Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aseer E Mohabat (Episode - 36)

Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt

 ” کایان!! اس وقت اس ازا کے ماں باپ زندہ تھے!!! “

اس نے کایان کے سامنے بیٹھے ہوئے سنجیدگی سے کہا !!! تو کایان نے پریشانی سے اسے دیکھا!!! اور اسے گلے سے لگایا۔۔۔۔ اسے دلاسا دیا۔۔۔۔!!! جبکہ ازا کی آنکھوں میں آنسو پیدا ہوئے!! کایان نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تھا!!

” اور اس ازا کے ساتھ اس کا کایان ہے!!! “

کایان نے اسے خود سے جدا کرتے ہوئے اسے سامنے کیا اور اپنے انگوٹھوں کے پوروں سے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے اسے بتایا کہ چاہے اس ازا کے ماں باپ نہیں رہے!!! لیکن وہ اکیلی تو نہیں تھی اس کے ساتھ کایان تھا اب۔۔۔۔!!!

” اسی لیے تو زندہ ہوں!!! ورنہ شائید اب تک مر”

ازا نے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ سجائے ہوئے بولنا شروع کیا کہ وہ اس کی اپنے ساتھ ہونے کی وجہ سے ہی آج زندہ لیکن اگر وہ نہیں ہوتا تو شائید وہ بھی نا ہوتی!!!! اس نے آخری جملہ کہنا چاہا جب ہی کایان نے اس کے لبوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے خاموش کروا دیا تھا!!!!

” شش!!! خبردار جو آپ نے اپنے منھ سے اس قسم کی بات نکالنے کی کوشش بھی کی تو!!! “

کایان نے پریشانی سے کہا!!

” میں تھک چکا ہوں ازا۔۔۔۔ آپ کو یوں دیکھتے ہوئے آپ کی یہ حالت دیکھتے ہوئے۔۔۔۔ آپ کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے!!!

آپ جب ایسی باتیں کرتی ہیں تو آپ نے کبھی سوچا ہے کہ مجھ پر کیا بیتی ہو گی ؟؟ مرنے کا مقام ہوتا ہے میرے لیے!!! اور آپ !! آپ کتنی آسانی سے کہہ دیتی ہیں یہ سب ؟ آپ کو برا نہیں لگتا ؟

لیکن اب بس بہت ہو چکا ہے میں اب مزید یہ سب بالکل بھی برداشت نہیں کر سکتا میری بس ہو گئی ہے!!!!

مجھے نہیں پتہ مجھے میری پرانی والی ازا واپس چاہئیے!!! جو ہنستی تھی۔۔۔۔!!! جو مسکراتی تھی!!! جو ہر وقت باتیں کرتی تھی جس کے لبوں پر ہمیشہ مسکراہٹ کے سوا کچھ بھی دیکھائی نہیں دیتا تھا!!! مجھے وہ ازا واپس چاہئیے!!!! ازا آپ کے والدین جہاں کہیں بھی ہو نگے وہ آپ کو خوش دیکھ ا چاہتے ہوں گے!! لیکن اگر آپ یوں اداس خاموش، رہیں گی تو کیا وہ خوش ہو نگے ؟ “

کایان نے جب بولنا شروع کیا تو وہ ایک ایک موضوع کرتا ایک لمبی گفتگو میں مصروف ہو گیا تھا۔۔۔۔!!! اس نے ازا سے کہا کہ وہ اب مزید اس کی یہ روکھی باتیں بالکل بھی برداشت نہیں کر سکتا ہے!!

وہ سنجیدہ ہونے کی وجہ سے ایسی باتیں بھی کر دیتی تھی جس سے کایان کا دل بہت زیادہ دکھ جاتا تھا لیکن وہ بہت آرام سے وہ باتیں کر رہی ہوتی تھی جیسے کہ اسے کوئی فرق ہی نا پڑتا ہو!!!

بات کرتے ہوئے اس نے مطالبے کے طور پر ازا سے کہا کہ اسے وہ پرانی ازا واپس چاہئیے!!! جو خوشیوں میں رہتی تھی، ہر وقت ہنستی تھی، مسکراتی تھی، باتیں کرتی تھی نا کہ وہ جو سنجیدگی میں رہتی تھی۔۔۔۔!!! خاموش رہتی تھی، مسکرانا تو جیسے اسے آتا ہی نہیں تھا۔۔۔۔!!!!

