Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aseer E Mohabat (Episode - 13)

Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt


وقت گزرتا جا رہا تھا انوشا کی حالت مزید خراب ہوتی جا رہی تھی۔۔۔۔!! لیکن اس بے رحم شخص ایک مرتبہ بھی ترس نہیں آیا تھا اس پر۔۔۔۔”

زریر کمرے کا دروازہ کھولتا ہوا اندر داخل ہوتا ہوا قدم اس کی طرف بڑھانے لگا۔۔۔۔!!! جب سے انوشا نے اس پر پانی پھینکا تھا وہ غصے کی آگ میں مزید جلنے لگا تھا اور اب اس نے ٹھان لیا تھا کہ وہ اسے اپنا بنا کر ہی رہے گا۔۔۔۔۔”

” چلو تمھارے لیے ایک سرپرائز ہے “

زریر کو دیکھتے ہی انوشا اپنی جگہ سے کھڑی ہو گئی تھی۔۔۔۔ اسی وقت وہ اس کے قریب پہنچتا ہوا کہتا ہوا اس کا ہاتھ پکڑتا ہوا اسے اپنے ساتھ کے جانے لگا جب ہی انوشا نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔۔۔۔!!

” مجھے کہیں نہیں جانا تمھارے ساتھ “

انوشا نے غصے سے اپنے ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑوایا اور پھر اس کے دوبدو آتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس نے ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا۔۔۔۔

” یہاں تمھارا نہیں میرا حکم چلے گا اب چلو میرے ساتھ “

زریر نے اس کی ہمت کو ایک لمحے کے لیے داد دی۔۔۔۔۔۔ پھر اگلے ہی لمحے اس نے انوشا کا ہاتھ دوبارہ تھاما اور اسے کہا کہ وہ اس کی بات مانے گی وہ اس کی بات نہیں مانے گا۔۔۔۔ اور ایک مرتبہ پھر سے اس کی کلائی پکڑتے ہوئے زبردستی لیے ہوئے اسے وہاں سے نکلا۔۔۔۔ انوشا نے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی بہت کوشش کی مگر ہر کوشش بے سود رہی “

وہ اس کا ہاتھ تھامے ہوئے اس گھر کے لاؤنچ میں کے کر آیا جہاں پر مولوی صاحب اور دو لڑکے گواہ کے طور پر بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔۔ انوشا کے پلے کچھ بھی نہیں پڑ رہا تھا۔۔۔!!!

” یہ سب کیا ہے ؟؟ “

ان سب چیزوں کو دیکھتے ہوئے انوشا نے غصے سے نظریں زریر کی طرف گھماتے ہوئے کہا تو اس پر زریر مسکرایا۔۔۔۔

” یہ تمھارے اور میرے نکاح کی تیاریاں ہیں “

جب زریر نے کہا یہ اس کے اور انوشا کے نکاح کی تیاریاں ہیں تو وہ شاک رہ گئی۔۔۔۔!! لیکن پھر اگلے ہی لمحے وہ طنزیہ مسکرائی۔۔۔۔!!

” Really?? “

انوشا نے طنزیہ مسکراتے ہوئے اس سے کہا کہ کیا واقع ہی ؟؟ اسے لگتا ہے کہ وہ اس سے نکاح کرے گی ؟

” کیا تمھیں واقع ہی لگتا ہے کہ میں تم سے شادی کروں گی ؟؟ “

انوشا نے آنکھیں کھولتے ہوئے اسے دیکھ کر ایک ایک لفظ میں طنزیہ پن کے کر کہا کہ کیا واقع ہی زریر اس گمان میں ہے کہ انوشا اس شادی سے کرے گی ؟ جسے سنتے ہی زریر کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔

” میں تم سے شادی نہیں کروں مسٹر زریر عباس “

انوشا نے غصے سے اسے گھورتے ہوئے یہ باورا کروایا کہ وہ اس سے شادی کبھی بھی نہیں کرے گی!!!

” شادی تو تم مجھ سے ہی کرو گی،،،، اس کے علاؤہ تمھارے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے مس انوشا “

زریر نے آنکھ ونک کرتے ہوئے انوشا سے کہا کہ انوشا کے پاس زریر سے شادی کرنے کے سوا کوئی بھی چوائس نہیں ہے ” جس پر انوشا نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔۔۔۔ جو چہرے پر شیطانی مسکراہٹ سجائے ہوئے بیٹھا تھا”

حویلی میں آج خوشی کا سماع تھا ” کیونکہ آج ربعیہ اور رہان کا نکاح تھا۔۔۔۔!! حویلی کے سب لوگ تیاریوں میں مصروف تھے۔۔۔” ازا نے شہناز بیگم کے کہنے پر کچھ ارینجمینٹس کروائے تھے۔۔۔۔ اس کے بعد وہ کمرے میں تیار ہونے کے لیے چلی گئی تھی۔۔۔۔

وہ کمرے کا دروازا کھولتے ہوئے اندر داخل ہوتے ہوئے مڑ کر اسے بند کرتے ہوئے اپنے ہی سوچوں میں گم سی آگے بڑھ رہی تھی جب ہی وہ وہاں ہر کھڑے شخص سے جا ٹکرائی۔۔۔”

وہ شخص ” کایان ملک ” تھا۔۔۔۔ وہ جیسے ہی اس سے ٹکرائی کایان کا دھیان اس کی طرف ہوا وہ بھی اپنی ہی مستی میں تھا۔۔۔۔۔ کایان نے شرٹ نہیں پہنی ہوئی تھی۔۔۔۔۔

اس کا واضح کسرتی جسم دیکھ کر ازا کے چہرے پر شرم کے اثرات نمایاں ہوئے۔۔۔ اس کے چہرہ سرخ پڑ گیا۔۔۔۔ جبکہ کایان کی نگاہیں اس کی نگاہوں ہر ٹکی ہوئی تھی۔۔۔۔ ازا ے فوراً رخ موڑ لیا۔۔۔۔!!!

” س۔۔و۔ری وہ م۔جھے ل۔گا کہ آ۔۔پ ر۔۔و۔م میں ن۔۔ہیں ہیں “

اس کا دل زور سے دھڑکنے لگا تھا۔۔۔۔!! ان دھڑکنوں پر قابو پانا اس کے لیے بہت زیادہ مشکل تھا۔۔۔۔ انھیں تیز دھڑکنوں کے ساتھ ازا نے رخ موڑتے ہوئے کہنا چاہا مگر اس کے الفاظ ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئے تھے۔۔۔ وہ جیسے ہی مڑی تو کایان جس کی نگاہیں اس کی خوبصورت وجود پر ٹکی ہوئی تھی وہ ہوش میں آیا تو فوراً پاس پڑا ہوا کرتا پہن لیا۔۔۔۔

” اٹس اوکے کوئی بات نہیں آپ بھی ریڈی ہو جائیں نکاح میں کچھ ہی وقت باقی بچا ہے “

وہ بھی آہستگی سے کہتا ہوا اس کے آگے آیا اور ایک نظر اس کے سرخ چہرے پر ڈالتے ہوئے وہ دروازے کی طرف مڑا۔۔۔۔ جیسے ہی کایان کا رخ دروازے کی طرف ہوا اسی وقت اس کے چہرے پر ایک عجب سے مسکراہٹ چھا گئی جو ازا نہیں دیکھ پائی تھی۔۔۔۔

جیسے ہی کایان کمرے سے نکلا تو ازا فوراً وارڈ روب سے اپنے کپڑے نکالتے ہوئے واش کے طرف بڑھ گئی تھی۔۔۔۔۔!!! اس کے لیے یہ عمل نا قابلِ یقین تھا کیسے وہ اتنی بڑی بھول کر گئی تھی ؟

کایان جیسے ہی کمرے میں واپس آیا تو سامنے ہی اسے شیشے کے سامنے کھڑا پایا۔۔۔ بظاہر ازا کی اس کی طرف پشت تھی مگر شیشے میں سے ازا کا ساتھ عکس اسے دکھائی دے رہا تھا۔۔۔۔

لائٹ میک اپ ، لائٹ پنک کلر کی لانگ فراک میں وہ بہت پر کشش اور خوبصورت لگ رہی تھیں لیکن شائید ازا اپنے کمر پر موجود فراک کی ایک چھوٹی سے دوری کا باندھنے کی الجھن کا شکار تھی۔۔۔۔

کایان نے دروازہ بند کیا اور آہستگی سے قدم اس کی طرف بڑھائے اور اس کے پیچھے جا کر کھڑا ہو گیا۔۔۔۔!! ازا کی نظر جیسے ہی اس پر پڑی تو اس نے فوراً ہاتھ اپنی کمر سے ہٹا لیے۔۔۔!

” میں گرہ لگا دو ؟ “

جیسے ہی کایان اس کے پیچھے آ کر کھڑا تو اس نے آہستگی سے پوچھے گئے سوال پر ازا کا دل زور سے دھڑکا !! اسے کچھ سمجھ نہیں آئی کہ وہ کیا جواب دے اسے ؟ کچھ لمحات کی خاموشی کے بعد اس نے سر ہاں میں ہلا دیا۔۔۔۔

کایان نے اس کے چہرے پر چھانے والی شرم ، ہلکے سے اس خوف کو ایک لمحے میں پہنچان لیا تھا۔۔۔ کایان کے لبوں کر ہلکی سی مسکراہٹ رونما ہوئی اور وہ آنکھیں بند کرتا ہوا اس کی ڈوری کو گرہ لگانے لگا جبکہ ازا کی نگاہیں اس کی بند آنکھوں پر ہی ٹکی تھی۔۔۔۔ اس کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوتی جا رہی تھی۔۔۔۔

کچھ لمحوں کے بعد کایان نے اس کی ڈوریوں کو گرہ لگاتے ہوئے آنکھیں کھولیں تو اسے شرم سے چور پایا۔۔۔۔

” چلیں ؟؟ “

ایک لمحے کے گزرنے کے بعد اس نے سامنے شیشے میں ازا کا عکس دیکھتے ہوئے آہستگی سے سوال کیا جس پر ازا نے سر اوپر اٹھاتے ہوئے اس کا مسکراتا ہوا چہرہ شیشے میں دیکھا۔۔۔

ازا نے بغیر کچھ کہے ایک لمحے کے لیے مسکراہٹ چہرے پر لائے اس کے سوال کا جواب اپنا سر ہاں میں ہلا کر دیا تو کایان فوراً پیچھے ہوتا ہوا اس کے گزرنے کا راستہ بنا گیا۔۔۔۔

ازا آہستگی سے چلتی ہوئی کمرے کے دروازے کی طرف قدم بڑھانے لگی۔۔۔۔۔ کایان کے قدم بالکل اس کے پیچھے کی جانب تھے۔۔۔ وہ دونوں ہال کی طرف بڑھ رہے تھے جہاں نکاح کی رسم ادا کرنے کا انتظام کیا گیا تھا۔۔

” ربعیہ ملک ولد باسط ملک آپ کا نکاح رہان ملک ولد شہزاد ملک کے ساتھ بعوض حق مہر دس لاکھ روپے کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟؟ “

مولوی صاحب نے اجازت طلب کرتے ہوئے نکاح کی رسم کا آغاز کرت ہوئے ربعیہ سے سوال کیا تھا کہ کیا اسے رہان ملک کے ساتھ نکاح قبول ہے ؟؟

” ق۔۔۔بول ہے!!! “

یہ کہتے ہوئے ربعیہ کے دل کی دھڑکنیں مزید بڑھنے لگی تھی اس نے کبھی بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ وہ رہان ملک کی بیوی بنے گی۔۔۔۔!!

” کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟؟ “

” قبول ہے!!! “

” کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟؟ “

” قبول ہے!!! “

ربعیہ کے بعد مولوی صاحب رہان سے متوجہ ہوئے اور یہی سارے سوالات اس سے کیے۔۔۔۔

” رہان ملک ولد شہزاد ملک آپ کا نکاح ربعیہ ملک والدہ باسط ملک کے ساتھ بعوض حق مہر دس لاکھ روپے کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟؟ “

” قبول ہے۔۔۔۔!! “

” کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟؟ “

” قبول ہے!!! “

” کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟؟ “

” قبول ہے!!! “

رہان نے بھی تینوں مرتبہ اسے ” قبول ہے ” کہتے ہوئے اور نکاح نامے پر دستخط کرتے ہوئے اسے اپنا بنا لیا تھا۔۔۔۔۔!!! اب ربعیہ باسط ملک سے وہ ربعیہ رہان ملک بن چکی تھی۔۔۔۔۔

وہاں موجود سب لوگوں نے ایک ایک کر کے رہان اور ربعیہ کو اس نکاح کی مبارکباد دی تھی اور بہت ساری دعائیں بھی۔۔۔۔۔” جبکہ شہناز ان سب سے تھوڑا دور دور ہی رہی تھی۔۔۔۔ کیونکہ وہ دل سے اس نکاح کو اپنا نہیں پائی تھی۔۔۔۔۔ انھوں نے یہ صرف اور صرف اپنے شوہر کے کہنے پر قبول کیا تھا۔۔۔۔ انھیں کایان اور ازا کو بھی ایک ساتھ دیکھ کر بہت زیادہ جلن محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔ صائمہ سے بھی ان کا ایک ساتھ ہونا برداشت سے باہر تھا اس کے لیے ربعیہ بھی برداشت سے باہر لیکن وہ با مشکل ہی خود پر قابو کیے ہوئے تھی!! “

” آتش بھائی۔۔۔۔۔!! میں نے ساری ڈیٹیلز نکلوا لی ہیں بھابھی کی “

آتش کو زریر کا سب سے اچھا دوست تھا۔۔۔۔۔ اس کے پاس اس کا ایک دوست فارس آیا اور اسے بتایا کہ اس نے بھابھی یعنی کے آتش کی ہونے والی وائف کی ساری معلومات نکلوا لی ہے۔۔۔۔

” نائس یار تو نے کمال کر دیا مجھے امید نہیں تھی کہ تو فاریہ جی کے بارے سب کچھ اتنی جلدی پتہ لگا لے گا !!! “

اس کی بات سنتے ہوئے آتش کو خوشی ہوئی تھی اس کا کام جلدی ہو گیا۔۔۔۔” آج سے ٹھیک تین دن پہلے اس نے فاریہ کو ایک مال میں دیکھا تھا جہاں ہر وہ اپنی کسی دوست کے ساتھ گئی تھی۔۔۔۔۔ آتش نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی مگر فاریہ نے اس سے سلام تک نا لیا تھا۔۔۔۔

اسے آتش بہت چھچھورا قسم کا لگا تھا۔۔۔۔ اور اس قسم کے لڑکوں سے وہ بات کرنا بالکل بھی پسند نہیں کرتی تھی۔۔۔۔۔!!!! لیکن آتش نے جب سے اس کا حسن سے بھرا ہوا چہرہ دیکھا تھا اس وقت سے ہی وہ اس کا دیوانہ ہو گیا تھا۔۔۔۔!!!

اس نے فارس سے کہہ کر اس کی ڈیٹیلز نکلوائی تھی۔۔۔۔!!! جو اب اسے فارس بتا رہا تھا۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *