94.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Beparwah) Episode 23

ماما مجھے زارون سے شادی نہیں کرنی شائنہ جو زارون کے آفس سے مایوس لوٹی تھی اپنی بےعزتی اسے برداشت نہیں ہو پارہی تھی۔۔اسلے اپنی ماں کے پاس آئی۔۔”
مگر کیوں” ۔۔شینا نے حیرت سے دیکھا اپنی بیٹی کو۔۔
ماما زارون مجھے زرا بھی امپورٹنس نہیں دیتا ہر وقت اپنی اکڑ دکھاتا رہتا ہے۔۔”
بس اتنی سی بات پہ تم رشتہ توڑنے چلی”
۔۔
ماما یہ اتنی سی بات ہے۔۔اسے میرے کپڑے نہیں پسند اور اتنی سی بات پہ اسنے میرے ساتھ باہر جانے سے انکار کردیا”۔۔شائنہ نے غصہ سے کہا۔۔
تو کیوں جاتی ہو ایسے حلیہ میں اسکے سامنے”۔۔شینا نے اپنی ہی بیٹی کو ڈپٹا۔۔
ماما آپ کو اور بابا کو اعتراض نہیں میری ڈریسنگ پر تو پھر وہ کون ہوتا ہے”
اب اتنی سی بات پہ تمہاری مان کر رشتہ توڑ دیں ایسا رشتہ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملیں گے تمہیں ۔۔تمہاری ساری دوستوں نے منگنی پہ کتنی تعریف کی تھی زارون کی” ۔۔شینا اسے سمجھایا ۔۔
بٹ ماما اسے ابھی سے میری ڈریسنگ اچھی نہیں لگتی “۔۔
وہ منہ بسورتی بولی..
شانو.. بس شادی تک برداشت کرلو.. اسکے بعد زارون کو اپنی مٹھی میں کرلینا پھر جو چاہے مرضی کرنا”.. شینا اسے پیار سے پھسلا تے ہوئے کہا..
اور وہ زرتاج” اسکے بھی تو آگے پیچھے پھرتا ہے “.. ایک نئی فکر لاحق ہوئی..
اسکی فکر نا کرو تمہاری خالہ سے کرتی ہوں بات ” اسکا بھی بندوبست کرے..
🌹🌹🌹
روحان اس وقت اپنے آفس میں بیٹھا تھا.. وہ زویا کے بارے میں ہی سوچے جا رہا تھا “
اس دن کا منظر اب بھی اسکے دماغ میں چل رہا تھا.. “
زویا یہاں پہلی بار آئی ہے یہاں وہ کسی کو نہیں جانتی اور ڈرپوک اتنی ہے ” ضرور وہ جینی کا کوئی جاننے والا ہوگا.. ” اور زویا ایسی لڑکی نہیں ہے ” دو دن سے دماغ کی دہی بنی ہوئی تھی بالآخر وہ آج اس نتیجہ پر پہنچا کہ وہ غلط فہمی کا شکار ہو گا..
او یار کیا ہوا ہے تجھے کن سوچو میں گم ہے..” کوئی مسئلہ ہے تو بتا.. ” وکی اسے پریشان سا لگا تھا..
مسئلہ میرا ایک ہی ہے جو اس وقت میرے گھر پر ہے.. ” میرے گلے پڑ گئی ہے ” جتنا اسے دور ہونا چاہتا ہوں..
آخری بات وہ ادھوری چھوڑ گیا..
تو یار کیوں بیچاری پہ ظلم ڈھا رہا ہے اگر وہ اتنی دور سے اڑ کر تیرے پاس آگئی ہے تو ایک قدم تو بھی بڑھا لے.. ” آخر ایسا کرنے میں ہرج نہیں.. ” وکی اپنی تئی اسے سمجھانے کوشش کرتا بولا جو سمجھنے سے قاصر ہے ..
🌹🌹🌹🌹
زارون کو عالم صاحب نے اپنے آفس میں بلایا تھا..
