Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt NovelR50484 Aseer E Mohabat (Episode - 40)
Rate this Novel
Aseer E Mohabat (Episode - 40)
Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt
وہ اپنی ہی دھن میں بولی جا رہی تھی اس بات سے بے خبر کو کر کہ آتش جو فایل لینے کے واپس کمرے کی طرف آیا تھا ان کی بات سنتا ہوا وہی رکا اور اب وہ کنول بیگم کی ساری باتیں سن چکا تھا۔۔۔ فاریہ کی بے گناہی ثابت ہو گئی تھی!!! آتش نے ان کی بات سنتے ہوئے سختی سے اپنی آنکھیں میچ لی تھی۔۔۔
اس کے علاؤہ بھی کنول بیگم نے انھیں ایک اور حقیقت بتائی تھی۔۔۔ کہ وہ آتش کی سگی خالہ نہیں ہیں۔۔۔
” کیا مطلب ہے ؟ کہ تم آتش کی سگی خالہ نہیں ہو ؟؟ “
فاریہ نے اس کی باتیں سنتے ہوئے اس سے حیرانگی سے سوال کیا تھا۔۔۔ جس پر شہناز بیگم نے شیطانی قہقہہ لگایا۔۔۔۔۔!!! آتش جو دروازے کے باہر کھڑا تھا وہ بھی ان کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔
” نہیں!!! میں آتش کی نا ہی سگی خالہ ہوں،، نا ہی اس کی ماں کی بہن ہوں۔۔۔ اس کی ماں سبیکا میری سوتیلی بہن تھی۔۔۔ کر دفعہ اسے مجھ سے زیادہ اہمیت دی جاتی تھی۔۔۔ ہر دفعہ جو بھی بات وہ کہتی وہ مان لی جاتی مجھے نیچا دکھایا جاتا تھا۔۔۔ بچپن سے ہی لیکن پھر مجھے ایک لڑکا پسند آیا۔۔۔۔ آتش کی ماں نے اسے بھی مجھ سے چھین لیا!!! اور اب کی مرتبہ مجھ سے برداشت نہیں ہوا تھا کیونکہ اب حد ہو گئی تھی آتش کی پیدائش کے چھ ماں بعد ہی میں نے انھیں مار دیا تھا۔۔۔۔!!! اور جو تمھاری ماں محمل تھی وہ آتش کی پھوپھو تھی۔۔۔ اسی کی وجہ سے تو آتش کے ماں باپ کی شادی ہوئی تھی تو اسے بھی تو اس کا انعام ملنا چاہئیے تھا۔۔۔ خیر اب اتنا کچھ جان گئی ہو تو یہ بھی جان لو کہ تم آتش کاظمی کی کزن ہوں جو اب اس کے نکاح میں ہونے کے بعد فاریہ آتش کاظمی بن چکی ہے۔۔۔ لیکن کچھ دنوں کے لیے ہی رہا ہے یہ نام تمھارے پاس فاریہ “
ایک ایک لفظ چبا کر چبا کر بتایا تھا کنول نے فاریہ کو پر یہ سب کچھ آتش بھی سن چکا تھا۔۔۔ اس نے فاریہ کو بتایا تھا کہ وہ آتش کی سگی خالہ نہیں لگتی ہے!! وہ اس کی ماں کی سوتیلی بہن تھی جس سے وہ ہمیشہ ہی نفرت کرتی تھی!!! اور آتش کے باپ کو نا پانے کی وجہ سے اس نے غصے میں ان دونوں کا ق*تل کروایا تھا۔۔۔
ساتھ ہی ساتھ اس نے فاریہ پر ایک اور بڑی گہری اور بہت بڑی بات عیاں کی تھی اس کی ماں محمل آتش کی سگی پھپھو لگتی ہے۔۔۔!! اور اس کا ق*تل اس نے اس وجہ سے کروایا تھا کیونکہ وہ اور اس کا شوہر آتش کے ماں باپ کی شادی میں ملوث تھے۔۔۔ ان کا یہ ساتھ دینا کنول بیگم کو پسند نہیں آیا تھا اسی وجہ اس نے فاریہ کے ماں باپ محمل، اسود کا بھی ق*تل کروایا۔۔۔!!! آتش اور فاریہ دونوں سگے کزن تھے۔۔ یہ بات خود فاریہ بھی نہیں جانتی تھی۔۔۔
کنول بیگم کی باتیں سنتی ہوئی وہ وہی ڈھ سی گئی تھی۔۔۔ کیونکہ وہ یہ سب اس کے لیے کسی جھٹکے سے کم نا تھا۔۔۔
” بہو رانی تم زرا صدمہ میں رہو میں آرام کر لوں “
وہ طنزیہ کہتے ہوئے کمرے سے نکل گئی تھی۔۔۔ انھیں کمرے سے باہر کی طرف آتا ہوا دیکھ کر آتش وہاں سے کہیں اور چھپا تھا۔۔۔ یہ سب سن کر وہ بھی بہت بڑے صدمے میں تھا۔۔۔ کیسے کر سکتی تھی وہ ایسا ؟ اس کی آنکھیں بھر آئی تھی وہ اندر فاریہ کی طرف بڑھا تھا۔۔۔
تمام لیکچرز لینے کے بعد وہ کلاس سے باہر نکلی تو سامنے ہی اسے لڑکیوں سے گرا ہوا پایا۔۔۔!!! ربعیہ نے اسے غصے سے دیکھا جو اسے ایک مرتبہ دیکھ کر مسلسل اگنور کر رہا تھا۔۔۔!!
