Beparwah Season 1 By Ayesha Noor Readelle50280 (Beparwah) Episode 17
Rate this Novel
(Beparwah) Episode 17
ماریہ جب روحان کے آفس سے نکلی تو بے حد خوش تھی چھہ مہینے کا کیا ہے وہ تو بس ایسے ہی گزر جائیں گے کاؤنٹر کے پاس سے گزرہی تھی تو کاؤنٹر پہ کھڑی لڑکی نے اسے بہت ناگواری سے دیکھا اسنے۔۔ ماریہ سے بہت چڑ تھی اسے۔۔
“پتا نہیں روحان کو کب عقل آۓ گی وکی اسکے پاس کھڑا بولا تھا۔۔
روحان سر کی یہ گرل فرینڈ مجھے بلکل بھی نہیں پسند” علینا بھی بولی تھی۔۔ وکی نے اسکی طرف دیکھا حجاب میں لپٹی وہ عام سے نین نقوش کی لڑکی اس کے دل میں اترتی تھی ۔۔ کچھ مہینے پہلے اسے روحان نے اپنی آفس میں جاب دی تھی وہ تیس سالہ بیوہ آٹھ سال کے بچے کی ماں تھی حالات نے اسے رزق کمانے پہ مجبور کردیا تھا نوکری کیلۓ در در دھکے کھاۓ تھے کبھی کسی ریسٹورینٹ تو کبھی کسی مال میں روحان نے اسے نے بھی جگہ جگہ جاب کرتے دیکھا پاکستانی ہونے کی حیثیت سے اس سے بات چیت بھی کرلیتا تھا جب اسکی مجبوریوں کا پتا چلا تو اسے اپنے آفس میں جاب دے دی اسکا احسان سمجھ کر وہ ماریہ کے خلاف کچھ نہیں بول رہی تھی کہیں روحان کو برا نا لگ جاۓ۔۔
بس روحان کی عقل کو سلام ورنہ بیوی کو چھوڑ کر اس چڑیل کا انتخاب کیا ہے”۔۔
بیوی روحان سر کی۔۔انہوں نے کبھی بتایا نہیں۔۔ کہاں ہے وہ اسے سر کے افئیر کا پتہ ہے۔۔” علینا کۓ سارے سوالات ایک ساتھ کر ڈالے۔۔
بیوی ہے مگر یہاں نہیں ہے”۔۔ وکی بس اتنا ہی بولا تھا آج اسنے اپنے دوست کے راز سے پردہ اٹھا دیا جس کا اس نے راز رکھنے کا وعدہ کیا ہوا تھا۔۔
یہاں نہیں ہے ۔۔ کتنی بے پرواہ بیوی ہے سر نے پھر ایسا ہونا ہی تھا۔۔ کتنے بچے ہیں سر کے” ۔۔علینہ نے پھر سوال پہ سوال داغے وکی بچوں پہ نام تو وکی دماغ گھوما۔۔
اللہ کی بندی صرف بیوی مطلب صرف منکوحہ ہے ابھی رخصتی نہیں کروائی۔۔ پاکستان میں اسے چھوڑ کر ہی تو یہاں بیٹھا ورنہ کب کا جا چکا ہوتا۔۔”
اس سے پہلے کہ وہ اور سوالوں سے دماغ گھماۓ سب تفصیل ایک سانس میں بتائی۔۔
اوہ اچھا سر ایک بات بتانی تھی وہ جھجھکتی بولی تھی۔۔
“
ہاں بولو” اسے سیریس ہوتا دیکھ وکی بھی اسکی بات سننے کیلۓ جلدی سے بولا۔
یہاں نہیں کہیں اور بیٹھ کر تصلی سے بات کرنی ہے مجھےلگتا ہے مجھے آپکو اب سچ بتا دینا چاہئے”۔۔
اوکے پھر شام کو کام ختم ہونے کے بعد ملتے ہیں” وکی کو بھی اسکی بات سننے کا تجسس ہوا تھا۔۔
آفس ٹائم ختم ہونے کے بعد وہ دونوں ریسٹورینٹ میں بیٹھےتھے۔۔
