94.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Beparwah) Episode 39

صبح سے ہی گھر میں ہلچل مچی ہوئی تھی آج بارات تھی اور سبھی کو اپنی اپنی تیاریوں کی پڑی ہوئی تھی..
شام ہونے کو آئی تھی زارون کے ذمہ حال کی تیاری دیکھنا تھا وہ وقت سے پہلے ہی وہاں پہنچ کر انتظامات دیکھ رہا تھا عمار لڑکیوں کو پارلر چھوڑ آیا تھا.. زویا روحا اور زرتاج..
سب مہمان حال میں آنا شروع ہوگئے تھے سیما اور سفینہ دروازے پہ کھڑی سب کو خوش آمدید کررہی تھی..
“سفینہ بچیاں کب تک آئیں گی”.. سیما حال سے بھرے مہمانوں کی جانب دیکھتے کہا تھا آٹھ بجنے کو آۓ تھے..
وہ فکر مند ہوئیں..
“پریشان نا ہوں آپ روحان گیا ہوا ہے آتے ہی ہوں گے بچے سفینہ نے”. مسکرا کر کہا تھا..
…
🥀🥀🥀🥀
“واؤ زویا بھابھی آپ کتنی پیاری لگ رہیں ہیں سو بیوٹیفل.. ” روحا اسیکی تعریف کی
“ماشاللہ زویا تم بہت پیاری لگ رہی ہو”.. زرتاج نے بھی اسکی دل سے تعریف کی..
زویا ڈیپ ریڈ کلر کے لہنگے جس پہ گولڈن نگوں کا کام ہوا تھا پہنے بے حد حسین لگ رہی تھی پہلی بار وہ اتنا تیار ہوئی تھی بیوٹیشن نے بھی بہت اچھا تیار کیا تھا..
بہت روپ آیا تھا اس پہ.. روحا بھی تیار ہوچکی تھی.. اب زرتاج کا میک اپ شروع کیاتھا..
“آہ زویا بھابھی بھائی کی کال آرہی ہے”.. روحا پریشان ہوتے بولی زرتاج ابھی تیار نا ہوئی تھی..
“ہیلو بھائی.. “
یار جلدی باہر آؤ,”.. روحان بولا..
وہ بھائی.. ہم تو تیار ہیں. مگر زری تیار ہو رہی ہے”.. روحا اسکے غصہ سے خائف ہوتی ہوئی بولی..
افف یار ..کتنہ ٹائم لگے گا اسے”.. روحان کا پارا چڑھا تھا..
وہ بھائی”.. روحا زرتاج کی طرف دیکھتے بولی جسے تقریباً آدھا گھنٹہ مزید لگنا تھا..
“آدھا گھنٹہ.. “
“واٹ”.. اچھا تم دونوں تو باہر آؤ”.. زرتاج بعد میں آجائے گی.. اسے مزید غصہ آیا تھا ان پہ کہتے کال کاٹ دی…
“بھابھی بھائی ہمیں باہر بلا رہے ہیں”.. روحا نے زویا کو دیکھتے کہا..
“مگر زری ابھی تیار ہو رہی ہے ساتھ چلیں گے ” زویا نے فکرمندی سے کہا..
“زویا تم لوگ جاؤ مجھے ابھی ٹائم لگے گا روحان بھائی غصہ ہو رہے ہوں گے.. “
“اچھا ٹھیک ہے پھر ” وہ اسکی بات مانتی باہر کی جانب بڑھی روحا اسکے آگے تھی..
بلیک تھری پیس سوٹ پہنے وہ گاڑی کے ساتھ ٹیگ لگاۓ کھڑا تھا ..
روحا پہلے باہر آئی.. “یار کیا اتنی دیر لگا دی تم لوگ نے کب سے” .. پیچھے سے آتی زویا کو دیکھ زبان گنگ ہوئی تھی..
اس پہ نظریں ٹھہر سی گئی..
ایم سوری وہ”.. زویا بولی تھی کہ بات کاٹ گیا..
کوئی بات نہیں بیٹھو گاڑی میں زری کو بعد میں عمار لینے آجائے گا”.. کہتے روحان نے فرنٹ ڈور کھولا تھا زویا کیلئے..
روحا مسکراتے پیچھے جا بیٹھی..
زویا اپنا لہنگا سنبھالتی گاڑی میں بیٹھی..
آدھے گھنٹے کا سفر تہہ کرتے وہ حال پہنچے تھے..
روحان کے بازو میں ہاتھ ڈالے وہ دونوں حال میں انٹر ہوئے تھے.. سب کی نظریں ان پہ اٹھی تھی وہ ہر ایک کی توجہ کا مرکز بنے تھے..بلیک تھری پیس پینٹ کوٹ پہنے بالوں کو جیل سے اچھے سے سیٹ کئے پرنس چارمنگ ہی لگ رہا تھا زویا ڈیپ ریڈ لہنگا پہنے اپسرا ہی لگ رہی تھی..
وہ اسکے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے سہج سہج کر چل رہی تھی..