اس کی بات سنتے ہوئے ازا اپنی نظریں جھکا سی گئی تھی۔۔۔

” بولیں ازا ؟ آپ بنے گی نا ویسے والی ازا ؟ “

اس کی جھکی نظروں کو دیکھتے ہوئے کایان نے اس سے سوال کیا تھا کہ کیا وہ اس کے لیے دوبارہ وہی والی ازا بنے گی؟؟

ازا بغیر کچھ بھی کہے ہوئے اپنا سر ہاں میں ہلا گئی، اور کایان کے چہرے پر مسکراہٹ پھیلا گئی۔۔۔

اس نے دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ کا لاکھ شکر ادا کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کایان جیسا خوبصورت تحفہ دیا تھا!!!

جو جانتا تھا کہ عورت کی عزت کیسے کرتے ہیں ؟ وہ ونی میں آئی تھی اس کی زندگی میں غصہ کرنا تو دور کی بعد کایان نے اسے کبھی بھی غصے کی نگاہ سے دیکھا بھی نہیں تھا!!! ہمیشہ اس کا خیال رکھا تھا۔۔۔۔!!!

ازا نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا!!! کایان اسے اپنے سینے میں بھینج گیا تھا۔۔۔”

” کتنے دنوں کے لیے جانا ہے آپ کو ؟ “

فاریہ نے شیشے کے سامنے کھڑے اس جینز کی پینٹ شرٹ میں ملبوس آتش جو اپنے بال بنا رہا تھا اس سے سوال کیا کہ وہ کتنے دنوں کے لیے جا رہا ہے!!!

آتش کو اچانک ایک کمپنی کی میٹینگ کی وجہ سے فیصل آباد تیں دن جانا پڑ گیا تھا!! فاریہ تھوڑی سی اداس تھی۔۔۔۔ یہ دو مہینے اس کے ساتھ کیسے گزر گئے اسے پتہ ہی نہیں چلے گا۔۔۔

” تین دن کے لیے!!! میری جان اگر مجھے یوں اچانک نا جانا پڑتا تو میں پکا آپ کو بھی ساتھ لے جاتا!!! “

پہلے آتش نے اسے بتایا کہ وہ فیصل آباد تیں دن کے لیے جا رہا ہے!!!! لیکن پھر اس کے اداس چہرے کی طرف دیکھتا ہوا وہ بھی کچھ لمحات کے لیے اداس ہو گیا تھا!!! فاریہ سے دور رہنا بہت مشکل تھا اس کے لیے!!

اس نے فاریہ کو بتایا کہ اگر اسے یوں اچانک نا جانا پڑتا تو وہ اسے بھی اپنے ساتھ لے جاتا!!

” ٹھیک ہے!!! آپ اپنا دھیان رکھیے گا !!! “

فاریہ نے کچھ سوچا اور پھر مسکراتے ہوئے اس نے آتش کو تاکید کی تھی کہ وہ اپنا دھیان رکھے!!!

” میں اپنا خیال رکھوں گا لیکن آپ نے مجھے روز دن میں چار مرتبہ ویڈیو کال کرنی ہے،،، میری صحت کے لیے وہ بھی بہت اچھا ہے۔۔۔۔۔!!!! “

آتش اس کی بات سن کر مسکرایا اور پھر اسے بھی تاکید کی کہ وہ اسے دن میں چار مرتبہ ویڈیو کال کرے گی!!

جس پر فاریہ نے اسے حیرانگی سے دیکھا!

” کہہ تو آپ ایسے رہے ہیں جیسے آپ تین دن کے لیے نہیں بلکہ تین سال کے لیے جا رہے ہوں!!! “

فاریہ نے مسکرا کر کہا تو وہ بھی ہلکا سا مسکرا گیا!!!

” یہ تین دن بھی میرے لیے تین سال کی طرح ہیں!!! “

لہجہ میں بھرپور سنجیدگی لیے ہوئے وہ بولا تو فاریہ کی نگاہیں اس کر ٹک سی گئی۔۔۔۔۔!!! وہ کافی دیر اسے دیکھتی رہی!!!

” ایسے مت دیکھیں مجھے فاریہ جی!!!! پھر میرا ایمان ڈگمگانے لگتا ہے!!! “

وہ بے باک لہجے میں کہتا ہوا اس کے چہرے پر سرخی طاری کر گیا تھا!!!!!

” آپ کو دیر ہو رہی ہے!!! “

فاریہ نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ نظریں گھما گیا جبکہ فاریہ کمرے سے باہر نکل چکی تھی!!! اور وہ بھی اپنا سوٹ کیس لیتا ہوا، چہرے پر مسکراہٹ لیے ہوئے کمرے سے باہر کی طرف بڑھ گیا تھا۔۔۔۔”

” چلو چلیں!!! “

انوشا کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے زریر نے اسے کہا کہ چلیں !!! تو وہ سمجھ نا سکی کہ کہاں چلیں ؟

” کہاں جانا ہے ؟ میرے پاس وقت نہیں ہے ابھی “

انوشا نے خود کو موبائل میں مصروف دیکھاتے ہوئے کہا۔۔۔۔!!!

” جانم !! آپ بھول رہی ہیں !!! کہ دو مہینے پہلے آپ نے کہا تھا کہ دو ماہ کے بعد شادی کرنی ہے آپ کو۔۔۔

اور دیکھو اب دو مہینے پورے ہو چکے ہیں۔۔۔ اور بھول گئی تم کہ پرسو ہماری مہندی ہے۔۔۔۔

اسی مہندی کی وجہ سے تو یہ شادی باسیبل ہوئی ہے! اب ہم ایک ہونے والے ہیں۔۔۔!!! اور اس کے لیے وقت نہیں ہے تمھارے پاس !!! یہ کیا بات ہوئی ؟ “

زریر کا ایک ایک اسے حیرانگی میں مبتلا کرتا گیا جبکہ زریر نے اپنی بات کو جاری رکھا !!!

” اور اس وقت تو تم نے بہانہ بنایا تھا کہ تم اپنی دوستوں کو بلانا چاہتی ہوں !!! اور اب تو وہ بھی آ گئی ہیں۔۔۔۔!

اب تم میری دسترس میں آنے کے لیے تیار رہو۔۔۔۔ ایک دفعہ شادی ہو گئی تو چن چن کر بدلے لوں گا تم سے !! “

زریر نے اسے کہا دو ماہ پہلے تو وہ یہ بہانہ بنا گئی تھی کہ وہ اپنی دوستوں کو بلانا چاہتی ہے لندن سے !!! لیکن اب تو اس کا وہ بہانہ ختم ہو چکا تھا کیونکہ اس کی ساری دوستیں پاکستان کے ہوٹل میں قیام پذیر تھی!!!

آخر میں وہ اسے لب چبا کر اسے کہہ گیا کہ اب وہ اس کی دسترس میں آنے کے لیے تیار ہو جائے!!! وہ اس سے ایک ایک کر کے سارے پرانے حساب پورے کرے گا!!!

اس کی باتیں سنتے ہوئے انوشا کا چہرہ کانوں تک سرخ پڑ گیا تھا!!! وہ فوراً اپنے بیڈ پر سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی!!

” تو اس میں کیا ہے ؟؟ میں پھر سے شادی تھوڑی ڈیلے کروا دیتی ہوں۔۔۔۔!!! “

اس کی باتیں سنتی ہوئی وہ طنزیہ مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔۔

” او ہیلو !! یہ شادی کوئی گڈے گڈی کو کھیل نہیں ہے سمجھی جب دل کیا آگے کر دی !!

اب کچھ بھی نہیں کو سکتا ہے شادی تو تمھاری مجھ سے ہی ہو گی!!! اور پرسو سے ہماری شادی کے فنکشنز شروع ہو رہے ہیں !!!

اب تم نے کوئی شاپنگ بھی نہیں کی ہے !!! چلو میرے ساتھ!!! “

زریر نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے اسے جتایا کہ اب وہ اس کا شوہر ہے اور اس سے شادی کرنے کے سوا اس کے پاس کوئی بھی آپشن نہیں ہے!!!!!

” جوتا تو پہن لینے دو “

وہ اسے ساتھ لے کر جانے ہی لگا تھا جب ہی انوشا نے نیم غصیلے لہجے میں کہا تو آنکھیں گھماتا ہوا اس کا ہاتھ چھوڑ گیا۔۔۔ جوتا پہنتے ہوئے وہ اس کے ساتھ باہر کی طرف بڑھی تھی وہ دونوں اپنی شادی کی شاپنگ کے لیے مال کا رخ کر گئے تھے!!!

ربعیہ یونیورسٹی کے کمرے میں بیٹھی ہوئی لیکچر کے رہی تھی!!! لیکچر ختم ہوا تو فزکس کے سر کمرے سے نکل گئے تھے!!

آج وہ کسی سوچ میں گم تھی۔۔۔۔!!! رات کو رہان نے اسے کہا تھا کہ آج وہ اسے کوئی سرپرائز دے گا۔۔۔۔!!! وہ کل رات سے یہی سوچ رہی تھی کہ وہ سرپرائز کیا ہو سکتا ہے ؟

ان دو ماہ میں ان کے تعلقات بہت مظبوط ہوئے تھے!!! کیونکہ ارحم جیسی بلا ان کی زندگی میں نہیں رہی تھی!

آج اسے یونیورسٹی آ کر ایک اور خبر یہ ملی تھی !! ان کے انگلش کے سر چینج ہو گئے ہیں۔۔۔۔ کوئی نیو سر آئے ہیں! انھیں انگلش پڑھانے کے لیے!!!!!!

لیکن اس کا اس طرف بالکل بھی دھیان نہیں تھا۔۔۔۔!! وہ اپنی سوچوں میں گم تھی جب ہی کلاس میں انگلش کے نیو سر داخل ہوئے !

وہ ہلکے ہلکے قدم لیے ہوئے اندر آئے تھے!!! کلاس نے جب انھیں سلام کہا تو ربعیہ کا دھیان ان کی طرف گیا۔۔۔۔

لیکن جیسے ہی نظریں ان پر پڑی تو نظریں حیرانگی سے کھل گئی!!!

اس نے آنکھیں ملی !!! لیکن پھر بھی اسے سامنے کھڑا شخص ” رہان ملک ” ہی دیکھائی دیا۔۔۔

اس نے پھٹی پھٹی نگاہوں سے سامنے کھڑے پروفیسر رہان ملک کو دیکھا۔۔۔۔!!! جو دیکھا جو انھیں پڑھانے کے غرض سے آیا تھا۔۔۔ سامنے کھڑے رہان نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھتے ہوئے آنکھ ونک کی۔۔۔۔!!!

ربعیہ نے شرم سار نگاہوں سے اسے دیکھا،،، اس کا یہ عمل ساری کلاس کی نگاہوں سے بچ گیا تھا!!! اپنا انٹرو کروانے کے بعد رہان نے لیکچر دینا شروع کیا تھا!!!

ربعیہ کا زیادہ دھیان لیکچر سے زیادہ اس محبوب پر تھا جو مڑ مڑ کر اس کو ہی دیکھ رہا تھا!! ربعیہ سمجھ گئی تھی رہان اسے یہی سرپرائز دینے والا تھا!!!

ربعیہ پورا لیکچر اسے کی تکتی رہی تھی!!!! جبکہ لیکچر کے اینڈ ہونے پر وہ ایک نگاہ اس پر ڈالتا ہوا کلاس سے باہر نکل گیا تھا !!! ربعیہ کی نگاہیں اسے تلاش کرنے لگی تھی۔۔۔۔۔۔!!! لیکن اب تو اگلا لیکچر شروع ہو چکا ہے!!!

” آج میں حماد کو سب سچ بتا دوں گی کہ میں ان سے کس قدر محبت کرتی ہوں !!! نہیں رہ سکتی ہوں میں ان کے بغیر !!! “

پچھلے دو مہینوں میں اسما نے اس بات کا اندازہ لگایا تھا کہ وہ حماد سے محبت کرتی ہے!!! بہت زیادہ محبت کرتی ہے وہ اس سے۔۔۔۔!!!

وہ پھولوں کی دکان پر اس کے لیے بکے لینے کے لیے آئی تھی!!! اس نے دل میں ہی مسکراتے ہوئے سوچا !

وہ گلاب کے پھولوں کا بنا ہوا خوبصورت بکے لیے ہوئے اس کی پیمنٹ کرتی ہوئی دکان سے باہر نکلی۔۔۔۔۔!!! اور گاڑی میں بیٹھتے ہوئے اسے حماد کے آفس کی راہ پر ڈال دیا!

” تم!!! “

حماد اپنے آفس میں بیٹھا ہوا ٹیبل پر پڑے ہوئے لیپ ٹاپ پر کچھ کام کر رہا تھا!!! جب ہی اس کے آفس کا دروازا کھلا اور جینز کی پینٹ شرٹ پہنے ہوئے کھلے بالوں والی ایک لڑکی اندر داخل ہوئی۔۔۔۔

اسے دیکھتے ہی حماد کے ماتھے پر بل رونما ہوئے!!!

” کیسے ہو حماد ؟؟؟ “

اس لڑکی نے طنزیہ کہا۔۔۔۔

” تم یہاں کیا کر رہی ہو آمنہ ؟؟؟ اور تمھیں اندر کس نے آنے دیا ؟؟؟ “

حماد نے غصے سے اسے دیکھتے ہوئے کہا وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا!!!

” شکر ہے تمھیں میرا نام تو یاد ہے۔۔۔۔!!! ورنہ میں سمجھی کہ تم مجھے بھول گئے !!! “

آمنہ نے طنزیہ مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔

” میں نے پوچھا کہ تم یہاں کیا کر رہی ہو ؟؟؟ “

حماد نے اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے کہا۔۔۔۔!!! جب ہی آمنہ اس کے قریب ہوئی!!!

” بتاتی ہوں “

وہ اس کے قریب ہوتی ہوئی اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ گئی۔۔۔!! حماد نے سرد نگاہوں سے اسے دیکھا اور پیچھے کرنے کی کوشش کی جب ہی آفس کا دروازا کھلا اور سامنے کھڑے شخص کو دیکھ حماد حیران رہ گیا تھا!!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *