Beparwah Season 1 By Ayesha Noor Readelle50280 (Beparwah) Episode 48 (pt.2)
Rate this Novel
(Beparwah) Episode 48 (pt.2)
(سیکنڈ لاسٹ ایپیسوڈ لاسٹ پارٹ 2)
ایک ہفتہ ہوا تھا روحان کو گئے.. دن رات روحان کنیکٹ رہتا زویا سے.. پل پل کی خبر رکھ رہا تھا زویا کی..
آج شائنہ کا نکاح ہے. . سب ہی انوائٹ تھے اور سب جا رہے تھے وہاں ..
زویا, سفینہ اور سیما تیار تھی.. روحا بھی آخر تیار ہوکر نکل ہی آئی نہیں نکلے تھے باہر تو زرتاج اور زارون..
زرتاج مہرون رنگ کا فراک پہنے ہوئے.. وہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑی تیار ہورہی تھی.. مگر زارون اسے بہت تنگ کئے جا رہا تھا..
زارون ہٹو پیچھے تیار ہونے دو.. زارون اسے پیچھے سے حصار میں لئے ہوئے تھا..
“کیا ہے تم اپنا کام کرو میں اپنا کررہا ہوں ” شوخ سے لہجہ میں کہتا.. اسکے کاندھے پہ ٹھوڑی ٹکا دی..
میں ایسے تیار نہیں ہوسکتی..” تم جاؤ نیچے.. وہ روہانسی ہوئی..
اچھا بابا.. یہ لپ اسٹک..” وہ اسکے ہونٹوں پہ انگوٹھا رکھے بول رہا تھا جب زرتاج بول پڑی
زارون پلیز خراب مت کرو.. وہ اسکا ہاتھ جھٹکتے بولی..
اچھا ” وہ دو قدم فاصلہ پہ ہوا..
پھر ابھی وہ اپنا میک اپ ٹھیک کر رہی تھی جب زارون کی انگلیاں پھر سے کمر پہ چلتی محسوس ہوئی..
اب کے وہ رونی صورت بناتی اسکی طرف مڑی..
“اب تم لگ ہی اتنی خوبصورت رہی ہو تو بندے کا ایمان تو خراب ہوگا نا.. “
وہ مسکرا کر کہتا بیٹھ گیا تھا صوفہ پہ تو زرتاج سکون سے تیار ہونے لگی..
🥀🥀🥀
شائنہ مت آزماؤ ہمارے پیار کو تم .. شینا اس کے پاس کھڑی اسکی منتیں کررہی تھی..
جو ضد پہ آڑی تھی جب سے نکاح کا جوڑا رکھ کے گئی واپس اسکے پاس آئی جو اب تک اس نے نہیں پہنا تھا..
.ماما پلیز مجبور مت کریں.. ” مجھے نہیں کرنا کوئی نکاح..
پاگل ہو لڑکے والے پہنچنے والے ہیں.. اور تم اب تک ایسے بیٹھی ہو.. “چھوڑ کیوں نہیں دیتی ضد..
میں پھر تمہارے باپ کو ہی بھیجتی ہوں سمجھائیں تمہیں کچھ مت ملے..
اچھا نا.. وہ ڈریس کو بیڈ سے کھسکا کر اپنی طرف کرتی منہ کے زاویہ بگڑتی بولی..
اچھا بیوٹیشن کو بھیجتی ہوں تمہارے پاس اچھا سا تیار کرے.. انکی دھمکی کام کر گئی مسکراتی باہر نکلی..
تو شائنہ چپ چاپ واشروم میں بند ہوئی ڈریس لیکر..
🥀🥀🥀
عالم صاحب بھی پوری فیملی کیساتھ شینا کے گھر پہنچے.. انہوں نے بھی خوشی سے استقبال کیا.. نکاح کا فنکشن لان میں رکھا گیا..
لان بہت ہی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا.. سامنے اسٹیج بھی بنایا گیا تھا.. جس پہ خوبصورت صوفہ رکھے ہو ئے تھے.. بس خاص خاص لوگوں ہی مدعو کئے تھے..
روحا زویا اور زرتاج شائنہ کی کمرے کی طرف ہو لئے..ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی وہ تیار ہوئی تھی.. پنک کلر کی فراک پہنے گولڈن جیولری سر پہ دوپٹہ ٹکاۓ وہ بے حد پیاری لگ رہی تھی.. کچھ سہیلیاں بھی اسکو گھیرے کھڑی تھی..
کیسی ہو شانو.. روحا اسکے پاس آئی.. زرتاج اور زویا کو دیکھا وہ بھی آئیں تھی..
ٹھیک ہوں میں تم سناؤ.. “
زرتاج اسکے پاس بیڈ پہ بیٹھی ماشاللہ بہت پیاری لگ رہی ہو..
تم بھی اور خوبصورت لگ رہی ہو زارون کا پیار چھلک رہا ہے تمہارے چہرے سے.. اسے مزید نکھرا دیکھ شائنہ بولی..
زویا خاموش کھڑی تھی.. شائنہ نے اسے دیکھا..
بیٹھو زویا تھک جاؤ گی..
“نہیں تھکی.. ” تم سناؤ کیسی ہو.. اور مبارک ہو نکاح کی.. وہ کرسی پہ بیٹھتی ہوئی بولی..
باہر شور مچا تھا.. لڑکے والے آۓ تھے..
کچھ ہی دیر گزری تھی نکاح کا رجسٹر لئے مولوی صاحب کیساتھ شائنہ کے والد فیاض صاحب اور عالم صاحب آۓ..
قاضی صاحب نے نکاح پڑھنا شروع کیا ایجاب و قبول ہوا دونوں طرف سے..
شائنہ کو روحا اور زرتاج پکڑے باہر لائیں تھیں.. وہ آہستہ سے انکے درمیان چل رہی تھی نگاہیں جھکی ہوئی تھی.. چہرے کے تاثرات بھی سنجیدہ ہی تھے..
اسٹیج پہ چڑھتے ہی اپنے ہمسفر پہ نظر گئی تھی جو اسے دیکھ اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا..
وہ تو باہر کی ہی مخلوق لگا تھا.. گولڈن رنگ کی شیروانی پہنی تھی ہلکی سی بڑھی ہوئی بیئرڈ سنہری بال سفید رنگت تیکھے نین نقوش.. ہیزل گرے آئیز.. پرسنیلٹی کافی اٹریکٹ تھی..
شائنہ گھبراہٹ کا شکار ہو رہی تھی اسکے ساتھ بیٹھے دو انچ کا فاصلہ بنایا تھا جو طلحہ نے ختم کردیا تھا..
اسکی آنچ دیتی نظریں اسے نروس کررہی تھی وہ دوبارا نظر بھی نہیں اٹھا پائی تھی اسکی جانب.. وہ بلکل بھی شاۓ نہیں تھا.. بلکہ سب سے ہنس کر بات کررہا تھا..
مسسز آپ کچھ بول کیوں نہیں رہیں.. وہ اسکی طرف جھک کر بولا تھا..
شائنہ کچھ نا بولی..
مسسز آپ سے بات کررہا ہوں.. ویسے آپ تو تصویر سے بھی زیادہ بیوٹیفل ہیں.. وہ بھی باز نا آیا بولنے سے..
شائنہ نے اسکی طرف دیکھا اور پھر نظریں جھکا لی..
افف کتنا بولتا ہے وہ سوچ سکی..
ہاۓ جیجا جی اتنی باتیں .. روحا شائنہ کی دوسری طرف بیٹھتی بولی جو پھر کچھ اسکے قریب سرگوشی کررہا تھا.. شائنہ کے چہرے پہ سرخیاں گھلنے لگی تھی..
سو وٹ مائی وائف.. طلحہ نے کاندھے پہ ہاتھ رکھ دیا شائنہ تو شرم سے پانی پانی ہو گئی.. وہ بھی اوپن مائنڈ لڑکی تھی مگر اتنی بھی نہیں..
پھر ہاتھ ہٹا لیا اس نے تو اسکی رکی سانس بحال ہوئی..
زرتاج اور زویا نے سب مہمانوں کو اچھے سے سنبھالا تھا سب کی آؤ بھگت کی.. کھانے کا سلسلہ شروع ہوا تو سب مہمانوں کو پوچھ رہی تھی..
پھر کچھ لوگ جا چکے تھے اور بس اب لڑکے والے ہی تھے جو ابھی رکے ہوۓ تھے..
طلحہ اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا.. اسکی ماں کچھ سال پہلے ہی اس دنیا سے رخصت ہوگئی تھی.. والد کا اپنا کاروبار تھا.. طلحہ کچھ سال پہلے ہی باہر ملک کینیڈا میں شفٹ ہوچکا تھا.. اسکے خاندان سے صرف اسکے چاچا چاچی اور اسکے والد اور کچھ جاننے والے تھے بس جو اسکے ساتھ آۓ تھے..
ماشاللہ شینا تمہاری دونوں بہوؤں نے تو مہمانوں کو سنبھال لیا.. مجھ اکیلی سے کہاں سب ہوتا بھلے کام کیلئے نوکر ہیں مگر ان کے سر پہ بھی کڑا ہونا پڑتا ہے..
زرتاج اور زویا چائے بنا کر لائی اور سب کو دے رہی تھی..
شائنہ اب اپنے کمرے میں جا چکی تھی..
سب اب حال میں جمع تھے.. زرتاج زارون کیساتھ آکر بیٹھی جو طلحہ سے کچھ ادھر ادھر کی باتیں کررہا تھا..
یہ میری حادثاتی بیوی ہے”.. زارون نے زرتاج کا تعارف کروایا تو زرتاج نے منہ بات کر اسے دیکھا.. طلحہ نے سامنے اسے کچھ کہہ نا سکی
طلحہ کی ہنسی نکلی..
مگر میں پھر بھی بہت پیار کرتا ہوں اپنی زری سے.. زارون نے مسکر کر کہا..
یہ تو آپ نے اپنی وائف کے ری ایکشن سے بچنے کے لیے کہا ہے.. ” طلحہ نے کہا تو تینوں ہنس دئے..
ہیلو.. لٹل گرل.. پاس سے گزرتی روحا کو طلحہ نے بلایا..
ییس جیجو.. ” روحا اسکے ساتھی والی کرسی پہ بیٹھی..
میری مسز کہاں ہیں.. مجھے ملنا ہے اس سے اکیلے.. طلحہ نے راز دارانہ انداز میں کہا..
مجھے جوتے پڑواۓ گے کیا..وہ سامنے کمرے میں ہیں چلے جائیں.. روحا نے شرارتی انداز میں کہا..
اکیلے چلا جاؤں جوتے پڑے گے.. ” ابھی رخصتی ایک ہفتہ بعد ہے.. ” طلحہ نے بھی شرارتی انداز میں کہا..
ہاں تو صبر کرلیں.. ایک ہفتہ وہ اسے ہری جھنڈی دکھاتی آٹھ گئی..
شائنہ آنکھیں بند کئے بیڈ کراؤن کیساتھ ٹیگ لگائے بیٹھی تھی.. جب دروازے پہ دستک ہوئی جب آنکھیں کھولی تو طلحہ سامنے پایا جو گیٹ لاک کر کے اسکی طرف آئی وہ ابھی بھی ویسے ہی سجی سنوری بیٹھی تھی.. اسے دیکھتے فٹ سے کھڑی ہوئی..
آپ..
ہاں سب جا رہے ہیں تو سوچا تمہیں ایک نظر پھر سے دیکھتا جاؤں… وہ اسکے بے حد نزدیک آیا..
دیکھیں کوئی دیکھ لے گا آپ کو یہاں تو کیا سوچے گا میرے بارے میں ” وہ دروازے کی طرف دیکھتے فکر مندی سے بولی..
ارے سب لوگ چلے گئے کوئی نہیں دیکھے گا دو منٹ کی ہی تو بات ہے.. طلحہ نے اسے دونوں کاندھوں سے تھاما تھا.. مس یو وائفی پتہ نہیں یہ ہفتہ کیسے گزرے گا.. کہتے ہی اسکے ماتھے پہ محبت کی پہلی مہر ثبت کی اور پیچھے ہٹا اسکے چہرہ غور سے دیکھنے لگا شائنہ نے زور سے آنکھیں میچیں تھیں نجانے کیوں اسے شرم آرہی تھی..
تو وہ باہر نکل گیا دروازے کے باہر روحا کھڑی تھی تو وہ اسے بتیسی دکھاتا نکل گیا.. اور وہ سر ہلاتی رہ گئی
🥀🥀🥀
چل یار اب تو میرا بیڑا بھی پار لگا دے اب مجھ سے ویٹ نہیں ہوتا علینہ کے گھر چل کر اسکا ہاتھ مانگ لے میرے لئے..
وکی اپنی فریاد لئے روحان کے سامنے حاضر ہوا تھا..
اچھا کل چلیں گے پھر.. ” روحان نے ہامی بھرتے کہا..
اگر زویا بھابھی بھی ہوتی تو اچھا تھا مگر چل تو باس ہے اسکا..” وکی نے کہا..
ویسے وہ مان جاۓ گی کیا.. دیکھ وہ بیواہ اور آٹھ سال کے بچے کی ماں ہے.. تیرے گھر والے مانے گے کیا.. ” روحان نے کہا..
یار باقی باتیں میں سنبھال لوں گا رہی بات ماننے کی تو ڈیفینیٹلی وہ مانے گی.. دو سال سے جانتی ہے وہ مجھے..وکی اپنی طرف سے پورا مطمئن تھا..
اچھا آج تو وہ نہیں آئی تین دن کا آف لیا ہے اس نے تو کل وہ گھر ہی ہوگی شام کو تیار رہنا چلیں گے اسکے گھر.. روحان نے ہامی بھرتے کہا..
یہ ہوئی نا بات آخر بڑے بھائی کا فرض نبھا دیا تم نے. وہ خوش ہوتا بولا..
چل تو بن جا نکا کاکا.. ” روحان مسکراتا بولا..
اگلی شام کو وکی اور روحان علینا کے گھر کی طرف نکلے تھے..
اتنا تیار تو ایسا ہوا ہے جیسے بارات لے کر جا رہا تھا.. روحان اسکی تیاری کے دیکھ بولا.. جو مہرون چیک والی شرٹ کیساتھ بلو جینس پہنے بالوں کو اچھے سے سیٹ کئے ہوئے تھا اور بہت ہی خوش لگ رہا تھا.
ہاں تو ان لوگوں پہ اچھا امپریشن بھی تو پڑنا چاہیے.. “
کچھ ہی دیر میں وہ علینا کے فلیٹ کے دروازے پر کھڑے تھے.. ڈور بیل بجائی.. کسی عورت نے دروازہ کھولا تو وہ اپنا تعارف کرواتے اندر آۓ مگر سامنے کا منظر انکے لئے ناقابلِ یقین تھا..
علینا صوفہ کسی اور مرد کیساتھ بیٹھی تھی اور گھر میں کچھ مہما ن بھی موجود تھے.. علینا نے آف وائٹ فراک کیساتھ لال دوپٹہ لیا ہوا اور ساتھ والے نے آف وائٹ کرتا پاجامہ دونوں کے گلے میں پھولوں کے ہار تھے.. کسی انہونی کا احساس ہوا تھا..
علینا کی نظریں سامنے اٹھیں تو حیران ہوئی..
سر آپ لوگ.. “
ہاں وہ ویسے ہی یہاں سے گزر ہوا تو سوچا تم سے ملتا جاؤں.. آفس کے کچھ کام بھی تھا.. مگر شاید ہم غلط وقت پہ آگئے.. روحان نے جواب دیا تھا وکی تو اپنی جگہ پہ منجمد کھڑا تھا..
سر میرا ابھی تھوڑی دیر پہلے نکاح ہوا ہے.. علینا کے الفاظ وکی پہ قہر بن کے ٹوٹے تھے..
سوری سر اتنا جلدی ہوا سب میں بتا نہیں پائی آپکو.. یہ عادل ہیں میرے کزن بھی.. اور عادل یہ میرے باس ہیں سر روحان اور یہ سر وقار..
وکی بڑی مشکل سے خود پہ ضبط کئے ہوئے کھڑا تھا.. آنکھیں لال انگارہ ہوئیں تھی.. علینا نے جب وکی کی طرف سر اٹھا کر دیکھا تو اسکی آنکھوں میں عجیب سا احساس تھا..
عادل نے روحان سے ہاتھ ملایا اور وکی طرف ہاتھ بڑھایا وکی بمشکل اپنا ہاتھ اٹھایا تھا ..
سر بیٹھے آپ بھی جوائن کریں ہمیں.. علینا نے کہا..
نہیں ہم ابھی جلدی میں ہے کسی ضروری کام سے جا رہے تھے خوش رہو.. روحان نے علینا کے سر پہ ہاتھ اور باہر نکل گیا وکی کو لئے..
🥀🥀🥀
وکی گم سا گاڑی میں بیٹھا تھا جیسے دل کے ارماں پانی میں بہہ گئے ہوں.. کتنا چاہا تھا اسے.. روحان نے جھٹکے سے گاڑی روکی..