دونوں ایک ساتھ مکمل نظر آ رہے تھے..
اسٹیج پہ پہنچتے سیما اور سفینہ دونوں نے انکی نظریں اتاری تھی…
پیچھے روحا بھی چلتی آرہی تھی..
زری کہاں رہ گئی”.. سفینہ نے زرتاج کو ساتھ نا پاکر روحا سے پوچھا..
” چاچی وہ ابھی تیار نہیں ہوئی تھی اسلیے روحان بھائی ہمیں پہلے لے آئے”.. روحا نے جواب دیتے کہا..
بیٹا تھوڑا انتظار کر لیتے اسے ساتھ ہی لے آتے.. ” وہ پریشان ہوئیں..
🥀🥀🥀
اسٹیج پہ دو صوفہ رکھے تھے ایک روحان اور زویا کیلئے جبکہ دوسرا زرتاج اور ارحم کیلئے ..
زویا اور روحان بیٹھ چکے تھے..” آج تم بہت حسین پری لگ رہی ہو خیر منانا اپنی” .. معنی خیزی سے اسکے کان کے قریب سرگوشی کرتے روحان نے اسکی جان نکالی تھی قوس و قزح کے کئی رنگ بکھرے تھے اسکے چہرے پہ..
“چاچی آپ پریشان نا ہوں ابھی میں روحان بھائی سے کہتی ہوں وہ کسی کو بھیجتے ہیں لینے کیلے”.. سفینہ کو پریشان ہوتا دیکھ روحا نے انہیں تسلی دی..
“بھائی زری کو لینے بھیج دیں کسی کو”.. روحان کے پاس آئی تھی روحا..
“پلیز زارون کو بھیجئے گا”.. زویا نے آہستہ سے کہا..
ہاں میں کہتا ہوں”.. روحان نے کہتے جیب سے فون نکالا تھا..
“ہاں کہاں ہو تم یہاں اسٹیج پہ آؤ”.. زارون کو وہاں ناپاکر روحان نے اسے کال کی جو حال کی بیک سائیڈ پہ کھانے کے انتظامات دیکھ رہا تھا..
“ہاں کیا ہوا ” سٹیج پہ آتے زارون بولا تھا ایک نظر زویا پہ ڈالتا روحان کی طرف متوجہ ہوا..
روحان اسے سائیڈ پہ لے آیا..” زارون وہ زری کو تو لے آؤ پارلر سے.. “
“واٹ روحان تم اسے ساتھ کیوں نہیں لاۓ میں نہیں جا سکتا”.. عمار کو بھیج دیتا ہوں..
“زارون زری کو تم ہی لاؤ گے.. جاؤ ابھی”.. روحان نے آرڈر دینے والے انداز میں کہا..
“کیا مصیبت ہے جا رہا ہوں” کوفت سے کہتے حال سے باہر نکلا تھا..
…
🥀🥀🥀🥀
“جلدی کرو سب.. اب اس دلہے کو بھی کمرے سے باہر نکالے کوئی” ..ارحم باہر آؤ”..صائمہ گھر کے بیچوں بیچ کھڑی سب پہ چلا رہی تھی.. تب عقب سے عقیلہ پھپھو نکلتی ہوئی آئی..
“آۓ ہاۓ صائمہ کیوں اتنا شور برپا کیا ہوا ہے”..
“آپا آپ بجاۓ میرا ہاتھ بٹانے کے مجھے ہی ٹوکے جا رہی ہیں اور ایک تو آپکی بہو بھی کسی کام کی نہیں ہے.. محال ہے کہ کوئی ہاتھ ہلا لے.. “
“اس نے کبھی گھر نہیں ہاتھ ہلایا تو یہاں کیا کرے گی”..
“امی اب کر تو رہی ہوں کام منا رو رہا ہے اسکی تیاری کروں یا خود کی”..
” آپ کو تو بس موقع چاہیے مجھے تانے مارنے کا.. “
پیچھے سے آتی مہک نے سنا تو جھٹ سے بول پڑی.. ٹسوے بہاتی اندر کو بھاگی..
“افف اب اسد کو لگاۓ گی شکایتیں پیچھے سے اور وہ نکما ماں پہ ہی چڑ دوڑے گا” وہ بھی بڑبڑاتی نکل گئی..
“افف جیسے خود چتر ویسی بہو بھی چلتر” صائمہ کوفت سے کہتی خود ارحم کی کمرے کی طرف بڑھی..
ارحم نے پہلے اپنے آپ کو آئینہ میں دیکھا جو بلیک شیروانی پہنے ہوئے تھا پھر پورے کمرے پہ تفصیلی جائزہ لیا.. پورا کمرہ گلاب کی پتیوں سے مہک رہا تھا.. خوبصورت نئے ڈیزائن کا فرنیچر آیا تھا زرتاج کے جہیز کا جس نے کمرے میں چار چاند لگا دیئے تھے.. اور اوپر سے ارحم نے بہت خوبصورت پھولوں سے جو سجاوٹ کی تھی کمرے کی ..
“تو فائنلی تم آج مسز زرتاج ارحم بن کر اس کمرے میں آؤ گی دو مہینے جو تم نے مجھ غریب پہ ستم ڈھاۓ ہیں آج اسکا سود سمیت بدلہ لوں گا تم سے اور کل سے الگ تنگ کیا ہوا ہے نا کال اٹھائی نا کسی مسیج کا رپلاۓ یہ سب تم پہ بھاری پڑنے والا ہے”..
“ارحم.. ارحم..” صائمہ زور سے دروازہ بجاتی بولی تھی..
تو وہ اپنی خوابگاہ سے باہر آیا اور دروازہ کھولا.. ارحم جلدی کرو ..نو تو ہمیں یہیں بج جانے ہیں.. جلدی کرو” وہ سیخ پا ہوئی..
“ریلیکس ماما میں تیار ہوں..چلتے ہیں”..
…
🥀🥀🥀
“ماشاللہ مس زرتاج آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں دلہا تو آج آپ پہ فدا ہی ہوجائے گا.. “
“زرتاج جو تیار شیشہ کے سامنے کھڑی خود کو دیکھتے ہی رہ گئی تھی…شاکنگ پنک لہنگا جس پہ گولڈ کا کام ہوا تھا اسکی گوری رنگت پہ بہت جچ رہا تھا .. ساتھ کی گولڈ جیولری پہنے حنائی ہاتھوں میں میچنگ کی پہنی گئی چوڑیاں.. اس پہ بیوٹیشن کا خوبصورتی سے کیا گیا میک اپ اس پہ چار چاند لگا رہا تھا.. اس کے موبائل کی میسج ٹون بجی.. میسج کھولا تو ارحم کا تھا..
“جان جی آج آپ کی جان میری ایک نہیں چلے گی آپکی تیار رکھنا خود میرے لئے.. ورنہ زبردستی پہ بھی اتر آؤ گا.. “
اسکے گلابی ہونٹ مسکراہٹ میں ڈھلے تھے بڑا ہی ڈھیٹ ثابت ہوا تھا وہ..
کچھ ہی دیر میں ایک لڑکی آئی اسے بلانے.. “مس آپ کو کوئی باہر بلا رہا ہے زارون نام بتایا ہے.. “
“جی مجھے ہی لینے آۓ ہیں”.. کہتی باہر نکلی..
زارون دوسری طرف منہ کئے کھڑا تھا.. وہ اپنا لہنگا سنبھالتی چھن چھن کرتی اسکی قریب آئی اور اسے آواز دی زارون
زارون پلٹا تو پلک جھپکنا ہی بھول گیا.. وہ اس قدر حسین لگ رہی تھی ..
“زارون چلو دیر ہو رہی ہے..” اسکے بولنے پہ وہ حوش میں آیا تب تک زرتاج گاڑی میں بیٹھ چکی تھی.. اور اسنے فرنٹ سیٹ سنبھالتے گاڑی اسٹارٹ کی..
…
🥀🥀🥀🥀
بارات آنے کا حال میں شور مچا..
بلیک شیروانی میں ملبوس ارحم بڑے ہی خوش انداز میں چلتا ہوا اسٹیج کی جانب بڑرہا تھا.. صائمہ اور اسکی بیٹی اور بلقیس پھپھو بھی اپنی بہو بیٹے کے ساتھ ارحم کے ہمراہ ہی چلتی آرہی تھی اسٹیج پہ پہنچتے ہی ارحم روحان کے بغل گیر ہوا پھر عالم صاحب اور سیما اور سفینہ سے پیار لیا..
روحان اور ارحم کی یہ پہلی ملاقات تھی..
…
🥀🥀🥀🥀
گاڑی میں مکمل خاموشی تھی.. وہ سامنے اسکرین پہ نظریں جمائی بیٹھی تھی..
اس خاموشی کا زارون نے توڑا..
“زری.. “
زرتاج نے سر موڑ کر اسے دیکھا..
“سوری”.. وہ سامنے دیکھتا بولا..
“کیا مطلب ..سوری کیوں بول رہے ہو.. “
آج تک میں نے تمہیں بہت تنگ کیا ہے یقیناً تمہارا دل بھی دکھایا ہوگا… تم مجھے اپنا دشمن ہی سمجھتی ہوگی.. مگر یقین جانوں میرا ارادہ صرف تمہیں تنگ کرنا ہوتا ہے”.. مجھے تم سکون میں اچھی نہیں لگتی..اس سب کیلئے سوری”.. وہ ایک نظر اس پہ ڈالتا تو سامنے فوکس کئے گاڑی چلارہا تھا..
چلو تمہیں معاف کیا کیا یاد کرو گے”.. وہ بھی بڑے دل کا مظاہرہ کرتی بولی..
“تم خوش ہو اس شادی سے.. “اچانک سے سوال کیا
پتا نہیں ویسے ہے تو کارٹون”.. مزاق اڑانے والے انداز میں بولی..
“افف لڑکی اپنے ہونے والے شوہر کو کارٹون بتا رہی ہو”..
“ہاں تو” دونوں ہنس دیے..
” تمہیں شائنہ کیسی لگتی ہے.. “
“دماغ خراب کردیا ہے میرا کل سے اس لڑکی نے.. چڑیل لگتی ہے..”
ہاہاہا..دونوں کا قہقہہ گونجا تھا گاڑی میں…
آا آاہ زارون.. کیسے گاڑی چلا رہے.. زرتاج گھبرائی..
ایک دم لڑکھڑا گئی.. زارون نے جلدی سے بریک لگائی..
“لگتا ہے ٹائر پنکچر ہوگیا..” کہتے ہی گاڑی سے اتر کر ٹائر کا جائزہ لیا..
“ٹائر چینج کرنا پڑے گا”.. زارون نے گاڑی سے اتر کر ٹائر کا جائزہ لیا گاڑی کی ونڈو پہ آکے زرتاج سے بولا..
“زارون دیر لگ جاۓ گی”.. اس پاس دوڑتی گاڑیوں کو دیکھتی زرتاج پریشانی سے بولی..
“زری پریشان نا ہو بس تھوڑا سا ٹائم لگے گا’.. دور اسے چھوٹی سی مکینک کی دکان نظر آئی.. “وہ پاس ہی مکینک والا ہے بس دس منٹ کا کام ہے.. تم بیٹھو میں آتا ہوں.. “
“زارون پلیز جلدی آنا”.. پیچھے سے آواز لگائی تھی اس نے..
..
تھوڑی ہی دیر میں وہ ساتھ لڑکا لے آیا اور اس نے جلدی ہی ٹائر چینج کردیا.ساتھ ہی زارون کا فون بج اٹھا “ہاں بس آ رہے ہیں راستہ میں ہیں ٹائر پنکچر ہوگیا تھا بس ابھی ٹھیک کروایا ہے اوکے ” کہتے کال کٹ کرتے زارون نے گاڑی میں بیٹھتے گاڑی اسٹارٹ کی..
…
🥀🥀🥀
روحان نے کال کاٹتے پاس کھڑی سفینہ کو تسلی دیتے بولا..
“چاچی ٹینشن نا لے راستہ میں ہیں گاڑی کا ٹائر پنکچر ہوگیا تھا بس تھوڑی دیر میں پہنچ جائیں گے..”
“روحان تم تھوڑا انتظار کرلیتے اسے ساتھ ہی لے آتے”..
سفینہ نے فکرمند ہوتے کہا.. پتا نہیں کیوں انکا دل گھبرارہا تھا..
“سوری چاچی بس سمجھ نہیں آیا اس وقت.. “
آدھا گھنٹہ ہوگیا تھا بارات آئی کو وہ بار بار پوچھے جا رہے تھے دلہن کے بارے میں
…
آدھا گھنٹا اور سرک گیا تھا زرتاج اور زارون ابھی تک نہیں پہنچے تھے..
صائمہ نے پھر سفینہ سے پوچھ لیا..
ارے بہن اب تو پورا گھنٹہ ہوگیا ہے ہمیں آۓ ہوۓ اور آپکی بیٹی ابھی تک پارلر سے نہیں آئی..
“بس وہ آ رہے ہیں گاڑی کا ٹائر پنکچر ہوگیا تھا اس میں ٹائم لگ گیا”.. سفینہ خود کو سنبھالتے مشکل سے جواب دیا.. ساڑھے دس بج چکے تھے..
زویا نے روحا سے پوچھا..
“زری نہیں پہنچی ابھی تک.. “
“نہیں”.. اس نے بھی پریشانی سے سر نا میں ہلایا..
وقت گزرتا جا رہا تھا..
عالم صاحب اور روحان ایک سائیڈ پہ کھڑے تھے.. “روحان زارون کال کیوں نہیں اٹھا رہا کہاں رہ گیا ہے بچی بھی اسکے ساتھ ہے.. “
“ڈیڈ مجھے بھی ٹینشن ہورہی ہے اس سے بات کی پہلے تو کال جا رہی تھی مگر اب تو نمبر بند جا رہا ہے”..
“اب کیا کریں لوگ عجیب سی نظروں سے دیکھ رہے ہیں کیا جواب دیں لوگوں اب”.. وہ پریشان ہوتے بولی..
“ڈیڈ آپ پریشان نا ہوں یہ وقت حوش سے کام لینے کا ہے آپ عمار کو اور اسکے ساتھ کچھ لڑکوں کو بھیجیں انہیں ڈھونڈنے کیلئےشاید اللہ نا کرے انہیں کوئی حادثہ نا پیش آگیا ہو.. میں گیا تو لوگوں کو شک ہوگا کچھ گڑبڑ ہے.. “
زویا اسٹیج پہ بیٹھی الگ ٹینشن میں تھی.. سفینہ بھی الگ پریشان تھی کئی وسوسے آ رہے تھے ذہن میں..
