Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt NovelR50484 Aseer E Mohabat (Episode - 18)
Rate this Novel
Aseer E Mohabat (Episode - 18)
Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt
” آنٹی ایسا مت کریں پلیز میں کہاں جاؤ گی ؟؟؟ “
آج آتش کی اس حرکت کے بعد حسن آرا بالکل بھی فاریہ کو اپنے ساتھ رکھنے کے لیے تیار نہیں تھی۔۔۔۔ وہ چاہتی تھی کہ فاریہ وہاں سے چلی جائے لیکن اس بیچاری کے پاس تو ایک یہی ٹھکانہ تھا جسے چھوڑ کر وہ کدھر جاتی ؟؟ جب ہی اس نے حسن آرا سے پریشانی سے کہا۔۔۔
” فاریہ مجھے کچھ بھی نہیں پتا تمھیں کہاں جانا ہے وہ تمھاری مرضی ہے۔۔۔۔ لیکن تم یہاں نہیں رہ سکتی ایک کام کرو نا اپنے اس منگیتر کے پاس چلی جاؤ۔۔۔۔ بہت خیال رکھتا ہے وہ تمھارا لیکن بیٹا جی تم یہاں نہیں رہ سکتی اپنا بوریا بستر اٹھاؤ اور نکلو یہاں سے “
حسن آرا نے صاف صاف الفاظ میں اسے یہاں سے جانے کے لیے کہہ دیا تھا اور خود وہ یہاں سے جا چکی تھی۔۔۔۔ فاریہ کا سامان بھی انھوں نے پہلے ہی پیک کر کے رکھ دیا تھا۔۔۔۔!!!
لیکن اب فاریہ کو یہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کرے گی ؟؟ کدھر جائے گی جب ہی اس کی کمرے میں سعدیہ آئی۔۔۔۔ فاریہ نے اسے پریشانی سے دیکھا۔۔۔!!
حویلی میں ہر طرف خوشیاں پھیلی ہوئی تھی۔۔۔۔!!! کیونکہ ایک ہفتہ پورا ہو چکا تھا۔۔۔۔!! اور اب ربعیہ اور رہان کی اور اسما اور حماد کی شادی کے دن آ چکے تھے۔۔۔۔
آج رات ان کی مہندی کا فنکشن تھا۔۔۔!! حویلی میں مہمانوں کی آمد شروع ہو چکی تھی۔۔۔۔ حویلی کے مرد حضرات بھی مہندی کے فنکشن میں شرکت کرنے کے آفس کے کام نپٹا کر آ چکے تھے۔۔۔۔
ازا اس وقت کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔!! اور دو ڈریس سامنے پڑے ہوئے تھے۔۔۔۔ اسے یہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ ان میں سے کونسا جوڑا پہنے ؟؟
اس کا مطلب یہ تھا اس نے پہلے کوئی بھی پلینگ نہیں کی تھی پہلے۔۔۔۔!! اور اب وہ اس کشمکش میں مبتلا تھی کہ کونسا جوڑا پہنے اور ابھی اس کا میک وغیرہ سب کچھ رہتا تھا۔۔۔۔
کچھ ہی لمحوں میں کایان کمرے کا دروازہ کھولتے ہوئے اندر داخل ہوا اس کے ہاتھ میں کچھ تھا وہ سیدھا ازا کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔!! ازا بھی اس کی طرف مڑی۔۔۔۔
” آگئے آپ!! “
ازا نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا اور پھر کہا تو وہ ہاتھوں میں گلاب کے گھجرے لیے ہوئے اس کی طرف بڑھا۔۔۔۔
” جی !! آپ تیار نہیں ہوئی ؟ “
کایان کو اس بات سے حیرانگی ہوئی تھی کہ عموماً لڑکیوں کافی دیر پہلے ہی تیار ہونا شروع ہو جاتی ہیں لیکن وہ ابھی تک شروع بھی نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔
” ہاں وہ مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا___ “
اس کی بات سنتے ہوئے وہ مسکرائی۔۔۔۔!!! اور اسے یہی بتانے لگی کہ تھی کہ اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا پہنے ؟ جبکہ اس کی بات ابھی مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ کایان نے اس کا ہاتھ تھاما جو اس کی بولتی بند کروا گئی تھی۔۔۔۔۔ اس کی بات پوری نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔ اس نے حیرانگی نے کایان کو دیکھا۔۔۔ جو اپنے دوسرے ہاتھ میں موجود گھجرا اس کے ہاتھ میں پہنانے لگا تھا۔۔۔۔
” یہ کیا ہے ؟ “
اس کے ہاتھ کے لمس کو محسوس کرتے ہوئے ازا کے چہرے کا رنگ سرخ پڑ گیا تھا۔۔۔ اسے سمجھ ہی نہیں آئی کہ وہ اس سے کیا سوال کرے ؟؟ اسی وجہ سے ہر بڑی میں یہی پوچھ گئی کہ یہ کیا ہے ؟؟ جبکہ وہ یہ بات جانتی تھی یہ گھجرے ہیں۔۔۔۔۔
” گھجرے ہیں “
اس کی بڑھتی دھڑکنوں کو محسوس کرتا ہوا وہ مسکرا کر اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور دوسرا گھجرا بھی اس کے دوسرے ہاتھ میں پہنا دیا۔۔۔۔ ان گلاب کی پتیوں کی خوشبو ازا کی نتھ کو چھو رہی تھی!!!
” کیسے لگ رہے ہیں ؟؟ “
کایان نے اس کے ہاتھ میں گھجرا پہناتے ہوئے کہا تو وہ مسکرائی اور گھجروں سے نظر ہٹاتے ہوئے نظر اس کی طرف دوڑائی۔۔۔۔ اور مسکرا کر اسے دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
” بہت پیارے ہیں !! پر اس کی کیا ضرورت تھی ؟ “
ازا نے پہلے ان گھجروں کی تعریف کی اور پھر کایان سے مسکراتے ہوئے پوچھا کہ اس کی کیا ضرورت تھی ؟؟ اس نے کوئی فرمائش تو نہیں کی تھی اس سے۔۔۔!!
” جب شوہر کوئی تحفہ دے تو سوال نہیں کرتے !! ویسے ہی راستے میں لگے ہوئے دکھائی دیے تو دل کیا کہ آپ کے لیے لے جاتا ہوں۔۔۔۔ آپ بتائے کیا کہہ رہی تھی آپ ؟؟ “
کایان نے اسے بتایا اور اس سے کہا کہ وہ پہلے کیا کہہ رہی تھی کیونکہ اس سب میں ازا اپنی بات کرنا بھول گئی تھی۔۔۔۔!!!
” کچھ نہیں میں یہ کہہ رہی تھی کہ کونسا جوڑا پہنو ؟ کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہی مجھے!!! آپ بتائے ؟ “
ازا نے اسے بتایا کہ وہ اس کشمکش میں مبتلا تھی کہ وہ کونسا جوڑا پہنے اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا ہے۔۔۔۔ اس نے کایان سے صلاح مانگی تھی اس سے “
” اممم!! یہ والا بیسٹ رہے گا “
کایان نے ان میں سے ایک ڈارک سبز رنگ کا جوڑا اٹھایا اور ازا کو دیا اور کہا کہ یہ اس پر بہت اچھا لگے گا جس پر ازا مسکرائی اور وہ جوڑا کایان سے پکڑ لیا۔۔۔۔
” ٹھیک ہے میں پہن کر آتی ہوں۔۔۔۔!! آپ بھی ریڈی ہو جائیں “
ازا مسکرا کر کہتی ہوئی واش روم کی طرف بڑھی جبکہ اس کے چہرے پر مسکراہٹ ایک نئے انداز کی تھی آج وہ دل سے خوش تھی جبکہ کایان کے حالات بھی کچھ ایسے ہی تھے۔۔۔۔ وہ دونوں تیار ہونے میں مصروف ہو گئے۔۔۔۔!!
” جاؤ فاریہ جی کو بلا کر لاؤ “
آتش حسن آرا کے گھر کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔۔ وہ گاڑی کے فرنٹ پر بیٹھا ہوا صادق کو آڑدر دے رہا تھا کہ فاریہ کو بلا کر لائے وہ جس پر صادق سر ہاں میں ہلاتا ہوا حسن آرا کے گھر کی طرف بڑھا تھا۔۔۔
” آپ ؟ “
دروازے پر بیل ہونے کی آواز سن کر سعدیہ دروازے پر یہ دیکھنے کے لیے وہاں پر کون ہے ؟؟ دروازے کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔ جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا سامنے ہی اسے صادق دیکھائی دیا جو کل آتش کے ساتھ اسے دیکھتے ہی سعدیہ کے چہرے پر پریشانی کی لہر دوڑی تھی۔۔۔۔!! اس نے حیرانگی سے پوچھا تھا۔۔۔۔
” آپ فاریہ بھابھی کو بلا دے گی ؟؟ “
اسے دیکھ کر ایک لمحے کے لیے صادق اس میں کھو گیا تھا لیکن پھر اگلے ہی لمحے وہ ہوش میں واپس آیا اور اس سے کہا کہ وہ فاریہ کو بلا دے !!!
” فاریہ گھر پر نہیں ہے !!! “
اسے دیکھتے ہی سعدیہ نے نظریں جھکا لی تھی۔۔۔۔۔!!! اور اسے یہ بتاتے ہوئے کہ فاریہ گھر پر موجود نہیں ہے وہ دروازہ بند کرنے ہی لگی تھی کہ صادق نے دروازہ پکڑ کر اسے بند کرنے سے روکا جس پر سعدیہ نے حیرانگی سے اس شخص کو دیکھا۔۔۔
” کہاں گئی ہیں بھابھی ؟ “
صادق نے اس کی حیرانگی پر مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اور اس سے سوال کیا کہ فاریہ کہاں گئی ہے ؟؟
” مجھے نہیں معلوم لیکن وہ یہاں سے چلی گئی ہے۔۔۔۔ اور اب آپ بھی یہاں سے چلے جائے کیونکہ اب فاریہ کبھی بھی یہاں پر نہیں آئے گی۔۔۔۔!! ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وہ یہ کالونی چھوڑ کر چلی گئی ہے۔۔۔۔!!! سمجھے آپ اور اب یہاں مت آئیے گا “
سعدیہ کو اس کی حرکت پر بہت زیادہ غصہ آیا تھا۔۔۔۔!! اس نے غصے سے صادق سے کہا کہ فاریہ یہاں پر نہیں ہے وہ یہ گھر چھوڑ کر جا چکی ہے اور اب اس کے لیے بھی یہی بہتر ہے کہ وہ یہاں سے چلے جائے۔۔۔۔ یہ کہتے ہوئے اس نے غصے سے دروازہ بند کر دیا تھا!!!!
صادق جو بھی یہ سن کر کافی حیرانگی ہوئی تھی کہ آخر فاریہ بھابھی کدھر چلی گئی ہیں ؟؟ وہ انھی سوچوں میں گم سم سا آتش کے پاس پہنچا۔۔۔
” کیا ہوا صادق فاریہ جی نہیں مانی کیا جانے کے لیے ؟؟”
صادق جیسے ہی آتش کے پاس پہنچا تو آتش کو اس کا چہرہ اداس سا دکھائی دیا تو اس نے اپنے حساب سے تکہ لگاتے ہوئے اس سے کہا جس پر صادق نے سر نفی میں ہلایا۔۔۔۔
” وہ ہوتی تو آتی !!! “
صادق کی بات سنتے ہی آتش فوراً گاڑی سے اترتا ہوا زمین پر کھڑا ہوا۔۔۔!!اسے سن کر سمجھ نہیں آئی کہ اس کی بات کا مطلب کیا ہے کہاں ہے فاریہ ؟؟
” کیا مطلب ؟؟ کہاں ہے فاریہ جی ؟؟ “
اس نے حیرانگی و پریشانی سے سامنے کھڑے ہوئے صادق سے پوچھا تھا کہ کہاں گئی ہے فاریہ ؟؟
” بھائی وہ فاریہ بھابھی یہاں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چلی گئی یہ گھر چھوڑ کر “
صادق کے الفاظ اس پر بجلی کی طرح گرے تھے۔۔۔۔!!!
” کیا مطلب ہے کہ فاریہ جی یہاں سے چلی گئی ہیں ؟؟؟ وہ کہیں بھی نہیں جا سکتی ہے مجھے چھوڑ کر “
آتش نے غصے سے صادق کا کارلر پکڑ لیا تھا۔۔۔۔۔ یہ بات اس کی برداشت سے باہر کی تھی۔۔۔۔” جس پر صادق نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔۔۔۔
” بھائی مطلب نہیں وہ یہاں سے چلی گئی ہیں اگر نہیں یقین تو جا خود دیکھ لیں “
اس کا یہ رویہ دیکھ کر صادق نے سرد مہری کا لہجہ اپناتے ہوئے کہا۔۔۔ تو آتش حسن آرا کے گھر کی طرف بڑھا تھا!!! اس نے دروازے پر جاتے ہوئے بیل بجائی تھی۔۔۔۔ اب کی مرتبہ شیراز نے دروازہ کھولا!!
” جی کیا؟؟ “
اس سے پہلے کہ شیراز کچھ بھی بولتا آتش اسے دھکا دیتے ہوئے گھر میں داخل ہوا تھا۔۔۔۔!!
” اوو بھائی کہاں گھسے جارہے ہو ؟؟”
شیراز اسے جانتا تو پہلے ہی تھا۔۔۔۔۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ وہ کس قدر خطر ناک ہے !! وہ اس سے پنگاہ نہیں کے سکتا تھا۔۔۔۔
” او میاں کہاں اندر گھستے چلے جا رہے ہو ؟؟؟ “
شیراز کی آواز سن کر حسن آرا اور سعدیہ اپنے اپنے کمروں سے نکلتے ہوئے باہر کی طرف آئی تھی اور سامنے ہی انھوں نے آتش کو دیکھا تو حسن آرا نے غصے سے اسے دیکھتے ہوئے کہا جبکہ سعدیہ ان کے پیچھے کھڑی تھی۔۔۔۔ صادق بھی وہاں پہنچ چکا تھا۔۔۔۔ اور گھر میں فاریہ کو تلاش کرنے لگا تھا۔۔۔۔”
” فاریہ جی کہاں ہیں ؟؟؟ “
حسن آرا کی آواز سنتے ہی کایان نے ان کے پاس جا کر قہر برساتی نگاہوں سے انھیں دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
” مجھے کیا معلوم کہاں ہے تمھاری فاریہ جی ؟؟ رات گئے بھاگ گئی تھی وہ یہاں سے اور پتہ نہیں کہ اکیلے گئی تھی کہ کسی اور کے ساتھ “
” شٹ اپ !! فاریہ جی کے بارے میں تمیز سے بات کرے تو ہی اچھا ہو گا “
حسن آرا کا آہنی زبان پر قابو نا رہا تھا وہ بولنے پر آئی تو بولتی چلی گئی۔۔۔۔ جب انھوں نے فاریہ کے متعلق غلط بات کی تو آتش کا خود پر قابو نہیں رہا تھا۔۔۔۔ اس نے غصے سے حسن آرا کی چلتی ہوئی زبان کو بند کروایا۔۔۔
” بھائی یہ سب سچ کہہ رہے ہیں فاریہ بھابھی یہاں پر نہیں ہیں “
صادق سارے گھر کی چھان بین کر کے آیا تھا۔۔۔ اس سے اسے سعدیہ کی بات کر یقین ہو گیا تھا کہ فاریہ بھابھی یہاں پر موجود نہیں ہیں۔۔۔۔۔” اس نے آتے ہی آتش سے کہا جس پر آتش نے اسے مڑ کر دیکھا!!
” میری نظر ہمیشہ رہے گی تم لوگوں پر یاد رکھنا اگر مجھے پتہ چلا فاریہ جی کو تم لوگوں نے یہاں سے نکالا یا انھیں جانے کا کہا تھا تو___ چلو صادق “
وہ کچھ کہتے ہوئے رک گیا تھا جس پر حسن آرا نے ڈر اور خوف سے اسے دیکھا جو فاریہ جو ڈھونڈنے کے لیے یہاں سے نکل چکا تھا۔۔۔
آج پہلی دفعہ انوشا نے آفس میں قدم رکھا تھا!! وہ آفس کے خوبصورت انٹریر کو دیکھتے ہوئے اندر بڑھ رہی تھی آئی تو وہ زریر کے ساتھ ہی تھی لیکن وہ گاڑی پارک کرنے کے لیے گیا تھا۔۔۔۔ جب ہی ایک شخص جو اپنے ہی دھیان میں چلتا جا رہا تھا وہ اسے دیکھتے ہی وہاں آ رکا۔۔۔”
” ہائے ؟ آپ کون میں نے آپ کو پہلے کبھی بھی نہیں دیکھا ؟ “
اس شخص نے رکتے ہوئے کہا۔۔۔۔
” دیکھا تو میں نے بھی نہیں کبھی آپ کو “
انوشا کا دو ٹوک جواب سن کر وہ لڑکا ایک لمحے کے چپ ہو گیا تھا۔۔۔۔!!!
” میرا مطلب تھا کیا آپ پہلے دفع آئی ہیں یہاں ؟؟ “
اس نے اپنی پچھلی کہی ہوئی بات کا مطلب بتاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
” جی میرا نام انوشا ہے “
انوشا نے اس کی بات کا مطلب سنتے ہی مسکرا کر اسے بتایا کہ وہ یہاں پہلی دفع آئی ہے اور اس کا نام انوشا ہے۔۔۔۔۔
” Nice Name !! by the way My name is wasit “
اس نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔ جس پر انوشا مسکرائی تھی۔۔۔۔!!! اور واسط بھی جبکہ وہاں پر آتے ہوئے زریر کو یہ دیکھ کر بہت زیادہ غصہ آیا تھا پر کیوں ؟ وہ تو انوشا سے محبت نہیں کرتا تھا !!!
