Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt NovelR50484 Aseer E Mohabat (Episode - 8 & 9)
Rate this Novel
Aseer E Mohabat (Episode - 8 & 9)
Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt
” یہ آپ کیا کر رہی ہیں ؟؟ “
ازا جو کچن میں کھڑی شائید کچھ بنا رہی تھی۔۔۔۔۔ جیسے ہی کایان کی نظر اس پر پڑی تو وہ کچن میں داخل ہوا اور تجسس سے اس سے سوال کیا۔۔۔۔
” وہ کھانا بنانے لگی ہوں۔۔۔۔”
اس کی تجسس سے کیے گئے سوال پر ازا نے مڑ کر اسے دیکھا تو وہ اس پر ہی نظریں گاڑھے کھڑا تھا۔۔۔۔۔!!!! اس کے سوال کا جواب دیتی ہوئی ازا پھر سے اسی پوزیشن میں واپس چلی گئی۔۔۔
” کس نے کہا آپ سے کھانا بنانے کے لیے ؟؟ “
اس کے سوال پر کایان کو ہلکا سا غصہ آیا۔۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آئی کہ اسے یہ سب کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ جب گھر پر نوکر چاکر موجود ہیں۔۔۔۔
” وہ تائی جی نے ہمیں بلوایا تھا اور انھوں نے کہا کہ اب جب میں اس گھر میں آ گئی ہوں۔۔۔ اور جب سب مجھے اس گھر کی بہو اور کایان کی ملک کی بیوی مانتے ہیں تو مجھے اپنی زمہ داری سنبھال لینی چاہئیے۔۔۔۔ انھوں نے مجھ یہ کہا کہ آج سے رات کا کھانا میں بنایا کروں گی۔۔۔۔ اور گھر کی صاف صفائی کا بھی خیال رکھا کروں گی میں۔۔۔۔ مجھے بہت خوشی ہوئی کہ وہ مجھے کچھ کام سونپ رہی ہیں اور مجھ سے انکار نا ہو سکا!! میں نے ان سے کہا کہ ٹھیک ہے میں یہ کام با آسانی نبھا لوں گی۔۔۔۔!! “
ازا نے معصومیت بھرے لہجے میں ایک ایک جملہ ادا کیا تھا۔۔۔۔۔ آخری جملے پر جیسے ہی وہ پہنچی تو ہلکی سی پر جوش مسکراہٹ اس کے چہرے پر رونما ہوئی جسے دیکھ کر کایان بھی مسکرایا۔۔۔۔
” وہ سب تو ٹھیک ہے!! لیکن کیا آپ کو کھانا بنانا آتا ہے ؟ “
کایان اس سے یہ دریافت کرنا چاہتا تھا کہ اس نے خوشی سے ہاں تو کہہ دی تھی شہناز بیگم کو لیکن کیا اسے کھانا پکانا آتا ہے ؟
” نہیں۔۔۔۔!!! کھانا بنانا تو نہیں آتا ہمیں۔۔۔”
اس کے سوال پر ازا ایک گہری سوچ میں پڑ گئی تھی۔۔۔۔۔!!! دو لمحات کے بعد وہ اس سوچ سے باہر نکلی اور اسے معصومیت و مایوسی سے بھرے لہجے میں جواب دیا۔۔۔
” کیا آپ نے کبھی بھی کچھ بھی نہیں بنایا ؟؟؟؟ “
اس کی بات سنتے ہوئے کایان حیران ہوا کہ اسے کھانا بنانا نہیں آتا!! اور پھر بھی وہ شہناز بیگم کی بات مان گئی تھی۔۔۔۔۔
” دراصل میرے بابا نے مجھے کبھی بھی کچن میں جانے ہی نہیں دیا۔۔۔۔۔ وہ میرے کام کرنے کے سخت خلاف تھے۔۔۔۔۔ انھیں بالکل بھی اچھا نہیں لگتا تھا کہ میں گھر کے کسی بھی کام کو ہاتھ لگاؤ۔۔۔۔ ایک مرتبہ امی زبردستی مجھے کچن میں لے گئی اور چائے بنانے کے لیے کہا۔۔۔ لیکن اس وقت چائے میرے ہاتھ پر گرنے کی وجہ سے میرا ہاتھ جل گیا۔۔۔۔ بابا کو جب یہ معلوم ہوا کہ میرا ہاتھ کیوں جلا ہے تو وہ بہت برہم ہوئے۔۔۔۔ وہ تقریباً میری والدہ سے ایک ہفتے تک ناراض رہے تھے۔۔۔۔ اس کے بعد انھوں نے ایک طرح سے میرے کچن میں داخل ہونے پر پابندی لگا تھی۔۔۔۔ میری امی ہمیشہ یہی کہتی تھی کہ اسے کچھ سیکھ لینے دے کل کو پرائے گھر جائے گی تو وہاں پر جا کر یہ لڑکی کیا کرے گی ؟؟ اور بابا ہمیشہ یہی کہتے تھے کہ کل ہی ہم کل ہی دیکھے گے۔۔۔۔!! میرے بابا کو بھی کھانا بنانا آتا تھا وہ مجھے اپنی ہاتھوں سے کھانا بنا کر کھلاتے تھے۔۔۔۔!! لیکن آج جب مجھے ان کی ضرورت ہے تو وہ یہاں پر نہیں ہیں۔۔۔۔”
یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے ازا کی آنکھیں نم ہو گئی تھی۔۔۔۔ اس نے کایان کو اپنے باپ کی شفقت کے بارے میں بتایا جس سے اب وہ محروم ہو گئی تھی۔۔۔۔ اس کی باتیں سن کر کایان بہت دکھی ہوا کیونکہ وہ بھی اپنے والدین کے لیے بہت تڑپا تھا۔۔۔۔ والدین سے جدائی کا غم اس سے بہتر کوئی بھی سمجھ نہیں سکتا۔۔۔۔۔ وہ سمجھ سکتا تھا اس کا دکھ۔۔۔۔!!
” بابا نہیں ہیں تو کیا ہوا ؟ میں تو ہوں نا۔۔۔۔۔!!! “
کچھ لمحات تک وہاں ہر خاموشی چھائی رہی۔۔۔۔۔ کچھ دیر تک ازا اپنے والدین کے ساتھ گزرے لمحوں کو یاد کرتی ہوئی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کو روکنے کی کوشش کرتی رہی جب ہی کایان نے اپنے بڑھاتے ہوئے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے اس کی گالوں سے اپنے انگلیوں سے آنسوؤں کو صاف کیا۔۔۔۔ نا جانے اسے ازا کا رونا کیوں برا لگا تھا ؟ ایک لمحے کے لیے تو ازا کے دھڑکن تیز ہوئی۔۔۔۔ پر یہ عمل کایان کی طرف سے بھی بے ساختہ کیا گیا تھا۔۔۔۔۔!!!
” آپ کو کھانا بنانا آتا ہے ؟؟ “
ازا کے گالوں سے آنسو صاف کر کے کایان نے اپنا ہاتھ فوراً پیچھے کی جانب بڑھا لیا تھا۔۔۔۔ اس کی بات سن کر ازا کو تھوڑا سا حوصلہ ملا۔۔۔۔!! کہ اسے شہناز بیگم کے سامنے شرمندہ تو نہیں ہونا پڑے گا۔۔۔۔
” نہیں!! “
ازا نے کایان سے سوال کیا کہ کیا اسے کھانا بنانا آتا ہے تو کایان نے اسے جواب دیا کہ اسے کھانا بنانا نہیں آتا جس کو سنتے ہی ازا کے چہرے کی مسکراہٹ ہوا ہو گئی تھی۔۔۔۔
” تو پھر ؟ “
ازا اس کا جواب سن کر تھوڑا سا مایوس ہو گئی تھی کہ اب وہ کیا کرے گی ؟ جبکہ کایان کے چہرے پر بھی دبی دبی مسکراہٹ تھی۔۔۔۔
” تو پھر یہ کہ انٹرنیٹ کا دن کام آئے گا ؟؟ “
کایان کا جواب سنتے ہی وہ مسکرا اٹھی تھی،،،، اس کی مسکراہٹ کو دیکھ کر کایان بھی مسکرایا اور یوٹیوب سے ریسپی نکال کر خود بھی اس کے ساتھ کمر بستہ ہو گیا۔۔۔۔ آج اسے معلوم ہوا تھا کہ کھانا بنانا بہت مشکل کام ہے!!! لیکن ان دونوں نے مل کر کر کام کیا۔۔۔۔۔ ازا نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اگر آج وہ کایان کو وسیلہ بنا کر نا بھیجتے تو ناجانے وہ کیسے کرتی یہ سب کچھ اکیلی ؟
” آپ نے کیوں ہاں کی اس شادی کے لیے ؟ “
وہ جو دکھ ختم کرنے کے لیے ٹیرس پر آ کر کھڑا ہو گیا تھا۔۔۔۔ کافی دیر تک کھڑا ہوا کر سانسیں بحال کرنے میں مصروف رہا۔۔۔۔ جب ہی اسے پیچھے سے کسی کی باریک آواز سنائی دی جسے سنتے ہی وہ پہچان گیا کہ وہ کوئی اور نہیں ” ربعیہ ” ہے۔۔۔۔
” مجھے بابا نے بہت امید سے پوچھا تھا ربعیہ،،، ان کی آنکھوں میں بہت امید تھی کہ میرا جواب ہاں ہو گا۔۔۔۔!!! اور میں منع کر کے ان کی امید، ان کو بھرم نہیں توڑ سکتا تھا۔۔۔۔ جو پہلے ہی ان کا ایک بیٹا توڑ چکا تھا۔۔۔۔۔!!!! “
رہان کا جواب سن کر ربعیہ سختی سے لب بھینج گئی تھی۔۔۔۔۔!!!
” ان کا بھرم نا ٹوٹے اس کے لیے اپنی محبت کا گلا دبا دے گے ؟؟ “
ربعیہ نے اس کی بات سن کر اس سے سوال کیا کہ اس کی اس محبت کا کیا جو وہ کسی اور سے کرتا ہے ؟؟ کیا یہ اس کے ساتھ دھوکا نہیں ہو گا۔۔۔۔۔!! جس سے وہ محبت کرتا ہے ؟
” کونسی محبت ؟ “
اس کی طرف رخ موڑتے ہوئے اس نے کہا۔۔۔۔۔ ربعیہ کی نگاہیں جیسے ہی اس کی نگاہوں سے ٹکرائی تو اسے رہان کی ہیزل نگاہوں میں درد کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیا۔۔۔۔ اس کی آنکھیں سرخ تھی۔۔۔۔ جیسے بہت آنسو بہے ہو،،، آنکھوں کے گرد نمایاں حلقے صاف بتا رہے تھے کہ وہ کئی دنوں سے صحیح طریقے سے سویا تک نہیں۔۔۔۔
” آپ پلیز مجھے سے مت چھاپیں باقی چاہے حویلی میں کسی کو بھی اس کا علم نا ہو لیکن آپ یہ بات جان لیں کہ مجھے اور اسما کو سب معلوم ہے کہ آپ کسی کو پسند۔۔۔۔۔!!! “
ربعیہ اس کی طرف دیکھنے سے گریز کرتی ہوئی اپنی نظریں جھکا گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔!!!! نظریں جھکاتے ہی اس نے رہان کو اس چیز سے واقف کروایا کہ وہ سب جانتی ہے!! لیکن رہان نے اس کی بات درمیان میں ہی کاٹ دی تھی۔۔۔۔۔
” اس کی منگنی ہو چکی ہے اس کے کزن کے ساتھ۔۔۔۔”
رہان کے دکھ سے بھرپور کہے گئے یہ الفاظ اسے چپ کرنے پر مجبور کر ہی گئے تھے۔۔۔۔! ربعیہ یہ سن کر بہت حیران ہوئی تھی کہ اس لڑکی نے کسی اور سے منگنی کر لی۔۔۔۔ جبکہ وہ تو رہان سے محبت کرتی تھی۔۔۔۔۔!!!
” وہ صرف میرے ساتھ ٹائم پاس کر رہی تھی۔۔۔۔ اور میں !! میں بیوقوف تھا۔۔۔۔ جو کچھ سمجھ ہی نہیں پایا۔۔۔ وہ ہمیشہ یوز کرتی رہی استعمال کرتی رہی اور جب شادی کی باری تو اس نے میرا ہاتھ چھوڑو دیا!!! اور جانتی ہو اس نے مجھ سے آخری مرتبہ کیا کہا ؟
اس نے کہا تھا کہ یہ محبت ، یہ دیوانگی یہ سب کچھ وقتی ضرورت تھی اس کی۔۔۔۔ اور شائید میری بھی۔۔۔۔ لیکن ایسا تو کچھ بھی نہیں تھا۔۔۔ لیکن وہ مجھے چیٹ کرتی رہی اور مجھے بھنک بھی نا پڑی!!
اب اگر مجھے بابا جان مجھے یہ بھی کہے گے نا کہ آج ہی شادی کر لو تو میں ان کی بات ضرور مانو گا۔۔۔۔ کیونکہ میں سمجھ گیا ہوں کہ جو فیصلے ماں باپ کرتے ہیں ان سے بہتر فیصلہ کوئی بھی اور شخص آپ کے لیے نہیں کر سکتا ہے “
اس سے پہلے کہ ربعیہ رہان سے پوچھتی کہ یہ سب کب کیسے اور کیوں ہوا ؟ اس نے خود ہی ساری حقیقت کھول کر اس کے سامنے رکھ دی۔۔۔ اپنی بات کو مکمل کرتا ہوا وہ ٹیرس سے چلا گیا۔۔۔۔
لیکن ربعیہ وہی ٹیرس پر چلتی ہوئی ٹھنڈی ہواؤں کے درمیان کھڑی رہی۔۔۔۔ رہان کے کہے گئے آخری الفاظ اس کے دل کو چھو گئے۔۔۔۔ کہ جو فیصلہ ماں باپ کرتے ہیں اس سے بہتر کوئی بھی فیصلہ نہیں ہو سکتا۔۔۔۔!!!
اس کے رہان کے ساتھ نکاح کا فیصلہ بھی تو اس کے والدین نے ہی کیا تھا۔۔۔!!!! تو کیا اسے ان کی بات مان لینی چاہئیے ؟ اور پھر کل جس طرح رہان نے اس کی حفاظت کی ؟ “
ربعیہ عجیب کشمکش کا شکار ہو گئی تھی۔۔۔۔۔!!! وہ کچھ بھی سوچنے سمجھنے سے قاصر تھی”
” تم نے دیکھا تھا آتش اس اکڑو لڑکی کا رویہ ؟ کس طرح وہ بات کر رہی تھی ؟ مجھ سے زریر عباس سے ؟؟؟ ہمت کو داد دینے پڑی گی اس کی !! “
زریر کا غصے سے میٹر شارٹ کو چکا تھا۔۔۔۔ دو مرتبہ اس کل کی آئی انوشا نے زریر عباس کی انسلٹ کر دی۔۔۔۔!! جو اس سے بالکل بھی برداشت نہیں ہو رہی تھی۔۔۔۔
” Bro why are you taking it so serious ? “
( بھائی تم اسے اتنا سنجیدہ کیوں لے رہے ہو ؟ ) “
اس کے پاس کھڑے آتش کاظمی نے کہا تو زریر نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔۔۔۔!!
” You are saying Why I am taking it so serious? You know there is no even a single person in my life who has Insulted me !! and that girl !! “
( ” تم کہہ رہے ہو کہ میں اسے اتنا سنجیدہ کیوں لے رہا ہوں ؟؟ تم جانتے ہو کہ میری زندگی میں ایک بھی شخص ایسا نہیں ہے جس نے میری بے عزتی کی ہو !! اور وہ لڑکی !! ” )
اب انوشا کی کہی گئی باتیں اس کی برداشت سے باہر ہو رہی تھی۔۔۔۔ اس نے غصے سے آتش کو کہا کہ زریر عباس کی پوری زندگی میں کسی بھی شخص نے اس کی انسلٹ نہیں اور اس لڑکی نے زریر کی انسلٹ کرنے کی ہمت کی ہے۔۔۔۔
” تو کیا ہو گیا ؟ چل کچھ نہیں ہوتا معاف کر دے اسے!!! “
اس کے بڑھتے ہوئے غصے کو دیکھ کر آتش نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔۔۔۔
” معافی نہیں دیتا زریر عباس کسی کو بھی اس لڑکی کو میری بے عزتی کرنے کی بہت بڑی قیمت ادا کرنی ہوگی !! “
آتش کو زریر کے ارادے نیک نہیں لگ رہے تھے!!
” بھائی تم کیا کرنے کی سوچ رہے ہو ؟ “
اس کے چہرے پر پھیلتی ہوئی اس شیطانی مسکراہٹ کو دیکھتے ہوئے چہرے پر سوالیہ تاثرات لیے ہوئے سوال کیا۔۔۔۔
” جو تم سوچ بھی نہیں سکتے ؟ “
زریر کے چہرے پر پھیلتی ہوئی مسکراہٹ مزید پھیلتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔!!! اس کے ذہن میں بہت بڑا پلین بسیرا کر چکا تھا جسے اسے انجام دینا تھا۔۔۔۔ آتش نے اسے حیرانگی سے دیکھا،، وہ سمجھ نہیں پایا کہ وہ کیا کرنے جا رہا ہے ؟؟ “
کمرے میں داخل ہوتے ہوئے اس نے شیشے کے سامنے جا کر اپنا چہرہ اس میں دیکھا جو میک اپ سے بھرا پڑا تھا۔۔۔۔۔!!! اور اپنے چہرے کی طرف دیکھ کر وہ مسکرا دی۔۔۔۔
” کایان ملک مجھے امید ہے کہ تم مجھے دیکھ کر حیران رہ جاؤ گے۔۔۔۔!! یا دکھ میں آ جاؤ گے۔۔۔۔ یا شائید خوشی ہو گی۔۔۔۔۔
I am so Excited “
” شنائل ” نام تھا اس کا۔۔۔۔۔۔۔ اس نے شیشے میں نظر گھماتے ہوئے شیطانی مسکراہٹ چہرے لیے ہوئے کہا،،،،
” بہت جلد شنائل واپس آ رہی ہے کایان ملک تمھاری زندگی میں تمھیں اپنا بنانے کیونکہ تم میرے ہی ہو!!!! “
شنائل نے مسکراتے ہوئے کہا اور قدم اس ہوٹل کے اپارٹمنٹ سے باہر نکال گئی۔۔۔۔۔!!! کیا رشتہ تھا اس لڑکی کا کایان سے ؟ کیا یہ جس مقصد سے جا رہی تھی اسے پورا کر پائے گی ؟
______________________
” ازا ریڈی ہو جائیں ہمیں کہیں جانا ہے!! “
ازا کمرے میں ابھی چند لمحات پہلے کمرے میں آ کر بیٹھی تھی۔۔۔۔!! وہ کچھ دیر پہلے ہی ربعیہ کے ساتھ ڈھیر ساری باتیں کر کے آئی تھی۔۔۔ جب ہی کایان نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔۔۔۔
” کہاں ؟ “
وہ سر بیڈ سے لگائے ہوئے بیٹھی تھی جیسے ہی کایان کمرے میں داخل ہوا تو وہ سیدھی ہو کر بیٹھی،،، اور اس کی بات کو سنتے ہوئے ازا نے کایان سے سوال کیا۔۔۔۔
” کہاں مطلب ؟ آپ جانتی ہیں کہ ربعیہ اور رہان کا نکاح ہے!! اور آپ نے اب تک کوئی شاپنگ نہیں کی اور نا ہی مجھ سے کہا۔۔۔۔ تو ہم شاپنگ مال جائیں گے۔۔۔۔۔ آپ شادی کی شاپنگ بھی آج ہی کر لیجئے گا۔۔۔۔ “
کایان نے اس کے سوال کو سن کر اسے بتایا کہ ربعیہ اور رہان کا نکاح کل ہے اور اس سلسلے میں اس نے کوئی بھی شاپنگ نہیں کی،، اور ایک ہفتے بعد ہی ان دونوں کی شادی بھی تھی۔۔۔۔!!! تو وہ آج ہی شاپنگ کر کے ساری کی ساری۔۔۔
” نہیں۔۔۔۔!!! اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ میرے پاس کپڑے ہیں میں پہن لوں گی۔۔۔۔ آپ تکلف مت کریں۔۔۔۔۔!”
ازا اس کی بات سن کر مسکرائی اور اس کی آفر کو تکلف کا نام دیتے ہوئے کہا تو کایان کے ماتھے پر بل پڑے۔۔۔۔
” تکلف کیسا ؟؟ میں نے اپنی بھی شاپنگ کرنی ہے!!! اور آپ بھی کر لیجئے گا۔۔۔۔۔!! بیویاں مرتی ہیں شوہروں کے ساتھ باہر جانے کے لیے۔۔۔۔۔ اور ایک آپ ہیں جب شوہر خود آفر کر رہا ہے اور تو تکلف کا نام دے کر منع کر رہی ہیں!! “
کایان آگے بڑھتے ہوئے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کھڑا کیا۔۔۔۔ اور ایک ایک لفظ اس نے پر جوش لہجے میں کہا جبکہ ازا نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔
” پر کایان ؟ “
” کوئی بات بھی نہیں سنو گا میں آپ کی،،، اب چپ چاپ میرے ساتھ چلیں آپ کو معلوم ہی ہو گا کہ شوہر کی بات کو مانتے ہیں اور آپ اسے میرا حکم ہی سمجھے۔۔۔۔۔!!!! “
ازا نے کچھ کہنا چاہا تھا لیکن اس کی بات کو درمیان میں ہی کاٹتے ہوئے کایان اس نے کہا کہ وہ اس کی کوئی بھی بات نہیں سنے گا اور ازا کو اس کے ساتھ جانا ہی ہو گا ،،، آخر میں اس نے اپنے شوہر ہونے کا حق جتاتے ہوئے کہا تو وہ سر ہاں میں ہلا گئی۔۔۔۔
کایان اس کا بازو تھامے ہوئے اسے اپنے ساتھ گاڑی تک لے کر گیا اور اسے گاڑی میں بیٹھاتے ہوئے خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی حویلی سے نکال کر اسے شہر کی راہ پر ڈال دیا۔۔۔۔
کایان نے گاڑی شہر کے ایک خوبصورت شاپنگ مال کے سامنے روکی۔۔۔۔!!! اور ازا کے لیے ہوئے اس مال کے وسط میں موجود حصہ کی طرف لیے ہوئے بڑھا۔۔۔۔
” ازا یہ ڈریس دیکھے!! آپ پر سوٹ کرے گا۔۔۔۔!! “
ازا اپنے لیے اتنی شاپنگ نہیں کر رہی تھی جتنی کہ اس کے لیے شاپنگ کایان کر رہا تھا وہ اسے دو سے تین ڈریس دیکھا چکا تھا۔۔۔۔۔۔ لیکن وہ سب پر منع کر رہی تھی اب بھی کایان نے اس کے لیے ایک ریڈ کلر کا ڈریس پسند کیا تھا۔۔۔۔ کایان نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا تو ازا اس کی طرف مڑی اور وہ جیسے ہی مڑی تو کایان نے وہ سوٹ اس کے ساتھ جوڑا۔۔۔۔
” یہ کافی ڈارک کلر ہے ؟ “
ازا نے مزید ایک بہانہ بنانا چاہا اسے نا جانے کیا ہو گیا تھا دل ہی نہیں کر رہا تھا کہ کچھ بھی لینے کے لیے۔۔۔۔ کایان نے منھ بنا کر دیکھا۔۔۔۔
” ڈارک ہو یا لائٹ آپ یہی سوٹ پہنے گی!! یہ عجیب بات ہے جو ڈریس بھی پسند کرو کوئی نا کوئی بہانہ بنا لیتی ہیں آپ!!! لیکن اب نہیں یہ ڈریس ہم لیں گے اور آپ یہی ڈریس پہنے گی۔۔۔۔”
کایان نے ناراضگی والا لہجہ اپناتے ہوئے ، ضد پر اترتے ہوئے کہا تو ازا نے معصومیت سے بھرے چہرے پر پریشانی لیے ہوئے اس دیکھا۔۔۔۔۔
” اچھا ٹھیک ہے۔۔۔۔۔!!! لیں لے یہی ڈریس پہن لوں گی میں۔۔”
ازا کے مانتے ہی وہ جو لبوں پر افسردگی سجائے بیٹھا تھا اس کی بات سنتے ہی مسکرا اٹھا جس کو دیکھتے ہی ازا کے لبوں پر بھی مسکراہٹ بکھر گئی۔۔۔۔
ازا کے لیے اس نے چار ڈریس لیے اور پھر وہ دونوں جینٹس سائیڈ کی طرف بڑھ گئے۔۔۔۔ وہاں پر کافی پیاری ٹی شرٹس لگی ہوئی تھی۔۔۔۔۔!!! ازا کو ان میں سے ایک پسند آئی تو وہ اسے لیے ہوئے کایان کی طرف بڑھی۔۔۔۔!!
” کایان یہ کیسی ہے ؟ “
اس نے مسکراتے ہوئے کہا اور اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔۔۔۔ کایان اس کی طرف پلٹا اور مسکرا کر اسے دیکھا۔۔۔۔!!!
” بہت پیاری ہے کروا لیں اسے بھی پیک!! “
کایان نے مسکرا کر کہا اسے وہ شرٹ واقع ہی پسند آئی تھی۔۔۔۔ کیونکہ وہ ازا کی پسند جو تھی۔۔۔۔ اس نے اسے پیک کروانے کے لیے کہا۔۔۔ جس پر ازا مسکراتے ہوئے سر ہاں میں ہلا گئی۔۔۔
” کیوں نا ہم کہیں لنچ کرنے کے لیے چلیں ؟؟ “
ان دونوں کی شاپنگ آلموسٹ مکمل ہو گئی تھی جب ہی کایان پیمنٹ کرتا ہوا اس کے پاس آتا ہوا آہستگی سے کہا۔۔۔۔
” نہیں کایان !! بہت دیر ہو گئی حویلی چلتے ہیں۔۔۔۔”
ازا نے صاف طور پر منع کرتے ہوئے کہا تو کایان نے گھور کر اسے دیکھا۔۔۔۔!!!
” بالکل بھی نہیں ہم حویلی جانے سے پہلے لنچ کرے گے۔۔۔۔ اسی مال کے بیک سائیڈ کھانے کا ارینجمینٹ ہے ہم لنچ کر کے جائیں۔۔۔۔
کایان نے ضدی لہجہ ایک مرتبہ پھر سے اپنایا تو ازا نے منھ بناتے ہوئے اسے دیکھا،،، وہ اس کی بات ماننے کے علاہ کچھ بھی نہیں کر سکتی تھی۔۔۔۔!! وہ دونوں مال کی بیک سائیڈ کی طرف لنچ کرنے کے لیے بڑھے۔۔۔۔!!!!
” یہ ابھی تک ڈرائیور کیوں نہیں آیا ؟ “
انوشا کچھ سامان لینے کے لیے مال آئی تھی ڈرائیور کے ساتھ۔۔۔۔ اسے چھوڑ کر ڈرائیور کسی کام کے تحت گیا تھا۔۔۔۔ اب انوشا اپنا سامان پورا کر کے مال کے باہر کھڑی تھی اور اب تک انوشا کئی مرتبہ اسے فون کر چکی تھی لیکن وہ آ ہی نہیں رہا تھا۔۔۔۔
” کہاں رہ گیا یہ ؟ “
انوشا کو اب پریشانی ہو رہی تھی کہ کہیں کوئی مسئلہ تو نہیں ہو گیا اس کے ساتھ۔۔۔۔!!! وہ کیوں نہیں آ رہا تھا۔۔۔۔!! جب ہی ایک تیز رفتار گاڑی ٹھیک اس کے سامنے آ رکی تھی۔۔۔۔”
اس میں سے دو آدمی نکلے اور انوشا کو پکڑتے ہوئے زبردستی گاڑی میں بیٹھایا اور گاڑی کو اسی رفتار میں چلانا شروع کیا۔۔۔۔!!! انوشا نے خود کو بچانے کی کوشش کی مگر وہ کوشش بے سود رہی۔۔۔۔!!
ازا اور کایان لنچ کرنے کے بعد تقریباً دو بجے کے قریب حویلی پہنچے۔۔۔۔۔!!!! کایان گاڑی پارک کر کے آیا اور پھر وہ دونوں اندر کی طرف بڑھے۔۔۔۔”
کایان نے ملازمہ سے کہہ کر سارا سامان اپنے کمرے میں بھجوا دیا تھا۔۔۔۔!!! وہ دونوں جیسے ہی اندر داخل ہوئی تو سامنے ہی شہناز بیگم کو پایا۔۔۔۔
” شکر ہے تم دونوں آگئے!! کایان کوئی نیا آیا ہے گھر پر۔۔۔۔!!! “
شہناز بیگم نے غصے سے ازا کی طرف نظر دوڑائی۔۔۔۔!! اور کایان سے طنزیاتی لہجے میں کہا۔۔۔
” کون ؟ “
ان کی بات سن کر کایان نے ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے سوال کیا کہ کون آیا ہے گھر پر ؟ جس کے متعلق شہناز بیگم اسے بتانا چاہتی تھی؟؟؟
” میں۔۔۔۔۔!!!! “
ایک ایسی آواز جسے سنتے ہی کایان کے چہرے کی ساری مسکراہٹیں چھن گئی تھی ، ایک ایسی آواز جو کایان ملک کے چہرے پر ویرانگی پھیلا گئی تھی۔۔۔۔ ایک ایسی آواز جو کایان کبھی بھی سننا نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔
” شنائل ؟ “
کچھ لمحات کے لیے تو جیسے کایان اپنے ماضی کی تلخ یادوں جن میں سے ایک شنائل تھی اس میں کھو سا گیا تھا۔۔۔۔ لیکن پھر ایک دم ہوش میں آتے ہوئے اس نے سوالیہ لہجے میں کہا۔۔۔ جیسے اسے یقین نا آیا ہو کہ یہ وہی ہے۔۔۔۔۔ ازا نے سامنے کھڑی اس لڑکی کی طرف دیکھا جس کے بارے میں نا ہی اس نے کبھی سنا تھا اور نا ہی کبھی اسے دیکھا تھا۔۔۔۔
” مجھے معلوم تھا کہ تم مجھے پہنچان لو گے۔۔۔!! آخر بھول بھی کیسے سکتے ہو تم مجھے ؟ “
شنائل کے طنزیاتی الفاظ پر کایان نے سختی سے مٹھیاں بھینج لی۔۔۔۔ ازا اب بھی وہی کھڑی یہی سوچ رہی تھی کہ آخر یہ لڑکی ہے کون ؟
” یہ لڑکی کون ہے ؟ “
شنائل نے تیکھی نظروں سے کایان کے ساتھ کھڑی ہوئی ازا کو دیکھتے ہوئے بڑی ہی حقارت سے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شہناز بیگم کی طرف رخ کر کے سوال کیا۔۔۔۔
” She is my Wife !! “
اس سے پہلے کہ شہناز بیگم کچھ بھی کہتی کایان ملک کے کہے ہوئے الفاظ سنتے ہی شنائل کے چہرے پر جو طنز تھے،،، جو مسکراہٹ تھی وہ سب ہوا ہو گئی تھی،،، یہاں بازی پلٹ گئی تھی۔۔۔۔
” واٹ ؟ از تھس از آ جوک ؟ یہ تمھاری بیوی کیسے ہو سکتی ہے ؟ “
یہ سنتے ہی کہ ازا کایان کی بیوی ہے۔۔۔۔۔ شنائل کی ہوائیاں اڑ گئی تھی۔۔۔۔۔!! اس نے اس بات کو مزاق لگی تھی۔۔۔۔!! ازا کو بھی حیرانگی ہوئی کہ اس نے ایسا رایکشن کیوں دیا ؟
” No !! it’s not a joke !! it’s reality !! “
کایان نے کہا تو اس نے ترچھی نگاہوں سے ازا اور کایان کی طرف دیکھا۔۔۔۔!! کایان اس کے چہرے کے زاویے دیکھتا ہلکا سا مسکرایا۔۔۔!! شنائل کو شاک میں دیکھ کر شائید کایان کو خوشی محسوس ہوئی۔۔۔۔!!!!
” چلیں ازا آپ تھک گئی ہونگی آرام کر لیں۔۔۔۔!! “
وہ مزید چڑھاتا ہوا ازا کا ہاتھ تھاما ہوا اندر کی جانب بڑھ گیا جبکہ ازا نظریں جھکائے ہوئے اس کے ساتھ جا رہی تھی جس سے شنائل کے تن بدن میں آگ لگ گئی تھی کہ وہ اس کی کئیر کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔!!! اس سے یہ بالکل بھی برداشت نہیں ہوا تھا۔۔۔
