94.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Beparwah) Episode 14

آج منگنی کا دن تھا سب اپنی تیاریوں میں مصروف تھے۔۔
عمار زویا سے بات نہیں کررہا تھا جہاں وہ آتی عمار اٹھ کر چلا جاتا ۔۔
زارون اپنے روم میں تھا جب سیما اس کے کمرے میں کپڑے لیکر آئی
“زارون یہ رہا تمہارا ڈریس جلدی سے تیار ہوجاؤ شاباش۔۔”
“اوکے ماما ہوجاتا ہوں تیار” وہ مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔جبکہ اسکا بلکل بھی موڈ نہیں تھا۔۔
سیما نے پیار سے اسکے سر پہ ہاتھ پھیرا اور ماتھے پہ بوسا دیا اور ڈھیروں دعائیں دیتی کمرے سے چلی گئی۔۔
زارون ایک نظر ڈریس کودیکھا ۔۔چل زارون تیار ہوجا بکرا بننے کیلۓ کہتا وہ واشروم چلا گیا۔۔
“روحی یار کیا کر رہی ہو اتنی دیر لگا دی تم نے واشروم سے نکلنے میں ۔۔۔ہٹو پرے مجھے جانے دو ۔۔”
“روحی تم نے میک اپ کرنا شروع نہیں کیا ابھی تک۔۔” زرتاج واشروم سے نکلتی بولی تھی روحا ویسے آئینہ کے سامبے بیٹھی تھی۔۔
زرتاج نے جلدی سے میک اپ کاسامان نکالا اور روحا کو تیار کرنا شروع کیا۔۔
“روحی یار کیا ہوگیا ایک جیولری ہی تو تھی اس کہ پیچھے اتنا بوتھا سوجھایا ہوا ہے”۔۔ روحا چپ تھی۔۔
“روحی یار بولو بھی کب سے چپ ہو۔۔۔”
“کیا بولوں میں جب میری کوئی سنتا ہی نہیں ۔۔”وہ رو دینے کو تھی۔۔
“زویا بھی روم میں آئی تھی مجھے پتا تھا تم دونوں نے ابھی کچھ نہیں کیا ہوگا۔۔”
“روحی کیا ہوا تمہیں” زویا روحا دیکھتی بولی۔۔
“زویا دیکھو بس جیولری کو لے کر بیٹھ گئی جبکہ اسنے نیو جیولری لی۔۔” زرتاج نے اسے بتایا ۔۔
“بات جیولری کی نہیں بات کچھ اور ہے” زویا روحا دیکھ کر بولی تھی۔۔
روحا نے اسے دیکھا اور پھر نظریں جھکا لیں۔۔
زویا روحا کی نرمی سے ٹھوڑی پکر اسکا چہرہ اوپر اٹھایا تھا ” دیکھو روحا جو جیسا ہو رہا ہے اسے ویسا ہونے دو ۔۔ آپکی ماما نے اپنی خوشی سے یہ رشتہ کیا ہے۔۔ زارون نے بھی آپکی ماما کی خوشی کیلۓ ہاں کی ہے۔۔ آپکو بھی انکی خوشی میں خوش ہونا چاہئے۔۔ جیسے زارون ہے۔۔ اسلۓ ایسے موقع پر سب کی خوشیوں میں خوش ہونا چاہئے۔۔ ” زویا آخر میں کہتی مسکرائی تھی ۔۔
روحا کھڑی ہوتی زویا کے گلے گلی ۔۔
“زوئی بھابھی ایم لکی کہ آپ میری بھابھی۔۔ کتنی اچھی ہیں” اور آخر زویا کو ایک زور کی کس دی تھی۔۔
“بس بس میرا منہ خراب کردیا ۔۔چلو چلو جلدی سے تیار ہو اور مجھے بھی کرو۔۔۔” زویا نے موڈ چینج کیا تھا روحا کا اب وہ خوشی خوشی تیار ہو رہی تھی۔۔
🥀🥀🥀🥀
وہ تینوں تیار ہو کر ایک ساتھ سیڑھیاں اتر رہیں تھیں۔۔
“واہ آج تو لگ رہا ہے آسماں سے پریاں اتر رہیں ہیں۔۔”عمار نے کہا۔۔
عمار اور زارون نیچے حال میں تیار کھڑے تھے جب وہ سیڑھیاں اتر رہیں تھی زارون کی بھی اوپر نظر اٹھی تھی۔۔
روحا نے پنک کلر کی کام والی فراک پہنی تھی ساتھ ہلکا پھلکا پنک میک اپ کئے وہ گڑیا لگ رہی تھی۔۔ ساتھ زویا بلیک کلر کی نیٹ والی سادہ سی فراک پہنی تھی بلیک کلر اسکی گوری رنگت پہ کافی اٹھ رہا تھا لائیٹ سا میک اپ کیۓ وہ بھی کافی پیاری لگ رہی تھی اسے دیکھ کر عمار نے دل پر ہاتھ رکھ ایک آنکھ دبائی تھی۔۔ زویا نے بھی اسے آنکھیں دکھائیں۔۔۔
زرتاج نے ہلکے فیروزی رنگ کی قمیض جس پہ وائیٹ ہی نگوں کا کام تھا اورساتھ وائیٹ پاجامہ پہنے بالوں کو کھلا چھوڑے نفیس سامیک اپ کیۓ اپسرا خوبصورت لگ رہی تھی۔۔
“آج تو یہ نمونہ بھی اچھی لگ رہی ہے” زارون نے میں زرتاج کی تعریف کی تھی۔۔
تینوں آکر ان کے برابر میں کھڑی ہوئیں تھیں۔۔
زارون نے آج آف وائٹ کاٹن کا شلوار قمیض اور اوپر بلیک ویسکوٹ پہنی تھی بالوں کو جیل سے اچھی طرح سیٹ کیے ہوۓ وہ بھی کسی شہزادے کم نہیں لگ رہا تھا اس کے ساتھ کھڑا عمار نے بھی بادامی رنگ کی شلوار قمیض اور ہمرنگ ویسکوٹ پہنے زارون کے ساتھ کھڑا تھا زارون سے اسکا قد تھوڑا چھوٹا تھا ۔۔۔
“چلو شہزادیو تم لوگوں کو میں نے لیکر جانا ہے اور بڑی بزرگوں کو زارون نے” عمار کہتا آگے بڑھا تھا ۔۔ زویا اور روحا آگے تھی زرتاج پیچھے تھی۔۔
زرتاج زارون کے پاس سے گزر رہی تھی کہ “اچھی لگ رہی ہو” زارون نے پاس گزرتے اسکی تعریف کی تھی۔۔
زرتاج رکی تھی اپنی پہلی دفع کی گئی تعریف پہ حیرت کا جھٹکا لگا تھا۔۔
“آپ بھی آج ہیرو لگ رہے ہو بلکل فیروز خان جیسے۔۔ “
“واہ آپ ۔۔” اتنی عزت مگر یہ ایکٹر کے ساتھ ملانا مجھے اچھا نہیں لگا۔”
“۔ہہم آج لگا اتنی تعریف پہ اتنی عزت تو دینی بنتی ہے اور فیروز خان تو میرا فیورٹ ایکٹر ہے” ۔۔
“ہہم فیورٹ ایکٹر ۔۔ ایکٹرتو کوئی ڈھنگ کا پسند کر لیتی۔۔”
زویا عمار کیساتھ چل رہی تھی۔۔
“تم میرے ساتھ فرنٹ سیٹ پہ بیٹھنا ” عمار نے زویا کی طرف جھکتے منہ پہ ہاتھ رکھ کر سرغوشی کے انداز میں کہا۔۔
زویا نے اسکی بات کو سنا ان سنا کیۓ گاڑی کی طرف بڑھی اور پچھلی سیٹ پہ بیٹھ گئی عمار نے کندھے اچکاتےکہا “یہ بھی ٹھیک ہے۔۔” اور اگلی سیٹ پہ بیٹھا۔۔اسکے ساتھ روحا بیٹھ گئی۔۔
“اب زرتاج کہاں مر گئی'” باہر نکل پیچھے گیا۔۔
“زرتاج یہ ٹائم گپے ہانکنے کا نہیں ہے جلدی چلو۔۔” عمار ہیچھے آتا بولا تھا۔۔
“آرہی ہوں” زرتاج کہتی عمار کے پیچھے چل پڑی۔۔
سیما اور عالم بھی باہر آۓ تھے اور شاہانہ بھی باہر آئی تھی چلو بیٹا سیما اور شاہانہ آگے بڑھ گئی۔۔
زارون گاڑی میں بیٹھا تھا جب وہ دونوں آکر گاڑی میں بیٹھی تھیں ۔۔
“ڈیڈ اور چاچی کہاں ہے۔۔ ” زارون نے اکیلے آتے دیکھ پوچھا تھا۔۔
” تمہارے ڈیڈ تو آرہے ہیں مگر سفینہ کمرے سے باہر نہیں ائی ابھی”۔۔ سیما نے کہا تھا۔۔
“اچھا میں دیکھتا ہوں ” زارون گاڑی سے باہر نکلا تھا۔۔
“بھائی صاحب چلیں مجھے بس تھوڑی سی دیر لگ گئی۔۔” سفینہ اپنی چادر درست کرتی ہوئی انکے پاس آکر بولی جو کہی۔ کھوۓ کھڑے تھے ۔۔
“سفینہ مجھے معاف کردو” عالم صاحب بولے تھے۔۔
“بھائی صاحب۔۔ “
“سفینہ میں ابھی تک تمہاری بچی کا گھر نہیں بسا پایا ۔۔ میں سوچ رہا تھا کہ زویا کی روحان سے طلاق دلوا کر۔۔ اسکا نکاح زارون سے کردوں گا زارون سمجھدار ہے وہ اس کے ہر دکھ کا مداوا کرے گا مگر سیما کی ضد کے آگے مجھے گھٹنے ٹیکنے پڑے ۔۔”عالم صاحب افسردگی سے ٹھہر ٹھہر کر اپنی بات مکمل کی تھی۔۔
“بھائی صاحب” سفینہ کی آواز بھرائی تھی۔۔
“ڈیڈ ” زارون نے انکی باتیں سن لیں تھیں اور وہ ان کے پاس آیا تھا۔۔
عالم صاحب نے زارون کو دیکھ کر نظریں چرائی تھی۔۔
“ڈیڈ آپ حکم کریں فیصلہ سنائیں میں آپ کے ساتھ ہوں۔۔”
“چاچی ۔۔”
” چپ کر جاؤ میری بیٹی کوئی کھلونا نہیں ہے جو ایک بھائی سے لیکر دوسرے بھائی کو دے دیا وہ انسان ہے۔۔ بھلے ہی تمہارے بھائی نے زویا کو قبول نا کیا ہو مگر وہ کبھی برداشت نہیں کرے گا اسکی سابقہ بیوی اسکے بھائی کی بیوی بنے۔۔ ” سفینہ بھرائی ہوئی آواز میں بولیں تھیں بولتے بولتے آنسو بہہ نکلے تھے ۔۔
“ایم سوری چاچی جیسا آپ چاہیں گی ویسا ہی ہوگا۔۔” زارون انکے آنسو صاف کرتا بولا تھا۔۔
“مجھے معاف کردو سفینہ میری وجہ سے تمہارا دل دکھا” ۔۔عالم صاحب شرمندگی سے بولے
“بس بھائی صاحب آج تو یہ بات کہہ دی ہے مگر دوبارہ مت کہئے گا۔۔”
“کہاں رہ گۓ تھے آپ لوگ۔۔ ” ان تینوں کو آتا دیکھ سیما بولی تھی۔۔
“کہیں نہیں چلو زارون ” عالم صاحب اور زارون آگے اور سیما شہانہ اور سفینہ پیچھے بیٹھی تھیں زارون نے گاڑی اسٹارٹ کی تھی
🥀🥀🥀🥀
دونوں گاڑیاں حال کے سامنے رکی تھیں۔۔ منگنی کا ارینجمنٹ حال میں کیا تھا۔۔
خاص خاص مہمانوں کو مدعو کیا گیا تھا ۔۔
لڑکی والے پہلے ہی حال میں موجود تھے سب ایک ساتھ اینٹر ہوۓ تھے۔۔
زارون اسٹیج پہ آکر صوفہ پہ بیٹھا تھا اور باقی بڑے ساتھ بیٹھے تھے۔۔
سفینہ اور شہانہ ٹیبل پہ ایک ساتھ بیٹھی تھی جاننی والی عورتیں انہیں آکر مل رہیں تھیں روحا اور زرتاج ایک ساتھ پوری حال میں سیلفیاں لیتی پھر رہی تھی۔۔
سیما اور شینا بھی سب سے مل رہیں تھی دونوں بہنوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں تھا۔۔
زویا سب سے الگ تھلگ بیٹھی تھی اکیلی ٹیبل پہ بس اپنے ناخن کھرچ رہی تھی اپنے دھیان میں بیٹھی تھی۔۔
دور سے زارون کی نظریں اسی پہ تھی اسکی خاموشی اسکی آنکھوں کی ویرانی چہرے کی اداسی صاف نظر آرہی تھیں۔۔
سفینہ تم بیٹی کی رخصتی کب کر رہی ہو۔۔ یہ کوئی تیسری چوتھی خاتون تھی جسکا وہی سوال تھا جو سب کررہے تھے ۔۔
“انشااللہ بہت جلد کریں گے روحان بیٹے اپنا نیا بزنس شروع کیا ہے تو اسلۓ مصروف ہے وہ آ نہیں سکتا”۔۔ شہانا نے جواب دیا تھا
“اچھا اچھا چلو اللہ کامیاب کرے۔۔” وہ خاتون کہتی اٹھ گئی۔۔
“عمار بیٹا میری بات سنو۔۔” شہانا نے پاس سے گزرتے عمار کو بلایا تھا۔۔
“جی ماما۔ ۔ بیٹا زرا زویا کو وہاں سے اٹھاؤ اکیلی بیٹھی اسے کہو جا کر اسٹیج پہ بیٹھے بڑی بہو ہے وہ گھر کی۔۔” شہانا نے عمار سے بولیں تھیں اور وہ ہاں میں سر ہلاتا چلا گیا۔۔
سفینہ بس خاموش بیٹھی تھی ابھی تک اسکا دماغ عالم صاحب کی باتوں پہ اٹکا ہوا تھا اور کچھ لوگوں کی باتوں نے ڈسٹرب کردیا۔۔
“سفینہ ہمت رکھو سب ٹھیک ہوجاۓ گا۔۔” شہانا نے سفینہ کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کہ تسلی دی تھی۔۔ سفینہ نے بس ہاں میں ہی سر ہلایا تھا۔۔
اسی قسم کے سوال سیما سے بھی کچھ عورتیں پوچھ رہیں اسکا بھی وہی جواب تھا جو شہانا کا تھا۔۔
“باجی اس مصیبت سے جان چھڑا لیں اب ۔۔ شینا نے کوفت سے کہا تھا۔۔اشارہ زویا کی طرف تھا..
“کیسے چھڑاؤں میں جان اپنی تمہارے بھائی صاحب چھوڑیں تب نا۔۔”
“چلو چھوڑو اب ہماری بیٹی کو بلاؤ ۔۔”
“جی باجی بس وہ ابھی بلاتی ہوں۔۔”
“ہیلو مس یہاں بیٹھ کر کس کو یاد فرمایا جا رہا ہے” عمار زویا کے پاس بیٹھتا بولا تھا جو گم سم بیٹھی تھی۔۔
“میں نے تم سے کہا تھا آگےبیٹھنا میرے ساتھ پھر تم پیچھے کیوں بیٹھ گئی”۔۔ وہ تیوری چڑھاتے بولا
“تمہاری اسی ٹھرکی کی وجہ سے۔۔” زویا نے اسی کے انداز میں جواب دیا۔۔
“واہ میڈم کیا کہنے ہیں آپ کے ہم آپ کے اداس چہرے پہ مسکراہٹ لانا چاہتے اور آپ نے کیا خطاب دے دیا ہمیں آاہ۔ ” عمار دل پہ ہاتھ رکھ آہ بھری تھی۔۔
“بہت ہی تھرڈ کلاس ایکٹر ہو تم۔۔” زویا نے ہنستے کہا ۔۔
“چلو جی ویسے یہ روحا آج بڑی پیاری لگ رہی ہے میرا دل تم سے ہوتا اس تک جا رہا ہے۔۔ “ہاۓ کوئی تو روک لو” عمار نے روحا کو دیکھتے کہا تھا جو پوز بنا کر تصویریں کھچوا رہی تھی۔۔
“عمار اپنی حد رہو تم۔۔” زویا نے اسے آنکھیں دکھاتے کہا تھا۔۔”روحا کے بارے میں ایسا ویسا کچھ بولا تو اچھا نہیں ہوگا ” زویا دانت پیستے بولی تھی
“ہاہاہا جل گئی۔۔” عمار نے مزید تپایا زویا کو ۔۔
اور زویا وہاں سے اٹھ گئی تھی ۔۔
“وہ زرا اسٹیج پہ چلی جانا اپنے دیور کے پاس ماما نے حکم دیا تھا ” اسے اٹھتا دیکھ عمار نے کہا ۔۔
“تو سیدھی طرح بولتے یوں دماغ کی دہی بنانے کی ضرورت تھی۔۔”
“ضرورت دہی بنانے کی نہیں اور بھی بہت کچھ کرنے کی ہے ابھی تم جاؤ بعد میں بتاؤ گا” عمار نے وہیں کرسی پر بیٹھے کہا تھا۔۔
“افف کتنا پکاتے ہو۔۔” زویا پیر پٹختی سیدھا روحا اور زرتاج کے پاس گئی۔۔ جنکا فوٹوسیشن ختم ہی نہیں ہو رہا تھا۔۔
“زری میری اور زوئی بھابھی کی بھی پک بناؤ۔۔”
روحا زویا کیساتھ اسکے گلے میں بانہیں ڈالے کھڑی ہوگئی۔۔
زویا تھوڑی سی اسمائل بھی کرو۔۔زویا نے ہلکی سی اسمائل کی اور زرتاج نے تبھی کلک کیا تھا۔۔
“واؤ گڈ چلو زوئی بھابھی اب اچھا سا پوز بنائیں میں آپکی پیاری پک بناؤ۔۔”
“روحی مجھے نہیں بنانے پک ” وہ جانے لگی۔۔
“بس ایک پک بس ایک اچھی سی پیاری بھابھی” روحا نے منتوں والے انداز زویا کو کہا تو وہ رک گئی۔۔
“تو زویا کھڑی ہوگئی وہیں”
” یار تمہیں سزا نہیں ہوئی ہے اچھا سا پوز بناؤ پیاری سی اسمائل دو” عمار انکے پاس آکر کھڑا ہوا تھا۔۔
“تو زویا ہلکا سا مسکرائی۔۔” اور روحا نے تبھی کلک کیا۔۔
عمار نفی میں سر ہلاتا وہاں سے چلا گیا۔۔
“چلیں اسٹیج پہ چلتے ہیں دلہن صاحبہ نہیں آئی ابھی تک “روحا بولی۔۔وہ تینوں اسٹیج کی طرف چل دی ۔۔
کچھ دیر بعد شائنہ اپنی سہیلیوں کیساتھ برائڈل روم سے باہر آئی۔۔ زارون صوفہ پہ بیٹھا عمار کے ساتھ باتیں کررہا تھا جب شائنہ اسٹیج کی طرف آرہی تھی۔۔ زارون اسے دیکھ کر کھڑا ہوا تھا۔۔
شائنہ نے آف وائیٹ پیروں تک آتی فراک پہنی تھی بالوں کو کھلا چھوڑ کر آگے کی طرف کرکے کرل کئے ہوۓ تھے اور ان میں بیٹس لگاۓ ہوۓ تھے نیٹ کا دوپٹہ تھوڑا سا سر پہ تھا باقی سارا پیچھے تھا گلے میں نازک سا ڈائمنڈ سیٹ پہنا ہوا تھا کانوں میں چھوٹے سےائرنگز پہنے تھے نفاست کےساتھ کیا گیا میک اپ میں وہ کوئی آسمان سے اتری پری لگ رہی تھی ۔۔
سہج سہج کر چلتی وہ زارون کے پاس آکھڑی ہوئی۔۔نظریں جھکی ہوئی تھی۔۔۔۔
“ماشااللہ بہت پیاری لگ رہی ہے میری بہو” سیما نے شائنہ کو گلے لگایا اور اسکی بلائیں لی تھی سب گھر کے افراد اسٹیج پہ موجود تھے۔۔
زارون نے ابھی تک ایک غلط نگاہ بھی شائنہ پہ نہیں ڈالی تھی۔۔
“زویا بیٹا آگے آؤ” سیما نے پیار سے زویا کو بلایا تھا جو سب سے پیچھے کھڑی تھی۔۔عالم صاحب نے آنکھوں سے سیما کو اشارہ کیا تھا زویا کی طرف انہوں نے گھر بھی انہیں سختی سے تاکید کی تھی کہ زویا کو وہ آگے رکھیں گی منگنی میں۔۔
زویا سیما کے پاس آکر کھڑی ہوئی تھی۔۔ زویا یہ انگوٹھی زارون کو پکڑاؤ۔۔ عمار زارون کے ساتھ کھڑا تھا وہ تھوڑا سائیڈ پہ کھڑا ہوا تو زویا زارون کیساتھ کھڑی اور ہاتھ میں پکڑی رنگ اسکی طرف بڑھائی زارون اسے ہی دیکھ رہا تھا زویا نے مسکراتے آنکھوں سے اشارہ کیا تھا کہ یہ رنگ پہناۓ زارون بھی ہلکا سا مسکرایا اور اسکے ہاتھ سے رنگ پکڑ کر شائنہ کی طرف مڑا جو نظریں جھکاۓ شرمائی شرمائی سی کھڑی تھی۔۔
شائنہ نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا زارون نے اس کا تھام کو دوسرے ہاتھ سے رنگ پہنادی اور ہاتھ چھوڑ دیا پھر شائنہ نے زارون کو رنگ پہنائی اور سب نے تالیاں بجائی تھی ۔۔
زویا کے ساتھ عمار کھڑا تھا اسنے شرارت سے اسکے کان کے پاس تالی بجائی زویا نے اسے غصہ سے گھورا تو وہ اپنی بتیسی دکھانے لگا سب کی موجودگی اسنے اسے کچھ نہیں کہا تھا ۔۔
۔۔۔
پھر فوٹو سیشن شروع ہوا تھا سب انکے ساتھ بیٹھ کر پکس بنائی تھی
زویا زارون کیساتھ بیٹھی تھی “ماشااللہ شائنہ بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔”
“تھینک یو۔۔” شائنہ نے ہلکی آواز میں کہا۔۔
زویا کی پاس والی کرسی پہ عمار آکر بیٹھ گیا۔۔
“میرا دوست بھی کم نہیں لگ رہا ہے۔۔ “
“ہاں واقعی زارون بھی بہت ہنیڈسم لگ رہا ہے ماشااللہ ۔۔ “
زویا مسکراتی بولی۔۔
“تم بھی بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔” زارون نے زویا کی طرف دیکھتے تعریف کی شائنہ کو اچھا نہیں لگا تھا وہ کب سے اسکے ساتھ بیٹھی ہوئی ہے اور اسنے ابھی ایک لفظ بھی اسکے لۓ نہیں کہا اور زویا کی کیسے تعریف کررہا ہے۔۔
“بھائی صاحب ادھر تعریف کرنے والے بہت ہیں آپ اپنی تعریوفوں کو رخ اپنی منگیتر کی طرف موڑیں ۔۔ ” عمار نے شائنہ کی طرف اشارہ کرکے کہا تھا۔۔ اور زویا کو دیکھ ایک آنکھ ونک کی تھی۔۔ زویا اٹھ گئی وہاں سے۔۔۔۔
شائنہ نے مسکرا کر زارون کو دیکھا تھا اسی وقت زارون نے شائنہ کو دیکھا تو وہ بھی ہلکا سا مسکرا دیا۔۔
“اہہم ” زرتاج گلا صاف کرتی زارون کیساتھ بیٹھی تھی
“آرام سے بیٹھو اللہ کی بندی صوفے کےہی ترا نکال دئیے۔۔ ” عمار اسکی صحت پہ چوٹ کرتا بولا تھا۔۔ زرتاج نے اسے آنکھیں دکھائی دیں تھیں۔۔۔ تو وہ دانتوں کی نمائش کرتا اٹھ گیا۔۔
“مبارک ہو ڈئیر کزن” وہ ہنستی اسے کہنی مار کر بولی
“ماشااللہ تمہاری جوڑی بہت کمال لگ رہی ہے”۔۔اس بولتے ہاتھ کا بھی استعمال کیا انگلی اور انگوٹھا ملا کر کہا۔۔
“انشااللہ تم پر بھی وقت آۓ گا پھر تو تمہیں ایسی مبارک باد دوں گا یاد رکھو گی ڈئیر کزن ۔۔” زارون کہتے اسکے کان کاایررنگز کھینچا تھا۔۔
سسسسس” زرتاج کی سسکی نکلی تھی۔۔ اسے درد ہوا تھا۔۔
زارون کو احساس ہوا تو فورن سے اسکی طرف جھکا اسکا کان دیکھا جو لال ہوچکا تھا “پیچھے ہٹو جنگلی انسان ” زرتاج اپنا کان پکڑتی وہاں سے اٹھ گئی تھی۔۔
شائنہ کو ان دونوں کی حرکتیں عجیب سی لگی تھی۔۔ ابھی تک ان دونوں میں کوئی بات نہہں ہوئی تھی ۔۔ زارون تو آتے جاتے سب سے نارمل بات کررہا تھا مگر ابھی تک اس سے کوئی بات نہیں کی تھی۔۔
ا
پھر سب نے فیملی فوٹو بنائی تھی۔۔جس میں گھر کے تمام افراد موجود تھے۔۔
منگنی کا فنکشن اپنے اختتام کو پہنچا تھا ۔۔
رات کے بارا بج گئے پتا ہی نہیں چلا تھا۔۔ سب اپنے اپنے کمرے میں بند ہوۓ تھے۔۔
زارون کپڑے چینج کر کے بیڈ پہ لیٹا تھا ۔۔اسکا دماغ ابھی بھی عالم صاحب کی ان باتوں پہ اٹکا ہوا تھا۔۔
زویا اسکے بھائی کی بیوی ہے اور اسنے ہمیشہ سے اسے بہن جیسی ہی عزت دی تھی۔۔ اگر روحان اسے نہیں اپناتا تو وہ تو اپنا سکتا ہے مگر۔۔ مگر زویا کبھی نہیں مانے گی چاچی شاید ٹھیک کہہ رہیں ہے۔۔ مجھے زویا کو وہی عزت دینی چاہئے جو میں اسے دے رہا ہوں ۔۔