Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt NovelR50484 Aseer E Mohabat (Episode - 32)
Rate this Novel
Aseer E Mohabat (Episode - 32)
Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt
آتش اور فاریہ کے نکاح کی تیاریاں مکمل ہو چکی تھی۔۔۔۔!!! سارے مہمان آ چکے تھے۔۔۔۔ چونکہ مہندی اور بارات کا فنکشن اکٹھا کیا جا رہا تھا اسی وجہ سے اس فنکشن میرج ہال میں منعقد ہونا تھا۔۔۔۔
ایک خوبصورت سے بنے ہوئے اسٹیج جسے پھولوں اور مختلف رنگوں کی لائٹس سے سجایا گیا تھا۔۔۔۔ اس پر دلہا اور دلہن کے لیے مختلف نشستیں تھی۔۔۔۔
جن کے درمیان پھول لگائے گئے تھے!!! تا کہ نکاح تک دلہا دلہن کے درمیان نکاح تک پردہ حائل ہو سکے۔۔۔!!!
خوبصورت سرخ رنگ کا خوبصورت موتیوں سے بھرا لہنگا پہنے ہوئے فاریہ نے سامنے کھڑے اس سفید رنگ کی شیروانی میں ملبوس آتش کاظمی کی طرف نظر دوڑائی!!!
جو اپنی ہیزل نگاہوں سے اسے ہی مسکرا کر دیکھتے میں مصروف تھا۔۔۔۔!! انوشا کو ان پھولوں کے درمیان سے اس کی نیم مسکراہٹ اور اپنا دیدار کرتی ہوئی اس کی نگاہیں دیکھائی دی تھی۔۔۔۔!!!
کنول بیگم کی غصے کی،، اور ہلکی سی پریشانی بھری نگاہیں اپنے سامنے بیٹھی ہوئی فاریہ کی طرف دوڑائی جو مسکرا رہے تھے!!
وہ لوگ یہاں پر نکاح کی رسم ادا کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔۔۔ مولوی صاحب نے نکاح پڑھانے کی اجازت لیتے ہوئے نکاح کی رسم شروع کی تھی!!!
” فاریہ سجاد ولد سجاد ظہیر آپ کا نکاح آتش کاظمی ولد زوہیب کاظمیکے ساتھ بعوض حق مہر تیس لاکھ روپے کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟؟ “
مولوی صاحب نے نکاح پڑھاتے ہوئے سب سے پہلے فاریہ سے سوال کیا تھا کہ کیا اسے یہ نکاح قبول ہے ؟؟
” ق۔۔۔بول ہے!!! “
فاریہ پہلے تو تھوڑا سا اٹک گئی تھی لیکن پھر اس نے نظر اٹھا کر آتش کی طرف دیکھا اور ” قبول ہے” کہا۔۔۔۔!!
” کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟؟ “
” قبول ہے!!! “
” کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟؟ “
” قبول ہے!!! “
تینوں مرتبہ مولوی صاحب کے کیے جانے والے سوالات پر اس نے سر اثبات میں ہلاتے ہوئے آتش کاظمی کے ساتھ اپنے کیے جانے والے اس نکاح کو قبول کیا تھا۔۔۔۔” اب آتش کی باری تھی اس نکاح کو قبول کرنے کی۔۔۔۔!!! کنول بیگم کی دل کی دھڑکنیں تیز سے تیز تر جا رہی تھی۔۔۔!!!!!!
فاریہ کے بعد مولوی صاحب آتش سے متوجہ ہوئے اور یہی سارے سوالات اس سے کیے۔۔۔۔
” آتش کاظمی ولد زوہیب کاظمی آپ کا نکاح فاریہ سجاد ولد سجاد ظہیر کے ساتھ بعوض حق مہر تیس لاکھ روپے کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟؟ “
” قبول ہے۔۔۔۔!! “
آتش نے ایک بھی لمحہ لگائے بغیر اس کو اپنے نکاح میں قبول کر لیا تھا!!!!
” کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟؟ “
” قبول ہے!!! “
” کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟؟ “
” قبول ہے!!! “
اسے اس نکاح کو قبول کرنے صرف اور صرف تیس سیکنڈ لگے تھے۔۔۔۔!!! اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ جلد سزا جلد فاریہ کو اس دنیا کے دکھوں سے بچا کر اپنے سینے میں چھپا لے!! لیکن بے صبر ہونا بھی اچھی بات نہیں ہوتی۔۔۔۔!!
