Beparwah Season 1 By Ayesha Noor Readelle50280 (Beparwah) Episode 3
Rate this Novel
(Beparwah) Episode 3
داجی کے کمرے میں سب اس وقت بڑے موجود تھے۔۔
داجی نے اپنا فیصلہ سنانا شروع کیا تھا۔۔ روحان ملک سے باہر جانا چاہتا ہے اور میں اس فیصلہ کے خلاف ہوں مگر وہ پھر بھی جانا چاہتا ہے تو میں اس کے سامنے اپنی ایک شرط رکھی ہے جو میری خواہش بھی ہے ۔۔
کیسی شرط بابا سیما روحان کی ماں چپ نہ رہ سکی تھی۔۔
“سیما پہلے بابا کی پوری بات تو سن لو “عالم نے ٹوکا تھا ۔
“میں چاہتا ہو ں کہ روحان کے باہر جانے سے ہہلے روحان اور زویا کا نکاح کردیا جاۓ” ۔۔ سیما اور سفینہ یہ بات سن کر حیرت سے عالم اور یوسف صاحب کو دیکھ رہیں تھیں جبکہ وہ دونوں مسکرا رہے تھے ۔۔
“مگر بابا روحان” ۔۔ سیما نے اعتراض کرنا چاہا
“سیما روحان کی فکر مت کرو” عالم نے سیما کو بیچ میں ہی ٹوک دیا تھا۔۔ اب سفینہ سے مخاتب ہوۓ تھے۔۔
“سفینہ بہن میں آپ سے روحان کیلۓ زویا کا ہاتھ مانگتا ہوں” عالم نے مسکرا کر سفینہ سے بات کی تھی سیما تو بیچو تاب کھاتی رہ گئی تھی ۔۔مگر یوسف صاحب کی وجہ سے خاموش تھیں۔۔
سفینہ نے یوسف صاحب کو دیکھا تھا جو مسکرا کر ہاں کرنے کا اشارہ کر رہے تھے پھر سیما کو دیکھا تھا جس کے چہرے پہ صاف عیاں تھا کہ وہ راضی نہی پھر عالم کی طرف دیکھا تھا وہ اس کی ہاں کے منتظر تھے۔۔ وہ خاموش رہی تھی کچھ سمجھ ہی نہی آرہا تھا کیا کہے ۔۔
“مجھے لگتا ہے سفینہ بہو کو کوئی اعتراض نہی ہے میرے فیصلے سے” ۔۔ اس مہینے کے آخر میں روحان جا رہا ہے تو ایک ہفتہ بعد جمعہ کے دن بچوں کا نکاح رکھا جاۓ کیا خیال ہے پھر عالم” ۔۔ یوسف صاحب نے اپنی بات مکمل کی تھی ۔۔
“جی بابا جیسا آپ کو ٹھیک لگے سفینہ بہن اب زویا ہماری بچی ہے تو آپ نکاح کی تیاری شروع کیجیۓ نکاح سادگی سے ہوگا بس خاص خاص لوگ ہوںگے”۔ ۔۔عالم صاحب تو خوشی سے پھولے نہی سما رہے تھے اور جبکہ سیما منہ سجاۓ خاموش بیٹھی تھی انکی بعد میں خبر لینے کا ارادہ رکھتی تھیں ۔۔۔
سفینہ کے حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات تھے وہ مسکرا رہیں تھیں وہ سب ہی خوش تھے سواۓ سیما کہ ۔۔
سفینہ کو زویا کے لۓ روحان ایک بہترین انتخاب لگا تھا اس لیے وہ انکار نہیں کر پائی مگر انہیں یہ نہیں معلوم تھا کے مستقبل میں کیا ہونے والا ہے روحان اس رشتہ سے خوش ہے یا نہیں ۔۔کیا وہ زویا کو قبول کرے گا۔۔یہ تو انہوں سوچا بھی نہیں ۔۔
سیما کو کسی طور بھی یہ بات ہضم نہیں ہو رہی تھی ۔۔