ربعیہ کو شدید غصہ آ رہا تھا۔۔۔
” ربعیہ!!! مجھے کچھ ٹاپکس سمجھ نہیں آ رہے کیا آپ میری مدد کر دیں گی ؟؟ “
اس کی کلاس کا ہی ایک اسٹوڈینٹ عرش اس کے پاس آتے ہوئے اس سے سوال کر گیا تھا۔۔۔ ربعیہ نے ایک نظر رہان کو دیکھا تو اب وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔ اب اسے اگنور کرنے کی باری ربعیہ کی تھی۔۔۔
” جی بالکل !! “
ربعیہ نے کافی مسکرا کر کہا تھا جبکہ دور کھڑے رہان کے چہرے پر انھیں دیکھتے ہوئے غصے کے تاثرات پھیل گئے تھے۔۔۔!! وہ ان غصے سے ان لڑکیوں کے جھرمٹ سے باہر نکلتا ہوا ان کی طرف بڑھا تھا۔۔۔ اس دوران ربعیہ نے اسے ایک مرتبہ بھی نہیں دیکھا تھا جو رہان ملک کو مزید غصہ چڑھا رہا تھا۔۔۔۔
” ٹھیک ہے تو آپ مجھے سمجھا دیجئے “
” آپ کو جو بھی سمجھنا ہے مجھ سے سمجھ لیجئے گا “
عرش مسکرا کر کہنے ہی لگا تھا کہ وہاں آتے ہوئے رہان نے اس کی بات کاٹتے ہوئے ان دونوں کی چہرے کی مسکراہٹ چھین لی تھی۔۔۔۔ عرش بنا بات کیے ہوئے سر اثبات میں ہلاتا ہوا وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔ جبکہ رہان اپنی نظریں ربعیہ پر گاڑھی تھی۔۔۔۔
” اب تو ایسے گھور گھور کر دیکھ رہے ہیں۔۔۔۔!!! پہلے دیکھتے ہوئے انھیں کیا ہو رہا تھا ؟؟ “
ربعیہ نے اپنے دل میں ہی سوچتے اپنے سر کو ایک طرف ہلایا جبکہ وہ جو اس کی ہر حرکت نوٹ کر رہا تھا۔۔۔ اسے یہ بات غصہ دلا رہی تھی کہ وہ اسے اگنور کر رہی ہے۔۔!!
” کیا کہہ رہا تھا وہ لڑکا آپ سے ؟ “
کچھ لمحات گزرنے کے بعد رہان نے اس سے سوال کیا تھا۔۔۔
” کیا میں نے آپ سے پوچھا کہ وہ لڑکیاں کیا کہہ رہی تھی آپ سے ؟؟؟ “
اس کے پوچھے ہوئے سوال پر وہ طیش میں آتی ہوئی بولی کہ کیا اس نے اس سے سوال کیا کہ ان لڑکیوں نے اس سے کیا کہا تھا ؟ اس کی اصل بات یہی تھی وہ یہی کہنا چاہتی تھی اس سے !!! جیسے رہان نے کیا ویسے ہی ربعیہ نے بھی کیا!! اس کی بات پر وہ ہلکا سا سر نفی میں ہلاتے ہوئے مسکرایا تھا۔۔۔ جبکہ وہ باہر کی طرف بڑھ گئی تھی۔۔۔ رہان بھی چہرے پر نیم مسکراہٹ کے ساتھ باہر کی طرف بڑھ گیا تھا۔۔۔
جیلیوں والے کپڑے پہنے ہوئے وہ سر اور کمر دونوں دیوار سے لگائے ہوئے اندھیرے میں بیٹھا تھا۔۔۔۔ یہ وہی شخص تھا جسے دو مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔۔۔۔
کیسے عیش و آرام میں پلا بڑھا تھا یہ !! کتنے لاڈ پیار سے پالا تھا شہناز بیگم نے ارحم ملک کو !! لیکن اس نے کیا کیا ؟ اس نے اپنے پیڑ پر خود ہی کلہاڑی مار لی تھی۔۔۔
لیکن اب !! اب اسے پچھتاوا ہو رہا تھا۔۔۔
” کاش میں نے اس رات ربعیہ نے ساتھ وہ حرکت نا کی ہوتی ؟ کاش میں دو دن صبر کر لیتا تو آج وہ میرے پاس ہوتی۔۔۔
کاش مجھ پر شیطان حاوی نا ہوا ہوتا،، کاش اس دن مجھ پر وہ جنون نا سوار ہوا ہوتا۔۔۔۔!! کاش !! میں نے ربعیہ کے ماں باپ کو نا مارا جاتا کاش میں اپنے غصے پر قابو پا لیتا “
اب اس کے پاس لفظ ” کاش ” کے سوا کوئی بھی لفظ نہیں تھا۔۔۔!!! جب ہی اس نے ذہن میں وہ لڑکی ” حوریں “
( ” یہ تم نے اچھا نہیں کیا ارحم ملک۔۔۔۔!! تمھارے قریب میں نہیں آئی تھی تم میرے قریب آئے تھے اور تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ مجھ سے شادی کرو گے۔۔۔۔!!
لیکن تم نے میری زندگی برباد کر دی۔۔۔ جاؤ میں تمھیں بد دعا دیتی ہوں۔۔۔!! یاد رکھنا خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔۔۔۔ میں تمھیں بد دعا دیتی ہوں ارحم ملک کہ تمھیں کبھی بھی محبت نصیب نا ہو۔۔۔
تمھیں کہیں بھی چین نا ملے۔۔۔۔!! تم رو تڑپو پر تمھارے پاس کوئی بھی نا ہو۔۔۔ تم خدا سے موت کی بھیگ مانگو پر تمھیں موت بھی نا آئے۔۔۔۔!!! یہ بد دعا ہے تمھیں میری ارحم ملک اب دیکھ خدا کیا کرتا ہے!!! ” )
اس نے اسے بد دعا دی تھی کہ تمھیں کبھی چین نہیں ملے گا۔۔۔ اسے چین نہیں مل پاتا تھا۔۔۔ اس نے ارحم کو بد دعا دی تھی کہ تمھیں کبھی محبت نصیب نا ہو اسے کبھی بھی محبت نصیب نہیں ہوئی تھی۔۔!!! اس نے کہا تھا اس سے کہ تم اکیلے رہ جاؤ گے اور وہ اکیلا رہ گیا تھا۔۔۔! اکیلا رہ گیا تھا ارحم ملک اس کے پاس لفظ ” کاش ” اور پچھتاوے کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔۔۔
” پلیز حوریں ایک مرتبہ واپس آجاؤ میں تم سے معافی مانگتا چاہتا ہوں تم سے اپنے ہر ایک گناہ کی جو میں نے تمھارے ساتھ کیا ہے۔۔۔!!! تم تو بے قصور جو حوریں قصور وار تو میں ہوں۔۔۔ دیکھو آج تمھاری بد دعا لگ گئی مجھے میں اسی حال میں ہوں “
آنکھوں میں آنسو پیدا ہوئے تھے۔۔۔۔!!! اس نے سختی سے اپنی آنکھیں میچتے ہوئے سوچا تھا۔۔۔!
” ارحم !!! “
وہ یونہی آنکھیں موند کر بیٹھا تھا جب ہی اس نے کانوں میں کسی کی آواز سنائی دی جسے سنتے ہی اس نے فوراً اپنی آنکھیں کھولیں تھی۔۔۔!!!!!
اس نے نظر اٹھا کر دیکھا تو سامنے ہی اس کی امی کھڑی تھی۔۔۔ ماں تھی وہ اس کی !! جنم دیا تھا شہناز بیگم نے اسے!! کیسے رہ سکتی تھی اس کی پرواہ کے بغیر۔۔۔۔ اولاد جیسی مرضی ہوں ماں کے لیے تو اولاد ہی ہوتی ہے نا !!!
وہ فوراً اس جگہ سے اٹھتا ہوا صلاحوں کے پاس آ کھڑا ہوا تھا۔۔۔
” امی کیسی ہیں آپ ؟ “
اس نے سوال کیا۔۔۔
” میں ٹھیک ہوں اور تم ؟ “
ان کی آنکھوں میں آنسو تھے !!!
