Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt NovelR50484 Aseer E Mohabat (Episode - 11)
Rate this Novel
Aseer E Mohabat (Episode - 11)
Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt
” کایان مجھے تم سے بات کرنی ہے !! “
کایان ابھی آفس سے لوٹ کر آیا تھا۔۔۔۔ اور کمرے میں جانے کی غرض سے وہ قدم اس طرف بڑھا رہا تھا۔۔۔۔ جب ہی شنائل اس کے سامنے آ رکی اور اس سے پریشانی سے کہا۔۔۔۔!! جس پر کایان نے نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔
” کیا بات کرنی ہے تمھیں ؟؟ کہو ؟ “
کایان نے اسے ایک نظر اٹھا کر دیکھا تو دل کیا ابھی اس کا ہاتھ پکڑ کے حویلی سے باہر نکال دے لیکن پھر بھی اس نے نہایت ہی تحمل مزاجی سے کام لیتے ہوئے کہا۔۔۔
” اکیلے میں بات کرنی ہے کیا ہم کمرے میں چل سکتے ہیں ؟ “
شنائل نے ارد گرد نظر گھماتے ہوئے کہا اور اسے بتایا کہ وہ اس سے اکیلے میں بات کرنا چاہتی ہے یہاں پر کوئی بھی شخص آ سکتا ہے !! اور اس سے سوال کیا کہ کیا وہ دونوں کمرے میں جا کر بات کر سکتے ہیں ؟؟؟؟؟
” نہیں !! تمھیں جو بھی بات کرنی ہے یہی کہو!!! “
ایہ لمحے کے لیے کایان کو غصہ آیا مگر اس نے ایک مرتبہ پھر سے اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے اس پر ایک مرتبہ بھی نظر نا ڈالتے ہوئے کہا تو شنائل سختی سے مٹھیاں بھینج گئی۔۔۔
” کایان میں جانتی ہوں کہ میں نے پانچ سال پہلے جو بھی کیا تھا وہ سب غلط تھا۔۔۔۔۔ مجھے یوں نہیں کرنا چاہئیے تھا۔۔۔۔۔!! میں نے تمھیں چھوڑ کر بہت بڑی غلطی کی !!
کایان کی آنکھیں اس کی باتیں سنتے ہوئے سرخ پڑ رہی تھی۔۔۔۔۔
تمھیں چھوڑ کر مجھے احساس ہوا کہ میں نے دنیا ہی چھوڑ دی۔۔۔۔!!! کیونکہ میری دنیا تو تم تھے اب جب میں تمھیں ازا کے ساتھ دیکھتی ہوں تو مجھے جلن ہوتی ہے۔۔۔۔ وہ لڑکی ونی میں آئی ہے،،، اس کا کیا ہے ؟ ہم ایک ہو جاتے۔۔۔۔۔”
” Just Shut up!!! “
کایان میں اس کی باتیں سننے کا صرف اتنا ہی حوصلہ ، اتنی ہی ہمت تھی۔۔۔۔۔!!! اس کے الفاظ سن کر کایان کا غصہ سوا نیزے پر جا پہنچا تھا۔۔۔۔!! جب ہی وہ اس کی بات کو درمیان میں ہی کاٹتا ہوا بولا۔۔۔۔!!!
” تمھیں معلوم بھی ہے شنائل کہ تمھارے ان تلخ لفظوں کی وجہ سے دادا جان اس دنیا سے چلے گئے۔۔۔۔۔! تمھاری غلطیوں کی وجہ سے حویلی کے لوگوں پر کیا بیتی ؟؟ کیا تمھیں تھوڑا سا بھی فرق پڑا ؟ نہیں تمھیں کیا فرق پڑتا ہے ؟ اور ہاں ازا میری بیوی اور حویلی کی بہو ہے۔۔۔۔جب میں نے ہی کبھی یہ نہیں کہا کہ وہ ونی میں آئی ہے تو تم کیسے کہہ سکتی ہو ؟؟ میری بات کان کھول کر سن لو خبردار جو میرے قریب بھی آنے کی یا مجھ سے بات کرنی کی کوشش بھی کی ہو تو سمجھی رہان اور ربعیہ کے نکاح کے بعد حویلی سے چلتی بنو !! ان دونوں کے نکاح کے بعد تم پر نظر بھی نہیں۔۔۔۔!! “
” اہ۔۔۔۔۔!! نہیں کایان مت کرو نہیں پلیز یہ ظلم مت کرو پلیز مجھے معاف کر دو !! “
کایان غصے سے ساری بھڑاس اس پر نکال ہی رہا تھا جب ہی اس کی باتیں سنتے ہوئے شنائل کے دماغ میں ایک ترکیب آئی۔۔۔۔!!
” شنائل!! ہوش کرو یہ کیا بکواس کر رہی ہو تم ؟؟ “
کایان اس کی حرکت دیکھ کر ہی حیران رہ گیا تھا کہ وہ لڑکی کر کیا رہی تھی ؟ جب ہی کایان نے غصے سے اسے دیکھتے ہوئے کہا جو اپنے ہی ناخنوں سے اپنے بازوؤں ہر زخم لگا رہی تھی۔۔۔۔۔!! اور اگلے ہی لمحے وہ وہاں سے دوڑتی ہوئی باہر لان کی طرف بڑھی جہاں پر سب حویلی والے موجود تھے۔۔۔۔ کایان بھی اس کے پیچھے بڑھا اسے اس لڑکی کے ناٹک کی سمجھ نہیں آ رہی تھی۔۔۔۔۔
” پلیز !! پلیز !! مجھے بچا لیں۔۔۔۔”
آنکھوں سے جھوٹے آنسو بہاتے ہوئے شنائل لان میں موجود تمام حویلی والوں کے پاس جاتے ہوئے بولی۔۔۔۔ اس کی آنکھ سے آنسو دیکھ کر وہاں موجود سب لوگ چونک اٹھے !! اور اپنی اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے اور حیرانگی سے اسے دیکھا جبکہ وہاں پر موجود ازا اس کی طرف بڑھی۔۔۔۔
” کیا ہوا ؟ “
اس کی یہ حالت دیکھ کر سب کے دل گھبرا رہے تھے جب ہی شہناز بیگم نے اس سے سوال کیا کہ اسے ہوا کیا ہے ؟؟ اگلے ہی لمحے کایان وہاں پر پہنچا۔۔۔۔
” اس شخص سے کہیں کہ دور ہو جائے مجھ سے!!! میں نے تو بس اس سے اتنا ہی کہا تھا کہ مجھے معاف کر دے جو میں نے غلطیاں کی ہیں ان کے لیے اور اس نے غصے میں میرو یہ حال کیا وہ تو خدا کا شکر ہے کہ میں وہاں سے نکل آئی ورنہ ناجانے یہ شخص میرے ساتھ کیا کر دیتا !!! “
اس نے اپنی گھٹیا زبان سے گھٹیا الفاظ ہی نکالے اور سب کے سامنے کایان کے لیے زہر اگلا۔۔۔۔ جسے سن ازا کو بہت حیرانگی ہوئی۔۔
” کایان یہ سب کیا ہے ؟؟ “
کایان کو اس مکار عورت کا فریب جاننے میں کچھ لمحات لگے تھے اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتا شہزاد ملک کی گرجتی ہوئی آواز نے اس کا تعاقب کیا!!!
” تایا جان !! ایسا کچھ بھی نہیں ہے !! یہ لڑکی جھوٹ بول رہی ہے۔۔۔۔”
کایان نے شہزاد ملک کی بات سنتے ہوئے غصے سے شنائل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
” اچھا میری حالت تو کچھ اور ہی بتا رہی ہے !! “
اس کی بات سنتے ہی شنائل نے اپنے زخم ان سب کو دیکھائے جو محض اس کے خود کے دیے ہوئے تھے۔۔۔۔۔!!! جس پر سب مزید حیران ہوئے پر ازا اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔۔۔۔!!!
” کیا یہ زخم کایان نے دیے ہیں ؟؟ “
ازا نے بڑی ہی حیرانگی سے شنائل کی طرف دیکھتے ہوئے جس ہر کایان کو حیرانگی ہوئی کہ وہ بھی اس کی بات کا یقین نہیں کرے گی کیا ؟؟؟؟
” ہاں بالکل ایسا ہی ہے!! “
شنائل نے ایک نظر کایان پر ڈالی اور پھر ازا کو دیکھا جس کی آنکھوں میں امڈتا ہوا غصہ وہ صاف دیکھ سکتی تھی۔۔۔۔!!!!!