ییس ڈیڈ”.. آپ نے بلایا تھا..
“ہاں ضروری کام تھا تم سے زرتاج کیلئے ایک رشتہ ہے میری نظر میں چاہتا ہوں تم لڑکے کے بارے میں خود سے چھان بین کرو ویسے میں نے کچھ لوگوں سے معلومات لی ہیں.. مگر میں چاہتا ہوں اپنی تسلی کیلئے تم خود لڑکے بارے میں پتا کرو.. ” عالم صاحب اپنی بات کہہ کر چپ ہوۓ
ڈیڈ زری کیلئے رشتہ.. ” اتنی جلدی کیوں.. میرا مطلب وہ ابھی سٹڈی تو کمپلیٹ کرلے.. ” زرتاج کے رشتہ کا سن کر وہ چونکا..
بھئی اب یہ تمہاری چاچی کی خواہش ہے ..اسلیے میں نے رشتہ دیکھنے شروع کئے ہیں.. ورنہ میں تو چاہتا تھا دونوں بچیاں گھر میں ہی رہ جاتیں.. ” انکی آخری بات پہ زارون ٹھٹکا
ہیں دونوں بچیاں میرا تو سر پھاڑنے تک جاتی ہے وہ موٹو.. ” وہ بس سوچ سکا..
ڈونٹ وری ڈیڈ …آپ لڑکے نام پتا بتائیں بس.. “
پھر عالم صاحب نے ساری معلومات دیں..
🌹🌹🌹
رات کی دوائیں اپنی ماں کو کھلا کر زرتاج اب کتابیں لے کر بیٹھی تھی..
زری بیٹا پہلے میری بات سنو.. سفینہ لیٹنے کے بجائے بیٹھ گئی..
تو زری اسکے پاس آکر بیٹھ گئی.
جی ماما””
بیٹا اب میں سوچ رہیں ہوں کہ تم بھی اب اپنے گھر کی ہوجاؤ ..زویا کا تو نجانے کیا بنے مگر اب تمہاری فکر سے میں آزاد ہوجانا چاہتی ہوں.. “
ماما پلیز زویا کا حال آپ کے سامنے ہے..” اور آپ مجھے خود سے دور کرنا چاہتی ہیں.. ” زرتاج کو تو شاک سا لگا تھا اپنی ماں کی بات سن کر..
.ہاں تو اب تمہاری شادی بھی تو کرنی ہے یا گھر بٹھا کر رکھنا ہے تمہیں ساری زندگی.. سفینہ بھی سخت ہوئیں..
پلیز ماما مجھ سے اب اس بارے میں دوبارہ بات مت کیجیے گا.. مجھے نہیں کرنی کوئی شادی.. ” وہ غصہ میں بولتی چلی گئی..
تمہارے تایا سے بات کرلی ہے میں نے دیکھے تمہارے لئے کوئی ڈھنگ کا رشتہ. اب جلد از جلد تمہیں رخصت کردوں”.. اس سے پہلے کے زویا کی کوئی بات بگڑے”..
ماما پلیز میں نے کہہ دیا نا بس اب میں دوبارہ یہ بات نا سنوں” وہ اپنی بات کہتی چلی گئیں وہاں سے..
تو سفینہ سر تھام کے رہ گئی اسکی خود سری سے تو ڈر لگتا ہے.
🌹🌹🌹
روحان تھکا ہارا گھر آیا تھا..
چینج کرنے کے بعد اسکا رخ کچن کی طرف تھا سر میں شدید درد تھا ماتھا مسلتا ہوا کچن میں آیا جب اسکا سامنا پھر سے زویا سے ہوا..
زویا کا تو دل پھر سے مٹھی میں آیا تھا.. اس دن کا رویہ ذہن میں تازہ ہوا تھا..
اور جلدی میں اسکے پاس سے گزرنے لگی تھی جب اسکی کلائی روحان کی گرفت میں آگئی تھی.. زویا کی جان حلق میں اٹک گئی تھی..
کلائی سے پکڑے اسے اپنے سامنے کیا تھا..
اور گھمبیر آواز میں بولا..
کس سے پوچھ کر گئی تھی باہر” ..
کون تھا وہ جس سے ہاتھ ملا رہی تھی”. اسکی سوئی ابھی بھی وہیں اٹکی ہوئی تھی..
وہ.. وہ جینی نے ضد کی تھی ساتھ چلنے کی.. وہ جینی کا کزن برادر تھا… اس اسنے مجھے سسٹر کہا تھا.. وہ ہنوز نظریں جھکاۓ آہستگی سے بولی تھی.. جو روحان بمشکل سن پایا.. جبکہ کلائی ابھی بھی اسکی مضبوط گرفت میں تھی..
روحان نے دو انگلیوں سے اسکی تھوڑی سے پکڑتے اسکا چہرہ اونچا کیا.. اور اسکی آنکھوں میں دیکھتا بولا..
“تمہیں جو کوئی بھی سسٹر بولے گا تم اس سے ہاتھ ملا لو گی”..
تو زویا نے نفی میں سر ہلایا آنکھیں نمکین پانیوں سے بھر چکی تھی..
اسکے اور روحان کے درمیان دو قدم کا فاصلہ تھا جو روحان نے وہ بھی ختم کردیا تھا..
“اسی معصومیت سے تم سب کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہو نا.. یہ رونا رو کر تم میرے آگے ٹک نہیں سکتی بس کچھ عرصہ کیلے تم یہاں ہو ” صرف ڈیڈ کی وجہ سے تمہیں برداشت کرنے پہ مجبور ہوں.. ” بعد میں جو چاہے مرضی کرتی پھرنا مگر یہاں تمہیں میری مرضی سے رہنا ہوگا” لفظ تھے یا کوئی تیر جو اسکا سینہ چیرتے جا رہے تھے آنسوں تھے جو متواتر بہہ رہے تھے..
اسکی کلائی پہ مضبوط گرفت ڈھیلی پڑتی ہی چھڑا کر کمرے کی طرف بھاگی تھی..
..
اسکے آنسو روحان کا بھی دل پسیج رہے تھے.. مگر وہ پھر بھی پتھر دل بنا تھا ..
یہی تو کام آتا ہے بس رونا دھونا.. ,اپنی کنپٹی سہلاتا کافی بنانے لگا..
🌹🌹🌹🌹
وہ بھاگ کر کمرے میں بند ہوئی.. وہ سسک پڑی تھی..
وہ اسکی ذات کی دھجیاں اڑا گیا تھا اتنی بے اعتنائی اتنی نفرت..کوئی کیسے کرسکتا ہے..
“اگر واپس چلی گئی تو کیا جواب دوں گی ماما کو میں انہیں دکھی نہیں کرسکتی.. ” سوچ کر اسے مزید رونا آیا تھا..
🌹🌹🌹
زرتاج گم سم بیٹھی تھی..
تمہیں کیا ہوا ہے یار تمہاری سیٹی کیوں گم ہے آج.. ارم اسے دیکھتی بولی جو منہ لٹکائے بیٹھی تھی..
وہ دونوں اس وقت یونیورسٹی کی کینٹین میں بیٹھی تھیں..
یار اب ماما کے سر پہ میری شادی کا بھوت سوار ہوگیا ہے پیچھے ہی پڑ گئی ہیں..تایا ابو کو بھی بول دیا رشتہ کیلیے وہ پریشان سی بولی..
“بس اتنی سی بات میرے گھر والے بھی اب میرے رشتہ کی بات چلا رہے ہیں اس میں ٹینشن والی کیا بات..”ارم بولی..
“یہی تو ٹیشن یے یار میں نے شادی ہی نہیں کرنی بس” زویا کا حال دیکھ کر میرا ارادہ نہیں ہے. “
وہ کہتی اٹھ گئی..
