Beparwah Season 1 By Ayesha Noor Readelle50280 (Beparwah) Episode 31
Rate this Novel
(Beparwah) Episode 31
تم کون ہو ” سامنے والے نے تیز آواز میں کہا۔۔
زویا سامنے کھڑی موڈرن سی لڑکی کو حیران نظروں سے گھور رہی تھی۔۔اسکی آواز سے حوش میں آئی۔۔
“آپ کون ہیں۔۔”
ماریہ نے اس چھوئی موئی کو آنکھیں چھوٹی کرکے گھورا تھا۔۔اسے دیکھتے ہی ماریہ کے اوسان خطا ہوۓ تھے روحان کے گھر لڑکی۔۔
“روحان ۔۔روحان ۔۔” ماریہ چلاتی ہوئی گھر میں داخل ہوئی اور روحان کمرے کی طرف بڑھی۔۔
روحان ماریہ کو اپنے سامنے دیکھ کر چونک گیا تھا۔۔
“ماریہ تم”۔۔ روحان شاک سا بولا۔۔
“ہاں میں ہوں اور یہ لڑکی کون ہے جو اس وقت تمہارے گھر میں موجود ہے”..وہ تیز آواز میں چلائی
زویا بھی ماریہ کے پیچھے آن کھڑی ہوئی۔۔آنکھیں بھگیں ہوئی تھی۔۔
روحان نے نظریں چرائیں تھیں۔۔اس سے
“وہ یہ زویا ہے “۔۔ روحان نے ارادہ کرلیا ماریہ کو سچ بتانے کا۔۔
“زویا روحان کی کزن ہے” ۔۔ پیچھے سے آواز آئی تھی سب نے پیچھے دیکھا تو وکی کھڑا تھا۔۔
“زویا کو ابھی کچھ دن ہوۓ ہیں یہاں آۓ ہوۓ”۔۔
“مگر روحان نے تو مجھے اس کے بارے میں نہیں بتایا تھا “۔۔ ماریہ غصہ سے بولی۔۔
“اگر تمہیں یاد یو تو روحان کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا اور وہ ہسپتال میں پڑا تھا اور اسکا فون بھی ڈیمج ہوگیا تھا تو وہ کیسے بتاتا” ۔۔ اور تم تو ایسے غائب ہوئی جیسے تمہیں کوئی پرواہ ہی نہیں روحان کی “۔۔ وکی اب ماریہ کے سر پہ کھڑا کہہ رہا تھا۔۔
تو ماریہ ہڑبڑائی “نہیں میں بہت پریشان تھی روحان کیلے میں بہت تھک گئی تھی اس لیے نہیں آسکی دوبارا “۔۔
“ایم سوری روحان” ماریہ روحان کے گلے کر بولی۔۔
زویا وہاں ایک پل بھی نہیں رکی اور کمرے سے باہر بھاگ گئی روحان اسے جاتا دیکھتا رہا ۔۔
اٹس اوکے” ۔۔روحان نے ایک ہاتھ سے کاندھے سے پکڑ کر اسے خود سے دور کیا ۔۔ “تم نے ٹھیک نہیں کیا زویا کیساتھ۔” ۔
“ایم سوری روحان مجھے نہیں پتا تھا وہ تمہاری کزن ہے”۔۔
ماریہ معصوم بنتی بولی۔۔
“تم مجھ سے جڑے رشتوں کی ایسے توہین کرو گی”۔۔
“میں یہاں تمہارے ساتھ اسے دیکھ کر ڈر گئی تھی کہیں تم نے مجھے دھوکہ تو نہیں دیا” ۔۔
“مجھ سے برداشت نہیں ہوا اسے یہاں دیکھ کر اور مجھے کیا پتہ کہ وہ تمہاری کزن ہے ویسے وہ یہاں کیوں آئی ہے”۔۔ ماریہ کو زویا کا یہاں ہونا ناگوار لگ رہا تھا۔۔
“وہ اپنے ہسبنڈ کے پاس آئی تھی یہاں ۔۔ مگر اسکا ہسبنڈ کسی کام سے شہر سے باہر ہے تو اسے یہاں آنا پڑا”۔۔وکی اصل بات گول کرتا بولا۔۔
