Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aseer E Mohabat (Episode - 6)

Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt


” اگر اسے خلاف ہی کرنا ہوتا تو کل رات ہی مجھے بتا دیتی کہ اس کے سر پر دیا گیا زخم بھی تمھاری وجہ سے ہی ہے۔۔۔۔۔۔!!!! “

کایان کے الفاظ پر ازا حیران ہوئی کہ اسے کیسے معلوم ہوا کہ صائمہ کی وجہ سے اس کے سر پر چوٹ لگی تھی۔۔۔۔ جبکہ صائمہ اپنے پر ہاتھ رکھے حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔!!!

” کایان تم پاگل ہو گئے ہو کیا ؟؟ جو اس منحوس لڑکی کی وجہ سے اپنی بہن پر ہاتھ اٹھا رہے ہو۔۔۔۔۔!!! یہ لڑکی جھوٹ بول رہی ہے۔۔۔۔!! صائمہ ایسی نہیں ہے۔۔۔۔”

شہناز بیگم کایان کا غصہ دیکھ کر ڈر گئی تھی۔۔۔۔۔ اس وجہ سے فوراً آگے بڑھتی ہوئی وہ صائمہ کا ساتھ دینے لگی۔۔۔۔

” چلیں مانا کہ ازا نے جھوٹ بولا اور اس نے جھوٹ ہی بولا کہ اس کا بازو غلطی سے جلا تھا۔۔۔۔۔!!! لیکن مجھے تو حقیقت سے آگاہ ربعیہ نے کیا۔۔۔۔!! “

یہ بات سن کر شہناز بیگم نے غصے سے ربعیہ کو گھورا۔۔۔۔

” ( ایک مرتبہ ارحم اور ربعیہ کا نکاح ہو جائے پھر بتاؤ گی اس کو اس کی اوقات۔۔۔۔!!! ) “

ربعیہ کو گھورے ہوئے شہناز بیگم نے غصے سے دل میں ہی سوچا!!!

” معافی مانگو ازا سے!!! “

کایان نے غصے پر قابو پاتے ہوئے مٹھیاں بھینجتے ہوئے صائمہ سے کہا تو وہ اسے گھورنے لگی۔۔۔۔

” میں مر کر بھی اس سے معافی۔۔۔۔!!!! “

” معافی مانگو ازا سے۔۔۔۔!!!! “

صائمہ کچھ بولنے ہی لگی تھی کہ کایان کی گرجتی ہوئی آواز اس کا منھ بند کروا گئی تھی۔۔۔۔۔

” دیکھ کیا رہی ہوں مانگ لے معافی ازا سے۔۔۔۔ اس کو ہم بعد میں دیکھ لیں گے۔۔۔۔ لیکن کایان کا غصہ تو ٹھنڈا ہو۔۔۔۔”

کایان کا غصہ دیکھتے ہوئے شہناز بیگم نے صائمہ کے کان میں ہلکی سی سر گوشی کہ ابھی یہی صحیح ہے کہ وہ ازا سے معافی مانگ لے بعد میں وہ اس کے ساتھ جو مرضی کر لیں گی۔۔۔۔۔

” آئم سوری۔۔۔۔۔!!! “

صائمہ نے یہ معافی بھی غصے کی انتہا کو چھوتے ہوئے مانگی۔۔۔۔۔۔ تو شہناز بیگم کی سانس میں سانس آئی آج کایان کا غصہ دیکھ کر وہ بہت ڈر گئیں تھیں۔۔۔۔

” یہ بات میں نے آپ سب کو پہلے بھی کہی تھی اور ایک مرتبہ پھر سے میں آپ سب کو سمجھا رہا ہوں کہ ازا میری بیوی اور اس گھر کی بہو ہے اس کی عزت کرنا آپ سب کا فرض ہے۔۔۔۔۔ اور خبردار کسی نے اسے تکلیف پہنچانے کے بارے میں سوچا بھی تو۔۔۔”

کایان نے اپنی بات دہرائی اور ازا کو لیے ہوئے وہاں سے نکل گیا!!! صائمہ غصے سے پیر پٹختی ہوئی کمرے میں چلی گئی۔۔۔ ربعیہ بھی وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔۔۔

” اس لڑکی کا تو واقع ہی کچھ کرنا پڑے گا لیکن کچھ دن ٹھہر کر۔۔۔۔!! “

سب کے جاتے ہی شہناز بیگم نے خود سے کہا۔۔۔۔

کایان کی بات پر عمل کرتے ہوئے یونہی دن اپنے معمول پر گزرنے لگے۔۔۔۔ اور ربعیہ اور ارحم کے نکاح کا دن بہت قریب آ گیا۔۔۔۔۔!!

رات کا پہر تھا۔۔۔۔ سب لوگ اپنے کمروں میں تھے۔۔۔۔!! کایان واش روم میں چینج کر کے آیا۔۔۔۔!!! تو ازا کو کمرے میں نا پا کر پریشان ہوا۔۔۔۔!!!!”

اگلے ہی لمحے وہ کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔۔

” کہاں گئی تھی آپ ؟ “

کایان نے اس سے سوال کیا۔۔۔

” وہ کچن سے پانی لینے گئی تھی میں۔۔۔۔۔!!! “

اس کا زخم کافی حد تک بہتر ہو گیا تھا۔۔۔۔ ان تین دنوں میں کایان نے کا اس کا بہت خیال رکھا تھا۔۔۔۔ جس وجہ سے اب وہ بہت بہتر تھی۔۔۔۔۔۔۔

” اچھا ٹھیک ہے۔۔۔۔!! آپ اب سو جائیں رات کافی ہو چکی ہے۔۔۔”

وہ کہتا ہوا کمرے سے نکلنے لگا۔۔۔۔!! جب ہی ازا کی آواز اس کے کانوں میں پڑی۔۔۔

” آپ کمرے میں ہی س۔۔و جائیں۔۔۔۔!! “

ازا کی آواز پر کایان رکا۔۔۔۔ وہ روز رات کو گیسٹ روم میں سونے کے لیے چلا جاتا۔۔۔ پر آج ازا نے اسے یہی رکنے کا کہا۔۔۔

” آپ کمفرٹیبل ہو کے سو جائیں میں گیسٹ روم میں سو جاؤ گا نو پروبلم۔۔۔۔!! “

کایان نے مسکرا کر کہا۔۔۔

” نہیں وہ بات نہیں ہے۔۔۔۔ دراصل رات میں اکیلی ہوتی ہوں تو ڈر جاتی ہوں۔۔۔۔ آپ پلیز یہی رک جائیں۔۔۔۔!!

میں صوفے پر سو جاؤ گی۔۔۔۔۔!! مجھے کوئی پروبلم نہیں ہے۔۔۔۔!!! “

ازا نے اسے بتایا کہ وہ رات کو اکیلی ہونے کی وجہ سے ڈر جاتی ہے اس لیے وہ چاہتی تھی کہ وہ یہی پر رک جائے۔۔۔۔۔

” نہیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ صوفے پر میں سو جاؤ گا۔۔۔۔!!! اور اگر یہ بات تھی تو آپ مجھے پہلے بتا دیتی۔۔۔۔!! “

کایان نے مسکرا کر کہا تو وہ بھی ہلکا سا مسکرا دی۔۔۔۔ جب ہی کایان بیڈ سے ایک تکیہ اٹھاتا ہوا صوفے پر جا کر لیٹ گیا اور ازا بیڈ پر ایک طرف لیٹ گئی۔۔۔۔

” ویسے میں سوچ رہا تھا کہ ہم کل کہیں چلتے ہیں !! “

کچھ لمحات تک کمرے میں خاموشی چھائی رہی اس کے بعد کایان جو سیدھا لیٹا ہوا تھا کچھ الفاظ کہتا ہوا اسے اپنی طرف متوجہ کر گیا۔۔۔۔۔!!!

” کہاں ؟ “

ازا نے سوال کیا۔۔۔

” دیکھیں کل سب گھر والے شادی پر جا رہے ہیں۔۔۔۔!! میں تو جاؤ گا نہیں کیونکہ آفس کی اہم میٹینگ ہے۔۔۔۔ تو میں اس میٹینگ کے بعد حویلی آ جاؤ گا۔۔۔۔!!!

آپ ریڈی رہنا۔۔۔۔ میں آپ کو کل گاؤں گھمانے کے لیے لے جاؤ گا۔۔۔۔!! ویسے بھی آپ نے ہمارا گاؤں نہیں دیکھا۔۔۔!! تو آپ کل تیار رہنا۔۔۔”

کایان نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔ تو ازا نے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔۔

” ٹھیک ہے۔۔۔۔!! “

ازا نے سر ہاں میں ہلاتے ہوئے کہا تو وہ مسکرا گیا۔۔۔۔۔ کایان بھی اس کا جواب سنتا ہوا مسکرایا۔۔۔۔

صبح حویلی کے سب لوگ سوائے ازا ، کایان ، ربعیہ اور ارحم کے شادی پر چلے گئے۔۔۔۔ وہ شادی شہزاد ملک کے کزن کے بیٹے کی تھی۔۔۔۔۔

ربعیہ کا پیپر تھا وہ اس وجہ سے رک گئی ارحم اور کایان آفس کے کام کی وجہ سے نہیں گئے اور ازا کو ساتھ لے کر جانے سے شہناز بیگم نے صاف منع کر دیا تھا۔۔۔۔

کایان بھی ارحم کے ساتھ آفس چلا گیا۔۔۔۔۔!!! ربعیہ اور ازا نے ایک ساتھ ناشتہ کیا اور پھر کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد ازا کایان کے کہے مطابق کمرے میں تیار ہونے کے لیے چلی گئی۔۔۔۔ جبکہ ربعیہ اپنے کمرے پیپر کی تیاری کرنے کے لیے چلی گئی۔۔۔۔

کایان آفس کا کام نپٹاتے ہوئے حویلی واپس آیا۔۔۔۔ اور سیدھا کمرے میں آ گیا۔۔۔۔ جیسے ہی کمرے کا دروازا کھولا تو سامنے اسے تیار پایا۔۔۔۔۔!!!

کایان نے جیسے ہی نظر اس کی طرف دوڑائی تو نظروں نے اس پر سے ہٹنے سے انکار کر دیا تھا۔۔۔۔۔!!!

ازا نے بلیک کلر کی فراک پہنی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ چہرہ اس کا میک اپ سے بالکل پاک تھا۔۔۔۔ وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔۔ اس کے سر پر موجود ڈوپٹہ جو اس کے جسم کو ڈھک رہا تھا اس کی خوبصورتی کو مزید چار چاند لگا رہا تھا۔۔۔۔

” وہ مجھے پوچھنا یہ تھا کہ کیا ہمارا جانا صحیح رہے گا ؟؟ وہ دراصل ربعیہ گھر پر اکیلی ہو گی ؟ “

ازا نے کایان سے سوال کیا۔۔۔۔

” اس کی فکر مت کریں ارحم بھائی بھی کچھ دیر تک حویلی آ جائے گے۔۔۔۔!! ہمیں چلنا چاہئیے۔۔۔۔”

کایان نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ سر ہاں میں ہلا گئی اور وہ دونوں کمرے سے باہر نکلے۔۔۔۔۔!!!

کایان نے گاڑی کے پاس جاتے ہوئے گاڑی کا دروازہ کھولا۔۔۔۔ تو وہ مسکراتے ہوئے اس کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی۔۔۔۔ کایان ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتا ہوا گاڑی کو حویلی سے باہر نکال گیا۔۔۔۔۔

رات ہو چکی تھی۔۔۔۔۔ اس وقت سارے نوکر سرونٹ کوارٹر میں تھے جبکہ ربعیہ اپنے کمرے میں تھی۔۔۔۔۔ اور اس کے علاؤہ گھر پر ارحم تھا۔۔۔۔ جو قدم اس کے کمرے کی طرف بڑھا رہا تھا۔۔۔۔!!

کمرے کے دروازے پر جاتے ہی اس نے دروازہ کھٹکھٹایا۔۔۔۔ دروازے پر دستک سن کر ربعیہ نے ڈوپٹہ سیٹ کیا اور اٹھتے ہوئے دروازہ کھولا۔۔۔۔!! تو سامنے ارحم کو کھڑا ہوا پایا۔۔۔۔!!!

” آپ یہاں ؟ “

ربعیہ کے لہجے میں سوال تھا۔۔۔۔!!!

” کیوں میں یہاں نہیں آ سکتا کیا ؟ “

ارحم اس کے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔

” نہیں میرا مطلب وہ نہیں تھا کیا کوئی کام تھا آپ کو ؟؟ “

ربعیہ نے جھجکتے ہوئے لہجے میں سوال کیا۔۔۔۔

” کام تو ہے اور تم سے ہے!!! “

اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔ اور قدم ربعیہ کی طرف بڑھائے۔۔۔۔

” ک۔۔یا کام ؟ “

ربعیہ تھوڑا سا سہمی۔۔۔۔

” اب تم اتنی بھولی بھی نہیں ہو کہ میرا مطلب نا سمجھو اور شرمانے کی کیا بات ہے اب تو ہم ایک رشتے میں بندھ چکے ہیں۔۔۔۔!! “

وہ ربعیہ کے قریب ہوتا ہوا بولا۔۔۔۔ ربعیہ کو اس کے ارادے نیک نہیں لگ رہے تھے۔۔۔۔ وہ فوراً پیچھے کی طرف بڑھی۔۔۔۔

” ارحم یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں ؟؟ آپ پلیز مجھے سے دور رہیں!! ابھی ہمارا صرف اور صرف رشتہ ہوا ہے۔۔۔۔! شادی نہیں اور نا ہی نکاح۔۔۔۔!!

تو آپ مجھ سے جتنا دور رہے گے آپ کے لیے اتنا ہی اچھا ہو گا!!! “

ربیعہ نے جیسے ہی ارحم کی بات سنی تو خوف اس کے دل میں پیدا ہوا۔۔۔۔ لیکن اس خوف کو دل سے نکالتے ہوئے ربعیہ ہمت پکڑتے ہوئے کہا۔۔۔!!

” اس سے کیا فرق پڑتا ہے ؟ شادی تو تمھاری مجھ سے ہی ہونی ہے نا ؟ ہم نے ایک نا ایک دن تو ایک ہونا ہی ہے تو پھر آج رات کیوں نہیں جب موقع بھی ہے۔۔۔۔!! “

ربعیہ اس شخص کے چہرے کے پیچھے چھپے ہوئے جانور کے ارادوں کو بھانپ گئی تھی۔۔۔۔۔!! اب اسے ارحم ملک سے خوف آنے لگا۔۔۔۔”

” دیکھیں آپ پلیز مجھے سے دور رہیں۔۔۔۔۔۔!!! اور چار قدم کے فاصلے پر ہی رہ کر مجھ سے بات کرے تو زیادہ اچھا ہو گا۔۔۔۔۔!! “

ربعیہ نے اس سے خوف زدہ ہوتے ہو کہا۔۔۔۔

” اب تم مجھے بتاؤ گی کیا سہی اور کیا غلط ؟؟ ارحم ملک کو ؟ “

لہجے میں سوال تھا۔۔۔۔۔!! جس پر ربعیہ کو مزید خوف آیا!! اگلے ہی لمحے ارحم اس کی طرف اور ہاتھ سے اپنی طرف کھینچا جب ہی ربعیہ نے اسے پیچھے کی طرف دھکا دیا۔۔۔۔۔”

” خبردار جو مجھے ہاتھ لگانے کی کوشش بھی کی ہو تو!!!! “

ربعیہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔۔۔۔ وہ اس پر چیخی۔۔۔۔ جسے دیکھ کر ارحم کو شدید غصہ آیا۔۔۔۔”

” تمھاری اتنی ہمت۔۔۔۔۔۔!! “

ارحم نے شدید غصے سے کہا۔۔۔۔۔!! جب ہی ربعیہ وہاں پر موجود بھانس اس کے سر پر مارتی ہوئی وہاں سے بھاگی۔۔۔۔۔

ارحم ملک درد سے کراہ اٹھا!! بھانس اتنی زور سے نہیں مارا گیا تھا اسے اس وجہ وہ ہوش و حواس سے بے گانہ نہ ہوا اور اس کی طرف بھاگا۔۔۔۔۔!!!”

ربعیہ باہر کی طرف بھاگی اور بھاگتے بھاگتے ہال میں پہنچ گئی۔۔۔۔۔!! جب ہی ہال میں کسی چوڑے سینے سے ٹکرا گئی۔۔۔۔۔!!

وہ بہت زور سے اس سے ٹکرائی تھی جس وجہ سے سامنے والا بھی پیچھے دھکیلا گیا تھا۔۔۔۔”

ربعیہ نے جوں کی نظریں اٹھا کر دیکھا،،، سامنے کالے رنگ کی پیٹنٹ اور سفید رنگ کی شڑٹ اس کے اوپر ویسکوٹ اور کوٹ جو اس کے بازو پر لہرا رہا تھا میں ملبوس شخص کھڑا دیکھائی دیا۔۔۔

جسے ربعیہ کی جان میں جان آئی۔۔۔۔”

” کیا ہوا ربعیہ ؟؟ آپ اتنی پریشان کیوں ہیں ؟؟ “

اس کے سامنے کوئی اور نہیں رہان ملک کھڑا تھا۔۔۔۔ رہان نے اس کے چہرے پر چھائی ہوئی پریشانی کو محسوس کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔!! ربعیہ کے جسم سے اس کا دوپٹہ جدا ہو گیا تھا۔۔۔۔

شائید راستے میں ہی گر گیا۔۔۔۔۔۔!!

” رہان۔۔۔۔!! و۔۔ وہ ا۔۔ر۔۔حم نے می۔۔۔رے س۔۔اتھ زبر”

وہ کہتے کہتے رو پڑی۔۔۔۔ رہان کے ماتھے پر بل پڑے۔۔۔۔!! رہان نے اس کی بات کا یقین کیا کیونکہ اس کے پاس بہت وجوہات ایسی جس سے وہ اس کی بات پر یقین کر سکے۔۔۔

سب سے پہلے یہ کہ اس کی حالت اور دوسرے نمبر پر یہ کہ گھر میں ان دونوں کے سوا کوئی بھی نہیں تھا!! اور وہ جھوٹ کیوں بولے گی ؟؟

رہان نے اپنے بازو پر پڑے ہوئے اس کوٹ کو اس کے کندھوں پر رکھا۔۔۔۔!! ربعیہ کی آنکھوں سے آنسو رک ہی نہیں رہے تھے!! اس وقت ہی وہاں پر ارحم آگیا۔۔۔

ارحم کی آہٹ محسوس کرتے ہوئے وہ اس کی طرف مڑی۔۔۔۔!! جب ہی وہ اس کی طرف بڑھا گیا۔۔۔۔۔۔!!

لیکن قدم تو اس وقت رکے۔۔۔۔ جب اس کے راستے میں رہان ربعیہ کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔۔۔”

” رہان تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟؟ ہٹو میرے راستے سے!!! “

اسے اپنے سامنے پاتے ہوئے ارحم کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی۔۔۔۔”

” میں نہیں ہٹو گا۔۔۔۔!! آپ ہٹو۔۔۔۔”

رہان نے غصے پر قابو پاتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔

” میں تیرے حکم کا پابند نہیں ہوں ہٹ میرے راستے سے “

ارحم نے غصے سے کہتے ہوئے اسے پیچھے کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی۔۔۔ لیکن نے اسے پیچھے کی طرف دھکا دیا۔۔۔

” How dare you?? “

ارحم نے غصے سے کہتے ہوئے اس کے چہرے پر ایک زور دار پنچ مارا۔۔۔۔!! جسے دیکھ کر ربعیہ کی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کی روانگی مزید تیز ہوئی۔۔۔۔!!!

لیکن رہان کی ڈھال اب بھی اس کے سامنے موجود رہی۔۔۔۔ اگلے ہی لمحے رہان نے ارحم کے چہرے پر پنچ مارا۔۔۔۔!!

جسے کھاتے ہی ارحم زمین بوس ہوا۔۔۔ اس نے بے یقینی سے رہان کو دیکھا اور غصے سے اس کی طرف بڑھا!!

” تو اس لڑکی کی وجہ سے میری اوپر ہاتھ اٹھائے گا!! “

ارحم غصے سے بولا!

” یہ لڑکی کوئی اور نہیں اس گھر کی عزت ہے!!! اور آپ نے اس گھر کی عزت پر کیچڑ اچھالنے کی ہمت کی ہے۔۔۔۔۔!!

شرم آنی چاہئیے آپ کو!! “

رہان نے اس کے دونوں کالرز کو ہاتھوں میں لیتے ہوئے غصے سے کہا۔۔۔۔ جب ہی سارے گھر والے وہاں پر پہنچے۔۔۔۔۔

ربعیہ اب بھی رہان کے پیچھے کھڑی اپنے آپ کو محفوظ محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔!! ” وہ اس کے محافظ سے کم ثابت نہیں ہوا تھا۔۔۔۔!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *