94.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Beparwah) Episode 22

ایک ہفتہ گزر چکا تھا دونوں کا پھر سامنا بہت ہی کم ہوا تھا۔۔روحان صبح کا جاتا رات گۓ ہی گھر لوٹتا تھا۔۔
آج بھی رات کو وہ گیارا بجے گھر آیا فریش ہوکر ہمیشہ کی طرح وہ کچن میں آیا کافی بنانے کیلے تبھی اسکا سامنا زویا سے ہوا۔۔
بلیک کلر کی فراک پہنے ہاف آستینوں سے نظر آتے دودھیا بازو آدھے بالوں کو کیچر میں قید کۓ باقی کمر پہ کھلے چھوڑے ۔بنا دوپٹہ کے۔۔وہ اپنے دھیان میں کھڑی کچن میں چاۓ بنا رہی تھی روحان کی آمد کا اسے اندازہ نا ہوا ۔۔روحان پاکٹ میں ہاتھ ڈالے بغور اسکا جائزہ لے رہا تھا۔۔ خود پر نظر کی تپش محسوس ہوئی تو پیچھے منہ موڑ کر دیکھا تو روحان نے اسے دیکھ کر آنکھیں چھوٹی کیں ۔ اسنے فٹ سے چولہا بند کیا ۔۔
روحان قدم بڑھا کر اسکے بلکل پیچھے کھڑا ہوا “بنا لو چاۓ میں نے منع تو نہیں کیا۔۔”
وہ بلکل اسکے پیچھے کھڑا تھا۔۔
“بب۔بن گئی بس مم۔میں کپ میں ڈالنے لگ تھی”۔۔اسکی آواز لڑکھڑاہٹ تھی۔۔وہ گھبرا گئی تھی اسکے یوں پیچھے کھڑے ہونے سے کانپتے ہاتھوں سے چاۓ کپ میں ڈالی اور سائیڈ سے نکل گئی۔۔ جبکہ وہ اپنی جگہ سے ہلا بھی نہیں تھا اسے زچ کرنے کیلئے اسکے پیچھے کھڑا ہوا تھا پھر اپنے لیے کافی بنانے لگا۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
زارون آفس میں بیٹھا تھا لیپ ٹاپ پہ تیزی سے انگلیاں چلا رہا تھا جب انٹر کام بجا تو اس نے اٹھایا۔۔ “
ییس ۔۔ سر کوئی مس شائنہ آئی ہے”۔۔
شائنہ زارون نے ماتھا مسلہ تھا ۔۔”اوکے بھیجو”۔۔
تھوڑی دیر بعد شائنہ آفس میں انٹر ہوئی ” ہیلو”۔۔
ا”سلام علیکم ” زارون نے سلام کرکے اسے شرمندہ کرنا چاہا ۔۔
“وعلیکم اسلام” وہ بھی بنا شرمندہ ہوۓ ہنستی بولی۔۔
” یہ کیا ہے شانو تم آفس کیوں آئی ہو”۔۔ زوران اپنی کرسی سے کھڑا ہوا اور آگے آکر بولا۔۔
تو شینا اسکے گلے لگ گئی۔۔سر اسکے سینے پہ رکھا اور دونوں ہاتھ اسکے ,کمر کے پیچھے باندھ دیۓ۔۔
” شینا “۔ زارون نے دونوں بازوؤں سے پکڑ کر اسے پرے ہٹایا تھا۔۔ ” یہ سب کیا ہے”۔۔اسکے حلیہ کو ناگواری سے دیکھا تھ۔۔
اسکی اتنی تیاری جیسے رائیگا گئی۔۔ ٹایٹ پینٹ پہ چھوٹی سی بغیر آستینوں والی شرٹ کھلے بال
“زارون میں تمہاری مینگیتر ہوں تم سے ملنے آسکتی ہوں”۔۔ شینا کو اپنی توہین محسوس ہوئی تھی ۔۔
“ہاں تو تم ایسے بیہیو کرو گی”.۔ زارون خود کو کنٹرول کرتے ہوۓ اپنا لیجہ نارمل رکھتا بولا۔۔
“ہاں تو پھر کیسے بیہیو کرو پھر تم تو مجھ سے ٹھیک بات بھی نہیں کرتے اس زرتاج کے آگے پیچھے گھوم سکتے ہو” بس شائنہ کو مال والی بات بھولی نہیں تھی وہ اس لیے جتایا تھا اسے۔۔
“تم میں اور اس میں بہت فرق ہے” وہ بس سوچ سکا تھا۔۔
“اسکا نام سنتے ہی سوچ میں پڑ گۓ” ۔۔ وہ طنز کرتی بولی۔۔
“بھئی یہ تم عورتوں کی آپس کی بات ہے مجھے نا گھسیٹو”۔۔ وہ واپس اپنی کرسی پہ بیٹھتا بولا۔۔
“یہ عورت کسے بولا ” وہ اسکے سامنے آتی بولی۔
“میرے سامنے کوئی اور عورت تو ہے نہیں” ایک اچٹتی سی نگاہ اس پہ ڈال کر بولا۔۔
“ہہم وہ ہوگی عورت میں تو نہیں”۔۔ وہ ادا سے بال جھٹکتی بولی۔۔
“اچھا اب جاؤ مجھےکام ہے”۔۔زارون بغیر لحاظ کے اسے جانے کا بولا۔۔
“میں تمہارے ساتھ لنچ کرنے کیلے آئی ہوں اور تم مجھے جانے کا بول رہے ہو”۔۔وہ صدمہ سے بولی۔۔
“ہاں بول رہاں ہوں اگر تمہارا حلیہ ساتھ جانے کے قابل ہوتا تو ضرور چلتا”۔۔ زارون اسکے ڈریس پہ تنقید کرتا بولا۔۔
“کیا ہوا ہے میرے حلیہ کو اٹس آ فیشن۔۔ تھوڑا بروڈ مائنڈ ہو کر سوچو تمہارے آفس میں بھی ایسے حلیہ والی ہی گھوم رہی ہیں”۔۔اسے پسند نہیں آیا زارون کا اس کےلباس پہ تنقید کرنا۔۔
“ہاں ہیں مگر وہ میرے گھر سے تعلق نہیں رکھتیں”۔۔ وہ دو ٹوک انداز میں بولا تھا
“ابھی سے ہی میرے ڈریس پہ انگلیاں اٹھا رہا ہے مجھے جو پسند ہے وہ پہنوں گی۔۔” شائنہ خود سے بڑبڑاتی پیر پٹختی چلی گئی ۔۔
اسکے جاتے ہی زارون سر پکڑ لیا “اف کہاں پھنس گیا ہوں۔۔”
🥀🥀🥀🥀
“سسٹر زویا گروسری کیلۓ ہم اکیلا نہیں آپ بھی ساتھ جاۓ گا”۔۔ جینی زویا سے بولی گھر کی چیزیں ختم ہوگئ تھی جو زویا نے اسے لانے کا کہا۔۔
“جینی میں نہیں جا سکتی” زویا نے منع کردیا۔۔
“کیوں آپ یہاں کس واسطہ آیا ہوا ہے جب گھوما پھرا نہیں”۔۔جینی نے پوچھا ۔۔
“وہ روحان” ۔۔ زویا بولتی رکی
“کیا روحان سر”۔۔
“وہ روحان سے پوچھے بغیر میں نہیں جا سکتی۔۔” زویا اپنی پریشانی بتاتی بولی۔۔
“کیوں نہیں جا سکتی آپ کزن ہے اسکا بیوی نہیں” جینی بغیر سوچے بولی۔۔
“ہم مزاق کررہا تھا ” اسے سیریس دیکھ جینی ہنستی بولی۔۔
“نہیں میرا مطلب کے میں روحان کے ساتھ ہی گھومو گی انہوں کہا تھا مجھ سے جب فری ہوجائییں گے تب گھومیں گے”۔ زویا اپنی طرف سے بات بنائی۔۔
“نا سر کا ٹائم ہوگا نا آپ گھومیں گی چلو جلدی سے تیار ہونے کا ہم وہٹ کر رہا ہے ورنا ہم ناراض ہوجاۓ گا۔۔”
“اچھا اچھا ٹھیک” ۔۔ زویا اسکا دل نہیں توڑنا چاہتی تھی اسلۓ ہامی بھری جانے کی۔۔زویا اور جینی کی کافی دوستی ہوگئی تھی۔۔
🥀🥀🥀🥀
“افف آگئی ” ماریہ کو آتے دیکھ علینا کو کوفت ہوئی تھی ۔۔
ماریہ سیدھا روحان کے آفس میں گھسی تھی ۔۔
روحان آنکھیں بند کیے کرسی کے ساتھ پیچھے کو سر ٹکا بیٹھا تھا۔۔خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کررہا تھا..
جب ماریہ آفس میں انٹر ہوئی تو اس نے آنکھیں کھولی اور سیدھا ہوکر بیٹھ گیا۔۔
“تم” ۔۔روحان بولا۔۔
“ہاں میں کہاں غائب ہو گئے تم” ۔۔ماریہ نے شکوہ کیا۔۔
“کہاں ہونا یہیں ہوں تمہارے سامنے آفس میں” ۔۔
تب ہی وکی بھی آفس میں آیا ۔۔
ماریہ نے اپنی بات جاری رکھی۔۔
“کیا ہوا روحان کام کم کیا کرو تھکے تھکے سے لگ رہے ہو”۔
“ہاں بیچارہ اب تھکے گا ہی ڈبل ڈیوٹی سرانجام دیتا ہے آفس بھی گھر بھی”۔۔ وکی روحان کو آنکھ مارتا بولا تھا روحان نے اسے آنکھیں دکھائیں تھیں کہ چپ رہے۔۔
“کیا مطلب ہے تمہارا” ماریہ نا سمجھی سے پوچھا ۔۔
“مم میرا مطلب یہاں بھی کام کرتا ہے رات کو بھی کام کرتا ہے بیچارہ آفس کا “۔۔ کوئی رزلٹ تو آہی جا ۓ گا مہینے بعد۔۔” وہ اپنی ہنسی کنٹرول کرتا ذو معنی بولا تھا مگر پھر بھی اسکی ہنسی چھوٹی تھی۔۔ ماریہ کو اسکی عقل پہ شائبہ ہوا تھا۔۔
“روحان پلیز ایٹ لسٹ آفس کا کام آفس تک ہی رکھو گھر جا کر ریسٹ ہی کیا کرو ” ماریہ روحان کو سمجھاتے بولی۔۔
“میں بھی یہی کہتا ہوں دو دو کام کرے گا تو ایسی ہی حالت” ۔۔ وکی دونوں انگلیا ں ہلاتا بولا ایک اشاریہ ماریہ کی طرف تھا دوسرا زویا کی طرف۔۔
روحان کو غصہ آیا تھا وکی پہ اسے باہر کی راہ دکھائی ۔۔”وکی جاؤ یہاں سے”
“افف تمہارے دوست کا دماغ خراب ہے نکالو اسے یہاں سے” ۔۔ ماریہ نے منہ چڑاتے کہا
“اسے چھوڑو اپنا بتاؤ” ۔۔ روحان نے پوچھا۔۔
“یار بہت دن ہوگۓ ہیں اس ویکنڈ پہ ڈنر بھی نہیں کیا آؤ باہر چلتے ہیں لنچ کرتے ساتھ”۔۔
“ماریہ پلیز” روحان نے بہانہ بنانا چاہا تھا۔۔
“نو آرگومنٹ پلیز کم نا۔” ۔ماریہ نے انسسٹ کیا تو اسے چلنا پڑا۔۔
ان دونوں کو باہر جاتا دیکھ علینا کو غصہ بہت آیا تھا۔۔
“کیا فائدہ زویا کو لانے کا یہاں اس چڑیل سے پیچھا کب چھوٹے گا”۔۔
“ریلیکس علینا بہت جلد ۔۔ درد دل کی دوا تو کردی ہے اب دعا بھی کریں گے۔۔”
“زویا کی دوا اثر کررہی ہے” پریشان سا رہنے لگا “بےسکون ہوا پڑا ہے سکون کی تلاش میں خود ہی زویا کے قریب جاۓ گا۔۔”
“بس اسے سمجھنے میں زرا دیر لگے گی”۔۔
“جیسے تمہیں” ۔۔ آخری بات وکی نے علینا کو دیکھتے دل میں بولی تھی۔۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
زویا اور جینی پیدل چلتی ہوئی جارہی تھی اور خوش گپیوں میں بھی مشغول تھی زویا کو اچھا لگ رہا تھا باہر کا خوشگوار ٹھنڈا موسم لوگوں کی چہل پہل۔۔
بلیک گھٹنوں تک کوٹ پہنے ٹائیٹ جینس کے نیچے ہیل والے لانگ شوز پہنے بالوں کو کھلا چھوڑے میک اپ نام پہ آنکھوں میں کاجل اور ہونٹوں پہ پنک لپ گلوز۔۔ گلے میں ریڈ مفلر پہنے ہاتھوں کو پاکٹ میں ڈالے جینی کی باتوں پہ کھل کھلاتی کسی کی نظروں میں آگئی تھی۔۔
“ہاۓ جینی واٹ آ سرپرائزڈ وہ ایک تیس سال کے لگ بھگ کا جوان تھا گورا چٹا بلو آئیز۔۔”
“او جیم یو۔” وہ دونوں سائیڈ سے گلے لگے تھے۔۔
“واٹ آ بیوٹی” زویا کو دیکھتی ہی جیم نے کہا تھا جسکے دیکھتے اسنے جینی کو دیکھا تھا وہ گھبرا رہی تھی ۔۔
“جیم مت تنگ کرو ہمارا مہمان ہے پاک سے آیا۔۔”جینی نے اسے ڈپٹا
“ہاۓ!! بیوٹی اوف ایشیا “۔۔ جیم نے ہنستے ہوۓ زویا کی تعریف کی تو بس ہلکا سا مسکرائی۔۔
“جینی لگتا تمہارا مہمان کو ہمارا تعریف اچھا نہیں لگا۔۔”
“ایسا بات نہیں وہ اجنبی لوگوں سے بات نہیں کرتی۔۔”
“ہاہا۔۔ یہ بات ہے ہاۓ فرینڈز”۔۔ وہ اسکی طرف ہاتھ بڑھاتے یوۓ بولا۔۔
زویا نے پھر سے جینی کو دیکھا۔۔ تو جینی نے اسے آنکھوں سے تسلی رکھنے کا اشارہ کیا۔۔
تو زویا نے کانپتا ہاتھ اسکی طرف بڑھایا جیم نے ہاتھ ملا کر چھوڑ دیا
ہاہاہا!! اور اسکی نرویسنیس پہ دونوں ہنسے۔۔” آئی لائک اڈ۔۔ یو لائک ماۓ جینی سسٹر سی یو اگین بیوٹیفل لیڈی”۔۔
“اوکے جینی سسٹر اینڈ یو سسٹرباۓ ہم جا رہا “۔وہ ہاتھ ہلاتا وہاں سے چلا گیا۔۔
“جینی وہ ہمارا کزن برادر ہے بہت اچھا ہے میرڈ ہے اس سے گھبرانے کا نہیں ۔۔وہ ایسا ہی ہے۔۔” زویا نے مسکرا کر سر ہلایا کیونکہ اسے بھی جیم ہنس مکھ سا لگا۔۔
اور وہ دونوں پاس ہی ایک سٹور میں گھس گئی۔۔
یہیں روحان کی بس ہوئی تھی اور کھڑا ہوا تھا کرسی سے۔۔ یہ سارا منظراسنے دیکھا زویا کا کسی اجنبی سے ہاتھ ملانا۔۔اسکا دماغ گھوم گیا یہ سب دیکھ کر۔۔
ماریہ جو کافی پی رہی تھی اسے دیکھ کر کھڑی ہوئی۔۔
“کیا ہوا کافی تو پیو کھڑے کیوں ہوگۓ”۔
“ماریہ مجھے جانا ہے بہت ارجنٹ کام یاد آگیا ہے” وہ اپنے غصہ سے آگ بگولہ ہوا پڑا تھا بہت ضبط سے ماریہ کو سمجھایا۔۔
“ایک تم اور تمہارے کام ” وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔۔
“تم کیب سے چلی جاؤ مجھے کہیں اور جانا ہے”
“روحان”۔ وہ کچھ بولتی کے روحان بول ہڑا
“ماریہ ڈونٹ آرگومنٹ می گو”۔۔ روحان نے غصہ سے کہا تو وہ بھی رکی نہیں اور جاکر کیب میں بیٹھ گئی۔۔
اب روحان کی نظر گروسری سٹور پہ تھی۔۔
روحان اور ماریہ وہیں سامنے کیفے میں کافی پہ رہے تھے جب شیشے کے پار روحان کی نظر زویا پہ پڑی جو جینی کیساتھ ہنستی جارہی تھی پھر کسی لڑکے کا ملنا اس سے ہاتھ ملانا ہنسنا اسکے اندر کی آگ کو مزید بھڑکا دیا تھا۔۔
روحان غصہ سے تن فن کرتا سٹور میں گھسا ادھر ادھر نظر دوڑائی تو سامنے ہی زویا کھڑی نظر آئی اور لمبے لمبے ڈھگ بھرتا اس کے نزدیک آیا۔
“کس کی اجازت سے تم باہر آئی ہو۔”۔روحان زویا کے بلکل نزدیک کھڑا تھا ۔۔
زویا اچانک سے مڑی اسکے ہاتھ سے پیکٹ چھوٹے تھے اسے دیکھ وہ جو کھاجانے والے تیور سے اسے گھور رہا تھا۔۔
“روحان سر آپ” ۔۔ جینی بھی روحان کو دیکھ پاس آئی تھی۔۔
“تم کس سے پوچھ کر باہر آئی” روحان نے پھر سے اپنا سوال دوہرایا تھا۔۔
“سر ہم لایا زویا کو باہر جب سے گھر میں ہی قید تھا گوھومنے کے واسطہ آیا تھا” ۔۔زویا کے بجاۓ جینی نے جواب دیا۔۔
“میری پرمیشن کے بغیر یہ باہر نہیں نکل سکتی” روحان نے جینی کو جواب دیا مگر نظریں ابھی بھی زویا پہ تھی جو نظریں جھکاۓ کھڑی تھی۔۔
“مگر یہ آپکا جسٹ کزن ہے اسے پرمیشن کی ضرورت نہیں”۔
“میری پرمیشن کی ضرورت ہے کیونکہ زویا میری زمہ داری ہے اسکیلے گھر جواب دہ میں ہوگا۔”۔اسے کہیں جانا ہو میں خود لیکر جاؤں گا تو” ۔۔چلو گھر۔۔
“بٹ سر ہم یہاں گروسری کیلۓ آیا تھا “۔۔ جینی بولی
“آپ لے آنا جو بھی لانا ہو میں گھر جا رہا ہوں” ایک نظر زویا کو دیکھا پھر جینی کو اور اسے کچھ پیسے تھماۓ۔۔
اوکے ۔۔کہتی جینی آگے چلی گئی۔۔
روحان نے زویا کا بازو پکڑا اور اسے لیے سٹور سے باہر نکلا اور روڈ کروس کرتا گاڑی تک آیا فرنٹ ڈور کھول کر اسے پھینکنے کے انداز میں بٹھایا اور خود ڈرائونگ سیٹ سنبھالی۔۔
ریش ڈرایونگ کرتا اہنے اپارٹمنت تک آیا اسے گھورتا گاڑی سے نکلا وہ جو ڈر کے مارے سیٹ سے چپکی بیٹھی تھی ۔۔
وہ باہر نا نکلی تو گاڑی کا خود ڈور کھول کر اسے باہر نکالا تھا ۔۔
گھر کا دروازہ کھولتے اسے اندر کھینچتا دھاڑ سے دروازہ بند کیا زویا کہیں چھپ جانا چاہتی اس لیے اپنے کمرے کی طرف دوڑی ۔۔ابھی وہ کمرے تک پہچ پاتی کہ دو قدم آگے بڑھ کر اسکا بازو دوبوچ چکا تھا اور اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر اسے اندر کھینچا اور دروازہ بند کرتے اسے دروازہ کے ساتھ لگایا ارد گرد دونوں بازو رکھ کر اسکا گھیرا مزید تنگ کیا۔۔چہرہ بلکل اس کے قریب تر کرتے بولا۔۔
“بہت شوق ہے تمہیں غیر مردوں سے ہاتھ ملانے کا”۔
زویا نے نظریں اٹھا کر اس دشمن جان کو دیکھا تھاِ مگر بولی کچھ نہیں۔۔
“یہی معصومیت کا ڈھونگ رچا کر تم دوسروں کو اپنی طرف مائل کرتی ہونا ۔۔ مگر شوہر سے تو دور بھاگتی ہو “۔۔
وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا تھا۔۔اسکی زات کی دھجیا اڑا دی تھی۔۔
بھیگتی آنکھوں سے دیکھا تھا اسے جو کتنا بےپراہ تھا اسکی عزت کا اسے زرا لحاظ نا تھا۔۔اتنی بے حسی تھی اس میں وہ بس سوچ سکی۔۔
ایک ہاتھ اسکی کمر میں ڈال کر اسے اپنے اندر بھینچا تھا اسے اپنی پسلیاں چٹختی ہوئی محسوس ہوئی بامشکل سانس لے پائی۔۔اور دوسرا ہاتھ اس کے سر کے پیچھے بالوں میں انگلیا پھنسا لی۔۔زویا کی جان حلق مہں آئی تھی ۔۔
زویا مچلنے لگی تھی اسکی قربت میں مقابل کو ہوش کہا رہا تھا بنا اسکی پرواہ کیے بنا مزید اسے خود میں بھینچا پاوں زمین سے اٹھ گۓ تھے مکمل اسکی گرفت میں تھی۔۔اسکے گلابی لبوں پہ جھک کر اسکا کا جام اپنے اندر انڈیلنے لگا. ۔اس سے اپنا آپ چھڑواتی ہلکان ہوۓ جا رہی تھی۔۔مگر وہ اسے چھوڑنے پہ تیار ہی نا تھا۔۔
کافی دیرتک وہ خود کوسراب کرتا رہا اسکا سانس بند ہورہا تھا ۔۔ منہ میں خون کا زائقہ گھلتا محسوس ہوا تب جا کر اسکی جان بخشی۔۔مگر چھوڑا پھر بھی نا تھا۔۔
وہ اسکی کاندھے پہ سر رکھ کر اپنی سانسیں ہموار کرنے لگی ۔جو اس ظالم کی شدت بھرے لمس سے بند ہونے کے پہ در تھی۔۔
وہ یونہی کمرسے اٹھاۓ اسے بیڈ پہ لاکر پٹخا تھا۔۔
اب تیار ہوجاؤ میری شدتوں کو سہنے کیلۓ یہ کچھ بھی نہیں تھا۔۔
وہ بیڈ پہ اندھے منہ گری تھی ۔اسکی بات سن کر فورن سر موڑ کر ظالم شخص کو دیکھا جو بے حسی کی انتہا پہ۔۔اور وہ اذیت کی انتہا پہ۔۔
“میں نے کچھ نہیں کیا وہ سسکتی بولی تھی ۔۔مجھے واپس جانا ہے”۔۔مجھے نہیں رہنا یہاں “۔۔ وہ سسک رہی تھی۔۔
وہ جو ابھی اسے بخشنے کے موڈ میں بلکل نہیں تھا جنوں سوار ہوچکا تھا اسکے سر پہ اس کی باتوں سے ہوش کی دنیا میں آیا تھا ۔۔
اہک پل بھی روحان رکا نہیں تھا وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔۔
بے ضرر گاڑی سڑکوں پہ دوڑاتا رہا تھا۔۔ اسکا سسکنا معصوم سا بھیگا چہرہ اسکی آنکھوں کے پردے آگے لہراتا رہا تھا۔۔
🥀🥀🥀🥀
اسکے جانے کے بعد وہ وہی بیڈ پہ ڈھہ گئی بیڈ شیڈ کو مٹھیوں میں جکڑے وہ سسکتی رہی تھی ۔۔
پھر اٹھ کر بیٹھی ارد گرد نگاہ دوڑائی تو وہ روحان کے کمرے میں تھی۔۔
جب سے وہ آئی تھی ایک دن بھی اس کمرے میں نا آئی تھی۔۔
روحان کے کہے گۓ الفاظ اسکے کانوں میں گونجنے لگے۔۔
“تمہاری جگہ نا میرے کمرے میں ہے اور نا ہی میری زندگی میں” ۔۔ وہ خود نہیں آئی تھی آج روحان اسے خود لایا تھا اپنے کمرے میں۔۔ نفرت سی ہوئی تھی اسے آج خود سے.. روحان سے .. اس رشتہ سے ۔۔
آنسوں پھر سے جاری ہوۓ تھے۔۔پھر اپنے کمرے میں آئی چینج کیا اور خود کو آئینے میں دیکھا پھر ہونٹوں کو چھوا جہاں ابھی بھی اس ظالم انسان کا وحشت زدہ لمز محسوس ہو رہا تھا۔۔جیسے لب ابھی بھی اسکی جکڑ میں ہو۔۔