ارحم کب کا بیٹھا تھا اب اسکے صبر کا بھی پیمانہ لبریز ہو رہا تھا کب سے خود پہ کنٹرول کئے بیٹھا تھا.. زرتاج کو کال لگا رہا تھا مگر اسکا نمبر آف جا رہا تھا..
“اماں مجھے تو کچھ گڑبڑ لگ رہی ہے”.. مہک اپنی ساس سے بولی..
“لگ تو مجھے بھی رہا ہے دال میں ضرور کچھ کالا ہے.. ابھی تک لڑکی نہیں پہنچی حال میں دو گھٹنے ہوگئے” ..ارحم کی پھپھو عقیلہ بھی ابھی اپنے تئیں اندازہ لگاتے بولی..
“ارے اماں مجھے تو پوری دال ہی کالی لگ رہی ہے”..
“مجھے تو لگتا ہے لڑکی جو اسکا کزن لینے گیا تھا نا اسے وہ بھی غائب ہے”.. لڑکی ہاتھ کر گئی ہے انکے ساتھ انکے چہرہ ہی نظرآرہے ہیں کیسے گھبراۓ ہوۓ پھر رہے ہیں” مہک نے بھی جلتی پہ تیل کا کام کیا تھا.. پاس بیٹھی ہوئی صائمہ اور اسکی بیٹی جو ان دونوں کی باتیں سن رہی تھی..
“ارحم دیکھ رہے ہو کیا چل رہا ہے”.. صائمہ ارحم سے بولی جو لب بھینچے سن رہا تھا..
“ماما پلیز آپ پوچھیں ان سے زرتاج کہاں ہے.. ” وہ بھی غصہ کا بھرا بیٹھا تھا.
“سفینہ بہن آپ سچ سچ بتائیں کہاں ہے آپ کی بیٹی.. آپ نے شادی سے پہلے اسکی مرضی بھی پوچھی تھی کہ نہیں”.. صائمہ سفینہ سے پوچھتی سیخ پا ہوئیں..
“بہن ہم خود پریشان ہیں ایسی کوئی بات نہیں.. ڈر لگ رہا ہے کوئی حادثہ نا پیش آگیا ہو.. بس دعا کریں میری بچی صحیح سلامت ہو”.. سفینہ نے آنسو بہنے لگے..
“آپ ایسی باتیں کرکے اپنی بیٹی کے کارناموں پہ پردہ نہیں ڈال سکتی”.. عقیلہ پھپھو بولی..
“دیکھیں ہمیں اپنی بچوں پہ پورا بھروسہ ہے”.. اب کہ سیما بولی..
وقت گزرتا جا رہا تھا اور لوگوں کی چہ گوئیاں بڑھنے لگی تھی..
“آپ لوگ بتاتے کیوں نہیں آپکی بیٹی کہاں ہے.. یا پھر ہم جائیں..” اب کہ صائمہ اونچی آواز میں بولی تھی..
عالم صاحب تیزی فاصلہ تہہ کرتے ان تک پہنچے..
“دیکھیں بہن ہم ڈھونڈ رہے ہیں انشاءاللہ مل جاۓ گی.. “
“بھائی صاحب آپ لوگ مان کیوں نہیں لیتے آپ کی بھتیجی آپ کے بیٹے کے ساتھ آپکی ناک کے نیچے سے نکل چکی ہے”.. صائمہ کی آواز قدرے بلند تھی..
عالم صاحب کو اپنا دل مٹھی میں جکڑتا ہوا محسوس ہوا..
“دیکھیں آپ بے وجہ الزام لگا رہی ہیں ” روحان آگے بڑھا اپنے غصہ کو قابو کرتا بولا..
“تم ابھی بھی الزام کہہ رہے ہو مسٹر روحان کہاں ہے تمہارا بھائی”.. اب کے ارحم آگے بڑھا اپنی ماں کے برابر کھڑا ہوا بولا..
“مگر ہم آج خالی ہاتھ واپس نہیں جائیں گے”.. صائمہ کہتی انہیں چونکا گئی.. چونک تو ارحم بھی گیا..
“کیا مطلب ہے آپکا” سیما بولی..
“مطلب یہ کہ زرتاج نا صحیح اپنی چھوٹی بیٹی کا نکاح دے دیں ارحم کیلئے”.. صائمہ نے تنقیدی نگاہ ڈالی روحا پہ..
سب کے سب شاک ہوۓ تھے..
روحا کے تو پیروں تلے زمین نکلی تھی.. ارحم کے بارے میں تو خواب میں بھی تصور نہیں کرسکتی تھی..
ارحم بھی چونک کر اپنی ماں کی طرف متوجہ ہوا جو عقیلہ کی پڑھائی ہوئی پٹی پڑ رہی تھی..
عقیلہ اور مہک نے ایک دوسرے کی طرف مسکراتے دیکھا جنکی لگائی چنگاری کام آ رہی تھی..
“اگر آپ لوگوں نے جانا ہے نا تو شوق سے جائیں.. اب ہم آپ کے ساتھ کوئی تعلق بھی نہیں رکھنا چاہتے” روحان طیش میں آتے بولا تھا..
“اب ہم یہاں ایک منٹ بھی نہیں رکے گے چلو ارحم.. “
صائمہ ارحم کا بازو پکڑے اسے کھینچتے ہوۓ باہر نکل گئی اور ارحم انکے ساتھ گھسیٹا چلا گیا..
سفینہ تو صدمہ کی ماری بت بنی بیٹھی تھی..انکی بیٹی کی بارات واپس چلی گئی ..
اور دیکھتے ہی آدھے لوگ بھی حال سے نکلتے جا رہے تھے ہر ایک کی زبان پہ الگ الگ جملہ تھے..
دونوں ہی غائب ہے… ہاں ڈھائی گھنٹے بارات انتظار کرتی رہی..
بس اللہ بیٹی دے تو نیک دے.. ورنہ ایسی بیٹی کو تو پیدا ہوتے ہی مار دینا چاہیے..
شائنہ بھی بےچین سی ہوگئی سارے حالات وہ خاموشی سے دیکھ رہی تھی.. شینا بھی اپنی بہن کے ساتھ کھڑی تھی..
زویا نے اپنی ماں کو گلے لگایا ہوا تھا.. روحا اور ارم الگ پریشان کھڑی تھیں..
عالم صاحب کرسی پہ ڈھہ گئے تھے کسی ہارے ہوئے انسان کی طرح افسردہ سے بیٹھے تھے..
“جانے کہاں تربیت میں کمی رہ گئی تھی جو آج یہ دن دکھانا تھا.. “
“ڈیڈ آپ ایسا مت کہیں پلیز میں جا کر ڈھونڈ تا ہوں انہیں.. “روحان نے انکے کاندھے پہ ہاتھ رکھتے تسلی دی
عمار بھی آگیا تھا..
“روحان بھائی ہم بیوٹی پارلر بھی گۓ وہاں سے تو وہ لوگ نو بجے ہی نکل گئے تھے.. “
ابھی اتنا کہا ہی تھا کہ ایمبولینس حال کے داخلی دروازے پہ رکی..
سب نے چونک کر باہر دیکھا سیما نے دل پہ ہاتھ رکھا تھا..
“ہاۓ اللہ میرا بیٹا ..”
“زرتاج”.. سفینہ کے منہ سے نکلا..
سب اپنی جگہ منجمد ہوگئے آگے بڑھنے کی جسارت نا ہوئی..
زارون صحیح سلامت ایمبولینس سے باہر نکلا سب کیی جان میں جان آئی اب زرتاج کا خیال زہنوں میں آیا..
زارون نے ہاتھ بڑھا کر زرتاج کو باہر نکالا..
سب نے شکر کا کلمہ پڑھا دونوں صحیح سلامت تھے..
زارون زرتاج کا ایک ہاتھ پکڑے دوسرے ہاتھ سے اسے سہارا دیا زرتاج بمشکل چل پا رہی تھی لڑکھڑا کر چل رہی تھی..
“یہ کیا ہوا زارون” روحان نے زرتاج کو کاندھے سے سہارا دیا دونوں کے حلیہ بکھرے ہوئے چہروں پہ تکلیف کے آثار واضح تھے..
زارون کے چہرے پہ اسٹیچز لگے ہوئے تھے سر پہ بھی پٹی بندھی اور ہاتھ میں بھی پٹی بندھی تھی..
زرتاج کے ماتھے پہ بینڈج لگی تھی.. اور کلائیوں میں چوڑیوں کے زخم تھے..
زرتاج کو روحا اور ارم نے سنبھالا اسے لئے سفینہ کے پاس آئی جس نے اسے گلے سے لگا لیا..
“ڈیڈ ہمارا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا”.. وہ عالم صاحب کے سامنے آتا بولا جبکہ عالم صاحب سٹل ویسے ہی بیٹھے تھے..
اور وہ اپنے ساتھ گزری روداد سنانے لگا..
زارون نے ٹائر چینج کروانے کے بعد زارون نے گاڑی تیز چلائی کیونکہ وہ جلدی میرج حال پہنچنا چاہتا تھا..
زارون آہستہ چلاؤ گاڑی.. زرتاج نے تیز ہوتی سپیڈ سے گھبراتے کہا..
زارون نے اسکی جانب دیکھا ہی تھا کہ زرتاج چلا اٹھی..
“زارون سامنے دیکھو”..
سامنے چھوٹا بچا دوڑتا سڑک کے عین درمیان میں پہنچ گیا تھا..اسے بچانے کیلئے زارون نے ٹرن لے لیا گاڑی تیز تھی اس سے سنبھل نا سکی اور گاڑی فٹ پاتھ پہ چڑھتی ہوئی دیوار کے ساتھ جا ٹکرائی.. زرتاج دروازہ کھلتے ہی نیچے جا گری اور سر سیدھا زمین کے ساتھ لگتے بے ہوش ہوگئی.. زارون کا سر اسٹئرنگ سے جا ٹکرایا اور گاڑی کا شیشہ ٹوٹ کر اس کےچہرہ پہ جگہ جگہ پیوست ہوا.. اور وہ بے ہوش ہوگیا..
آس پاس کے لوگ جمع ہونا شروع ہوگئے قریب آدھے گھنٹے تک وہ وہیں پڑے رہے زارون کو آہستہ آہستہ ہوش آنے لگا تب تک ایمبولینس آگئی تھی اور انہیں اٹھا کر ایمبولینس میں ڈال اسپتال پہنچے جہاں انہیں ٹریٹمنٹ دیا جا رہا تھا ..
زارون اب مکمل ہوش میں تھا مگر زرتاج ابھی بھی بے ہوش تھی ڈاکٹر کے مطابق پریشانی والی کوئی بات نہیں تھی چوٹیں زیادہ نہیں لگی سر پہ چوٹ لگی ہے مگر زیادہ گہری نہیں تھی ..زرتاج ایک گھنٹے بعد ہوش میں آئی.. آنکھیں کھولے وہ آس پاس کے ماحول کو دیکھ سوچنے لگی دھیرے دھیرے سب یاد آنے لگا اچانک اٹھ بیٹھی..
زری.. تم ٹھیک ہو”.. زارون اسکے اٹھتے ہی پاس آیا..
زارون یہ میں کہاں ہوں ” .. مارے گھبراہٹ کے زارون سے بولی..
زرتاج ہمارا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا..”
تھینک گاڈ تمہیں ہوش آیا.. “
“زارون تم نے بتایا گھر والوں کو بتایا ہمارا سب انتظار کررہے ہوں گے.. ” وہ فکر مندی سے بولی..
نہیں زری میں نہیں بتا پایا میرا فون تو گاڑی میں ہی رہ گیا تھا.. “
چلو ہم چلیں.. “
ہاں.. ہاں زارون جلدی چلو”.. زرتاج نے فورن سے قدم نیچے رکھے چلنے کیلئے گھٹنے میں ٹیس سی اٹھی وہ کراہ کر رہ گئی..
زرتاج سنبھل کر.. “
پھر وہ ہسپتال سے باہر نکل ایمبولینس کے ذریعے یہاں پہنچے..
ہر طرف گہرہ خاموشی چھائی تھی ..زارون ارد گرد نظر گھمائی پھر خالی اسٹیج کو دیکھا..
بارات تو آگئی تھی نا.. کہاں ہے سب” حال میں بھی اکا دکا لوگ ہی لوگ زارون نے پوچھا..
“بارات واپس چلی گئی”.. عالم صاحب صدمہ سے بولے..
“مگر کیوں آپ لوگوں نے روکا کیوں نہیں”.. زارون بے یقینی سے بولا…
تم دونوں تین گھنٹے سے غائب تھے.. سب سمجھنے لگے کے تم دونوں بھاگ گئے ہو.. اور وہ لوگ چلے گئے.. “
“کیوں روحان تم نے انہیں روکا کیوں نہیں انہیں یقین دلانا تھا نا ہم ایسے نہیں ہے.. کیا ؟ کیا آپ لوگوں کو بھی ہم پہ شک تھا”.. زارون صدمہ سے بول رہا تھا..
زارون کے الفاظ زرتاج کے کانوں میں پڑرہے جیسے کوئی کوڑے برسا رہا ہو.. اپنے کردار پہ بات آئی تھی.. آنسو بن توڑ کر بہت نکلے تھے.. زویا نے اسے گلے لگایا تھا..
سفینہ کی بھی صدمہ سے بری حالت تھی..
“یقین تھا تم پہ زارون مگر”.. روحان کے الفاظ جیسے اسکا ساتھ چھوڑ رہے تھے..
زارون سر پکڑ کر کرسی پہ بیٹھ گیا..
میری بیٹی کا گھر بسنے سے پہلے ہی اجڑ گیا کیا منہ دکھائیں گے دنیا والوں کو بے قصور ہوتے ہوئے بھی میری بیٹی مجرم کہلائے گی.. آج اسکا دامن داغدار ہوگیا”.. سفینہ دہائیاں دینے لگے مارے غم کے.. سیما نے اسکے کاندھے پہ ہاتھ رکھا تھا.. غمزدہ تو وہ بھی ہوئی..
“عالم تمہیں جو بھی فیصلہ کرنا ہے ابھی کرنا ہے.. یہاں آدھے سے زیادہ لوگ جا چکے ہیں.. کون یقین دلاۓ گا اس بے حس دنیا کو.. گھر کی بات گھر ہی رہ جاۓ تو اچھا ہے”.. عالم صاحب کے پرانے دوست اسکے ساتھ کھڑے تھے.. اور دور اندیشی سے بات سمجھا رہے تھے اس مشکل وقت میں وہ انکے ساتھ کھڑے تھے..
