Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt NovelR50484 Aseer E Mohabat (Episode - 25)
Rate this Novel
Aseer E Mohabat (Episode - 25)
Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt
” صائمہ !! “
بیٹی کو یوں دیکھتے ہوئے شہناز بیگم تڑپ گئی تھی۔۔۔۔۔!!! ان کی تڑپتی ہوئی آواز سن کر کایان اور ازا نے مڑ کر پیچھے دیکھا تو حیران رہ گئے۔۔۔۔!! اس لڑکے نے صائمہ کے گلے پر چھُری رکھی ہوئی تھی۔۔۔۔!! جسے دیکھ کایان حیران رہ گیا جبکہ ازا ڈر سی گئی تھی۔۔۔۔
” دیکھو صائمہ کو چھوڑو ورنہ اچھا نہیں ہو گا تمھارے لیے “
صائمہ خود بھی کافی حد تک ڈر چکی تھی۔۔۔۔۔!!! جبکہ شہناز بیگم کو اپنی غلطی کا احساس ہو رہا تھا آج ان کی وجہ سے ہی ان کی اپنی بیٹی کی جان خطرے میں تھی۔۔۔۔ کایان نے اسے دھمکی دی تھی۔۔۔۔”
” خبردار جو اگر پولیس کو بلانے کی کوشش بھی کی ہو تو سمجھے تم لوگ !!! کیونکہ اگر پولیس یہاں آئی تو یاد رکھنا کہ یہ لڑکی اوپر جائے گی۔۔۔۔”
اس شخص نے صاف صاف دھمکی دی تھی کہ اگر ان میں سے کسی نے بھی پولیس کو بلانے کی کوشش کی تو وہ صائمہ کی جان لے لے گا۔۔۔۔ جسے سن وہ سب حیران رہ گئے تھے!!!
” دیکھو۔۔۔!!! تم ایسا کچھ بھی نہیں کرو گے۔۔۔۔!! ٹھیک ہے ٹھیک ہے میں پولیس کو فون نہیں کروں گا تم چھوڑو صائمہ کو۔۔۔۔”
اس لڑکے کی دھمکی صاف تھی۔۔۔۔!! جسے وہ پورا کر سکتا تھا۔۔۔۔ کایان کوئی رسک نہیں لے سکتا تھا۔۔۔۔!!! اس نے اس شخص کی بات مان لی تھی۔۔۔۔”
” ٹھیک ہے پر جب تک میں اور میرا دوست!!!! آہ۔۔۔۔”
کایان کی بات سن کر وہ لڑکا مسکرایا تھا۔۔۔۔! اسے امید تھی کہ وہ اس کی بات مان لے گا بہن کی جان خطرے میں دیکھ کر ہر کوئی پگھل جاتا ہے۔۔۔۔ وہ خوشی سے بولنا شروع ہوا تھا ہی اسے اپنے بازو پر ایک زور دار بھانس ٹوٹتا ہوا محسوس ہوا تو وہ درد سے کراہ اٹھا اس کے ہاتھ چھری زمین پر گر گئی۔۔۔۔ صائمہ نے موقع کا فایدہ اٹھایا۔۔۔۔ اور اسے پیچھے دھکیلتے ہوئے ماں کی طرف لپکی۔۔۔۔
شہناز بیگم اور کایان نے دیکھا تو وہ بھانس کسی اور نے نہیں بلکہ ازا نے مارا تھا اسے۔۔۔۔!! شہناز بیگم کو حیرانگی یہ ہوئی تھی ازا جس کے ساتھ ان کا سلوک سب سے برا تھا۔۔۔۔ آج اس نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ان کی بیٹی صائمہ کی جان بچائی تھی۔۔۔۔!!!