” میں بھی ٹھیک ہوں۔۔۔!!! کھانا لائی ہوں تمھارے لیے میں اپنے ہاتھوں سے بنا کر “
شہناز بیگم نے اسے بتایا کہ وہ اس کے لیے کھانا اپنے ہاتھوں سے بنا کر لائی ہیں۔۔۔ وہ ہلکا سا مسکرایا !!
” ا۔۔بو نہیں آئے آپ کے ساتھ ؟ “
ارحم نے لہجے میں ہچکچاہٹ لیے ہوئے پوچھا !
” نہیں!!! ابھی تو میں خود ان سے چھپ کر تم سے ملنے آئی ہوں۔۔۔ پر کب تک نہیں ملیں گے تم۔سے وہ ایک نا ایک دن ضرور ملنے آئیں گے وہ تم سے۔۔۔!! “
وہ حویلی میں کسی کو بھی بتا کر نہیں آئی تھی کہ وہ ارحم سے ملنے جا رہی ہیں۔۔۔!!! اس کے بعد انھوں نے اس سے کچھ باتیں کی اور اسے کھانا کھلا کر وہاں سے چلی گئی۔۔۔ آج شہناز بیگم کو اپنے بیٹے سے ملنے کے لیے بھی وقت درکار تھا۔۔۔
لیکن اتنے میں ہی ان کے دل کو سکون مل گیا تھا۔۔۔ کیونکہ وہ ماں تھی۔۔۔ ان نے لیے یہی کافی تھا کہ انھوں نے اپنے بیٹے سے مل لیا۔۔۔
” کیا کہہ رہا تھا وہ لڑکا آپ سے ؟ “
حویلی میں پہنچتے ہوئے وہ کمرے میں آ گئے تھے۔۔۔!! رہان نے شرارتی لہجے میں اس سے ایک مرتبہ پھر سے پوچھا۔۔۔
” آپ سے لڑکیاں کیا کہہ رہی تھی ؟ “
ربعیہ نے اسی ٹون میں پوچھا تھا۔۔۔
” وہ تو لیکچر سمجھنا چاہتی تھیں۔۔۔! “
رہان نے آہستگی سے کہا!
” یوں ارد گرد جمع ہو کر “
ربعیہ نے منھ کے زاویے بناتے ہوئے اس کی بات سنی اور پھر طنزیہ مسکراتے ہوئے اسی کے لہجے میں کہا گیا۔۔۔
” آپ کو جلن ہو رہی ہے ؟؟؟ “
رہان نے اس کی طرف آنکھ ونک کر کے دیکھا۔۔۔۔!!! ربعیہ نے نظریں گھما کر اس کی طرف دیکھا۔۔
” جل رہی ہوں میں ایسی آگ میں جو کبھی بھی بجھ نہیں سکتی ہے “
ربعیہ نے آہستگی سے کہا تو رہان نے آہستہ سے اپنے ہاتھ اس کی کمر کے گرد ڈالے اور اسے اپنے قریب کرتے ہوئے اپنے لب اس کے ماتھے پر رکھ دیے۔۔۔!!! ربعیہ آنکھیں بند کر گئی تھی!!
” میں آپ کا تھا ، ہوں اور ہمیشہ آپ کا ہی رہوں گا “
رہان کے کہے الفاظ اس کے دل میں سکون اتارتے جا رہے تھے۔۔۔ آج ان کے درمیان کی رنجشیں ختم ہو گئی تھی۔۔۔!!
” بالکل آپ میرے تھے، ہیں اور میرے ہی رہیں گے “
وہ بھی اسی کے لہجے میں ہی کہتی ہوئی مسکرا کر اس کے گلے سے لگی تھی۔۔۔۔!! رہان کے چہرے پر بھی مسکراہٹ چھا گئی تھی۔۔۔۔
وہ دو قدم بڑھتا ہوا اسے اپنے گلے سے لگا گیا تھا۔۔۔
” ویسے میں کیا کہہ رہا تھا کہ ہمیں نا ہنی مون پر دوبارہ جانا چاہئیے۔۔۔ پچھلی مرتبہ کوئی خاص مزہ نہیں آیا۔۔۔”
وہ ذو معنی لہجے میں کہتا ہوا اس کے چہرہ سرخ کر گیا تھا۔۔۔ کچھ لمحات گزرنے کے بعد ربعیہ ہلکا سا مسکرائی۔۔۔ وہ اس کی مسکراہٹ اپنے لبوں میں چن گیا تھا۔۔۔
حویلی میں خوشیاں ایک مرتبہ پھر سے واپس آ گئی تھی۔۔۔۔ سب خوش تھے ازا،کایان ربعیہ،رہام سوائے اسما اور حماد کے !!!