نکاح پڑھوانے کے بعد مولوی صاحب نے پہلے فاریہ سے اس کے دستخط لیے اور اس کے بعد آتش نے نکاح نامے پر دستخط کرتے ہوئے اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنا بنا لیا تھا۔۔۔
اس کے چہرے سے تو جیسے مسکراہٹ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔۔۔” ایک ایک کر کے وہ زریر اور اپنے دوسرے دوستوں کے گلے ملا تھا۔۔۔!!!!
اس نے بعد دلہا اور دلہن کے درمیان حائل پھولوں سے بنے ہوئے پردے کو ہٹایا گیا۔۔۔۔!!! ان دونوں نے سامنے سے ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔۔۔”
آتش کے چہرے پر ابھی بھی مسکراہٹ تھی!!! اس نے فاریہ کی طرف آنکھ دبا کر دیکھا تھا۔۔۔۔!!! اسے ایک مرتبہ پھر سے آتش کے وہ جملے یاد آئے تھے جنھیں وہ کبھی بھی بھول نہیں سکتی تھی!!!
( ” میں فاریہ جی کا ہونے والا شوہر ہوں ” )
اور اب وہ اس کی بیوی تھی۔۔۔۔
( ” تھپڑ ہی سہی لیکن آپ نے ہمیں چھوا تو ” )
اس جملے کو یاد کرتی ہوئی وہ ایک مرتبہ پھر سے مسکرا گئی تھی۔۔۔!
آتش بہت نیک دل اور محبت کا سچا شخص تھا اس نے کبھی بھی فاریہ سے کوئی جھوٹ نہیں کہا تھا!!! اس نے کبھی بھی اس کے سامنے شوخیاں نہیں ماری تھی بلکہ ہمیشہ اس کا تحفظ کیا تھا۔۔۔ فاریہ کے لیے اپنے ماں باپ جو اب اس دنیا میں نہیں رہے تھے ان کے بعد آتش کا درجہ تھا۔۔۔۔
وہ بہت خوش تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اسے آتش جیسا ہمسفر دیا تھا۔۔۔۔!! نکاح کے بعد رخصتی کی رسم ادا کی گئی تھی۔۔۔۔۔
__ 𝓐𝓫𝓭𝓾𝓵 𝓐𝓱𝓪𝓭 𝓑𝓾𝓽𝓽 𝓦𝓻𝓲𝓽𝓮𝓼 __![]()
زریر اور انوشا شام کے وقت گھر واپس لوٹ کر آئے تھے۔۔۔۔ رخصتی کی رسم ادا کر دی گئی تھی۔۔۔۔
” ارے تم لوگ آ گئے “
وہ لوگ گھر پہنچے تو سامنے ہی انھوں نے اپنے دادا جان کو پایا تھا۔۔۔۔!!! وہ مسکرا کر بولے تھے۔۔۔۔! جس پر انوشا نے سر اثبات میں ہلایا۔۔۔
” اچھا بتاؤ کیسا رہا سب ؟ اور انوشا بیٹا آپ بتاؤ کیسا رہا سب کچھ ؟؟ کیسی لگی آپ کو پاکستانی ویڈنگ!!! “
انھوں نے مسکراتے ہوئے انوشا سے پوچھا تھا کہ اسے پاکستان کی شادی کیسی لگی ؟؟ کیونکہ اس نے زندگی میں پہلی مرتبہ کوئی پاکستانی ویڈنگ اٹینڈ کی تھی جسے اس نے بہت انجوائے کیا تھا!!!
” دادا جان !!! مجھے بہت زیادہ مزہ آیا۔۔۔۔ بہت انجوائے کیا میں نے یو نو واٹ پاکستان کے لوگ بہت ہی زیادہ ملن سار ہوتے ہیں!!! بہت اچھے بھی ہوتے ہیں۔۔۔
اور مجھے بہت زیادہ مزہ آیا ویڈنگ کا۔۔۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ دلہن سے زیادہ میں نے اس شادی کو انجوائے کیا ہے۔۔۔”
انوشا نے مسکرا کر بولنا شروع کیا کہ اس نے بہت لطف اٹھایا اس شادی سے۔۔۔مزید اپنی خوشی کا اظہار کرنے کے لیے اس نے مختلف الفاظ کا چناؤ کیا تھا۔۔۔ جب ہی دادا جان کی نظر ان کے ہاتھ پر پڑی تو انھیں معلوم ہوا کہ انوشا نے مہندی لگوائی ہوئی ہے۔۔۔
” انوشا بیٹا تم نے مہندی لگوائی ہے اپنے ہاتھوں پر ؟؟ “
دادا جان نے اس کے ہاتھوں پر لگی ہوئی مہندی کی طرف دیکھتے ہوئے اس سے سوال کیا تھا جس پر زریر کی نگاہیں اس کے ہاتھ پر پڑی تھی۔۔۔۔
اس نے آنکھیں گھمائی تھی کہ اس کے مہندی لگوانے کا فایدہ کیا ہے ؟ نا تو اس نے اس کا نام لکھوایا ہے اپنے ہاتھ پر جیسا کہ وہ پہلے ہی منع کر چکی ہے اسے کہ وہ اس کا نام اپنے ہاتھ پر نہیں لکھوائے گی۔۔۔۔!!!
” ج۔۔ جی “
انوشا نے جیسے ہی ان کا سوال سنا تو جیسے اس کے ہوش ہی اڑ گئے تھے۔۔۔۔!! اس نے جیسے پریشانی سے اپنا ہاتھ چھپانے کی کوشش کی تھی شائید وہ یہ چاہتی تھی کہ دادا جان اس کے ہاتھ کی مہندی نا دیکھے !!!
” اچھا !! دیکھاؤ تو سہی کہ کیسی لگ رہی ہے !!! “
دادا جان نے مسکرا کر انوشا سے کہا وہ دیکھائے انھیں کہ کیسی لگ رہی ہے یہ مہندی اس کے ہاتھ پر تو اس کے ہوش اڑ گئے تھے۔۔۔۔
” وہ۔۔۔۔!! رہنے دیں نا کیا کریں گے ؟؟ بعد میں دیکھ لیجئے گا “
انوشا نے اپنے ہاتھوں کو اپنے جسم پر موجود دوپٹے سے ڈھک دیا تھا۔۔۔۔۔!!! زریر نے آنکھیں چھوٹی کر کے اسے دیکھا۔۔۔۔” کہ وہ ایسا کیوں کر رہی ہے ؟؟
” ارے نہیں بھئی میں تو دیکھو گا کہ میری بیٹی نے کیسی مہندی لگوائی ہے چلو شاباش انوشا بیٹا دیکھاؤ مجھے “
وہ تو جیسے ضد پر ہی اتر آئے تھے۔۔۔۔!!!!
” میں نے کہا نا کہ میں کل دیکھا دوں گی “
انوشا نے ایک مرتبہ پھر سے انھیں منع کیا تھا۔۔۔۔ اب زریر کے بس ہو گئی تھی اس نے انوشا کا دونوں ہاتھ پکڑتے ہوئے دادا جان کے سامنے کر دیئے تھے۔۔۔۔
” یہ لیں دیکھ لیں دادا جان”
اس نے سرد مہری سے انوشا کی طرف نگاہیں دوڑاتے ہوئے کہا۔۔۔۔!!! جبکہ سامنے کھڑے اس کے دادا جان انوشا کے ہاتھوں کو دیکھ کر ساکت پڑ گئے تھے۔۔۔۔!! انوشا کا سانس سوکھ گیا تھا۔۔۔۔ کیونکہ انوشا نے ہاتھ پر لکھا ہوا تھا ” آئی لو زریر!!!! “
” یہ کیا ہے ؟؟؟ “
دادا جان نے حیرانگی سے ان دونوں کی طرف دیکھا۔۔۔۔!! جس پر زریر کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔۔۔۔! اس نے انوشا کے ہاتھوں کو موڑ کر اپنی طرف کیا۔۔۔۔ تو وہ بھی وہ لفظ پڑھتے ہوئے حیران رہ گیا تھا!!!
” میں نے پوچھا انوشا یہ سب کچھ کیا ہے ؟ زریر ؟ کیا ہے یہ سب ؟؟؟ “
انوشا نے فوراً اپنے ہاتھ زریر کے ہاتھوں سے چھڑواتے ہوئے نیچے کی طرف جھکا لیے تھے!!! دادا جان نے ایک مرتبہ پھر سے اس سے سوال کیا جس پر وہ خاموش رہی اور پھر انھوں نے زریر کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے اس سے پوچھا تھا کہ یہ کچھ کیا ہے ؟؟ زریر کو سمجھ نہین آئی تھی کہ وہ کہاں سے شروع کرے بات ؟ کیسے سمجھائے وہ انھیں ؟؟؟؟
” انوشا بیٹا جب میں آپ کے پاس آیا تھا یہ پوچھنے کے لیے کیا آپ زریر سے شادی کرنے کے لیے تیار ہیں ؟؟
تو آپ نے کہا تھا کہ آپ کو زریر میں کوئی بھی انٹرسٹ نہیں ہے۔۔۔۔!!! آپ نے صاف انکار کر دیا تھا اس شادی سے !!!
اور اب یہ سب کچھ ؟؟ کیا ہے یہ ؟ “
ان کے دادا جان نے بڑے ہی اچھے رویے کا اظہار کیا تھا!!! انوشا فوراً اپنی نظریں جھکا گئی تھی۔۔۔۔!! وہ اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو سختی سے ایک دوسرے میں پیوست کرنے لگی تھی!!
انھوں نے کہا تھا کہ جب وہ اس سے زریر کے رستے کی بات کرنے آئے تھے تو اس وقت زریر کی کافی انسلٹ کر کے انھیں منع کر دیا تھا اور اب اس نے اپنے ہاتھ پر لکھوایا تھا کہ وہ زریر سے محبت کرتی ہے۔۔۔!!!
” کیوں انوشا ؟ زریر کیا ہے یہ سب ؟ اگر تم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرنے ہی لگی گئے ہو تو بتاؤ مجھے میں تم تم کی شادی کرواؤ گا۔۔۔!!! “
دادا جان نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔
” وہ تو پہلے ہی ہو چکی ہے!!! “
انوشا کے ہلکے سے الفاظ دادا جان کو حیرانگی میں مبتلا کر گئے تھے!!
” کیا ؟ “
انھوں نے حیرانگی سے کہا !!
” میں بتاتا ہوں سب آپ کو !!!! “
اپنے دادا جان کی خراب ہوتی طبعیت کو دیکھ کر زریر نے ان سے کہا وہ انھیں ساری حقیقت سے آگاہ کرتا ہے۔۔۔۔!!
انوشا فوراً اندر کی طرف بڑھ گئی تھی۔۔۔۔”
جبکہ زریر اپنے دادا جان کو لیے ہوئے ڈرائنگ روم کی طرف بڑھا تھا!!! ڈرائنگ روم میں لے جا کر زریر نے انھیں ساری بات بتانا شروع کی تھی۔۔۔۔!
کہ اس نے انوشا سے نکاح ، کب ، کیسے ، اور کیوں کیا ؟ اس نے شروع سے لے کر آخر تک اپنے دادا جان کو ساری بات سے آگاہ کیا تھا!!!
ساری باتیں سن کر اس کے دادا جان کو بہت زیادہ جھٹکا لگا تھا۔۔۔۔ انھیں دکھ اس بات کا نہیں تھا کہ زریر نے انوشا سے شادی کر لی ہے۔۔۔۔!!!!
دکھ تو انھیں یہ تھا کہ ان دونوں نے انھیں اتنا بھی قابل نا سمجھا کہ وہ دونوں اپنے نکاح کے بارے میں انھیں بتا سکیں !!! لیکن پھر زریر نے انھیں حالات کی نزاکت سے آگاہ کیا تھا!!!
کافی دیر سمجھانے کے بعد وہ بات سمجھ گئے تھے۔۔۔۔!! زریر نے اپنے دادا جان سے معافی بھی مانگی تھی۔۔۔۔ وہ انھیں کمرے میں لے گھا اور انھیں دوائی کھلائی اور انھیں سلاتے ہوئے وہ کمرے سے نکل گیا تھا۔۔۔۔!!!!
__ 𝓐𝓫𝓭𝓾𝓵 𝓐𝓱𝓪𝓭 𝓑𝓾𝓽𝓽 𝓦𝓻𝓲𝓽𝓮𝓼 __![]()
” شاہینہ ادھر آؤ!! اور اسما اور حماد کے کمرے کی صفائی کرو اتنے دن گزر گئے ہیں اور تم نے صفائی تک نہیں کی۔۔۔۔!! “
حماد کی والدہ اپنے گھر کی کام والی جس کا نام شاہینہ تھا اسے حماد اور اسما کے کمرے میں بلایا اور اس سے کہا کہ اس نے دو دن سے اسما اور حماد کے کمرے کی صفائی نہیں کی ہے،،، تو اب وہ ان کے کمرے کی صفائی کرے! جس پر وہ سر ہاں میں ہلا گئی تھی۔۔۔۔!!! اور کمرے کی صفائی کرنے لگی۔۔۔ حماد آفس میں تھا جبکہ اسما اپنی دوست کے ساتھ شاپنگ کرنے کے لیے گئی ہوئی تھی!!
” بی بی جی یہ دیکھیں کہیں یہ کاغذ آپ کے کام کا تو نہیں ہے ؟؟ “
شاہینہ ایک کاغذ لیے ہوئے حماد کی والدہ کے پاس آئی تھی اور ان سے پوچھا تھا کہ کیا یہ کاغذ ان کے کسی کام کا تو نہیں ؟ حماد کی امی جو چائے پی رہی تھی۔۔۔۔ انھوں نے شاہینہ کی بات سنتے ہوئے وہ کاغذ کا ٹکڑا پکڑا۔۔۔۔
اور اسے کھول کر دیکھا تھا!!! جیسے ہی انھوں نے اس کاغذ کو کھولا تو ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھی۔۔۔!!! کیونکہ اس کاغذ پر وہ شرائط لکھی ہوئی تھی جو اسما نے حماد سے شادی کرنے کے لیے رکھی تھی۔۔۔۔!!!
ان کی یہ شادی کنٹریکٹ میرج تھی جان چکی تھی وہ!!! انھیں وہ سب پڑھ کر بہت زیادہ حیرانگی ہوئی تھی۔۔۔ دل ٹوٹ سا گیا تھا ان کا۔۔۔ یعنی کہ یہ خوشیاں ان کا ایک ساتھ ہونا سب کچھ جھوٹ تھا !! یہ سب کچھ صرف اور صرف ایک دکھاوا تھا اس کے سوال کچھ بھی نہیں تھا یہ۔۔۔”
وہ کاغذ ان کے ہاتھ سے گر پڑا تھا!! ان کو اپنا سر ہلتا ہوا محسوس ہو رہا تھا!! شاہینہ نے اگر انھیں سہارا نا دیا ہوتا تو شائید وہ زمین بوس ہو چکے ہوتی۔۔۔!!
شاہینہ کا سہارا لیتے ہوئے وہ پاس میں ہی پڑی ہوئی کرسی پر بیٹھ گئی تھی۔۔۔ انھیں اپنے بیٹے اس قسم کی حرکت کی امید نہیں تھی!!
__ 𝓐𝓫𝓭𝓾𝓵 𝓐𝓱𝓪𝓭 𝓑𝓾𝓽𝓽 𝓦𝓻𝓲𝓽𝓮𝓼 __![]()
ایک حسین صبح کا آغاز ہو چکا تھا۔۔۔۔!!! جب سورج کی تیز شعائیں کایان کی آنکھوں پر پڑی تو وہ منھ بسورتا ہوا بیڈ سے اٹھا۔۔۔۔!!!
وہ ازا کو اپنے آغوش میں پانا چاہتا تھا لیکن وہ پہلے ہی اٹھ چکی تھی۔۔۔۔ اس نے جیسے ہی کمرے میں نظر دوڑائی تو اسے کھڑکی کے سامنے کھڑی نیلے رنگ کی فراک میں ازا دیکھائی دی۔۔۔
وہ مسکراتا ہوا خود پر سے کنفرٹر اتارتا ہوا اس کی طرف بڑھا تھا !!! اس نے کالے رنگ کا ٹراؤزر اور شرٹ پہنی ہوئی تھی۔۔۔۔
” کیا ہوا آپ یہاں کھڑی ہیں ؟ “
وہ بہت خاموش سی چپ چاپ سی کھڑی تھی وہاں پر۔۔۔۔ کایان نے مسکراتے ہوئے اس کے کندھوں پر اپنے ہاتھ رکھتے ہوئے اس کا رخ اپنی طرف کیا۔۔۔۔
” کچھ نہیں!! پتہ نہیں کیوں کایان میرا دل بہت زیادہ گھبرا رہا ہے بہت زیادہ جیسے کچھ بہت برا ہونے والا ہو !!! “
اس کے چہرے پر پریشانی تھی اس نے کایان کو بتایا کہ اسے لگتا ہے کہ جیسے کچھ بہت ہی برا ہونے والا ہے !!!
” کچھ نہیں ہو گا !!! آپ فکر مت کریں “
کایان نے اسے تسلی دیتے ہوئے اس کے ماتھے پر اپنے اپنی محبت کی مہر چھوڑی تھی۔۔۔۔ ازا ہلکا سا مسکرائی!!!
