پریشان ہوا تھا ۔۔روحان کیلئے بیٹھے بٹھاۓ جان پہ بن گئی۔۔ایک آنسو اسکی آنکھ سے بہہ نکلا تھا۔۔
۔۔۔
زویا نے ساری رات ٹہلتے گزاری بے چینی ہی بے چینی تھی۔۔صبح چار بجے اسکی صوفہ پہ بیٹھے آنکھ لگ گئی۔۔
سات بجے اسکی آنکھ دروازہ پہ بیل کی آواز سے کھلی تھی۔۔
“روحان” ۔۔ مگر وہ تو کبھی بیل بجا کر نہی آۓ۔۔
اپنا دوپٹہ درست کرکے اٹھی دروازہ تک گئی
درواہ کھولنے سے ڈر رہی تھی نجانے کون ہوگا پھر ڈرتے ڈرتے دروازہ کھولا تو سامنے کسی انجان شخص کو کھڑے پایا جو بہت پریشان سا لگ رہا تھا۔۔
“بھابھی میں وقار ہوں روحان کا دوست” ۔۔
وکی نے ڈری سہمی زویا کو اپنا تعارف کروایا جو اسے دیکھ ڈر رہی تھی۔۔
“روحان گھر نہیں ہیں”۔۔ اپنی گھبراہٹ پہ قابو پاتے وہ بولی۔۔
“بھابھی مجھے آپ سے روحان کے بارے میں بات کرنی ہے میں اندر آسکتا ہوں ” وکی نے اندر آکر مناسب الفاظ میں زویا کو روحان بارے میں بتانا چاہا تھا۔۔
“روحان گھر پہ نہیں ہیں آپ جا سکتے ہیں”۔۔
“بھابھی پلیز میری بات سمجھنے کی کوشش کریں روحان کو اس وقت آپکی ضرورت ہے پلیز تسلی سے میری بات سن لیں”۔۔ وہ التجائیہ انداز میں بولا تو زویا کو مجبوراً اسے اندر آنے کیلے جگہ دینی پڑئ۔۔
“بھابھی آپ کو میرے ساتھ ہوسپٹل چلنا ہوگا “۔۔
“کیوں”۔۔زویا نے دھڑکتے دل کے ساتھ پوچھا۔۔
“وہ رات کو روحان کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا۔۔”
زویا نے اپنے منہ پہ ہاتھ رکھے تھے۔۔
“روحان کی جان ابھی بھی خطرے میں ہے۔۔ ڈاکٹر نے اگلے چوبیس گھنٹے اہم بتاۓ ہیں”۔۔ وکی کی آنکھیں نم ہوئی تھی کہتے کہتے۔۔
“نہیں” ۔۔ ایسا نہیں ہوکتا روحان کو کچھ نہیں ہوسکتا وہ ایسے کیسے میرے ساتھ۔”۔
زویا روتی ہوئی ایک طرف لڑھک گئی تھی۔۔
“بھابھی پلیز آپ سنبھالے خود کو” وکی نے اسے تھامنا چاہا مگر ہاتھ ہوا میں ہی روک لیے تھے۔۔
وہ نازک سی لڑکی کو دیکھ وکی کو ترس آیا تھا۔۔
“بھابھی پلیز چلیں جلدی روحان کے پاس “۔۔
زویا نے اسکی طرف دیکھا ۔۔” آپ کہیں جھوٹ تو نہیں بول رہے مجھے ٹریپ کر رہے ہوں تاکہ میں آپ کے ساتھ چلی جاؤں اور آپ” ۔۔
“بھابھی پلیز اگر میں آپکو کیسے جانتا ہوں روحان کی وجہ سے۔۔تو پھر آپکو روحان کیلے مجھ پہ یقین کرنا ہوگا”۔۔
زویا کو اس وقت پہ اعتبار کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا۔۔
۔۔
🌹🌹🌹
وہ دونوں اس وقت ہسپتال کے کوریڈور میں بھاگنے کے انداز میں چل رہے تھے۔۔پھر سامنے آئی سی یو کے آگے جا رکے تھے۔۔
دروازے میں بنے ہول سے شیسۓ کے اس پار روحان کو پٹیوں میں بندھے مشینوں میں جکڑے دیکھا تو زویا سے رہا نا گیا بے ساختہ چیخ اٹھی۔۔
“رو روحاان ۔۔حان” ۔۔
” زویا بھابھی پلیز سنبھالے خود کو ” وکی نے زویا کو کندھوں سے تھام کر اسے ریلیکس کرنے چاہا۔۔
بھائی روحان کو کیا ہوگا۔۔
