Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aseer E Mohabat (Episode - 28)

Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt

وہ لوگ اپنی منزلِ مقصود پر پہنچ چکے تھے!! البتہ انھیں مری کی خوبصورت وادیوں میں آنے کے لیے وقت تھوڑا زیادہ لگا تھا لیکن اب وہ چاروں اس جگہ پر موجود تھے۔۔۔۔

چونکہ ابھی وہ صرف کچھ دن کے لیے ہی آئے تھے تو وہ زیادہ دور نہیں گئے تھے۔۔۔۔!!! سردیوں کے موسم کی وجہ سے یہاں کا موسم بھی بہت زیادہ ٹھنڈا تھا!! وہ یہاں پر چھ دن کے لیے آئے تھے۔۔۔۔ پر اصل سرپرائز تو کایان نے ازا کے لیے پلین کر کے رکھا ہوا تھا۔۔۔۔!!!

شام کے پانچ بج چکے تھے اور وہ سب کافی تھک بھی گئے تھے۔۔۔۔!! تو انھوں نے اس وقت آرام کرنا مناسب سمجھا۔۔۔۔ وہ چاروں ہوٹل کے بک لیے گئے کمروں میں چلے گئے تھے۔۔۔۔۔!

” ازا چلیں میرے ساتھ مجھے آپ کو کچھ دکھانا ہے “

تقریباً آدھے سے سے زیادہ گھنٹہ گزر چکا تھا۔۔۔!! ازا بیڈ پر بیٹھنے کی پوزیشن میں بیٹھی ہوئی تھی، تھکن کی وجہ سے شائید اس کی آنکھ لگ گئی تھی کایان کی آواز سنتے ہی اس نے آنکھیں کھولیں!!!!

” کہاں جانا ہے کایان ؟ میں بہت تھک چکی ہوں۔۔۔۔۔!!! میرا کہیں بھی جانے کا کوئی موڈ نہیں ہے۔۔۔۔!!! “

اس نے آنکھیں کھولتے ہوئے تھکن سے چور لہجے میں اس سے کہا کہ وہ کہیں بھی جانا نہیں چاہتی ہے کیونکہ اس وقت وہ بہت تھک چکی تھی۔۔۔۔!

” ارے چلیں تو سہی!! اینڈ آئم شور کہ جو میں آپ کو دکھانا چاہتا ہوں اسے دیکھتے ہی آپ کی ساری تھکن دور ہو جائے گی۔۔۔!! “

کایان نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے اسے بیڈ سے کھڑا کرتے ہوئے بولا جو وہ اسے دکھانا چاہتا ہے اسے دیکھتے ہی ازا کی ساری تھکن دور ہو جائے گی۔۔۔!!

ازا کو اس کی بات سن کر بہت ہی زیادہ حیرانگی ہوئی تھی کہ ایسا بھی کیا ہے ؟ جسے دیکھتے ہی اس کی ساری تھکن دور ہو جائے گی۔ وہ اس کی ساتھ چل دی تھی۔۔۔۔

وہ اسے لیے ہوئے مری کے ہی ایک ہوٹل میں آیا تھا۔۔۔۔ ابھی شام ہی ہوئی تھی لیکن پھر بھی منظر رات کا ہی تھا۔۔۔۔۔!! شام ہو جانے کی وجہ ٹھنڈ بھی مزید بڑھ گئی تھی۔۔۔۔

انھوں نے کپڑے کافی گرم پہنے ہوئے تھے مگر پھر بھی انھیں ٹھنڈ محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔!! ہوٹل کے سامنے پہنچے تو کایان نے اسے اندر کی طرف بڑھنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔!

جیسی ہی ازا نے اندر اپنی نظر گھمائی تا کہ وہ یہ جان سکے کہ ایسا بھی کیا ہے جو وہ اسے دیکھانا چاہتا تھا ؟ ازا نے جیسے ہی نظر گھمائی تو سامنے بیٹھے دو شخص اسے دیکھائی دیے۔۔۔۔!!!

