94.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Beparwah) Episode 46

کھانے کے بعد زارون پھر سے باہر نکل گیا سب بزرگ اپنے کمرے میں جا چکے تھے..
زرتاج.. اداس سی صوفہ پہ بیٹھی تھی ساتھ زویا اور دوسری طرف روحا تھی روحان سامنے صوفہ پہ بیٹھا کافی کا مگ لئے بیٹھا تھا.. سامنے ٹی وی چل رہا تھا..
زویا اسکی اداسی کافی دیر سے نوٹ کررہی تھی..
“زری کیا ہوا ہے.. پلیز بتا دو تم کوئی بات دیر تک دل میں نہیں رکھ سکتی ہو.. “
زرتاج سے بھی اب کنٹرول نہیں ہورہا تھا وہ تو بس رو دینے کو تھی.. اور رو بھی پڑی.. سب نے پریشانی سے اسکی طرف دیکھا..
“زری” زویا نے اسے تھاما تھا اور اپنے ساتھ لگایا..
“زویا وہ مجھ سے بات نہیں کررہا.. ” وہ سسک پڑی تھی..
“کل سے مجھے اگنور کئے جا رہا ہے.. “روتے ہوئے اسنے بتایا..
زویا اور روحان نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا جہاں پریشانی تھی وہاں خوشی بھی ہوئی تھی دونوں ایک دوسرے کا احساس کرنے لگے ہیں..
” زری تم بھی کرو اگنور انہیں.. اس میں رونے والی کیا بات ہے تم رولانے والوں میں سے ہو” روحا نے مزید اسکے زخموں پہ نمک چھڑکا..
“روحا” روحان نے اسے ٹوکا..
“سوری ” وہ منمنائی..
“زری تم پریشان نا ہو آنے دو گھر اسے میں پوچھتا ہوں اس سے دیکھنا اسکے کیسے کان کھینچو گا.. کیسے نہیں کرتا تم سے بات” روحان نے اسے دلاسا دیا..
اچھے سے بات کرنا کیسے میری بہن کو رلا دیا “زویا نے بھی کہا..
روحی تو بس زرتاج کو دیکھے جا رہی تھی وہ زارون کیلئے رو رہی ہے.. یہ کایا کیسے پلٹ گئی..
کچھ دیر بعد زارون گھر میں دندناتا ہوا آیا.. ان سب کو اگنور کرتا وہ آگے بڑھا..
زی” روحان نے پکارا تو وہ رک گیا اور پلٹ کر انہیں دیکھا..
زری کی طرف نظر گئی تو اسکی ناک سرخ ہو رہی تھی اور آنکھیں بھی روئی روئی سی لگ رہیں تھی..
جی بولیں “
“یہ کیا حرکتیں کرتے پھر رہے کیوں بچی کو پریشان کررہے ہو.. “روحان نے زرا سخت لہجہ اختیار کیا..
بھائی آپ اس ہاتھی کو بچی کہہ رہے ہیں.. ” وہ اسکی صحت پہ چوٹ کرتا بولا
روحا کو منہ پورا کھلا جس پہ اس نے ہاتھ رکھ لیا..
“زارون کل میں نے اسے موٹو کہا تو تمہیں برا لگ گیا اور اب خود کیا بول رہے ہو” اور کتنی چھوٹی ہے تم سے مجھ سے دس سال چھوٹی ہے تو بچی کہوں گا.. ” روحان کو ہنسی تو آئی مگر کنٹرول کرتا زارون کو ٹوکا..
ابھی اکیس سال کی ہوئی ہے زری ” روحا نے مزید اسکے علم میں اضافہ کیا…
“میری بیوی ہے میں جو مرضی کہوں مگر میں کسی اور کو اجازت نہیں دوں گا کہنے کی” زارون سنجیدگی سے بولا..
روحان زرتاج کے پاس صوفہ پہ بیٹھتا ہوا اسکے کاندھے کے گرد ہاتھ پھیلا کر بولا..
“میں دیکھتا ہوں تم کیسے میری بہن کو تنگ کرتے ہو” زرتاج تو ابھی شاک میں اسے دیکھے جا رہی تھی..
” روحا بیٹے تم جاؤ روم میں صبح کالج بھی جانا ہے..”
“بھائی “
روحی جاؤ “
تو منہ بسورتی اٹھ گئی اسے تو پوری فلم دیکھنی تھی اینڈ تک..
زارون ابھی سیریس موڈ میں کھڑا تھا… زویا اور روحان کے بیچ میں زرتاج بیٹھی تھی..
بھائی یہ ہمارا سیریس میٹر ہے آپ لوگ دور ہی رہیں تو اچھا ہے”
“جلدی سے اپنے میٹر سولو (solve) کرو اور مجھے تایا بننے اعزاز چاہئے.. جلددی.. ” روحان بتیسی نکالتے زارون کو آنکھ ماری تھی..
زویا کو ہنسی آئی تھی.. زارون نے ایک دم سے روحان کو دیکھا پھر زرتاج کو جو حیا سے سرخ پڑی تھی..
زارون چپ چاپ نکل گیا وہاں سے..
” روحان بھی اٹھ کر کمرے کی طرف چل دیا اور زویا کو کمرے میں آنے کا اشارہ کیا..
” چلو اب تم موڈ ٹھیک کرو” زویا بھی اسے کھڑا کرتی بولی اور اسے لئے سیڑیاں چڑھنے لگی..
زرتاج کمرے آئی تو لائٹس آف تھیں.. اور نائٹ بلب جل رہا تھا اسے آتے دیکھ زارون سوتا بنا..
زارون کو لیٹا ہوا دیکھ زرتاج کو بہت غصہ آیا تھا.. کیسے اسنے اسے ہاتھی بول دیا سب کے سامنے .. منہ پھلاۓ اسکے برابر میں آکر بیٹھی تکیہ اٹھا کر درست کرنے لگی مگر.. اٹھ کر لائٹس آن کردی ساری..
“زری کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ لائٹس کیوں آن کی..
زارون نے اسکی طرف دیکھتے غصہ سے کہا..
تو زرتاج نے تکیہ اٹھاتے اسے مارنا شروع کردیا..
” میں ہاتھی ہوں.. ہاں.. ” خود انسلٹ کرتے ہو میری اور مجھ سے بات بھی نہیں کرتے.. کتنا سوری کہا.. مگر نہیں.. جناب جی تو بہت اعلیٰ درجہ کے انسان ہیں.. ہر لڑکی کا کرش ہیں.. گھمنڈی.. مغرور .. کڑوا.. وہ تکیہ پہ تکیہ مارتی جا رہی تھی اور بولتی جا رہی تھی..
زری.. زری.. کیا کررہی ہو ہوش میں تو ہو.. وہ اچانک حملہ سے اپنا بچاؤ کرتا بولا
جب تھک گئی تو ہانپنے لگی تھی..
پاگل واگل تو نہیں ہوگئی کہیں.. ” یہ کیا سارے گھر میں تم ڈھنڈورا پیٹ رہی تم میرا.. اپنے کارنامہ بھی بتانے تھے.. ” زارون کو اسکا دماغ ہلا ہوا لگا..
وہ بغیر اسکی بات کا جواب دیے.. چپ چاپ لائٹس آف کرکے لیٹ گئی.. دونوں ایک دوسرے کی طرف پیٹھ کئے لیٹے تھے..
نہیں بات کرتا نا کرے میں بھی نہیں مری جا رہی اسکے لئے.. ” اپنی بھڑاس نکالنے کے بعد وہ تھوڑا سا پرسکون ہوئی تھی بھینس کے بعد ہاتھی کا خطاب ملنے پہ اسکا دماغ خراب ہوگیا تھا..
اپنے وزن اور کارناموں کو نہیں دیکھنا.. اور اگلے پہ چڑھائی کر دینی ہے.. ” اور وہ دونوں یونہی منہ موڑ سو گئے
🥀🥀🥀🥀
زارون.” سیما نے پکارا تو
وہ انکی طرف متوجہ ہوا..
” آج شام کو جلدی آجانا زرتاج کو شاپنگ لے جانا ولیمہ کا ڈریس لینا ہے.. “
” مام یہ کام میرا نہیں آپ کا ہے.. ” مجھے کیا پتا کیسا ڈریس لینا ہے.. ” زارون بہانا بنایا..
زارون زری بھی تمہارے ساتھ ہوگی دونوں مل کے پسند کرلینا” سیما نے کہا..
“جی مام ” کہتا وہ اٹھ گیا..
زرتاج نے بھی اسے فل اگنور کیا تھا..
🌹🌹🌹
“زارون آخر ایسی کیا بات ہوئی ہے جو تم زری کیساتھ ایسا بیہیو کررہے ہو.. “اب تو روحان کو پوچھنا پڑا تھا صبح وہ دونوں ایک دوسرے کو اگنور کررہے تھے اس لئے اسے بیچ میں اب آنا پڑ رہا ہے..
” روحان میں نے پہلے بھی کہا ہے یہ ہمارا پرسنل میٹر ہے” اسکی طرح اسکی عقل بھی موٹی ہے ” زارون بتانا نہیں چاہتا تھا..
” ٹھیک ہے بھئی نا بتاؤ تمہاری مرضی.. “مگر اسے سب سامنے ہاتھی جیسے ورڈ نا یوز کیا کرو اب وہ تمہاری بیوی ہے ” روحان اسے سمجھاتے سیریس انداز میں بولا..
ہاں رات کو کٹ لگائی ہے ٹھیک ٹھاک اس نے میری.. تکیہ سے.. ” زارون بیچارگی سے بولا تو روحان کی ہنسی چھوٹی..
اسکے لئے تو زرتاج کو شاباشی دینی بنتی ہے” ایک تو بچی کو اگنور کررہے ہو اور دوسرا تکیہ کی جگہ پر ڈنڈا ہونا چاہیے تھا
“ہاں آپ تو سالی کی سائیڈ ہی لے گے “وہ منہ بسورتا چلا گیا..
🌹🌹🌹🌹
شام کو عالم صاحب نے زارون کو گھر بھیج دیا..
زرتاج تو جیسے اسکے انتظار میں تھی ..اسکے آتے ہی وہ تیار تھی.. دونوں ایک دوسرے کو اگنور کررہے تھے کوئی بات چیت نہیں تھی آپس میں..
مال میں زارون کو بس وہ کھپا رہی تھی کوئی دس شاپس پھر لی زرتاج کو کوئی ڈریس نہیں پسند آرہا تھا..
ایک اور بوتیک پہ زارون نے تنگ آتے کہا زری اگر اب تم نے کوئی ڈریس نہیں لیا یہاں سے تو آئی سویئر اب گھر لے جاو گا..
مجھے تو نہیں پسند آ رہا.. “منہ بناتی بولی
کیوں نہیں آ رہا ہے پسند ” وہ اکتا کر بولا..
کیونکہ تم ہیلپ ہی نہیں کررہے ہو.. “زرتاج زارون کی پسند کا ڈریس لینا چاہتی تھی مگر بتا نہیں رہی تھی اس لئے اسے تنگ کئے جا رہی تھی..
” تو پہلے کیوں نہیں بولی تھی.. ” زارون اب ڈریس دیکھنے لگا.. ” اور اسے ایک لونگ فراک آف وائٹ کلر کا جو بہت ہی خوبصورت تھی.. زرتاج کو بھی پسند آئی.. زارون نے شکر کیا تھا.. کہ اسے ڈریس پسند آ ہی گئی..
پھر اسکے ساتھ کی جیولری لینے جیولری شاپ آۓ.
ایک نازک سا ڈائمنڈ سیٹ پسند کیا زرتاج نے جو کافی قیمتی تھا اور اسکے بعد زرتاج کی نظر ایک پینڈت پہ گئی جو گولڈ اور ڈائمنڈ کا تھا کن ستائشی نظروں سے اس نے دیکھا تھا اسے.. اور پھر آگے بڑھ گئی.. زارون کی بھی نظر زرتاج پہ تھی.. باقی اور تھوڑی بہت شاپنگ کرکے انہوں نے گھر کی راہ لی.. دونوں ہی ایک دوسرے کو اٹیٹیوڈ دکھا رہے تھے..
گھر آتے سب کو شاپنگ دکھائی جو سب کو پسند آئی..
زرتاج سارے شاپنگ بیگ اٹھائے کمرے میں آئی اور سب کو الماری میں رکھ رہی تھی.. زارون چینج کئے بیڈ پہ بیٹھا.. اسکی ساری توجہ زرتاج پہ تھی اور وہ اسے اگنور کرتی واشروم چلی گئی..
“میں بھی نہیں بلاؤں گا تمہیں اتنی شاپنگ کرادی بندہ سیدھے منہ بات ہی کرلیتا ہے.. مگر نہیں ” میری قسمت ہی خراب ہے جو یہ ڈھول میرے گلے پڑ گیا.. ” وہ خود سے بڑبڑاتے لیٹ گیا..
زرتاج چینج کرکے باہر آئی تو زاورن آنکھوں پہ بازو رکھے لیٹا تھا.. ” اب اتنی بھی کیا اکڑ ..اسے دیکھ زرتاج نے بس دل میں کہا..
زرتاج بیڈ کی دوسری سائیڈ آکر بیٹھی.. وہ اس سے باتیں کرنا چاہتی تھی مگر ا نا آڑے آرہی تھی..
زارون کو لگا شاید وہ اسے بلاۓ مگر وہ منہ موڑ کر لیٹ چکی تھی..
دونوں ہی اپنی انا میں ایک دوسرے کو بولاۓ بغیر سو گئے..
🌹🌹🌹
ماریہ روحان کے آفس میں کافی دنوں بعد آئی آج ..
کاؤنٹر پہ بیٹھی علینا کے پاس گئی..
بات سنو میری””
“ییس ” علینا اسکی طرف متوجہ ہوئی..
” روحان آگئے ہیں کیا”
نو میم روحان سر تین دن بعد آۓ گے ” علینا نے اسے بتایا..
“روحان کا کانٹیکٹ نمبر مل سکتا ہے.. ” ماریہ بول رہی تھی جب وکی باہر آیا وہ اسے آفس میں بیٹھے کیمرہ میں میں دیکھ چکا..
” ہئے ماریہ کم ان ماۓ آفس “
وکی کو دیکھ ماریہ کا جسم ٹھنڈا ہوا تھا وہ اسے کتنی بار بلیک میل کرچکا تھا.. اور اب پھر اسے آفس بلا رہا تھا..
” ماریہ آفس میں آؤ روحان کا نمبر چاہئے.. ” وکی کہتا آفس میں چلا گیا..
ماریہ سوچ میں پڑ گئی اور پھر آفس کی طرف بڑھ گئی..
علینا اپنی سیٹ پہ بیٹھ گئی اور پھر سے اپنےکام میں لگ گئی..
کیوں بلایا ہے مجھے تم نے آفس میں.. ” وہ غصہ سے بولی…
وکی اسکے قریب آیا اور اسکی چہرے پہ آتی لٹو کو کان کے پیچھے اڑیسا..
“یار تم سامنے آگئی ہو تو کنٹرول نہیں ہو رہا ” وہ اسکی کمر میں ہاتھ ڈال چکا تھا اور اسے اپنے ساتھ لگا چکا تھا…
چھوڑو مجھے ” تمہاری محبوبہ باہر بیٹھی ہے.. بتاتی ہوں اسے تمہارے کارنامہ.. ” وہ غصہ سے دبی دبی سی آواز میں بولی.. وکی کا فون بجنے لگا تھا اسی وقت..
نو بےبی یہ بلیک میل والا کام میرا ہے ” وہ چھوڑ چکا تھا..
روحان کو آنے دو بس تم پھر تم دیکھنا.. کیا کرتا ہے وہ تمہارا.. ” آنکھیں سرخ ہوئی تھی ماریہ کی آنسوں چھلکنے کو بے تاب تھے..
ہاہا ہاہا وکی کمینگی ہنسی ہنسا تھا اور وہ چلی گئی..
اور فون ایک بار پھر سے بج اٹھا..
وکی کے نے فون کان کے ساتھ لگایا..
” واہ کیا عمر پائی ہے تم نے ابھی تمہارا ہی ذکر ہورہا تھا.. ” روحان کی کال اٹھا تے وکی بولا..
کیوں بھئی میرا ذکر کس کے ساتھ ہو رہا تھا.. ” روحان بولا..
تمہاری گرل فرینڈ ماریہ کیساتھ بہت یاد کرتی ہے تمہیں..
“ابھی آئی تھی نمبر مانگ رہی تھی تمہارا.. ” وکی نے کہا
اب اسکا قصہ بھی ختم کردو.. ” وکی پرسوچ انداز میں کہا..
ہاں بس آتے ہی پہلا کام یہی کروں گا.. گلٹ بھی فیل ہوتا ہے ماریہ کو لیکر.. مجھے اسکا پروپوزل ایکسیپٹ کرنا ہی نہیں چاہیے تھا.. بس اپنی انا اور ضد میں اتنا آگے نکل آیا کے میں دو زندگیوں کے ساتھ کھیل گیا.. ” وہ شرمندگی سے بولا..
او تو ٹینشن نا لے تیرے سے پہلے بھی اسکا بریک اپ ہوا وا ہے انکی زندگیوں میں لوگ آتے جاتے رہتے ہیں.. ” کیا پتا تیرے بعد اور کوئی نیا ڈھونڈ لے دل جوئی کیلئے.. وہ مکرو ہنستے اسکی شرمندگی دور کرتے بولا..
وہ مجھے معاف کردے بس ” وہ احساس کے تحت بولا…
اسکی ٹینشن نا لے آتے ہی تجھے سرپرائز ملے گا..
“کیسا سرپرائز” روحان متجسس ہوا..
اگر بتا دیا تو سرپرائز کیسا” تو دونوں ہنس دیے اور بزنس کو لیکر باتیں کرنے لگے..
🌹🌹🌹🌹
ماریہ بہت پریشان تھی روحان سے ملنا چاہتی تھی وکی ان دنوں اسے بلیک میل کر کے کئی بار اسکا فائدہ اٹھاچکا تھا..
تین دن کیسے گزرے گے روحان کا انتظار تھا کہ طویل ہوتا جا رہا تھا…
پھر ولیم کو کال لگائ وہ بھی ان دنوں خاصا مصروف تھا اسکی شادی ہوگئی تھی اور وہ اپنی بیوی کیساتھ مصروف تھا.. کافی کالز کرنے کے بعد اسنے کال اٹھا ہی لی..
ہیلو.. “
ہیلو.. ولیم ! کہاں ہو مجھے تمہاری ضرورت ہے پلیز بات کرو مجھ سے.. ” ماریہ جلدی سے بولی..
دیکھو اب تم مجھے کال مت کیا کرو اور اپنی پروبلم کو خود سولو کرو.. پتا ہے تمہیں میں شادی کرچکا ہوں تو کیوں ڈسٹرب کررہی ہو.. اور کال کٹ کردی..
ہیلو.. ہیلو.. ولیم.. ماریہ اسے پکارتی رہ گئی..
وہ اپنے آپ کو بے بس محسوس کرنے لگی تھی.. روحان مجھے بتائے بغیر پاک چلا گیا.. اور سارے رابطے بھی ختم کردیے.. کہیں وہ وہاں شادی.. نہیں نہیں.. وہ ایسا نہیں کرسکتا.. اسے میرے ساتھ نہیں کرسکتا اس میرے ساتھ شادی کی کمٹمنٹ کی ہے.. وہ اپنے آنسو پونچھتی خود کو تسلی دینے لگی..