Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt NovelR50484 Aseer E Mohabat (Episode - 33)
Rate this Novel
Aseer E Mohabat (Episode - 33)
Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt
رخصت ہونے کے بعد وہ اپنے شوہر کے سجے ہوئے کمرے میں بیڈ پر لہنگا پھیلائے ہوئے بیٹھی تھی۔۔۔۔ کمرے میں لگے گلاب کے پھولوں کی سے اٹھتی ہوئی اس کی نتھ کو چھو رہی تھی۔۔۔۔!!
پھولوں کی دلفریب مہک اسے مہکا رہی تھی!!! سیٹ اپ اس قدر خوبصورت تھا کہ وہ پل بہ پل اسے دیکھتے ہوئے مسکرا رہی تھی۔۔۔۔۔۔!!!!!!
انھی لمحات کے دوران کمرے کا دروازا کھولتے ہوئے آتش کمرے میں داخل ہوا تھا!! وہ دروازہ کھولتے ہوئے چار پانچ قدم اندر کی طرف آیا۔۔۔!!!
پھر وہی رکتا ہوا نظریں اٹھا کر سامنے بیٹھی اس حسن پری کو غور سے دیکھنے لگا۔۔۔۔ جو دلہن کے جوڑے میں بیٹھی ہوئی بہت زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔۔
آتش کی آنکھوں کے سامنے اس کے اور اپنے گزرے ہوئے لمحات کسی فلم کی طرح دوڑے تھے!! وہ فاریہ کے غصے، اس کے لہجے، اس کے پیار، سب کو یاد کرتا ہوا مسکرایا تھا!!!
کچھ لمحات تک وہ دونوں ایک دوسرے کو یونہی دیکھتے رہے پھر آتش نے آہستگی سے کمرے کا دروازا بند کیا اور اس کی طرف بڑھا !!!
اس کے قریب جاتا ہوا وہ اس کے پاس بیڈ پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔ اور ایک عجب سی ہی مسکراہٹ لیے ہوئے اسے دیکھا۔۔۔۔
” تو آج وہ دن آ ہی گیا جس کا مجھے شدت سے انتظار تھا!!! آج سے آپ میری ہیں آتش کاظمی کی۔۔۔۔!!! “
آتش نے مسکراتے ہوئے فاریہ کا ہاتھ پکڑا تھا!! اور اس کے ہاتھوں کو اپنے لبوں سے جوڑ گیا۔۔۔ فاریہ کے چہرے پر بھی ہلکی سی مسکراہٹ رونما ہوئی۔۔۔!!!
جب ہی اس نے اپنی شیروانی کے اندرونی حصے سے ایک خوبصورت لاکٹ کا ڈبہ نکالا۔۔۔۔ اور اس میں سے ایک چمکتا ہوا لاکٹ آگے بڑھتے ہوئے آہستگی سے اس کے گلے میں پہنایا تھا۔۔۔۔”
” بہت پیارا ہے !!! “
فاریہ نے اپنی نرم و نازک انگلیاں اس لاکٹ پر پھیرتے ہوئے مسکرا کر آتش سے کہا تو وہ ہلکا سا مسکرایا!!!
” اس کی خوبصورتی آپ کی خوبصورتی کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے فاریہ جی !!! آپ کے حسن کے سامنے یہ لاکٹ بھی کالا دیکھائی دیتا ہے۔۔۔۔!!! “
وہ پر سکون سے لہجے میں کہتے ہوئے اس نے آگے بڑھ کر فاریہ کے گالوں کو چوما اور آہستگی سے پیچھے ہوئے۔۔۔
” آپ نے لاکھ منع کیا تھا!!! کہ آپ مجھ سے شادی نہیں کریں گے۔۔۔۔!!! لیکن دیکھ لیں آج آپ خود میرے ساتھ رخصت ہو کر آئی ہیں۔۔۔۔!!! میری دسترس میں ہیں آپ اور آج ہمیں ایک ہونے سے کوئی بھی نہیں روک سکتا !!! “
اس نے ایک مرتبہ پھر سے اطمینان کے ساتھ مسکراتے ہوئے اسے بتایا کہ اس کے لاکھ منع کرنے کے باوجود بھی آج وہ خود اس کے ساتھ شادی کر کے اس گھر میں آئی۔۔۔
اپنی بات مکمل کرتا ہوا وہ آہستگی سے اس کے لبوں پر جھکا تھا!!! کچھ دیر خود کو سیراب کرنے کے بعد آتش پیچھے ہوا اور پھر اس پر مکمل طور پر قابض ہو گیا۔۔۔
باہر ڈھلتی ہوئی گہری رات میں بالآخر دو لوگ مل کر ایک ہوئے تھے۔۔۔۔!!!!!!!
” تم ؟ اب تم یہاں کیوں آئے ہو ؟ “
انوشا جب سے کمرے میں آئی تھی اس وقت سے اس نے وہی جوڑا پہن رکھا تھا جو وہ شادی پر پہن کر گئی تھی۔۔۔۔۔ اسے اس قدر شرمندگی محسوس ہو رہی تھی کہ دادا جان اس کے بارے میں کیا سوچیں گے۔۔۔۔!!!!!
جب ہی اور دروازے پر دستک دینے کی آواز سنائی دی،،، وہ سمجھ گئی تھی کہ یہ کوئی اور نہیں بلکہ زریر ہی ہو گا!!! اس نے دروازہ نا کھولا۔۔۔۔!!!
زریر جو کب سے دروازا کھٹکھٹا کر تھک چکا تھا اب اس نے انوشا کے کمرے میں جانے کے لیے ایک الگ راہ تلاش کی تھی۔۔۔۔!!! وہ گھر کی پچھلی طرف سے ہوتے ہوئے اس کی بالکونی سے اس کے کمرے میں آیا۔۔۔۔!
” تم دروازہ کیوں نہیں کھول رہی تھی ؟؟؟ “
ماتھے پر تیوری چڑھائے ہوئے اس نے انوشا سے پوچھا کہ وہ دروازہ کیوں نہیں کھول رہی تھی۔۔۔۔ انوشا نے غصے سے اسے دیکھا!!!
” کیوں ؟؟ اب بھی کچھ بچا ہوا ہے ؟؟ اب بھی کچھ مزید برا کرنا ہے تمھیں بولو ؟؟ اتنا سب کچھ کرنے کے باوجود بھی تمھیں سکون نہیں آیا ؟ تمھاری وجہ سے دادا جان کے سامنے میری کیا عزت رہ گئی ہے !!! کیا سوچتے ہوں گے وہ میرے بارے میں “
اس کی بات سنتی وہ طیش میں آتی بولنے پر آئی تو بولتی چلی گئی۔۔۔۔!! زریر جو اس کی باتوں پر زرا بھی غصہ نہیں آیا تھا۔۔۔۔!! کیونکہ وہ سمجھ سکتا تھا کہ اس وقت وہ غصے میں ہے۔۔۔ اور اس کا غصہ ہونا بنتا بھی تھا!!!
” وہ تمھارے بارے میں یہی سوچ رہے ہوں گے تم میری بیوی ہو۔۔۔۔۔!!!! “
زریر نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر کہا تو انوشا نے حیرانگی سے اسے دیکھا کہ اتنا سب کچھ ہو جانے کے باوجود بھی وہ مسکرا رہا تھا !!!
” تمھیں ہنسی آ رہی ہے ؟ اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی ؟؟ میری ہی قسمت خراب تھی کہ تمھارے کہنے پر میں نے اپنے ہاتھ پر تمھارا نام لکھوا لیا۔۔۔۔۔!!! غلطی تو شائید میری ہی تھی”
انوشا نے حیرانگی سے اسے دیکھتے ہوئے کہا اور آخری جملے ادا کرتی ہوئی وہ نظریں گھما سی گئی تھی۔۔۔۔!!!!
” ارے ہاں !!! وہ تو مجھے یاد ہی نہیں رہا کہ تم نے تو میرا نام بھی اپنے ہاتھ پر لکھوا کر رکھا ہے !!! بلکہ تم نے تو صرف نام ہی نہیں اس کے ساتھ ساتھ اور بھی کچھ لکھوایا ہے جسے سننے کے لیے میں ترس رہا تھا۔۔۔
پر خیر کوئی بات نہیں ہے۔۔۔۔!!!! میں یہ پڑھ کر ہی کام چلا لوں گا۔۔۔۔”
زریر نے اس طرح بات کہی تھی کہ جیسے یہ بات اس کے ذہن سے ہی نکل گئی ہو کہ انوشا نے اپنے ہاتھ پر یہ لکھوایا ہے کہ وہ اس سے محبت کرتی ہے!!!
اس نے مسکراہٹ چھپاتے ہوئے کہا جبکہ انوشا نے غصے سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔ زریر نے اس کا وہ ہاتھ تھاما جس پر اس نے وہ سب لکھوایا تھا اور اس کا ہاتھ اپنی سامنے کیا جب ہی انوشا نے غصے سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑوایا تھا۔۔۔۔!!!
” تمھیں یہاں مزاق کرنے کی سوجھ رہی ہے ؟؟ میں سریس ہوں۔۔۔۔!!! “
انوشا نے غصے سے اپنا ہاتھ پیچھے کیا۔۔۔۔زریر ہلکا سا اس کی بات سنتا ہوا مسکرایا !!!!
” مزاق کے موڈ میں میں بھی نہیں ہوں !!! سریس ہوں میں “
زریر نے اس کے دونوں بازوؤں پر اپنے ہاتھ رکھتے ہوئے خمار آلود لہجے میں کہا تو انوشا نے اسے گھور کر دیکھا!!!
” دور رہ کر بات کرو مجھ سے سمجھے “
انوشا نے اسے پیچھے کی طرف دھکیلتے ہوئے کہا۔۔۔
” آکے میڈیم !! آپ کے قریب میں ویسے بھی شادی کے بعد ہی آؤ گا۔۔۔۔!!! “
اس کی طرف آنکھ دبا کر کہتا ہوا وہ بولا تو انوشا کا چہرہ شرم سے سرخ پڑ گیا۔۔۔۔!!!
” ہمارے لیے اتنی بڑی برابلم ہو گئی ہے اور تمھیں ان فضول باتوں کی پڑی ہے۔۔۔۔!!! “
انوشا نے اسے گھورتے ہوئے کہا!
” پہلی بات!!! کہ میری یہ باتیں فضول نہیں ہیں !!! یہ میری دل کی پکار ہیں۔۔۔۔۔!!! اور دوسری بات یہ کہ تمھیں دادا جان کی طرف پریشان ہونے کی کوئی بھی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔
انھیں میں اپنے طور پر ہر بات سمجھا چکا ہوں۔۔۔۔ وہ بس اس بات سے ناراض ہیں کہ ہم نے یہ بات انھیں پہلے کیوں نہیں بتائی ؟ کیوں چھپا کر رکھی !!!
باقی وہ اس رشتے کے خلاف کبھی بھی نہیں تھے !!! اور نا ہی کبھی وہ اس رشتے کے خلاف ہوں گے وہ تو ہمیشہ سے اس رشتے کے حق میں تھے!!!!
اور وہ یہی چاہتے تھے کہ ہم ایک ہو جائیں اور نکاح ہمارا ہو چکا ہے۔۔۔۔!!!! بس ہماری شادی ہونا رہ گئی ہے۔۔۔۔۔!! وہ بھی جلد ہی ہو جائے گی۔۔۔۔!
اب میری جان تم زیادہ فکر مت کرو !!! اور پر سکون ہو کر ریسٹ کرو !!!! “
زریر نے ایک لمبی گفتگو کرتے ہوئے اسے بتایا کہ وہ دادا جان کو اپنے طریقے سے سمجھا چکا ہے۔۔۔۔!!! اب انھیں اس رشتے سے کوئی بھی مسئلہ نہیں ہے !!!
وہ اپنی اور اس کی شادی کی تیاریاں کریں اور پر سکون ہو کر ریسٹ کریں۔۔۔۔ وہ آہستگی سے اس کے گال تھپھتھاتا ہوا کمرے سے نکل گیا تھا۔۔۔۔!
انوشا چہرے پر مسکراہٹ لیے ہوئے کپڑے چینج کرنے کی غرض سے واش روم کی طرف بڑھی تھی!!! اس دوران اس نے ایک مرتبہ پر لکھے ہوئے الفاظ پڑے تو وہ خود ہی شرما سی گئی تھی۔۔۔۔!!
سیاہ رنگ کی شلوار قمیض میں ملبوس وہ واش روم سے باہر نکلا تو نظر ٹھیک جا سامنے کھڑی ہوئی ربعیہ پر ٹکی تھی!!!
وہ جو سیاہ رنگ کی فراک پہنے ہوئے اور کندھوں پر ڈوپٹہ لیے ہوئے اپنے بال سنوارنے میں مصروف تھی۔۔۔۔!!!! شیشے میں اپنے پیچھے کھڑے اس ہینڈسم نوجوان کو دیکھتے اس کے ہاتھوں کی حرکت رک سی گئی تھی۔۔۔۔!!!
رہان کلائیوں تک آتے ہوئے قمیض کے بازو کے بٹن بند کرتے ہوئے اس کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔۔!!! ربعیہ اسے ہی دیکھ رہی تھی!!!
وہ سیاہ رنگ کی شلوار قمیض میں بہت ہی ہینڈسم دیکھائی دے رہا تھا!! رہان کی نظریں بھی اپنے سامنے کھڑی ہوئی، اپنے کندھوں تک آتی ہوئی لڑکی پر جا ٹکی تھی!
کالے رنگ کی فراک اور لائٹ میک میں وہ کسی ہیرے کی مانند چمک رہی تھی۔۔۔۔ رہان اب اس کے بالکل پیچھے کھڑا تھا۔۔۔۔!!!
ربعیہ کی نظریں اس وقت سے اس کر ہی ٹکی ہوئی تھی جب ہی رہان نے ڈریسنگ ٹیبل سے برش اٹھاتے ہوئے اپنے بال سنوارے تھے۔۔۔۔
” آپ ریڈی ہیں ؟؟ “
رہان نے آہستگی سے سوال کیا تھا!!!
” جی!!! “
ربعیہ نے سر ہاں میں ہلاتے ہوئے کہا۔۔۔
” واہ بھئی بڑی ہی جلدی ریڈی ہو گئی “
رہان نے حیرانگی سے کہا۔۔۔۔
” میں ان لڑکیوں میں سے نہیں ہوں جو تین تین گھنٹے لگاتی ہیں تیار ہونے میں!!! “
ربعیہ نے فخریہ لہجے میں کہا۔۔۔۔
” بہت اچھی بات ہے،،، اتنے کم وقت میں تیار ہو کر بھی آپ بہت خوبصورت لگ رہی ہیں۔۔۔۔۔!!! “
رہان نے اس کی تعریف کرتے ہوئے کہا تو وہ مسکرائی۔۔۔
” اور میں ؟ “
جب کچھ لمحوں تک ربعیہ نے کچھ بھی نا کہا تو رہان نے خود ہی اس سے سوال کیا کہ وہ کیسا لگ رہا ہے ؟؟
” بہت ہینڈسم”
وہ مسکراتے ہوئے بولی!!!
” ہم دونوں کی جوڑی بہت اچھی لگ رہی ہے ویسے “
رہان کی کہی ہوئی بات پر وہ ہلکا سا مسکرا گئی تھی!!! رہان اس کی شرمیلی مسکراہٹ پر کھلکھلا کر ہنسا تھا۔۔۔۔!!!
” چلیں ؟؟ “
کچھ دیر کے بعد ربعیہ نے کہا تو وہ سر ہاں میں ہلاتا ہوا پیچھے ہوا تھا ربعیہ مسکراتے ہوئے کمرے سے باہر کی طرف بڑھی تھی!!! اور رہان اس کے پیچھے۔۔۔ وہ دونوں ڈنر کے لیے باہر جا رہے تھے۔۔۔۔ یہ باہر جانے کا پلین بھی رہان کا تھا۔۔۔۔
کایان آفس سے واپس آیا تو سیدھا کمرے میں ازا کے پاس آ گیا۔۔۔!! کمرے میں پہنچا تو اسے پریشانی سے ادھر اُدھر چکر کاٹتے ہوئے پایا۔۔۔۔۔!!!!
” ازا کیا ہوا ؟؟؟ “
کایان اس کے چہرے کی پریشانی کو پھانپتا ہوا اس کے قریب گیا اور اس سے سوال کیا کہ وہ کیوں پریشان ہے کیا ہوا ہے اسے ؟
” کایان پتہ نہیں کیوں میرا دل بہت گھبرا رہا ہے !!! بہت عجیب سا محسوس ہو رہا ہے مجھے !!! جیسے کہ کچھ بہت ہی زیادہ برا ہونے والا ہو۔۔۔۔!!!
مجھے امی اور ابو کی بہت یاد آ رہی ہے کایان آپ پلیز مجھے ان کے پاس لے چلیں۔۔۔۔!! پلیز کایان !! “
ازا اس کی طرف مڑتے ہوئے بولنے لگی کہ اسے بہت ہی عجیب سا محسوس ہو رہا ہے۔۔۔۔!!! جیسے بہت کچھ ہی زیادہ برا ہونے والا ہو!!! اسے اپنے والدین کی بہت یاد آ رہی ہے وہ ان سے ملنا چاہتی ہے۔۔۔۔
ازا نے ضد پکڑی تھی!
” اچھا ٹھیک ہے ازا!!! آپ فکر مت کریں کچھ بھی نہیں ہو گا۔۔۔۔!!!! آپ کپڑے چینج کر لیں ہم پھر چلتے ہیں ان سے ملنے !!! “
کایان کو وہ بہت پریشان دیکھائی دی تھی وہ صبح بھی بہت زیادہ پریشان لگ رہی تھی اور اب بھی تو وہ اس کی بات کیسے ٹالتا ؟ اس نے ازا کو کہا کہ وہ کپڑے تبدیل کر لیں پھر وہ اسے اس کے والدین سے ملوانے کے لیے لے چلے گا۔۔۔۔!!! جس پر وہ سر ہاں میں ہلاتی ہوئی کپڑے چینج کرنے کے لیے چلی گئی تھی۔۔۔۔”
” ویسے اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہماری ازا کو کایان جیسا ہمسفر ملا۔۔۔۔ کایان بہت اچھا لڑکا ہے بہت خیال رکھنے والا لڑکا ہے “
عباس چوہدری جب سے ازا اور کایان سے ملے تھے تو وہ مطمئن ہو چکے تھے کہ ازا اپنے گھر میں خوش ہے کیونکہ اس کے نصیب میں اللہ تعالیٰ نے کایان کو لکھ دیا ہے۔۔۔۔
” آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں عباس میں خود بہت مطمئن ہوں ازا کی طرف سے۔۔۔۔!!! کایان اسے ہمیشہ خوش رکھے گا “
ان کی بیوی نرمین نے بھی ان کی بات میں ان کا ساتھ دیتے ہوئے کہا تو وہ مسکرائے !!!
” وہ تو کایان کے ساتھ خوش رہے گی اس کا پتہ نہیں لیکن تم لوگوں کے جانے کے بعد وہ دکھی ضرور ہو جائے گی “
ایک گرجتی ہوئی آواز جب ان کے کانوں میں پڑی تو وہ اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے!!!
” تم !!! “
عباس چوہدری نے حیرانگی سے سامنے کھڑے اس شخص کو دیکھا جو ان پر بندوق تان چکا تھا!!!
اس سے پہلے کے وہ کچھ بھی کہتے اس شخص نے بندوق چلائی اور اس میں سے نکلنے والی گولی سیدھا جا کر نرمین چوہدری کے سینے میں پیوست ہوئی تھی۔۔۔۔
” نرمین !! “
اتنے سالوں میں انھوں نے پہلی مرتبہ اپنی بیوی کو ان کے نام سے پکارہ تھا جو اس وقت درد سے کراہ رہی تھی۔۔۔۔!!! اس سے پہلے کہ عباس چوہدری ان کی طرف بڑھتے اس شخص کی بندوق سے نکلنے والی دوسری گولی ان کا سینہ چیر گئی تھی!!!!
” مجھے نہیں لگتا ہے کہ اس کے بعد تم دونوں زندہ بچو گے “
وہ بے رحم شخص عباس چوہدری کو زمین بوس ہوتا ہوا دیکھ کر طنزیہ بولا اور وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔
عباس چوہدری اور ان کی بیوی نرمین چوہدری درد کی شدت کو کافی دیر تک سہتے رہے مگر زیادہ دیر تک سہہ سکے اور اس فانی دنیا سے رخصت ہو گئے تھے!!!
ان کا بیٹا اس وقت یونیورسٹی میں تھا۔۔۔۔!!! شائید خدا نے ان کی زندگی یہی تک لکھی تھی۔۔۔۔!!!
ایک بیٹی کا دل اپنے ماں باپ کے لیے اسی وجہ سے گھبرا رہا تھا۔۔۔۔ یہی تھا وہ جو ازا کو لگتا تھا کہ کچھ برا ہونے والا ہے!!!
وہ دونوں وہی اسی جگہ آنکھیں موند گئے تھے!!!
