Beparwah Season 1 By Ayesha Noor Readelle50280 (Beparwah) Episode 10
Rate this Novel
(Beparwah) Episode 10
زارون کمرے میں آیا اپنی شرٹ اتاری اور واشروم چلا گیا منہ ہاتھ دھو کر باہر آیا۔ الماری سے وائٹ ٹی شرٹ نکال کر پہنی ۔۔
وہ جب سے گھر سے گیا تھا بس سڑکوں کی ہی خاک چھانتا رہا پھر اپنی ماں کا خیال آیا کہ انہیں اسکی وجہ سے کتنی شرمندگی ہوگی یہی سوچ کر وہ گھر آیا۔۔
زارون نے شینا خالہ کی ساری باتیں سن لی تھی کیسے وہ وہ اسکی ماں کو باتیں سنا رہی تھیں ۔۔
اسے اس وقت غصہ تو بہت آیا مگر وہ اپنی ماں کی وجہ سے خاموش ہوگیا اور خود کو ریلیکس کر کے وہاں آیا تھا خوشگوار موڈ میں ان سے ملا ۔۔
“زویا ۔۔زویا نے زری کو دیکھ کر منہ پھیر لیا۔۔ زویا
کس سے چھپا رہی ہو یہ آنسو مجھے نہیں پتا کیا۔۔”
“زری کیا واقعی روحان وہاں کسی کے ساتھ۔۔”
زرتاج نے اسے گلے لگا یا تو وہ اسکے کندھے لگی سسکنے لگی تھی۔۔۔ زرتاج نے اسے تسلی دی تھی ۔۔
“بسس کرو زویا اینوی کسی کی باتوں میں آکر تم یوں رونے لگ جاؤ۔۔”
“ایسا کچھ نہیں بسس ٹرسٹ می یار روحان بھائی ایسا نہیں کرسکتے۔۔جاؤ تم جا کر آرام کرلو میں ہوں نا دیکھ لوں گی۔۔”
“پہلے تم اس زارون کی چاۓ بنادو”اسنے اکتا کہ کہا ۔۔
زویا کو ہنسی آئی تھی ۔۔
“زارون آگیا۔۔”
“ہاں آگیا ہے آرڈر دے کر گۓ ہیں نواب صاحب۔۔”
زارون کچھ دیر میں نیچے آیا تھا اور جا کر انکے سامنے بیٹھ گیا۔۔شائنہ کی نظریں تو اس پر جیسے ٹھہر سی گئی ہوں ۔۔نکھرا نکھرا سا وائٹ ٹی شرٹ پہنے جس میں ہاف بازو سے نمایا ہوتے مسلز سفید رنگت تیکھے نین نقوش اسے کافی اٹریکٹ کر رہی تھی۔۔
“تھوڑی دیر میں زری اسکے سامنے چاۓ لیکر آئی۔۔ چاۓ “
زری نے شائنہ کو دیکھا جو شرمائی سی مسکرا رہی تھی زارون کو دیکھ ۔۔ زارون نے چاۓ تھامی تو زرتاج اسے دیکھ کر مسکرا رہی تھی اور ساتھ آنکھ سے شائنہ کی طرف اشارہ کیا جو شرما رہی تھی ۔۔ زارون نے اسے گھورا تھا۔۔ اور وہ بھی ایک دباتی بھاگ گئی۔۔ زارون اپنی چاۓ پینے لگ گیا اور شائنہ کودیکھ کر مسنوعی سا مسکرا یا تو وہ اور شرماگئی ۔۔زارون کا دل کیا اسے منظر سے غائب کردے یا خود غائب ہوجاۓ۔۔
وہ دونوں جا چکی تھیں رات کے تقریباً ساڑے گیارا ہو رہے تھے جب زارون کچن میں آیا تو زویا بھی کچن میں موجود تھی۔۔
“تم ابھی یہیں ہو سوئی نہیں ۔۔”
“نہیں بس جا رہی تھی۔”۔ تم یہاں کچھ چاہیۓ تھا۔۔”
“ہاں چاہیۓ ۔۔”
“کیا۔۔”
“تمہاری کھوئی ہوئی مسکراہٹ “۔۔وہ کچن میں رکھی کرسی پہ بیٹھ گیا۔۔
تو وہ مصنوعی سا مسکرائی تھی۔۔
“ہاہاہا بہت بڑی ڈرامے باز ہو ۔۔”
