94.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Beparwah) Episode 20

فون رنگ ہو رہا تھا۔۔ڈیڈ کالنگ ۔۔۔روحان لیپ ٹاپ پہ کچھ ضروری فائلز بنا رہا تھا جب اسکا فون بجا۔۔
ڈیڈ اسکے ہونٹ مسکراہٹ میں ڈھلے تھے کافی عرصہ بعد اسکےڈیڈ نے کال کی اسے۔۔
“اسلام علیکم ڈیڈ”۔۔
“وعلیکم اسلام ” وہ خوش اخلاقی سےبولے۔۔ “بیٹا زویا کو بھیج دیا ہے تمہارے پاس آسٹریلیا”۔۔
اورڈیڈ نےتو جیسے اس کے سر پہ بم پھوڑا۔۔
” ڈیڈ “۔۔۔ روحان کے منہ سے اور لفظ نکل ہی نہیں سکا۔۔
” آدھے گھنٹے بعد اسکی فلائیٹ لینڈ ہونے والی ہے اسے ایئرہورٹ لینے کیلۓ پہنچو ابھی۔۔”
“ڈیڈ یہ۔۔” یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں” روحان پہ تو جیسے حیرتوں کے پہاڑ ہی ٹوٹ پڑے تھے۔۔
“روحان زویا آسٹریلیا آرہی سمجھو تمہاری رخصتی کردی۔”.۔آخری بات کہتے وہ کھل کے ہنسے تھے اسے روحان کے ایسے ہی رویہ کی توقع تھی۔۔
“بٹ ڈیڈ آپ نے مجھے پہلے نہیں بتایا ” وہ صدمہ سے بول رہا تھا۔۔
“پہلے تو کسی کو بھی نہیں بتایا بس اچانک ہی سمجھو”۔۔ “اچھا چلو اب تمہیں ائیرپورٹ پہنچنے میں بھی ٹائم لگے گا”۔۔عالم صاحب نے اپنی بات کہہ کر کال کٹ کردی ۔۔
اور روحان بس فون کو دیکھتا رہ گیا۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
” ڈیڈ یہ آپ کیا کہہ رہے تھے ” زارون عالم صاحب کی سب باتیں سن چکا تھا وہ اس وقت آفس میں بیٹھے روحان سے کال پہ بات کر رہے تھے تبھی زارون بھی آفس آیا تھا اور وہ باتیں اس نے سنی۔۔
“تم نے ٹھیک سنا”۔۔عالم صاحب بولے۔۔
“آپ نے زویا کو اکیلے بھیج دیا روحان کے پاس” وہ بھی حیران تھا ۔۔
“ہاں بھیج دیا سمجھو تو پہنچ گئی”۔۔
“مگر ڈیڈ روحان کو اچھا نہیں لگے گا اور وہ کہیں زویا کو غصہ میں کوئی نقصان نا پہنچا دے ” زارون اپنا خدشہ ظاہر کیا۔۔
“ایسا کچھ نہیں ہوگا زارون” عالم صاحب نے اسکی ساری باتیں مسترد کردی ۔۔
“اوکے ڈیڈ مگر آپ نے اچھا نہیں کیا ” وہ جاتے جاتے مڑ کر بولا۔
“کیا اچھا کیا برا اب سب اوپر والے کے ہاتھ میں ہیں میں بس تم لوگوں کا بھالا چاہتا ہوں” عالم صاحب نے کہا اور زارون رکا نہیں تھا وہاں سے نکلتا اپنے آفس میں آیا تھا ۔۔
اسے غصہ آرہا تھا ” ڈیڈ نے یہ ٹھیک نہیں کیا یہ اس مسئلہ کا حل نہیں ہے” ۔۔۔ پھر موبائل سے اٹھا کر روحان کو کال کی۔۔
تیسری بیل پہ کال اٹھا لی گئی۔۔ روحان بھی غصہ کا بھرا بیٹھا۔۔
بغیر سلام دعا کے زارون سیدھا مدعے پہ آیا تھا۔۔
“اگر مجھے پتا ہوتا کہ ڈیڈ یہ سب کر رہے ہیں تو میں کبھی بھی ایسا نا کرنے دیتا انہیں” ۔۔۔
” کیا کہہ رہے سیدھا سیدھا بولو ” روحان کا بھی دماغ گھوما تھا. ۔
“میں زویا کو آسٹریلیا بھیجنے کے حق میں نہیں ہوں اگر مجھے پتا ہوتا تو اسے کبھی نا آنے دیتا۔۔۔” زارون نے صاف الفاظ میں جواب دیا۔۔
“میں تو جیسے مرا جا رہا تھا زویا کیلۓ ” روحان کو زارون کی یہ بات سخت ناپسند آئی تھی۔۔
“میں تمہیں صاف صاف بتا دوں اگر تم نے زویا کو کوئی نقصان پہچانے کی کوشش کی تو اچھا نہیں ہوگا”۔۔گویا کہ دھمکی دی زارون نے..
“روحان نے اپنی مٹھیاں بھینچی تھی زارون کی بات سن کر “جیسے ہی وہ یہاں آۓ گی اسے طلاق دے کر دوسری فلائیٹ سے واپس بھیج دوں گا پھر رکھ لینا اسے اپنے پاس جیسے چاہے مرضی ” روحان نے بھی سخت الفاظ کا استعمال کیا۔۔
زارون کو احساس ہوا وہ کچھ زیادہ سخت جملے بول گیا۔۔ “ٹھیک ہے بھیج دینا شاید تمہاری بیوی تمہارے لیۓ بوجھ ہو مگر میری بہن مجھ پہ بوجھ نہیں رکھ سکتا ہوں میں اسے” زارون نے بھی کرارا جواب دیا تھا روحان کی بولتی بند ہوئی تھی۔۔
“تمہاری زہن میں بہت غلاظت بھری ہے روحان اس لیۓ ڈرتا ہوں زویا کیلۓ۔۔” اتنا کہہ کر وہ فون رکھ گیا۔۔
روحان نے اپنا سر پکڑ لیا تھا یہ کیا ہو رہا ہے ” یہ کیا کردیا ڈیڈ نے ۔۔میں نہیں جا رہا اس مصیبت کو لینے ” پین زمین پہ دے مارا۔۔
🥀🥀🥀🥀
زویا کا پلین لینڈ ہو چکا تھا اور وہ بورڈنگ سے ہوتی اپنا سامان لے کر باہر آئی مگر اسے روحان کہیں نا نظر آیا ۔۔ ادھر ادھر نظر دوڑاتی رہی مگر دور دور تک کہیں نظر نا آیا تھا پریشانی سے وہیں چئیر پہ بیٹھ کر اسکا انتظار کرنے لگی۔۔
🥀🥀🥀🥀
آدھا گھنٹا گزر چکا تھا روحان ابھی ویسے ہی پرشان سا سوچوں میں گم سم بیٹھا تھا۔۔
وکی آفس کے اندر آیا اسنے گھڑی میں ٹائم دیکھا جو چار بجا رہی تھی ۔۔ “زویا بھابھی کی پرواز اتر چکی ہے اور یہ ابھی تک یہیں بیٹھا ہے”۔۔ وہ سوچتا ہوا اسکے سامنے آیا..
“روحان کیا ہوا کوئی پریشانی ہے ” وکی انجان بنتا بولا۔۔
“ہاں بہت بڑی پریشانی ہے زویا آرہی ہے”۔۔ روحان بولا
“ہاہا یار کُڑی (لڑکی) تیرے پاس خود آرہی ہے ٹینشن کیسی عیش کر”۔۔ وکی مزاق اڑاتا بولا
روحان نے اسے گھور کے دیکھا تو وہ چپ ہوگیا
“ویسے کب آرہی ہیں بھابھی صاحبہ” وکی نے پوچھا جبکہ وہ جانتا تھا۔۔
“چار بجے” ۔۔۔ کوفت سے بولا
“وٹ یار چار تو بج گئے تو یہیں بیٹھا ابھی تک اسے لینے نہیں گیا۔۔” وکی نے حیران ہونے کی ایکٹنگ کرتے پوچھا جبکہ اسے روحان پہ غصہ آرہا تھا وہ گیا کیوں نہیں ۔۔۔
“میرا نہیں دل کر رہا میں نہیں جا رہا ” روحان نے کوفت سے کہا۔۔
“یار پرایا دیس ہے بھابی اکیلی ہے وہ تیرا انتظار کر رہی ہوگی۔۔ اختلاف اپنی جگہ مگر وہ تیری عزت ہے لاکر اسے اپنی چار دیواری میں چھوڑ دے کچھ وقت گزرنے کے بعد اسے واپس بھیج دینا ” ۔۔۔ وکی سمجھاتے ہوۓ بولا جو کچھ کچھ روحان کے پلے پڑا تھا۔۔
روحان اٹھا میز سے گاڑی کی چابی اٹھائی وکی کو دیکھتا ہوا باہر چلا گیا۔۔
” سر ” ۔۔ روحان سر چلے گۓ اپنی مسز کو لینے پیچھے سے علینا آتی بولی تھی۔۔
وکی نے سر پہ ہاتھ پھیرا تھا ہاں چلا تو گیا ہے اگر اسے پتہ چل گیا نا اس سب کاروائی کے پیچھے ہاتھ میرا ہے تو میری خیر نہیں۔۔
“اور میری نوکری گئی کیونکہ ماسٹر مائنڈ میرا ہے” علینا کو ہنسی آئی۔۔
ہاہا ” تو دونوں ہنس دیے
وکی نے ہی عالم صاحب کو کال کر کے اپنے پلین سے آگاہ کیا تھا “
جو اس اسنے علینا کے ساتھ مل کر بنایا تھا روحان کو راہ راست پہ لانا چاہتے تھے..
🥀🥀🥀🥀🥀
وہ ابھی تک چئیر پہ ہی بیٹھی تھی آدھا گھنٹا گزر گیا مگر ابھی تک روحان نہیں آیا تھا اب تو اسے آس پاس کے لوگوں سے خوف آنے لگا تھا دل سے دعائیں کررہی تھی کہ روحان جلدی آجاۓ۔۔ شام ڈھلنے لگی سردی بڑھتی جا رہی تھی بس ایک شال ہی اوڑھ رکھی تھی جو سردی کم کرنے کیلۓ ناکافی تھا۔۔
روحان ریش ڈرائیونگ کر کے ائیرپورٹ پہنچا تھا جانتا تھا وہ ڈرپوک ہے کبھی کہیں اکیلی بھی نہیں گئی ہوگی اتنا کونفیڈینس کہاں زویا میں۔۔
وہ سر جھکاۓ بیٹھی بس رودینے کو تھی۔۔
روحان ادھر ادھر دیکھتا آگے بڑھ رہا تھا زویا اسے کہیں بھی دکھائی نہیں دے رہی تھی آنے جانے لوگوں کا بھی کافی رش تھا روحان کو اب اپنی غلطی کا احساس ہونے لگا تھا اس نے دیر کردی آنے میں۔۔اگر زویا نا ملی تو ڈیڈ مجھے چھوڑیں گے نہیں ۔۔وہ سوچتے ادھر ادھر دیکھتے آگے بڑھنے لگا۔۔
زویا نے سر اٹھا کر پھر سے ادھر ادھر سر گھمایا
سامنے چئیر پہ بیٹھی زویا پہ روحان کی نظر گئی اسی وقت زویا نے سامنے دیکھا۔۔