میں نے کبھی انکا برا نہیں چاہا تھا میں روحان کو اس حال میں نہیں دیکھ سکتی پلیز کچھ کریں۔۔ روتے روتے زویا کی آواز بیٹھ گئی تھی۔۔
اپ اللہ سے دعا کریں روحان کیلے پلیز۔۔رونے سے وہ ٹھیک نہیں ہوں گے۔۔
مجھے روحان کے پاس جانا ہے پلیز بھائی مجھے روحان کے پاس جانا ہے۔۔زویا روتے ہوۓ وکی منتیں کرنے لگی۔۔
اچھا میں ڈاکٹرز سے بات کرتا ہوں ۔۔وکی نے زویا کے سر پہ ہاتھ کر اسے تسلی دی تھی۔۔
🥀🥀🥀🥀
سیما سوتے ہوۓ گھبرا کر اٹھ گئی ۔۔ سوچا آنکھ کھل گئی ہے تو تہجد پڑھی جائے۔۔
نماز پڑھ کر اپنے بچوں کے حق کے لیے دعائیں مانگیں۔۔ پھر قرآن پاک کی تلاوت کرنے لگی اور فجر ہوگئی۔۔ عالم صاحب کی فجر کے وقت آنکھ کھلی تو دیکھا سیما پہلے سے ہی بیٹھی ہوئی تھی۔۔ وہ بنا کچھ بولے واش روم چلے ۔۔ وضو کر کے باہر آ ۓ تو سیما کو ویسے ہی بیٹھا پایا۔۔
“کیا ہوا سیما کوئی پریشانی ہے تمہیں”۔۔
” نہیں پریشانی تو نہیں ہے کوئی بس ویسے ہی دل بہت گھبرا رہا ہے میرا۔۔ اللہ سب خیر کرے۔۔”
” امین” عالم صاحب نے دل سے کہا
۔۔🌹🌹🌹
عالم صاحب آفس جانے کے لئے تیار ہو رہے تھے جب سیما ان کے پاس آئی۔۔
” مجھے روحان سے بات کرنی ہے میرا دل بہت گھبرا رہا ہے”۔۔
” اس وقت فارغ وقت میں وہ اس سے بات کر لینا ابھی وہ بزی ہوگا آفس میں ہوگا۔۔”
” نہیں مجھے ابھی بات کرنی ہے ” وہ ان سے وہ بضد ہوئی۔
” اچھا بھئی پہلے میری چلی ہے جو اب چلے گی” ہنستے ہوئے روحان کو کال لگائی۔۔
مگر مقابل فون بند جا رہا تھا تو انہیں بھی ٹینشن نےان گھیرا۔۔
“وہ فون نہیں اٹھا رہا تو بعد میں اسے کال کروں گا۔۔” عالم صاحب نے بہانہ بنا کر انہیں ٹالنا چاہا۔۔
🥀🥀🥀🥀
زویا سے روحان کی یہ حالت دیکھ نہیں جارہی تھی آنسو تواتر آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔۔
پھر ہمت کر کے روحان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔۔
” روحان پلیز آنکھیں کھولیے۔۔ پلیز آپ کو کچھ نہیں ہو سکتا میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ اپنی مام کیلے ڈیڈ کیلے آنکھیں کھولو”۔۔
” ہم ماضی کا سب کچھ بھلا کر ایک نئی زندگی شروع کریں گے”۔۔
” جس میں صرف میں اور آپ ہوں گے”۔۔
مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں ہے۔۔ مجھے کچھ یاد نہیں آیا آپ نے کیا کیا مجھے بس آپ کو چاہتی ہوں صرف آپ”۔۔
روحان مشینوں میں جکڑا بے حوش پڑا تھا ماتھے پہ پٹی بندھی تھی آنکھیں سوجھی ہوئی تھی چہرے پہ جگہ جگہ کھروچ تھی۔۔وہ کہیں سے بھی پہلے جیسا روحان نا لگا ۔۔
وکی ان دونوں کو شیشے کے اس پار دیکھ رہا تھا اسکا دل بھر آیا تھا ان دونوں کو دیکھ آنکھوں میں آئی نمی کو فٹ سے کف سے صاف کیا تھا۔۔ ابھی تو ان کی زندگی کا آغاز ہوا تھا اتنی جلدی اختتام کیسے ہوسکتا ہے۔۔
نظریں آسمان کی جانب اٹھیں تھیں ۔۔
“اے اللہ انہیں نا جدا کرنا “۔۔
🥀🥀🥀🥀
روحان کا نمبر بار بار ملانے کے باوجود بھی نمبر پاور آف جارہا تھا۔۔
عالم صاحب مزید پریشان ہوۓ تھے۔۔
پھر زویا کا نمبر ڈائل کیا۔۔
زویا روحان کے پاس ہی چئیر کھسکا کر بیٹھی تھی ۔۔جب اسکا فون بجا۔۔
اسکے ہاتھ کانپنے لگے نمبر دیکھ ۔۔
جسیے تیسے خود کو نارمل کرکے فون اٹھایا۔۔
“اسلام علیکم تایا ابو”۔۔
“وعلیکم اسلام کیسی ہو بیٹا” ۔۔
“میں ٹھیک یوں آپ سنائیں کیسے یاد کیا آج”۔۔
“کچھ نہیں بس ویسے ہی روحان کا نمبر بند جا رہا تھا کب سے کال کر رہا ہوں اس لیے تمہیں کال کی۔۔”
“وہ۔۔ وہ روحان کا موبائل گر کر ٹوٹ گیا ۔۔ تو ۔اس لیے بند ہے”۔۔زویا کو سمجھ نا آیا کیا بہانا بناۓ۔۔
“اچھا اچھا۔۔ میں تو پریشان ہوگیا تھا۔”
وہ پرسکون ہوتے بولے تو زویا نے گہرا سانس لیا تھا۔۔
“بیٹا ایک بات کہوں”۔۔
“جی جی۔۔ بولیں “
“اگر تمہیں روحان کے ساتھ نہیں رہنا تو تم واپس آسکتی ہو۔۔”
“نہیں ۔۔ ہاں ۔۔ ابھی نہیں ۔۔آؤں گی واپس میں آنا چاہتی مگر ابھی مجھے روحان کے ساتھ رہنا ہے”۔۔ روحان کو دیکھتے اس نے بمشکل بات مکمل کی۔۔
“ٹھیک ہے بیٹا خوش رہو”۔۔ کہتے عالم نے کال کاٹ دی۔۔
۔۔
شام چار بجنے کو آۓ تھے مگر روحان کی حالت جوں کی توں تھی ڈاکٹرز اسے بار بار چیک کر رہے تھے۔۔
وکی اور زویا آئی سی یو کے باہر کھڑے بس روحان اور ڈاکٹر کی کاروائی ہی دیکھی جا رہے تھے۔۔
زویا کے آنسوں تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔۔
“زویا سسٹر پلیز دعا کرو رونے سے کچھ نہیں ہونے والا۔۔”
“اگر روحان کو کچھ ہوگیا تو میں گھر کیا جواب دوں گی۔۔” وہ ہچکیوں سے روتے ہوۓ بولی۔۔
نرس بھاگ کر باہر آئی اور انہیں اطلاع دی کہ پیشنٹ کو ہوش آگیا دونوں اندر بھاگے تھے ۔۔
روحان نے جب آنکھیں کھولیں تو اپنے ارد گرد ڈاکٹروں کا ہجوم پایا نا سمجھی میں سب کو دیکھ رہا تھا۔۔
جب ہاتھ ہلانا چاہا تو درد کی ٹیسیں اٹھنے لگی تھی پھر آہستہ سب یاد آنے لگا تھا اسکا کیسے اسکا ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔۔
“ہئی ڈونٹ موو ” اسے ہلتا دیکھ ڈاکٹر جلدی بولا۔۔
“روحان” ۔۔ وکی اور زویا اسکے پاس آکر فٹ سے بولے تھے۔۔
روحان نے انکی جانب سر گھمانا چاہا تو سر میں شدید درد محسوس ہوا ۔۔
Please get out of here. Let us do our job”
پلیز آپ لوگ یہاں سے ہمیں اپنا کام کرنے دیں۔”
داکٹر نے انہیں سختی سے باہر جانے کو کہا۔۔
تو وکی نے زویا کو کاندھے سے پکڑ کر زبردستی باہر لے گیا جبکہ وہ جانا نہیں چاہ رہی تھی۔۔
“بھائی پلیز مجھے روحان سے دور مت کریں ۔۔ مجھے اسکے پاس رہنے دیں۔۔”
“زویا وہ لوگ دیکھ رہے ہیں روحان کو پلیز ڈسٹرب مت کریں انہیں بات سمجھو ۔۔” وہ اسے باہر لاکر نرمی سے سمجھاتا ہوا بولا۔۔
تو وہ روتی بینچ پہ بیٹھ۔۔
پھر کچھ دیر بعد ڈاکٹر باہر آۓ۔۔
“Congratulations now he is out dangerous”
مبارک ہو وہ اب خطرے سے باہر ہے..
ان دونوں کی جان میں جان آئی تھی.. شکر ادا کیا تھا اللہ کا..
کچھ دیر بعد روحان کو الگ کمرے میں منتقل کر دیا گیا تھا..
زویا روحان کے پاس آئی تھی ..
“روحان” لرزتی آواز میں پکارہ تھا زویا نے..
تو روحان نے آنکھیں کھولیں تھیں..
زویا نے روحان کا ہاتھ تھام لیا تھا..
“روحان میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں پلیز مجھے اکیلا کبھی نا چھوڑنا میں مرجاؤں کی آپ کے بغیر.. ” روتے ہوئے زویا نے کہا تھا..
زو.. زویا.. مت رو.. روحان کے منہ سے بس اتنا ہی نکل سکا اسے زویا کا رونا برداشت نا ہوا تھا..
تو جلدی سے زویا نے اپنے آنسو صاف کئے..
“نہیں روتی میں”.. زویا مسکرائی مگر آنکھیں ابھی بھی نم تھی..
تو روحان نے بس پلکوں کو ہی جھپکا..
پلیز پیشنٹ کو ڈسٹرب نا کریں نرس سے اندر آتے ہی زویا کو ٹوکا اور روحان کو انجیکشن دیا تھا جس کے باعث وہ دوبارہ غنودگی میں چلا گیا..
وقفہ وقفہ سے ڈاکٹر روحان کا چیک اپ اور ٹریٹمنٹ کررہے تھے..
“بھابھی میرے خیال سے آپکو اب گھر چلا جانا چاہئے روحان کی حالت اب خطرے سے باہر ہے رات کافی ہورہی ہے.. آپکا یہاں رکنا مناسب نہیں ” وکی نے زویا سے کہا جو پریشانی میں ٹہل رہی تھی..
” نہیں مجھے نہیں جانا روحان کو چھوڑ کر میں کہیں نہیں جاؤں گی”.. وہ اٹل لہجہ میں بولی تو وکی خاموش ہوگیا..
رات کے آخری پہر روحان کی آنکھ کھلی تھی.. زویا اسکے قریب چیئر پہ بیٹھے روحان کا ہاتھ پکڑے ہوۓ بیڈ پہ سر رکھے ہوے سوئی ہوئی تھی.. اسکا سر روحان کے ہاتھ کے قریب تھا.. روحان نے آہستہ سے دو انگلیاں اٹھا کر اسکے بالوں میں پھیری..
زویا مجھے بھی تم سے محبت ہونے لگی تھی.. ابھی تو میں نے جینا ہے تمہارے ساتھ.. تمہارے لئے ہی تو خدا نے مجھے زندگی دی ہے.. وہ اس سے دل میں مخاطب ہوا تھا اور آہستہ آہستہ اسکے بولوں میں انگلیاں چلا رہا تھا..
🌹🌹🌹
صبح دس بجے روحان اب پہلے سے کافی بہتر تھا..
زویا اسے سوپ پلا رہی تھی جو منہ کے زاویہ بگاڑ رہا تھا..
روحان ایک چمچ اور پلیز.. زویا نے پھر ایک چمچ بھر کر اسکے سامنے بڑھایا..
جو روحان نے پھر سے منہ میں لیا اور دوسرے ہاتھ سوپ پرے کیا..
سر پہ پٹی بندھی اور ایک بازو پہ پٹی بندھی اور دوسرا ٹانگ بھی پٹیوں کی زد میں تھی..
بیڈ کو تکیہ کے سائیڈ سے اٹھایا ہوا تھا جس کے ساتھ وہ ٹیگ لگائے بیٹھایا ہوا تھا.. سامنے ٹیبل لگایا ہوا تھا..
زویا اسکے سامنے بیڈ پہ بیٹھی ہوئی تھی اسے زبردستی سوپ پلاۓ جا رہی..
پیچھے وکی دونوں ہاتھ باندھے کھڑا تھا.. ان دونوں کو تھی مسکرا کر دیکھ رہا تھا..
روحان آپکو یہ سارا ختم کرنا ہے.. سوپ کا پیالہ ابھی بھرا تھا..
پلیز.. زویا.. بعد.. میں.. وہ آہستہ سے بولا..
“اچھا ٹھیک ہے.”. زویا نے اس پہ ترس کھا ہی لیا..
وکی نے ان دونوں کو اکیلا چھوڑنا چاہا اور کمرے سے باہر نکل آیا.. کوریڈور میں چلتا تھوڑا آگے گیا.. رو سامنے دیکھ وہ ٹھیکا..
“ماریہ.. ” الٹے پیر وہ اندر کو بھاگا..
“بھابھی آپکو اب گھر چلنا چاہیے “میں ہوں یہاں ” وکی جلدی سے بولا.. کہیں ماریہ نا پہنچ جائے..
زویا ابھی بھی روحان کے بیڈ پہ اسکے سامنے بیٹھی ہوئی تھی..
روحان.. ” ماریہ آ رہی ” وکی نے ماریہ نام بس لپس ہلایا..
ماریہ.. وکی نے پھر لپس ہلاۓ جو روحان سمجھ گیا..
“زویا.. پلیز ضد نا کرو.. میرے کولیگز اور ورکرز آئیں گے تو تم پلیز چلی جاؤ ریسٹ کرو دو دن سے میرے پیچھے یہاں خوار ہو رہی ہو..
تو زویا اٹھ گئی جبکہ اسکا بلکہ بھی دل نہیں تھا..
اچھا ” آپ خیال رکھیے گا اپنا.. “
آپ چلیں باہر میں آریا ہوں..
وہ کمرے سے نکل گئ..
ماریہ روحان کے کمرے کا پتا کرواتی روحان کے کمرے کے پاس چلتی ہوئی آرہی تھی.. زویا کمرے سے نکل چکی تھی.. دونوں آمنے سامنے سے پاس سے گزرگئی..
“اگر ماریہ زویا بھابھی کے ہوتے پہنچ جاتی نا تو پکا ابھی تیری ایک اور ہڈی ٹوٹ جانی تھی.. “
ہاۓ ہنی ” یہ کیا کردیا تم نے اپنے ساتھ.. ماریہ کمرے داخل ہوتے ہی بول پڑی.. اسے پٹیوں میں جکڑا دیکھ..
“دل چاہ رہا تھا اسکا گاڑی کے سامنے آنے کا ” وکی ماریہ کو دیکھ بولا..
“روحان تمہارے آفس گئی تو وہاں سے پتا چلا تمہارے ایکسیڈنٹ کے بارے میں تھینک گاڈ تم ٹھیک ہو.. ” میں کتنی پریشان ہوگئی تھی..” مجھے کسی بے بتایا بھی نہیں..
“تو تم نے کیا کرلینا تھا.. جس کو یہاں ہوںا تھا “وکی پلیز.. تم جاؤ.. روحان نے وکی کو بیچ میں ٹوک دیا..
تو وکی نکل گیا وہاں سے..
زویا کو اسکے فلیٹ پہ چھوڑنے کے بعد وہ بھی گھر گیا تھا اپنے..
🌹🌹🌹🌹
وکی فریش ہونے کے بعد دوبارہ ہاسپٹل گیا روحان کے پاس.. ماریہ ابھی بھی وہیں موجود تھی..
“واہ تم ابھی تک یہیں ہو.. “وکی ماریہ کو دیکھ بولا تھا..
ہاں تو.. ” مجھے ہی روحان کے پاس ہونا چاہئے.. وہ اتراکر بولی.. تو وہ وکی ہنسا جیسے مزاق تھا ..
روحان آنکھیں بند کئے لیٹا تھا..انکی بولنے سے آنکھیں کھولے دیکھا..
“اچھا میں پھر گھر چلا جاتا ہوں دو راتوں سے سویا نہیں.. تم رہو گی روحان کے پاس یہاں ہاسپٹل کے کمرے میں.. “
ماریہ” تم پلیز جاؤ.. ” نہیں رہ سکو گی.. روحان نے کہا..
ماریہ کو رات رکنا یہاں محال لگ رہا تھا مگر..اگر وہ چلی جاۓ گی تو روحان سمجھے گا کے اسنے جان چھڑائی ہے..
نن نہیں روحان میں تمہیں چھوڑ کر نہیں جاؤ گی اسے جانا ہے تو جاۓ”.. ماریہ نے بڑی مشکل سے فیصلہ لیا.