شائید کایان نے سچ ہی کہا تھا جو وہ اسے دیکھانا چاہتا ہے اسے دیکھتے ہی ازا کی ساری تھکن دور ہو جائے گی۔۔۔!! کیونکہ وہ دو انسان کوئی اور نہیں بلکہ ازا کے ماں باپ ہی تھے۔۔۔۔

انھیں دیکھتے ہی ازا کی نگاہوں میں آنسو سے بھر آئے تھے۔۔۔۔۔!!! اسے جیسے یقین ہی نہیں آیا تھا کہ وہ اتنے عرصے بعد انھیں دیکھ رہی تھی۔۔۔۔”

” کایان میرے ماما بابا ؟؟؟ کیا میں ان سے مل لوں “

ازا نے اس کی طرف مڑتے ہوئے اسے دیکھا اور پھر اس کا دھیان اپنے والدین کی طرف کرواتے ہوئے پوچھا کہ کیا وہ ان سے مل لے ؟ جبکہ کایان پہلے ہی انھیں دیکھ چکا تھا۔۔۔

” مل لیں ازا یہ بھی بھلا کوئی پوچھنے والی بات ہے کیا ؟”

اس نے سر سے اثبات میں ہلاتے ہوئے اسے کہا کیا یہ کوئی پوچھنے والی بات ہے کہ وہ اپنے ہی ماں باپ سے مل سکتی ہے یا نہیں ؟؟ جیسے ہی کایان نے کہا تو وہ فوراً مسکراتے ہوئے ان کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔

” مما بابا !!! “

وہ جو کب سے اپنی بیٹی کے ہی انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے اس کی نازک سی آواز سن کر وہ فوراً اسے پہنچان گئے تھے!!! اس کی امی اس کی طرف مڑتی ہوئی کھڑی ہوئی تھی!!! جبکہ کایان ازا کے پیچھے ہی کھڑا تھا۔۔۔۔

اپنی ماں، اپنے بابا کو دو پل دیکھ کر وہ بے ساختہ ماں کے گلے لگ گئی تھی۔۔۔۔۔!!! ماں بیٹی دونوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔۔۔۔ ان دونوں کو یوں دیکھ کایان کا بھی دل بھر آیا تھا۔۔۔۔ اس نے ابھی صرف یہی سوچا تھا ” کاش کہ میری ماں بھی آج زندہ ہوتی تو میں انھیں یوں ہی گلے لگا لیتا !!! ” اس نے حسرت سے یہ سوچا تھا۔۔۔۔

ازا نے اپنی ماں کے بعد اپنے باپ کے گلے سے لگ گئی تھی۔۔۔۔”

” کیسی ہے میری بچی ؟ “

اس نے بابا نے مسکرا کر اس سے پوچھا تھا۔۔۔۔

” میں بالکل ٹھیک ہوں اور آپ لوگ ؟ “

ازا نے جواباً کہا۔۔۔

” ہم بھی ٹھیک ہیں!!! “

اس کی والدہ نے کہا۔۔۔۔

” آپ لوگ یہاں کیسے ؟؟؟ “

ان دونوں کو یہاں دیکھ کر ازا سمجھ نہیں پائی تھی کہ وہ یہاں کیا کر رہے ہیں ؟؟؟ حال چال پوچھنے کے بعد اس نے ان سے پوچھا کہ وہ یہاں کیا کیسے !!!

” ہمیں یہاں کایان نے بلایا تھا تا کہ ہم تم سے مل سکیں۔۔۔۔!!! بہت شکریہ تمھارا کایان بیٹا۔۔۔۔”

عباس چوہدری نے ازا کے پیچھے کایان کی طرف آنکھوں سے ہی اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔ تو ازا کو سمجھ آیا یہی ہے وہ جو وہ اسے دکھانا چاہتا تھا،،،، وہ اسے اس کے ماں باپ سے ملوانا چاہتا تھا۔۔۔۔!!! ازا نے اگلے ہی پل مڑ کر اس کی طرف مسکرا کر دیکھا جو ہلکا سا مسکرا کر اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ عباس چوہدری نے کایان کا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔۔۔۔!!

” اس میں شکریہ کی کوئی بات نہیں ہے انکل۔۔۔۔!!! آپ لوگ بیٹھ کر باتیں کریں میں کچھ دیر تک آتا ہوں “

کچھ لمحات کے لیے تو وہ ازا کو ہی دیکھتا رہا۔۔۔۔!!!! لیکن پھر اس نے عباس چوہدری کی بات کا جواب دیا اور وہاں پر ان تینوں کو اکیلا چھوڑتا ہوا باہر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔

وہ جیسے ہی گیا تو ازا اور اس کے والدین اسے میز پر بیٹھتے ہوئے باتوں میں مصروف ہو گئے۔۔۔۔۔

” ازا بیٹا !!! کایان بہت اچھا لڑکا ہے۔۔۔۔”

باتوں ہی باتوں میں عباس چوہدری نے ازا سے کہا تھا۔۔۔۔

” آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں بابا !!! کایان بہت اچھے ہیں۔۔۔۔ انھوں ہمیشہ میرا خیال رکھا ہے۔۔۔۔ کسی بھی چیز کی کمی نہیں ہونے دی انھوں نے مجھے۔۔۔۔

ہر دفعہ انھوں نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا چاہے اس کے لیے انھیں حویلی والوں کے خلاف ہی کیوں نا جانا پڑتا !!! لیکن حویلی کے لوگ بھی بہت اچھے ہیں۔۔۔ وہ بھی بہت خیال رکھتے ہیں میرا۔۔۔۔۔

خیر آپ یہ سب کچھ چھوڑیں مجھے یہ بتائیں کہ بھائی آپ لوگوں کے ساتھ کیوں نہیں آئے ؟؟ “

ازا پہلے اپنے بابا کی بات سنتے ہوئے انھیں کایان کی اچھائی اور حویلی والوں کے اچھے پن کے بارے میں بتانے لگی تھی۔۔۔۔۔ لیکن پھر اپنی بات کو ختم کرتے ہوئے اس نے اپنے بھائی کا پوچھا تھا !!!

” بیٹا !! اسے کچھ کام تھا “

اس کی امی نے اسے بتایا لیکن حقیقت تو یہ تھی کہ وہ ازا سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا اسی وجہ وہ ان کے ساتھ نہیں آیا تھا۔۔۔۔

وہ تینوں یوں ہی کافی دیر ایک دوسرے سے باتیں کرتے رہے۔۔۔۔ ماں باپ کے ساتھ وقت کیسے گزرا تھا ازا کو معلوم ہی نہیں ہوا تھا۔۔۔۔!!! پر یہ لمحے اس کے لیے بہت ہی زیادہ قیمتی تھے۔۔۔۔” اس کی زندگی کے خوبصورت پل تھے یہ جو کایان کی وجہ سے اسے میسر آئے تھے!!!

” تھینک یو سو مچ کایان !!! “

ازا کا اپنے والدین کے ساتھ وقت کیسے گزرا تھا اسے خود ہی پتہ نہیں چلا تھا۔۔۔۔ اس وقت رات کے دس بج رہے تھے۔۔۔۔ ڈنر کرنے کے بعد وہ لوگ سارے مل بیٹھے تھے اور گپے شپے لگانے کے بعد ازا اور کایان اب ہوٹل واپس اپنے کمرے میں آئے تھے!!!

کمرے میں پہنچ کر جیسے ہی کایان نے دروازہ بند کیا تو ازا مسکراتے ہوئے اس کی طرف مڑی اور پیار سے اس کا شکریہ ادا کیا۔۔۔ کایان کو آج اس کے چہرے پر وہ خوشی نظر آئی تھی جو شائید ہی پہلے کبھی اس نے دیکھی ہو!!!