” کیوں جھوٹ بول رہی ہو ؟ ایسا کبھی بھی نہیں ہو سکتا !! “
شنائل کی بات سن کر ازا نے مسکراتے ہوئے نہایت ہی حوصلے اور یقین سے بھرپور لہجے میں کہا تو شنائل کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔۔۔۔!!! جبکہ اس پر کایان سمیت باقی سب بھی حیران رہ گئے۔۔۔۔
” کیوں یہ کیا دودھ کا دھلا ہے ؟ “
شنائل نے کایان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جو مخص ازا کی بات سن کر مسکرا رہا تھا۔۔۔۔
” اس کا تو مجھے علم نہیں ہے !!! لیکن مجھے اتنا ضرور معلوم ہے کہ کایان ملک وہ شخص ہے جو عورت کے سر سے چادر اتارتا نہیں ہے۔۔۔۔ بلکہ اس کے سر پر چادر چڑھانا ہے۔۔۔۔ جو عورتوں کی عزت کے ساتھ کھیلتا نہیں ہے۔۔۔۔!! بلکہ ان کی عزت کا محافظ بنتا ہے۔۔۔۔! اور تم کہتی ہو کہ انھوں نے تمھارے ساتھ بدتمیزی کرنے کی کوشش کی ؟؟؟ “
ازا نے بڑے ہی مان اور یقین سے بھرپور لہجے میں کہا تو کایان نے نیم مسکراہٹ لیے ہوئے اسے دیکھا۔۔۔۔۔ ایک لمحے کے لیے تو اسے لگا تھا کہ جیسے ازا اس پر یقین نہیں کرے گی۔۔۔۔!! لیکن اس نے کایان پر بھروسہ کیا۔۔۔۔ جسے دیکھ کر کایان کو بہت خوشی ہوئی تھی۔۔۔۔ اس کے بھروسے کو دیکھتے ہوئے وہاں پر موجود شہزاد ملک ، شہناز بیگم ، ربعیہ ، اس کی والدہ ، ربعیہ کے والد ، صائمہ سب حیران رہ گئے تھے۔۔۔۔
” ہاں اس نے کوشش کی کہ دیکھو کیا یہ زخم جھوٹے ہیں ؟ “
ازا کے بھروسے کو دیکھ ایک لمحے کے لیے شنائل ٹھٹک گئی تھی۔۔۔۔ لیکن پھر اگلے ہی لمحے ہوش میں واپس آتے ہوئے اس نے ازا کو اپنے بازو پر موجود زخم دکھائے !! تا کہ وہ اس کی باتوں پر یقین کر لیں۔۔۔۔
” بالکل !! یہ زخم جھوٹے ہیں!!! “
ازا نے ایک مرتبہ پھر یقین سے کہا تو شنائل کا سر گھوم گیا کہ آخر کیوں یہ اتنا یقین کرتی ہے کایان پر ؟
” ازا کیا ثبوت ہے تمھارے پاس ؟ “
شہزاد ملک نے کچھ سوچتے ہوئے ازا کو جب سے وہ آئی تھی اس وقت سے لے کر اب تک پہلی مرتبہ پکارہ تھا !!
” ثبوت یہ ہے کہ شنائل کے بازوؤں پر ناخنوں کے نشانات ہیں۔۔۔۔!! جبکہ کایان کے کے تو ناخن نہیں ہیں !! “
ازا نے کہتے ہوئے کایان کے ہاتھ کو اوپر کی طرف بڑھایا اور ہوا میں لہراتے ہوئے سب جو دیکھایا کہ کایان کے ناخن نہیں تھے تو یہ تجسس والی بات تھی کہ شنائل کے کہنے کے مطابق تو یہ زخم کایان کے ناخنوں کے ہیں۔۔۔۔۔ جبکہ کایان کے ہاتھ کو دیکھتے ہوئے سب کو یہ یقین ہو گیا تھا کہ شنائل جھوٹی ہے!!!
” شرم آنی چاہئیے تمھیں شنائل !! دفع ہو جاؤ تم یہاں سے اور کبھی بھی ہمیں اپنی شکل مت دکھانا !! سمجھی اب دفع ہو جاؤ !!! میری ہی غلطی ہے کہ تمھیں اس حویلی میں رہنے کی اجازت دے دی میں نے “
کایان کے بے گناہی جیسے ہی ثابت ہوئی تو شہزاد ملک نے غصے سے شنائل سے کہا کہ وہ یہاں سے چلی جائے!!! اور کبھی لوٹ کر واپس نا آئے۔۔۔۔
” ابھی تو میں جا رہی ہوں۔۔۔!! لیکن یہ مت سمجھنا کہ میں کبھی واپس نہیں آؤں گی میں لوٹ کر ضرور آؤ گی۔۔۔۔!! “
شنائل کو معلوم تھا کہ وہ اب کچھ بھی نہیں کر سکتی ہے۔۔۔۔ کیونکہ اس کا بھید سب پر عیاں ہوچکا تھا۔۔۔۔۔ سب لوگ اس کی حقیقت سے آشنا ہو چکے تھے۔۔۔۔۔ کوئی بھی شخص وہاں ہر ایسا موجود نہیں تھا جو اس ہر یقین کرتا ہو۔۔۔۔!!
اسے تقریباً یہاں پر موجود چھ گھنٹے ہو چکے تھے۔۔۔۔۔! لیکن ابھی تک کوئی بھی اسے بچانے نہیں آیا تھا۔۔۔ نا ہی اس ستم گر کو اس پر ترس آیا تھا۔۔۔۔ اسے شدید بھوک لگی تھی پر وہ صبر کیے بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔!!
جب ہی کمرے کا دروازا کھولا گیا اور سامنے سے ہی زریر انوشا نے لیے کھانا لے کر اندر کی جانب بڑھا!! اسے دیکھتے ہی انوشا کو شدید غصہ آیا۔۔۔۔!!
” یہ لو کھانا کھا لو !! کہیں واقع نا مر جانا !! “
اس کے سامنے کھانا رکھتے ہوئے زریر نے کہ وہ کھانا کھا کے ورنہ کہیں حقیقت میں ہی بھوک سے مر نا جائے !! جس پر انوشا طنزیہ مسکرائی!!!!!
” کیوں زریر عباس ؟ تمھارے دل میں خوف ہے ؟ تمھیں ڈر ہے ؟ ہمم ؟ کیا تمھیں ڈر ہے کہ کہیں میں واقع مر گئی تو دادا جان کو کیا جواب دو گے ؟؟؟؟ “
انوشا نے طنزیہ مسکراتے ہوئے طنزیاتی لہجے میں ہی اسے ڈرانے کی کوشش کی پر وہ نہیں جانتی تھی کہ مقابل شخص ان دھمکیوں سے ڈر جائے گا !!
” مجھے خوف نہیں ہے کسی چیز کا بھی خوف نہیں ہے۔۔۔۔!! کسی بھی کا ڈر نہیں ہے کیونکہ کسی کو بھی معلوم نہیں ہے کہ تم میرے پاس ہو میری قید میں ہو !!!! تو تمھارے مرنے سے مجھے کیا فرق پڑے گا ؟ مرنا ہے تمھیں تو شوق سے مرو !! لیکن میں نے سوچا نا سوچنا تم کہ ہونے والے شوہر نے مرنے سے پہلے ایک مرتبہ پوچھا بھی نہیں “
زریر نے ایک مرتبہ پھر سے طنزیاتی لہجہ اپنایا،،، جس پر انوشا نے غصے سے اس سنگ دل کی طرف دیکھا۔۔۔۔ جسے کوئی بھی فرق نہیں پڑ رہا تھا۔۔۔۔
” یہ لو پانی پیو “
زریر نے ایک جانب کانچ کا گلاس جس میں پانی تھا اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا جس پر انوشا نے غصے سے اسے گھورا۔۔۔۔۔ پر گلاس کو چھوا تک نہیں۔۔۔۔۔ جبکہ اگلے ہی لمحے زریر نے زبردستی وہ گلاس اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔۔۔۔
انوشا نے غصے سے وہ پانی اس کے چہرے پر انڈیل دیا اور اگلے ہی لمحے ہی اس کانچ کے گلاس کو زمین پر زور سے دے مارا جس وجہ سے وہ کانچ کا گلاس ریزہ ریزہ ہو گیا۔۔۔۔
” خود پی لو !! “
انوشا نے طنزیہ مسکراہٹ لیے ہوئے کہا تو زریر کا غصے سے برا حال ہو گیا۔۔۔ دل تو کیا کہ اس کا خشر بگاڑ لیکن پھر غصے ہر قابو پاتا ہوا مسکرایا۔۔۔۔
” ایک اور ٹھنڈے پانی کا گلاس بھجواتا ہوں۔۔۔۔!! تا کہ تم ٹھنڈے دماغ سے سوچ سکو کہ تمھیں کیا فیصلہ کرنا ہے ؟ پوری زندگی یہی رہنا ہے یا مجھ سے نکاح کر کے جانا ہے یہاں سے سکون سے سوچ لو !! “
وہ مسکرا کر کہتا ہوا کمرے سے نکلتا ہوا انوشا کے غصے کو ایک مرتبہ پھر سے سوا نیزے پر پہنچا گیا۔۔۔۔
