Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aseer E Mohabat (Episode - 17)

Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt

 
” آپ بھی بتائے نا اپنے بچپن کے بارے میں “

کچھ لمحات کی خاموشی کے بعد ازا نے اس سے کہا کہ وہ بھی اسے اپنے پچپن کے بارے میں جس پر کایان ماضی کی تلخ یادوں میں کھو گیا تھا۔۔۔۔

” میرا بچپن ؟؟؟ “

کایان نے چہرے پر سنجیدگی لیے ہوئے کہا۔۔۔۔ لیکن وہ سنجیدگی بھی ازا کو اس کی معصومیت ہی لگ رہی تھی۔۔۔۔۔!! جب ہی ازا نے اس کی بات سنتے ہوئے اپنا سر ہاں میں ہلایا۔۔۔۔

” میرا بچپن آپ کے بچپن کی طرح بالکل بھی نہیں گزرا۔۔۔۔”

کایان نے اس کے اشارے کو دیکھ کر صوفے پر سیدھا لیٹتے ہوئے اپنے بچپن کے بارے میں اسے بتانا شروع کیا۔۔۔

” بچپن سے ہی تائی جان مجھے پسند نہیں کرتی تھی۔۔۔۔۔!!! کیونکہ ارحم کے بعد جب میں پیدا ہوا تو سب کا رحجان میری طرف ہو گیا ایسا لگتا تھا انھیں،،، انھیں لگتا تھا کہ گھر والے ارحم سے زیادہ مجھے ایمپورٹینس دیتے ہیں۔۔۔۔ جبکہ ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔۔۔۔

وہ بچپن سے ہی میرے کھلونے جو بابا ، تایا جان لاتے تھے مجھ سے لے کر ارحم کو دے دیتی۔۔۔۔ لیکن میری ماں ہمیشہ میرا خیال کرتی روز مجھے نئے کھلونے لا کر دیتی۔۔۔۔ لیکن ایک ایسا آیا جب انھیں کینسر ہو گیا۔۔۔۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک دن ایسا بھی آیا جب وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئی “

یہ کہتے ہوئے کایان کے آنکھوں کے کناروں سے آنسو بہے تھے۔۔۔۔ ازا کو بھی کافی افسوس ہوا تھا یہ سن کر۔۔۔۔ ایک لمحے کی خاموشی کے بعد کایان نے اپنی بات کو دوبارہ جاری کیا۔۔۔۔

” کچھ دن تک تو مجھے پھوپھو نے سنھبالا لیکن پھر وہ بھی اپنے گھر چلی گئی تھی اور اب میری زمہ داری تائی جان پر تھی جو مجھے ویسے ہی پیار ہی نہیں کرتی تھی لیکن اس وقت تو میں صرف اور صرف سات سال کا تھا۔۔۔۔ مجھے ان باتوں کی زیادہ سمجھ نہیں آتی تھی۔۔۔۔!!! جب بھی اگر میں سن سے کوئی بھی فرمائش کرتا تو وہ مجھے ڈانٹ دیتی جبکہ میری ہر فرمائش ، میری فرمائش کو میرے بابا پوری کرتے تھے۔۔۔۔ وہ زیادہ تر شہر میں ہوتے تھے۔۔۔۔۔ ایک رات ارحم نے مجھ سے میرا کھلونا چھین لیا۔۔۔۔ اور غصے میں میں نے اس کا کھلونا توڑ دیا۔۔۔!! جس سے وہ رونے لگا،،،، تائی جان نے مجھے سزا کے طور پر ایک کمرے میں بند کر دیا جہاں پر صرف اور صرف اندھیرا تھا اس کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔۔۔ مجھے بہت ڈر لگا میں پوری رات روتا رہا۔۔۔۔!! لیکن انھیں مجھ پر زرا بھی ترس نا آیا۔۔۔ روتے روتے ہی میں سو گیا اور میری آنکھ صبح اسوقت کھلی جب بابا میرے پاس بیٹھے،،،، تائی جان نے مجھے سختی سے منع کیا تھا اس بارے میں کسی کو بھی بتانے سے میں بچا تھا میں نے انکی بات مان لی اور یونہی دن گزرنے لگے۔۔۔۔۔!!! ایک مرتبہ پھر سے انھوں نے یہی کیا اور مجھے اندھیرے والے کمرے میں بند کر دیا۔۔۔۔ اس رات میں بہت ڈرا تھا۔۔۔۔ میں بہت چلایا پر انھیں مجھ پر ترس نہیں آیا تھا۔۔۔۔!! اور میں اندھیرے کے ڈر سے بے ہوش ہو گیا۔۔۔۔ صبح تایا جان نے بہت غصہ کیا تائی جان پر حتی کہ ان کے چہرے پر تھپڑ بھی مارا اور اس کا زمہ دار تائی جان نے مجھ پر ڈال دیا کہ میری وجہ سے ہوا ہے یہ سب۔۔۔۔ کچھ دنوں بعد میرے بابا کی ایک ایکسیڈینٹ میں ڈیتھ ہو گئی۔۔۔۔۔ میں اس وقت چودہ سال کا تھا۔۔۔۔!!! تائی جان کا رویہ میرے ساتھ بد سے بد تر ہوتا جا رہا تھا۔۔۔۔ لیکن ان کو خوف میرے دل سے جیسے مٹ ہی گیا تھا۔۔۔ میری خالہ نے جب تائی جان کا میرے ساتھ یہ رویہ دیکھا تو وہ تایا جان پر برہم ہوئی اور مجھے اپنے ساتھ لندن لے گئی۔۔۔۔!!! اور میں کئی سالوں تک ان کے ساتھ رہا جو میری زندگی کے حسین ترین سال تھے۔۔۔۔۔ جب میں پچیس سال کا ہوا تو تایا جان نے مجھے واپس بلوایا تا کہ میں اپنے والد کا بزنس سنبھال سکو “