“کیا کروں میں ظفر” وہ بےبسی سے بولیے تھے..
“اپنی بھتیجی کا نکاح اپنے بیٹے زارون سے کردو ابھی.. آگے تمہاری مرضی”.. عالم کے دوست نے کہا..
“بس عالم صاحب فیصلہ لیتے کھڑے ہوئے”… وہ سوچ چکے تھے اب انہیں کیا کرنا ہے..
“سفینہ بہن تم فکر نا کرو زرتاج کا نکاح آج ہوگا اور ابھی ہوگا.. “
سفینہ سمیت سب عالم صاحب کی طرف متوجہ ہوۓ ..
“زرتاج کا نکاح آج ابھی ہوگا.. میں اپنے بیٹے زارون سے زرتاج کے نکاح کا اعلان کرتا ہوں”.. وہ بڑے جوش سے بولے ہر ایک کے کان تک انکی آواز پہنچی..
شائنہ نے بے یقینی سے اپنی ماں کو دیکھا شینا نے اپنے شوہر فیاض سے کہا “یہ بھائی صاحب کیا کررہے ہیں فیاض روکے انہیں.. “
“وہ ٹھیک کررہے ہیں” فیاض نے الٹا شینا کو ہی ٹوکا..
“عالم صاحب میں آپکے فیصلہ میں آپکے ساتھ ہوں میری بیٹی ابھی بھی اچھے رشتہ مل جائیں گے مگر وہ بچی کو نہیں جس کی بارات واپس چلی گئی”..
وہ زرتاج کی طرف دیکھتے بولے..
سیما نے اعتراض کرنا چاہا..”عالم یہ آپ کیا کررہے ہیں”..
عالم صاحب نے ایک نا سنی انکی..
“زارون کیا تمہیں اعتراض ہے میرے فیصلہ سے اگر ہے تو بتا دو.. میں تمہیں مجبور نہیں کروں گا.. ” وہ دو ٹوک انداز میں بولے
زارون کشمکش میں مبتلا ہوگیا ایک طرف باپ تھا جس کی وہ نافرمانی نہیں کرسکتا تھا دوسری طرف زرتاج کے ساتھ نکاح کرنا اس کیلے کسی صدمہ سے کم نہیں تھا..
“ڈیڈ آپ فیصلہ کر ہی چکے ہیں تو.. مجھے کیا اعتراض ہوسکتا ہے”.. یہ بات اس نے دل پہ پتھر رکھ کر کہی تھی..
وہ اپنے باپ کا جھکا ہوا سر نہیں دیکھ سکتا تھا..
,,”ماما پلیز..
زرتاج نے اپنی ماں کو رحم طلب نظروں سے دیکھا..
“زری یہ دیکھو میرے جڑے ہاتھ کچھ مت کہنا ابھی.. کرلو یہ نکاح”.. وہ اسکے سامنے ہاتھ جوڑتی بولی..
زرتاج سر جھکا گئی.. اپنے آپکو مجبور اور بے بس تصور کرنے لگی.. یہ تو اسنے کبھی سوچا ہی نہیں تھا..
فیاض اپنی بیوی اور بیٹی شینا اور شائنہ کو لے جا چکے تھے..
“نیا نکاح نامہ تیار کروایا گیا..
زارون اور زرتاج کو صوفہ پہ ساتھ بٹھایا گیا اور نکاح پڑھانا شروع کیا گیا..
“زرتاج اکرم ملک بنت اکرم یوسف ملک..آپکا نکاح زارون عالم ملک ولد عالم یوسف کے ساتھ بیس لاکھ حق مہر سکہ رائج وقت کیا آپکو نکاح قبول ہے”..
ماحول میں خاموشی چھائی تھی زرتاج خاموش تھی..
مولوی صاحب نے پھر سے الفاظ دہرائے تو سفینہ نے اسکے کاندھے پہ ہاتھ رکھا تھا..
اسکے منہ بڑی مشکل الفاظ ادا ہوۓ..
“قبول ہے..”
“قبول ہے.. “
قبول ہے”.. اور اپنی تمام زندگی اس انسان. کے ساتھ کردی جس سے وہ ہمیشہ چڑ کھاتی تھی.. جس نے اسکی زندگی کا سکون تباہ کر رکھا تھا..
یہی ایجاب و قبول زارون کے ساتھ ہوا..
دونوں سپاٹ چہرہ لئے بیٹھے تھے ہر جذبات سے عاری تھے..
وہاں اس وقت سب اپنے ہی لوگ تھے کچھ لوگ باہر کے بھی تھے جن میں ایک فیملی ارحم کی طرف سے بھی تھی وہ لوگ واپس نہیں گئے تھے وہ تھے ارحم کا کزن اور اسکی وائف تھے.. نکاح کے بعد وہ لوگ بھی نکل گئے ارحم کے گھر کی طرف تاکہ اسے حقیقت بتا سکے..
وہ سب بھی اب گھر کی طرف روانہ ہوۓ..