” ازا میں آپ کو پہلے بھی کتنی مرتبہ کہہ چکا ہوں۔۔۔۔ کہ یوں شکریہ ادا کر کے مجھے شرمندہ مت کیا کریں مجھے بالکل بھی اچھا نہیں لگتا ہے،،، آپ میری بیوی ہیں اور میں آپ کا شوہر!!! شوہر جب بھی بیوی کے لیے کچھ کرتا ہے تو دل سے کرتا ہے۔۔۔ نا کہ اس لیے کہ بیوی اس کا شکریہ ادا کرے!!! “

کایان نے پیار سے اس نے دونوں گالوں کو اپنے ہاتھ کے پیالوں میں لیتے ہوئے اسے سمجھایا کہ وہ بار بار اس کا شکریہ ادا کر کے اس کو شرمندہ مت کیا کرے۔۔۔!!! اسے یہ بالکل بھی اچھا نہیں لگتا۔۔۔۔۔” جسے سن کر ازا مسکرائی تھی۔۔۔۔

” یو نو واٹ کایان !!! آپ بہت اچھے ہیں۔۔۔۔ میری سوچ بھی زیادہ اچھے۔۔۔۔ آپ نے میرے لیے وہ سب کچھ کیا ہے جو میں نے کبھی بھی اپنے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔۔۔۔

آپ کو پتہ ہے کایان !!! میں بچپن سے ہی ونی کی کہانیاں سنتی آ رہی ہوں۔۔۔۔!! اور ہمیشہ جب میں نے ایسی کہانیاں سنی تو ان کے متعلق یہی سنا کہ جب بھی کوئی لڑکی ونی میں جاتی ہے۔۔۔۔

تو اس کے ساتھ بہت ہی زیادہ برا سلوک کیا جاتا ہے!! اس پر ظلم کیے جاتے ہیں۔۔۔۔ مار پیٹ !!! ہاتھ جلا دینا !!! یہاں تک کچھ لوگ ایسے بے رحم بھی ہوتے ہیں جو انھیں جان سے ہی مار دیتے ہیں۔۔۔

اور میں ہمیشہ اس سب کو بہت برا سمجھتی تھی!!!! لیکن جب یہ سب مجھ پر آیا تو مجھے معلوم ہوا کہ ونی کیا ہے ؟ اس دن جس دن ہمارا نکاح ہوا تھا۔۔۔۔

مجھے یہی لگتا تھا کہ یہ میری زندگی جیسے آخری دن ہو گا۔۔۔۔!!! کیونکہ میں نے ونی کے بارے میں کچھ بھی اچھا سنا تھا ہی نہیں۔۔۔۔ مجھے یہی لگتا تھا کہ مجھ پر بھی بہت ظلم کیے جائے گے۔۔۔۔

میں آپ کو نہیں جانتی تھی۔۔۔۔ نکاح کے وقت جب آپ میرے قریب ہی بیٹھے ہوئے تھے اس وقت مجھے آپ کی آہٹ سے بھی ڈر محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔۔!!

لیکن پھر جب آپ نے سب سے پہلی مرتبہ جب ہم حویلی میں داخل ہو رہے تھے۔۔۔۔ اس وقت جب آپ میرے حق میں بولے،، جب مجھے چوٹ لگی تو آپ نے مرہم پٹی کی۔۔۔۔

جب صائمہ نے میرا ہاتھ جلایا تو جیسے آپ نے میرے لیے اسٹینڈ لیا۔۔۔!!! مجھے عزت دیا، پیار دیا مجھے وہ مقام دیا جس کے شائید میں قابل بھی نہیں تھی۔۔۔۔۔!!

آپ کے اس رویے نے مجھے یقین دلایا کہ لازمی نہیں ہے کہ ہر انسان ہی برا ہو۔۔۔۔!!! لازمی نہیں کہ ہر وہ لڑکی جو ونی میں جائے اس کے ظلم و زیادتی ہی کی جائے !!!

اس دنیا میں آپ جیسے نیک بندے بھی ہوتے ہیں۔۔۔۔ اور مجھے فخر ہے کہ آپ میرے شوہر ہیں “

وہ کہتے کہتے رو پڑی تھی۔۔۔۔۔ ونی کا ذکر کرتے ہوئے اس کی آنکھ سے آنسو بہے تھے۔۔۔۔!!! لیکن جب اس نے کایان کا ذکر کیا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی تھی۔۔۔۔

کایان عصر سے اس کی باتیں سن رہا تھا۔۔۔۔۔ وہ چاہتا تھا کہ ازا آج سب کچھ کہہ دیں جو بھی اس کے دل میں ہے۔۔۔۔!!! جبکہ ازا اپنا آخری جملہ ادا کرتے ہوئے پیروں کو تھوڑا سا اوپر اٹھاتے ہوئے اس کے گالوں پر اپنے لب رکھتی ہوئی اس کے گلے سے لگ گئی تھی۔۔۔۔۔

جبکہ اس کے نرم و ملائم لبوں کا لمس محسوس کرتے ہوئے وہ مسکرایا جبکہ اس کے چہرے کا رنگ گلابی پر گیا تھا،،، ایک لمحے کے لیے وہ اپنی جگہ پر ہی رہا لیکن پھر اسے خود میں سمیت گیا۔۔۔۔ ازا کے چہرے پر بھی ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔۔۔۔۔

” وہ مرد!! مرد ہی نہیں ہوتا ہے جو کسی عورت یا اپنی ہی بیوی کی عزت نا کرے،،، اس کی عزت نا کروائے !! اور نا ہی اسے وہ مقام دے جس کی وہ حقدار ہے!!!! “

کایان کی بات سنتے ہی وہ مسکرائی تھی۔۔۔۔

” آپ نے جو بھی کہنا تھا وہ کہہ لیا اب میں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔۔۔۔”

اس کی بات سننے کے لیے وہ اس سے جدا ہوتی ہوئی پیچھے ہوئی تھی اور سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا جیسے کہ وہ پوچھنا چاہتی ہو کہ کایان کیا کہنا چاہتا ہے ؟؟

” جب ہمارا نکاح ہوا تھا اس وقت میں بھی آپ کو بالکل بھی نہیں جانتا تھا۔۔۔۔!!! بلکہ آپ کا نام بھی مجھے نکاح کے وقت معلوم ہوا تھا۔۔۔۔!!!!

شروع شروع میں مجھے آپ سے ہمدردی تھی۔۔۔۔۔!!! میری خالہ نے مجھے بچپن میں سمجھایا تھا کہ ظلم کبھی بھی نہیں ٹھہرتا اور اس کا انجام بہت برا ہوتا ہے۔۔۔۔

لیکن پھر آہستہ آہستہ ہماری دوستی بنتی گئی اور اب میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔۔۔۔ ایک لمحہ بھی آپ کے بغیر نہیں رہ سکتا ہوں میں۔۔۔۔!!!! آئی لو یو “

اس کی باتیں سنتے ہی ازا کا چہرہ سرخ پڑ گیا تھا۔۔۔۔!!!

” آپ مجھے بتائیں کیا آپ مجھ سے محبت نہیں کرتی ؟؟ یا آپ مجھ سے محبت کرتی ہیں ؟

Do you Love me ??? “

اس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے اس سے سوال کیا تھا۔۔۔۔!!! اس کے کیے ہوئے سوال کو سنتے ہی ازا کو اس کے اپنے ایک ساتھ گزارے ہوئے لمحات یاد آئے۔۔۔

کہ جب بھی وہ اس کے قریب آتا ہے تو کیسے اس کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں۔۔۔۔! وہ ہمیشہ اسے تلاش کرتی ہے۔۔۔۔ اس کی آہٹ ہی اسے پر سکون کر دیتی ہے۔۔۔۔

ان سب چیزوں کو سوچتے ہوئے ازا نے اپنا سر ہاں میں ہلایا۔۔۔۔ جس کا مطلب ہے کہ وہ اس سے محبت کرتی ہے۔۔۔۔” جسے دیکھ کر کایان مسکرا گیا تھا اور نظریں جھکا گئی۔۔۔۔

ازا کو صرف یہ پریشانی تھی کہ کیا اسما کی کنٹریکٹ میرج والی بات اس نے کایان سے چھپا کر صحیح کیا ؟؟ لیکن وہ کیا کرتی کیسے بتاتی اسے وہ تو اسما سے کیے ہوئے وعدے میں قید تھی !!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *