Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt NovelR50484 Aseer E Mohabat (Episode - 45)
Rate this Novel
Aseer E Mohabat (Episode - 45)
Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt
زریر اور انوشا دونوں نے اس گاڑی کو حیرانگی سے دیکھا۔۔۔
اس سے پہلے زریر گاڑی وہاں سے نکالتا ان کے چاروں اطراف گاڑیاں آ رکی تھی۔۔۔۔!! زریر کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔۔۔ جبکہ انوشا کا دل گھبرا گیا تھا!!! ان گاڑیوں نے ان دونوں کو چاروں طرف سے گھیر لیا تھا۔۔۔! وہ دونوں انھیں دیکھ رہے تھے۔۔۔
” زریر دھیان سے “
زریر گاڑی سے اترنے لگا تھا۔۔۔ جب ہی انوشا نے گھبرائے نے ہوئے لہجے میں اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے تاکید کی۔۔۔۔!!
” گاڑی سے مت اترنا انوشا “
وہ آنکھوں میں سرخی لیے ہوئے اسے تاکید کرتا اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ سے ہٹاتے ہوئے سرد مہری سے بولا۔۔۔ اس کا غصہ دیکھتے ہوئے انوشا کا دل گھبرا سا گیا تھا۔۔۔۔
وہ جیسے ہی گاڑی اترا تو اسی وقت گاڑی کے چاروں اطراف سے مختلف جسامت کے آدمی بھی نکل آئے تھے!!
” کون ہو تم لوگ ؟ اور کیوں روکا ہے تم لوگوں نے ہمارا راستہ ؟؟؟؟ “
وہ ان سب کے سامنے آ رکا تھا۔۔۔۔ وہ تقریباً آٹھ سے دس آدمی تھے پھر بھی اس کے دل میں خوف کی ایک لہر بھی پیدا نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔!!! زریر نے اسی غصے سے بھرپور لہجے میں اس سے سوال کیا وہ سارے آدمی اس کے گرد دائرہ بنا کر کھڑے تھے۔۔۔۔!!!
” ہمیں تم سے کوئی بھی مطلب نہیں ہے؟؟ اور نا ہی ہم نے تمھارا راستہ تمھاری وجہ سے روکا ہے۔۔۔!! ہمیں صرف اس لڑکی سے مطلب ہے۔۔۔!!! ہم اسے اپنے ساتھ لے کر جانا چاہتی ہیں۔۔۔ اور اگر تم نے اسے ہمارے حوالے نہیں کیا تو گن لینا ہمیں!! بس تم ہمیں وہ گاڑی میں بیٹھی ہوئی لڑکی دے دو قسم سے پھر دیکھنا ہم تمھیں ہاتھ بھی نہیں لگائیں گے۔۔۔!!!! “
ان میں سے ایک آدمی جس کی اچھی خاصی جسامت تھی وہ اس کے سامنے آ رکا تھا۔۔۔!!! لیکن اس کے منھ سے ایسی واحیات بکواس سنتے ہوئے زریر اپنا آپا کھو بیٹھا تھا اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے اس کے چہرے پر ایک زور دار پنچ اس کے منھ پر مارا تھا۔۔۔! وہ شخص درد سے کراہتا ہوا ایک طرف لڑکھڑایا تھا۔۔۔!!!!
” تمھاری ہمت کیسے ہوئی ایسی بات بھی منھ سے نکالنے کی ؟؟ جانتے نہیں ہو تم کہ وہ کون ہے ؟؟ بیوی ہے وہ میری !!!! “
زریر کا دل نہیں بھرا ایک پنچ سے۔۔۔؟؟ اس نے اس شخص کا کالر پکڑتے ہوئے ایک مرتبہ پھر سے دو چار سے پانچ اس شخص کے چہرے پر مارے تھے۔۔۔ جس کی وجہ سے اس شخص کا لبوں کے کنارے سے خون رسنا شروع ہو چکا تھا۔۔۔۔
اپنے دوست کی یہ حالت دیکھ وہاں پر موجود باقی اشخاص اپنی جگہ پر کھڑے نہیں رہے تھے۔۔۔۔ بلکہ وہ بھاگتے ہوئے زریر کی طرف بڑھے تھے۔۔۔!
کیونکہ وہ اتنا تو سمجھ گئے تھے کہ اگر وہ علیحدہ علیحدہ اس پر حملہ کریں گے تو اسے کبھی بھی نہیں شکست نہیں دے سکیں گے۔۔۔ اگر وہ مل کر حملہ کریں گے تو شائید وہ اس پر قابض ہو سکیں گے !!!
ان سب کو اس کی طرف بڑھتا ہوا دیکھ کر انوشا بھی ڈر سی گئی تھی اسے سمجھ نہیں آئی کہ وہ کیا کرے۔۔۔؟ اسے خوف آرہا تھا یہ سب دیکھ کر!!! سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آخر وہ لوگ ہیں کون ؟؟ کیوں انھوں نے ان کا راستہ روکا تھا اور اب یہ سب ؟؟
وہ مزید یہ سب کچھ دیکھ نہیں پائی تھی اسی وجہ سے وہ فوراً گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے گاڑی سے اتری تھی۔۔۔!!!
ان میں سے دو آدمی جس میں نے سے ایک کافی موٹا تھا اور دوسرا نارمل جسامت کا موقع ملتے ہی انوشا کی طرف بڑھے تھے۔۔۔! جبکہ زریر باقیوں سے نمٹنے میں مصروف تھا۔۔۔! وہ ایک ایک کر کے ان کی دھلائی کرنے میں مصروف تھا۔۔۔۔
ان کو اپنی طرف بڑھتا ہوا دیکھ کر انوشا کے ذہن میں وہ ٹرینگ گھومی تھی جو اس کے بابا نے اسے کئی مرتبہ سیکھائی اور بتائی تھی۔۔۔۔!!! اس کی طرف وہ موٹا آدمی بڑھ رہا تھا۔۔۔
جیسے ہی وہ انوشا کے قریب پہنچا تو انوشا نے بغیر دیر لگائے ہوئے اس کے پیٹ میں ٹانگ ماری جس کی وجہ سے وہ موٹو شخص زمین بوس ہوا تھا۔۔۔ سانس اسے پہلے ہی بہت چڑھا ہوا تھا۔۔۔ اب اس حملے سے اس کا اٹھنا مشکل ہو گیا تھا۔۔۔!!!
وہ دوسرا شخص جو اس کی طرف بڑھ رہا تھا اپنے اس ساتھی کا یہ حال دیکھتے ہوئے ٹھٹک کر وہی کھڑا ہو گیا تھا۔۔۔!!! کیونکہ اس کے ذہن میں صرف ایک کی خیال آیا تھا ” اس کا یہ حال ہے تو میرا کیا ہو گا ؟؟؟”
لیکن وہ ان باتوں کو اگنور کرتا ہوا انوشا کی طرف بڑھا تھا انوشا اپنے پرس کی چین نکالتے ہوئے آنکھیں بند کرتے ہوئے اپنی پوری قوت لگا کر وہ بین اس کے جسم پر پھیری تھی۔۔۔ چین اس قدر زور سے لگی تھی اس آدمی کے شرٹ پر خون کے چھینٹے نمایاں ہوئے جو اس کے جسم سے بہے تھے۔۔۔!!!
” آہ “
س
اس شخص نے ایک زور دار چیخ ماری تھی۔۔۔۔ جس سے وہاں کھڑا ہر شخص اس کی طرف متوجہ ہوا تھا۔۔۔ انوشا کو خود امید نہیں تھی کہ اسے اس قدر چوٹ لگ جائے گی۔۔۔!!! زریر نے اپنے سامنے کھڑے شخص کے چہرے پر طرف پنچ مارتے ہوئے اس کی طرف دیکھا تو حیران رہ گیا۔۔۔!
ان دونوں شخص کی یہ حالت ان کی بیوی ” انوشا زریر ” نے کی تھی۔۔۔!!! اسے لگتا تھا کہ وہ تو بس اس کے سامنے بہادر بننے کی ایکٹنگ کرتی ہے لیکن آج اسے معلوم ہو گیا تھا کہ وہ واقع ہی بہت بہادر ہے۔۔۔!!! زریر نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔
” واہ بیوی مجھے تو آج پتہ لگ رہا ہے کہ تم واقع ہی بہت بہادر ہو۔۔۔!!! “
زریر نے آنکھ ونک کرتے ہوئے اس کو اپنی طرف متوجہ کرواتے ہوئے کہا۔۔۔!!! تو انوشا فخریہ انداز میں مسکرائی۔۔۔!!! ان دونوں نے وہاں پر موجود ہر شخص کی اچھی خاصی دھلائی کر دی تھی۔۔۔!! وہ لوگ اپنی جگہ پر کھڑے رہنے کے قابل بھی نہیں بچے تھے۔۔۔ انوشا کی چین کافی کام آئی تھی ان کے۔۔۔!
” میرے ساتھ رہ رہ کر کافی بہادر کو گئی ہو “
زریر اس کی طرف آتا ہوا مسکرا کر بولا۔۔۔!!
” ایسا کچھ بھی نہیں ہے میں پہلے سے ہی بہت بہادر ہوں “
وہ طنزیہ کہتی ہوئی فخریہ مسکرائی تو وہ دونوں گاڑی کی طرف بڑھے۔۔۔!!! زریر گاڑی وہاں سے نکالتا ہوا گھر کی طرف بڑھا اسے تین سے چار چوٹیں بھی آئی تھی لیکن زیادہ مسئلے کی بات نہیں تھی۔۔۔ اسے بس یہ پتہ لگوانا تھا کہ کس کی اتنی ہمت تھی کہ اس نے زریر عباس سے پنگا لینے کی کوشش کی تھی!!!!
ان کی جاتے وہی اس سنسان راستے پر موجود ہی درخت کے پیچھے سے ایک آدمی ان تمام آدمیوں کی طرف آیا۔۔۔ اس شخص نے ان کی طرف غصے سے دیکھا تھا۔۔۔
” کسی کام کے نہیں ہو تم لوگ۔۔۔ نا لائقوں تم لوگوں سے ایک کام بھی ڈھنگ سے نہیں ہوا ؟؟ وہ دو لوگ تم لوگوں سے سنبھالے نہیں گئے۔۔۔۔؟؟؟ جاہلوں “
وہ غصے سے ان پر چلایا تھا۔۔۔۔!!! وہ ان کا باس تھا۔۔۔ جو اتنا بوڑھا بھی نہیں تھا۔۔۔۔!!!! جوان ہی تھا ابھی۔۔۔!! اس کی آواز سنتے ہی وہ سارے آدمی چاہے جس بھی حالت میں تھے درد میں تھے، کراہ رہے تھے ، خون سے لت پت تھے , کھڑے ہوئے تھے اپنی جگہوں پر۔۔۔!!
چاہے لڑکھڑا ہی رہے تھے۔۔۔
” اس لیے کھلا کھلا کر تم لوگوں کو موٹا کیا ہے ؟؟ اس لیے تم لوگوں کو پیسے دیتا ہوں ؟؟ کہ تم لوگوں سے اگر کوئی بھی کام کہو تو وہ پورا بھی نا کر سکو تم !!! دفع ہو کو جاؤ یہاں سے اور جاؤ جا کر اپنی مرہم پٹی کرواؤ !!! “
وہ غصے ایک مرتبہ پھر سے ان سب آدمیوں پر غرایا تھا۔۔۔!!! اس کے حکم کی تکمیل کرتے ہوئے ہوئے وہ سب وہاں سے نکلے تھے۔۔۔ اور ان کا باس بھی اپنی گاڑی میں نکل چکا تھا۔۔۔ اس نے بہت مشکل سے اپنے غصے پر قابو پایا تھا!!!
رات کے تقریباً گیارہ بجے کے قریب وہ لوگ حویلی سے شہر اپنے گھر پہنچے تھے۔۔۔۔ حماد کی والدہ اور وہ اسما کو درمیان میں لیے ہوئے چل رہے تھے۔۔۔۔!!!!!
جیسے ہی اس بڑے گھر کا صدر دروازا کھلا تو ان تینوں پر گلاب کے پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئی۔۔۔۔!!!! اور دروازے سے ہی ایک راہ نکالی گئی تھی جو خاص ان دونوں کے لیے ان کی والدہ نے بنوائی تھی۔۔۔۔!!!
اس سب خوبصورت منظر کو دیکھ کر اسما کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی تھی۔۔۔!! وہ بہت خوش ہو گئی تھی یہ سب دیکھ کر۔۔۔ اور یہ ساری تیاریاں حماد کی امی کے کہنے پر گھر کے ملازمین نے کی تھی۔۔۔۔۔”
” آج ایک مرتبہ پھر سے سارے رکھوں، تکلیفوں، ماضی کی تلخیوں کو بھلاتے ہوئے گھر میں داخل ہو تم دونوں!!!! اس عزم کے ساتھ کبھی ایک دوسرے سے دور نہیں ہو گے تم دونوں۔۔۔۔!!! “
حماد کی والدہ نے مسکراتے ہوئے ان دونوں سے کہا تو وہ بھی مسکراتے ہوئے سر ہاں میں ہلا گئے تھے۔۔۔! حماد نے اسما کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا تھا تا کہ وہ اس کا ہاتھ تھام سکے۔۔۔! اسما نے مسکراتے ہوئے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔۔۔۔!!! جس پر وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ قدم ملاتے ہوئے گھر کے اندر داخل ہوئے تھے۔۔۔۔!!!
پھولوں کی بھرمار میں وہ دونوں گھر میں داخل ہوئے تھے۔۔۔۔!!! اور کچھ دیر سارے ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے رہے لیکن پھر رات کافی ہو جا نے کی وجہ سے اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تھے۔۔۔۔!!!
ان کی زندگیوں میں خوشحالی پھر سے لوٹ آئی تھی۔۔۔! ان کی زندگی میں خوشیاں چھا گئی تھی۔۔۔
جب ہی گھر کے کھلے گیٹ سے کوئی قدم بڑھاتا ہوا گھر میں داخل ہوا۔۔۔!!!!
” کبھی نہیں !!! کبھی بھی یہ آمنہ تم دونوں کو ایک نہیں ہونے دے گی!!! کبھی خوش نہیں رہ پاؤ گے تم۔۔۔!!!!
حماد صرف آمنہ کا کے۔۔۔!!! آمنہ کا اور اگر وہ آمنہ کا نہیں ہو سکتا تو آمنہ اسے کسی اور کا نہیں ہونے دے گی “
رات کی تیز ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں۔۔۔!! جن کی وجہ سے اس کے جسم کی کالے رنگ کی چادر اس کے چہرے کو عیاں کر رہی تھی!!! وہ کوئی اور نہیں بلکہ آمنہ ہی تھی۔۔۔! جو ایسا کہہ رہی تھی۔۔۔!!! وہ اپنے کل کے کام کو سر انجام دینے کے لیے گھر کی پچھلی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔!!!
کایان کپڑے بدلتا ہوا کمرے میں داخل ہوا تو ازا کو سونے کے لیے بستر کی طرف جاتا ہوا پایا۔۔۔۔!!!! ازا ابھی تک اس کی وہ حرکت بھولی نہیں تھی۔۔۔۔!! وہ اب بھی اس پر غصہ تھی۔۔۔۔!! کہ اسے زرا بھی احساس نہیں ہے اس کا جو اس طرح کا مزاق کیا تھا کایان نے ازا کے ساتھ !!!
” ازا !! “
کایان نے اسے پکارہ۔۔۔۔!! مگر ازا کی طرف سے کوئی بھی جواب موصول نہیں ہوا تھا۔۔۔!!! وہ اسے فل اگنور کرتے ہوئے بیڈ کی طرف بڑھتی ہوئی ایک طرف لیٹ گئی تھی۔۔۔
کایان نے اسے گھور کر دیکھا جو ناراض بیٹھی ہوئی تھی اور مسکراتے ہوئے بیڈ کی طرف بڑھتا ہوا اس کی طرف لپکا۔۔۔
” کب تک ناراض رہیں گی ؟؟ “
کایان نے شرارتی لہجے میں سوال کیا۔۔۔
” جب تک میرا دل کرے گا “
اس نے منھ بنائے ہوئے کہا۔۔۔
” آپ کا دل تو میرے لیے دھڑکتا ہے !! تو پھر یہ مجھ سے ناراض نہیں ہو سکتا۔۔۔!!! تو آپ کیسے کہہ سکتی ہیں کہ آپ کا جب تک دل کرے گا مجھ سے ناراض رہیں گی ؟؟ “
وہ پیار بھرے لہجے میں کہتا ہوا اسے اپنی طرف دیکھنے پر مجبور کر گیا تھا۔۔۔
” میں نے کب کہا ؟؟ “
ازا نے سوال کیا !!!
” ارے۔۔۔!!! اس میں بتانے کی کیا ضرورت ہے ؟ میں جانتا ہوں کہ آپ کا دل صرف میرے لیے ہی دھڑکتا ہے جب بھی میں آپ کے قریب آتا ہوں۔۔! آپ کے دل کی دھڑکنیں ہی مجھے بتا دیتی ہیں آپ سے پوچھنے کی کیا ضرورت ؟ “
وہ اس کے قریب ہوتا ہوا اس کی کمر کے گرد بازو حائل کرتا ہوا اس کی پشت کو بیڈ سے لگاتا ہوا خود اس پر جھکا تھا۔۔۔!! ازا نے اسے سنجیدگی سے دیکھا۔۔۔
” ایسا کچھ بھی نہیں ہے “
وہ رخ پھیرتی ہوئی بولی اور اس کی قید سے نکلنے کے لیے مچلنے لگی لیکن ایسا ممکن نا ہو سکا۔۔۔!!! اس کی گرفت بہت مضبوط تھی۔۔۔
” دیکھ لیجئے گا۔۔۔!! اس بات کا جواب تو ابھی بھی آپ کی دل کی تیز ہوئی دھڑکنیں با خوبی دے رہی ہیں۔۔۔”
وہ مسکرا کر کہتا ہوا پیچھے ہوا تو ازا فوراً اٹھ کر بیٹھ گئی تھی جیسے نا جانے کونسی قید سے اس کی جان بچی ہو۔۔۔ وہ اپنی سانس بحال کر رہی تھی۔۔۔!! جب ہی کایان نے اسے تنگ کرتے ہوئے کہا۔۔۔!!!
” کایان مجھے تنگ مت کریں ورنہ “
وہ چڑ کر بولتی ہوئی کچھ کہتی کہتی رک گئی۔۔۔!!
” ورنہ کیا ؟؟ “
کایان نے آنکھیں اچکاتے ہوئے کہا۔۔۔!!
” یہ تو انصافی ہے ازا ایک تو میں آپ کو منانے کی کوشش کر رہا ہوں۔۔۔!! اور آپ مان ہی نہیں رہی۔۔۔! اب مجھے لگتا ہے کہ آپ کو مجھے اپنے طریقے سے ہی منانا پڑے گا۔۔۔”
وہ معصوم منھ بناتے ہوئے کہتا ہوا اس کا پارا ہائی کروا گیا تھا۔۔۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ بھی کہتی کایان اس پر قابض ہو گیا تھا۔۔۔!!!!