ایک ساتھ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا روحان وہی رک گیا اور زویا کرسی سے کھڑی ہوئی دونوں ساکت کھڑے ایک دوسرے دیکھے جا رہے تھے۔۔
پیچ کلر کی فراک پہنے ہم رنگ ریشمی شفون کا دوپٹہ سر پہ اوڑھے کاندھوں پہ شال اور چہرے کو چھوتی سیاہ زلفیں سفید رنگت تیکھے نین نقوش سردی سے لال پڑتی گال حسن کے ہتھیاروں سے لیس نازک سا سراپہ لئے اسکے سامنے تئیس سالہ زویا تھی۔۔
اٹھارا سالہ زویا کا ہی نقش اس کے زہن میں تھا۔۔۔
اپنی تمام تر مردانہ وجاہت لئے وہ اس کے سامنے کھڑا تھا زویا تو اسے بس یک ٹک بنا پلک جھپکاۓ دیکھے جا رہے تھی۔۔ تھری پیس سوٹ میں وہ بہت ہینڈسم لگ رہا تھا ۔۔جب وہ گیا تھا تو بس سمارٹ سا تھا اب تو خوبورو جواں مرد لگا ہلکی بڑھی بیرڈ گھنی اور بڑھی مونچھیں اسکی پرسینلٹی کو اور چار چاند لگا رہی تھی ۔۔
قدم قدم بڑھتا اس کے قریب آرہا تھا مگر وہ تو بس اس میں کھوئی ہوئی تھی ۔۔
کیا ہوا لگتا ہے پہنچانا نہیں بھاری مردانہ آوز سن کر وہ ہوش میں آئی اوربلا اختیار اسکے سینے سے لگ گئی۔۔وہ بہت ڈر گئی تھی شاید وہ آۓ ہی نا مگر اسے سامنے پاکر بہت خوش ہوئی۔۔
اس کے اچانک گلے لگنے سے وہ حیراں تھا مگر برسوں بعد کسی اپنے کا لمس پاکر جیسے اسکے اندر سکون اتر رہا تھا اآنکھیں موند کر اس سکون کو اپنے اندر اتارا تھا اور اگلے ہی پل دونوں بازؤوں سے پکڑ کر جھٹکے سے خود سے الگ کیا ۔۔
زویا کو شرمندگی سی ہوئی اپنی اس حرکت سے اس لئے سر جھکا گئی۔۔
چلیں اسکا بیگ گھسیٹتا ہوا آگے چل پڑا اور وہ اسکے پیچھے پیچھے چلنے لگی۔۔
ائیرپورٹ کی حدود سے باہر آکر پارکنگ میں کھڑی گاڑی کو چابی سے انلاک کیا بیک سائیڈ پہ اسکا بھاری بھرکم بیگ اٹھا کر رکھا ۔۔ فرنٹ ڈور کھولا زویا کیلۓ وہ بھی چپ چاپ بیٹھ گئی اور خود بھی فرنٹ سیٹ سنبھالی تھی۔۔
سارا راستہ خاموشی کی نظر ہوا ایک غلط نگاہ بھی اس پہ نہیں ڈالی تھی۔۔مگر وہ چور نگاہوں سے اسے دیکھ لیتی۔۔
روحان نے اپنے فلیٹ کے سامنے جھٹکے سے گاڑی روکی اور باہر نکلا بیک سیٹ سے اسکا بیگ باہر نکالا وہ بھی اسکے پہچھے باہر نکلی تھی سرد سی ہوا اسکے آر پار ہوئی تھی۔۔
اپنی پاکٹ سے فلیٹ کی چابی نکالی دروازہ کھول کر اسکے سامان سمیت وہ اندر داخل ہوا دروازے پہ کھڑا اسے اندر آنے کا راستہ دیا چہرے پہ بلا کی سنجیدگی تھی۔۔ اب تو اسکی خاموشی سے زویا کو خوف آنے لگا تھا۔۔
دروازہ بند کر کے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا چہرے پہ سخت تاثرات لیۓ اس کے قریب آ رہا تھا۔۔
جیسے وہ قریب آرہا تھا زویا کی جان پہ بن آئی تھی سوکھے پتے کی مانند اسکا دل لرز رہا تھا۔۔مارے خوف کے اس کی آنکھیں پھیل گئی اپنی جگہ پہ جمی کھڑی تھی۔۔
“تو تم کامیاب ہوگئی مسز زویا روحان ملک اپنی اس معصومیت کا ڈھونگ رچا کر۔۔ اپنی اس معصوم شکل سے ڈیڈ اور زارون کی ہمدردی حاصل کر سکتی مگر میری نہیں”۔۔ لفظ تھے یا تیر جو اسکے ننھے سے دل کو چیرتے جا رہے تھے نین کے کٹورے بھرنے لگے تھے۔۔
“کروا لی پھر رخصتی بھی ۔۔ اب پھولوں کی سیج سے تمہارا سواگت کرنے سے رہا” کہتا اسکی کاندھے شال کھنچنے لگا ۔۔
“روحان پلیز میرے بارے میں ایسا مت سوچیں میں بےقصور ہوں ” وہ روتے ہوۓ بس اتنا ہی کہہ پائی۔۔اور شال کا ایک سرا ابھی اسکے کاندھے پہ تھا جو اسے زور سے پکڑ لیا ۔۔
“بعد میں رونا دھونا جس کام کے لئے آئی ہو وہ تو کرلیں” روحان جھک کر اسکے چہرے کے قریب تر ہوتا معنی خیز بولا۔۔
آنسوؤں سے تر چہرہ نفی میں ہلایا تھا۔۔
وہ مزید قریب ہوتا کہ اسکا فون بجا۔۔ سیدھا ہوکر فون اٹھایا۔۔
”یار بعد میں بیوی کا دیدار کرلینا پہلے جو کام چھوڑ کے گیا ہے وہ تو آکر نمٹا لے” وکی بنا بریک کے بولتا گیا ۔۔
“آرہا ہوں “۔۔ اتنا کہتے اس نے فون کاٹ دیا نظریں ابھی بھی اسکے چہرے پہ تھی جہاں آنسوؤں کا سیلاب جاری تھا ۔۔
وہ باہر جانے کیلۓ مڑا تھا پھر کچھ سوچ کر اسکے پاس آیا۔۔
“وہ سامنے والا پہلا کمرا میرا ہے اس کے علاوہ دو کمرے ہیں کوئی سا بھی رکھ لو نا تو تمہاری جگہ میرے کمرے میں ہے اور نا ہی میری زندگی میں بہتر یہی ہے تمہارے لۓ دور رہنا مجھ سے انڈرسٹینڈ” وہ اسکو انگلی دکھا کر وارن کرتا وہاں سے چلتا بنا یہ سوچے کے اگلے بندے پہ کیا بیتے گی۔۔
دھاڑ سے دروازہ بند کرے وہ چلا گیا اور وہ وہی زمین پہ بیٹھتی چلی گئی اور دل کھول کر روئی۔۔
روحان گاڑی میں آکر بیٹھا زور سے اسٹئیرنگ پہ ہاتھ مارا تھا اپنے آپ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔
ناجانے کیوں زویا کا رونا اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا اسکا دل اسکے بےقصور ہونے کی گواہی دے رہا تھا اور اسکے ضد بے وجہ سی لگی اپنی سوچوں کو جھٹکتا گاڑی اسٹارٹ کی اور آفس کی طرف نکل پڑا۔۔
🥀🥀🥀🥀
کافی دیر بعد رونے کا شغل پورا ہوا تو گلا خشک ہورہا تھا بھوک کا احساس بھی جاگا ارد گرد کا جائزہ لیا وہ ایک لگژری چھوٹا سا اپارٹمنٹ تھا کھلا ڈرائنگ روم نما حال سامنے اسٹائلش اوپن کیچن تھا آگے آمنے سامنے تین کمرے بنے ہوۓ تھے دو کمرے چھوٹے چھوٹے ایک ساتھ تھے ایک بڑا کمرا سامنے تھا جو روحان کا تھا ۔۔
روحان کے کمرے کے سامنے جو کمرا تھا زویا اس کمرے گئی بیگ سےسادہ آف وائٹ سوٹ نکالا اور فریش ہونے چلی گئی۔۔
فریش ہو کر کچن کا رخ کیا مگر کچھ خاص تھا نہیں کھانے کو فرج میں کچھ فروٹس اوربریڈ انڈہ دودھ کا پیکٹ تھے بس ۔۔
چاۓ بنائی اپنے لیے اور بریڈ سے ہی کام چلایا کل کی بھوکی تھی۔۔
اور پھر کمرے میں بند ہوگئی اچھے سے لاک لگایا اور لیٹ گئی۔۔
🥀🥀🥀🥀
وکی نے روحان کو جان بوجھ فون کر کے بلایا تھا تاکہ وہ زویا کیساتھ غصہ میں کچھ کر نا دے۔۔
اور وہ آگیا تھا کافی موڈ خراب تھا وکی اور علینا پریشانی سے ایک دوسرے کو دیکھتے رہ گۓ۔۔
“سر ۔۔ روحان سر کا موڈ کافی اوف ہے “۔علینا بولی تھی وکی سے۔۔
“ہاں دیکھ رہا ہوں زویا بیچاری کو پتا نہیں کیا زہر اگل آیا ہوگا۔۔”
“مجھے ایسا نہیں کرنا تھا ” وکی کو احساس ہونے لگا کہ اس نے غلط نا کردیا ہو۔۔
“سر ایسے مت سوچیں بی پوزیٹو” ۔۔علینا نے دلاسا دیا تھا
“آپ زرا سر کو ریلیکس کریں نا وقتی غصہ ہے ایسا ری ایکشن آنا ہی تھا ہمیں ہمت نہیں ہارنی”۔۔
“ہاں پہلے میں خود کو دلاسہ دے لوں مجھ غریب کو کیا پتا شادی کا دکھ کیا ہوتا ہے”۔۔ وکی بچارگی سے بولا۔۔
علینا نے اپنی ہنسی کنٹرول کی تھی سامنے روحان آرہا تھا دونوں ایک ساتھ کھڑا دیکھ کر اپنے کیبن میں چلا گیا۔۔
وکی بھی اسکے پیچھے چلا آیا۔۔
“علینا کے بجاۓ کام پہ زیادہ دھیان دیا کرو اتنا سا کام نہیں سنبھال سکے تم۔۔” روحان دانت پیستا بولا۔۔
بس جگر تیرے بغیر عادت نہیں کام سنبھالنے کی وکی بولتا سامنے والی کرسی پہ بیٹھا۔۔
“یار بھابھی پہ ہاتھ زرا ہولا رکھی” وکی بولا ۔۔
روحان نے اسے گھورا۔۔
“یار تیری گھوری میری جان نکال دیتی ہے اس بیچاری پہ کیا گزرے گی” وہ ڈرنے کی ایکٹنگ کرتا بولا۔۔
“یار اسے کچھ نا کہیں بس کچھ عرصہ ساتھ رکھیں اور پاکستان واپس بھیج دیں پھر بہانا بنا دینا انڈرسٹینڈنگ نہیں ہوئی تیرا کیس سولو ہوگیا۔۔” وکی اسے سمجھاتا بولا۔۔
“میں اسے ایک دن بھی نہیں برداشت کر سکتا ۔۔” روحان جھنجلا کہ بولا۔۔
“یار تین مہینے تو رکھنا پڑے گا نا” وکی اس بات پہ روحان نے اسے گھورا ۔۔
“چل دو مہینے ” اسکے گھورنے پہ وکی فٹ بولا۔۔
“ایک ہفتہ بس” ۔۔روحان بولا
“کیا ایک ہفتہ یار ایسے تجھی پہ انگلی اٹھے گی تو نے نہیں رکھا ۔۔ یار اسکا کچھ تو خیال کر آخر بیوی سے پہلے تیری کزن بھی ہے اس رشتہ کے ناطے رکھ لے وکی اسے سمجھانے کی کوشش کررہا تھا مگر سب بے سود تھا روحان کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھا اس وقت۔۔