Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt NovelR50484 Aseer E Mohabat (Episode - 2)
Rate this Novel
Aseer E Mohabat (Episode - 2)
Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt
تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت طے کرنے کے بعد وہ لوگ ملک مینشن کے سامنے آ رہے تھے۔۔۔۔ ازا کایان کے ساتھ اس کی گاڑی میں آئی تھی۔۔۔۔ پوری راہ ازا کبھی کبھی اس کی طرف نظر دوڑاتی تو اس کے چہرے پر سنجیدگی کو پاتی۔۔۔۔
اس کے ذہن میں کئی سوالات کھلبلی مچا رہے تھے کہ کایان ملک کیسا ہو گا ؟؟ اس کا رویہ کیسا ہو گا ؟؟ اس کے ساتھ کیسا سلوک کیا جائے گا ؟؟ کیا وہ یہ ظلم سہہ پائے گی ؟؟
یہ سوالات کو اس کے ذہن میں چل رہے تھے وہ اس کے دل و دماغ میں خوف پیدا کرتے جا رہے تھے۔۔۔۔!!! وہ اندر ہی اندر سینتیس جا رہی تھی۔۔۔۔!!
جیسے ہی گاڑی ملک مینشن کے سامنے رکی تو کایان فوراً گاڑی سے اترتا ہوا اندر کی طرف بڑھا۔۔۔۔ باقی سب لوگ پہلے ہی اندر تھے۔۔۔۔!
ازا بھی ڈری ہوئی سہمی ہوئی سی گاڑی سے باہر نکلی۔۔۔۔۔” اور آہستگی سے قدم بڑھاتی ہوئی اندر کی طرف بڑھی۔۔۔۔۔
کایان جیسے ہی دروازے میں آ کر رکا تو سامنے ہی پورے خاندان کو پایا۔۔۔۔۔۔!!! سب کے چہروں پر افسردگی چھائی ہوئی تھی۔۔۔۔۔!!!
” وہ لڑکی کہاں ہے ؟؟ “
شہباز بیگم کی طرف سے سوال کیا گیا۔۔۔۔!!
” یہاں ہی ہے۔۔۔۔!! “
شہناز بیگم نے جیسے ہی کہا تو ازا جو ہلکے ہلکے قدم لے کر اندر کی طرف بڑھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔ منظر عام پر پہنچی۔۔۔۔
اسے دیکھ کر کایان نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ اور جیسے ہی کایان نے قدم اندر رکھے اس کے پیچھے ازا نے بھی قدم اندر کی طرف رکھنے کی کوشش کی۔۔۔۔
” خبردار جو ایک قدم بھی آگے بڑھایا۔۔۔۔!!! “
جیسے ہی ازا نے قدم اندر کی طرف بڑھائے تو ایک تیز دھاڑ نے اس کے قدموں کو وہی منجمند کر دیا۔۔۔۔!!
” کیا ہوا ؟؟ “
کایان نے سوال کیا۔۔۔۔۔
” یہ لڑکی اس مینشن میں نہیں رہے گی ؟؟ “
ارحم ملک کی دھاڑ پر ازا جو پہلے ہی سہمی ہوئی تھی وہ مزید سہمی اور کایان کے پیچھے ہوتی گئی۔۔۔۔!!!
” کیوں ؟؟ “
ارحم کی بات پر کایان کے ماتھے پر بل پڑے۔۔۔۔۔!! اس نے سوالیہ لہجے میں کہا تو ارحم نے گھور کر اسے دیکھا!!!
” کیونکہ یہ سرونٹ کوارٹر میں رہے گی۔۔۔۔!! یہ غلیظ خون ہمارے ساتھ اس گھر میں نہیں رہے گی۔۔۔۔!
یہ ونی میں آئی ہے۔۔۔۔ اس کی اتنی اوقات نہیں کہ وہ اس عالی شان گھر میں رہے۔۔۔! “
ارحم نے ازا کو نا گواری سے دیکھتے ہوئے اسے اندر نا لانے کی وجہ بتائی تھی!!!
” بالکل بھی نہیں۔۔۔۔۔!! یہ لڑکی ونی میں آئی ہی کیوں نا ہو ؟ لیکن آئی تو میری بیوی کی حثیت سے ہے!!
ازا کایان ملک!! تو یہ وہی رہے گی جہاں میں رہوں گا! اور مجھے نہیں لگتا ہے کہ اس سے کسی بھی کو اعتراض ہونا چاہئیے۔۔۔۔
یہ یہی رہے گی میرے ساتھ میرے کمرے میں۔۔۔۔!! “
کایان نے ازا کا ساتھ دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔ ازا نے ایک نظر اسے اٹھا کر دیکھا تو اپنے سامنے پایا۔۔۔۔ اس گھر میں اسے اپنے لیے صرف یہی محافظ محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔
” اعتراض ؟ تم ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہو ؟ “
ارحم ملک نے ایک مرتبہ پھر غصے سے کہا۔۔۔۔ اسے کایان کی بات سن شدید غصہ آیا تھا!!
” بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے ارحم یہ لڑکی اس گھر میں نہیں رہے گی!!”
ارحم کی والدہ نے کایان کو غصے سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔ انھیں ازا میں اپنے بیٹے کا قاتل دکھائی دیتا تھا!!
” سب سے پہلی بات کہ یہ لڑکی اس گھر میں میرے نام سے آئی ہے۔۔۔ اس کا نکاح مجھ سے کروایا گیا ہے!!
اگر یہ نکاح ارحم بھائی سے ہوتا تو ایک الگ بات تھی وہ جو کرنا چاہتے تھے اس کے ساتھ کر سکتے تھے۔۔۔۔
مجھے کوئی اعتراض نا ہوتا۔۔۔۔ لیکن اب یہ یہاں میرے نام سے آئی ہے!! میری بیوی کی حثیت سے!!
تو اس کے سارے فیصلے میں خود کر لوں گا۔۔۔۔ آپ لوگوں کو پریشان ہونے کی کوئی بھی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔!!
اور آپ سب پر فرض ہے کہ آپ لوگ ازا کایان ملک کی عزت کرے!! وہ اس کی گھر کی بہو اور میری بیوی ہے!! “
کایان کے الفاظ ازا کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیلا گئے تھے۔۔۔۔ جبکہ ارحم کی والدہ سختی سے لب بھینج گئی۔۔۔۔۔” باقی سب حویلی والے یونہی ہی کھڑے رہے!!! “
” ہم اور اس کی ع۔۔۔۔۔!! “
” ششش۔۔۔۔!! بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے کایان۔۔۔۔۔ ازا اس کی بیوی ہے۔۔۔ اور ہم اس کا نکاح کروا کے کر یہاں لائے ہیں۔۔۔۔
تو کایان جیسا بھی سلوک کرنا چاہے اس کے ساتھ کر سکتا ہے۔۔۔۔!!! ہم ازا کی زندگی کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔۔۔۔!! “
شہناز بیگم کچھ بولنے ہی لگی تھی کہ جب ہی شہزاد ملک نے ان کی بات کو درمیان میں سے کاٹتے ہوئے اپنے الفاظ ادا کیے جس پر وہ دونوں ماں بیٹا اور ساتھ ہی ان کی بیٹی صائمہ حیران رہ گئے۔۔۔۔!!!
” بابا آپ بھی ؟؟ “
ارحم حیران ہوا۔۔۔۔
” مجھے لگتا ہے کہ ہمیں اس موضوع کو یہی پر ختم کر دینا چاہئیے۔۔۔۔!! اب مزید اس پر بحث کرنا فضول ہے۔۔۔۔!!
ربعیہ بچے کیا تم ازا کو میرے کمرے میں چھوڑ آؤ گی۔۔۔۔؟ “
کایان نے کہا تو ارحم سختی سے مٹھیاں بھینج گیا۔۔۔۔۔۔ اور قہر برساتی نگاہوں سے ازا کو دیکھا۔۔۔۔
” جی بھائی۔۔۔۔!! “
ربعیہ نے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔۔
” رکو ربعیہ میں چھوڑ آتی ہوں۔۔۔۔!! “
صائمہ نے کہا تو ربعیہ نے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔۔ جب صائمہ نے غصے کی نگاہ سے ازا کو دیکھا اور اس کے بازو کو زور سے تھامتے ہوئی اسے کایان کے کمرے کی طرف لے جانے لگی۔۔۔۔
” یہ تو کیا کر رہا ہے ؟ پاگل ہو گیا ہے کیا ؟؟ “
ازا کے جاتے ہی ارحم تو جیسے بیچارے کایان پر برس ہی پڑا ہو۔۔۔۔ وہ تیز قدموں سے اس کی طرف بڑھا اور غصے سے دھاڑا۔۔۔۔
” مجھے معلوم ہے کہ میں کیا کر رہا ہوں!!! “
کایان نے شائستگی سے جواب دیا۔۔۔
” وہ ہمارے بھائی کے قاتل کی بہن ہے۔۔۔۔!!!! “
ارحم اس کی ازا کے لیے ہمدردی جو اسے بالکل بھی پسند نہیں آرہی تھی اسے مد نظر رکھتے ہوئے کایان کو قائل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔
” قاتل کی بہن ہے!! قاتل نہیں۔۔۔۔!! “
کایان ایک مرتبہ پھر سے کہا تو ارحم کو مزید غصہ آیا۔۔۔
” میں نے کہہ دیا نا کہ وہ غلیظ خون اس گھر میں نہیں رہے گا تو بس۔۔۔۔!! وہ نہیں رہے گی سمجھے تم۔۔۔۔!! “
ارحم نے فیصلہ سنایا۔۔۔
” آپ کا کہا کیا پتھر پر لکیر ہو گیا ؟؟ آپ ہوتے کون ہیں میری بیوی کی زندگی کا فیصلہ کرنے والے ؟؟
ارحم بھائی آپ کے لیے یہی بہتر ہے آپ دوسروں کی بجائے اپنی زندگی پر توجہ دیں۔۔۔۔!! ازا اسی گھر میں رہے گی میرے ساتھ۔۔۔۔”
اب کی مرتبہ کایان کا لہجہ نہایت ہی سرد تھا۔۔۔۔۔ وہ اپنی بات کا پکا تھا۔۔۔۔ اپنا فیصلہ سناتے ہوئے وہ وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔!!!!
” شہزاد صاحب۔۔۔۔!! “
اس کے جاتے ہی شہناز بیگم نے شہزاد ملک کو بے یقینی سے دیکھا۔۔۔۔ یہاں تو بازی ہی پلٹ گئی تھی۔۔۔۔
اس سے اچھا تو وہ دولت ہی لے لیتے عباس چوہدری کی۔۔۔۔ لیکن اب وقت گزر گیا تھا۔۔۔۔
” میں کچھ بھی نہیں کر سکتا ہوں۔۔۔۔ وہ اس کی بیوی ہے۔۔۔۔ اس کے لیے جو فیصلہ کرے گا۔۔۔۔ وہی کرے گا۔۔۔۔ “
شہزاد ملک کہتے ہوئے صوفے کر ڈھے گئے اور سر میں اٹھتے درد کو کم کرنے کے لیے سر پر انگلیاں مسلنے لگے۔۔۔۔۔
جبکہ کایان کے جاتے ہی ارحم غصے سے وہاں سے جا چکا تھا۔۔۔۔ ربعیہ، اسما اور ربعیہ کے والدین بھی اپنے کاموں مصروف ہو گئے تھے۔۔۔۔
صائمہ نے کمرے کا دروازہ کھولا اور جیسے ہی قدم اندر رکھے تو ازا کو زور سے زمین کی جانب پٹکا۔۔۔۔!!
جس سے اس معصوم کا سر بیڈ کی سائیڈ سے جا ٹکرایا۔۔۔۔۔ زیادہ زور سے نہیں لگا تھا لیکن پھر بھی زخم پڑ گیا۔۔۔ اور وہاں سے خون بھی بہنے شروع ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔ ازا کو شدید تکلیف ہوئی تھی۔۔۔۔ وہ درد سے کراہ اٹھی۔۔۔
” یہی ہے تیری جگہ۔۔۔!! تیری اوقات!!! یہ زمین اور ہاں یہ مت سمجھنا کہ کایان بھائی نے تمھارا ساتھ دیا ہے۔۔۔۔۔ لیکن صرف اس مرتبہ وہ روز روز تمھارا ساتھ نہیں دے گے۔۔۔۔۔
یہ صرف وقتی ہے۔۔۔۔ ایک دفعہ وہ سیدھے ہو گئے تو تمھاری طرف تو دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرے گے۔۔۔۔!!
سمجھی۔۔۔۔!! “
صائمہ نے شدید غصے سے اس سے کہا اور کمرے کا دروازا زور سے بند کرتے ہوئے،وہاں سے نکل گئی۔۔۔۔۔۔ اس کی باتیں سن کر ازا اہم سی گئی۔۔۔۔
اگر واقع کایان نے اس کا ساتھ دینا چھوڑ دیا تو ؟؟ تو پھر نا جانے اس کا کیا ہو گا ؟؟
ازا کے ذہن میں سوالات پیدا ہوئے۔۔۔۔!!
وہ ڈرتی ہوئی وہی پر خود کو سمیٹ سی گئی۔۔۔۔ پر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ ایسا کبھی بھی نہیں ہو گا۔۔۔۔!!!
اسما اور صائمہ۔۔۔۔۔!!!! دونوں سگی بہنیں تھی۔۔۔۔۔!! اور یہ دونوں ہی شہزاد ملک کی چھوٹی صاحب زادیاں ہیں۔۔۔۔
ارحم کے بعد رہان اور اس کا جڑواں بھائی فائق اور اس کے بعد وہ دونوں بہنیں تھیں جن میں صائمہ بڑی اور اسما چھوٹی تھی۔۔۔۔۔
صائمہ اور اسما دونوں ہی دل کی بہت اچھی تھی لیکن بھائی کے قتل نے صائمہ کے دل میں ازا کے لیے نفرت پیدا کر دی تھی۔۔۔۔
دوسری طرف تھی اسما جس کے دل میں یقیناً ازا کے لیے کوئی بھی نفرت یا کچھ بھی برا نہیں تھا۔۔۔۔۔ اسے اس سے ہمدردی تھی۔۔۔۔ اس نے بھائی کے قتل کو جزبات کا کھیل نہیں بنایا بلکہ اسے اللہ تعالیٰ کی رضا سمجھ کر اس پر صبر کا مظاہرہ کیا۔۔۔۔
کیونکہ جو اللہ کرنا چاہے اسے کوئی بھی نہیں روک سکتا ہے۔۔۔۔!!!”
” دادا جان۔۔۔۔!! کتنے سست ڈرائیور رکھے ہیں آپ نے۔۔۔۔”
انوشا نے گھر میں داخل ہوتے دادا جان کو پایا اور ان سے ملی۔۔۔۔ حال احوال پوچھنے کے بعد اس نے بیزاریت سے کہا!!
” ڈرائیور ؟ “
لہجے میں سوال تھا۔۔۔۔!!
” جی ڈرائیور۔۔۔۔۔ پورے تین گھنٹے لگائے اس نے مجھے گھر لانے میں۔۔۔۔ اور باہر اتنا ٹریفک تھا کہ کیا بتاؤ میں آپ کو!!! “
انوشا نے منھ بسورتے ہوئے کہا۔۔۔۔!! جبکہ دوسری طرف جو اس کا سامان لیے ہوئے اندر کی طرف بڑھ رہا تھا۔۔۔۔ وہ خود کو ڈرائیور جیسے القابات سے نوازتے ہوئے سن وہی رکا اور انوشا کو گھور کر دیکھا۔۔۔۔
” Excuse me ?? “
زریر کی آواز کر وہ پیچھے مڑی اور اسے دیکھا۔۔۔۔
وہ اب تک اسے ڈرائیور ہی سمجھ رہی تھی کیا؟ زریر کے ذہن میں سوال آیا۔۔۔۔
” ہاں یہ سامان اندر رکھ دو۔۔۔۔!! “
انوشا نے خود سے ہی اندازہ لگایا تھا کہ اس نے اسے کیوں بلایا ہو گا ؟ جس پر زریر نے قہر برساتی نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔۔ اس نے مٹھیاں بھینج کر اپنے غصے کر قابو پایا۔۔۔۔
” تمھارے ہاتھ بھی ہیں۔۔۔۔!! خود رکھ لوں۔۔۔۔ “
زریر نے مسکراتے ہوئے اس کی انسلٹ کی تو انوشا نے حیرانگی سے اپنے داداجان کی طرف دیکھا۔۔۔۔وہ ہنوز انھیں ہی دیکھے جا رہے تھے۔۔۔!!
” دادا جان یہ ڈرائیور تو سست ہونے کے ساتھ ساتھ بہت بد تمیز بھی ہے!!! “
انوشا نے معصوم شکل بناتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ جس پر زریر کا پارا مزید ہائی ہو گیا۔۔۔۔
” دادا جان میرے پاس اس فضول بکواس کے لیے وقت نہیں ہے میں اپنے کمرے میں جا رہا ہوں،،، “
وہ غصے سے کہتا ہوا وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔۔
” آپ نے اسے اپنے گھر میں رکھا ہوا ہے ؟ پھر تو بڑا ہی احسان فراموش ڈرائیور ہے۔۔۔۔!! اسے تو میں۔۔۔۔!! “
” انوشا بیٹا۔۔۔۔!! وہ ڈرائیور نہیں ہے۔۔۔۔!! بلکہ وہ تمھارے تایا جان کا بیٹا ہے زریر عباس۔۔۔۔!!! ڈرائیور نہیں ہے۔۔۔!! “
انوشا جو ہنوز یہی سمجھ رہی تھی کہ زریر ڈرائیور ہے اپنے دادا جان کی بات سن کر وہ دنک رہ گئی۔۔۔۔
” واٹ ؟ تایا جان کا بیٹا،،،، زریر !! “
وہ حیران ہوئی۔۔۔۔
” جی بچے۔۔۔۔ آپ کے فضول میں ہی اسے ناراض کر دیا!!! “
دادا جان نے اسے سمجھانا چاہا۔۔۔
” اچھا چھوڑیں دادا جان! ہم اندر چلتے ہیں۔۔۔۔”
وہ اس بات کو بالکل لائٹ لیتے ہوئے کہتی اپنے دادا جان کو ساتھ لے کر اندر کی جانب بڑھی۔۔۔۔۔!
” امی جان مجھے ابھی شادی نہیں کرنی۔۔۔۔۔”
وہ ماں کے لیے ناشتہ بنا کر میز پر ان کے سامنے رکھ رہا تھا جب ہی اس کی والدہ نے اس سے اس کی شادی کی بات کی تو اس نے آہستگی سے کہا۔۔۔۔
” کیا مطلب شادی نہیں کرنی ؟؟ میں نے کہہ دیا کہ شادی کرنی ہے تو اس کا مطلب ہے کرنی ہے۔۔۔۔
میں نے ایک چاند سی لڑکی ڈھونڈی ہے تمھارے لیے حماد۔۔۔۔!! “
حماد کی والدہ نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔
” جی مجھے یاد ہے پچھلی مرتبہ والی چاند سی لڑکی آپ زیور چرا کر بھاگنے والی تھی۔۔۔۔!!! “
اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو اس کی والدہ نے گھور کر اسے دیکھا۔۔۔۔۔”
” بس بھول بھی جا نا اب بات کو!!! تین مہینے گزر گئے۔۔۔۔!! حماد بس میری خاطر ایک مرتبہ اس لڑکی کے راضی ہو جا۔۔۔۔!! “
اس کی امی نے پہلے روٹھے لہجے میں کہا اور پھر مسکرا کر کہا۔۔۔۔
” ٹھیک ہے!!! “
وہ ماں کے چہرے کی مسکراہٹ چھیننے نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔۔ اس لیے ان کی خوشی کے لیے مان گیا۔۔۔۔
