Beparwah Season 1 By Ayesha Noor Readelle50280 (Beparwah) Episode 19
Rate this Novel
(Beparwah) Episode 19
زارون ان تینوں کو لیۓ شاپنگ مال میں آیا تھا اس کا موڈ سخت خراب تھا۔۔
وہ کبھی ایک شاپ سے تو کبھی دوسری شاپ پہ روحا کچھ پسند ہی نہی آرہا تھا۔۔
اف لڑکیوں مسئلہ کیا ہے تم لوگوں کے ساتھ جو بھی لینا ہے جلدی کرو”۔۔ وہ سب ایک ساتھ چل رہے تھے .. زارون بیزار ہوتا بولا تھا اسی وقت زارون کی نظر سامنے شاپ کے ڈسپلے پہ لگی ڈریس پہ پڑی۔۔ لڑکیوں وہ سامنے والا ڈریس کیسا ہے آئی تھنک زویا پہ بہت سوٹ کرے گا ۔۔
ا”تینوں سوٹ سوٹ کردا ” زارون زویا کے کاندھے سے کاندھا ٹکراتے اسکی طرف جھک کے کے گنگنایا تھا ۔۔زویا منہ نیچے کر کے مسکرائی۔۔
پستہ کلر کا نفیس سا گولڈن کامدار فراک کو دیکھ کر “واؤ امیزنگ آئی وانٹ دز” روحا بے ساختہ بولی تھی اور زویا کا ہاتھ پکڑ کر اس شاپ میں گھس گئی زرتاج وہیں کھڑی تھی۔۔
“کیا ہوا میڈم زرتاج “۔۔ زرتاج کی نظر ساتھ والی شاپ پہ تھی وہ اس شاپ کے آگے کھڑی برینڈڈ ہینڈ بیگ کی کلیکشن دیکھ رہی تھی۔۔اسے ہینڈ بیگ ہی لینا تھا۔۔
زارون بلکل اسکی پشت کے پیچھے کھڑا ہوا اسکے کان میں سرغوشی میں بولا “میڈم زرتاج یہ منہ اور مسور کی دال۔۔”
زرتاج نے غصہ سے ہلکا سا منہ موڑ کر اسے دیکھا تھا۔۔ دونوں کے چہروں میں بس انچ کا فاصلہ تھا اگر وہ زرا سا بھی ہلتی تو اس سے ضرور ٹکرا جاتی۔۔
“ہٹو پیچھے” اسنے تیز لہجہ میں کہا تھا زارون پیچھے ہوا۔۔ زرتاج آگے بڑھی تھی اسنے اس شاپ میں جانے کا ارادہ ترک کردیا تھا ۔۔
وہ ایک دو قدم چلی تھی کہ زارون اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے کھینچتا ہوا اسی شاپ کے اندر لے گیا۔۔
“چھوڑ مجھے نہیں لینا کچھ۔۔ ” وہ اپنا ہاتھ چھڑاتی چڑ کر بولی تھی۔۔
“یار انگیج کا تحفہ سمجھ لو پیمنٹ میں کردوں گا”۔۔ زارون مسکرا کر ارد گرد نگاہ دوڑاتا بولا تھا۔۔
“کوئی ضرورت نہیں مجھے لینا ہوگا نا تو خود لے لوں گی۔۔” وہ غصہ سے ناک پھولاتی بولی۔۔
“میم پلیز لے لیجۓ اچھا سا ہینڈ آپکی فیانسی کتنے پیار سے دلا رہے ہیں۔۔” سیلز گرل بولی جو انکی دروازے کے پاس کھڑی انکی باتیں سن رہی تھی زارون نے انگیج کا نام لیا تھا تو وہ انکی انگیج سجھی تھی۔۔
زرتاج کا لفظ فیانسی پہ ہی منہ کھلا تھا حیرت سے۔۔
زارون کو ہنسی آئی تھی۔۔ مگر وہ اپنی ہنسی کنٹرول کرتا شرارتی انداز میں سیلز گرل سے بولا۔۔ “مس کوئی اچھا سا ہینڈ بیگ دکھائیں میری ہونے والی وائف کیلۓ” ۔۔۔
زارون پہ اسے تپ چڑھی جو کب سے اسے زچ کررہا تھا۔۔
وہ کچھ بولتی کہ سیلز گرل خوبصورت سا برنڈڈ ہینڈ بیگ لئے سامنے آئی۔۔ “میم دز ون از سو نائس فور یو”۔۔
“تھینکس” زارون نے وہ بیگ لیا اور کاؤنٹر سے پیمنٹ کرکے اس کے سامنے آیا چلیں مسز وہ شوخ ہوتا
بولا۔۔اسکا بازو پکڑ کر کاندھے پہ بیگ لٹکا دیا ”واؤ بہت جچ رہا ہے تم پہ ۔۔ برینڈڈ چیز بھی بندے کی شخصیت ہی بدل دیتی ہے”۔۔ زرتاج کو لگا جیسے وہ اسکا مزاق اڑا رہا ہے گیارا ہزار کا ہینڈ بیگ دلا کر۔۔
,”چلیں” وہ اسکا ہاتھ پکڑے سیلز گرل کو ہاتھ ہلاتا شاپ سے باہرنکلا۔۔
“بیوٹیفل کپل” پیچھے سے سیلز گرل نے کہا جو دونوں نے سنا۔۔
جیسے ہی وہ شاپ سے باہر نکلے سامنے شائنہ دونوں ہاتھ باندھے کھڑی تھی اور انہیں گھور رہی تھی۔۔اسے دیکھتے ہی زارون نے فورن سے زرتاج کا ہاتھ چھوڑا۔۔ زرتاج کو بہترین موقع ہاتھ لگا تھا اپنا بدلہ لینے کا ہمم فیانسی اب بتاتی ہوں اسنے دل میں سوچا۔۔
“ہاۓ شائنہ تم” ۔۔ زرتاج ہاتھ ہلایا۔۔
شائنہ نے اسے گھورا تھا مگر بولی کچھ نہیں۔۔وہ پہلے سے ہی ان سب کو دیکھ چکی تھی اور زارون کا زرتاج کا ہاتھ پکڑ کر شاپ میں لے جانا بھی دیکھ چکی تھی اور شاپ کے باہر کھڑی انہیں غصہ سے دیکھ رہی تھی مجھ سے ملنے کا ٹائم نہیں اور اس میڈم کو شاپنگ کروا رہا ہے۔۔۔
“امم شائنہ جیسا تم سوچ رہی ہو ایسا کچھ بھی نہیں ہے تم غلط سمجھ رہی ہو” وہ گھبرانے کی ایکٹنگ کرتی بولی ۔۔۔
“دیکھو ہم سب کیساتھ شاپنگ پہ آۓ ہیں ہم دونوں اکیلے نہیں ہیں وہ دیکھو روحی اور زوئی سامنے والے شاپ پہ ہیں”۔۔وہ سامنے کی شاپ پہ انگلی سے اشارہ کرتی معصومیت سے بولی۔۔
“یہ ہینڈ بیگ بھی زارون نے مجھے زبردستی دلایا تھا میں نہیں لے رہی تھی اوکے تم لوگ انجواۓ کرو میں روحی اور زوئی کے پاس جا رہی ہوں” معصوم سی شکل بناۓ وہ وہاں سے چلی گئی۔۔
زارون ہکا بکا کھڑا زری کی باتیں سن رہا تھا ۔۔ اب شائنہ زارون کو دونوں ہاتھ باندھے دیکھ رہی تھی ۔۔
“اس پاگل کی باتوں پہ دھیان مت دو” زارون بولا تھا۔۔
“آپ کے پاس تو ٹائم ہی نہیں تھا مجھے تو ملنے صاف منع کردیا تھا۔۔ یہاں شاپنگیں کرا رہے ہیں” وہ طنز کرتی بولی۔۔
“افف پتہ نہیں آج کا دن ہی منحوس اب اسے صفائیاں دینی پڑے گی” وہ صرف سوچ سکا۔۔
“آؤ تہیں بھی شاپنگ کروادوں ملکہ آلیا” زارون دونوں ہاتھ آگے راہ دکھاتا تابعداری والے انداز میں بولا۔۔
سامنے پیلر کے پیچھے زرتاج کھڑی نظر آئی جو سر نکال کر زارون کو دیکھ رہی تھی زارون نے اسے دیکھا تو زرتاج نے آنکھ ماری تھی اور انگوٹھا دکھا یا اور غائب ہوگئی۔۔
“میں کیا ہوچھ رہیں ہوں پہلے اسکا جواب دیں ” شائنہ ابھی بھی اسی بات پہ اڑی تھی۔۔
افف زارون نے اپنا ماتھا مسلہ تھا۔۔”کیا کرتا ٹائم بلکل بھی نہیں تھا ان لڑکیوں نے سفارش بہت تگڑی ڈالی تھی کہ مجبورن آنا پڑا انکے ساتھ ورنہ میری نوکری خطرے پڑ گئی تھی۔۔” مجبورن زارون صفائی دینی پڑی اپنی۔۔
نوکری “۔۔ شائنہ حیرت سے بولی۔۔
“جی اپنے ڈیڈ کی نوکری ڈیڈ نے بھیجا ہے مجھے” وہ بچارگی سے بولا۔۔
“تو آپ اپنی مرضی سے کام نہیں کرسکتے ۔۔” شائنہ بولی
“اپنی مرضی کرتا تو تم سے شادی کبھی نا کرتا منگنی پتہ نہیں کن حالاتوں میں کی تم سے ” وہ بس بے بسی سے سوچ سکا بول نہیں سکا۔۔
“آؤ سب کے پاس چلیں ۔۔”
وہ دونوں شائنہ کو دیکھ حیرا۔ن ہوئی تھی مگر کہا کچھ نہیں۔۔
پھر سب ساتھ تھے شائنہ بھی زارون کے ساتھ ساتھ تھی اسکے ساتھ فری ہونے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔
پھر سب نے ساتھ ڈنر کیا اور گھر کو لوٹ گۓ۔۔
🥀🥀🥀🥀
گھر آنے کے بعد زارون فریش ہوکر واش روم سے باہر نکلا ا”فف تھکا دیا ان لڑکیوں نے ایک نئی مصیبت گلے پڑگئی یہ تینوں چڑیلیں کم تھی جو چوتھی بھی ساتھ مل گئی۔۔
پکا دیا وہ خود سے بڑبڑاتا کمرے سے باہر نکل کر کچن میں آیا تھا۔۔ کچن میں زرتاج کافی مگ میں ڈال رہی تھی زارون نے آگے بڑھ کر مگ اٹھا لیا “تھینکس بہت طلب ہو رہی تھی” وہ سیپ لیتا بولا۔۔
“جتنی آج تمہاری ہوئی ہے نا بس شکل دیکھنی والی تھی تمہاری” وہ ہنستی بولی تھی۔۔”ویسےیہ کافی تمہارے لئے ہی تھی۔۔ “
“اچھا تو تم نے کیا بونگی ماری تھی جیسا تم سوچ رہو ویسا نہیں” زارون اسکی نکل اتارتا بولا۔۔
“وہ بدلہ تھا جو تم نے سیلز گرل کے سامنے بولا اور پھر میرا ہاتھ پکڑا ” وہ کمر پہ ہاتھ رکھے مصنوعی غصہ دکھاتی بولی ۔۔
“تو بولنے سے تم میری منگیتر بن گئی” وہ اسکی گال کھینچتا کچن سے باہر نکل گیا۔۔
“بلکل بھی نہیں شکل دیکھی ہے ” وہ چڑ کر بولی۔۔
🥀🥀🥀🥀
“زوئی بھابھی تقریباً آج شاپنگ کمپلیٹ ہو گئی تھوڑی بہت چیزیں ہم پاس والی مارکیٹ سے لے لیں گے ” روحا آج کی گئی شاپنگ کا پھیلاوہ ڈال کر بیٹھی تھی۔۔
“تم تو ایسے میرے لیۓ شاپنگ کر رہی ہو جیسے میں کسی دوسرے سیارے پہ جا ریی ہوں وہاں کچھ ملے گا نہیں”۔۔ زویا سارے کپڑوں اور جوتوں اور ساتھ لی گئی جیولری کو دیکھ کر بولی۔۔
“مل سب جاۓ گا آپ نے لینا کچھ نہیں ” روحا اسکی عادت سے واقف تھی اس لئے وہ یہ سب کر رہی تھی۔۔
“افف لڑکیوں یہ کیا لگتا ہے سارا شاپنگ مال ہی خرید لائی ہو۔۔” زرتاج نے اوپر چھاپا مارا تھا۔۔
“تو تمہیں کیا تم بھی کر لیتی شاپنگ یہ بس ایک پرس ہی لے کر آئی ہو گئی تو ایسے تھی ساتھ جیسے پتا نہیں کیا ” ۔۔۔
“بس بس” زرتاج نے اس کی بریک لگوائی تھی۔۔،
“تم اس چمگادڑ کو جو ساتھ لے کر گئی تھی میری ہر چیز میں تو کیڑے نکال رہا تھا اوپر سے اسکی چھپکلی بھی مل گئی ۔۔” وہ منہ بسورتی بولی۔۔
“شٹ اپ تم کیا ہر وقت میرے اتنے سوہنے ہینڈسم بھائی کو کالے چمگادڑ سے کمپیئر کرتی رہتی ہو سہی کہتے ہیں وہ تمہیں بھینس ۔۔” وہ بھی دوبدو جواب دیتی بولی۔۔
ہااا روحی”۔۔ زرتاج کھڑی ہوئی تھی ہا کو لمبا کھینچتی بولی۔۔
“بس بس کیا ہوگیا تم دونوں کیوں بچوں کی طرح لڑ رہی ہو۔۔” زری تم بیٹھو” زویا اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے بٹھانی لگی
“نہیں بیٹھنا مجھے ” وہ اسکا ہاتھ جھٹکتی باہر نکل گئی۔۔
“روحی یہ کیا کیا تم نے زرتاج سے ایسے بات نہیں کرنی چاہئے تھی ” وہ روحا کوسمجھاتی بولی۔۔
“تو کیسے کروں بات وہ میرے سامنے ہی بھائی کو چمکادڑ بولتی رہتی ہے۔۔ “
“تو تم اسکو ایسے ہرٹ کرو گی۔۔” زویا نے کہا۔۔
“اچھا سمیٹو سب سوؤ اب بہت دیر ہو رہی ہے۔۔”
“اوکے کہتی” روحا سب سامان سمیٹنے لگی ۔۔
تھوڑی دیر بعد روحا کمرے میں آئی تو زرتاج لائٹ اوف کئے منہ تک کمبل اوڑھے لیٹی تھی مطلب صاف تھا کہ وہ ناراض ہے۔۔ روحا بھی اپنے بستر پہ آکر لیٹ گئی۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀
اگلی صبح روحا نے زری کو منا لیا تھا کہاں رہ سکتی تھیں دونوں ایک دوسرے کے بغیر۔۔
دن تیزی سے گزرتے جا رہے تھے زویا کے جانے وقت قریب آتا جا رہا تھا۔۔
بس اب کچھ ہی دن باقی تھے زرتاج کو بھی زویا کے جانے بتا چکی تھی جیسے جیسے جانے کے دن قریب آ رہے تھے زویا کی جان پہ بنتی جا رہی تھی وہ کیسے سامنا کرے گی روحان کا ۔۔
زرتاج کو برا لگا تھا زویا کا جانا اگر وہ اپنا رشتہ بچانا چاہتی تو تو پھر اسنے اعتراض نہیں کیا۔۔
آج پھر زرتاج اور روحا بازار سے کچھ اٹھا لائی زویا کے لئے۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
عالم صاحب اس وقت اپنے کمرے بیٹھے بک پڑھ رہے تھے جب سیما ان کے پاس آکر بیٹھی۔۔
عالم آپ ضد چھوڑ دیں مان لیں روحان کی بات دیکھیں نا زویا کے کیلۓ کتنا اچھا رشتہ آگیا ہے ۔۔ اب تو کوئی
پریشانی نہیں ہونی چاہۓ زویا کے مستقبل کو لیکر۔۔ پلیز مجھے میرے بیٹے سے اور دور مت کریں” وہ ہاتھ جوڑتی روتی ہوئی بولیں عالم صاحب کے سامنے۔۔
عالم صاحب نے کتاب بند کر کے رکھی اور سیما کے جڑے ہاتھ پکڑ لئے سیما تمہیں تمہارا بیٹا بہت جلد ملنے آجاۓ گا۔۔
کیا ” آپ سچ کہہ رہے ہیں” تصدیق کرنا چاہی تھی۔۔
“ہاں میں سچ کہہ رہا ہوں” عالم مسکراتے سر ہلاتے بولے ۔۔
تو کیا آپ طلاق” ۔۔ سیما نے بات ادھوری چھوڑی تھی۔۔
نہیں ۔”۔عالم صاحب نگ نفی میں سر ہلایا۔۔
“تو پھر کھل کر بتائیں کیا کرنے والے ہیں آپ۔۔”
“میں زویا کو آسٹریلیاں بھیج رہا ہوں اسکے شوہر کے پاس “عالم صاحب اطمینان سے بولے۔۔
کیا “۔۔ سیما حیران ہوئی تھی
“ہاں سیما زویا کی تین دن بعد کی فلائیٹ ہی آسٹریلیا کی۔۔ یہ فیصلہ میں اب بچوں پہ چھوڑ رہا ہوں یا تو وہ گھر بسا لے یا پھر الگ ہوجائیں روحان بس ضد پہ اڑا ہوا ہے اور کچھ نہیں زویا جیسی ہمسفر اسے ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گی جب وہ زویا کیساتھ کچھ ٹائم گزارے گا تو شاید وہ اپنی ضد چھوڑ دے” عالم صاحب اپنی بات کہہ کر چپ ہوۓ تھے۔۔
کیا روحان کی مرضی سے زویا جا رہی ہے” سیما نے پوچھا۔۔
نہیں روحان کو اس بارے میں کوئی علم نہیں ۔۔” عالم صاحب بولے۔۔
پھر روحان نا مانا اور اسنے ضد نا چھوڑی تو۔۔” سیما نے پھر پوچھا۔۔
تو وہی ہوگا جو ہونا تھا پھر میں ضد چھوڑ دوں گا ۔۔” سیما خاموش رہی ۔۔
یہ سب اب وقت اور حالات پہ چھوڑ دو سیما خدا سے بس اچھے کی رکھو بچوں کا گھر بس جاۓ۔۔” عالم بولے تو سیما نے محض سر ہلایا۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
وہ تینوں اس وقت زویا کے روم میں تھی۔۔
یہ کیسا ہے زوئی بھابھی بیسٹ نا ضرور ٹرائی کرنا روحا ایک بلیک کلر کی نائٹی اٹھائی کھڑی تھی بازو نام کی کوئی چیز نہیں تھی بلکہ ڈوریوں کے سہارے پہ تھی نا زیادہ لونگ تھی بس گھٹنوں سے نیچے تھی۔۔
“یہ کیا ہے روحی اسکا میں کیا کروں گی” زویا شاک سی دیکھتی بولی تھی۔۔
“یہ ویسٹرن ٹائپ ہے وہاں تو ایسے ہی چلتا ہے سب اس لیۓ لیا۔۔” روحا بولی۔۔
“یہ تم روحان بھائی کو پہن کر دکھانا فدا ہوجائیں گے ” زرتاج جو بیٹھی اپنا موبائل یوز کر رہی تھی مسکراتی بولی اور ساتھ ایک آنکھ بی دبائی۔۔
“ہاں بہت ہوٹ لگو گی روحان بھائی تو رومینٹک ہوجائیں گے اور ہوسکتا میرے پھپھو بننے کے چانس بھی بن جائے۔۔” روحا نے بھی مسکا لگایا۔۔
زویا کا شرم سے چہرہ لال ہوا تھا “تم جتنی ہو نا اتنی رہو زیادہ نا بنو۔۔ ” زویا نے روحا کو شرم دلانی چاہی۔۔
“مجھے خالہ بھی بننا بھئی” زری بھی بولی ۔۔
“چپ کرو اور دور پھینکو اسے” زویا مصنوعی غصہ دکھاتی بولی۔۔
ہاہاہا دونوں نے ایک ساتھ قہقہہ لگایا تھا زویا تو وہاں سے چلی گئی مزید ان میں بیٹھنا محال تھا۔۔
🥀🥀🥀🥀
آج وہ دن آ ہی گیا زویا سب سے مل کر رخصت ہوئی تھی اپنے گھر سے صبح چار بجے کی فلائیٹ تھی آسٹریلیا کی
اور عالم صاحب اسے ائیر پورٹ چھوڑنے گۓ تھے وہ سب سے ملی سواۓ زارون کے وہ سو رہا تھا اور نا ہی اسے بتایا گیا تھا زویا کے جانے کے بارے میں. ۔
وہ دو گھنٹے پہلے نکلے تھے ائیرپورٹ کیلۓ۔۔
سب نے اسے دعاؤں میں الوداع کیا تھا گھر سے۔۔
وہ آنکھوں میں آنسوں لیۓ نکلی تھی گھر سے مگر اسے شاید اور رونا تھا آگے۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀
وہ پلین میں بیٹھ چکی تھی بہت گھبراہٹ ہورہی تھی اسے اور اکیلے سفر کرنےسے ڈر بھی لگ رہا تھا درود شریف کا ورد کرتی رہی جب جہاز نے اڑان بھری تو آنکھیں سختی سے میچی تھی اور ہاتھ کرسی کے ہینڈل پہ زور سے جما دیۓ تھے جب جہاز اسٹیبل ہوا تو اسنے آنکھیں کھولی اسکے ساتھ ایک ماڈرن سی ہی خاتون بیٹھی تھی۔۔وہ ونڈو کے ساتھ بیٹھی تھی باہر کچھ بھی نظر نہیں رہا تھا سواے بادلوں کے اتنا لمبا سفر تھا میگزین اٹھا کر سفحہ الٹ پلٹ کر پھر رکھ دیا ۔۔
اجنبی لوگوں سے کم ہی بات چیت کرتی تھی۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀
فون رنگ ہو رہا تھا۔۔ ڈیڈ کالنگ ۔۔۔ روحان لیپ ٹاپ پہ کچھ ضروری فائلز بنا رہا تھا جب اسکا فون بجا۔۔
ڈیڈ اسکے ہونٹ مسکراہٹ میں ڈھلے تھے کافی عرصہ بعد اسکےڈیڈ نے کال کی اسے۔۔
“اسلام علیکم ڈیڈ۔۔” وہ خوش ہوتے بولا..
اورڈیڈ نےتو جیسے اس کے سر پہ بم پھوڑا۔۔
” ڈیڈ “۔۔ روحان کے منہ سے اور لفظ نکل ہی نہیں سکا۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