علینا ابھی بھی تزبزب میں تھی کہ کہیں وہ کوئی غلطی تو نہیں کر رہی مگر اسے اس راز سے پردہ اٹھانا بھی ضروری تھا۔۔
مس علینا پلیز اب بتا بھی دیں” وکی اسے کب سے خاموش بیٹھا دیکھ بولا تھا۔۔
وہ جہاں میں رہتی ہوں بلکل ہمارے فلیٹ کے سامنے والے دو تین فلیٹ چھوڑ کر ولیم نامی لڑکے کا فیلٹ ہے ۔۔”ولیم ماریہ کا بواۓ فرنڈ ہے” ۔۔
ہاں وہ تو مجھے پتا ہے روحان سے پہلے وہ ولیم کے ساتھ تھی اس بات کو روحان کو بھی پتا ہے” علینا کی اس بات پہ وکی نے جواب دیا۔۔
نہیں ۔۔وہ اسکی ایکس تھی مگر” ۔۔علینا کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کیسے سمجھاۓ۔۔
مگر کیا علینا کیا کہنا چاہ رہی ہو”۔۔
“
میں پچھلے آٹھ سال سے وہاں رہ رہی ہوں میں حجاب میں باہر آتی جاتی ہوں اس لئے ماریہ مجھے نہیں جانتی پچھلے کئی سالوں سے ماریہ اس کے فلیٹ میں آتی جاتی تھی کئی کئی دن وہ وہاں رہتی تھی اس ولیم کے ساتھ۔۔ مگر اب جب سے انہیں روحان سر کے ساتھ دیکھا ہے مجھے اچھا نہیں لگ رہا وہ ایک کریکٹر لیس لڑکی ہے”۔۔
ہاں یار پتا ہے مجھے اسکا روحان کے لئے اس لڑکے سے بریک اپ کر لیا اور الزام بھی ولیم پہ لگا دیا اسنے چیٹ کیا ہے”۔۔وکی بھی اسکے بات کی تائید کرتے بولا
مگر وہ روحان سر کو بھی چیٹ کر رہی ہے”۔۔علینا نے ایک نیا انکشاف کیا تھا۔۔
کیا مطلب” وکی چونکا۔۔
مطلب یہ کہ ماریہ ابھی بھی اس ولیم کے ساتھ رابطہ میں ہے ۔۔میں نے اسے کئی بار ولیم کیساتھ دیکھا ہے ۔۔
وہ روحان سر کو چیٹ کر رہی ہے”۔۔علینا نے جیسے اس کے سر پہ بم پھوڑا تھا۔۔
واٹ یہ لڑکی اتنا گری ہوئی ہے۔۔علینا پلیز کچھ کرنا پڑے گا روحان کو اس سے بچانا ہے”۔۔وکی ہریشان ہوتا بولا تھا۔۔
ییس سر ایک حل ہے میرے پاس “۔۔۔علینا نے اسے سارا پلین بتایا اسے کیا کرنا ہے۔۔
واؤ علینا یو آر ٹو گڈ مجھے کسی بھی طرح یہ کام کرنا ہے اوکے” ۔۔
وکی مسکراتا ہوا بولا.. “یہ کام کسی بھی طرح منطقی انجام تک پہنچا نا ہے”
🥀🥀🥀🥀🥀
رات کو کھانے کے بعد زارون ٹیوی لاؤنج میں بیٹھا ٹی وی پہ سپورٹس چینل دیکھ رہا تھا جو اسکا فیورٹ تھا۔۔ جب اسکا موبائیل بجا بنا دیکھے وہ کان سے لگا گیا ہیلو ۔۔
کیسے ہو” نسوانی آواز سنائی دی تھی۔۔
فون کان سے ہٹا کر نمبر دیکھا اننون نمبر تھا۔۔
جی کون سوری میں نے پہچانا نہیں ۔۔
ہہم پہچانے گے بھی کیسے آپ نے بات کرنے کی زحمت بھی نہیں کی ” شیریں سی نسوانی آواز اسے کنفیوز کررہی تھی کہیں کوئی یونیورسٹی والی تو نہیں وہ خاموش سا اپنی سوچو کے گھوڑے دوڑا رہا تھا۔۔
ہیلو۔۔” جواب نا پاکر پھر سے وہ نسوانی آواز گونجی تھی۔۔
سوری آپ خود ہی بتا دیں کون ہے اور کس سے بات کرنےہے” وہ متجسس سا بولا
سامنے والے نے بھی مزید اسکا امتحان نہیں لیا۔۔
میں شائنہ” ۔۔وہ بس اتنا ہی کہا اور خاموش ہوگئی
میں شائنہ ۔۔ وہ بھی بڑبڑایا جھٹ سے شائنہ کا خیال آیا
بھول گۓ بس اتنی جلدی ابھی ہماری انگیج کو دن ہی کتنے ہوۓ ہیں” ۔۔وہ شکوہ کرتی بولی۔۔
زارون واقعی انگلی پہ دن گننے لگا اسے سچ میں نہیں یاد تھا کتنے دن ہوۓ سات نہیں آٹھ منہ ہی منہ بڑبڑیا۔۔
جی بس وہ آفس میں کام بہت ہے مصروفیات بہت ہیں بس خیال ہی نہیں آیا ایسا کوئی”۔۔
کیا ہم کہیں مل بیٹھ کر بات نہیں کرسکتے” شائنہ نے پھر میٹھی سے آواز میں پوچھا۔۔
نہیں” ۔۔اسکے منہ سے اچانک نکلا” نہیں میرا مطلب ہاں کیوں نہیں بس زرا آفس سے فری ہوجاؤ ں پھر انشااللہ ضرور۔۔” پہلے تو وہ گڑبڑا گیا پھر سنبھل کر بولا۔۔
ہہم کوشش کیجیۓ گا جلدی فری ہونے کی۔۔”
اوکے میں بعد میں بات کروں گا آپ سے” کہتے کال کٹ کر دی۔۔
زویا اسکے ساتھ آکر بیٹھی تھی بہت دن سے اس سے بات کرنا چاہ رہی تھی اسکے سامنے آ کھڑی ہوئی تھی۔۔ فورن سے فون کاٹ کر اس کی طرف متوجہ ہوا ۔۔
کیا بات ہے زوئی” زارون کو پریشان سی لگی تھی۔۔
زارون پلیز میری ہیلپ کرو ” اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کرے عالم صاحب سے وہ بات نہیں کر سکتی تھی۔۔
ہاں بولو کیا ہیلپ کر سکتا ہوں میں تمہاری۔۔”
زارون تایا ابو کیا کرنے والے ہیں “۔۔ وہ پریشان سی اسکے برابر بیٹھی بولی تھی۔۔
وہی جس میں تمہاری بھلائی ہے”۔۔وہ تحمل سے بولا۔۔
پہیلیاں مت بجھاؤ صاف صاف کہو”۔۔۔ وہ اپنے دوپٹہ کو کونا مڑورتے بے چینی سے بولی تھی
ڈیورس کے پیپرز بننے کیلۓ دے دئیے ہیں “۔۔
“
ڈیورس کس کی” وہ سمجھتی بھی انجان بنتی بولی ۔۔
تمہاری اور روحان کی “وہ بھی دکھی ہوتا بولا۔۔
زارون پ۔۔پلیز ایسا مت کرو” آنسوں ٹپ ٹپ گرنے لگے تھے۔۔
پلیز زوئی کس کیلۓ رو رہی ہو جس کو تمہاری پرواہ تک نہیں ہے”۔۔ زرتاج اس کے سر پہ کھڑی بول رہی تھی۔۔
سرخ آنکھوں سے زرتاج کی طرف سر اٹھا کر دیکھا تھا زویا نے۔۔
زرتاج کو اسکی بے بسی ہہ ترس آیا تھا وہ کر بھی کیا سکتی تھی اسکے لۓ۔۔
زوئی پلیز ایسے مت کرو” وہ اسکے پاس بیٹھ کر اسکا چہرہ تھامتی بولی۔۔
زارون اٹھ کھڑا ہوا تھا اس سے زویا کے آنسوں برداشت نہیں ہو رہے تھے۔۔
پلیز زوئی سمجھنےکی کوشش کرو شادی اس سے نہیں کرنی چاۂے جسے تم چاہو ۔۔شادی اس سے کرنی چاہئے جو تمہیں چاہے ایسے روحان بھائی کے پیچھے اپنی آنے والی زندگی مت برباد کرو” زرتاج اسے سمجھاتی بولی تھی۔۔
مگر وہ اس دل کا کیا کرے جو دھڑکتا ہی اسکے نام لیکر تھا۔۔ اس لئے اسے بنا جواب دئے وہاں سے اٹھ کر چلی گئی۔۔
زرتاج اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی تھی کیا کرے اس لڑکی کا۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀
طلاق کے پیپرز عالم صاحب کے ہاتھ میں تھے انکے دل کو کچھ ہوا تھا انکے ہاتھ کانپنے لگے تھے ۔۔
وہ اس وقت اپنے آفس میں بیٹھے تھے تب انہیں انکا فیملی وکیل طلاق کے پیپرز دے کر گیا تھا۔۔
زارون جو انکےسامنے ہاتھ باندھےکھڑا تھا بھاگ کر انکے پاس آیا تھا پانی کا گلاس انکے منہ کے ساتھ لگایا تھا۔۔
انہوں دو گھونٹ پئے اور گلاس پیچھے ہٹا دیا آنکھیں نم ہوئیں تھیں انکی۔۔
نہیں میں ایسا نہیں کر سکتا میں زویا اور روحان کی طلاق نہیں کرواؤں گا”۔۔ نہیں عالم صاحب جزباتی ہوتے بولے تھے
ڈیڈ وی ہیو نو چوائس اینڈ اینی آفشن۔۔ زارون بولا تھا۔۔
نہیں زویا میری بھائی کی پہلی خوشی ہے میں اسے خود سے الگ نہیں کروں گا”۔۔
میں اپنے باپ کو کیا منہ دکھاؤں گا وہ اسے میرے حوالے کرکے گۓ تھے” بھیگے لہجہ میں بولے تھے۔۔
روحان کو زویا کو قبول کرنا ہوگا ورنہ وہ میرا بیٹا نہیں” آخری بات پہ وہ سخت ہوتے بولے تھے
ڈیڈ ہم روحان کو فورس نہیں کر سکتے مت کریں اسے مجبور نتیجا بہت برا ہوگا زارون وارن کرتے ہوۓ بولا۔۔
زارون نفی میں سر ہلاتا انکے آفس سے نکلا تھا۔۔
ڈائیورس پیپر انکے سامنے ٹیبل پہ پڑے تھے۔۔
عالم صاحب اپنا سر ہاتھوں میں گرا لیا تھا انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کریں تب ہی انکا فون بجا تھا ۔۔ نمبر انکی سمجھ میں نہیں آیا تھا باہر کا تھا ۔۔
ییس”۔۔ فون ریسیو کرتے بولے تھے۔۔
کیا آپ عالم یوسف ملک ہیں ہاں میں ہی ہوں آپ کون” ۔۔سامنے کنفرم کرنے کیلۓ پوچھا گیا تھا۔۔
میں جو کوئی بھی ہوں آپکا خیر خواہ ہوں میری بات دھیان سے سنیۓ گا “۔۔ سامنے والے نے اپنا مدعا بیان کیا تھا۔۔
اچھا کیا تمہیں یقین ہے ایسا کرنے سے سب ٹھیک ہوجاۓ گا پھر”۔۔عالم صاحب اس شخص کی پوری بات سن کر بولے تھے۔۔
یقین تو نہیں امید ضرور ہے امید پہ دنیا قائم ہے”۔۔اس شخص نے امید سے کہا کہ اسکی بات مان لی جاۓ گی۔۔
یہ کام رسکی ہے”۔۔عالم صاحب پھر بولے۔۔
ہمارے پاس سیکنڈ آفشن نہیں ہے” اس شخص نے پھر کہا تھا۔۔
ہاں شاید تم ٹھیک کہہ رہے یہ آخری آفشن ہے میرے پاس”۔۔
مشورے کا شکریہ “۔۔ اور فون کٹ گیا تھا
عالم صاحب کو اس شخص نے سوچ میں ڈال دیا تھا سوچ بچار کے بعد انہوں فیصلہ کرلیا تھا اب انہیں کیا کرنا تھا اور اپنی سوچ کو پائہ تکمیل تک پہنچانا ہے۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀
روحا اس وقت سیما کے کمرے میں تھی ۔۔
تمہیں کیا ہوا کیوں منہ لٹکا کر گھوم رہی ہو سیما روحا سے بولی تھی۔۔
آپکو نہیں پتا مام ویسے آپ تو خوش ہی ہوں گی ڈیڈ طلاق کروا رہے ہیں زویا بھائی کی”۔۔ روحا افسردگی سے بولی تھی۔۔
تم دونوں بہن بھائی تو چمچے ہو اس زویا کے” سیما کو غصہ آیا تھا روحا پہ۔۔
نہیں مام آپ ہمیشہ سے غلط ہی سوچتی آئیں ہیں زویا اور چاچی کے بارے”۔۔ روحا کو بھی غصہ آیا تھا اپنی ماں پہ مگر پھر بھی عزت سے بات کر رہی تھیں ۔۔
اب تم مجھے سکھاؤ گی مجھے کیسے سوچنا ہے” سیما آواز تیز ہوئی تھی۔۔
اچھا ہی ہے مام ویسے زویا کی جان ہی چھوٹ جاۓ اس گھر سے”۔۔روحا افسوس سے بولی تھی۔۔
کیا کہنا چاہتی ہو تم میں اسکی دشمن ہوں نا اسکی وجہ سے میرا بیٹا مجھ سے دور ہے پانچ سال ہونے والے ہیں میں نے اپنے بیٹے کا چہرہ تک نہیں دیکھا اگر اس طرح مجھے میرے بیٹے کو دیکھنا نصیب ہوجاۓ۔”۔
سیما کا لہجہ بھرا گیا تھا
مام آپکا بیٹا میرا بھی بھائی ہے مجھے بھی ان سے بہت پیار ہے۔۔ مگر آپکو زویا جیسی بہو نہیں ملے گی پورا گھر انہوں نے سنبھالا ہوا آپکا رویہ برا سہی مگر آپکا پھر بھی خیال رکھتی ہے آپکی میڈیسنز آپکو ٹائم سے دیتی ہے آپکو خود نہیں پتا کونسے وقت کونسی دوا لینی ہے۔۔ شائنہ سے تو یہ امید نہیں رکھ سکتی آپ کہ وہ آپکا ایسا خیال رکھیے گی یا ہمارے ساتھ بھی رہے یا نا رہے۔۔ اور روحان بھائی باہر والی کو پسند کئے بیٹھے ہیں وہ تو یہاں بھی نا آۓ۔۔
اب آپ دور نہیں ہیں اپنے بیٹے سے کیونکہ وہ کبھی نا کبھی آپ کے پاس ضرور لوٹیں گے مگر ۔۔ تب جب وہ آپ سے ہمیشہ کیلۓ دور ہوجائیں گے جب وہ اپنا الگ گھر بسا لیں گے زویا جیسی دوسری بہو آپ نہیں ڈھونڈ سکتی اسکی اچھائیوں کا اعتراف آپ دل سے تو کرتی ہی ہوں گی۔۔ روحا اپنے آنسوں پونچھتی وہاں چلی گئی تھی۔۔
پیچھے سیما روحا کی باتوں میں ہی کھو کر رہ گئی تھی واقعی وہ اسکی اچھائیوں کا اعتراف دل میں ضرور کرتی ہے۔۔ اس گھر زویا میں زویا جیسی دوسری بہو میں نہیں لا سکتی مگر میں اپنے بیٹے سے بھی دور اور نہیں رہ سکتی پھر سے بیٹے کی محبت جاگ اٹھی تھی اور زویا کی اچھائیاں اس پہ کچھ نہیں تھی