“یہ کیسے ہو سکتا ہے یہ کیسے ہوگیا برسوں پہلے وہ سفینہ میری بہن کا حق مارا تھا اور اب اسکی بیٹی میری بھانجی کا حق نہیں یہ نہیں ہو سکتا ۔۔ ہمم دیکھ لوں گی میں میری روحان کی دلہن صرف شائنہ ہی ہوگی”
شائنہ سیما کی بہن شینا کی بیٹی تھی ۔۔ سیما شینا کی شادی اکرم سے کروانا چاہتی مگر اکرم نے سفینہ سے شادی کر لی تھی اس کے ایک ماہ بعد ہی شینا کی بھی شادی ہوگئی تھی۔۔ زویا اور شائنہ میں بس دو ماہ کا ہی فرق تھا۔۔
عالم صاحب کمرے میں داخل ہوۓ تو سیما اس پہ چڑ دوڑی ۔۔” یہ کیا کیا عالم آپ نے ۔۔ آپ نے ایک بار بھی مجھ سے پوچھنا ضروری نہی سمجھا اور اتنا بڑا فیصلہ کرلیا “۔
عالم سیما کے غصہ سے واقف تھے اس لۓ تحمل سے اسکی بات سنی اور پھر بولے۔۔ “دیکھو سیما یہ بابا کا فیصلہ تھا اور میں انکار نہیں کر سکا زویا اچھی بچی اور ہمارے روحان کے لۓ بھی بہتر ہے”۔۔
“نہی ہے وہ بہتر میں روحان کی شادی شائنہ سے کروانا چاہتی تھی اور یہ میری خواہش بھی تھی ۔۔آپ ایسا نہیں کر سکتے میں کیا جواب دوں گی شینا کو” ۔۔
” ہمارا دوسرا بیٹا بھی ہے تم زارون کے لۓ بات کر لینا”۔۔
۔۔سیما خاموش ہوگئی تھی انہیں پتا ہے انکی بات پتھر پہ لکیر ہے یوسف صاحب فیصلہ کر چکے ہیں اور عالم انکا بھرپور ساتھ دیں گے۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
رات کے کھانے پہ گھر کے تمام افراد ٹیبل پہ موجود تھے۔۔
روحان بس پلیٹ میں ہی چمچ گھما رہا تھا کھانے کا اسکا
زرا من نہی تھا۔۔
داجی اپنی بات کا آغاز کیا انہوں ہنکار بھرا تھا تو سب انکی طرف متوجہ ہوۓ تھے۔۔
“روحان کے باہر جانے سے پہلے ہم اسکا نکاح کرنا چاہتے ہیں۔۔”
“واؤ داجی روحان کے تو ڈبل فائدے” زارون نے روحان کی طرف دیکھتے کہا اور آخر میں ایک آنکھ دبائی ۔۔۔
“شٹ اپ” روحان نے اسے ہلکی آواز میں ڈپٹا۔۔
داجی مسکراۓ تھے اسکی بات پہ پھر بولے تھے۔۔
“ہم نے روحان کا زویا کے ساتھ رشتہ طے کر دیا ہے اگلے ہفتہ یعنی جمعہ کے دن انکا نکاح ہے آپ لوگ تیاریاں کرو نکاح کی داجی اپنی بات کہ کر خاموش ہوۓ تھے ۔۔
زویا کو تو اپنا نام سن کر تو جیسے شاک سا لگا اور پھر نکاح اس کے جیسے ہوش ہی اڑ گۓ تھے۔۔اسنے پہلے روحان کی طرف دیکھا جو اسے خونخوار نظروں سے گھور رہا تھا ۔۔اب اسے دوپہر میں اسکے غصہ کرنے کا اور لڑنے کا مطلب سمجھ آیا تھا پھر اپنی ماں کی طرف دیکھا جو اسے دیکھتی مسکرا رہی تھیں۔۔اس سے زیادہ دیر بیٹھا نا جا سکا اور فورن اٹھ کر وہاں سے بھاگی تھی۔۔ اسے بھاگتے دیکھ سفینہ بھی اٹھ کر اسکے پیچھے گئی تھی۔۔ داجی بھی اٹھے تھے اپنے کمرے کی طرف چل دئے تھے۔۔
جبکہ زرتاج اور روحا کی تو خوشی کی انتہا نہ تھی پہلے وہ بھی شاک ہوئی تھی۔۔
پھر وہ دونوں بھی اٹھ کے زویا کے پیچھے چل دی ۔۔اب ٹیبل پر صرف عالم سیما اور روحان اور زارون بیٹھے تھے۔۔زارون اب بھی داجی کی کہی ہوئی باتوں پہ شاک سا تھا جبکہ روحان غصہ سے بھرا بیٹھا تھا۔۔
“ڈیڈ وہ بہت چھوٹی ہے مجھ سے میں نے کبھی اسکے بارے اس طرح سے نہی سوچا ایک کمزور سی دلیل دی تھی روحان نے ۔۔”
“بس روحان بہانے مت بناؤ” ۔۔وہ طیش میں آۓ
“اپنے بیٹےکو سمجھا دو ورنہ پھر میں سمجھوں گا میرا ایک ہی بیٹا ہے” ۔۔آخر میں سیما کی طرف دیکھ کر بولے تھے اور اٹھ کر وہاں سے چلے گۓ ۔۔
روحان بھی غصے سے کرسی کو ٹھوکر مارتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔سیما رونے لگ گئی تھی۔۔
مما پلیز آپ روۓ مت سب ٹھیک ہوجاۓ گا زارون بھی پریشان ہوا تھا۔۔
🥀🥀🥀🥀
سفینہ بھی زویا کے پیچھے کمرے آئی تھی زویا کو روتا دیکھ وہ پریشان ہوئی تھی ۔۔
“زویا تم رو کیوں رہی ہو بیٹا” وہ اس اسے گلے لگاتے ہوۓ پیار سے بولیں تھیں۔۔
“ماما یہ داجی کیا کہہ رہے تھے” وہ روتے ہوۓ بولی ۔۔
“ہاں بیٹا انہوں نے تمہارا رشتہ روحان کے ساتھ تہ کردیا ہے”۔
“مگر ماما روحان بھائی میں انسے نکاح نہیں کروں گی میں نے انہیں ہمیشہ بھائی ہی سمجھا ہے” وہ روتے بول رہی تھی۔۔
“ششش چپ بیٹا یہ داجی کا فیصلہ ہے عالم بھائی نے اتنے مان سے تمہارا رشتہ مانگا تھا میں انکار نہی کر سکی روحان اچھا بچہ ہے” سفینہ اسے اپنے ساتھ لگاۓ پیار سے بولی تھی ۔۔”مگر ماما ماما”۔۔اب وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی اسکے منۂ سے تو اب الفاظ ہی نہی نکل رہے تھے۔۔زویا کیا ہوگیا ہے تم کونسا رخصت ہو کر ہمم سے دور جا رہی ہو ہمیشہ میرے پاس ہو گی میری آنکھوں کے سامنے۔۔۔
زرتاج اور روحا انکے پیچھے کھڑیں تھی انکی ساری باتیں سن رہی تھی بھاگ کر آکر دونوں نے زویا کو گلے سے لگا لیا تھا ۔۔
“واؤ زویا آپی تم میری بھابھی بننے جا رہی ہو” اور دو تین اسکے گال پہ کس کرتے کہا تھا روحا نے .. سفینہ بیگم مسکرا دی تھی انہیں دیکھ کر ۔۔ اچھا سمجھاؤ اسے ایسے روتے نہی ہیں اور وہ وہاں سے چلی گئی تھی .. واؤ آپیی کتنا مزا آۓ گا ہم اب نند بھابھی ہوں گے روحا ابھی بھی اسکی اسکے گلے میں باہیں ڈالے کھڑی تھیں ۔۔اور زویا کا شرم سے جھک گیا تھا ۔۔زرتاج فورن بولی تھی۔۔ “اف زویا تم بلش کر رہی ہو” زری اور روحا کے قہقہے بلند ہوۓ تھے۔۔
🥀🥀🥀🥀
روحان ساری رات اپنے دوست فیصل کے فلیٹ میں رہا تھا صبح دس بجے گھر آیا تھا۔ جب وہ گھر آیا تو حال میں سب بڑے موجود تھے زویا انہیں چاۓ سرو کر رہی تھی وہ سب کو نظر انداز کرتا وہاں سے جا رہا تھا جب عالم نے اسے روکا تھا ۔۔۔
“کہاں تھے ساری رات تم ۔۔عالم جانتے تھے وہ کہاں تھا فیصل سے فون پہ وہ روحان کے بارے میں پوچھ چکے تھے مگر پھر بھی پوچھ رہے تھے”۔
زویا کے عالم صاحب کی آواز پہ چلتے ہاتھ رکے تھے مزید ہمت نہی تھے کہ نظر اٹھا کہ دیکھ لے ۔
“ڈیڈ میں فیصل کے گھر تھا رات “جب اسکی نظریں زویا پہ گئی تھیں وہ عالم کو چاۓ کا کپ پکڑا رہی تھی اسکا ہاتھ کانپ رہا تھا روحان کی آواز پہ وہ بمشکل خود کی گھبراہٹ پہ قابو پاتی چاۓ دے رہی تھی۔۔
“بیٹھو بیٹا چاۓ پیو تمہارے ڈیڈ کو پتا تھا تم فیصل کے گھر تھے”۔۔سیما نے بیٹے کو اپنے ساتھ بیٹھنے کی جگہ دی تھی۔۔اور روحان بیٹھ گیا ۔۔۔
“زویا روحان کو بھی چاۓ دوسیما نے کہا تھا”۔۔
زویا کا تو وہاں رکنا محال ہو رہا تھا اب چاۓ دینے کا آرڈر ملا تھا ۔۔زویا بامشکل خود کی لرزش پہ قابو پاتے چاۓ کا کپ اٹھا ۓ روحان کی جانب بڑھی تھی۔۔ روحان کے سامنے آتے جھک کر اسے چاۓ کا کپ اسکے آگے کیا ہلکا سا ہاتھ ابھی کانپ رہا تھا۔۔
روحان اسکا بغور جائزہ لیتے چاۓ کا کپ تھاما تھا وہ ڈارک بلو کلر کی پلین شارٹ فراک پہنے ہوۓ آدھے سیاہ بال کیچر میں قید آدھے کھلے کچھ آوارہ لٹیں چہرے پہ جھول رہی تھی تیکھے نین نقوش پل میں اپنی نظروں کا زاویہ بدلا تھا روحان نے۔۔زویا بھی وہاں رکی نہی تھی جلدی نکلی وہاں سے ۔۔۔جاتے جاتے اسکی آواز کانوں سے ٹکرائی تھی اور چہرہ مزید شرم سے لال ہوا تھا۔۔
” روحان کیا تمہیں کوئی اعتراض ہے” عالم نے سوال کیا۔۔۔ نو ڈیڈ مجھے کوئی اعتراض نہیں جیسے آپ لوگوں مرضی۔۔سب مسکراۓ تھے سواۓ سیما کہ انہیں تو روحان کی بات پہ یقین ہی نہی آیا۔۔
روحا اور زرتاج نے بھی روحان کا اقرار سنا تھا زویا بھاگنے کے انداز میں کچن کی طرف آئی تھیں اور کچن میں آ کر کے پھولی ہوئی سانس ہموار کرنے لگی۔۔
ذری اور روحا بھی اس کے پیچھے کچن میں آئی تھی تھی۔۔
روحا نے زویاکے گلے میں باہیں ڈالی تھی اف زویا آپی بھائی بھی مان گۓ ہیں ۔۔ روحا خوش ہوتے بولی تھی زویا شرم سے لال ہوئی تھی۔۔ زری شلف کے ساتھ ٹیگ لگاۓ کھڑی تھی۔۔یہ دونوں نند بھابی مل گئی ہمیں تو کوئی لفٹ ہی نہی کرا رہا زرتاج نے ہانک لگائی۔۔
تبھی زارون کی اینٹری ہوئی تھی وہاں پہ ۔۔کیا ہو رہا ہے “یہاں پہ کیوں رش لگایا ہوا ہےزارون نے فرج سے پانی کی بوتل نکالتے کہا تھا” ۔۔
تبھی روحا زارون کے پاس ائی اور پرجوش انداز میں بولی تھی۔۔ زی بھائی حان بھائی مان گۓ ہیں ۔۔زارون کےگلاس میں پانی ڈالتے ہاتھ رکے تھے اور وہ سوچ میں پڑگیا تھا ۔۔وہ تینوں وہاں سے جا چکی تھیں ۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
روحان واش روم سے شاور لے کر نکلا تھا..
زارون کو اپنے کمرے میں انتظار کرتا پایا تھا۔۔ “کیا ہوا زی تم یہاں” روحان بھی اسکے سامنے کرسی پہ آکر بیٹھا تھا۔۔
“روحان کیا تم واقعی راضی ہو زویا سے نکاح کے لۓ ۔۔رات تم بہت غصے میں تھے اور بلکل بھی راضی نہیں تھے”۔۔
“ہاں مگر تم بھول گۓ شائد ڈیڈ نے رات کو کیا کہا تھا اگر میں یہ نکاح نہیں کروں گا تو وہ سمجھے گے کہ انکا صرف ایک ہی بیٹا ہے “روحان بات کرتا شیشے کے سامنے کھڑا ہوتا بال بنانے لگا تھا اسکی آواز میں بہت کرب تھا بےبسی تھی۔۔
زارون اٹھ کر اسکے پاس آیا تھا تو ” اسلۓ مان گۓ “۔۔
“ہاں تو اور کیا کرتا آج وقت اور فیصلہ میرا نہیں مگرکل وقت بھی اور فیصلہ بھی میرا ہوگا اسنے ٹھوس لہجے کچھ سوچتے ہوۓ کہاتھا۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
اور آج نکاح کا دن بھی آن پہچا..
“اج شاہانہ عالم کی بہن بھی آئی تھیں جو باپ سے شکوہ کر رہی تھی کہ اتنی اچانک نکاح رکھ لیا اور اب بتا رہے ہیں ہم سے مشورہ تک نہیں کیا “
سیما کی بہن شینا بھی بس نکاح کے موقع پہ ہی آئی تھی
🥀🥀🥀🥀🥀
نکاح کا مرحلہ شروع ہوا تھا۔۔
زویا اپنے کمرے میں تیار ہوکر بیٹھی تھی اور اس کے ساتھ وہاں روحہ اور زری بھی موجود تھی۔۔
کمرے میں نکاح خواں کے ساتھ عالم اور یوسف صاحب اور زارون داخل ہوۓ تھے۔۔
اور نکاح شروع ہوا دونوں طرف سے ایجاب و قبول ہوا..
ہر طرف مبارک باد کا شور اٹھا تھا۔۔
چوبیس سالہ روحان آف وائٹ کلف دار قمیض شلوار میں بلیک ویسکوٹ پہنے کالے بالوں کو اچھے سے سیٹ کیۓ وہ صوفے پہ بیٹھا جازب نظر لگ رہا تھا ہر کوئی اسکی تعریف کرتا پھر رہا تھا۔۔۔ سیما نے تو اسکی نظر بھی اتاری تھی وہ لگ بھی بہت پیارا رہا تھا۔۔
پھر سامنے سے سجی سنوری دلہن بنی نیچرل لائٹ میک اپ پنک کلر کی پیروں تک آتی فراک پہنے زری اور روحا کے درمیاں سہج سہج چلتی آرہی تھی۔۔۔
روحان کی جیسے اس کے چہرے پہ نظر پڑی تو نظریں ٹھہر سی گئی تھی۔۔
وہ چلتی چلتی اس کے سامنے کھڑی کوئی اپسرا ہی لگی۔۔
وہ اپنے ہوش تب آیا جب فیصل نے اسے کہنی ماری تھی۔۔تیری ہی ہے فیصل شرارت سے کہتے ایک آنکھ دبائی ۔۔وہ کڑ کے رہ گیا تھا اور اسے گھور کے دیکھاتھا اسکے مزاق پہ۔۔۔
زویا کو اسکے ساتھ بٹھایا گیا تھا وہ فاصلہ قائم کۓ اس کچھ دوری بناۓ بیٹھا تھا ۔۔۔
اور فوٹوسیشن کا نا رکنے والا سلسلہ شروع ہوا تھا ۔۔
ہرکوئی انکے ساتھ بیٹھ کر تصویر بنواتا تو اسے اور کھسکنا پڑتا زویا کی طرف ایسے۔جو ایک فٹ کا فاصلہ بناۓ بیٹھا تھا تو ایک انچ کا بھی نہی رہا تھا اور اسکے ساتھ جڑچکا تھا ۔۔اسکے لمس اور اسکے وجود سے آتی بھینی بھینیی سی کلون کی خوشبوں سے زویا کو اپنی جان جاتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔۔مگر مقابل اسپاٹ چہرہ لۓ ڈھیٹ بنا بیٹھا رہا تھا۔۔
زارون گلے میں کیمرا ڈالے کیمرہ مین بنا ہوا تھا سب کی پکس بنا رہا رھا بلیک تھری پیس سوٹ میں وہ بائیس سال کا بہت پرکشش اور ہینڈسم نوجوان تھا ۔۔
روحا اور زری محفل کی جان بنی ہوئی تھی گولڈن کلر کی سیم فراک پہنے پریا لگ رہی تھی گولڈن کلر انکی گوری رنگت میں کافی جچ رہا تھا۔۔ ان میں بس تین سال کا فرق تھا مگر انہھوں نے اپنی دوستی میں یہ فرق مٹا دیا تھا۔۔ زرتاج پندرہ سالہ اور روحا تیرا سال کی تھی زرتاج صحتمند سی بھری بھری سی جسامت اور روحا زویا کی طرح دبلی پتلی سی۔۔
زارون پکس بنا رہا تھا اب باری زری کی آئی تھی وہ زویا کے پاس بیٹھی تھی پوز بنا کے مگر وہ پکس نہی لے رہا تھا۔۔ ایک نظر کیمرے میں دیکھتا تو کبھی سامنے ۔۔
“زارون یہ کیا کر رہے ہو” عالم بولے تھے ۔۔زارون کیمرہ کو ٹتولتے ہو مصروف سے انداز میں بولا تھا۔۔
“پتہ نہی ڈیڈ کیمرہ خراب یا یہ زری موٹی ہے کیمرے میں اس کے علاوہ کوئی نظر نہی آتا جب بھی کیمرہ سامنے کرتا پکس بنانے کیلۓ صرف مشکل سے اسکا چہرہ ہی کیمرے میں آپاتا ہے”۔۔
اس کے اس مزاق پہ سب ہنسے تھے تو زری کو آگ لگی تھی۔۔
“دفاع ہوجاؤ مجھے نہی بنانی پکس”۔۔ وہ اٹھ کر جانے لگی تھی تو عالم کی آواز پہ رکی تھی۔
“۔بیٹھو بیٹا بناو تم تصویر ماشااللہ میری بیٹی صحتمند ہے موٹی نہی” ۔۔۔ہمم وہ پھر سے ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کے بیٹھی تھی۔۔
“ہاں بھی زویا کے حصے کا کھانا بھی یہ خود کھا جاتی ہے اسلۓ تو وہ چھوٹی رہ گئی اور یہ بھینس کی طرح پل گئی” زارون پھر سے اسکا مزاق اڑاتے اسکی پک لی تھی۔۔ عالم صاحب نے اسے اپھر ڈپٹا تھا۔۔
روحان تو اٹھ کر اپنے روم آیا تھا بہت تھک چکا تھا
فریش ہو کر وہ نیچے آیا تھا اسے کافی کی شدید طلب ہو رہی تھی مگر سیڑیوں سے نیچے اترتے وہ اسے سامنے حال میں ان تینوں کو دیکھ کر جھٹکا لگا تھا جن کی اب بھی فوٹو سیشن کمپلیٹ نہی ہوئی تھی رات کا ایک بج رہا تھا۔۔
زویا بچاری تھکن سے برا حال تھا مگر روحا اور زری تھی جو اس کی جان ہی نہی چھوڑ رہی تھی وہ چینج کرنا چاہتی تھی مگر وہ دونوں اسے جانے ہی نہی دے رہی تھی۔۔
اور زارون فوٹو گرافر کا کام کر رہا تھا ۔۔
اور روحان انکی یہ کاروائی کب سے دیکھ رہا تھا ۔۔
کیا ہو رہا ہے یہاں ۔۔اسکی دھاڑ پہ سب متوجہ ہے ہوۓ تھے ۔۔سب کی سیٹی گم ہوئی اور سب ادھر ادھر کھسک گۓ تھے سواۓ زویا کے ۔۔کیوںکہ زویا کا روم کا راستہ وہاں سے جاتا تھا جہاں وہ کھڑا تھا وہاں سے جاتا تھا ۔۔
کیا ہوا مسز تمہارا جانے کا ارادہ نہی ہے کیا۔۔وہ دونوں ہاتھ باندھے اس سے گویا ہوا تھا ۔۔زویا کی تو مارے شرم سے جھکی ہوۓ نظرے ہی نہی اٹھ رہیں تھی۔۔وہ بغیر کچھ کہے اپنی بھاری جوڑے کو سنبھالتی چھن چھن کرتی اس کے قریب سے گزرتی چلی گئی تھی۔۔
اسکی چوڑیوں کھنک اور پائلوں کی چھن خاموش ماحول میں ایک سرور سا تھا۔۔ جب تک وہ اپنے کمرے میں بند نہی تب اسے یہ آواز سنائی دیتی رہی تھی۔۔
اور روحان اب کھڑا یہ سوچ رہا تھا کہ کافی کون بنا کہ دیگا ماما بھی سو گئی ہیں سرونٹ بھی کواٹر میں چلے گئی اور جو بنا کے دی سکتی تھی اس سے تو انا کی جنگ چھڑ چکی ہے۔۔ وہ سیڑیاں چڑتا اپنے روم میں چلا گیا۔۔
وہ کمرے آئی تو آنسوں اسکی رخسار بھگونے لگے تھے اسے اپنا آپ بےمول سا ہوتا محسوس ہوا تھا اسے لگا تھا جیسے وہ اسے روکے گا اس سے باتیں کرے گا اسکی تعریف کرے گا شاید مہمانوں کے سامنے موقع نی ملا ہو مگر ابھی اسے اپنی تزلیل محسوس ہوئی تھی۔۔
وہ اسکے پاس سے گزر کے آئی تھی اسنے روکا تک نہی تھا ۔۔وہ سمجھ رہی تھی شاید اس کی بھی وہی فیلنگز ہوں جو اسکی تھیآ۔۔واشروم سے فریش ہو کر باہر آئی تھی اب خود کو ہلکا محسوس کر رہی تھی آئینے کے سامنے کھڑی ہوکر بال بنا رہی تھی خود کو آئینے میں دیکھا تو پھر آنسوں بہ نکلے تھے آج اس کے لیۓ ہی تو اتنا سجی سنوری تھی مگر اسنے تو ٹھیک سے دیکھا تک نہی۔۔۔ خاموشی سے سفینہ کے پہلو میں آکر لیٹ گئی تھی جو سکون سے اپنا فرض پورا کر کے سو رہی تھیں۔۔ اور اسکا تھکا دینے والا سفر شروع ہوچکا تھا..