“تم سے تو کم ہی ہوں کیوں بھاگے تھے گھر سے آج آخر تم نے بھی ثابت کر ہی دیا نا کس کے بھائی ہو”۔۔۔
“زویا جو بات مام کہہ رہی ہیں وہ میں نہیں مان سکتا “۔۔
“پر کیوں نہیں مان سکتے”۔۔زویا نے کہا
“یار وہ کچھ زیادہ اٹیٹیوڈ میں رہتی ہے خود سر سی ہے۔۔”
“اب ایسا بھی نہیں سب ہی لڑکیاں آجکل ایسی ہی ہوتی ہیں “۔۔
“مگر تم تو نہیں ہو”۔۔
“تمہاری ہر بات مجھ پر ہی کیوں آکر رک جاتی ہے۔۔”
“مان جاؤ نا پلیز شائنہ کو تم جیسا بناؤ گے وہ ویسی بن جاۓ گی اپنے اچھے بیہیو سے”۔۔
“تمہاے پیرینٹس کل کتنا پریشان ہوۓ تھے؟۔۔
“چلو جی بھابھی صاحبہ آپ کہتی ہیں تو مان جاتے مگر آپ کو گارنٹی دینی ہوگی بس”۔۔
میں گارنٹی دیتی ہوں شائنہ کی بسس!
“چلے پھر کافی بنائیں ہمارے لیۓ اچھی سی کل ہی میں مام کو اوکے بول دوں گا۔”۔
“یہ ہوئی نا بات زویا کھل کر مسکرائی تھی”۔۔دل سے
ہاۓ یہی تو چاہۓ تھی آپ کی مسکان۔۔
“باتیں کم بنایا کرو” زویا کافی بنانے لگی تھی۔۔
تب ہی زارون کا فون بجنے لگا۔۔
ہیلو۔۔ تھینکس زارون تم نے فون تو اٹھایا میرا کتنے دن ہوگۓ بات ہی نہیں کر رہے تھے۔۔ سوری میرے بھائی پتا نہیں میں کیا بول گیا تھا میں خود شرمندہ ہوں۔۔”
اٹس اوکے” ۔۔ بس دو لفظی جواب دیا
“تم سو تو نہیں گۓ تھے “روحان نے پوچھا۔۔
“نہیں بھائی صاحب میں اس وقت کچن میں ہوں آپ کی بیگم کے ساتھ کافی بنا رہی ہیں میرے لۓ”۔۔بیگم پہ زور دے کر کہا۔۔
زویا مگ میں کافی ڈال رہی تھی ایک پل کیلۓ اسکے ہاتھ رکے تھے۔۔
زویا کافی کا کپ اسکے سامنے رکھا اور جلدی سے چلی گئی ۔۔
“سوری یار اور کتنا شرمندہ کرے گا۔”
زارون مگ اٹھا کر اپنے کمرے میں آگیا۔۔
“بات روحان اعتبار کی ہے جو تم نہیں کرتے تم وہاں خود کسی کے ساتھ ریلیشن میں ہو مگر اپنی بیوی کو تم کسی ساتھ برداشت نہیں کرسکتے”۔۔۔زارون نے روحان کو آئینہ دکھایا تھا۔۔۔
“وہ جو مرضی کرتی پھرے مجھے نہیں پرواہ۔۔”
“اتنے بے پرواہ مت بنے آپ”۔۔۔
“بسس اب تم اسکی وقالت کرنا شروع ہو جاؤ ۔”
“اچھا مام میرا شائنہ سے رشتہ کر رہی ہیں ۔۔
“واٹ پھر کیا تم تو راضی نہیں تھے پھر کیسے کررہی ہیں رشتہ۔۔”
” راضی نہیں تھا پر اب ہوں۔۔”
“اب ہوں کا کیا مطلب یار جو میرے ساتھ کیا اب وہی تمہارے ساتھ کر رہے ہیں اور تم مان بھی گئے یار۔۔'”
“میں مام کو شرمندہ نہیں کرسکتا شادی تو کرنی ہی ہے پھر شائنہ ہو یا کوئی بھی۔۔”
“اچھا بھئی تو بہت اچھا ہے تیرا دل دریا ہے۔۔جس میں ہر کوئی سما جاتی۔۔”
“ہاہاہا بس بھائی سمجھیں اب اجڑ گیا وہ باغ جس کے ہزاروں مالی تھے”۔۔ زارون نے دہائی دی تھی۔۔
ہاہاہا دونوں طرف خوشگپیوں کا تبادلہ ہو ا تھا۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