کایان کے کہے ہوئے ایک ایک حرف میں اس کے دکھ تھے ،،، اس کے اندر کی تکلیف تھی جسے ازا نے با خوبی محسوس کیا تھا۔۔۔۔۔!!! اس نے جو بچپن میں مظالم سہے انھیں سن کر ازا کی آنکھ سے بھی آنسو بہہ گئے تھے۔۔۔۔!!

” آئم سوری کایان!! مجھے آپ سے نہیں پوچھنا چاہئیے تھا “

ازا نے جو ایک نظر اس کی طرف دیکھا تو اسے روتا ہوا پایا شائید ماں باپ کی یاد اسے ستا رہی تھی۔۔۔۔ جسے دیکھ کر ازا کو اپنے پوچھے ہوئے سوال پر ندامت محسوس ہوئی کہ کاش وہ اس سے اس کے بچپن کے بارے میں نا پوچھتی !!

” سوری کی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔ بلکہ اس سے تو میرے دل کا بوجھ ہلکا ہو گیا۔۔۔۔ سالوں سے جو بوجھ تھا میرے دل پر وہ اتر گیا ہے تھینک یو۔۔۔۔ آج سے پہلے میں نے یہ باتیں کبھی بھی کسی کو بھی نہیں بتائی لیکن آج آپ سے بات کر کے مجھے سکون محسوس ہو رہا ہے ،،، پر ابھی آپ سو جائیں رات کافی ہو چکی ہے “

کایان نے اسے بتایا کہ اس سے یہ ساری باتیں شیئر کر کے اس کے دل کو سکون میسر آیا ہے۔۔۔۔!!!! پھر وہ کچھ لمحے کے لیے خاموش ہوا اور اس کے بعد اسے سونے کہا کیونکہ رات کافی ہو گئی تھی!!!

جس پر ازا نے ایک نظر اس پر ڈالی جو آنکھیں بند کیے ہوئے لیٹ گیا تھا۔۔۔۔!! اور وہ بھی بیڈ پر لیٹ گئی۔۔۔۔ تھکن کی وجہ سے جلد ہی نیند اس پر طاری ہو گئی تھی۔۔۔

” بہت شکریہ آپ کا “

گاڑی سے اترتے ہوئے جیسے ہی رہان دوسری طرف سے اس کے پاس پہنچا تو ربعیہ نے عجب ہی خوشی سے اس سے کہا۔۔۔۔

” شکریہ کی کوئی بات نہیں ہے !!! بابا نے کہا تھا تو آپ کا ایڈمیشن کروانا تھا ہی نا اب آپ اپنی پڑھائی ہر توجہ دیں “

رہان ربعیہ کا یونیورسٹی ایڈمیشن کروا کر آیا تھا اور ربعیہ کو اس بات کی بہت خوشی تھی کہ وہ آگے پڑھے گی۔۔۔۔ اسی وجہ سے اس نے رہان کا شکریہ ادا کیا جس پر رہان نے جواباً اپنے الفاظ ادا کیے اور وہ دونوں مسکراتے ہوئے اندر کی طرف بڑھ گئے۔۔۔

” کہاں گئے تھے ؟ “

ربعیہ اندر پہنچے ہی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی۔۔۔۔ لیکن جیسے ہی رہان اپنے کمرے کی طرف بڑھا اسی وقت شہناز بیگم اس کے سامنے آ رکی اور اس سے سوال کیا کہ وہ دونوں کہاں گئے تھے ؟؟؟؟

” وہ ربعیہ کا ایڈمیشن کروانے کے لیے گئے تھے یونیورسٹی “

رہان نے اپنی ماں کا سوالیہ لہجہ دیکھتے ہوئے انھیں بتایا کہ وہ ربعیہ جو یونیورسٹی لے کر گیا تھا اس کا ایڈمیشن کروانے کے لیے جسے سنتے ہی شہناز بیگم حیران رہ گئی۔۔۔

” کیا ضرورت تھی بیٹا چھوڑو اس پڑھائی کو کیا کر لے گی وہ پڑھ کر اسے گھر کے کام کاج کرنے کا کہو !! “

شہناز بیگم نے بڑے ہی پیار سے اسے قائل کرنے کی کوشش کی تھی کہ وہ ربعیہ جو مزید پڑھنے کی اجازت نا دے اور اسے حویلی کے کام کاج میں لگنے کا کہے۔۔۔۔

” امی اسے پڑھنے کا شوق ہے تو پڑھنے دیں اور حویلی کے کاموں کے لیے تو ویسے بھی کافی نوکر چاکر ہیں۔۔۔۔!!! آپ ٹینشن مت لیں “

رہان نے بھی آہستگی سے مسکرا کر شہناز بیگم کی بات ماننے سے انکار کر دیا تھا جس پر اسے بہت حیرانگی ہوئی تھی۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ شہناز بیگم کچھ بھی کہتی رہان انھیں کچھ بھی بولنے کا موقع دیے بغیر وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔۔

” یہ بھی نکل گیا ہے آپ کے ہاتھ سے “

صائمہ جو ان کی ساری باتیں سن چکی تھی وہ شہناز بیگم کے پاس پہنچی اور طنزیاتی لہجے میں شہناز بیگم سے کہا کہ رہان بھی اس کے ہاتھوں سے نکل گیا۔۔۔۔

” ایسا کچھ بھی نہیں ہے “

ایک لمحے کے لیے شہناز بیگم نے سوچا تو انھیں بھی ایسا ہی لگا کیونکہ آج سے پہلے رہان نے ان کی کوئی بات نہیں ٹالی تھی لیکن پھر انھوں نے اپنے ذہن سے اس خیال کو نکالا اور پریشانی سے صائمہ سے کہا جس پر وہ طنزیہ مسکرائی!!!

” امی !! ایسا ہی ہے۔۔۔۔ بہت جلد آپ کا بیٹا جوروں کا غلام بننے والا ہے “

صائمہ نے طنزیہ مسکراتے ہوئے کہا تو شہناز بیگم نے غصے سے اسے دیکھا۔۔۔۔

” کہتی ہوں تمھارے ابا سے کہ تمھاری بھی شادی کریں اسما کے ساتھ ہی کرتی ہوں تمھارے سسرال والوں سے بات “

شہناز بیگم نے کہا تو صائمہ مسکرائی۔۔۔۔

” امی آپ بھول رہی ہیں کہ میرے ہونے والے شوہر اس وقت آسٹریلیا میں بیٹھے ہیں ایک سال بعد آئے گے اس وقت تو آپ دادی بھی بن جائیں گی “

وہ مسکرا کر کہتی ہوئی وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔ جبکہ شہناز بیگم نے اپنے غصے پر قابو پایا۔۔۔۔ یہاں سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے صائمہ جا رشتہ طہ ہو چکا ہے اور منگنی بھی ہو چکی ہے پر اس کا ہونے والا شوہر اس وقت آسٹریلیا میں ہے۔۔۔۔!!! اور بہت جلد اس کی شادی بھی ہو جائے گی۔۔۔۔!! لیکن اس وقت تو شہناز بیگم ربعیہ سے جل رہی تھی!!!

” دادا جان آپ نے مجھ سے کہا تھا نا آفس جانے کے لیے “

ناشتے کی میز پر وہ تینوں ہی بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔۔۔ جب ہی انوشا نے سینڈ وچ کا ایک نوالہ لیا اور پھر کچھ سوچتے ہوئے سامنے بیٹھے ہوئے اپنے دادا جان سے کہا۔۔۔۔

” کب کہا انھوں نے ؟؟ “

زریر جو بڑے ہی پر سکون انداز میں ناشتہ کرنے میں مصروف تھا۔۔۔۔ اس نے جیسے ہی انوشا کی بات سنی تو اسے گھور کر دیکھا۔۔۔ اور پھر دادا جان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا مگر وہ مکمل طور پر اسے اگنور کر رہی تھی۔۔۔۔

” میں نے ہی کہا تھا!! انوشا بیٹا انوشا بیٹا۔۔۔۔ اگر تم جانا چاہتی ہوں،،، یہ بہت اچھی بات ہے آپ جاؤ اور جوائن کرو آفس “

دادا جان کی بات سن کر زریر نے گھور کر انوشا کو دیکھا اور پھر حیرانگی سے دادا جان کو جو فوراً مان گئے تھے۔۔۔۔۔

” پر یہ کیا کرے گی دادا جان آفس جا کر ؟؟ “

زریر نے دھکے چھپے الفاظ میں یہ کہنا چاہا تھا کہ انوشا آفس نہیں جائے گی جس پر انوشا نے گھور کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔

” کام کروں گی اور کیا مکھیاں مارنے تھوڑی جاؤ گی ؟؟”

انوشا نے اس کی بات سن غصے سے اس کی طرف ہوئے ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہا کہ وہ وہاں پر جا کر کام کرے گی مکھیاں مارنے نہیں جائے گی!!!

” صحیح کہہ رہی ہے وہ کام کرنے جائے گی اور اس سے تمھارا دل بھی لگ جائے گا یہاں “

دادا جان نے انوشا کا ساتھ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کام کرنے جائے گی اور اس سے اس کا دل بھی لگ جائے گا یہاں۔۔۔۔ دادا جان کہتے ہوئے اٹھ کر وہاں سے چلے گئے تھے۔۔۔ اب وہ دونوں وہاں پر اکیلے بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔۔!!

” تم کوئی آفس نہیں جاؤ گی سمجھی “

دادا جان کے جاتے ہی زریر نے غصے سے سامنے بیٹھی ہوئی انوشا کو دیکھا اور غصے سے کہا کہ وہ ایک بات سمجھ لے کہ وہ آفس نہیں جائے گی۔۔۔۔

” مجھے تمھاری اجازت کی کوئی ضرورت نہیں ہے !! “

انوشا نے ایک نظر اس کے چہرے پر ڈالی جو غصے سے بھرا پڑا تھا اور نظر جھکاتے ہوئے ناشتے میں مصروف ہوتے ہوئے کہا کہ اسے آفس جانے کے لیے زریر کی اجازت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔!!

” تمھیں میری اجازت کی ضرورت ہے مسسز زریر عباس تم شائید بھول رہی ہو کہ اب ہمارا نکاح ہو چکا ہے اور تمھیں اپنے شوہر کی اجازت لینے کی ضرورت ہے “

زریر نے اسے کل ہونے والا اس کا اور اپنا نکاح اسے یاد دلاتے ہوئے کہا کہ وہ اب اس کا شوہر ہے اور اسے کہیں بھی جانے کے لیے اس کی اجازت کی ضرورت ہے۔۔۔ جس پر انوشا نے غصے سے اس کی طرف آنکھیں اٹھا کر دیکھا۔۔۔۔ وہ ناشتے کی میز سے کھڑی ہوئی زریر کی نگاہیں اب بھی اس پر ہی تھی۔۔۔

” اجازت مائے فٹ !! میں بھی دیکھتی ہوں کہ مجھے آفس جانے سے کون روکتا ہے ؟؟؟ “

ناشتے کی میز سے اٹھتے ہوئے وہ اس کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے بولی تو زریر کا پارا مزید ہائی ہو گیا تھا۔۔۔۔!! جبکہ انوشا ایک ایک لفظ چبا کر کہتی ہوئی وہاں سے جا چکی تھی۔۔۔۔ زریر نے اس کی پشت کو گھورا !!

” ( رسی جل گئی پر بل نہیں گیا۔۔۔۔ پر کوئی بات نہیں مسسز زریر عباس تمھارے ہوش مجھے ٹھکانے لگانے آتے ہیں !! ) “

اس کی پشت کو گھورتے ہوئے زریر نے دل میں سوچا۔۔۔۔ نا جانے کیا موڑ لینے والا تھا ان کا رشتہ اب ؟؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *