Beparwah Season 1 By Ayesha Noor Readelle50280 (Beparwah) Episode 44
Rate this Novel
(Beparwah) Episode 44
آج زرتاج نے یونیورسٹی جانا تھا زویا کیساتھ مل کر ناشتہ بنایا اور پھر جلدی تیار ہوکر سب کیساتھ بیٹھی ناشتہ کرنے لگی..
وہ تایا ابو میں اپنی سٹڈی مکمل کرنا چاہتی ہوں تو آج سے یونی جانا شروع کرنا ہے.. ” زرتاج نے جھجھکتے کہا تھا..
“یہ تو اچھی بات ہے. ” عالم صاحب نے مسکراتے کہا..
” کیا اچھی بات ہے ولیمہ کے بعد یہ شوق پورے کرتی رہے گھر بیٹھے چپ چاپ ” سیما کو حسب عادت اسکی یہ بات پسند نا آئی..
“کوئی بات نہیں مام کرلینے دیں آپکی بہو کو اپنا شوق پورا.. ” زارون کھڑا ہوتا بولا..
تو زری بھی خوش ہوتے اٹھ دی تھوڑی دیر پہلے تو اداس ہوئی تھی سیما کی باتوں سے..
تم کہاں میرے پیچھے آرہی ہو.. ” اپنے پیچھے پورچ تک آتے اسے دیکھ کہا..
کیا مطلب ہے تمہارا.. مجھے یونی کون لے کے جاۓ گا.. ” اسکی بے تکی بات پہ غصہ آیا مگر پھر بھی تحمل سے بولی..
اچھا اب تمہیں میرے ساتھ جانا ہے پہلے تو پسند نہیں تھا میرے ساتھ جانا..” وہ طنزیہ کہتا گاڑی میں بیٹھا.. اور وہ بھی منہ بگاڑتی اسکے ساتھ بیٹھ گئی…
دونوں ہی اپنی بیویوں کے اسیر ہوگئے ہیں.. سیما نے چائے کا کپ رکھتے بڑبڑاتے چلی گئی..
جبکہ سب اسکی بات پہ مسکراتے رہ گئے.. روحان اور عالم صاحب بھی اٹھ کے چل دیے..
زویا شام کو جلدی آؤں گا تیار رہنا ڈاکٹر کے پاس جانا ہے.. روحان نے جاتے جاتے زویا سے کہا تھا..
ٹھیک ہے.. زویا نے بھی مسکراتے جواب دیا..
تو سفینہ نے دل سے اپنے بچوں کیلئے دعا کیں..
…
🥀🥀🥀
راستہ میں ٹریفک سگنل پہ انکی کار رکی تھی..
زارون تم مجھے جان بوجھ کے لیٹ کروا رہے ہو.. ” وہ لیٹ ہو رہی تھی..
میرا دماغ خراب مت کرو.. ” تمہارے سامنے ہے سب ٹریفک زیادہ ہے اور سگنل بھی بند ہے.. “
تمہارا دماغ ہوگا تو خراب ہوگا نا ” وہ کہاں چپ رہنے والی تھی..
دماغ سیٹ ہوجانا تھا اگر رات کو میری بات مان لیتی تو ” وہ اسکے قریب ہوتے کان کے پاس جاتے شریر سے لہجہ میں ذو معنی بولا..
یہ منہ اور مسور کی دال وہ بھی بڑے مزے سے کہتی پیچھے ہوئی تھی.. تو زارون نے اسے آنکھیں چھوٹی کرکے دیکھا اور جلدی سے اسکے بال پہ کسس کرکے پیچھے ہوا تھا اور سٹیرنگ پہ ہاتھ رکھے نظریں سامنے جما لی..
زارون تم سدھر جاؤ” پبلک پلیس پہ حرکت کوئی دیکھا گا تو کیا سوچے گا.. مگر کوئی تھا وہاں جو انہیں دیکھ چکا تھا.. یہ منظر دیکھنے سے اسکی آنکھوں میں مرچیں بھرنی لگیں تھی..
سوری یہ تو نہیں ہوسکتا”زارون نے بھی پرسکون سے انداز میں کہا پھر سنگل کھلتے ہی گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی.
تھوڑی ہی دیر میں یونیورسٹی پہنچ گئے.. گاڑی سے اترتے انہیں ارم نے دیکھا..
ہاۓ” ہاتھ ہلاتی وہ انکے قریب آئی..
ہاۓ جیجا جی.. ” ارم نے زارون کو دیکھتے ہاتھ ہلایا جواباً زارون نے بھی ہاتھ ہلایا..
چلیں ” زرتاج نے ارم کو دیکھتے کہا..
ہاں چلو” ارم آگے بڑھی.. زرتاج ابھی ایک قدم بڑھتی کہ زارون نے اسکا ہاتھ تھام لیا..
چھٹی ٹائم آؤں گا لینے.. ” زارون نے مسکراتے کہا اور پھر ہاتھ چھوڑ دیا.. اور گاڑی میں جا بیٹھا..
زرتاج بھی اندر کی جانب بڑھ دی آج اسے کچھ عجیب ہی احساس تھا زارون کیلے کے اسکی کوئی حرکت بری نہیں لگ رہی تھی..
کلاس ختم ہونے کے بعد وہ کینٹین میں بیٹھی تھیں ارم کیساتھ اسکی اور بھی کلاس فیلوز تھیں جو اسکے پاس بیٹھی تھیں..
زرتاج ہمیں تو لگا تھا شادی کے بعد تم لمبی چھٹیوں پہ چلی جاؤ گی.. زری کی کلاس فیلو نے کہا..
مگر تم تو یہاں بیٹھی ہو ہمارے ساتھ.. ایک اور نے قہقہ لگاتے کہا..
ہاں مگر اسٹڈی بھی تو امپورٹنٹ ہے ناں.. ایکسامز زر پہ ہے.. زرتاج نے مسکراتے جواب دیا..
زرتاج تم آج زارون کیساتھ آئی تھی کیا میکے آئی ہوئی ہو.. ندا اسکی کلاس فیلو بولی..
زرتاج اور ارم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا..
” کیا ہوا چپی کیوں لگ گئی “ندا پھر سے بولی..
وہ دراصل زرتاج کی شادی زارون سے ہوئی ہے” ارم نے انہیں جواب دیا..
واٹ.. ” سب کے منہ سے بے ساختہ نکلا تھا اب کی سب حیران ہوئی تھی..
تم نے تو نہیں بتایا کے تمہاری شادی زارون سے ہونی ہے.. “
تم تو کہہ رہی تھی کہ کوئی جاننے والے ہیں” سب کے منہ میں الگ الگ سوالات تھے.
گرلز بات تو پوری سن لو.. “ارم زرتاج جو دیکھتی بولی جو اپنی سہیلیوں کے منہ سے ایسے سوال سن کر شاک تھی..
پھر ارم نے انہیں اس دن ہوئے تمام واقعہ انہیں بیان کردیا تو افسوس کا اظہار کرنے لگی..
سوری یار میں نے بنا سچ جانے ایسا کہہ دیا. “
اٹس اوکے.. زرتاج بس یہی بول سکی..
” زارون از سو گڈ مین” ورنا آج کل کے لڑکے کہاں اپناتے ہیں ..
ہاں یار مگر زارون نے زری کو بہت عزت دی ہے اسنے احساس نہیں ہونے دیا اس بات کا کبھی “ارم نے مسکراتے ہوئے کہا..
یہ تو ہے.. ” مگر زارون تو میرا کرش تھا ” ایک نے افسردہ سے ہوتے کہا.. تو سب ہنسنے لگی..
تو زرتاج نے اسے گھور کے دیکھا..
🥀🥀🥀
زارون نے ٹائم دیکھا تو بارا بج رہے تھے.. وہ آفس میں بیٹھا تھا اس وقت.. موبائل نکال کر میسج ٹائپ کرنے لگا.. مگر اچانک سے خیال آیا کہ زرتاج کا موبائل تو ایکسیڈنٹ کے وقت ٹوٹ چکا تھا گاڑی میں..
افف یہ لڑکی بھی نا کہہ نہیں سکتی تھی موبائل نہیں ہے اسکے پاس.. ” پہلے مارکیٹ جا کر موبائل لوں گا زری کیلے پھر اسکا ٹائم ہوجائے گا چھٹی کا اور اسے پک کرلے گا. .
تو وہ سارے پلانز بنا کراٹھ کھڑا ہوا اور آفس سے باہر نکل آیا جہاں اسکا ٹکراؤ روحان اور اپنے ڈیڈ سے ہوا..
تم کہاں چل دیے” یوسف صاحب بولے..
” ڈیڈ زری کو یونی لینے جانا ہے.. “
ہاں مگر تم ڈرائیور کو بھیج دو ” روحان نے کہا..
وہ میں نے کہا تھا زری کو کہ میں لینے آؤں گا تو” وہ پہلے روحان اور پھر یوسف صاحب کو دیکھتا بولا..
تمہاری یہاں ضرورت ہے.. “اس موٹی کو ڈرائیور لے آئے گا.. روحان نے اسے تنگ کرتے کہا..
موٹی تو نہیں ہے وہ بس ہیلتھی ہے .. ” زارون نے برا مناتے کہا ..تو عالم صاحب اور روحان کو اپنی ہنسی کنٹرول کرنا مشکل ہوگئی..
یہ ہم نہیں کہہ رہے تمہارے ہی دیئے ہوئے لقب ہیں.. روحان نے ہنستے اسکے کاندھے پہ ہاتھ رکھتے کہا.. تو عالم صاحب بھی ہنس دیے..
آپ دونوں مجھے تنگ کررہے ہیں انکا ارادہ بھانپتے ہوئے زراون بولا..
ارے تم جاؤ.. ” عالم صاحب نے ہنستے ہوئے اسے راستہ دیا..
اور وہ برا سا منہ بناتے نکل گیا..
ایک وقت تھا کہ ایک دوسرے کے ساتھ جانا بھی گوارا نہیں کرتے تھے اور اب کیسے بے چین ہو رہا تھا.. عالم صاحب نے روحان سے کہا..
یہ تو اچھی بات ہے ڈیڈ کے زارون نے حالات کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کرلی میری طرح اپنی ذمہ داریوں سے نہیں بھاگا.. روحان نے قرب سے کہا..
روحان بھول جاؤ جو ہوگیا اب بس آگے .. عالم صاحب نے اسے سمجھایا..
..
🥀🥀🥀
زارون نے پہلے موبائل شاپ سے اس کے لیے اچھا سیٹ خریدا.. اور پھر یونی پہنچا باہر کھڑا اسکا انتظار کرنے لگا..
تھوڑی ہی دیر میں زرتاج بھی ارم کیساتھ باہر نکلی..
ارے واہ تیرا ہیرو آگیا ” ارم نے اسے چھیڑتے کہا.. اور پھر آگے نکل گئی اور زرتاج زارون کی طرف بڑھ گئی..
آئیے آپکا انتظار تھا.. ” زارون نے دروازہ کھولتے کہا تو وہ چپ چاپ بیٹھ گئی..
اور زارون نے بھی فرنٹ سیٹ سنبھالتے گاڑی اسٹارٹ کی..
ان دو آنکھوں نے پھر انکا تعاقب کیا.. ایسا لگا جیسا کوئی اسے کانٹوں پہ کھینچ لایا ہو..
کچھ ہی دیر میں وہ ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھے تھے..
” زارون یہ کہاں لے آئے ہو.. “زرتاج نے ادھر ادھر دیکھتے کہا تھا..
لنچ کرنے یار بھوک لگی ہے.. اسکی بے مروتی اچھی نہیں لگی..
پہلے تو کبھی نہیں لائے لنچ کیلئے.. “طنزیہ کہا..
پہلے کی بات اور تھی.. پہلے تم دشمن تھی..
اور اب” فٹ سے بولی
اب بھی دشمن ہی ہو بس بیوی بن گئی ہو” اور ظالم بھی” وہ اسکے چہرے کو تکتا ہوا بولا..
پھر ایک شاپنگ بیگ اسکے سامنے کیا..
یہ کیا ہے “اسے کھولتے ہوئے بولی.. اور اس میں گفٹ پیک نکالا..
تمہارے لئے کھولو”
یہ کیا موبائل ” گفٹ پیپر کھولتے ہی اس میں موبائل کا ڈبہ برآمد ہوا.. پھر اسے کھولتے ہوئے اس میں سے موبائل نکالا..
میں نے تو تم سے نہیں کہا موبائل کا.. ” وہ موبائل دیکھتے بولی..
تم نے کہا تو نہیں مگر تمہیں ضرورت تو ہے نا اسکی.. ” اب اس میں ٹائم دیکھتی رہنا اور سوچ لینا میرے بارے میں.. ” وہ اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا..
تو مجھے رشوت دے رہے ہو” زرتاج بولی
نہیں یار” اسکی ہنسی نکلی تھی..
ایسے ہی ہلکے پھلکے انداز میں خلاف معمول لنچ کیا گیا مگر ابھی بھی کسی کی نظروں میں تھے..
🌹🌹🌹🌹
زویا تیار ہوکر نیچے آئی اسے روحان نے کال کر کے کہا تھا تیار رہے وہ اسے لینے آرہا ہے..
تم کہاں جا رہی ہو.. سیما نے اسکی تیاری دیکھتے کہا..
وہ تائی امی مجھے ڈاکٹر کے پاس چیک اپ کیلے جانا تھا روحان مجھے لینے کے لیے آئے گے.. ” زویا پہلے گھبرائی پھر سامنے سفینہ کو دیکھا اور پھر سیما کو دیکھتے کہا..
اگر تمہیں ڈاکٹر کے پاس جانا تھا تو مجھے بتا دیتی میں لے جاتی.. “سیما نے اسی تیز لہجہ میں کہا..
اسی وقت روحان بھی آگیا..
چلیں اسے تیار دیکھتے روحان نے کہا..
اچھا موم میں زویا کو ڈاکٹر کے پاس لے جا رہا ہوں.. “
اب جا رہے ہو تو پوچھ کیا رہے ہو ..” تم جانو یا تمہاری بیوی اب میں کون ہوں.. ” وہ شکوہ کرتی بولی..
ایسی بات نہیں ہے مام بس ڈاکٹر کو ہی دکھانا ہے..”روحان کو سیما کی باتیں عجیب سی لگی.. مگر انکے تیور بگڑتے دیکھ بات کو سنبھا لتے ہوئے کہا.. ” سوری مام آپ کو بتانا چاہیے تھا آپ بھی چلیں نا ہمارے ساتھ.. “
نہیں بیٹے تم جاؤ.. ” وہ بھی نرم پڑتی بولی..
مام آپ ناراض تو نہیں ہو گی نا.. ” روحان نے بڑے ہی پیار سے کہا..
نہیں ” بچو جاؤ دیر ہو جائے گی.. “
تو وہ دونوں نکل گئے..
سفینہ نے گہری سانس لی شکر ہے سیما نے کوئی واویلا نہیں کیا..
تمہاری بیٹیاں بھی تمہاری طرح کوئی جادو گرنیاں ہی ہیں جو میرے بیٹوں کو اپنے بس میں کرلیا ہے.. سیما سفینہ کے سامنے بیٹھتی بولی..
زویا سے نادانی ہوئی ہے.. اسے آپکو بتانا چاہئے تھا.. آپ کے بیٹے عزت کرتے ہیں اپنی بیویوں کی یہ اچھی تربیعت کا نتیجہ ہے.. سفینہ نے بھی بڑے تحمل سے جواب دیا..
🌹🌹🌹
شکر ہے ڈاکٹر نے سب کچھ ٹھیک ہی بتایا ہے مگر تمہیں ویکنیس بتائی.. زویا خیال رکھا کرو اپنا..
روحان زویا کیساتھ اس وقت ایک بہت ہی بڑے ریسٹورنٹ میں موجود تھا.. پہلے ڈاکٹر سے مکمل چیک اپ کرایا اور پھر اسے لیے اب ایک خوبصورت سے ریسٹورنٹ میں آیا تھا ڈنر کرنے کے لئے..
روحان کھاتی تو ہوں اب اور کتنا کھاؤں میں اب نہیں کھایا جاتا.. ” وہ روہانسی ہوئی..
ہاں پتا ہے کتنا کھاتی ہو اس موٹو کو دیکھو اور خود کو دیکھو لگتا ہی نہیں کے تم اس سے بڑی ہو.. روحان نے مزید لیکچر جھاڑے..
حان پلیز آپ زری کو موٹو نا بولیں.. صحیح ہے وہ.. زویا نے زری کی سائیڈ لی..
ہاں بھئ اب تو زارون بھی نہیں کہنے دیتا اسے موٹو.. آج میں نے اسکے سامنے کیا بول دیا تو برا منا گیا.. روحان نے ہنستے ہوئے اسے بتایا..
اچھا.. یہ اعزاز بھی تو اسی نے دیا ہے اسے.. زویا نے ہنستے ہوئے کہا..
ہاں چینج ہوگیا ہے زری کے معاملے میں ویسے تمہاری بہن نے اس پہ کچھ کرم نوازی کی ہے یا بیچارہ ابھی تک کنوارہ ہی گھوم رہا ہے..
“روحان” کیسی باتیں کررہے ہیں ہم یہاں اپنی باتیں کرنے آئے ہیں .. زویا نے اس کی معنی خیز گفتگو سے ٹوکا
پھر انہوں خوشگوار موڈ میں کھانا کھایا اور دیر تک وہ لوگ باہر گھومتے رہے..
🌹🌹🌹
زارون بیڈ پہ بیٹھا لیپ ٹاپ سامنے رکھے آفس ورک کررہا تھا مگر دھیان سارا زرتاج پہ تھا.. جو اس سے بے نیاز ڈریسنگ کے سامنے کھڑی اپنی ہاتھوں پہ لوشن لگا رہی تھی ..اور آکر اسکے برابر میں لیٹ گئی.. اور دوسری سائیڈ منہ کرکے لیٹ گئی..
اسکے ایسے نظر انداز کرنے پر زارون کا پارا ہائی ہوا مگر خود پہ کنٹرول کرنے لگا..
آئی بڑی مجھے اگنور کر نے والی.. دل میں کہتا لیپ بند کرکے سائیڈ پہ رکھا اور اور لائٹ آف کرتے اسکے برابر میں لیٹ گیا..
زرتاج نے آنکھیں بند کی ہوئی تھی مگر کچھ ہی دیر میں اسے اپنے بالوں میں زارون کی چلتی ہوئی انگلیاں محسوس ہوئی.. اسی وقت وہ پلٹی..
زارون..” کروٹ لیتے ہی وہ اسکے بے حد قریب آگئی..
بولو جانم” گھمبیر آواز میں سرگوشی کی ایک پل کیلئے زرتاج کا دل بھی ڈوب کر ابھرا تھا..
اس سے پہلے کے وہ کھسکتی زارون اسکی کمر میں ہاتھ ڈال چکا تھا اور اسکے راہ فرار کے تمام راستہ بند کرکےاسے اپنے ساتھ لگا چکا تھا..
زارون چھوڑو مجھے.. وہ آنکھیں دکھاتی بولی..
نو..” اور مزید اسکا گھیرا تنگ کیا.. مدہوشی کے عالم میں وہ اس پہ جھکتا کہ وہ بول پڑی..
زارون میں نے تم سے ٹائم مانگا تھا.. ” اسکی گرفت میں مچلتے بولی..
کونسا ٹائم موبائل دیا تو ہے اس میں ٹائم نہیں دیکھا.. ” اسکو مزید خود میں بھینچتے ہوئے بولا..
زارون پلیز” ملتجی نظروں سے دیکھتی بولی جو اسے بخشنے کے موڈ میں ہرگز نہیں تھا ..
وہ مدھوش سا اسکی باتوں کو نظر انداز کر دیا اور اسکے لرزتے لبوں پہ قفل لگا گیا.. وہ مزاحمت کرتی رہی مگر اسکے لبوں کا جام اپنے اندر انڈیلتا رہا… کچھ دیر بعد اسکے لبوں کو آزادی بخشی مگر اسکی بھیگی آنکھوں کو دیکھ وہ نم پڑ گیا.. “یہ چھوٹی موٹی گستاخیاں تو چلتی رہیں گی جانم باقی آگے تمہاری مرضی.. سوجاؤ ” اسکا سر اپنے کاندھے پہ ٹکا کہ آنکھیں موند گیا..
زرتاج کے دل کی دھڑکنیں اتھل پتھل ہوگئی تھی.. ابھی بھی دل زور و شور سے دھڑک رہا تھا اسکی قربت اسے بھی مہبت کرگئی تھی… اسکے کاندھے پہ سر رکھے آنکھیں بند کی اور اپنا ہاتھ اسکے دل کے مقام پہ رکھ گئی.. زارون کے ہونٹ مسکراہٹ میں ڈھلے تھے آنکھیں وا کئے اسکی طرف دیکھا ..”لگتا ہے پتھر پگھل رہا ہے” سوچتا آنکھیں بند کرلیں..
🌹🌹🌹🌹🌹
صبح زارون نے زرتاج کو یونیورسٹی ڈراپ کیا..
“اچھا تمہیں چھٹی ٹائم ڈرائیور ہی لینے آئے گا.. ” میرا ٹائم نہیں.. زارون نے اسے گاڑی سے نکلتے وقت کہا..
“ٹھیک ہے” کہتی وہ نکل گئی اور زارون زن سے گاڑی بھگا لے گیا..
جیسے ہی یونیورسٹی کے گیٹ تک پہنچتی کسی اسکا راستہ روک لیا..
“زرتاج”
” تم گھٹیا انسان تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے سامنے آنے کی” زرتاج کا تو خون ہی کھول اٹھا تھا اسے اپنے سامنے دیکھ..
“زرتاج پلیز میں بہت شرمندہ ہوں تم سے پلیز مجھے معاف کردو” ارحم اسکی منتیں کرنے لگا تھا..
زرتاج مزید وہاں رکے بغیر یونیورسٹی کے اندر داخل ہوگئی اور بھاگنے والے انداز میں اپنے کلاس میں پہنچی..
اسکی سانسیں اکھڑ گئی تھیں کرسی پہ بیٹھتی اپنی سانسیں ہموار کرنے لگی..
زری کیا ہوا تمہیں” ارم اسکی بگڑی ہوئی حالت دیکھتے بولی..
ارم وہ کمینہ شخص میرے سامنے آیا تھا.. “
” کون وہ ارحم” ارم اسکی بات سمجھتے بولی..
ہاں مگر تم “
” مجھے پتا ہے وہ روز یونی آتا ہے شادی کے اگلے دن سے وہ یونی کے گیٹ کے باہر ہوتا ہے کل بھی تھا مگر زارون کے ہوتے وہ تمہارے سامنے نہیں آیا.. ” ارم نے اسے ساری بات تفصیل سے بتائی..
“اب کیا چاہتا ہے وہ مجھ سے چھوڑ تو چکا ہے.. ” کیوں آگیا سامنے” زرتاج پریشان ہوتی بولی..
بس تم اسے اگنور کرو” ارم نے کہا تو جواباً اسنے سر ہلایا..
اور کلاس میں ٹیچر آگئے تو وہ خاموش ہوگئی..
🌹🌹🌹
ماریہ کتنے دنوں سے گھر میں ہی بند تھی باہر نکلنا تو چھوڑ دیا تھا.. ولیم بھی شادی کر چکا تھا اور اس سے تمام روابط ختم کر چکا تھا..
روحان ملک سے جاچکا تھا.. اپنے آپ کو تنہا اور بے بس تصور کرنے لگی تھی.. وکی نے اسکے ساتھ جو کیا وہ اس کا تصور بھی نہیں کرسکتی تھی.. وہ اسے بلیک میل کرنے لگا تھا..
اور اس لئے اب وہ اپنا موبائل اوف کر چکی تھی تا کہ وہ اسے دوبارہ بلیک میل نہ کرسکے..
🌹🌹🌹
وکی آفس میں بیٹھا تھا ماریہ کے متعلق سوچ رہا تھا..
پھر موبائل سے ماریہ کا نمبر ڈائل کیا جو پھر پاور اوف جا رہا تھا..
نو بے بی نمبر بند کرلینے سے تم مجھ سے بچو گی نہیں.. بہت زہر گھول لیا تم نے روحان کی زندگی میں اب تمہیں مزید موقع نہیں دوں گا صحیح معنوں میں اب تم میرے ہتھے چڑھی ہو اور تمہیں تو میں سبق سکھا کے رہوں گا.. وہ سوچ ہی رہا تھا کہ علینا اس کے آفس میں ناک کر کے آئی..
سر یہ فائلز چیک کرلیں.. اور سائن بھی کردیں..
حجاب میں لپٹا سادہ چہرہ کتنا اٹریکٹ کرتا تھا اسے..
اسکے چہرے کو دیکھتے فائل تھام لی.. اورسائن کرکے فائل اسکے حوالے کردی..
“سر آپ نے فائل تو ریڈ کی نہیں.. ” بنا پڑھے اسنے سائن کردیے تو علینا پوچھ بیٹھی..
“مجھے تم پر پورا بھروسہ ہے علینا. ” اتنا کہنا تھا کہ علینا مسکرائی اور چلی گئی..
تو وکی کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آئی..
” آنے دو روحان کو کرتا ہوں بندوبست تمہارا بھی بہت ٹائم دے لیا تم بھی سمجھ ہی گئی ہوگی کتنا چاہتا ہوں تمہیں.. ” فلحال تو مجھے اس ڈائن کو سیدھا کرنا ہے.. “
آفس ٹائم ختم ہوچکا تھا سب ہی جا رہے تھے.. وکی بھی گاڑی کی چابیاں اٹھاتا آفس سے باہر نکلا.. اور اسکا رخ اب ماریہ کی گھر کی جانب تھا جو سمجھ رہی تھی شاید موبائل بند کر دینے سے اسکی جان بخشی ہوجائے گی..
وکی بھی بند گلی کے راستہ کی طرف چل پڑا تھا جہاں بس اندھیرا ہی اسکا مقدر بننے والا تھا.. مگر وہ اپنے انجام سے بے خبر خود کو آگ کی طرف دھکیل رہا تھا..