“آج روحان فریش سا فیل کر رہا تھا” ۔۔ایک ہفتہ سے اوپر ہوگیا تھا ماریہ سے بھی بات نہیں ہوئی تھی اور نا اسنے بات کی نا روحان نے۔۔ وہ آفس میں فائل دیکھنے مصروف تھا جب وکی آیا تھا ۔۔
“اہ جانی آج تو بڑا خوش خوش سا لگ رہا ہے” وہ بنا ناک کئے ہی آیا تھا اور آکر کرسی پہ بیٹھ گیا ۔۔۔
“یار تجھے مینرز نہیں ہیں کچھ منہ اٹھاۓ آفس میں چلے آتے ہو۔۔”
“او یار ہم تو ایسے ہی ہیں” اگلے بندے نو بھلے اگ لگے۔۔”
ہاں ۔۔ایسا ہی ہے جبھی سنگل گھوم رہا ہے۔۔
یار تو مزاق بنا رہا ہے ٹھیک ہے بھئی کرسکتا ہے تیرے پاس تو دو دو ہے۔۔
“کونسی والی مان گئی ہے جو خوش ہے۔۔”
زارون سے بات ہوئی ہے اس لۓ فریش سا فیل کر رہا ہوں اس وجہ سے ماریہ کو بھی ٹائم نہیں دیا اتنے دنوں سے روٹھی بیٹھی ہے۔۔
“ہاں تجھے لگتا ہے “۔ اسنے آہ بھری تھی وہ ماریہ کی اصلیت بھی جانتا مگر اسے بتا نہیں سکتا تھا۔۔کہ اسکا یقین نہیں کرے گا۔۔کیونکہ ماریہ بہت تیز لڑکی ہے
تجھے پتا نہیں کیوں اس سے تکلیف ہوتی ہے”۔۔روحان نے نفی سر ہلایا تھا۔۔
ہاں ہے تکلیف کیونکہ تو ہیرا چھوڑ کے پتھر کے ساتھ سر پھوڑ رہا ہے۔۔”
اور دوست ہونے کے ناطے میں تیری کشتی ڈوبتی نہیں دیکھ سکتا۔۔”
وکی یار کوئی نہیں ڈوب رہی میری کشتی تو اپنی کشتی کی فکر جو ابھی تک خالی ہے اکیلا ہی سفر کر رہا ہے”۔۔
“اآاہ اب کیا سناؤ میں اپنی دکھ تجھے سنگل ہونا بھی کسی غم سے کم نہیں۔۔”
ہاہا “تیرا کچھ نہیں بن سکتا “روحان پھر سے کام میں بزی ہوگیا اور وکی دوہائیاں دیتا چلا گیا۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
صبح سب بیٹھے ایک ساتھ ناشتہ کر رہے تھے ۔۔۔
“موم ڈیڈ آپ سے میں نے ضروری بات کرنی ہے” زارون نے دونوں کو مخاطب کیا تو سب اسکی طرف دیکھنے لگے” مام مجھے شائنہ سے رشتہ کرنے سے کوئی اعتراض نہیں جیسی آپ کی مرضی ہو وہ آپ کریں۔”
“کیا تم یہ بات کسی دباؤ میں تو کہہ رہے “عالم صاحب کو حیرت ہوئی تھی زارون کے فیصلہ پہ۔۔
“ارے کوئی دباؤ نہیں ہے میرا بچہ خوشی سے کہہ رہا ہے”۔۔سیما کی تو خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔۔
“ییس ڈیڈ مام از رائیٹ “روحا اور زرتاج کے منہ کھلے کے کھلے رہ گۓ تھے۔۔
جبکہ زویا اور زارون ایک دوسرے کودیکھ کر مسکرا رہے تھے۔۔عالم صاحب کو اب سمجھ آیا تھا کہ کس کے کہنے پہ زارون نے ہاں کی ہے سفینہ بھی سیما کو مبارک باد دی تھی جبکہ روحا کا موڈ آف ہوا تھا اور وہ چپ چاپ اپنی جگہ سے اٹھ گئی تھی۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
دوپہر کو لنچ کا ٹائم تھا روحان ماریہ کو منانے کیلۓ آفس سے نکل کر اسکے آفس میں گیا جہاں وہ جاب کرتی تھی۔۔
وہ اپنے آفس کی کینٹین میں بیٹھی فون پہ بات کررہی تھی جب سامنے روحان آکر بیٹھا تھا۔۔
اسنے فون بند کرکے رکھا اور منہ دوسری طرف کر لیا۔۔
روحان ہاتھ سے اسکا منہ اپنے سامنے کیا تھا اور بیچارہ منہ بنایا۔۔۔
“کیا ہے روحان کیوں آۓ جاؤ تمہیں بہت کام ہیں میرے لئے تو وقت نہیں ہے تمہارے پاس”۔۔اسنے منہ بسور کے کہا تھا۔۔
“نہیں یار اب بس سب وقت تمہارا۔۔”
“جھوٹ ۔۔”
“سچیییی۔۔۔”
“نو جاؤ یہاں سے” ماریہ نے اسکے کندھے پہ مکا مارا تھا ۔۔
روحان اسکے ساتھ والی چئیر اسکے ساتھ کھسکا کر بیٹھا اور بازو سے تھام کر اسکا سر اپنے سینے کے ساتھ لگا لیا تھا ماریہ نے بھی اپنے دونوں بازو اسکے گرد حائل کئے۔۔
“ایم سوری میں بھی کچھ زیادہ ہی اوورریکٹ کر گئی تھی۔۔”
ب”س اب میں چاہتی ہوں کہ ہم دونوں جلدی سے ایک ہوجائیں ۔۔””
اب وہ دونوں سیدھے ہو کر بیٹھ گۓ تھے۔۔ ایک ساتھ لنچ کیا اور پھر اپنے اپنے کام میں آفس میں بزی ہوگۓ۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀
سیما باقاعدہ اپنی بہن کے گھر رشتہ لے کر گئی تھی۔۔
دونوں بہنوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔۔
سیما اب باقاعدہ منگنی کی رسم دھوم دھام سے کرنا چاہتی تھی۔۔
مگر زارون کو اعتراض تھا اور روحہ کو بھی۔۔
زرتاج کو تو یقین ہی نہیں آرہا تھا زارون کیسے مان گیا ۔۔
زویا بہت خوش تھی زارون نے اسکی واقعی بات مان لی تھی۔۔
زرتاج اور ارم کینٹین بیٹھے باتیں کر رہے تھے ۔۔
“نہیں یار یہ کیا کہہ رہی ہو تم۔۔”ارم کو بھی یقین نہیں آیا ۔۔
“سچ کہہ رہی ہوں حیران تو میں بھی ہوں مگر خوش بھی ہوں” ۔۔اب آۓ گا مزہ بڑا اچھلتا تھا اپنی بیوی بچاری کے میرے آگے قصیدے سناتا تھا زویا جیسی چاہۓ نک چڑی مل گئی ہاہاہا۔۔”
“اف بڑا مزا آۓ گا اسے تنگ کرنے میں۔”زرتاج خوش ہوتی بول رہی تھی۔۔ اور ارم کا منہ بنا تھا
اسکا منہ لٹکا دیکھ کر زرتاج اسے کہنی ماری تمہیں” کیا ہوا ہے ۔۔”
“زارون کسی اور کا ہو رہا ہے”۔۔اسنے رونے والے انداز میں کہا۔۔
زرتاج نے آنکھیں نکال اسے دیکھا۔۔” تو تمہیں کیوں رونا آرہا ہے رونا تو اسے چاہۓ۔۔”
“میں نے اسے صرف تمہاری لۓ سوچا تھا” ۔۔ارم کھوۓ کھوۓ سے انداز میں کہا ۔۔” تم مجھ سے پٹ نا جانا کہیں “۔۔
“اب اس میں ایسی بھی کیا بات ہے”۔۔
” پہلے روحان نے زویا کی لائف تباہ کی ہوئی ہے ۔۔اسے لٹکا یا ہے انتظار کی سولی پہ اور تم چاہتی وہی سزا میں بھی بھگتوں ۔ “
“نہیں میں ایسا تو نہیں کہا زرتاج کو سیریس ہوتا دیکھ ارم نے ٹوپک بدلا تھا۔۔” اور اسے اور باتوں میں الجھا لیا۔۔
🥀🥀🥀🥀
“ماما پلیز ابھی میرے ایکسزام ہونے دیں پھر یہ منگنی کا چکر وکر ڈالنا۔۔”
روحا جو منگنی کے موزو گھر پر چل رہا تھا اس پہ سیما سے بات کرنے آئی تو” بیٹا صرف منگنی کونسا شادی ہے۔۔”
“مجھے نہیں پتا میں زارون بھائی کی منگنی کو صحیح سے انجواۓ کرنا ہے بسس۔۔ ” روحا نے دو ٹوک بات کرکے بات ختم کرنے والی بات کی۔۔۔
” ایک کا ہی تو فنکشن ہے پڑھتی رہنا پہلے بہت تیر مارے ہوۓ ہیں پڑھائی میں “سیما نے سمجھانے کی کوشش کی۔۔
“بس ماما اب آپ ہی رہ گئی تھی طعنہ دینے والی” ۔۔وہ سیما کا موبائیل اٹھا کر اپنے کمرے میں آئی۔۔
سیما سر ہلاتی رہ گئی۔۔
کمرے آکر اسنے روحان کو کال لگائی تھی۔۔ جو تیسری بیل پہ اٹھا لیا گیا تھا۔۔
“اسلام علیکم “۔۔۔روحان جو ماریہ کے ساتھ اس وقت سڈنی کے بڑے ریسٹورینٹ میں ڈنر کر رہا تھا فون رنگ ہوا تھا اسنے موبائل دیکھا تو ماما کالنگ آرہا تھا۔۔
“وعلیکم اسلام بھائی”۔۔آگے سے روحا رونے والے انداز میں بولی۔۔
“کیا ہوا ہے روحی تمہارا موڈ کیوں خراب لگ رہا ہے۔۔”
“ماما زارون بھائی کی انگیجمنٹ کر رہی ہیں ۔۔””
“ہاں تو اسے رونا چاہئے تم کیوں رو رہی ہو۔۔”
“میں نے ماما سے کہا ہے میرے پیپر ہونے دیں پھر کردینا منگنی مگر نہیں میری کون سنتا ہے”۔۔وہ منہ بسورتی بولی۔۔
“ہہم بات تو مجھے کچھ اور ہی لگ رہی ہے تمہیں تو زارون کی انگیجمنٹ کو لیکر ایکسائیٹڈ نہیں لگ رہی تھی۔۔ تمہیں تو بہت خوش ہونا چائیے۔۔”
“سچی سچی بتاؤں حان بھائی”۔۔
“ہاں بہنا سچی سچی” ۔۔روحان ہنستہ ہوا بولا۔۔
“مجھے وہ شائنہ بلکل بھی نہیں پسند سڑیل ہہم۔۔” روحا منہ بنا کر بولی۔۔
“اچھا بھی اس وجہ سے تمہیں نہیں پسند۔۔۔تو پھر کیسی پسند ہے”۔۔روحان ایک بائیٹ منہ لیتا ہوا بولا اور ماریہ کو بھی کھاتے کا اشارہ کیا جو پوری دھیان اسکی باتوں پہ لگائی بیٹھی تھی۔۔
“نہیں پسند مجھے وہ بلکل بھی ۔۔زوئی بھابی بہت اچھی ہیں۔۔ “اور زارون بھائی کو بھی وہ خاص نہیں پسند انہیں بھی زوئی بھابھی پسند ہیں “۔۔روحا بنا بریک لگاۓ بولتی چلی ۔۔ روحان اسکی آخری بات پہ کھانا کھاتے ہاتھ رکے اس نے چمچ پلیٹ میں دے مارا تھا اور خود کو کنٹرول کرنے لگا اسے پتہ نہیں طیش آنے لگا تھا۔۔
اور فون کاٹ دیا۔۔
ہیلو ہیلو ۔۔فون کٹ گیا ۔۔روحا فون کو دیکھتے کہا تھا۔۔
“روحان کیا ہوا ہے”۔۔ماریہ اسکا بیہیو عجیب سا لگا تھا۔۔
“نتھنگ چلو تمہیں گھر چھوڑ آؤ “وہ کھڑا ہو گیا اور بغیر اسے دیکھے باہر آگیا۔۔
“انہیں بھی زوئی بھابھی پسند ہے “روحا کا بولا گیا جملہ اسکے سماعتوں میں گونج رہا تھا۔۔
