Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aseer E Mohabat (Episode - 37)

Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt

وہ حماد کے قریب ہوتی ہوئی اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ گئی۔۔۔!! حماد نے سرد نگاہوں سے اسے دیکھا اور پیچھے کرنے کی کوشش کی جب ہی آفس کا دروازا کھلا اور سامنے کھڑے شخص کو دیکھ حماد حیران رہ گیا تھا!!!!

ان دونوں کو اتنا قریب دیکھ کر سامنے کھڑی ہوئی اسما کے ہاتھ سے گلاں کے پھولوں کا گلدستہ زمین پر گر گیا تھا۔۔۔ اس کی آنکھوں میں بے یقینی سے پیدا ہوئی تھی۔۔۔

اسے جیسے ہی یقین ہی نا آیا کہ یہ اس کا ہی حماد تھا جو کسی اور لڑکی کے اتنا قریب تھا۔۔۔۔!! اسے دیکھ کر بھی آمنہ نے حماد کے کندھے سے ہاتھ نہیں ہٹایا تھا!!

حماد کی آنکھوں میں پریشانی اتری تھی۔۔۔ اسما کی آنکھوں میں یہ منظر دیکھتے ہوئے آنسو بھر آئے!!

وہ کیا سوچ کر آئی تھی یہاں اور یہاں کیا چل رہا تھا ؟ لیکن وہ اس بات سے بے خبر تھی کہ یہ سب اس وہم ہے اس کے سوا یہ کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔!!

وہ ان آنسوؤں کو صاف کرتی ہوئی وہ گلدستہ وہی چھوڑتی ہوئی کمپنی سے باہر کی طرف بھاگی تھی!! جبکہ حماد نے پریشانی سے دیکھا!!! کہ اب وہ اسے غلط سمجھے گی ؟

اس کے جاتے ہی حماد کے آنکھوں میں خون اترا اس نے فوراً سے آمنہ کو پیچھے کی طرف دھکیلا تھا !!!

” تمھاری ہمت بھی کیسے ہوئی میری قریب آنے کی ؟؟؟ ابھی کے ابھی دفع ہو جاؤ یہاں سے !!! ورنہ تم زندہ نہیں بچو گی!!! “

حماد کا غصے سے کوئی عالم نہیں رہا تھا!!!! اس کا دل کر رہا تھا سامنے کھڑی اس بے حیا لڑکی کا سر پھاڑ دے!!! لیکن پھر وہ اپنی غصے پر قابو پاتا ہوا اسے غصے کے عالم میں کی بولا۔۔۔۔

اور آفس سے باہر کی طرف بڑھا۔۔۔ اس کا یہ غصہ دیکھتے ہوئے وہ ٹھٹک کر رہ گئی تھی۔۔۔۔! کہ اس لڑکی انھیں ایک ساتھ دیکھ لیا تو اسے اتنا غصہ کیوں آ رہا ہے!!!

” کہیں حماد اس لڑکی سے محبت تو نہیں کرتا ؟؟ “

آمنہ نے اپنی ہی سوچوں میں گم سا کہا۔۔۔۔

” نہیں!!! نہیں ایسا بالکل بھی نہیں کو سکتا ہے ؟ وہ کیسے کر سکتا ہے کسی اور سے محبت جبکہ میں بھی یہ جانتی ہوں کہ حماد صرف مجھ سے محبت کرتا ہے اور آج بھی اس کے دل میں میں ہی ہوں۔۔۔”

وہ طنزیہ کہتے ہوئے طنزیہ مسکرائی۔۔۔۔!! ہاں وہ حماد کی پہلی محبت تھی۔۔۔ جس سے حماد دیوانہ وار محبت کرتا تھا!!!

لیکن آمنہ!!! اسے حماد کی محبت کی قدر نہیں تھی اس نے کسی اور کے لیے اس کے ساتھ بیوفائی کی تھی !!!

وہ ماضی کی سب باتیں ایک مرتبہ سوچتے ہوئے نظریں گھما سی گئی اور آفس سے باہر نکلی!!

جبکہ دوسری طرف حماد جو اسما کے پیچھے گیا تھا!!! وہ اس کے قریب پہنچا تھا۔۔۔۔۔ اسما ابھی کمپنی سے باہر ہی نکلی تھی۔۔۔۔ اس کی آنکھوں سے بہتے آنسو اس کی گالوں پر صاف عیاں تھے! پر وہ کیا جانتی تھی کہ یہ سب کچھ صرف ایک جھوٹ ہے۔۔۔ حماد نے اس کے قریب کرتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام کر اسے روکنے کی کوشش کی۔۔۔۔

پر اسما نے جیسی ہی اس کی آہٹ محسوس کی اسی وقت اس نے حماد کا ہاتھ جھٹک دیا اور بے یقینی سے اسے دیکھا!!!

” ہاتھ مت لگانا مجھے “

وہ غصے سے بولی!!

” اسما میری بات تو سنیں !! “

وہ اسے بتانا چاہتا تھا کہ جیسا وہ سوچ رہی ہے !! ویسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔۔ وہ غلط سوچ رہی ہے۔۔۔ لیکن شائید اسما اس کی ایک بھی بات سننے کے لیے تیار نہیں تھی!!!

” اب سننے کے لیے کچھ بھی نہیں بچا!!! “

حماد نے اسے چھونا چاہا مگر اسما نے فوراً اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔۔۔۔ اور غصے سے بھرپور لہجے پر قابو پاتے ہوئے تحمل مزاجی سے کہا اور اس گاڑی کی طرف بڑھی جس میں وہ آئی تھی۔۔۔

حماد نے اسے روکنا چاہا مگر وہ گاڑی میں بیٹھتی ہوئی گھر کی طرف روانہ ہوئی تھی۔۔۔

پورے راستے اسما کے سامنے وہ منظر گھوم رہا تھا۔۔۔۔ جب وہ لڑکی اور حماد اس قدر قریب کھڑے ہوئے تھے!!! اسما کو اپنی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کو روکنا مشکل ہو رہا تھا!!!! وہ بار آنسو صاف کرتی ہوئی خود کو مظبوط دیکھانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔” لیکن یہ ممکن نہیں ہو پا رہا تھا!!

گاڑی گھر کے سامنے آ رکی تھی۔۔۔۔!!! وہ یک دم گاڑی سے اترتی چہرے پر غصے کی سرخی سجائے ہوئے گاڑی سے اترتی اور تیز قدم لیے ہوئے اندر کی طرف بڑھی!!!

” اسما بیٹا !!! آ گئی تم ! کیا ہوا اتنے غصے میں کیوں ہو بیٹا ؟ “

اسما جیسے ہی اندر پہنچی تو سامنے ہی اسے حماد کی والدہ دیکھائی جنھوں نے پہلے تو اس سے مسکرا کر کہا کہ وہ آگئی!! لیکن پھر جب انھوں نے اسما کے چہرے پر سجے ہوئے غصے کو دیکھا تو اس سے سوال کیا کہ وہ اس قدر غصے میں کیوں ہے ؟

” امی!!! یہ آپ اپنے اس نام نہاد بیٹے سے پوچھیے گا “

اس کے لیے اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود بھی اس کے لب و لہجے میں ان کے لیے وہی نرمی ، عزت تھی۔۔۔۔۔!!! جبکہ اسما کی بات سنتے ہوئے وہ بکے حیران رہ گئی تھی۔۔۔ کہ ایسا بھی کیا کر دیا ہے حماد نے ؟ جبکہ اسما انھیں کہتی ہوئی فوراً اپنے کمرے کی طرف بڑھی اور اپنا سامان پیک کرنے لگی تھی۔۔۔۔!! تا کہ وہ جلد از جلد یہاں سے جا سکے !

” اسما بیٹا کچھ بتاؤ تو سہی ہوا کیا ہے ؟؟ “

حماد کی والدہ کا دل کا آپریشن آج سے ٹھیک ڈیڑھ ماہ پہلے ہو چکا تھا! اور اب وہ کافی بہتر تھیں !!! اگر ان کا آپریشن نا ہوا ہوتا تو شائید اسما انھیں یہ بات کبھی بھی نا بتاتی !!!

وہ اسما کے پیچھے کمرے کی طرف آئی تھی۔۔۔ اور اس سے پوچھا تھا کہ وہ انھیں کچھ بتائے تو سہی کہ کیا بات ہوئی ہے ؟؟ کیا کیا ہے حماد نے جو وہ اتنا غصے میں ہے۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر یہ اسے اپنا سامان پیک کرتا دیکھ وہ بہت دکھی ہوئی تھی!

” آفس کے کمرے میں وہ کسی غیر لڑکی کے ساتھ تھا !!! “

اسما نے مڑتے ہوئے ان سے کہا!! اس کے لہجے میں حماد کے لیے تو کوئی تمیز باقی نہیں رہی تھی۔۔۔ لیکن حماد کی والدہ کے لیے وہی تمیز، وہی لہجہ تھا!!!

اسما کی بات سنتے ہوئے وہ حیران رہ گئیں۔۔۔ اس کی بات سن پر جیسے کسی قیامت کی طرح گری تھی۔۔۔۔۔!!

” What ? “

ان کے چہرے پر سوالیہ نشانات ظاہر ہوئے تھے جیسے انھیں یقین ہی نا آیا ہو کہ ان کا بیٹا بھی ایسا کچھ کر سکتا ہے۔۔۔۔

” اسما حماد ایسا نہیں ہے!!! “

انھوں نے اسے سمجھانا چاہا تھا کہ حماد ایسی حرکت نہیں کر سکتا ہے!!!! وہ ایسا لڑکا نہیں ہے۔۔۔۔!

” امی !!! میں اپنی آنکھوں سے وہ سب دیکھ کر آئی ہوں “

اس نے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ سجائے ہوئے کہا۔۔۔۔ جس پر حماد کی والدہ نے اسے پریشان کن نگاہوں سے دیکھا جو اپنا بیگ پیک کرتی ہوئی بیڈ سے اتار کر زمین پر رکھتی ہوئی باہر کی طرف بڑھنے لگی!!

” اسما بیٹا رکو !! مسئلے کا حل گھر چھوڑ کر جانا نہیں ہوتا “

حماد کی والدہ نے اسے روکنا چاہا۔۔۔۔ اس کا بیگ پکڑا اور اس سے کہا تو اسما نے پریشانی سے انھیں دیکھا!!

” امی مجھے معاف کر دیجئے گا!! لیکن اب میرے یہاں رہنے کے لیے کچھ بھی نہیں بچا ہے “

اسما آہستگی سے اپنے بیگ پر سے ان کا ہاتھ ہٹاتی ہوئی بولی تو انھوں نے اسما نے حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا!!!! کہ شائید وہ رک جائے لیکن وہ نا رکی وہ چلی گئی۔۔۔

یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی کی دیوار تھی جو ان کے درمیان آمنہ نے کھڑی کر دی تھی۔۔۔۔ وہ گاڑی میں بیٹھتی ہوئی حویلی کی راہ پر چل دی تھی۔۔۔!

جیسے کی اسما گھر سے نکل کر گئی تھی اس سے ٹھیک پانچ منٹ کے بعد حماد نے اپنی گاڑی لا کر گھر روکی تھی۔۔۔

وہ جیسے کی گاڑی سے اترا تو اسے گھر بہت خاموش سنائی دیا۔۔۔۔ جیسے گھر پر کوئی ہو ہی نا!

وہ فوراً اندر اپنی والدہ کی طرف بڑھا تھا!!! اندر پہنچا تو وہ ہال میں موجود صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی! ان کی آنکھوں میں دکھ تھا۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!

” امی !!! اسما”

وہ ابھی اندر پہنچا ہی تھا کہ اور اپنی والدہ سے اس نے اسما کے متعلق پوچھا تھا ہی کہ اس کی والدہ غصے سے اس کی طرف بڑھی۔۔۔

” چلی گئی وہ۔۔۔۔۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے!! تمھیں شرم نہیں آئی یہ سب کرتے ہوئے اسے دھوکا دیتے ہوئے ؟

اس نے کیا کیا نہیں کیا حماد ہمارے لیے ! تمھارے لیے ! اس گھر کے لیے ! لیکن تم نے ایک مرتبہ بھی اسے دھوکا دینے سے پہلے نہیں سوچا ! “

وہ غصے میں نا جانے اسے کیا بول گئی تھی! لیکن حماد ان کے سامنے ایک بھی لفظ نہیں بولا تھا۔۔۔۔!! کیونکہ وہ سمجھ سکتا تھا اس وقت ان پر کیا بیت رہی ہو گی ؟

وہ چپ کر گیا تھا۔۔۔۔۔ اس کی امی اندر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی۔۔۔۔!! جبکہ وہ وہی بیٹھتا ہوا اسما کے خیالات میں کھو گیا۔۔۔

” بس ایک مرتبہ تو میری بات سنی ہوتی اسما “

اس نے دکھ بھرے لہجے میں خود سے کہا!!

جبکہ دوسری طرف اسما آنکھوں میں آنسو لیے ہوئے حویلی جا رہی تھی۔۔۔۔ وہ بل بہ بل اپنے آنسو صاف کرتی لیکن آنسو تھے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لیتے تھے!!

اسما حماد نو دھوکے باز سمجھ رہی تھیں۔۔۔۔ جبکہ وہ ایسا تھا بھی نہیں۔۔۔! یہ سارا کیا دھرا آمنہ کا تھا!!!!

” تو میرا شک بلکل صحیح نکلا!!! تم ہی محمل اسود کی اکلوتی بیٹی۔۔۔۔!! جو اس گھر میں اپنا بدلہ پورا کرنے کے لیے آئی ہو!! “

یہ بہت تیز ہواؤں کی رات تھی!! بادل اپنے زور پر گری رہا تھا۔۔۔۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے بارش ہونے والی ہو۔۔۔ سردیوں کی ٹھنڈی رات کہ ٹھنڈی ہوائیں اپنے عروج پر چل رہی تھی!!! وہ دونوں اندھیرے میں کھڑی تھی۔۔۔

” بالکل ٹھیک کہا آپ نے کنول بیگم!! میں محمل اسود کی ہی بیٹی ہوں۔۔۔۔!!! اور مجھے امید ہے کہ یہ نام سنتے ہی آپ کے پسینے چھوٹ گئے ہوں گے!

ویسے یہ جھٹکا کیسے لگا آپ کو ؟ اور ٹھیک کہا آپ نے کنول بیگم کہ میں اپنے ماں باپ کا بدلہ لینے کے لیے ہی یہاں پر آئی ہوں۔۔۔! “

کنول بیگم نے ہال کی لائٹس آن کی تھی۔۔۔۔ اس لڑکی کا چہرہ ان پر عیاں ہوا جس نے ابھی یہ سارے الفاظ ادا کیے تھے!!

” فاریہ !!! میں جانتی تھی کہ تم محمل اسود کی ہی بیٹی ہوں۔۔۔۔۔!!! کیونکہ تمھیں اللہ تعالیٰ نے جو چہرہ دیا ہے۔۔۔۔! وہ سارے کا سارا تمھاری ماں پر گیا ہے۔۔۔ اسی وجہ سے تو میں تم سے زیادہ نفرت کرتی ہوں۔۔۔

پہلے دن سے ہی میں سمجھ گئی تھی کہ تم محمل اسود کی ہی بیٹی ہو۔۔۔۔!!! “

ہاں وہ فاریہ تھی جس سے کنول بیگم بات کر رہی تھی۔۔۔!!! فاریہ کی ماں ” محمل اسود ” تھی۔۔۔

وہ ابھی بول ہی رہی تھی جب ہی فاریہ اس کی بات کاٹتی ہوئی ہنسی تھی!!! اسے دیکھ کر کنول بیگم کو غصہ آیا۔۔۔

” ارے کنول بیگم !!!! آپ کو کیا لگتا ہے کہ میں بیوقوف ہوں، پاگل ہوں، نا سمجھ ہوں ہممم !!! جو آپ میرے ہی آدمیوں سے میری انفارمیشن نکلوائے گی اور مجھے کچھ بھی علم نہیں ہو گا۔۔۔

بولیں!! کنول بیگم میرے بارے میں آپ نے جو انفارمیشنز نکلوائی تھی اس سب کا علم ہے مجھے۔۔۔

اور کیا کہا آپ نے کہ آپ کو پہلے ہی پتہ تھا کہ میں محمل اسود کی بیٹی ہوں!!! نہیں آپ کچھ بھی نہیں جانتی تھی۔۔۔ کہ میں کون ہو ؟ آپ کو بس میری ماں محمل اسود یاد تھیں۔۔۔

اگر آپ جانتی ہی ہوتی میرے بارے میں تو آپ کبھی بھی میرے متعلق کوئی بھی انفارمیشن نا نکلواتی!! “

فاریہ نے چہرے پر وہی طنزیہ مسکراہٹ لیے ہوئے کنول بیگم کا تمسخر اڑایا تھا۔۔۔۔ کنول بیگم نے اسے غصے سے دیکھا۔۔۔۔

” ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔!!! میں سب جانتی تھی تمھارے بارے میں!!! تمھارے ارادوں کے بارے میں “

کنول نے ایک ایک لفظ چبا کر کہا تھا۔۔۔۔

” اچھا !!! کنول بیگم ایسی بات ہے۔۔۔۔ ایسی ہی بات ہے تبھی تو تمھیں مجھے دیکھ کر موت نظر آ رہی ہے۔۔۔ ویسے کنول بیگم ماننا پڑے گا کہ تم بہت ہی زیادہ بیوقوف ہو۔۔۔ پچھلے دو مہینوں سے میں تمھارے ساتھ رہ رہی ہوں۔۔۔ اور تمھیں یہی نہیں پتہ چلا کہ میں کسی اور کی نہیں بلکہ محمل اسود کی بیٹی ہوں۔۔۔۔

وہی محمل اسود جسے تم نے روڈ ایکسیڈینٹ میرے بابا اسود کے ساتھ ق*تل کروا دیا تھا!!! یاد ہے نا تمھیں کنول بیگم!!!! “

پہلے تو فاریہ نے اس کا تمسخر ایک مرتبہ پھر سے اڑایا تھا۔۔۔۔!!!! لیکن پھر آہستہ آہستہ اس کے الفاظ، اس کا لہجہ زور پکڑتے چلے گئے تھے۔۔۔۔!!!!!

اس کی باتیں سنتے ہوئے کنول بیگم کا سانس سوکھ رہا تھا،، جسے دیکھ فاریہ مسکرائی!

” کیا ہوا کنول بیگم ؟ ایسے کیوں رایکٹ کر رہی ہیں۔۔؟ بہت بڑا جھٹکا لگا ہے کہ یہ محمل اسود کی بیٹی کہاں سے آ گئی وہ بھی آپ کو آپ کے انجام تک پہنچانے کے لیے!!

ایک اور راز کی بات بتاؤ کنول بیگم آپ کو میں کہ میں صرف یہی نہیں جانتی کہ آپ نے میرے ماں باپ کو آپ نے ق*تل کیا ہے میں یہ بھی جانتی ہوں کہ اسی دن اسی جگہ میرے ماں باپ کے ایکسیڈینٹ کے ٹھیک پانچ منٹ بعد آتش کے ماں باپ کا بھی ایکسیڈینٹ آپ نے ہی کروایا تھا۔۔۔

بیس سال پہلے آپ ہی تھی وہ جس نے ان کی گاڑی کی بریکس فیل کی تھی۔۔۔ “

کنول بیگم پر بجلی کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے۔۔۔۔!!! ہر لمحے اس پر ایک نیا پہاڑ ٹوٹ رہا تھا۔۔۔۔!!!

وہ حیران تھی کہ فاریہ کو آج سے بیس سال پہلے انھوں نے جو بھی کیا تھا اس کے متعلق سب معلوم تھا !! کہ کنول بیگم نے ہی فاریہ کے ماں باپ ” محمل ” اور ” اسود ” کو مروایا تھا ان کا ایکسیڈینٹ کروا کر !!!!!!! اور اس کے بعد اسی جگہ ، اس وقت کے ٹھیک پانچ منٹ بعد انھوں نے آتش کے ماں باپ کا ایکسیڈینٹ بھی کروایا وہ بھی فاریہ کے ماں باپ کی گاڑی کے ساتھ۔۔۔۔

کیونکہ آتش کے ماں باپ کج گاڑی کی بریکس فیل وہ پہلے ہی کر چکی تھی۔۔۔۔۔ اور یہ سب کنول بیگم نے بہت بڑی پلینگ کے ذریعے کیا تھا۔۔۔

لیکن اس کے لیے سب سے بڑی حیرانگی کی بات یہ تھی کہ یہ وہ سچ تھا جو اس دنیا میں کوئی بھی انسان نہیں جانتا تھا۔۔۔۔!!! کنول بیگم نے اتنی صفائی سے کام کیا تھا کہ کسی کو بھی اس کی اس حرکت کے بارے میں کوئی بھی علم نہیں ہوا تھا!!!

لیکن فاریہ وہ ان کے بارے میں سب جانتی تھی،،، کہ کنول بیگم نے کیا کب اور کیسے کیا ؟ بس وہ یہ نہیں جانتی تھی اس نے یہ سب کیوں کیا۔۔۔

کنول بیگم کے ماتھے پر سردی کی ٹھنڈی رات میں بھی پسینہ ٹپکا تھا۔۔۔۔!

” کیا ہوا کنول بیگم یہ سب سن کر آپ کے ماتھے پر پسینہ آ گیا !!! اس وقت کیا بنے گا آپ جب یہ ساری کی ساری حقیقت آپ کے بھانجے آتش کاظمی کو پتہ چلے گی “

اس کے ماتھے پر آئے ہوئے پسینے جو دیکھ فاریہ پر سکون لہجے میں بولی کہ وہ تو اتنے میں ہی ڈر گئی اس وقت کیا ہوگا جب یہ سب کچھ وہ آتش کاظمی کو بتا دے گی۔۔۔۔!!!

اس کی بات سنتے ہی کنول بیگم کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھی انھوں نے یہ سوچا ہی نہیں تھا۔۔۔ کہ اگر فاریہ کو یہ ساری باتیں معلوم ہیں تو وہ آتش کو بھی بتا سکتی ہے اور آتش نے اگر اس کی باتوں پر یقین کر لیا تو ؟ وہ کچھ سوچتے ہوئے مسکرائی۔۔۔۔

” فاریہ کیا لگتا ہے تمھیں ؟ کہ یہ اتنا آسان ہے کہ تم آتش کو بتاؤ گی کہ میں نے تمھارے اور اس کے ماں باپ کا ق*تل کیا ہے اور وہ اتنی آسانی سے تمھاری بات مان جائے گا ؟ “

اس نے طنزیہ مسکراتے ہوئے کہا!!! تو فاریہ بھی مسکرائی۔۔۔۔ جیسے اسے یقین ہو کہ آتش فاریہ کی بات پر یقین نہیں کرے گا۔۔۔

” اس کی فکر مت کریں کنول بیگم ثبوت بہت زیادہ ہیں میرے پاس یقین تو انھیں کرنا ہی پڑے گا۔۔۔۔!!! “

اس نے مسکراتے ہوئے کنول بیگم کو کہا تو اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔۔۔۔۔!! فاریہ اس کی سوچ سے بھی زیادہ تیز تھی۔۔۔۔! وہ جانتی تھی کہ اسے کیا کب اور کیسے کرنا ہے۔۔۔

” آپ کا وقت ختم ہونے والا ہے! جیل کی تیاری کر لیں کنول بیگم۔۔۔۔!!! “

فاریہ نے کہا تو وہ حیران رہ گئی۔۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کریں وہ چاروں طرف سے گر چکی تھی جب ہی اس کے ذہن میں ایک خیال آیا۔۔۔۔!!!

” میرا تو جو ہوگا وہ ہو کر رہے کا فاریہ !! لیکن تم نے سوچا ہے کہ تمھارا کیا ہوگا ؟؟ جب آتش کو تمھاری حقیقت پتہ چلے گی ؟ جب اسے یہ پتہ چلے گا کہ اس کی بیوی نے اس سے شادی صرف اور صرف اپنا بدلہ لینے کے لیے کی ؟ وہ چھوڑ دے گا تمھیں۔۔۔!!! پھر کیا کرو گی تم فاریہ ؟ “

کنول نے فاریہ کو آنے والے وقت سے ڈرانے کی کوشش کی تھی کہ شائید فاریہ اس سب سے ڈر کر کہ آتش کو یہ جب یہ سب پتہ چلے گا تو وہ کیا کرے گا ؟ تو شائید وہ اس کے خلاف سارے جتنے بھی ثبوت ہیں انھیں ختم کر دیے یا اس سے بدلہ نا لے !!!

” اور جب آتش کو یہ پتہ چلے گا۔۔۔۔ کہ آپ نے ہی اس کے ماں باپ کا ایکسیڈینٹ کروایا تھا۔۔۔ تو پھر آپ نے سوچا ہے کہ آپ کا کیا ہو گا؟؟ کیسے بچیں گی پھر آپ سچ سے ؟ “

فاریہ نے چہرے پر غصے کی تاثرات لیے ہوئے اس پر جواباً حملہ کیا جب آتش کو اس کی حقیقت کے بارے میں پتہ چلے گا تو پھر کیا ہو گا ؟ کنول بیگم نے اسے پریشانی سے دیکھا۔۔۔۔۔

” اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم نے آتش سے شادی صرف اور صرف اپنے ماں باپ کا بدلہ لینے کے لیے کی!!! اس کے جزبات اس کے احساسات اس کی محبت کی کوئی قدر نہیں ہے تمھیں ؟ “

کنول نے کہا تو اس نے اپنا سر ایک طرف ہلایا!!!

” جو بھی ہو۔۔۔ پر ہاں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آتش سے شادی میں نے اپنے ماں باپ کی موت کا آپ سے بدلہ لینے کے لیے کی۔۔۔ آپ ایک قا*تل ہیں۔۔۔

لیکن اب !!! “

” لیکن اب کیا فاریہ جی ؟ “

وہ بول ہی رہی تھی جب ہی ایک آواز اسے خاموش کروا گئی۔۔۔۔ اس کی زبان پر پابندی لگا گئی تھی یہ آواز۔۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو پیچھے ” آتش کاظمی” کو کھڑا پایا۔۔۔

وہ سمجھ گئی کہ کنول نے یہ سب کچھ کیوں کہا۔۔۔۔

” آتش میری بات “

وہ کافی دیر تک اسے دیکھتی رہی جو آنکھوں میں اس کے لیے بے یقینی لیے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا !! شائید یہ اثر فاریہ کی کہی ہوئی پچھلی بات کا تھا۔۔۔۔

فاریہ نے اس سے کچھ کہنا چاہا لیکن اس نے ہاتھ کے اشارے سے اسے خاموش کروا دیا!!

” خالہ اندر چلیں “

وہ ایک سرد نگاہ فاریہ پر ڈالتا ہوا کنول بیگم کی طرف بڑھا!! اور انھیں کیے اندر کی طرف بڑھا جبکہ کنول بیگم نے شیطانی مسکراہٹ لیے ہوئے فاریہ کی طرف دیکھا۔۔

فاریہ نے غصے سے اسے دیکھا۔۔۔۔ وہ جیت کر بھی ہار رہی تھی۔۔۔۔!! اس کا دل ٹوٹ سا گیا تھا!! آتش کو بھی یقین نہیں آیا تھا یہ سب سن کر وہ فاریہ سے بات کرنا چاہتا تھا….!! اور اب اس کی غلط فہمی فاریہ سے بات کر کے ہی دور ہونی تھی۔۔۔! فاریہ وہی صوفے پر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔!

کایان کمپنی سے حویلی لوٹ آیا۔۔۔!! حویلی میں داخل ہو کر اس نے سب سے پہلے شہناز بیگم اور شہزاد ملک سے سلام لیا۔۔۔۔ اکثر اب وہ جب بھی کمپنی سے واپس لوٹ کر آتا تو ازا اسے کسی نا کسی مین ضرور مصروف ملتی لیکن آج جب وہ واپس آیا تو ازا کہیں بھی نہیں تھی۔۔۔۔!!!!

وہ بغیر کسی سے بھی پوچھے اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔۔۔ جیسے ہی کمرے میں پہنچا تو اسے سامنے کھڑا پایا!

وہ نیلے رنگ کے گرم سوٹ، کھلے بالوں ، اور لائٹ میک اپ کے ساتھ شیشے کے سامنے کھڑی اپنا عکس اس میں دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ کایان کافی لمحے اسے دیکھتا رہا اور پھر آہستگی سے اس کی طرف بڑھا۔۔۔ اور اس کے پیچھے جا کر کھڑا ہو گیا۔۔۔ اس کا عکس اپنے پیچھے شیشے میں دیکھتی ہوئی ازا ہلکا سا مسکرائی۔۔۔۔!!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *