94.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Beparwah) Episode 5

صبح کے دس بجے زرتاج کی آنکھیں کھلی تھیں اب وہ اپنے آپ کو ہلکا پھلکا محسوس کر رہی تھی۔۔
کمرے میں نظر دوڑائی تو روحا نہیں تھی وہ اپنے کالج کیلۓ جاچکی تھی۔۔
وہ اٹھ کر واشروم گئی گرم پانی سے منہ ہاتھ دھویا پھر سامنے شیشے میں اپنا چہرہ دیکھنے لگی کافی حد تک پہلے سے زیادہ ٹھیک لگ رہا تھا بخار کی وجہ سے چہرہ لال سرخ ہو رہا تھا۔۔
پھر سیڑھیاں اتر کر نیچے آئی تھی ۔۔ زویا حسب معمول کچن کے کاموں میں مصروف تھی۔۔
سیما لاؤنج میں ٹی وی دیکھ رہی تھی۔۔ زارون اور عالم جا چکے تھے گھر میں صرف وہی تھی۔۔سامنے سفینہ چلتی ہوئی زری کے پاس آکررکی۔۔ پیار سے اس کا سر سہلا تے پوچھا تھا “کیسی ہو میری بچی طبیعت کیسی ہے تمہاری۔۔”
“ٹھیک ہوں ماما پہلے سے کافی بہتر ہوں “زرتاج اپنی ماں کا ہاتھ پکڑ کر بولی تھی۔۔۔
جب کہ سیما خاموشی بیٹھی رہی۔۔
“زویا زری کیلۓ ناشتہ بنا دو وہ اٹھ گئی ہے” سفینہ نے وہیں سے کھڑے ہوکر زویا کو آواز لگائی تھی۔۔
“میں دیکھتی ہوں ماما “زرتاج کچن کی طرف بڑھ گئی۔۔ سفینہ نے افسوس سے سیما کی طرف دیکھا تھا جو ان دونوں سے بے نیاز ٹیوی دیکھنے میں مصروف تھی جس نے انکی بچی کا حال تک نہیں پوچھا تھا۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
پورا ایک ہفتہ ہو گیا تھا اس واقعے کو پورا ہفتہ زرتاج یونیورسٹی نہیں گئی تھی۔۔
سب بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے سوائے زرتاج کے آج بھی وہ غیر موجود تھی ناشتے پر۔۔
عالم صاحب نے نوٹ کیا تھا کہ سفینہ سے پوچھنے لگے “زرتاج کیوں نہیں آئی آج ناشتے پہ۔۔ اسے یونیورسٹی نہیں جانا کیا پورا ہفتہ ہوا ہے اسے چھٹیاں کرتے ہوئے اب تو وہ بالکل ٹھیک ہو چکی ہے”۔۔
” وہ بھائی صاحب اس نے جانے سے منع کردیا میں نے پوچھا تھا اس سے”۔۔سفینہ بول رہی تھی..
” ناز نخرے اٹھانے کا شوق ہے دونوں مہارانیوں کو”۔۔ سیما کی بے تکی بات پہ عالم میں اسے گھورا تھا۔۔
زارون کب سے خاموش بیٹھا تھا بول پڑا۔۔ “زویا جاؤ بلاکر لاؤ زرتاج کو یونیورسٹی جانا ہے”۔۔
” میں نہیں جا رہی ہوں اسے بلانے کے لیے سنتی نہیں وہ کسی کی بات” زویا نے صاف انکار کر دیا ۔۔
زارون اٹھا تھا اور سیڑھیاں چڑھتا زرتاج کے کمرے میں آیا تھا وہ کھڑکی کے پاس گم سم سی کھڑی نیچے لان میں دیکھ رہی تھی۔۔زارون اس کے بلکل پیچھے کھڑا ہوا تھا ۔۔
“کیا تماشہ لگا رکھا ہے تم نے یونی کیوں نہیں جانا ہاں”۔۔زارون کی اچانک آواز سننے سے ہوش میں آئی تھی مگر اپنی جگہ سے ہلی نہیں تھی ۔۔اگر ہلتی تو اس سے ضرور ٹکراتی۔۔
“میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں” بازو سے پکڑ اسکا رخ اپنی جانب کیا تھا ۔۔بازو ابھی بھی اسکی مضبوط پکڑ میں تھا ۔۔
“چھوڑو مجھے”۔۔وہ اس سے اپنا بازو چھڑا نے کی کوشش کرنے لگی تھی۔۔”چھوڑو مجھے ورنہ میں سب کچھ بتا دوں گی سب کو اس دن کے بارے میں”۔۔
“اچھا چلو ٹھیک ہے۔”۔ وہ اسکا بازو پکڑے کھینچتا ہوا کمرے کے دروازے تک لایا تھا۔۔
“چھوڑو چھوڑو مجھے نہی جانا باہر” ۔۔ وہ اس سے اپنا بازو چھڑاتی دبی دبی سی آواز میں چیخی تھی۔۔
زارون نے جھٹکے سے اسکا بازو چھوڑا تھا۔۔
“پانچ ۔۔پانچ منٹ ہیں تمہارے پاس “وہ اپنا ہاتھ دکھاتے بولا ۔۔”جلدی تیار ہو کر باہر آؤ میں یہی دروازے پہ کھڑا ہوں” “ورنہ میں خود بتاؤں گا نیچے جا کر سب کو اس۔ دن کے بارے میں ۔۔میرا جو ہوگا سو ہوگا چاچی تمہیں ضرور اس گھر سے چلتا کریں گی۔۔”
ٹھیک پانچ منٹ بعد وہ تیار ہوکر باہر آئی تھی اسکن اور براؤن کلر کا سادہ سا سوٹ پہنے باہر آئی تھی اسکی دھمکی کام کر گئی تھی۔۔وہ ہلکا سا مسکایا تھا پھر چلنے لگا تھا وہ اسکے پیچھے چلنے لگی تھی۔۔اور دونوں سیڑھیاں اترتے نیچے آرہے تھے سب کی ان پہ نظر پڑی تھی۔۔عالم اور سفینہ مسکراۓ تھے۔۔ جبکہ سیما منہ بسورتی رہ گئی تھی۔۔
زارون اپنی جگہ پہ بیٹھ کر پھر سے ناشتہ کرنے لگا تھا۔۔زرتاج بھی منہ بناتی زویا کے برابر میں بیٹھ گئی تھی۔۔زویا نے اسکے آگے سینڈوچ اور جوس رکھا تھا مگر اسنے صرف جوس ہی پیا تھا ۔۔
“چلو” زاورون کھڑا ہوتا زرتاج سے مخاطب ہوا تھا وہ بھی چپ چاپ اٹھ کر اسکے پیچھے باہر چل دی تھی۔۔
روحا کو تو یہ بات ہضم ہی نہیں ہو رہی تھی وہ جو زویا کے دوسری سائیڈ بیٹھی کب سے یہ منظر نوٹ کر رہی تھی زویا کے کان کے پاس جا کر سرغوشی میں بولی تھی۔۔”زوئی بھابھی یہ دونوں میں اتنا امن کیوں ہیں” ۔۔زویا نے کندھے اچکاۓ تھے پتہ نہیں ۔۔”پتہ کرنا پڑے گا اتنی شانتی کیوں ہے دونوں کے درمیان “روحا پھر آہستہ سے بولی تھی۔۔
“روحا ناشتہ کرو تمہاری بس آنے والی ہے “سیما نے انکو آپس میں کھسر پھسر کرتا دیکھ کر ٹوکا تھا۔۔
“جی مام” زویا کو آنکھ ماری تھی روحا نے۔۔ زویا نے اسے آنکھیں دکھائی تھیں۔۔
🥀🥀🥀🥀
دونوں چپ چاپ یونی پہنچے تھے رستہ میں انکی آپس میں کوئی بات نہیں ہوئی تھی ایسا بہت کم ہی یوتا تھا۔۔
وہ اپنی کلاس کی طرف بڑھ گئی تھی اور وہ اپنی کلاس کی طرف چلا گیا تھا۔۔
ارم زری کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی تھی “زری تم ٹھیک ہو ابھی مجھے تو لگتا تھا تم آج بھی نہیں آؤں گی”۔۔
پھر کلاس میں ٹیچر آ گۓ تھے اور وہ دونوں خاموش ہو گئی تھی۔۔ کلاس ختم ہونے کے بعد وہ دونوں باہر آئی تھی۔۔۔
“زری تم مجھے پریشان سی لگ رہی ہو کیا بات ہے”۔۔ زرتاج کو چپ دیکھ کر بولی وہ چپ رہنے والوں میں سے تو نہیں تھی۔۔
زرتاج کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔۔ ارم پریشان سی ہوئی اسے پکڑ کر بینچ پر بٹھایا تھا کیا ہوا ہے ذری مجھے ٹینشن ہو رہی ہے بتاؤ کیا بات ہے۔۔
اور زرتاج نے اس دن کا سارا واقعہ اسکے گوش گزار دیا۔۔
“ارم اس کے گلے لگ کر بولی شکر ہے زرتاج تم ٹھیک ہو تمہیں کچھ نہیں ہوا۔”۔
” یہ سب زارون کی وجہ سے ہوا ہے اس کے بے جا بیر کی وجہ سے اس سب کا زمہ دار وہ ہے”۔۔ وہ روتے ہوۓ بول رہی تھی۔۔
“ہاں ہوں زمہ دار مگر یہ کیوں بھول گئی ہو کہ تمہیں بچایا بھی ہے۔”۔
پیچھے سے آتی بھاری مردانہ آواز پہ دونوں نے اچانک کر مںہ موڑ کر پیچھے دیکھا ۔۔زارون چلتا ہوا انکے سامنے جا کھڑا ہوا تھا۔۔
زرتاج بھی اس کے سامنے کھڑی ہوئی تھی اب وہ دونوں آمنے سامنے کھڑے تھے۔۔
“تو نہ کرتے یہ احسان مجھ پر مرجانے دیا ہوتا مجھے تم خوش ہوجاتے” وہ رندھی ہوئی آواز میں بولی تھی رونے سے اسکی آواز بھاری ہو رہی تھی۔۔
“بکواس مت کرو میرے سامنے” اسکی بے تکی بات پہ غصہ سے اسکی رگیں تن گئی تھیں۔۔وہ اسکی چاچو کی نہی اسکے گھر کی بھی اسکی بھی اتنی ہی عزت تھی۔۔وہ کیسے اسے چھوڑدیتا بھیڑیوں میں۔۔
“کیا ہوگیا تم دونوں کو ” ارم ان دونوں کے درمیان آکر کھڑی ہوئی تھی۔۔ ایک نظر زارون کی طرف دیکھا اور پھر زرتاج کی طرف ۔۔
“اپنا نا صحیح مگر اپنے مرے ہوے باپ “زرتاج کی طرف دیکھ کر پھر زارون کی طرف منہ موڑا ور “چاچو کی عزت کا خیال کرلو آخر پرابلم کیا ہے تم دونوں کی کس بات کی لڑائی ہے”۔۔
“اسکے بھائی نے میری بہن کا سکون برباد کیا” زرتاج انگلی اسکی طرف اٹھا کر کہا۔۔ “اور یہ میرا سکون برباد کرنے پہ طلا ہوا ہے “پھر خود کی طرف انگلی سے اشارہ کیا۔۔ ہچکیوں میں اپنی بات مکمل کی تھی اسنے۔۔
“تمہاری بہن کی وجہ سے ہی میرا بھائی ہم سب سے دور بیٹھا ہے “اسے پھر سے اسکی باتوں پہ غصہ آیا تھا۔۔
“میری بہن کیا قصور ہے زویا کا اسے کیوں قصوروار ٹھرا رہے ہو اسنے تو بڑوں کے فیصلے کے آگے اپنا سر جھکایا تھا۔۔تمہارا بھائی ہی کمظرف نکلا اس میں ہمت ہی نہیں” ۔۔
“شٹ اپ “۔۔زارون اسکی بات آدھے میں کاٹ کر اسکی طرف بڑھا تھا کہ ارم نے اسکا بازو دونوں ہاتھوں سے مضبوطی سے پکڑا تھا۔۔”زارون پلیز” ۔۔
“یہ زویا اور روحان کا مسئلہ ہے انکی لائف ہے انکی پرابلم ہیں انکی وجہ سے تم دونوں خامخواہ ایک دوسرے کو تباہ کرنے پہ طلے ہوۓ ہو”۔۔
“تم دونوں کا کیا مسئلہ کس بات کا ایشو بنایا ہوا ہے کیا تم دونوں کا نکاح ہوا ہے”۔۔
“ان دونوں کی جگہ تم دونوں کو ہونا چاہیۓ تھا تاکہ کوئی وجہ تو ہوتی تم دونوں کے درمیان لڑنے کی”۔۔آخری بات ارم نے بڑے آرام سے بولی تھی۔۔اب وہ ہاتھ باندھے دونوں کے شاکنگ ایکسپریشن انجواۓ کر رہی تھی۔۔
“تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے” وہ ارم کی کنپٹی پہ انگلی مارتا وہاں سے چلا گیا تھا۔۔جبکہ ارم کو اپنی ہنسی کنٹرول کرنی مشکل ہو رہی تھی۔۔
جبکہ زرتاج اسے اب خونخوار نگاہوں سے گھور رہی تھی “یہ کیا بکواس کر رہی تھی تم “زرتاج نے دانت پیسے تھے۔۔
“اب ایسا بھی کیا بول دیا میں نے” ارم نے بڑے آرام سے کہا تھا ۔۔زرتاج نے اسکی کمر پہ مکا جڑ دیا تھا ۔۔
“ہاۓ ظالم مار دیا اللہ کرے تیری شادی زارووون سے ہی ہو”۔۔
زرتاج نے ایک اور مکا مارا تھا۔۔ پھر ارم نے کان پکڑے تھے تو وہ دونوں مسکرا دی ۔۔
چھٹی ہوئی تو دونوں باتیں کرتی باہر نکلی تھیں ارم باۓ بولتی اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئی تھی۔۔
زرتاج وہیں کھڑی تھی زارون گاڑی میں بیٹھا اسکا ہی انتظار کر رہا تھا ۔۔وہ گاڑی کی طرف جانے کے بجاۓ رکشہ کی طرف بڑھ گئی تھی۔۔ زارون نے اسے رکشہ کی طرف جاتا دیکھ تیزی سے گاڑی سے اتر کر اسکے سامنے آیا تھا ۔۔
“زرتاج گاڑی میں بیٹھو” اسنے ہلکی مگر سخت آواز میں کہا تھا مگر زرتاج اسے ان سنا کیۓ اسکے پاس سے گزرنے لگی تھی ۔۔
زارون پھر اسکے سامنے آیا تھا “زری میں تم سے بحث کرنے کے موڈ میں نہیں شرافت سے گاڑی میں بیٹھو جا کر تماشہ مت بناؤ” اسنے گاڑی کی طرف اشارا کر کے اسے کہا تھا ۔۔
وہ چپ چاپ گاڑی کی طرف بڑھ گئی تھی زارون بھی اسکے پیچھے گاڑی کی طرف آیا تھا اسنے زرتاج کیلۓ فرنٹ سیٹ کا ڈور کھولا تو چپ چاپ بیٹھ گئی تھی۔۔ زارون نے بھی اپنی نشست سنبھالی تھی اور گاڑی گھر کے رستہ پہ ڈالی تھی۔۔
“یہ کیا تماشہ تھا ابھی جو تم پھر سے لگانے چلی تھی جب پتہ تھا میں تمہارا گاڑی میں ویٹ کررہا ہوں تو کیوں میرا پارہ ہائی کرتی رہتی ہو تم”۔۔تھوڑی دیر خاموشی کہ بعد زارون بولا تھا اسے ابھی بھی اسکی ابھی تھوڑی دیر پہلے کی گئی حرکت پہ غصہ آرہا تھا کیسے وہ اسے اگنور کرکہ رکشہ کی طرف بڑھی تھی۔۔
زرتاج گیٹ کھولنے لگ گئی تھی جو کہ لاک تھا کھولو دروازہ نہیں جانا تمہارے ساتھ مجھے کھولو ۔۔وہ چلا رہی تھی دونوں اپنی ٹون میں واپس آۓ تھے۔۔
“آج یہ دروازہ نہیں کھلنے ولا تم گھر میرے ساتھ ہی جاؤ گی چپ کر کے بیٹھ جاؤ” وہ بڑے آرام سے گاڑی چلاتا ہوا سامنے دیکھتے بولا تھا۔۔
زرتاج کڑھتی چپ کر کے بیٹھ گئی تھی۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
رات کے کھانے کے بعد سب بڑے اپنے کمروں میں جا چکے تھے۔۔ وہ تینوں ٹی وی لاؤنج میں بیٹھی اس وقت اپنا فیورٹ کمیڈی شو دیکھ رہیں تھیں چاۓ کا مگ ہاتھ میں تھامے ہنس رہیں تھیں ۔۔ہمیشہ کی طرح زارون کی بھی اینٹری ہوئی تھی وہاں پہ انکے پروگرام میں خلل ڈالنے۔۔
پہلے تو زرتاج اسے دیکھتے ہی ریموٹ اپنے قبضہ میں لےلیتی تھی مگر آج اسنے ایسا نہیں کیا تھا ۔۔ خاموشی سے اپنی جگہ پہ بیٹھی رہی۔۔
صوفے پہ وہ تینوں بیٹھی تھی لائن سے روحہ پھر زویا پھر زرتاج۔۔زارون کو دیکھتے زویا نے اسے کھڑے ہو کر جگہ دی تھی بیٹھنے کیلۓ۔۔
“زویا ون کپ کافی پلیز” ۔۔زارون بیٹھتا بولا تھا۔ ۔۔۔
“اوکے”۔ زویا کچن میں چلی گئی جبکہ زارون زویا کی خالی جگہ پہ بیٹھ گیا ۔۔زرتاج ٹیوی میں نظریں گاڑے بت بنی بیٹھی تھی۔۔
زارون نے ریموٹ اٹھا کر چینل چینج کیا تھا سپورٹ چینل لگایا تھا جس سے زرتاج کوسخت چڑ تھی۔۔زرتاج خاموش رہی پھر بھی ویسی ہی پوزیشن میں بیٹھی رہی تھی۔۔
روحہ نے زرتاج کی چپی دیکھ کر زارون کو کاندھے پہ کہنی رکھے اسکے کان پہ پاس ہو کر بولی تھی۔۔
“برو یہ زری کیوں چپ ہے وہ کوئی ری ایکشن ہی نہی دے رہی آپ کی کسی بات کا۔”۔
“کہیں تمہاری بیسٹی کے سر پہ چوٹ تو نہیں آگئی بیچاری کی یاداشت چلی گئی ہو یا پھر اسے عقل آگئی ہو بڑوں کی ریسپیکٹ کرنی چاہئے”۔۔زارون نے بھی رازداری کے انداز میں ہلکی آواز میں کہا جو زرتاج کے کانوں سے مخفی نہ تھی۔۔
زرتاج جل بھن کر اٹھی تھی وہاں سے بنا کچھ بولے وہاں سے پیر پٹختی نکل گئی تھی۔۔
اسکو جاتا دیکھ دونوں کی ہنسی نکلی تھی۔۔روحہ اب سیریس ہوئی تھی” بھائی سچ سچ بولیں کیا بات ہوئی آپ دونوں میں” ۔۔
“کافی “۔۔زویا کافی لیکر حاضر ہوئی تھی۔۔
زارون نے اسے بغور دیکھتے کافی تھامی تھی اور وہاں رکی نہیں تھی اسے کافی دیتے ہی چلی گئی تھی۔۔آج پہلی بار زارون نے زویا کو غور سے دیکھا تھا بجھا بجھا سا چہرہ ویران آنکھیں زبردستی مسکراہٹ سجاۓ ہونٹ اور اپنے بیہیو پہ شرمسار سا ہوا تھا۔۔
“بھائی”روحانے اسکا کاندھا زور سے ہلایا تھا تو وہ اپنے خیالوں سے باہر آیا تھا۔۔
“کیا ہوا ہے کہا کھو گۓمیں کیا پوچھ رہی تھی اسکا جواب دیں” ۔۔
“کچھ نہیں تم جاؤ یہاں سے” زارون سخت لہجہ میں بولا روحا ڈر کے پیچھے ہوئی تھی۔۔
پھر زارون کو اپنے رویہ کا احساس ہوا تو آرام سے بولا تھا
” روحا بیٹا صبح جلدی بھی اٹھنا ہے آنکھ نہی کھلے گی تو لیٹ ہو جاؤ گی” مسکرا کر اسکی گال تھپ تھپائی۔۔
روحا بنا کچھ بولے وہاں سے اٹھ کر چلی گیئ تھی۔۔
وہ وہیں بیٹھا سوچتا رہا تھا ۔۔۔وہ ہمیشہ سے اپنے بھائی کے سائیڈ لیتا آیا تھا اسے روحان ہی ٹھیک لگا تھا اسنے کبھی زویا کے بارے میں سوچا ہی نہیں تھا زیادتی تو زویا کے ساتھ بھی ہوئی ہے اگر قصوروار روحان نہیں ہے تو قصور زویا کا بھی نہیں ہے ۔۔یہ وقت کا تقاضا تھا حالات ہی کچھ ایسے تھے ایک طرف دادا کی ضد تو دوسری طرف پوتے کی ضد ۔۔۔
زویا بندھ چکی ہے روحان کے نام کے ساتھ مگر روحان وہ تو اب بھی آزاد ہے اور ایک لڑکی کے ساتھ ریلیشن میں بھی ہے روحان نے کئی بار زارون سے بھی زکر کیا تھاکسی لڑکی کا کہ وہ اسی سے شادی کرے گا ۔۔
زارون کا سوچ سوچ کر سر درد بڑھتا جا رہا تھا اسے مسئلہ کا حل نکالنا ہوگا ورنہ روحان کی ضد اس گھر کو بکھیر کر رکھ دے گی۔.
🌹🌹🌹🌹
جاری ہے