“وکی یار کیا ہوگیا ہے ” سنبھال خود کو..
روحان گاڑی سے باہر آیا اسکے جانب کا دروازہ کھولا اور اسے باہر نکالا وہ اس وقت سمندر کنارے کھڑے گاڑی کیساتھ ٹیگ لگائے
یہ سڈنی کا مشہور بیچ تھا جو بہت ہی اعلیٰ معیار اور طرز کا بنایا ہوا تھا.. بڑی بڑی شپ کھڑی تھی وہاں.. چھوٹی چھوٹی بوٹ بھی وہاں تیر رہی تھی..
وکی یہ دنیا ہے.. ” یہاں ایسے ہی چلتا ہے جس چیز کے پیچھے ہم بھاگتے ہیں وہ ہمیں تھکا دیتی ہے.. ” وہ تیری قسمت میں نہیں تھی سو تجھے نہیں ملی.. ” جہاں ہم کسی کا بھلا کرتے ہیں تو کہیں نا کہے ہمارا بھی بھلا ہو ہی جاتا ہے اگر کسی کو نقصان پہنچاتے ہیں اور خود بھی گھاٹا کھا ہی لیتے ہیں
” کیونکہ یہ قدرت کا انصاف ہے قدرت انصاف ضرور کرے گی تیرے ساتھ..” کیونکہ تو نے تو کسی کا برا کیا ہی نہیں..
کسی کا برا ” وہ بس سوچ سکا اور اسکے ذہن میں ایک ہی نام آیا ماریہ..
” کیونکہ یہ قدرت کا انصاف ہے قدرت انصاف ضرور کرے گی تیرے ساتھ..” کیونکہ تو نے تو کسی کا برا کیا ہی نہیں..
روحان کے الفاظ تھے یا کوڑے جو اس پہ برس رہے تھے ..
تو وہ وہاں سے پیدل ہی چل پڑا.. ایک شدید پچھتاوے نے آن گھیرا اسے..
روحان اسکے پیچھے نہیں گیا وہ ابھی صدمہ میں تھا اسے اکیلے چھوڑ دینا ہی بہتر تھا..
وہ چلتا جارہا تھا.. اتنی سردی میں بھی اسکا چہرہ پسینے سے تر ہو رہا تھا.. جسے وہ اپنے بازو سے صاف کردیا کرتا..
میں نے کیا کردیا.. یہ کیا ہوگیا مجھ سے.. ماریہ کا رونا اسکا منتیں کرنا ..اسکی آنکھوں کے سامنے آریا تھا..
رات گئے وہ اپنے فلیٹ میں داخل ہوا..
اورسیدھا بستر پہ دراز ہوا.. مگر نیند اسکی آنکھوں سے کوسوں میل دور ہوچکی تھی. پھر سگریٹ پھونکنے لگا تھا.. اور گہری سوچوں میں گم تھا..
“وکی پلیز میری بات مان لو پلیز مجھے بچا لو.. وکی.. وکی مت کرو.. وہ بلکتے ہوئے روۓ جا رہی تھی”
اسکا کہا گیا جملہ اسکی سماعتوں سے ٹکرایا..
پھر اپنے کہے گئے الفاظ یاد آئے..
“شٹ اپ میں تم جیسی لوز کریکٹر لڑکی سے ہرگز شادی نہیں کروں گا اوقات ہی کیا ہے تمہاری..”
وہ ساری رات سیگریٹ کا دھواں اڑاتا رہا مکافات تو ہوتا ہے .. اور اسے اتنی جلدی اپنا آئنہ نظر آجائے گا..
علینہ کے نا ملنے کا دکھ تو اسکے گناہ کے آگے بہت چھوٹا تھا..
ہم کسی کے کردار کو حج نہیں کرسکتے.. اگر ماریہ کا کریکٹر لوز تھا تو اسکا کردار کیا تھا.. اب سے اسکے اذیت کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا..
🥀🥀🥀
اگلی قسط آخری قسط ہوگی تو پیارے ریڈرز اپنے ہونے کا ثبوت دیں اور جو جو میرا ناول پڑھ رہے ہیں لائک کر کے بتائیں.. اور جنہوں نے میرا پیج لائک نہیں کیا آن سے بھی گزارش ہے میرا بھلا کردیں اور
اور جو ریڈرز میرے ساتھ جڑے ہیں اچھے سے کمنٹ بھی کرتے ہیں انکا شکریہ..
