94.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Beparwah) Episode 42

روحان اور عالم صاحب بھی آفس سے آگۓ خوشگوار
ماحول میں کھانا کھایا گیا تھا..
بڑے اپنے کمروں کو چلے گئے.. تھوڑی دیر بعد روحان اور زارون بھی اپنے کمروں میں چلے گئے..
زرتاج ان دونوں کو باتوں میں لگائے بیٹھی تھی.. روحا اور زویا کو ہلنے نہیں دے رہی تھی.. کوئی نا کوئی بات چھیڑ دیتی تھی..
زویا کو روحان کے دو تین میسج بھی آچکے تھے.. کمرے میں آؤ..
مگر زری تھی کہ اسکی باتوں کی تار ہی نہیں ٹوٹ رہی تھی..
زری گیارہ بج گئے ہیں چلو اب سونا بھی ہے”.. زویا نے اسکی بریک نا لگتی دیکھ بولی..
ہاں زری مجھے بھی نیند آرہی ہے ” روحا بھی سستائی سی بولی.. نیند اسے بھی آرہی تھی..
زرتاج کی تو کمرے میں جانے کے نام پہ موت پڑی تھی.. شام کے بعد سے وہ کمرے کی طرف بھٹکی بھی نہیں تھی..
اچھا چلو پھر مجھے تو اور باتیں کرنی تھی”.. وہ بچارا سا منہ بناتی بولی..
وہ ایک ساتھ سیڑیاں چلتی ہوئی اوپر پہنچی تھی زویا اپنے روم میں گھسی جبکہ زرتاج روحا کیساتھ ہی چل پڑی..
بھابھی جی آپکا کمرہ وہ ہے”.. روحا نے زارون کے کمرے کی طرف اشارہ کرتے بولی..
مجھے وہاں نیند نہیں آتی میں اپنے ہی کمرے میں سوؤ گی.. اور ویسے بھی تمہیں اکیلے میں ڈر لگے گا.. پردہ کے پیچھے لگتا ہے کوئی کھڑا ہے.. کوئی تمہیں گھور رہا ہے”.. وہ اسے ڈراتے ہوۓ بولی جبکہ وہ ڈر بھی گئی مگر اسکے سامنے باہمت بنتی بولی..
“چل اؤے چولے نا مار “اسکا بازو پکڑے زارون کے کمرے میں گھسی..
زارون جو کب سے اسکا ہی ویٹ کررہا تھا اسے روحا کیساتھ آتا دیکھ چونک گیا..
“گڈنائٹ بھائی.. اپنی وائف کو سمجھا دیں یہ ہی کمرہ اسکا ہے کتنی بار بتانا پڑے گا اسے.. “کہتی ہی چلی گئی…
.. زارون بیڈ پہ تکیہ کیساتھ ٹیگ لگاۓ موبائل یوز کررہا تھا..
موبائل سائیڈ پہ رکھ کے وہ چلتا ہوا اسکے قریب آیا..
زرتاج ڈریسنگ کے سامنے آتی اپنی جیولری اتارنے لگی..
“زرتاج میں ہوں تمہارے سر کا تاج لہٰذا اب تم اس بات کو جلد از جلد قبول کرلو..”وہ اسکی ٹھوڑی دو انگلیوں سے اونچا کرتے بولا..
زرتاج اچھے قد کاٹھ کی تھی زارون سے ہائٹ بس تھوڑی ہی چھوٹی تھی.. ان دونوں کے چہرے مدمقابل تھے.. زارون نے اسکی کاجل بھری آنکھوں میں جھانکا تھا.. اسکے موٹی جھیل سی آنکھوں میں اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا تھا.. اسے بازو سے کھینچ کر اپنے ساتھ لگا گیا تھا دونوں ہاتھ اسکی کمر کے گرد باندھے تھے.. زرتاج نے اسکے سینے پہ ہاتھ رکھے اسکے اور اپنے گرد فاصلہ بنانا چاہا تھا..
زارون نے اسکے ماتھے پہ اپنی محبت کی پہلی مہر ثبت کی تھی.. پھر دونوں آنکھوں پہ باری باری ہونٹ رکھے مزید نیچے کو جھکتا کہ زرتاج نے اسے زور سے خود سے الگ کیا تھا جبکہ اسکی دل کی دھڑکنوں میں بھی تلاطم برپا ہوا تھا..
“مم مجھے نیند آرہی ہے سونا ہے مجھے.. “
جلدی بیڈ پہ چڑھتی کمبل تان کے دوسری طرف منہ موڑ کر لیٹ گئی اور زور سے آنکھیں میچ لی.. اسکی جلد بازی پہ ہنسی آئی تھی…
“چینج تو کرلیتی” وہ بھی لائٹ آف کرکے دوسری سائیڈ آکر لیٹا تھا..
کپڑے اسے واقعی چبھ رہے تھے..” نہیں کرنے چینج نیند بہت آرہی ہے.. “
….
🥀🥀🥀
زویا کمرے میں آئی تو روم خالی تھا..
یہ کہاں گئے..
باتھ روم سے پانی گرنے کی آوازیں آرہی تھی..
تو بیڈ پہ آکر لیٹ گئی..
ابھی لیٹی ہی تھی کہ روحان نے آکر بولنا شروع کردیا..
“ہاں اب سوجاؤ پہلے بہنوں سے فرصت نہیں مل رہی تھی.. اب نیند آرہی ہے میڈم کو” وہ ناک پھلاتے ہوۓ بیڈ کے قریب کھڑا بولا..
سچی میں نیند آرہی ہے وہ معصومیت سے بولی تھی بیڈ پہ لیٹ تے ہی اسے نیند نے آگھیرا تھا..
وہ اسکے قریب لیٹتا اسے اپنی طرف کھینچتا اپنے ساتھ لگاۓ بچوں کی طرح تھپانے لگا سوجاؤ..
“تھینک یو روحان… “جان بخشی پہ خوش ہوئی تھی..
“بس آج کیلئے کل کوئی بہانا نہیں چلے گا.. ” وہ پیار سے وارن کرتا ہوا بولا اور ہاں میں سر ہلاتی اسکے سینے پہ سر رکھے سوتی بنی اور پیار سے اسکے بال سہلانے لگا..
🌹🌹🌹🌹
ماریہ صوفہ میں منہ دیے روۓ جا رہی تھی وکی اپنے شرٹ کے بٹن بند کررہا تھا..
“میں روحان کو بتاؤ گی کہ تم نے کیاکیا ہے میرے ساتھ.. تم انتہائی گھٹیا انسان ہو بلکہ انسان بھی نہیں ہو سکتے”.. وہ روتے ہوۓ بولی جا رہی تھی..
وکی اس پہ درندگی دکھاتے ہوئے سفاک بنا تھا..
تم بہت ہی باکردار عورت ہو نا کیا تم چیٹ نہیں کررہی روحان کو کیا تمہارا اس ولیم کے ساتھ پھر سے چکر نہیں چل رہا.. میری طرف سے شوق سے بتاؤ روحان کو میں بھی تمہارا کٹھا چٹھا کھول کر رکھ دوں گا اور ساتھ یہ بھی بتاؤں گا تم بھی میرے ساتھ فزیکل ریلیشن میں ہو.. “
وکی کو ماریہ سے نفرت اور غصہ تھا اسکی وجہ روحان نے زویا کو چیٹ کیا اور اتنے سالوں اپنوں سے دور رہا.. وہ اسے سبق سکھانا چاہتا تھا جو آج اسے موقع فراہم ہوگیا..
اب کیا یہاں نحوست پھیلائی ہوئی ہے دفع ہوجاؤ اور دوبارا مجھے نظر نا آنا مجھے.. “
وہ روتی بلکتی چلی گئی تھی وہاں سے..
وہ کرسی پہ بیٹھ گیا ایک طرح سے اسے یہ سب غلط لگا تھا جو اسنے ماریہ کیساتھ کرچکا ہے.. مگر اگلے ہی پل روحان کا سوچتے اسے درست لگا وہ اس ہی لائق تھی جب تک وہ روحان کی زندگی سے نہیں نکلے تب تک روحان پرسکون نہیں ہوسکے گا..اور آج وہ ماریہ کا پتہ روحان کی زندگی سے صاف کرچکا ہے.. پھر لیپ ٹاپ کھول کر آج کی سی سی ٹی وی فوٹیج نکال کر ڈیلیٹ کردی..
🌹🌹🌹🌹🌹
زرتاج کے لئے سب سے مشکل کام تھا زارون کو اٹھانا ناشتہ کیلے زویا کے ساتھ مل کے اسنے ناشتہ بنایا تھا اور اب سیما یعنی اپنی ساس کے حکم کے عین مطابق اسے اٹھانا تھا..
اب وہ بیڈ کے قریب کھڑی اسے آوازیں لگا رہی تھی..
زارون اٹھو”.. زارون.. “
زارون ٹس سے مس نا ہوا..
اب کے زرتاج نے اسکے کاندھے پہ ہاتھ رکھے اسے ہلا نا چاہا تھا کے زارون نے ہاتھ پکڑتے ہی اسے کھینچ لیا اور اس اچانک افتاد پہ اپنا بیلنس برقرار نا رکھ سکی اور زارون پہ جا گری.. زارون نے اسکے فرار کے راستہ روکے اسکے کمر پہ دونوں ہاتھوں کو باندھ لیا..
زارون چھوڑ مجھے یہ کیا بد تمیزی ہے”.. اپنے آپکو چھڑاتی وہ غصہ سے بولی تھی..
“تم مجھ پہ گری ہو تو بدتمیز بھی تم ہوئی نا اگر اتنا ہی پیار آرہا تھا اپنے شوہر پہ تو بتا دیتی..”وہ شوخ نظروں سے اسکا چہرہ دیکھتا ہوا بولا..
میں نہیں گری تم پہ تم نے مجھے گرایا ہے” غصہ سے اسکی ناک سرخ ہوئی تھی..
اب خربوزہ چھری پہ گرے.. یا چھری خربوزے پہ تو کٹتا تو خربوزہ ہی ہے نا..”وہ اسکی ناک دباتا بولا..
اسکی گرفت ڈھیلی پڑتی ہی فٹ سے اٹھی تھی..” تم نے مجھے خربوزہ کہا.. “
ہاہا.. وہ ہنستا ہوا بیڈ سے اٹھا تھا.. ” ایک تو ہر موٹی چیز کو تم خود پہ کیوں لے لیتی ہو.. ” میں نے تمہیں چھری کہا ہے.. ” وہ اسکی بھری بھری گال کھینچتا بولا تھا..
اسے سخت چڑ ہوئی تھی..” مجھے ہاتھ نہیں لگایا کرو تم ٹھرکی..”وہ انگلی دکھاتی وارن کرتی بولی..
شرم کرو شوہر کو ٹھرکی کہہ رہی ہو.. ” یہ تو پیار کا آغاز ہے.. ٹھرکی پن تو ابھی تمہیں دکھایا ہی نہیں میں نے” وہ کہتا ہوا واشروم چلا گیا..
حیا سے اسکی گال لال ہوئی تھی..ہہم پیار اور وہ بھی تم سے.. دل میں شور سا برپا ہوا تھا مگر وہ سنگ دل بنتی اسے دبا گئی..
زارون ٹاول سے بال رگڑتا باہر آیا تو وہ وہاں موجود نہیں تھی.. مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی اسکے چہرے پہ..
پتا نہیں کیوں وہ اسے ہر پل اپنے سامنے دیکھنا چاہتا تھا..
سب ناشتہ کیلئے ٹیبل پہ موجود تھے زویا اور زرتاج ناشتہ لگا رہی تھیں.. زارون نے آکر اپنی نشست سنبھالی تھی.. وہ گہری نظروں سے زرتاج کا معائنہ کررہا تھا..
سکن کلر کامدار فراک پہنے ہلکا سا میک اپ کئے وہ سیدھا اسکے دل میں اتر رہی تھی ..
روحان نے اسکے کہنی ماری تھی.. “یہ کام تو کمرے میں بھی کرسکتا ہے.. ” اسکے کان کے قریب سرگوشی کی تھی روحان نے..
کمرے سے زیادہ باہر انجواۓ کرلیتا ہوں. “زارون نے بھی اسی ٹون میں جواب دیا..
کمرے میں ڈر لگتا ہے.. “روحان نے مذاق اڑایا..
کیا بچیوں کو کام میں لگا دیا ہے نئی نئی شادی ہوئی ہے انکی.. عالم صاحب بولے تھے..
شادی نئی ہے گھر نیا نہیں ہے.. سیما بولی تھی..
زویا اور زری دونوں اپنی کرسی پہ بیٹھی تھیں..
اب یہ دونوں ہی اس گھر کی بہوئیں ہیں تو اب انہیں ہی گھر سنبھالنا ہے تو میں آج سے ہی انہیں زمہ داریاں دے رہی ہوں گھر کی.. سیما ناشتہ کرنے کے بعد بولی تھی..
اتنی جلدی عالم صاحب نے تھے.. سفینہ بس خاموش رہی سیما کا سنجیدہ مزاج دیکھ کر..
آپ جلدی فیصلہ لے سکتے ہیں تو میں کیوں نہیں..
آج ہی انکی میٹھے کی رسم ہوگی شام کو تیاری کرلینا وہ سنجیدہ سے انداز میں کہتی چلی گئی..
چلو جیسے تمہاری ماں کی مرضی بس تم لوگوں کو پتا ہے نا تھوڑا ناراض ہے اور تم دونوں کی ذمہ داری ہے ان دونوں کی ناراضی دور کرو عالم صاحب انہیں پیار سے سمجھاتے ہوئے بولے تھے..
زارون تمہیں چلنا ہے آفس.. روحان کھڑا ہوتا بولا.
ییس باس.. زارون بھی کھڑا ہوتا بولا تھا..
اوکے لیڈیز شام میں اچھا سا مینیوں رکھنا کھانے میں.. زارون زرتاج کو دیکھ کر کہتا آگے بڑھا تھا.. زرتاج نے بھی سر اٹھا کر اسکی جانب دیکھا جس کی آنکھوں میں کچھ اور ہی تھا.. جسے وہ سمجھ نا پائی..
بچیوں اپنے تایا کی باتوں کو پہ عمل بھی کرنا سیما اس وقت غصہ میں ہے خاص طور پہ زری تم انکے نشانے پہ ہو اپنی زبان قابو میں رکھنا اگر کچھ بول بھی دے تو سن لینا.. سفینہ انہیں تلقین کررہی تھی.. جسے وہ دونوں سمجھ رہیں تھیں..
سیما نے آج اپنی بہن کو کال لگائی اس دن کے بعد سے ہمت نا ہوئی تھی اس سے بات کرنے کی..
دوسری بیل پہ کال اٹھا لی گئی..” اسلام وعلیکم
کیسی ہیں باجی آپ.. ” سامنے سے بڑے تحمل سے جواب آیا..
وعلیکم سلام شینا میں ٹھیک ہوں تم سناؤ..
“میں بھی ٹھیک ہوں.. ” ویسے ہی تحمل مزاج سے جواب دیا گیا.. نا کوئی گلہ نا شکوہ جسکا وہ سوچ رہی تھی..
کیا سوچ رہی ہیں باجی آپ.. “
کچھ نہیں میں تم سے شرمندہ ہوں اپنا وعدہ وفا نا کرسکی شائنہ کو اپنی بہو نا بنا سکی.. وہ آبدیدہ ہوئی تھی..
کیسی باتیں کررہی ہیں آپ آپا میں نے ایسا کچھ کہا جو آپ شرمندہ ہوں.. ” اب یہ تو قسمت کے فیصلہ ہیں” اب اس میں یا آپ کیا کر سکتے ہیں جوہوتا ہے وہ بھلے کیلئے ہی ہوتا ہے.. ” وہ انہیں سمجھاتے ہوئے بولی..
شینا یہ تم کیا کہہ رہی ہو.. سیما کو اسکی ایسے جواب کی توقع نہیں تھی..
“بس آپا مجھے اندازہ تھا شائنہ کی عادتوں کا وہ آپ کے گھر ایڈجسٹ نہیں کر پائے گی.. وہ اکلوتی ہے بہت نازوں سے پالا ہے اسے ہم دونوں نے شاید وہ اسطرح سمجھداری کا مظاہرہ نا کرپاۓ جس طرح زرتاج اور زویا ہیں فرمانبردار اور سمجھدار بھی.. “
فیاض نے شائنہ کا رشتہ تہہ کردیا ہے اپنے دوست کے بیٹے کے ساتھ.. سچ پوچھے تو وہ شروع سے ہی طلحہ کو ہی پسند کئے بیٹھے تھے شائنہ کیلئے.. اور انہیں موقع میسر آگیا تھا.. “بس اب آپ اپنا دل برا نا کریں میری طرف سے.. آپ زرتاج کو بہو قبول کرلیں اسی میں ہی آپکا سکون ہے.. “
کہتے ہی کال کٹ کردی..
سیما خاموشی سے سنتی رہی اسے ڈر تھا شینا کو وہ کیا جواب دے گی کیسے سمجھاۓ گی..
زارون کی آنکھوں میں زرتاج کیلے پسندیدگی دیکھ چکی تھی.. اسلیے وہ خود سے بھی اسے تسلیم کرنے کا فیصلہ کر چکی تھی.. اسلیے شینا سے بھی تمام معاملات کلیر کرنا چاہتی تھی..
🥀🥀🥀🥀
شام کو زویا اور زرتاج نے مل کر کھانے ما اہتمام کیا اور الگ الگ کھیر بھی بنائی تھی..
روحا نے انکی ہیلپر کے طور پہ کام کیا..
اچھا بھئی شام ہوگئی ہے تو جاؤ کمرے میں اپنے اور اچھا تیار ہوکر آؤ.. زرتاج کو پھر سے کمرے کے نام پہ موت پڑی تھی وہیں صوفہ پہ ڈھیر ہوگئی جبکہ زویا سیڑیوں کی طرف چل دی..
اب تمہیں الگ سے لکھ کر دینا پڑے گا.. سمجھ نہیں آئی تمہاری ماں نے کیا کہا ہے.. اسے صوفہ پہ بیٹھتا دیکھ سیما کو تپ چڑھی…
وہ تائی امی میں جا رہی تھی بس ٹانگیں تھک گئی.. زرتاج اتنا سا منہ بناتی بولی..
اچھا زویا تو نہیں تھکی اس کنڈیشن میں بھی کھانا بنایا.. سیما نے پھر تیز لہجہ میں کہا جبکہ سفینہ نے اسے آنکھیں دکھائی تو اب اسکے پاس کوئی بہانا نہیں تھا چارو ناچار آٹھ گئی..
افف کیا مصیبت ہے تیار ہوجاؤ تیار ہوجاؤ شادی ہے ہر وقت کی مصیبت اسے سخت الجھن ہورہی تھی ان کپڑوں میں ہر وقت کا بناؤ سنگھار سے عاجز آچکی تھی اب پھر تیار ہونے کا آڈر ملنے پہ سخت بدمزہ تھی..
مہرون کلر کا ہلکا سا کام والا جوڑا اسکی ناک کے نیچے آیا تھا جسے پہنے وہ لائٹ سا میک اپ کر کے اب کانوں میں گولڈ کے جھمکے پہن رہی تھی جس کا اس سے لاک بند نہیں ہو رہا تھا اور غصہ سے خود سے بڑبڑائی جا رہی تھی..
” کیا مصیبت پڑگئ ہے اسے بند کیوں نہیں ہورہا”.. اجلت میں اسے کسی کے کمرے میں آنے کا بھی احساس نا ہوا.. زارون نے شیشہ میں اسکا عکس دیکھا جو اپنے آپ میں ہی الجھ رہی تھی مہروں رنگ میں اسکا دلکش سراپا اپنی جانب متوجہ کررہا تھا اور وہ اسکی طرف کھینچا چلا گیا..
زری ایک دم سے چونکی جب اپنے ہاتھوں پہ کسی اور کے ہاتھوں کا لمس محسوس ہوا.. زارون نے اسکے جھمکے کا لاک بند کردیا.. زرتاج نے فورن سے اپنے ہاتھ کھینچ لئے تھے..
تھینکس” کہتی وہ اس سے دور ہوئی ہوئی جو اسکے بے حد قریب کھڑا تھا..
اس میں تھینکس کی کیا بات یہ تو میرا فرض تھا.. وہ اسکی آنکھوں میں کھویا سا بولا جس میں اسکا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا کاجل سے بھرے نین اسکی خوبصورتی کو مزید اجاگر کر رہے تھے.. لپ اسٹک سے سجے ہونٹ اسے دعوت دے رہے تھے .. وہ اسے بہت دلچسپی دیکھ رہا تھا.. زرتاج اسکی ان نگاہوں سے پزل ہوئی تھی اور جلدی سے صوفہ سے اپنا دوپٹہ اٹھایا..
تو وہ حوش کی دنیا میں واپس آیا..
میرے کپڑے تو نکال لو.. میں زرا فریش ہوجاؤں.. اپنے کف لنکس کھولتا وہ واشروم کی طرف بڑھا اور پھر رک کر بولا باہر مت چلی جانا میرے آنے کا ویٹ کرنا.. وہ کہتا پھر سے واشروم میں بند ہوا..
افف آرڈر تو ایسے دے کے گیا ہے جیسے اسکی نوکر ہوں.. بس اب یہی زندگی رہ گئی میری.. کپڑے نکال دو باہر مت جانا ٹھرکی کہیں کا.. اب الماری کے پٹ کھول کر کٹ سے کھڑی تھی اب یہی سمجھ نہیں آرہا تھا کون سے کپڑے نکالے..
“اب پتا نہیں جناب نے کیا پہننا ہے بتا کر تو گیا نہیں ” اکتا کر بولی تھی.. اتنے زارون بھی شاور لیکر ٹاول سے بال رگڑتا باہر نکلا تھا..
اسے یوں کنفیوز کھڑا دیکھ اسکے پیچھے آن کھڑا ہوا..
“
اتنے سال ہوگئے تمہیں یہاں رہتے مگر ابھی تک یہی نہیں پتا چلا کہ میں نے کیا پہننا ہے..”
“اب میں نے کونسا تم پہ نظر رکھی ہوئی تھی جو مجھے پتا ہو” وہ ویسے ہی کھڑی بولی زارون اسکے عین پیچھے ہی کھڑا تھا ہلنے کی گنجائش ہی نہیں تھی..
“زارون نے مزید فاصلہ کو ختم کرکے اسکی پشت کے ساتھ جا لگا زری کا تو اوپر سانس اور اور نیچے کا رہ گیا تھا جب زارون نے اسکی پشت کو اپنے سینے سے لگائے اسکے پیٹ پہ ہاتھ رکھا تھا.. “تو اب نظر رکھ لو ” اسکے کان کے قریب ہوتے سرگوشی کی تھی اسکی کان کی لو سے بولتے ہوئے ہونٹ مس ہوۓ تھے.. اسکے ٹھنڈے لمس اسکے گال دھک اٹھے تھے..
پھر زارون نے اپنا ہاتھ اسکی بازو سے آہستہ سے پھیرتے ہوئے اسکے ہاتھ تک لیجاتے اسے تھامتے ہوۓ اوپر اٹھایا اور الماری میں ہینگ کیا ہوا سوٹ تک ٹکایا .. وہ اسے بے حد قریب سے دیکھ رہا تھا.. جبکہ وہ اپنی جگہ یہ ساکت کھڑی تھی..
زرتاج نے جلدی سے کپڑے الماری سے نکالتے اسکے اور اپنے بیچ فاصلہ بنایا تھا..
تم.. تمہارے کپڑے.. اسکی سانس اٹکی تھی بڑی مشکل سے الفاظ ادا کئے تھے.. بنا رکے وہاں سے چلی گئی..
زارون اپنی بے خودی پہ خود بھی حیران تھا ..اسنے سوچا نہیں تھا کہ کبھی اسکے ایسے جذبات بھی بیدار ہوں گے.. وہ بھی خاص زرتاج کیلے..
سب اپنی نشست سنبھالے بیٹھے تھے.. تبھی روحان اور زویا بھی سیڑیاں اترتے آ رہے تھے روحان نے زویا کا ہاتھ تھاما ہوا تھا وہ اس سے کچھ کہہ رہا تھا جس پہ زویا مسکراتی شرما رہی تھی.. دونوں ایک ساتھ خوش اور مکمل لگ رہے تھے.. سفینہ نے تو دل سے دعائیں انکی خوشیاں ہمیشہ سلامت رہے..
اور زرتاج کی طرف دیکھ کر اسے عقل آنے کی دعا دی.. جو اکیلی بیٹھی تھی زارون بھی اتنے میں تیزی سے سیڑھیاں اترتا ہوا آکر بیٹھا تو سب نے کھانا شروع کیا..
میز پہ طرح طرح کے لوازمات سے سجا ہوا تھا.. واہ بھئی کھانا تو بہت ہی مزے کا ہے.. عالم صاحب قورمہ کا نوالہ لیتے بولے تھے..
بھئی واقعی یہ بریانی تو بہت مزے کی ہے روحان بھی بولا تھا..
بریانی زری نے بنائی ہے.. روحا نے کہا..
واہ زری تم نے تو کمال کی کک بھی ہو.. روحان نے زرتاج کو دیکھتے کہا..
زویا سے ہی سیکھی ہے.. زرتاج نے مسکراتے کہا..
زارون بس خاموشی سے کھانا کھا رہا تھا.. کھانا واقعی مزے کا تھا..
بھئی میٹھا تو ٹیسٹ کرواؤ.. عالم صاحب کھانا ختم کرتے بولے..
ڈیڈ نو میٹھا.. شوگر ہائی ہوجائے گی زارون ٹوکتا ہوا بولا..
آج کے دن کچھ نہیں ہوتا.. عالم صاحب نے اسے گھور کے کہا..
زرتاج اور زویا دونوں کھیر کا باؤل اٹھا کر لائی فرج سےعالم صاحب نے دونوں کی کھیر ٹیسٹ کی اور خوب تعریف بھی کی اور پھر ہزار ہزار کی کئی نوٹ نکال کر انکی ہتھیلی پہ رکھ دیئے.. دونوں نے مسکراتے قبول کیے..
اور سب کو کھیر ڈال کر پیش کی دونوں نے اپنی ساس کو پیش کی جس نے بھی چکھ کر تعریف کی اور پھر دونوں اپنی نشست پہ واپس آئیں..
کھیر تو بہت میٹھی ہے بلکل تمہاری طرح روحان زویا کے پاس ہونے تعریف کی تو وہ سر جھکا کر مسکرا دی..
زارون نے کھیر کھانے کے بعد زرتاج کی طرف جھک ہلکی آواز سرگوشی کی تھی.. اس میٹھے سے کام نہیں چلے گا مجھے تو آج کچھ اور ہی میٹھا ٹرائی کرنا ہے.. زرتاج نے اسکی بات سمجھتے اسے گھور کے دیکھا..
یہاں نہیں روم میں”.. شرارتی انداز میں کہتے ایک آنکھ” دبائی..
زرتاج نے غصہ سے سرخ ہوتے منہ پھیرا