یہ تو نہیں ہوسکتا شادی نہیں کرنی اس بارے میں ہماری کوئی مرضی نہیں چلتی جب گھر والوں نے کہہ دیا شادی ہونی ہے تو ہونی ہے.. اور زویا کیسی ہے روحان بھائی کا بہیوئیر کیسا ہے اسکے ساتھ” ارم اسکے ساتھ چلتی ہوئی بولی..
ایکٹنگ کرنے میں تو زویا کو بیسٹ ایوارڈ ملنا چاہئے.. کہتی تو ہے سب ٹھیک ہے روحان بھائی بھی اسکے ساتھ ٹھیک ہے.. ” مگر مجھے ایسا نہیں لگتا جھوٹ بولتی ہے..” وہ دونوں اب کلاس کی طرف بڑھ گئی.
🌹🌹🌹🌹
زرتاج نے اپنی ماں سے بات نہیں کی گویا کے کل والی بات دوبارہ ہی نا چھیڑ دے اس لئے وہ سونے کیلئے ان کے کمرے میں جانے کے بجائے اپنے کمرے کی طرف چل دی زویا کے جانے کے بعد اب وہ اپنی ماں کے ساتھ سونے لگی تھی..
کچن کے تمام کا سمیٹ کر اب اسکا رخ اپنے کمرے کی طرف تھا ..
جیسے ہی پہلی سیڑھی پہ قدم رکھا تو عین اسی وقت زارون بھی اسی کے پیچھے آیا وہ بھی اپنے کمرے میں جا رہا تھا..
ویسے لگتا ہے کوئی اپنا ٹھکانا بدلنے کی تیاریوں میں ہے.. ” زارون اسکے ساتھ پہلی سیڑھی پہ پاؤں رکھتے بولا.. تو اسکے قدم وہیں ٹھہر گئے اور اسکی طرف مڑی..
تمہیں مطلب اپنے کام سے کام رکھو کوئی ٹھکانا نہیں بدلنے والا.. وہ چڑ کھاتی بولی..
“نہیں مجھے بھلا کیا مطلب ویسے تمہاری مدد ضررو کرسکتا ہوں ڈیڈ نے لڑکا دیکھنے کی ذمہ داری مجھے دی ہے”.. بتا دو کیسا لڑکا چاہئے.. وہ اسے تپا گیا تھا..
کم از کم تمہارے جیسا تو بلکل بھی نا ہو”.. وہ غصہ سے بولی..
“ہہم ڈیڈ کے بھی کیا نیک وچار تھے.. دونوں بچیاں ہی گھر میں رہ جاتی”..
“چلو روحان کو تو زویا مل گئی. معصوم سی. سمجھدار..سلجھی ہوئی.. سمارٹ سی.. اور کہاں یہ پھٹا ہوا ڈھول..میرے گلے پڑجاتا ” زارون نے کوئی کسر نہیں چھوڑی اسے بھرپور تنگ کرنے میں..
“زارون .. ” اپنے لیے کہے گے آخری الفاظ پہ وہ پھنکاری تھی.. اور اس پہ حملہ کیا تھا..
اسکے اچانک حملہ پہ زارون نے فٹ سے اسکے دونوں ہاتھ پکڑے تھے جسکا ٹارگٹ اسکے بال تھے..
“میں تمہیں چھوڑوں گی.. “وہ پاور کے ساتھ اس پہ جھپٹی تھی جو زارون کے لئے سنبھالنا مشکل تھا.. اور گردن پہ اسکا ناخن پھر گیا تھا..
سسس” جنگلی کہیں کی زارون نے زور سے پرے دھکیلا اور گردن پہ ہاتھ رکھا جہاں اسکا ناخن کی کھروچ آئی.
“یہ کیا ہو رہا ہے کیوں بچوں کی طرح لڑ رہے ہو”..سفینہ انکی آوازیں سن کر وہاں آئی جہاں وہ تماشہ لگاۓ کھڑے تھے..
اور زری یہ کیا طریقہ ہے زارون تم سے بڑا ہے.. “سفینہ کا رخ زرتاج کی طرف تھا..
چاچی آپ بھی کسے سمجھا رہی ہیں ” بھینس کے آگے بین بجانے کا کیا فائدہ.. ” زارون نے بھینس پہ زور دیتے کہا اور پھر شرارتی نظروں سے اسے دیکھا..
زرتاج نے اسے کھا جانے والی نظروں سے اسے گھورا..
چلو جاؤ اب اپنے کمروں میں.. “سفینہ نے کہا تو دونوں ساتھ سیڑھیاں چڑھنے لگے..
زارون پھر بھی نا باز آیا اسکے ساتھ سیڑھیاں چڑھتے اسے کندھا مارا تھا..
زری کا دل کیا اسے زور دار دھکا دے کے نیچے پھینک دے مگر نیچے اسکی ماں کھڑی تھی ..اور جلدی جلدی سیڑھیاں چڑھتی اسے آگے نکل گئی..
سفینہ نیچے کھڑی انہیں دیکھ رہی تھی.. ابھی بھائی صاحب انہی کا بھی رشتہ جوڑنے کا سچے بیٹھے تھے پانچ منٹ تو بنا کر نہیں رکھ سکتے.. کچھ عرصہ قبل عالم صاحب نے زارون کو لیکر بات کی تھی زرتاج کیلئے مگر سفینہ انکار کر چکی تھی اور سیما بھی شائنہ سے رشتہ کی ضد لگائی بیٹھی تھی..
🌹🌹🌹🌹
زرتاج پھنکارتی ہوئی آئی تھی کمرے میں.. “سمجھتا کیا ہے اپنے آپکو”
روحا اپنی کتابیں لئے بیٹھی تھی..
” تمہیں کیا ہوا ہے.. ” زارون بھائی سے تو نہیں جھڑپ ہوگئی ..”
“اس چمگادڑ نے جینا محال کر دیا ہے میرا.. ” پھر سے زارون کے ذکر پہ چھڑ گئی..
“زری پلیز تم نے میرے دونوں بھائیوں کو جلاد ہی بنایا ہوا ہے.. ” روحا کو اچھا نہیں لگا
تمہارے دونوں بھائی اسی تعریف کے قابل ہے.. ” وہ بس دل میں ہی سوچ سکی تھی.. روحا سے کہتی تو اور ناراض ہوجاتی..
وہ اپنے بیڈ پہ آتی کمبل میں منہ دے کر لیٹ گئی..
تم آج یہاں سوؤ گی چاچی کے پاس نہیں سوؤ گی.. ” روحا نے اسی کمرے میں سوتے دیکھ پوچھا..
“وہ بھی کہاں سونے دیتی ہیں.. ایک نیا ٹاپک لئے بیٹھ گئی ہے.. “
کونسا ٹاپک ” اب کہ روحا اسکی طرف متوجہ ہوئی..
یار اب وہ میری شادی کے پیچھے پڑ گئی ” وہ رونی صورت بناتی ہوئی بولی..
ہاہا ہاہا.. واہ ڈیٹس گڈ.. میں بھی سوچ رہی تھی کوئی نیا ایونٹ نہیں آ رہا انجوائے کرنے کیلے.. روحا شرارتی انداز میں بولی..
” روحی کی بچی.. ” زرتاج تکیہ پھینکا تھا اسکی طرف..
🌹🌹🌹🌹
زارون کمرے میں آیا اور شیشہ کے سامنہ کھڑا اپنے زخم کا جائزہ لینے لگا..
جنگلی بلی.. کیسی میری گردن نوچ لی..
گردن پہ ہاتھ رکھے بڑبڑایا..
“اگر ڈیڈ اسے میرے پلے باندھ دیتے تو کیسے مینیج کرتا”..
افف میں بھی کیا سوچ رہا ہوں.. ” اپنی سوچوں پہ ملامت کرتا بستر پر ڈھیر ہوا..