اگر غلطی سے بھی اس لڑکے کو پتہ چل جاتا کہ ازا اس پر حملہ کرنے والی ہے۔۔۔۔!!! تو وہ لڑکا اس پر بھی حملہ کر سکتا تھا مگر ازا نے اس کی پرواہ نہیں کی تھی۔۔۔۔
جبکہ کایان موقع کا فایدہ اٹھاتے ہوئے اس لڑکے کو اپنے قابو میں کیا اور اسے گھسیٹتا ہوا حویلی سے باہر لے گیا تھا۔۔۔۔!! اس وقت حویلی میں صرف ربعیہ موجود تھی جو پڑھائی میں مصروف تھی اور اسے اس سب کے بارے میں کچھ بھی نہیں پتہ تھا۔۔۔
” بہت شکریہ تمھارا ازا “
شہناز بیگم نے کچھ سوچتے ہوئے قدم ازا کی طرف بڑھائے تھے۔۔۔۔ اور اس کے ہاتھ کو پکڑتے ہوئے اس کا اپنی بیٹی کی جان بچانے کے لیے شکریہ ادا کیا۔۔۔۔
” مجھے معاف کر دو ازا “
ان کی بات سنتے ہی ازا کو بہت زیادہ حیرانگی ہوئی تھی کہ وہ کس وجہ سے اس سے معافی مانگ رہی تھی۔۔۔۔ ازا کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔۔۔!!
” ازا یہ سب میں نے ہی کروایا تھا۔۔۔۔ تا کہ کایان تم سے بد گمان ہو جائے تمھیں خود سے دور کر دے۔۔۔۔ اور اس سے میں فایدہ اٹھا سکوں اور تم سے اپنے بیٹے فائق کے قتل کا بدلہ لے سکوں میں۔۔۔۔ پر آج تم نے ثابت کر دیا ہے ازا کہ تم واقع ہی اس حویلی کی بہو ہو !! مجھے معاف کر دو ازا۔۔۔۔”
شہناز بیگم نے اپنی غلطیوں کا اعتراف کیا تھا اس کے سامنے کیونکہ حقیقتاً انھیں بہت دکھ تھا کہ وہ ازا کو کیا سمجھتی تھی ؟؟.اور وہ کیا تھی!!! وہ انھیں آج معلوم ہوا تھا۔۔۔۔۔۔ انھوں نے اس سے معافی مانگتے ہوئے اپنے ہاتھ تک اس کے سامنے باندھ دیے تھے۔
” نہیں آنٹی !!! ایسا مت کہیں میرے لیے یہی بہت ہے کہ آپ نے مجھے اس گھر کی بہو تسلیم کر لیا میرے لیے یہی بہت ہے،،، آپ پلیز یوں مجھ سے معافی کر مجھے شرمندہ مت کریں۔۔۔۔”
ازا کی تربیت اس بات کو گوارہ نہیں کرتی تھی کہ کوئی بڑا اس کے سامنے ہاتھ باندھے۔۔۔۔!!! اس نے شہناز بیگم کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے انھیں نیچے جھکاتے ہوئے کہا۔۔۔۔ صائمہ بھی ان کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔۔!!!
” پھر بھی ازا تمھارا بہت شکریہ!!! “
صائمہ کی بات سن کر وہ مسکرائی تھی،،، شہناز بیگم نے اسے گلے سے لگا لیا تھا۔۔۔۔۔ وہ تینوں مسکرائی تھی۔۔۔۔”
کایان کمرے کا دروازا کھولتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا تو سامنے ازا کو جیسے اپنے ہی انتظار میں پایا۔۔۔۔!!! وہ ابھی ہی اس لڑکے اور اس کا دوست جس نے ازا کو کمرے میں ڈرایا تھا اسے پولیس کے حوالے کر کے آیا تھا۔۔۔۔”
جیسے ہی ازا نے اس کی آہٹ محسوس کی وہ فوراً اس کی طرف مڑی اور اسے اپنی طرف بڑھتا ہوا پایا۔۔۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ اس کے قریب آتا ازا اس کی طرف لپکتے ہوئے اس کے سینے سے جا لگی۔۔۔۔
” میں بہت ڈر گئی تھی ،،، اگر آپ اس پر یقین کر لیتے تو ؟؟ میرا دل بہت گھبرا رہا تھا۔۔۔۔ لیکن آپ نے مجھ پر بھروسہ کیا اس کے لیے بہت شکریہ آپ کا “
وہ اس کے سینے سے لگی تھی ہی کہ جیسے کایان کو اپنے آپ میں سکون اترتا ہوا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔۔ وہ اسے مزید قریب کرتا ہوا خود میں سمیٹ گیا تھا!!!!
” کیوں ڈر گئی تھی آپ ؟؟ کیوں گھبرائی آپ ؟؟ آپ تو بہت بریو بہت بہادر ہیں،،، اگر آپ آج صائمہ کو بچانے کی کوشش نا کرتی تو نا جانے کیا ہو جاتا ؟؟ اگر ہم ساتھ ہیں تو آپ کی وجہ سے!!! “
کایان نے اسے خود میں بھینجتے ہوئے اسے ہمت دیتے ہوئے کہا۔۔۔!!!
” لیکن پھر بھی اگر آپ اس لڑکے پر یقین کر لیتے تو؟؟ “
ازا نے گہری سوچ میں پڑتے ہوئے کہا۔۔۔
” ازا کیوں سوچ رہی ہیں آپ ایسا ؟؟ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ہے اور نا ہی کبھی ہو گا۔۔۔۔ حالات چاہے جیسے بھی ہوں میں ہمیشہ آپ یقین کروں گا۔۔۔۔!!! آپ پلیز ایسا کچھ بھی نا سوچیں “
کایان نے اس کے ماتھے کو پیار سے چومتے ہوئے کہا تو ازا ہلکا سا مسکرائی تھی۔۔۔۔!!! اور اس سے الگ ہوتی ہوئی بیڈ کی طرف بڑھی تھی اور کایان بیڈ کی دوسری جانب بڑھی تھی۔۔۔۔!!! ہاں یہ بھی حقیقت تھی ازا کایان ملک کی زندگی کی کہ وہ کایان ملک سے بے پناہ محبت کرنے لگی تھی!!! اب اس کی نزدیکیاں سے وہ ڈرتی نہیں بلکہ اس کے قریب ہونے سے سکون میں آ جاتی تھی۔۔۔
اسما اور حماد کی شادی کو کئی دن گزر گئے تھے۔۔۔۔!!! اب اسما ان لوگوں میں کافی گھل مل سی گئی تھی۔۔۔۔۔!!! ان سب کی دن کی روٹیاں بن سی گئی تھی۔۔۔۔ صبح یونیورسٹی جاتی اور اس سے واپس آکر دن کا ایک مخصوص حصہ حماد کی والدہ کے ساتھ گزارتی تھی وہ۔۔۔۔” حماد کی والدہ سمیت حماد بھی کافی خوش تھا۔۔۔۔ اسما نے جیسے ان کے گھر رونق لگا دی تھی۔۔۔۔!!
” اچھا آنٹی حماد کے بارے میں بتائیں نا کچھ !!! “
وہ دونوں آج اپنی باتوں میں مصروف تھے۔۔۔!!! جب ہی اسما کے ذہن میں کسی بات نے گردش کی تو اس نے سامنے بیٹھی ہوئی حماد کی والدہ سے کہا جس پر وہ خاموش ہوئی۔۔۔۔
” حماد نے بارے میں،،،؟ “
انھوں نے سوالیہ پوچھا تو اسما سر ہاں میں ہلا گئی۔۔۔
” کیا بتاؤ بیٹا ؟ حماد کے بچپن میں ہی اس نے بہت نشیب و فراز دیکھے ہیں۔۔۔۔!!! جب وہ چھ سال کا تھا تو اس کے والد ایک روڈ ایکسیڈینٹ میں اس دنیا سے چلے گئے تھے۔۔۔۔!!
میں بیوہ ہو گئی تھی تو کوئی کام بھی نہیں کر سکتی تھی دیکھتے ہی دیکھتے ہمارے حالات بہت ہی زیادہ برے ہوتے چلے گئے۔۔۔۔!!! نوبت فاقوں تک آن پہنچی۔۔۔۔
اپنی عدت کے بعد میں نے حماد کی پڑھائی شروع کروائی،،، اس وقت میرے اور میرے بچے پر مجھ سے جڑے ہر رشتے کی حقیقت عیاں ہوئی تھی۔۔۔۔!!
میں نے یونہی کچھ سال نوکری کی اور حماد کی پڑھائی جو مکمل کروایا۔۔۔۔!! پڑھائی مکمل ہونے کے بعد اس نے بھی کچھ سال تک نوکری کی اور اس کے بعد اپنی محنت سے اپنی کمپنی بنائی۔۔۔
ابتدا میں تو اسے بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن پھر آہستہ آہستہ اس کی محبت رنگ لاتی گئی اور آج میرے بیٹے کی کمپنی کا نام شہر کی سب سے بڑی کمپنیوں میں ہوتا ہے۔۔۔۔ مجھے فخر ہے کہ حماد میرا بیٹا ہے “
ان کی باتیں سن کر کچھ لمحات کے لیے تو اسما اداس سی ہو گئی تھی۔۔۔۔!!! لیکن پھر ان کی باتیں سنتی وہ مسکرائی تھی۔۔۔۔ وہ حماد کے بارے میں جاننا چاہتی تھی اسے سمجھنا چاہتی تھی پر کیوں ؟؟؟ یہ تو ایک کنٹریکٹ میرج تھی۔۔۔۔!
” یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ حماد کتنے محنتی ہیں !! “
اسما نے کچھ لمحات گزرنے کے بعد مسکرا کر کہا تو اس کی بات سنتے ہوئے حماد کی والدہ بھی مسکرا گئی تھی۔۔۔۔” حماد جو انھیں ایک بڑی لگی ہوئی کھڑکی سے دیکھ رہا تھا وہ بھی ماں کی مسکراہٹ کو دیکھتا ہوا مسکرایا تھا۔۔۔۔!! اسما کی مسکراہٹ بھی اس کے دل کو چھو رہی تھی،،،، اسے خوشی تھی کہ اسما اس کی والدہ کا دھیان رکھتی ہے اس کی آدھی فکر ختم ہو گئی تھی۔۔۔۔”
فاریہ آتش کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔۔!!! اسی وجہ سے وہ کمرے سے باہر آگئی۔۔۔۔۔ اندر کمرے میں ڈاکٹر آتش کی مرہم پٹی کر رہے تھے۔۔۔۔!! زخم کی وجہ سے آتش پل پل درد سے کراہ رہا تھا۔۔۔۔!!! وہ باہر آکر دیوار سے ٹیک لگاتی ہوئی کھڑی ہوئی،،، اس نے اپنی آنکھیں سختی سے میچ لی۔۔۔۔!! اس وجہ سے اس کی آنکھوں سے آنسو الگ ہوتے ہوئے اس کے گال پر پہنچے تھے۔۔۔۔ فاریہ اس کی اس حالت کا زمہ دار خود کو ٹھہرا رہی تھی۔۔۔۔”
” بھابھی !!!! “
وہ آنکھیں بند کیے دیوار سے ٹیک لگائے ہوئے کھڑی تھی۔۔۔۔۔!!! جب ہی اسے کوئی جانی پہنچانی آواز سنائی دی تو اس نے فوراً آنکھیں کھول کر دیکھا،،، سامنے صادق کھڑا دیکھائی دیا۔۔۔۔ فاریہ نے جلدی سے اپنی آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسو صاف کیے۔۔۔۔
” بھابھی کیا اب آپ کو بھائی کے پیار پر یقین ہو گیا ؟؟؟ بھابھی!!! وہ شخص آپ پر اپنی جان تک نچھاور کر سکتا ہے۔۔۔ تو کیا آپ کو واقع ہی لگتا ہے کہ وہ آپ سے محبت نہیں کرتا ہے ؟؟؟
کیا آپ کو واقع ہی لگتا ہے کہ آپ صرف اس کی وقتی ضرورت ہیں ؟؟ کہ وہ صرف اپنے اندر کی حوس کو پورا کرنے کے لیے یہ سب ڈرامہ کر رہا ہے ؟ نہیں !! نہیں !! ایسا نا کبھی تھا اور نا ہی کبھی ہو گا بھابھی۔۔۔۔!! یہ بات آپ بھی بہت اچھے طریقے سے جانتی ہیں کہ اگر وہ گولی بھائی کے سینے سے تھوڑا سا بھی ادھر اُدھر ہوتی تو وہ بھائی کا۔ سینہ چیر سکتی تھی!!!!___
ہو سکے تو میری باتوں پر غور ضرور کیجئے گا “
صادق کی کہیں ہوئی باتیں فاریہ کو ایک گہری سوچ میں مبتلا کر گئی تھی۔۔۔۔!!!! صادق کا ایک ایک کہا ہوا لفظ صحیح تھا۔۔۔ فاریہ کے لاکھ برے رویے کے باوجود بھی اپنی بات کرنے کے دوران صادق چند لمحوں کے لیے خاموش ہوا تھا۔۔۔۔!! اور پھر وہ اپنا آخری جملہ ادا کرتا ہوا اندر کی طرف بڑھ گیا تھا۔۔۔۔
اس کی باتیں فاریہ کا سینہ چیر گئی تھی۔۔۔۔۔!!! اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کچھ دیر پہلے تک اس کا دل آتش کے خلاف گواہی دے رہا تھا۔۔۔۔” لیکن اب اس کے حق میں گواہی دے رہا تھا۔۔۔۔ وہ دل و دماغ کی جنگ میں مبتلا تھی۔۔۔۔ فارہہ نے آہستگی سے اپنے آنسو صاف کیے اور پھر اندر کی طرف بڑھنے لگی۔۔۔۔!!
انوشا اپنے سامنے دو جوڑے رکھ کر بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔!!! کبھی وہ ایک کو گھورتی تو کبھی وہ کسی دوسرے کو گھورتی۔۔۔۔ اس کے دادا جان کے کسی قریبی رشتہ دار کے گھر شادی تھی۔۔۔۔ اور انھوں نے ان سب کو انوائٹ کیا تھا۔۔۔۔ ویسے جو جوڑے اس نے اپنے سامنے رکھے ہوئے تھے وہ دونوں لندن کے تھے۔۔۔۔ وہ کب سے اس سوال میں مبتلا تھی کہ مہندی کے فنکشن کے لیے کونسا جوڑا پسند کرے !!! جب ہی اس کے کمرے کا دروازا کھڑاک کی آواز پیدا کرتا ہوا کھلا اور زریر ایک بیگ لیے ہوئے اندر داخل ہوا۔۔۔۔
” یہ لو”
زریر نے وہ بیگ لاتے ہوئے اس کے بیڈ پر رکھ دیا تھا۔۔۔۔۔ انوشا اب کی مرتبہ چڑ گئی تھی وہ ضرور اس کے لیے کوئی کپڑے ہی لایا تھا۔۔۔۔ زریر نے بیگ میں سے ایک خوبصورت لہنگا نکالا تھا۔۔۔
” یہ کیا ہے ؟؟ “
انوشا نے اس سے سوال کیا تھا!!!
” اندھی ہو کیا ؟؟؟ نظر نہیں آ رہا ہے کہ تمھارے لیے یہ لہنگا لایا ہوں مہندی کے فنکشن کے لیے !! تم یہی لہنگا پہنو گی آج رات !!! “
زریر نے وہ جوڑا اس نے سامنے رکھا اور پیار بھرے لہجے میں انوشا سے کہا تھا۔۔۔۔!! جبکہ اس جوڑے جو دیکھتے ہوئے انوشا جو غصہ آیا !!!
” تم پاگل تو نہیں ہو گئے ؟؟ دماغ خراب ہے تمھارا ؟؟ جو تمھیں لگتا ہے کہ یہ بیس کلو کا جوڑا پہنو گی میں ؟؟ میں یہ جوڑا ہر گز نہیں پہنو گی “
وہ تو جیسے پنجے جھاڑ کر ہی اس کے پیچھے پڑ گئی تھی۔۔۔۔۔ زریر نے اسے گھور کر دیکھا۔۔۔۔
” بیگم صاحبہ پہنے گی تو تمھیں یہی جوڑا ورنہ کیونکہ یہ میری یعنی کے آپ کے شوہر کی پسند ہے اور تم ہو کہ اپنے شوہر کے لائے ہوئے جوڑے کو ٹھکرا رہی ہو !!! “
زریر نے شوخ لہجے میں اس سے کہا تو انوشا کے ماتھے پر بل پڑے۔۔۔۔
” مسٹر میں تم سے کہہ رہی ہوں کہ یہ لہنگا اٹھاؤ اپنا اور چلتے بنو یہاں سے چلتے بنو میں یہ نہیں پہنو گی “
انوشا نے اسے گھور کر دیکھا۔۔۔۔
” میں بھی دیکھتا ہوں کہ تم کیسے نہیں پہنتی ہوں اسے پہننا تو تمھیں یہی پڑے گا میں بھی دیکھتا ہوں کہ تم یہ لہنگا کیسے نہیں پہنتی ؟ “
وہ غصے سے کہتا ہوا کمرے سے نکل گیا تھا۔۔۔۔!!! انوشا اسے گھورتی رہ گئی تھی۔۔۔۔!!
