94.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Beparwah) Episode 7

چھٹی ٹائم وہ دونوں کسی بات پر ہنستی ہوئی یونی کے گیٹ سے باہر آ رہی تھی جب ان دونوں کی نظر زارون پہ پڑی تھی اور زرتاج کی ہنسی کو بریک لگی تھی ااور اسکے منہ کے زاویہ بگڑے تھے۔۔
“افف یہ پھر آگیا پکانے” زرتاج آہستہ آواز میں اسے دیکھتے ہوۓ کہا تھا۔۔
” باۓ باۓ میں تو چلی اب آگے تم جانو یا وہ۔”۔۔ارم ہاتھ ہلاتی وہاں سے چلی گئی۔۔
زارون اپنی بلیک کار کے ساتھ ٹیگ لگاۓ کھڑا تھا موبائل پہ سکرولنگ کررہا تھا ۔۔۔ گرے کلر کے تھری پیس پینٹ کوٹ پہنے ماتھے پہ سیاہ بال بکھرے وہ پرکشش نظر آرہا تھا وہ ہر آنے جانے والی لڑکی کی توجہ بنا ہوا تھا وہ اسی یونیورسٹی کا پڑھا ہوا تھا زیادہ تر تو اسے جانتی تھی وہ اس یونی کی اکثر لڑکی کا کرش بھی تھا۔۔۔
کچھ تو اسے دیکھ کر ہاتھ بھی ہلاتی “ہاۓ زاروون۔۔”
جواب میں وہ بھی مسکرا کر ہاتھ ہلا دیتا۔۔
زرتاج چپ چاپ اس کے پاس آئی تھی اسے دیکھتے ہی زارون نے موبائل پاکٹ میں ڈالا تھا۔۔
“آئیں محترمہ تشریف رکھیے “فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر اسے مودبانہ انداز میں اسے بیٹھنے کا کہااور بنا کچھ بولے اسے تعجب سے دیکھتی بیٹھ گئی۔۔
اور زارون نے آرام سے دروازہ بند کیا تھا۔۔اور جلدی سے آکر فرنٹ سیٹ پہ بیٹھا تھا۔۔ اسکو یوں گاڑی میں بٹھانے کا منظر ارم نے بھی دیکھا تھا اور مسکرا کر اپنی گاڑی میں بیٹھ گئی۔۔
چپ چاپ گاڑی چلا رہا تھا اور زرتاج بھی چپ ہی رہی تھی اور گاڑی گھر کے دروازے سے اندر داخل ہوئی تھی اس سے پہلے کے زرتاج اترتی زارون نے جلدی سے اتر کر زرتاج کی طرف کا دروازہ کھولا تھا ۔۔
ایسے کیا دیکھ رہی ہو جلدی سے اترو نیچے۔۔
زرتاج اتر گئی تھی زارون نے پھر آرام سے دروازہ بند کیا تھا۔۔
زرتاج ابھی کھڑی اسے گھور رہی تھی کے اسے کیا ہوا ہے۔۔
“ہاۓ میری گاڑی کتنی زور سے صبح تمہیں لگی ہوگی نا کتنی زور سے تمہیں مار کر دروازہ بند کیا تھا ۔۔ اور ٹائر بیچارہ پھر سے ہوا نکل گئی”۔۔زارون بڑے پیار سے گاڑی پہ ہاتھ رکھے بات کر رہا تھا ۔۔۔
زرتاج کا اب اسے یوں اسکے لۓ گاڑی کا دروازہ کھولنا اور بند کرنا سمجھ آیا تھا۔۔ غصہ سے اسنے اسکا بازو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اپنے سامنے کیا تھا یو ایڈیٹ بھاڑ میں جاؤ تم اور بھاڑ میں تمہاری کار۔۔
“ماما ماما۔۔۔”
ابھی زارون کچھ بولتا کہ زویا کے چیخنے کی آواز آئی اور دونوں ایک ساتھ اندر کی طرف بھاگے۔۔
زویا اپنی ماں کے پاس بیٹھی اسے زور زور سے چیخ کر ہلا رہی تھی سفینہ اپنے بستر پہ بیہوش پڑی تھی۔۔
زارون پہلے پہنچا تھا کمرے میں “کیا ہوا زویا ” پھر نظر سفینہ پہ پڑی تھی۔۔
“چاچی ۔۔چاچی اٹھیں” زارون نے انکی گال تھپ تھپائی تھی مگر وہ بےسد سی تھی۔۔ پھر جلدی سے انھیں اٹھایا اور گاڑی کی طرف بڑھا تھا ساتھ ساتھ زویا اور زرتاج بھی روتی ہوئی اسکے پیچھے آئی تھی ۔۔
سیما بھی باہر نکلی تھی سفینہ کو بیہوش دیکھ کر وہ بھی گھبرا گئی تھیں۔۔”کیا ہوا ہے”
” ماما میں چاچی کو ہوسپیٹل لے جا رہا ہوں آپ انکو سنبھالیں “۔۔
نہیں مجھے بھی ساتھ جانا ہے دونوں نے ایک ساتھ بولا تھا ۔۔
🌷🥀🥀🥀
ڈاکٹر نے انہیں فوراً ایڈمٹ کر لیا تھا اور ٹریٹمنٹ دینا شروع کردیا تھا۔۔
ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ انکا بی پی شوٹ ہوگیا ہے نارمل نہیں ہو رہا ۔۔
زرتاج اور زویا دونوں بس روۓ جا رہی تھی۔۔
زارون انکے پاس کھڑا تھا کتنی بےبس لگ رہیں تھیں دونوں ۔۔
اتنے میں ڈاکٹر انکے پاس آیا تھا “شی از آؤٹ آف ڈینجر ناؤ شی از فائن آپ وقت پہ انہیں لے آۓ تھے “
“ایک رات انہیں یہاں رکھا جاۓ۔۔”
“تھینکس ڈاکٹر کیا اب ہم ان سے مل سکتے ہیں ” ۔۔ زارون نے کہا ۔۔
“نہیں ابھی نہیں وہ جب ہوش میں آئیں گی تب تک ابھی ہم اجازت نہی دے گیں پلیز” ڈاکٹر اتنا کہہ کر چلا گیا تھا ۔۔
تب ہی عالم یوسف ملک بھی وہاں آگۓ تھے رات کے دس بج چکے تھے انہیں وہاں ابھی۔۔
“ڈیڈ آپ ان دونوں کو لیکر یہاں سے جائیں ابھی میں ہوں یہاں چاچی کے ساتھ “۔۔
“تم ٹھیک کہہ رہے ہو زارون چلو بچو گھر چلیں اب تم دونوں کا یہاں رہنا ٹھیک نہیں ہے”۔۔
“نہیں ممیں نہیں جاؤں گی ماما کو چھوڑ کرزویا نے کہا پھر زرتاج بھی بولی تایا ابو میں بھی نہیں جاؤں گی ۔۔دونوں نے جانے سے صاف منع کیا تھا “۔۔
“بچو ضد نہیں کرتے چلو انہوں پیار سے کہا تھا” ۔۔
“تایا ابو آپ زری کو لے جائیں میں ماما کے پاس رکوں گی”۔۔
“نہیں میں نے نہیں جانا” زری نے پھر سے انکار کیا تھا۔۔
“ڈیڈ آپ چلیں یہ بھی جاۓ گی آپ کے ساتھ میں لیکر آتا ہوں اسے باہر آپ بیٹھیں گاڑی میں جا کر”۔۔
“اچھا بیٹا آؤ زری بچے شاباش میں ویٹ کر رہا ہوں آپکا۔”۔ اتنا کہتے ہی عالم صاحب باہر چلے گۓ ۔۔
“چلو زری شاباش ضد نہیں کرتے چاچی بلکل ٹھیک ہے صبح وہ گھر آجائیں گی” زارون نے پیار سے اسکا بازو پکڑا اسے باہر لے جانے کیلۓ۔۔
“نہیں زارون ماما کو میری ضرورت ہے مجھے انکے ساتھ رہنا ہے مجھے کہیں نہیں جانا پلیز ” زرتاج روتے ہوۓ بچوں کی طرح ضد کی تھی۔۔
“زری تم گھر جاؤ ماما اب ٹھیک ہیں” زویا نے بھی اسے سمجھایا۔۔
زارون اسکا بازو پکڑے اسے باہر لے آیا اور پھر گاڑی کا دروازہ کھول کر اسے بٹھا یا تھا اور عالم صاحب نے ڈرائیور کو گاڑی چلانے کا کہا ۔۔
کافی وقت گزر چکا تھا وہ دونوں بیںچ پہ بیٹھے ہوۓ تھے زویا نے سر پر اچھی طرح سے دوپٹہ اوڑھا ہوا تھا جو سورتیں اسے حفظ تھیں وہ سب پڑھ رہی تھی زارون نے پاکٹ سے موبائیل نکالا تو کافی ساری مسڈ کالز لگی ہوئی تھی وہ اٹھ کر سائیڈ پہ آگیا تھا۔۔
زویا کو اب بیچینی سی ہو رہی تھی اسکا اپنی ماں سے ملنے کا اب جی چاہ رہا تھا ۔۔ادھر ادھرزارون کو دیکھا
زارون نے جب موبائیل چیک کیا تو روحان کی مسڈ کالز ھیں اس سےبات کرنے کیلئے سائیڈ پہ آگیا دوسری رنگ پہ فون ریسیو کرلیا تھا۔۔
اسلام علیکم ۔۔۔
” وعلیکم اسلام یار کہاں تھے کب سے کال کر رہا ہوں فون کیوں نہیں اٹھا رہے تھے” روحان نے کہا تھا۔۔
وہ بھائی میں بزی تھا اسلۓ نہیں دیکھا “زارون ماتھا مسلتے ہوۓ کہا تھا ۔
“کہاں بزی تھا میرا بھائی”۔۔
“وہ میں” ۔۔۔۔زارون ابھی کچھ بولتا کہ زویا اسکے پیچھے آکھڑی ہوئی اور بولنے لگی تھی۔۔
“زارون میں جاؤں اندر” زویا نے کہا زارون نے اسکی آواز سن کر اسکی طرف مڑا ۔۔
زویا کی آواز فون سے ہوتی روحان کے کانوں سے بھی ٹکرائی تھی ایک منٹ لگا تھا اسے یہ آواز پہچاننے میں۔۔
“نہیں ابھی نہیں تم جاؤ بیٹھو میں آتا ہوں” زارون نے فون کان سے ہٹاکر اسے جانے کا کہا ۔۔۔
“لیکن زارون میں” زویا پھر سے بولی تھی اور روحان کے کانوں پھر اسکی آواز گونجی تھی ۔۔
“میں آرہا ہوں فون پہ کچھ ضروری بات کر رہا ہوں” وہ فون دوبارہ کان سے لگا گیا تھا اور زویا واپس مڑ گئی۔۔
روحان نے پہلے اپنی گھڑی میں ٹائم دیکھا پھر آسٹریلیا اور پاکستان ٹائم کا اندازہ لگایا پاکستان میں اس وقت رات کا ایک بج رہا ہے۔۔
“ہیلو”۔۔ زارون روحان کو خاموش پاکر پھر سے بولا ۔۔
“یہ کون تھی اس وقت کس کی آواز ابھی میں نے سنی”
زارون خاموش رہا اسے اپنے بھائی سے اس سوال کی امید نہیں تھی۔۔
“میرے ساتھ اس وقت کوئی بھی ہو آپ کو کیا فرق پڑتا ہے”۔۔
“فرق پڑتا ہے” ۔۔
” اس وقت رات کا ایک بج رہا ہے زویا اس وقت تمہارے ساتھ کیا کر رہی ہے” روحان غصہ میں جیسے ہوش کھو بیٹھا ہو اور اپنے بھائی سے بغیر سوچے سمجھے کیا کچھ کہہ گیا۔۔
“ہاں تو یہی کہہ رہا ہوں نا کوئی بھی۔۔ زویا یا کوئی”۔۔ ایک برابر ہے”۔۔وہ بڑے تحمل سے بولا تھا ۔۔۔
“زویا میری بیوی ہے”۔۔
“نہیں آپ تو نہیں مانتے اسے بیوی۔۔۔ پھر اسکا میرے ساتھ ہونے سے آپ کو کیا اعتراض”۔۔۔
“شٹ اپ زارون “روحان کا پارہ مزید ہائی ہوا۔۔
“اس وقت رات کے ایک بجے میں آپ کی منکوحہ کے ساتھ اسپتال میں موجود ہوں انکی ماں کی حالت کافی خراب اور وہ ایڈمٹ ہیں یہاں تو رات کو انکو میں اکیلا یہاں نہیں چھوڑ سکتا”۔۔
“آفٹر آل میرے بھائی کی بھی کچھ لگتی ہیں اس لیۓ میں انکے ساتھ۔”۔
“مسٹر آپ کے پیشنٹ کو ہوش آگیا ہے” ایک نرس زارون کے پاس آکر بولی۔۔
اس نرس کی آواز روحان نے بھی سنی تھی۔۔۔اوکے نرس ہم آتے ہیں۔۔
زارون کو بہت برا لگا تھا روحان کا یوں اس پہ شک کرنا اس لیۓ بڑے تحمل اسنے روحان کا طنزیہ سا جواب دیا اور فون کٹ کر کرکے پاکٹ میں ڈال کر زویا کی طرف بڑھ گیا۔۔
ہیلو ۔۔ ہیلو۔۔زارون فون کٹ کر چکا تھا۔۔ “شٹ یہ میں کیا کہہ گیا زارون سے وہ کیا سوچے گا میرے بارے” ۔۔
روحان آفس میں بیٹھا تھا وہ ابھی آیا تھا پھر زارون سے بات ہوئی مگر اب جو ہوچکا وہ اسے لیکر ڈسٹرب تھا صبح ساڑھے سات بجے تھے آسٹریلیا میں اس وقت ۔۔۔
تبھی آفس میں وقار عرف وکی کی اینٹری ہوئی تھی اسے پریشان دیکھ کر وہ اس کے سامنے کرسی پہ بیٹھا تھا۔۔
“او کی ہوا اے (کیا ہوا ہے) سویرے ای سویرے ٹینشن ہوا پڑا ہے او دس مینو کی گل (بات) اے۔۔
“وکی یار تو اس وقت میرے کیبن میں “۔۔
“ہاں تو میری چھڈ(چھوڑ) اپنی سنا۔۔۔کیا ہوا ہے بوتھا (منہ) کیوں سوجھا ہوا ہے تیرا۔۔ پریشان سا ہے”۔۔
“کچھ نہی۔ بس ویسے ہی”۔۔
“ویسے تو نہیں ہے کچھ ہے۔۔ او یار بتا بھی دے اب”۔۔
“بس یار زارون سے ہو گئی ہے نوک جھوک ناراض ہوگیا ہے غلطی بھی میری ہے۔۔ میں ہی اس سے روڈ ہوگیا تھا”۔۔اصل بات وہ چھپا گیا تھا۔۔
“یار تو چلا کیوں نہیں جاتا پاکستان واپس اپنے کار(گھر)خود بھی بے سکون ہے کر(گھر) والوں کو بھی بےسکون کیا ہواہے”۔۔۔وکی نے ہمیشہ سے کی جانے والی بات پھر سے دھرائی تھی۔۔
“ہاں چلا جاؤں گا جب ڈیڈ میری بات مان لیں گے اس سے میری جان چھڑا دیں”۔۔
“اچھا تو تونےاپنے ڈیڈ کو اس آفت کے بارے میں بتایا جو تو ایتھے(ادھر)لیۓ کوم(گھوم) رہا ہے ہیں”۔۔
“نہیں یار وکی یہی بات تو میں نہیں انھیں بتا پا رہا پتا نہیں انکا کیا ریکشن ہوگا ماریہ کو لیکر”۔۔یہی تو روحان کی پریشانی تھی۔۔
“ہاۓ گائیز “۔۔ماریہ کی اینٹری ہوئی وہ ہاتھ لہراتی اندر آئی تھی۔۔
“آگئی آفت”۔۔وکی کے نے ہلکی آواز میں کہا تھا جو صرف روحان نے سنا تھا ۔۔اور اس نے اسے آنکھیں دکھائی ۔۔تو وکی نے بتیسی دکھائی تھی۔۔
وہ ماڈرن لباس پہنے ییلوسلیولیس شرٹ کے ساتھ براؤن سکرٹ پہنے جو گھٹنوں سے تھوڑا نیچے تھے اسٹریٹ گولڈن شولڈر کٹ بال کھلے چھوڑےسفید رنگت ہاۓ ہیل پہنے ٹک ٹک کرتی وکی کے برابر والی چئیر پہ بیٹھی ۔۔
“تم صبح یہاں کیا کر رہے ہو” ماریہ نے وکی سے پوچھا۔۔
“یہی سوال میں تم سے کروں ؟”وکی نے بھی الٹا سوال پوچھا۔۔
“روحان میرا بی ایف ہے۔۔”
“تو روحان میرا بھی بی ایف ہے آئی مین بیسٹ فرینڈ ہے”۔۔وکی نے بھی دوبدو جواب دیا۔۔
“اسٹاپ اٹ یار۔۔”
“وکی جاؤ تم ابھی۔” انہیں آپس میں الجھتا دیکھ روحان بول پڑا
“واہ جی واہ ۔۔میں جاؤ اب میری کیا ضرورت ہے”۔۔وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔
“یہاں ایک بھی نہیں پٹ رہی اور لوگ تو دو دو لیۓ پھر رہیں ہیں” ۔۔وکی منہ میں ہی بڑبڑایا مگر ماریہ نے سن لیا..
“دو دو سے کیا مطلب ہے تمہارا ہاں “ماریہ تڑخ کر بولی تھی۔۔
“روحان نے کڑے تیوروں سے وکی کو گھورا تھا۔۔”
“وہ اپنا جونس نہیں وہ اسکی بات کررہا تھا میں۔۔ ای ایلی کے ساتھ ڈیٹ ۔۔ڈیٹ کر رہا ہے شادی شدہ ہے ۔۔ گھر بھی موجیں بار بھی۔۔”
“کون جونس کون ایلی ۔۔۔”ماریہ کو اسکی ایک نا سمجھ آئی..
“تجھے بتا دیا تو تو کر(گھر) جا کہ اسکا بھانڈا پھوڑ دے گی ہے تو تو پوری پھپنے کٹنی”۔۔
“وکی۔”۔روحان نے دانت پیسے تھے۔۔اورآنکھوں سے دفعہ ہونے کا اشارہ کیا تھا۔۔
اور وہ منہ بگاڑتا وہاں سے چلا گیا تھا۔۔
” بولو ماریہ تم کیا کام تھا” ۔۔
“روحان کتنے دن ہوگۓ ہیں تم مجھے ٹائم نہیں دے رہے۔۔آج کوئی پروگرام بناتے ہیں ڈنر ایک ساتھ کریں گے اور بہت سارا ٹائم اسپینڈ کریں گے ساتھ میں”۔۔۔ ماریہ نے ایکسائیٹڈ ہوکر اپنا پلین بتایا تھا۔۔
“ہہم اوکے آج زیادہ کام نہیں ہے” روحان نے مسکراتے ہوۓ کہا تھا۔۔
“روحان یاد رکھنا شام کو ملتے ہیں باۓ ” ۔۔ ماریہ لیٹ ہو رہی تھی آفس کیلۓ اس لئے بات ختم کرتی اٹھ گئی۔۔
اسکے جاتے ہی روحان نے سر کرسی سے ساتھ ٹکا دیا اور آنکھیں زور سے میچیں تھیں کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرے۔۔
پھر آنکھیں کھول کر سیدھا ہوگیا اور لیپ ٹیپ پہ تیزی سے انگلیاں چلانے لگ گیا۔۔۔ کام میں مصروف ہوکر گھر کو بھول سکے۔۔