“تو کیا وہ تمہارے ساتھ یہاں اکیلی رہ رہی اور اسکے شوہر نے تمہارے ساتھ یہاں اکیلا چھوڑ دیا “۔۔ وہ حیرت زدہ ہوئی تھی
“تمہیں اس سے کیا مطلب یہ آسٹریلیا ہے یہاں سب چلتا ہے کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا” ۔۔اب کی بار بھی وکی نے جواب دیا جبکہ روحان خاموش رہا۔۔
“رات کو ویسے میں یہیں تھا صبح ہی گھر گیا ہوں اور اب تیار ہو کر آفس جا رہا ہوں۔۔”
“اچھا ہوا تم آگئی ہو اب رکھو روحان کا خیال اور میں آفس جاؤں گا” ۔۔
“اور ہاں ایسا کرو پہلے روحان کیلے ناشتہ بنا لاؤ اس نے میڈیسن بھی لینی ہے”۔۔وکی نے بڑی مہارت سے ساری سیچویشن کو سنمبھالا اور بیٹھتے ایک اور شوشہ چھوڑا۔۔
“کیا مطلب ناشتہ”۔۔ ماریہ ناشتہ کے نام پہ اچھلی۔۔
“ناشتہ مینز کچھ کھانے پینے کو آملیٹ چاۓ وغیرہ”۔۔ وکی نے بڑے آرام سے کہا۔۔
“میں نے کبھی کچن کی شکل نہیں دیکھی اور تم ناشتہ کا کہہ رہے ہو”۔۔ماریہ تڑخ کر بولی
“وکی جاؤ زویا سے کہو وہ ناشتہ بنا رہی ہوگی”۔۔ روحان جو آل ریڈی ٹینشن میں آچکا تھا۔۔ اب تو سر درد کرنے لگا تھا انکی تکرار سے۔۔
“اچھا بوس یہ عام پاکستانی لڑکیوں کے ہی کام ہوتے ناشتہ کھانا بنانا ان سے تو بس باتیں کروالو یا”.. ۔ کمرے باہر نکلتے نکلتے ماریہ کو مزید تپاگیا
“تم اپنے دوست کو سمجھاؤ مجھ سے نا الجھا کرے”۔۔اب ماریہ کا رخ روحان کی طرف تھا
“ماریہ پلیز ڈسٹرب مت کرو میرا سر درد کر رہا ہے”۔۔
تو ماریہ خاموش ہوگئی۔۔
زویا کچن میں کھڑی اپنا رونے کا شغل پورا کررہی تھی۔۔
“بس اتنی ہی ہمت تھی۔۔ سامنا کرو اس چڑیل کا ۔۔ یوں رو کر خود کو کمزور ثابت مت کریں”۔۔
وکی اسکے پیچھے کھڑا بول رہا تھا زویا نے پلٹ کر سرخ ہوتی آنکھوں سے دیکھا تھا۔۔
“زویا بھابھی پلیز مضبوط کریں خود کو یوں رونے دھونے سے کام نہیں چلے گا وہ عورت فتنہ ہے جو روحان کو برباد کرنے اسکی لائف میں آئی ہے۔۔ روحان کو اسنے ٹریپ کیا ہوا ہے بسس۔۔ اب روحان آپکی جانب متوجہ ہوچکا ہے اس میں کوئی دلچسپی نہیں رہی اسے”۔۔
“پلیز آپ مجھے نا بتائیں کے مجھے کیا کرنا ہے سب کچھ میں اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی ہوں کیسے وہ عورت روحان پہ روب جھاڑ رہی تھی اور روحان کے پسینے چھوٹ گۓ تھے اپنی چوری پکڑے جانے پر”۔۔ زویا روتی ہوئی اسکی بات کی نفی کرتی بولی۔۔
“پلیز میری بات سمجھنے کی کوشش کریں آپ جانتی ہیں آپ دونوں کا نکاح کن حالات میں ہوا تھا۔۔ سچ تو یہ تھا کہ وہ اپنی بے جا ضد کی آڑ میں اس عورت کے قریب ہوا مگر وہ اسے اسطرح کا درجہ نہیں دے سکا جو آپکا حق ہے ۔۔ اس عورت میں روحان کو کوئی دلچسپی نہیں ہے وہ عورت محض دھوکہ ہے آپکو اپنی جگہ نہیں چھوڑنی چاہیے پلیز روحان کو اکیلا مت چھوڑیے گا ۔۔ وہ صرف اور صرف آپ ہی کا ہے اور آپکو اس بات کا اندازہ ہوناچاہیے”۔۔ وکی نے اپنی جانب سے زویا کو سمجھانے کی بھر پور کوشش کی تھی۔۔
زویا کے کچھ کچھ پلے ضرور پڑا تھا اسے اپنی جگہ نہیں چھوڑنی چاہیے۔۔
“اچھا اب جائیں زرا فریش ہوکر آئیں اور روحان کیلے اور صرف میرے اور آپکے لیے ناشتہ بنائیں” ۔۔
زویا خاموشی سے اپنے کمرے کی طرف چل دی اسکا مطلب وہ سمجھ چکی ہے ۔۔
وکی وہیں حال میں ہی بیٹھ گیا ماریہ کی وجہ سے روحان کے پاس جانے کا من ہی نہیں کیا تھا۔۔
پھر کچھ دیر بعد زویا کچن میں آئی خاموشی سے ناشتہ بنانے لگی وکی مسکرایا اور روحان کے کمرے کی طرف چل دیا۔۔
۔ماریہ کو اگنور کرکے روحان کی طرف بڑھا تھا ۔۔
“وکی مجھے واشروم لے چلو فریش ہونا ہے” وکی اپنی طرف آتا دیکھ روحان بولا۔۔
سہارا دے کر روحان کو اٹھایا اور واشروم کی طرف بڑھے۔۔
روحان کو لاکر بیڈ پہ بٹھایا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔۔
زویا ناشتہ بناچکی تھی ۔۔وکی کچن میں آیا۔۔
یہ ناشتہ روحان کا اور آپکا اور اسکے(ماریہ) لیے کافی رکھی ہے۔۔
“آپ خود ہی”۔۔
نہیں “۔۔ وکی نے بولنا چاہا پر زویا نے اسکی بات سمجھتے سختی سے نہیں بولا تو وہ خاماش ہو کر ناشتہ کی ٹرے اٹھاۓ کمرے کی طرف چل دیا۔۔
دروازہ کھلا تو صرف وکی اندر آتا دیکھ روحان مایوس ہوا ۔۔
وکی نے سامنے ناشتہ رکھا “یہ ناشتہ کرلو اور پھر تمہاری دوائی کا ٹائم ہے ۔۔ ڈنڈی نئی مارنی پروپر خیال رکھنا ہے” اپنا سینڈوچ اسکی جانب بڑھاتا بولا۔۔
ماریہ انہیں نظرانداز کیے صوفہ پہ بیٹھی موبائل پہ نظریں گاڑۓ بیٹھی تھی۔۔
“یہ لو تم بھی کافی پی لو”۔۔ کافی کا مگ اٹھا کر اسکی جانب بڑھایا وکی نے۔۔
ماریہ نے سر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا.. “نو تھیکس “ماریہ نے اکڑتے صاف منع کیا۔۔
” ایز یور وش ” وکی نے کافی پھر سے ٹرے پہ رکھ دی ۔۔
روحان کو ناشتہ کروانے اور میڈیسن کھلانے کے بعد آفس جانے کا ارادہ رکھتے روحان سے اجازت لی ۔۔
“اچھا یار میرا ساتھ یہیں تک تھا اب آگے سنبھال لینا ہاں پہلے ہی ہڈیاں تڑوا کے بیٹھا ہے ان عورتوں سے اور نا کوئی پسلی تڑا لی”۔۔
“تو مجھے میدان میں اکیلا چھوڑ کر جا رہا ہے ” روحان نے بے چارگی سے کہا۔۔
“بس یار یہ حالات تیرے اپنے پیدا کیے ہوۓ ہیں لہٰذا اب تجھے اکیلے ہی یہ کمان سنبھالنی ہوگی”
” اس سے اچھا تھا تو کومہ میں ہی چلا جاتا ” ۔۔
وکی اسکے کاندھے پہ تھپکی دیتا باہر نکل گیا۔۔
ماریہ کے کچھ پلے نہیں پڑا تھا وہ کس بارے میں باتیں کرہے ہیں۔۔
روحان نے ماریہ کی طرف دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی زبردستی مسکراتا سر پیچھے ٹکا کر بیٹھ گیا۔۔
“روحان بس تم اب جلدی سے ٹھیک ہوجاؤ” ۔۔ ماریہ نے روحان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا اور نرم لہجہ میں گویا ہوئی۔۔
روحان اسکی جانب دیکھا۔۔ جہاں اسے کوئی احساس نا نظر آیا اسے تو بس بیچینی سی تھی نظریں زویا کی متلاشی تھی مگر وہ دشمن جان صبح سے نہیں نظر آئی۔۔
“آئی لو یو روحان”۔۔ اسکے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ ماریہ نے بڑی بے باکی سے اظہار کیا مگر مقابل احساس سے آری تھا۔۔ اسے یہ لفظ چبھے تھے
“ہہم مجھے ریسٹ کرنا ہے زیادہ دیر بیٹھ نہیں سکتا۔۔”
“اوکے اوکے تم ریسٹ کرو “۔۔ ماریہ کھڑی ہوئی تھی اور اب اسکا رخ باہر کی جانب تھا۔۔
اسے باہر کی طرف جاتا دیکھ روحان کو پریشانی ہوئی تھی زویا پہلے ہی ناراض ہوگئی ہے اب پتا نئی اور کیا کیا ہوگا ۔۔ اس نے کوفت سے سوچا تھا۔۔ اور پھر دوائوں کے زیر اثر اسے غنود چھانے لگی اور آنکھیں اپنے آپ بند ہونے لگی۔۔
۔۔۔
🌹🌹🌹
“ماما آپ لوگ کہیں جا رہے ہو” زرتاج جو شام میں باقی افراد کو تیار ہوتا دیکھ پوچھے بنا رہ نا سکی ۔۔
“ہاں تمہارے سسرال جا رہے ہیں” ۔۔انہوں دعوت کی ہے ہماری۔۔سفینہ جو مالازمہ کو ہاتھوں پریس کیا ہوا سوٹ لیتے ہوۓ بولی تھی۔۔
“اچھا مگر کس خوشی میں” زرتاج کو کچھ انہونی کا احساس ہوا۔۔
“خوشی میں کیا اب انکا گھر بار بھی تو دیکھنا ہے اب ویسے بھی یہ آنا جانا تو لگا رہے گا” ۔۔سفینہ زرتاج کے کاندھے پہ ہاتھ رکھ کر مسکراتے ہوۓ کہا۔۔
“کہیں شادی وادی کرنے کا چکر تو نہیں ” زرتاج نے انگلی اٹھاتے ماں سے سنجیدگی سے کہا۔۔
“ارے ابھی کہاں اتنی جلدی ابھی تو ملنا ملانا شروع ہوا۔۔”
وہ سر ہلاتی واشروم چلی گئی۔۔
“ہہم اس ٹھرکی کے کیساتھ کیسے گزارا ہوگا۔۔” سوچتے ہی جھر جھری سی لی اور کمرے سے باہر چلی گئی۔۔
۔۔
زرتاج روحا کے پاس دھڑام سے جا گری تو اسکی عجیب حرکتیں دیکھ روحا بدکی.. “کیا ہوا لڑکی”..
“تم بھی جا رہی ہو۔۔”
“کہاں۔۔” روحا نے ناسمجھی سے کہا۔۔
“وہیں جہاں آج سب جا رہے ہیں۔۔” ززرتاج منہ بناتی بولی ۔۔
“کہاں جا رہے ہیں سب “۔۔روحا نے اب کے اکتا کے پوچھا۔۔
“افف یار وہیں ارحم کے گھر سب اور کہاں”۔۔ زرتاج نے چڑ کر کہا۔۔
“اوہ تو یوں کہو نا تمہارے سسرال جا رہیں” روحا چھیڑتے ہوۓ کہا۔۔
“افف توبہ ہے روحی ۔۔” جو پوچھا ہے وہی جواب دو”۔۔
“مجھے تو نہیں پتا کہ سب کہاں جا رہے ہیں اور نا ہی مجھے کہا ہے کسی نے جانے کا۔۔”
اچھا!! زرتاج نے اسکے کاندھے پہ سر رکھا۔۔
“تمہیں کیوں ٹینشن ہو رہی ہے۔۔”
“مجھے نہیں کرنی شادی وہاں” زرتاج نے بیزاری سے کہا۔۔
“کیوں ؟ کیوں نہیں کرنی شادی ۔۔”
“بس میرا من نہیں وہاں مجھے نہیں جانا ماما کو چھوڑ کر تمہیں چھوڑ کر”۔۔
“بس !! اب جانا تو تمہیں پڑے گا ۔نا۔”
“روحی۔۔ ” زرتاج نے بے بسی سے کہا اور پھر اٹھ کر چل دی۔۔
“زری زری بات تو سنو” روحا نے اسے پکڑ لیا ۔۔ دیکھا تو زرتاج کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔۔
“زری پلیز” روحا نے اسے گلے سے لگایا۔۔ “پلیز روؤ تو نہیں ہم نکال لیں گے اسکا حل بھی فلحال جیسا چل رہا ہے اسے ویسا چلنے دو ہم کچھ نہیں کر سکتے۔۔ تم سمجھدار ہو کر ایسا کر رہی ہو آنٹی پریشان ہوں گی “۔۔ روحا نے اسے حتی الامکان سمجھانی کی کوشش کی مگر زرتاج چلی گئی وہاں سے اور روحا سر تھام کے رہ گئی۔۔
۔۔۔۔
🌹🌹🌹🌹
زویا کچن سمیٹ رہی تھی ۔۔جب پہچھے سے ماریہ کی آواز آئی۔۔
“کیا کر رہی ہو۔۔”
“کچھ نہیں بس کام’ ۔۔ دھلے ہوۓ برتن کو ٹھیک سے رکھ رہی تھی پھر مڑ کر اسے جواب دیا اور واپس کام پہ لگ گئی۔۔
“ہمم تم کب آئی ہو مجھے تو روحان نے کچھ نہیں بتایا ویسے وہ مجھ سے کوئی بات نہیں چھپاتا۔۔”ماریہ نے خان بوجھ کر کہا..
زویا کے چلتے ہاتھ تھمے تھے مگر پھر سے وہ مصروف ہوگئی۔۔
“اس بات کا جواب میرے پاس نہیں ہے”۔۔
“کب سے جانتی ہو روحان کو۔۔” ماریہ نے پوچھا
“اٹھارا سال تو ساتھ رہیں ہیں۔۔”
مصروف سے انداز میں جواب دیتی فرج کی طرف بڑھی۔۔
ماریہ کو لگا جیسے وہ اس گھر کی گھر والی ہو جس انداز میں وہ کام کر رہی تھی۔۔
اور اب وہ سوپ بنانے کی تیاریاں کرنےلگی ۔۔
“شوہر کہاں ہے تمہارا..” دونوں ہاتھ باندھ کر تفتیشی انداز میں ماریہ نے پوچھا
“یہیں ہے”.. زویا نے مصروف سے انداز میں جواب دیا..
“یہیں ہیں؟؟ ماریہ نے اسکی بات دہرائی..
“میرا مطلب اپنے کسی کام سے شہر سے باہر ہیں”..
“شادی کب ہوئی تمہاری ؟”
پانچ سال پہلے نکاح ہوا تھا میرا ..انکے پاس ٹائم نہیں تھا پاکستان آنے کا تو میرے گھر والوں نے ایک مہینہ پہلے مجھے رخصت کرکے یہاں بھیج دیا”.. زویا نے تسلی سے اسے جواب دیا اور پھر سے کام میں مصروف ہوگئی..
ماریہ اسے سر تا پیر بغور دیکھتی کمرے کی طرف واپس مڑی..
شام چار بجے کے قریب وکی آیا تھا..
“یہاں تو پرامن ماحول ہے میں تو سمجھا تھا کہیں میدان جنگ جیسا ماحول بنا ہوا ہوگا”.. وکی نے شرارتی انداز میں ادھر ادھر دیکھتے روحان کو کہا تو وہ بس اسے گھور کر ہی رہ گیا..
“کس جنگ کی بات کر رہے ہو” ماریہ وکی کے سر پہ کھڑی بولی..
“بھئ جہاں دو عورتیں ہو وہاں کچھ بھی ہوسکتا ہے”..
“ویسے لگ رہا ہے خوب خدمات کیں ہے ” روحان کی وکی نے بات گھمائ..
“اچھا اب تم جاؤ میں ہوں یہاں دیکھ لوں گا سب” وکی نے اسکے چہرے کی بیزاریت دیکھتے اسکے لئے آسانی کردی..
“میں نہیں جا رہی مجھے روحان کیساتھ رہنا ہے ماریہ نے ناچاہتے ہوۓ بھی انکار کیا.. “
“مگر تم ایسے نہیں رہ سکتی روحان کیساتھ” وکی نے اعتراض کیا..
“جب وہ زویا ایسے رہ سکتی ہے تو میں ایسے کیوں نہیں “ماریہ نے بھی زویا کی جان بوجھ کر بات کی..
“تم اور وہ برابر ہوگئی کیا” وکی نے اسے جواب دیا..
“تو وہ کون ہے”.. ماریہ کو اسکا جواب پسند نا آیا..
“زویا روحان کی رشتہ دار ہے اسکی ذمہ داری ہے”.. اور تم کچھ بھی نہیں ہو”.. وکی نے بھی ٹکا سا جواب دیا..
“اسٹاپ اٹ یار کیا ہوگیا ہے لڑنا ہے تو باہر جا کر لڑو مجھے تنگ نا کرو پلز” ..روحان غصہ کرتے تیز آواز میں کہا تو ماریہ کمرے سے باہر نکل گئی..
کمرے سے باہر نکلتے اسکا سامنہ زویا سے ہوا.. اسکا جی چاہا اسے باتیں سنانے کو پر مزید وہ یہاں رکنا نہیں چاہتی تھی..
زویا کی آنکھوں سے آنسوں بھرے تھے ماریہ کو دیکھ کس حق سے وہ صبح سے روحان کے کمرے میں تھی آنسوؤں کو صاف کرتی وہ اپنے کمرے میں گھسی تھی..
..
شام گئے وکی بھی روحان سے اجازت لیتا گھر کی طرف روانہ ہوا تھا..
روحان کب سے بیٹھا زویا کا انتظار کرتا رہا مگر وہ دشمنِ جاں نا آئی اب تو شام بھی رات میں ڈھل چکی تھی..
